38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 38:1–5

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

قسم ہے اس قرآن سمجھانے والے کی

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

بلکہ جو لوگ منکر ہیں غرور میں ہیں اور مقابلہ میں

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

بہت غارت کردیں ہم نے ان سے پہلے جماعتیں پھر لگے پکارنے اور وقت نہ رہا تھا خلاصی کا

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور تعجب کرنے لگے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈر سنانے والا انہی میں سے اور کہنے لگے منکر یہ جادو گر ہے جھوٹا

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اس نے کردی اتنوں کی بندگی کے بدلے ایک ہی کی بندگی یہ بھی ہے بڑے تعجب کی بات

خلاصہ تفسیر ص (اس کے معنی تو اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پر ہے (کہ کفار آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہوئے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں) بلکہ (خود) یہ کفار (ہی) تعصب اور (حق کی) مخالفت میں (پڑے) ہیں (اور اس تعصب و مخالفت کا وبال ایک روز ان پر پڑنے والا ہے جیسا) ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم (عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں، سو انہوں نے (ہلاکت کے وقت) بڑی ہائے پکار کی (اور بہت شور و غل مچایا) اور (اس وقت شوروغل سے کیا ہوتا ہے، کیونکہ) وہ وقت خلاصی کا نہ تھا (اس لئے کہ عذاب جب آ چکے تو یہ بھی قبول نہیں ہوتی) اور ان کفار (قریش) نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس ان (ہی) میں سے (یعنی جو کہ ان کی طرح بشر ہے) ایک (پیغمبر) ڈرانے والا آ گیا (تعجب کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی جہالت سے بشریت کو نبوت کے منافی سمجھتے تھے) اور (اس انکار رسالت میں یہاں تک پہنچ گئے، کہ آپ کے معجزات اور دعویٰ نبوت کے بارے میں) کہنے لگے کہ (نعوذ باللہ) یہ شخص) خوارق عادت کے معاملہ میں) ساحر اور (دعویٰ نبوت کے معاملہ میں) کذاب ہے (اور) کیا (یہ شخص سچا ہوسکتا ہے جبکہ) اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود رہنے دیا (اور سب کے معبود ہونے کی نفی کردی) واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے (جس کی وجہ عنقریب آتی ہے) اور (توحید کا مضمون سن کر) ان کفار کے رئیس (مجلس سے اٹھ کر لوگوں سے) یہ کہتے ہوئے چلے کہ (یہاں سے) چلو اور اپنے معبودوں (کی عبادت) پر قائم رہو (کیونکہ اول تو) یہ (توحید کی دعوت) کوئی مطلب کی بات (معلوم ہوتی) ہے (یعنی اس بہانہ سے آپ معاذ اللہ ریاست کے خواہاں ہیں۔ دوسرے توحید کا دعویٰ بھی باطل اور عجیب ہے کیونکہ) ہم نے تو یہ بات (اپنے) پچھلے مذہب میں نہیں سنی، ہو نہ ہو یہ (اس شخص کی) من گھڑت ہے (پچھلے مذہب کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں بہت سے طریقہ کے لوگ ہوئے ہیں، سب سے پیچھے ہم آئے ہیں اور حق پر ہیں، سو ہم نے اس طریقہ کے بزرگوں سے کبھی یہ بات نہیں سنی۔ اور یہ شخص جو نبوت کا مدعی ہے اور توحید کو تعلیم الٰہی بتلاتا ہے، سو اول تو نبوت بشریت کے منافی ہے۔ دوسرے اگر اس سے قطع نظر کی جائے تو) کیا ہم سب میں اس شخص (کو کوئی فوقیت و فضیلت تھی کہ اسی کو نبوت ملی اور اسی) پر کلام الٰہی نازل کیا گیا (بلکہ کسی رئیس پر ہوتا تو مضائقہ نہ تھا۔ آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ ان پر کیوں نزول ہوا ؟ کسی رئیس پر کیوں نہ ہوا ؟ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو اس کا اتباع کرتے) بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) یہ لوگ (خود) میری وحی کی طرف سے شک (یعنی انکار) میں ہیں۔ (یعنی مسئلہ نبوت ہی کے منکر ہیں، خصوصاً بشر کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اور یہ انکار بھی کچھ اس لئے نہیں کہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے) بلکہ (اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ) انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا (ورنہ سب عقل ٹھکانے آجاتی۔ آگے دوسرے طرز پر جواب ہے کہ) کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار زبردست فیاض کی رحمت کے خزانے ہیں (جس میں نبوت بھی داخل ہے، کہ جس کو چاہیں دیں جس کو چاہیں نہ دیں، یعنی اگر رحمت کے سارے خزانے ان کے قبضہ میں ہوتے تب تو ان کو یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ ہم نے بشر کو نبوت نہیں دی، پھر وہ نبی کیسے ہوگیا ؟) یا (اگر سارے خزانے قبضہ میں نہیں ہیں تو) کیا ان کو آسمان اور زمین اور جو چیزیں ان کے درمیان میں ہیں ان (سب) کا اختیار حاصل ہے (کہ اگر اتنا ہی اختیار ہوتا تب بھی یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ یہ آسمان و زمین کے مصالح سے باخبر ہیں، اس لئے جسے چاہیں اسے نبوت ملنی چاہئے۔ اور آگے تعجیز کے طور پر ارشاد ہے کہ اگر ان کو اس پر اختیار ہے) تو ان کو چاہئے کہ سیڑھیاں لگا کر (آسمان پر) چڑھ جاویں (اور ظاہر ہے کہ یہ اس پر قادر نہیں۔ پس جب انہیں اتنی بھی قدرت نہیں تو آسمان و زمین کی معلومات اور ان پر کیا اختیار ہوگا ؟ پھر ان کو ایسی بےسروپا باتیں کہنے کا کیا حق ہے ؟ مگر اے محمد ﷺ آپ ان کی مخالفت سے فکر نہ کریں، کیونکہ) اس مقام پر (یعنی مکہ میں) ان لوگوں کی یونہی ایک بھیڑ ہے، منجملہ (مخالفین انبیاء کے) گروہوں کے جو (عنقریب) شکست دیئے جاویں گے (چنانچہ غزوہ بدر میں یہ پیشین گوئی پوری ہوئی اور) ان سے پہلے بھی قوم نوح نے اور عاد نے اور فرعون نے جس (کی سلطنت) کے کھونٹے گڑ گئے تھے اور ثمود نے اور قوم لوط نے اور اصحاب آیکہ نے (جن کے قصے کئی جگہ آ چکے ہیں، ان سب سے) تکذیب کی تھی (اور) وہ گروہ (جس کا اوپر من الاحزاب میں ذکر آیا ہے) یہی لوگ ہیں، ان سب نے صرف رسولوں کو جھٹلایا تھا (جیسے یہ کفار قریش آپ کو جھٹلا رہے ہیں) سو میرا عذاب (ان پر) واقع ہوگیا (پس جب جرم مشترک ہے تو عذاب کے اشتراک سے یہ کیوں مطمئن ہیں ؟) اور یہ لوگ (جو تکذیب پر مصر ہیں تو) بس ایک زور کی چیخ (یعنی نفخہ ثانیہ) کے منتظر ہیں جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی (اس سے مراد قیامت ہے) اور یہ لوگ (قیامت کی وعید سن کر تکذیب رسول اور استہزاء کے طور پر) کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب (آخرت میں جو کافروں کو عذاب ہوگا، اس میں سے) ہمارا حصہ تم کو روز حساب سے پہلے ہی دے دے (مطلب یہ کہ قیامت نہیں ہے، اگر ہے تو ہم کو ابھی عذاب مطلوب ہے، جب عذاب نہیں ہوتا تو معلوم ہوا قیامت نہ آوے گی۔ نعوذ باللہ)۔ معارف و مسائل شان نزول۔ اس سورت کی ابتدائی آیات کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ کے چچا ابو طالب مسلمان نہ ہونے کے باوجود آپ کی پوری نگہداشت کر رہے تھے، جب وہ ایک بیماری میں مبتلا ہوئے تو قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے ایک مجلس مشاورت منعقد کی۔ جس میں ابو جہل، عاص ابن وائل، اسود بن مطلب، اسود بن عبدیغوث اور دوسرے روساء شریک ہوئے۔ مشورہ یہ ہوا کہ ابوطالب بیمار ہیں، اگر وہ اس دنیا سے گزر گئے اور اس کے بعد ہم نے (محمد ﷺ کو ان کے نئے دین سے باز رکھنے کے لئے کوئی سخت اقدام کیا تو عرب کے لوگ ہمیں یہ طعنہ دیں گے کہ جب تک ابوطالب زندہ تھے، اس وقت تک تو یہ لوگ محمد ﷺ کا کچھ نہ بگاڑ سکے، اور جب ان کا انتقال ہوگیا تو انہوں نے آپ کو ہدف بنا لیا۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم ابو طالب کی زندگی ہی میں ان سے محمد ﷺ کے معاملہ کا تصفیہ کرلیں تاکہ وہ ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دیں۔ چنانچہ یہ لوگ ابوطالب کے پاس پہنچے، اور جا کر ان سے کہا کہ تمہارا بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے آپ انصاف سے کام لے کر ان سے کہئے کہ وہ جس خدا کی چاہیں عبادت کریں، لیکن ہمارے معبودوں کو کچھ نہ کہیں۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ خود بھی ان کے بتوں کو اس کے سوا کچھ نہ کہتے تھے کہ بےحس اور بےجان ہیں۔ نہ تمہارے خالق ہیں نہ رازق ہیں۔ نہ تمہارا کوئی نفع نقصان ان کے قبضہ میں ہے۔ ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو مجلس میں بلوایا، اور آپ سے کہا کہ بھتیجے ! یہ لوگ تمہاری شکایت کر رہے ہیں کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو۔ انہیں اپنے مذہب پر چھوڑ دو ، اور تم اپنے خدا کی عبادت کرتے رہو، اس پر قریش کے لوگ بھی بولتے رہے۔ بالآخر آنحضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ”چچا جان ! کیا میں انہیں اس چیز کی دعوت نہ دعوں جس میں ان کی بہتری ہے ؟“ ابوطالب نے کہا”وہ کیا چیز ہے ؟“ آپ نے فرمایا ”میں ان سے ایک ایسا کلمہ کہلوانا چاہتا ہوں جس کے ذریعہ سارا عرب ان کے آگے سرنگوں ہوجائے اور یہ پورے عجم کے مالک ہو جائیں“ اس پر ابوجہل نے کہا”بتاؤ وہ کلمہ کیا ہے ؟ تمہارے باپ کی قسم ! ہم ایک کلمہ نہیں دس کلمے پڑھنے کو تیار ہیں“ اس پر آپ نے فرمایا ”بس لا الہ الا اللہ کہہ دو“ یہ سن کر تمام لوگ کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ”کیا ہم سارے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک کو اختیار کرلیں ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔“ اس موقع پر سورة ص کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ (تفسیر ابن کثیر ص، 27، ج 4)
Ayahs 38:6–11

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور چل کھڑے ہوئے کئی پنچ ان میں سے کہ چلو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر بیشک اس بات میں کوئی غرض ہے

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

یہ نہیں سنا ہم نے اس پچھلے دین میں اور کچھ نہیں یہ بنائے ہوئی بات ہے

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا اسی پر اتری نصیحت ہم سب میں سے کوئی نہیں ان کو دھوکہ ہے میری نصیحت میں کوئی نہیں ابھی انہوں نے چکھی نہیں میری مار

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ہیں خزانے تیرے رب کی مہربانی کے جو زبردست ہے بخشنے والا

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا ان کی حکومت ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے ؟ تو ان کو چاہئے کہ چڑھ جاویں رسیاں تان کر

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

ایک لشکر یہ بھی وہاں تباہ ہوا ان سب لشکروں میں

(آیت) وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ الخ (اور ان کفار کے رئیس یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ الخ) اس سے مذکورہ واقعہ ہی کی طرف اشارہ ہے کہ توحید کی دعوت سن کر وہ مجلس سے چل کھڑے ہوئے۔
Ayah 38:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

جھٹلا چکے ہیں ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور فرعون میخوں والا

وَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ اس کے لفظی معنی ہیں ”میخوں والا فرعون“ اور اس کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے اس کی سلطنت کے استحکام کی طرف اشارہ ہے، اسی لئے حضرت تھانوی نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ”جس کے کھونٹے گڑ گئے تھے“ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ وہ لوگوں کو اس طرح سزا دیا کرتا تھا کہ اسے چت لٹا کر اس کے چاروں ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیتا اور اس پر سانپ، بچھو چھوڑ دیتا تھا۔ اور بعض نے کہا کہ وہ رسی اور میخوں سے کوئی خاص کھیل کھیلا کرتا تھا۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ ”میخوں“ سے مراد عمارتیں ہیں اور اس نے بڑی مضبوط عمارتیں بنائی تھیں۔ (تفسیر قرطبی) واللہ سبحانہ، اعلم۔
Ayahs 38:13–14

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود اور لوط کی قوم اور ایکہ کے لوگ وہ بڑی بڑی فوجیں

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

یہ جتنے تھے سب نے جھٹلایا رسولوں کو پھر ثابت ہوئی میری طرف سے سزا

اُولٰۗىِٕكَ الْاَحْزَابُ اس کی تفسیر تو یہ ہے کہ یہ جملہ مھز وم من الاحزاب کا بیان ہے۔ یعنی جن گروہوں کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہیں۔ حضرت تھانوی نے اسی کے مطابق تفسیر کی ہے۔ لیکن دوسرے مفسرین نے اس کے معنے یہ بتائے ہیں کہ ”گروہ وہ تھے“ یعنی اصل طاقت و قوت کی مالک قوم نوح اور عاد وثمود وغیرہ کی قومیں تھیں۔ مشرکین مکہ کی ان کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں، جب وہ لوگ عذاب الٰہی سے نہ بچ سکے تو ان کی ہستی کیا ہے ؟ (قرطبی)
Ayah 38:15

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور راہ نہیں دیکھتے یہ لوگ مگر ایک چنگھاڑ کی جو بیچ میں دم نہ لے گی

(آیت) مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ۔ فواق کے عربی میں کئی معنی آتے ہیں۔ ایک تو ”فواق“ اس درمیانی وقفہ کو کہتے ہیں جس میں ایک مرتبہ دودھ دوہنے کے بعد دوبارہ اس کے تھنوں میں دودھ آجائے۔ نیز اس کے معنی ”راحت و آرام“ کے بھی ہیں۔ بہرصورت، مطلب یہ ہے کہ حضرت اسرافیل ؑ کا پھونکا ہوا صور اس قدر مسلسل ہوگا کہ اس میں کوئی وقفہ نہ ہوگا۔ (قرطبی)
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اے رب جلد دے ہم کو چھٹی ہماری پہلے حساب کے دن سے۔

عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا۔ ”قط“ اصل میں اس دستاویز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ کسی کو انعام دینے کا وعدہ کیا گیا ہو۔ پھر یہ لفظ مطلق ”حصہ“ کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ یہاں یہی معنیٰ مراد ہیں کہ ”آخرت کی جزا وسزا سے جو کچھ ہمیں حصہ ملنا ہے وہ یہاں دلوا دیجئے۔“
Ayah 38:17

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

تو تحمل کرتا رہ اس پر جو وہ کہتے ہیں اور یاد کر ہمارے بندے داؤد قوت والے کو وہ تھا رجوع رہنے والا

خلاصہ تفسیر آپ ان لوگوں کے اقوال پر صبر کیجئے اور ہمارے بندہ داؤد کو یاد کیجئے جو (عبادت میں جس میں صبر بھی داخل ہے) بڑی قوت (اور ہمت) والے تھے (اور) وہ (خدا کی طرف) بہت رجوع ہونے والے تھے (اور ہم نے ان کو یہ نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ ایک یہ کہ) ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ (شریک ہو کر) شام اور صبح (کہ حضرت داؤد ؑ کی تسبیح کے یہی اوقات تھے) تسبیح کیا کریں اور (اسی طرح) پرندوں کو بھی (یہی حکم دے رکھا تھا) جو کہ (تسبیح کے وقت ان کے پاس) جمع ہوجاتے تھے (اور یہ پہاڑ اور پرندے وغیرہ) سب ان کی (تسبیح کی) وجہ سے مشغول ذکر رہتے اور (دوسری نعمت یہ کہ) ہم نے ان کی سلطنت کو نہایت قوت دی تھی اور (تیسری نعمت یہ کہ) ہم نے ان کو حکمت (یعنی نبوت) اور فیصلہ کردینے والی تقریر (جو نہایت واضح اور جامع ہو) عطا فرمائی تھی۔ معارف و مسائل کفار کی تکذیب و استہزاء سے آنحضرت ﷺ کو جو صدمہ ہوتا تھا، اسے دور کر کے تسلی دینے کے لئے عموماً اللہ تعالیٰ نے پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات سنائے ہیں۔ چناچہ یہاں بھی آپ کو صبر کی تلقین فرما کر بعض انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے گئے ہیں جن میں سے پہلا واقعہ حضرت داؤد ؑ کا ہے۔ (آیت) وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَيْدِ۔ (اور یاد کیجئے ہمارے بندے داؤد کو جو قوت والے تھے) تقریباً تمام مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ عبادت میں بڑی قوت وہمت کا ثبوت دیتے تھے اسی لئے اس کے بعد یہ جملہ ہے کہ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ (بلاشبہ وہ اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے) چناچہ صحیحین کی ایک حدیث میں آنحضرت محمد ﷺ نے فرمایا”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داؤد ؑ کی ہے، اور سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داؤد ؑ کے ہیں وہ آدھی رات سوتے، ایک تہائی رات عبادت کرتے اور پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے، اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار فرماتے تھے، اور جب دشمن سے ان کا مقابلہ ہوجاتا تو فرار اختیار نہ فرماتے تھے۔ اور بلاشبہ وہ اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے۔“ (تفسیر ابن کثیر) عبادت کے اس طریقہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ اس لئے قرار دیا گیا کہ ایک تو اس میں مشقت زیادہ ہے، ساری عمر روزہ رکھنے سے آدمی روزے کا عادی ہوجاتا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد اس میں زیادہ مشقت نہیں رہتی، لیکن ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنے میں مسلسل تکلیف رہتی ہے، دوسرے اس طریقہ سے انسان عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے نفس، اہل و عیال اور متعلقین کے حقوق بھی پوری طرح ادا کرسکتا ہے۔
Ayahs 38:18–19

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے تابع کئے پہاڑ اس کے ساتھ پاکی بولتے تھے شام کو اور صبح کو

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور اڑتے جانور جمع ہو کر سب تھے اس کے آگے رجوع رہتے

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ الخ۔ اس آیت میں پہاڑوں اور پرندوں کے حضرت داؤد ؑ کے ساتھ شریک تسبیح ہونے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کی تشریح سورة انبیاء اور سورة سباء میں گزر چکی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کو باری تعالیٰ نے یہاں اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ یہ حضرت داؤد ؑ پر ایک خاص انعام تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ حضرت داؤد ؑ کے لئے نعمت کیسے ہوئی ؟ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح سے کیا خاص فائدہ پہنچا ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اس سے حضرت داؤد ؑ کا ایک معجزہ ظاہر ہوا، اور ظاہر ہے کہ یہ ایک بڑا انعام ہے۔ اس کے علاوہ حضرت تھانوی نے ایک لطیف توجیہہ فرمائی ہے کہ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح سے ذکر و شغل کا ایک خاص کیف پیدا ہوگیا تھا جس سے عبادت میں نشاط اور تازگی وہمت پیدا ہوتی ہے۔ اجتماعی ذکر کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ذکر کی برکتوں کا ایک دوسرے پر انعکاس ہوتا رہتا ہے۔ صوفیائے کرام کے یہاں ذکر وشغل کا ایک خاص طریقہ معروف ہے جس میں ذکر کرتے ہوئے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ پوری کائنات ذکر کر رہی ہے، اصلاح باطن اور شوق عبادت میں اس طریقہ کی عجیب تاثیر ہے۔ اس آیت سے اس طریقہ ذکر کی بنیاد بھی مستنبط ہوتی ہے۔ (مسائل السلوک) صلوٰة الضحیٰ (آیت) بِالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ۔ عشی کے معنی ہیں ظہر کے بعد سے اگلے دن صبح تک کا وقت اور اشراق کے معنی صبح کا وہ وقت جس میں دھوپ زمین پر پھیل گئی ہو۔ اس آیت سے حضرت عبداللہ بن عباس نے صلوٰة الضحیٰ کے شروع ہونے پر استدلال فرمایا ہے۔ صلوٰة الضحیٰ کو صلوٰة الاوابین اور بعض حضرات صلوٰة الاشراق بھی کہتے ہیں۔ اگرچہ بعد میں صلوٰة الاوابین کا نام مغرب کے بعد کی چھ نفلوں کے لئے اور صلوٰة الاشراق طلوع آفتاب کے متصل والی دو چار نفلوں کے لئے زیادہ مشہور ہوگیا۔ صلوٰة الضحیٰ میں سے دو سے لے کر بارہ تک جتنی رکعتیں چاہیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ حدیث میں اس کے بہت سے فوائد وارد ہوئے ہیں۔ جامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا، ”جو شخص صلوٰة الضحیٰ کی دو رکعتوں کی پابندی کرلے اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، خواہ وہ سمندری جھاگ جتنے ہوں“ اور حضرت انس سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا۔ ”جو شخص صلوٰة الضحیٰ کی بارہ رکعتیں پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں سونے کا محل بنا دے گا۔“ (قرطبی) علماء نے فرمایا ہے کہ یوں تو دو سے لے کر بارہ تک جتنی رکعتیں پڑھی جاسکیں وہ ٹھیک ہیں، لیکن تعداد کے لئے کوئی خاص معمول بنا لیا جائے تو بہتر ہے، اور یہ معمول کم از کم چار رکعت ہو تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ آپ کا عام معمول چار رکعتیں ہی پڑھنے کا تھا۔
Ayah 38:20

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور قوت دی ہم نے اس کی سلطنت کو اور دی اس کو تدبیر اور فیصلہ کرنا بات کا۔

وَاٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (اور ہم نے ان کو حکمت اور فیصلہ کردینے والی تقریر عطا فرمائی) حکمت سے مراد تو دانائی ہے، یعنی ہم نے انہیں عقل وفہم کی دولت بخشی تھی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ نبوت مراد ہے۔ اور ”فصل الخطاب“ کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد زور بیان اور قوت خطابت ہے۔ چناچہ حضرت داؤد ؑ اونچے درجے کے خطیب تھے، اور خطبوں میں حمد وصلوٰة کے بعد لفظ ”اما بعد“ سب سے پہلے انہوں نے ہی کہنا شروع کیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے بہترین قوت فیصلہ مراد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جھگڑے چکانے اور تنازعات کا فیصلہ کرنے کی قوت عطا فرمائی تھی۔ درحقیقت ان الفاظ میں بیک وقت دونوں معنیٰ کی پوری گنجائش ہے اور یہ دونوں باتیں ہی مراد ہیں۔ حضرت تھانوی نے جو اس کا ترجمہ فرمایا ہے اس میں بھی دونوں معنے سما سکتے ہیں۔
Ayah 38:21

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

اور پہنچی ہے تجھ کو خبر دعوے والوں کی

خلاصہ تفسیر اور بھلا آپ کو ان اہل مقدمہ کی خبر بھی پہنچی ہے (جو داؤد ؑ کے پاس مقدمہ لائے تھے) جبکہ وہ لوگ (داؤد ؑ کے) عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر داؤد ؑ کے پاس آئے (کیونکہ دروازے سے پہرہ داروں نے اس لئے نہیں آنے دیا کہ وہ وقت آپ کی عبادت کا تھا، مقدمات کے فیصلے کا نہیں) تو وہ (ان کے اس بےقاعدہ آنے سے) گھبرا گئے (کہ کہیں یہ لوگ دشمن نہ ہوں جو قتل کے ارادے سے اس طرح تنہائی میں آ گھسے ہوں) وہ لوگ (ان سے) کہنے لگے کہ آپ ڈریں نہیں، ہم دو اہل معاملہ ہیں کہ ایک نے دوسرے پر (کچھ) زیادتی کی ہے (اس کے فیصلے کے لئے ہم آئے ہیں، چونکہ پہرہ داروں نے دروازہ سے نہیں آنے دیا۔ اس لئے اس طرح آنے کے مرتکب ہوئے) سو آپ ہم میں انصاف سے فیصلہ کر دیجئے، اور بےانصافی نہ کیجئے، اور ہم کو (معاملہ کی) سیدھی راہ بتلا دیجئے (اور پھر ایک شخص بولا کہ صورت مقدمہ یہ ہے کہ) یہ شخص میرا بھائی ہے (یعنی دینی بھائی جیسا کہ در منثور میں حضرت ابن مسعود سے منقول ہے اور) اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس (کل) ایک دنبی ہے۔ سو یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھ کو دے ڈال اور بات چیت میں مجھ کو دباتا ہے (اور میری بات کو منہ زوری سے چلنے نہیں دیتا) داؤد ؑ نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی اپنی دنبیوں میں ملانے کی درخواست کرتا ہے تو واقعی تجھ پر ظلم کرتا ہے اور اکثر شرکاء (کی عادت ہے کہ) ایک دوسرے پر (یوں ہی) زیادتی کیا کرتے ہیں، مگر ہاں جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں، اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں (یہ بات آپ نے مظلوم کی تسلی کے لئے ارشاد فرمائی) اور داؤد ؑ کو خیال آیا کہ (اس مقدمہ کو اس طرح پیش کر کے) ہم نے ان کا امتحان کیا ہے، سو انہوں نے اپنے رب کے سامنے توبہ کی اور سجدہ میں گر پڑے اور (خاص طور پر خدا کی طرف) رجوع ہوئے، سو ہم نے ان کو وہ (امر) معاف کردیا، اور ہمارے یہاں ان کے لئے (خاص) قرب اور (اعلیٰ درجہ کی) نیک انجامی (یعنی جنت کا درجہ علیا) ہے۔ معارف و مسائل ان آیتوں میں باری تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں یہ واقعہ جس انداز سے بیان کیا گیا ہے، اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت گاہ میں دو فریقوں کو جھگڑتے ہوئے بھیج کر ان کا کوئی امتحان کیا تھا۔ حضرت داؤد ؑ نے اس امتحان پر متنبہ ہو کر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا اور سجدے میں گر پڑے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی۔ قرآن کریم کا اصل مقصد چونکہ یہاں یہ بیان کرنا ہے کہ حضرت داؤد ؑ اپنے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع فرماتے تھے، اور کبھی ذرا سی لغزش بھی ہوجائے تو فوراً استغفار کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ اس لئے یہاں یہ تفصیل بیان نہیں کی گئی کہ وہ امتحان کیا تھا ؟ حضرت داؤد ؑ سے وہ کونسی لغزش ہوئی تھی جس سے انہوں نے استغفار کیا ؟ اور جسے اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ اسی لئے بعض محقق اور محتاط مفسرین نے ان آیات کی تشریح میں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص حکمت و مصلحت سے اپنے جلیل القدر پیغمبر کی اس لغزش اور امتحان کی تفصیل کو کھول کر بیان نہیں فرمایا، اس لئے ہمیں بھی اس کے پیچھے نہیں پڑنا چاہئے۔ اور جتنی بات قرآن کریم میں مذکور ہے، صرف اسی بات پر ایمان رکھنا چاہئے۔ حافظ ابن کثیر جیسے محقق مفسر نے اپنی تفسیر میں اسی پر عمل کرتے ہوئے واقعہ کی تفصیلات سے خاموشی اختیار کی ہے۔ اور کوئی شک نہیں کہ یہ سب سے زیادہ محتاط اور سلامتی کا راستہ ہے۔ اسی لئے علماء سلف سے منقول ہے کہ ابھموا ما ابھمہ اللہ، یعنی جس چیز کو اللہ نے مبہم چھوڑا ہے تم بھی اس کو مبہم رہنے دو۔ اسی میں حکمت و مصلحت ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اس سے مراد ایسے معاملات کا ابہام ہے جن سے ہمارے عمل اور حلال و حرام کا تعلق نہ ہو اور جن معاملات سے مسلمانوں کے عمل کا تعلق ہو اس ابہام کو خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول و عمل سے رفع کردیا ہے۔ البتہ دوسرے مفسرین نے روایات وآثار کی روشنی میں اس امتحان اور آزمائش کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک عامیانہ روایت تو یہ مشہور ہے کہ حضرت داؤد ؑ کی نظر ایک مرتبہ اپنے ایک فوجی افسر اور یا کی بیوی پر پڑگئی تھی۔ جس سے ان کے دل میں اس کے ساتھ نکاح کرنے کی خواہش پیدا ہوئی، اور انہوں نے اور یا کو قتل کرانے کی غرض سے اسے خطرناک ترین مشن سونپ دیا جس میں وہ شہید ہوگیا اور بعد میں آپ نے اس کی بیوی سے شادی کرلی۔ اس عمل پر تنبیہ کرنے کے لئے یہ دو فرشتے انسانی شکل میں بھیجے گئے۔ لیکن یہ روایت بلاشبہ ان خرافات میں سے ہے جو یہودیوں کے زیر اثر مسلمانوں میں بھی پھیل گئی تھیں۔ یہ روایت دراصل بائبل کی کتاب سموئیل دوم باب نمبر 11 سے ماخوذ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بائبل میں کھلم کھلا حضرت داؤد ؑ پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے معاذ اللہ اور یا کی بیوی سے نکاح سے قبل ہی زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ اور ان تفسیری روایتوں میں زنا کے جز کو حذف کردیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے اس اسرائیلی روایت کو دیکھا اور اس میں سے زنا کے قصے کو نکال کر اسے قرآن کریم کی مذکورہ آیتوں پر چسپاں کردیا۔ حالانکہ یہ کتاب سموئیل ہی سرے سے بےاصل ہے اور یہ روایت قطعی کذب وافتراء کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے تمام محقق مفسرین نے اس کی سخت تردید کی ہے۔ حافظ ابن کثیر کے علاوہ علامہ ابن جوزی، قاضی ابو السعود، قاضی بیضاوی، قاضی عیاض، امام رازی، علامہ ابو حیان اندلسی، خازن، زمحشری، ابن حزم، علامہ خفاجی، احمد بن تصر، ابو تمام اور علامہ آلوسی وغیرہ نے بھی اسے کذب وافتراء قرار دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں۔ ”بعض مفسرین نے یہاں ایک قصہ ذکر کیا ہے جس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے آنحضرت ﷺ سے اس بارے میں کوئی ایسی بات ثابت نہیں جس کا اتباع واجب ہو، صرف ابن ابی حاتم نے یہاں ایک حدیث روایت کی ہے۔ مگر اس کی سند صحیح نہیں ہے۔“ غرض بہت سے دلائل کی روشنی میں جن کی کچھ تفصیل امام رازی کی تفسیر کبیر اور ابن جوزی کی زاد المسیر وغیرہ میں موجود ہے، یہ روایت تو اس آیت کی تفسیر میں قطعاً خارج از بحث ہوجاتی ہے۔ حکیم الامت حضرت تھانوی نے اس آزمائش اور لغزش کی تشریح اس طرح فرمائی ہے کہ مقدمہ کے یہ دو فریق دیوار پھاند کر داخل ہوئے، اور طرز مخاطبت بھی انتہائی گستاخانہ اختیار کیا کہ شروع ہی میں حضرت داؤد ؑ کو انصاف کرنے اور ظلم نہ کرنے کی نصیحتیں شروع کردیں، اس انداز کی گستاخی کی بنا پر کوئی عام آدمی ہوتا تو انہیں جواب دینے کے بجائے الٹی سزا دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کا یہ امتحان فرمایا کہ وہ بھی غصہ میں آ کر انہیں سزا دیتے ہیں یا پیغمبرانہ عفو و تحمل سے کام لے کر ان کی بات سنتے ہیں۔ حضرت داؤد ؑ اس امتحان میں پورا اترے، لیکن اتنی سی فروگذاشت ہوگئی کہ فیصلہ سناتے وقت ظالم کو خطاب کرنے کے بجائے مظلوم کو مخاطب فرمایا۔ جس سے ایک گونہ جانبداری مترشح ہوتی تھی مگر اس پر فوراً متنبہ ہوا اور سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔ (بیان القرآن) بعض مفسرین نے لغزش کی یہ تشریح کی ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے مدعا علیہ کو خاموش دیکھا تو اس کا بیان سنے بغیر صرف مدعی کی بات سن کر اپنی نصیحت میں ایسی باتیں فرمائیں جن سے فی الجملہ مدعی کی تائید ہوتی تھی، حالانکہ پہلے مدعا علیہ سے پوچھنا چاہئے تھا کہ اس کا موقف کیا ہے ؟ حضرت داؤد ؑ کا یہ ارشاد اگرچہ صرف ناصحانہ انداز میں تھا اور ابھی تک مقدمہ کے فیصلے کی نوبت نہیں آئی تھی، تاہم ان جیسے جلیل القدر پیغمبر کے شایان شان نہیں تھا۔ اسی بات پر آپ بعد میں متنبہ ہو کر سجدہ ریز ہوئے۔ (روح المعانی) بعض حضرات نے فرمایا کہ حضرت داؤد ؑ نے اپنا نظم اوقات ایسا بنایا ہوا تھا کہ چوبیس گھنٹے میں ہر وقت گھر کا کوئی نہ کوئی فرد عبادت، ذکر اور تسبیح میں مشغول رہتا تھا، ایک روز انہوں نے باری تعالیٰ سے عرض کیا کہ پروردگار ! دن اور رات کی کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی جس میں داؤد کے گھر والوں میں سے کوئی نہ کوئی آپ کی عبادت، نماز اور تسبیح و ذکر میں مشغول نہ ہو، باری تعالیٰ نے فرمایا کہ داؤد ! یہ سب کچھ میری توفیق سے ہے، اگر میری مدد شامل حال نہ ہو تو یہ بات تمہارے بس کی نہیں ہے، اور ایک دن میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دوں گا۔ اس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ وہ وقت حضرت داؤد ؑ کے مشغول عبادت ہونے کا تھا۔ اس ناگہانی قضیہ سے ان کے اوقات کا نظام مختل ہوگیا حضرت داؤد ؑ جھگڑا چکانے میں مشغول ہوگئے، آل داؤد ؑ کا کوئی اور فرد بھی اس وقت عبادت اور ذکر الٰہی میں مصروف نہ تھا۔ اس سے حضرت داؤد ؑ کو تنبہ ہوا کہ وہ فخریہ کلمہ جو زبان سے نکل گیا تھا، یہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔ اس لئے آپ نے استغفار فرمایا اور سجدہ ریز ہوگئے۔ اس توجیہہ کی تائید حضرت ابن عباس کے ایک ارشاد سے بھی ہوتی ہے جو مستدرک حاکم میں صحیح سند کے ساتھ منقول ہے۔ (احکام القرآن) ان تمام تشریحات میں یہ بات مشترکہ طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ مقدمہ فرضی نہیں، بلکہ حقیقی تھا اور صورت مقدمہ کا حضرت داؤد ؑ کی آزمائش یا لغزش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے برخلاف بہت سے مفسرین نے اس کی ایسی تشریح فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ مقدمہ کے یہ فریقین انسان نہیں، بلکہ فرشتے تھے، اور انہیں اللہ تعالیٰ نے اس لئے بھیجا تھا کہ وہ ایسی فرضی صورت مقدمہ پیش کریں جس سے حضرت داؤد ؑ کو اپنی لغزش پر تنبہ ہوجائے۔ چنانچہ ان حضرات کا یہ کہنا ہے کہ اور یا کو قتل کرانے اور اس کی بیوی سے نکاح کرلینے کا وہ قصہ تو غلط ہے، لیکن حقیقت حال یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص سے یہ فرمائش کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا کہ ”تم اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کا نکاح مجھ سے کردو“ اس زمانے میں اس فرمائش کا عام رواج بھی تھا۔ اور یہ بات خلاف مروت بھی نہ سمجھی جاتی تھی۔ حضرت داؤد ؑ نے اسی بنا پر اور یا سے یہی فرمائش کی تھی، جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ دو فرشتے بھیج کر آپ کو تنبیہ فرمائی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ بات صرف اتنی تھی کہ اور یا نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا ہوا تھا، حضرت داؤد ؑ نے بھی اسی عورت کو اپنا پیغام دے دیا، اس سے اور یا کو بہت رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے اس پر تنبیہ کے لئے یہ دو فرشتے بھیجے اور ایک لطیف پیرایہ میں اس لغزش پر تنبیہ فرمائی۔ قاضی ابویعلی نے اس توجیہہ پر قرآن کریم کے الفاظ وَعَزَّنِيْ فِي الْخِطَابِ ، سے استدلال فرمایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ معاملہ محض خطبہ (منگنی) کے سلسلہ میں بھی آیا تھا۔ اور ابھی حضرت داؤد ؑ نے اس سے نکاح نہیں فرمایا تھا۔ (زادالمسیر لابن الجوزی۔ ص 611۔ ج 7) اکثر مفسرین نے ان آخری دو تشریحات کو ترجیح دی ہے اور ان کی تائید بعض آثار صحابہ سے بھی ہوتی ہے۔ (ملاحظہ ہو روح المعانی، تفسیر ابی السعود، زاد المسیر، تفسیر کبیر وغیرہ) لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس آزمائش اور لغزش کی تفصیل نہ قرآن کریم سے ثابت ہے، نہ کسی صحیح حدیث سے۔ اس لئے اتنی بات تو طے شدہ ہے کہ اور یا کو قتل کروانے کا جو قصہ مشہور ہے وہ غلط ہے، لیکن اصل واقعہ کے بارے میں مذکورہ بالا تمام احتمالات موجود ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو قطعی اور یقینی نہیں کہا جاسکتا۔ لہٰذا سلامتی کی راہ وہی ہے جو حافظ ابن کثیر نے اختیار کی کہ جس بات کو اللہ تعالیٰ نے مبہم چھوڑا ہے، ہم اپنے قیاسات اور اندازوں کے ذریعہ اس کی تفصیل کی کوشش نہ کریں۔ جبکہ اس سے ہمارے کسی عمل کا تعلق نہیں۔ اس ابہام میں بھی یقینا کوئی حکمت ہے۔ لہٰذا صرف اتنے واقعہ پر ایمان رکھا جائے جو قرآن کریم میں مذکور ہے، باقی تفصیلات کو اللہ کے حوالے کیا جائے۔ البتہ اس واقعہ سے متعدد عملی فوائد حاصل ہوتے ہیں زیادہ توجہ ان کی طرف دینی چاہئے۔ اس لئے اب آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے جس میں انشاء اللہ ان فوائد کا ذکر آجائے گا۔ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ۔ (جب وہ محراب کی دیوار پھاند کر داخل ہوئے) محراب دراصل بالاخانے یا کسی مکان کے سامنے کے حصہ کو کہتے ہیں۔ پھر خاص طور سے مسجد یا عبادت خانے کے سامنے کے حصہ کو کہا جانے لگا۔ قرآن کریم میں یہ لفظ عبادت گاہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ مسجد کے دائرہ نما محرابیں جیسی آج کل معروف ہیں، یہ عہد نبوی میں موجود نہیں تھیں (روح المعانی)
Ayahs 38:22–23

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جب دیوار کود کر آئے عبادت خانے میں جب گھس آئے داؤد کے پاس تو ان سے گھبرایا وہ بولے مت گھبرا ہم دو جھگڑتے ہیں زیادتی کی ہے ایک نے دوسرے پر سو فیصلہ کر دے ہم میں انصاف کا اور دور نہ ڈال بات کو اور بتلا دے ہم کو سیدھی راہ

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

یہ جو ہے بھائی میرا اس کے یہاں ہیں ننانوے دنبیاں اور میرے یہاں ایک دنبی پھر کہتا ہے حوالے کر دے میرے وہ بھی اور زبردستی کرتا ہے مجھ سے بات میں

فَفَزِعَ مِنْهُمْ (پس حضرت داؤد ان سے گھبرا گئے) گھبرانے کی وجہ صاف ظاہر تھی کہ دو آدمیوں کا بےوقت پہرہ توڑ کر اس طرح گھس آنا عموماً کسی بری نیت ہی سے ہوتا ہے۔ طبعی خوف نبوت یا ولایت کے منافی نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی خوفناک چیز سے طبعی طور پر گھبرا جانا نبوت اور ولایت کے منافی نہیں ہے۔ ہاں اس خوف کو دل و دماغ پر طاری کر کے اپنے فرائض کو چھوڑ دینا ضرور برا ہے۔ اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم میں انبیاء کی شان یہ بیان کی گئی ہے لایخشون احداً الا اللہ۔ (وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے) پھر یہاں حضرت داؤد ؑ کو خوف کیوں ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ڈرنے کی دو قسمیں ہوتی ہیں، ایک ڈر تو موذی اشیاء کے تکلیف پہنچانے سے ہوتا ہے، اسے عربی میں خوف کہتے ہیں۔ دوسرا ڈر کسی بڑے کی عظمت، جلالت شان اور رعب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسے خشیة کہا جاتا ہے۔ (مفردات، راغب) خشیت اللہ کے سوا کسی کی نہیں ہونی چاہئے، اور انبیاء (علیہم السلام) کی شان یہی ہوتی ہے کہ اللہ کے سوا ان پر کسی کی خشیت طاری نہیں ہوتی۔ ہاں خوف طبعی موذی اشیاء سے ہوسکتا ہے۔ بے قاعدگی پر حقیقت حال کے منکشف ہونے تک صبر کرنا چاہئے قَالُوْا لَا تَخَفْ (انہوں نے کہا ڈریئے نہیں) آنے والوں نے یہ کہہ کر اپنی بات بیان کرنی شروع کردی اور حضرت داؤد ؑ خاموشی سے ان کی بات سنتے رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اچانک کسی بےقاعدگی کا مرتکب ہو تو اسے فوراً ملامت اور زجر وتوبیخ شروع نہیں کر دینی چاہئے، بلکہ پہلے اس کی بات سن لینی چاہئے۔ تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس کے پاس اس بےقاعدگی کا جواز تھا یا نہیں۔ کوئی اور ہوتا تو آنے والوں پر فوراً برس پڑتا۔ لیکن حضرت داؤد ؑ نے انکشاف حقیقت کا انتظار فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ معذور ہوں۔ ولاتشطط (اور بےانصافی نہ کیجئے) آنے والے کا یہ انداز خطاب بظاہر بڑا گستاخانہ تھا، اول تو دیوار پھاند کر بےوقت آنا، پھر آ کر حضرت داؤد ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر کو انصاف کرنے اور ظلم سے بچنے کا درس دینا، اس پر الھڑ پن کی باتیں تھیں لیکن حضرت داؤد ؑ نے ان سب باتوں پر صبر فرمایا اور انہیں کچھ برا بھلا نہیں کہا۔
Ayah 38:24

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

بولا وہ بےانصافی کرتا ہے تجھ پر کہ مانگتا ہے تیری دنبی ملانے کو اپنی دنبیوں میں اور اکثر شریک زیادتی کرتے ہیں ایک دوسرے پر مگر جو یقین لائے ہیں اور کام کئے نیک اور تھوڑے لوگ ہیں ایسے اور خیال میں آیا داؤد کے کہ ہم نے اس کو جانچا پھر گناہ بخشوانے لگا اپنے رب سے اور گر پڑا جھک کر اور رجوع ہوا

بڑے آدمی کو چاہئے کہ اہل حاجت کی غلطیوں پر حتی الوسع صبر کرے اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو اللہ نے کوئی بڑا مرتبہ دیا ہو، اور لوگوں کی ضروریات اس سے متعلق ہوں اسے چاہئے کہ وہ اہل حاجت کی بےقاعدگیوں اور گفتگو کی غلطیوں پر حتی الوسع صبر کرے کہ یہی اس کے مرتبہ کا تقاضا ہے۔ خاص طور سے حاکم، قاضی اور مفتی کو اس کا لحاظ رکھنا چاہئے۔ (روح المعانی) قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ ۭ (داؤد ؑ نے کہا کہ اس نے جو تیری دنبی اپنی دنبیوں میں ملانے کی درخواست کی ہے تو واقعی تجھ پر ظلم کیا ہے) یہاں دو باتیں قابل غور ہیں۔ ایک تو یہ کہ حضرت داؤد ؑ نے یہ فقرہ صرف مدعی کی بات سن کر ارشاد فرما دیا، مدعا علیہ کا بیان نہیں سنا۔ اس پر بعض حضرات نے تو یہ کہا ہے کہ وہ لغزش جس پر آپ نے استغفار فرمایا، یہی لغزش تھی۔ لیکن دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ درحقیقت یہاں مقدمہ کی پوری تفصیلات بیان نہیں ہو رہی ہیں، صرف ضروری باتیں بیان کی گئی ہیں۔ حضرت داؤد ؑ نے یقینا مدعا علیہ سے اس کا موقف سنا ہوگا۔ لیکن اسے یہاں اس لئے بیان نہیں کیا گیا کہ فیصلوں کا معروف طریقہ یہی ہے۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہاں مدعا علیہ سے پوچھنے کا جزو محذوف ہے۔ نیز یہ بھی ہے کہ اگرچہ آنے والوں نے حضرت داؤد ؑ سے عدالتی فیصلہ طلب کیا تھا، لیکن نہ وہ وقت عدالت کا تھا، نہ مجلس قضا کی تھی، نہ وہاں حضرت داؤد ؑ کے پاس اپنے فیصلہ کو نافذ کرنے کے وسائل جمع تھے۔ اس لئے حضرت داؤد ؑ نے قاضی کی حیثیت میں نہیں بلکہ مفتی کی حیثیت میں فتویٰ دیا۔ اور مفتی کا کام واقعہ کی تحقیق کرنا نہیں ہوتا، بلکہ جیسا سوال ہو اسی کے مطابق جواب دینا ہوتا ہے۔ کسی قسم کے دباؤ کے ساتھ چندہ یا ہدیہ بھی طلب کرنا غصب ہے دوسری بات یہاں یہ قابل غور ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے ایک شخص کے محض دنبی مانگنے کو ظلم قرار دیا، حالانکہ بظاہر کسی سے محض کوئی چیز مانگ لینا کوئی جرم نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ صورت سوال کی تھی لیکن جس قولی اور عملی دباؤ کے ساتھ یہ سوال کیا جا رہا تھا اس کی موجودگی میں اس کی حیثیت غصب کی سی ہوگئی تھی۔ اس سے معلوم یہ ہوا کہ اگر کوئی آدمی کسی سے اس طرح کوئی چیز مانگے کہ مخاطب راضی ہو یا ناراض لیکن اس کے پاس دینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے تو اس طرح ہدیہ طلب کرنا بھی غصب میں داخل ہے لہٰذا اگر مانگنے والا کوئی صاحب اقتدار یا ذی وجاہت شخص ہو اور مخاطب اس کی شخصیت کے دباؤ کی وجہ سے انکار نہ کرسکتا ہو، تو وہاں صورت چاہے ہدیہ طلب کرنے کی ہو لیکن حقیقت میں وہ غصب ہی ہوتا ہے اور مانگنے والے کے لئے اس طرح حاصل کی ہوئی چیز کا استعمال جائز نہیں ہوتا۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان لوگوں کے لئے بہت توجہ کرنے کا ہے، جو مدارس ومکاتب، مسجد یا انجمنوں اور جماعتوں کے لئے چندے وصول کرتے ہیں۔ صرف وہ چندہ حلال طیب ہے جو دینے والے نے اپنے مکمل اختیار اور خوش دلی کے ساتھ دیا ہو۔ اور اگر چندہ کرنے والوں نے اپنی شخصیت کا دباؤ ڈال کر یا بیک وقت آٹھ دس آدمیوں نے کسی ایک شخص کو زچ کر کے چندہ وصول کرلیا تو یہ صریح ناجائز فعل ہے۔ حدیث میں آنحضرت محمد ﷺ کا واضح ارشاد ہے کہ۔ لا یحل مال امری سلم الا بطیب نفس منہ کسی مسلمان کا مال اس کی خوشی دلی کے بغیر حلال نہیں معاملات کی شرکت میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہےr ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْخُلَطَاۗءِ لَيَبْغِيْ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ (اور بہت سے شرکاء ایک دوسرے پر زیادتی کیا کرتے ہیں) اس سے اس بات پر تنبیہ کردی ہے کہ جب دو انسانوں میں شرکت کا کوئی معاملہ ہو تو اس میں اکثر ایک دوسرے کی حق تلفیاں ہوجاتی ہیں۔ بعض اوقات ایک آدمی ایک کام کو معمولی سمجھ کر کر گزرتا ہے لیکن حقیقت وہ گناہ کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لئے اس معاملہ میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ (آیت) وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ (اور داؤد، ؑ کو خیال آیا کہ ہم نے ان کا امتحان کیا ہے) اگر مقدمہ کی صورت کو حضرت داؤد ؑ کی لغزش کو تمثیل قرار دیا جائے تب تو یہ خیال آنا ظاہری ہے۔ اور اگر صورت مقدمہ کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو، تب بھی فریقین کی مجموعی حالت یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی تھی کہ یہ امتحاناً بھیجے گئے ہیں۔ ایک طرف تو ان فریقوں نے مقدمہ کے فیصلے کیلئے اتنی جلد بازی اور جرأت سے کام لیا کہ دیوار پھاند کر چلے آئے۔ دوسری طرف جب مقدمہ پیش ہوا، تو مدعا علیہ خاموش بیٹھا رہا اور قولی یا عملی طور سے مدعی کی بات کو بےچون وچرا تسلیم کرلیا۔ اگر مدعی کے بیان کردہ واقعہ کو مدعا علیہ تسلیم کرتا تھا تو جھگڑے کا فیصلہ کرانے کے لئے حضرت داؤد ؑ کے پاس آنے کی ضرورت ہی نہ تھی، ایک معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا تھا کہ حضرت داؤد ؑ اس صورت میں مدعی کے حق میں ہی فیصلہ کریں گے۔ فریقین کا یہ پراسرار طرز عمل بتارہا تھا کہ یہ کوئی غیر معمولی واقعہ ہے۔ حضرت داؤد ؑ نے بھانپ لیا کہ یہ اللہ کے بھیجے ہوئے آئے ہیں اور میرا امتحان مقصود ہے۔ اور بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ فیصلہ سننے کے بعد وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر چلے گئے۔ واللہ اعلم۔ (آیت) فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَخَرَّ رَاكِعًا وَّاَنَابَ۔ (پس انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کی اور سجدے میں گر پڑے اور رجوع ہوئے) یہاں دراصل رکوع کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے لغوی معنے جھکنے کے ہیں۔ اور اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے مراد سجدہ ہے۔ احناف کے نزدیک اس آیت کی تلاوت سے سجدہ واجب ہوجاتا ہے۔ رکوع سے سجدہ تلاوت ادا ہوجاتا ہے اور امام ابوحنیفہ نے اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ اگر نماز میں آیت سجدہ کی تلاوت کی گئی ہے تو رکوع میں سجدہ کی نیت کرلینے سے سجدہ ادا ہوجاتا ہے۔ اس لئے کہ یہاں باری تعالیٰ نے سجدہ کے لئے رکوع کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ رکوع بھی سجدہ کے قائم مقام ہوسکتا ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں چند ضروری مسائل یاد رکھنے چاہئیں۔ سجدہ تلاوت کے بعض مسائل مسئلہ نماز کے فرض رکوع کے ذریعہ سجدہ صرف اس صورت میں ادا ہوسکتا ہے جبکہ سجدے کی آیت نماز میں پڑھی گئی ہو، نماز سے باہر تلاوت کرنے میں رکوع سے سجدہ ادا نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ رکوع صرف نماز میں عبادت ہے، نماز سے باہر مشروع نہیں۔ (بدائع)۔ مسئلہ رکوع میں سجدہ صرف اس وقت ادا ہوگا جبکہ آیت سجدہ تلاوت کرنے کے فوراً بعد یا زیادہ سے زیادہ دو تین آیتیں مزید تلاوت کر کے رکوع کرلیا ہو۔ اور اگر آیت سجدہ کے بعد کھڑے کھڑے طویل قرات کی ہو تو سجدہ رکوع میں ادا نہیں ہوگا۔ مسئلہ اگر سجدہ تلاوت رکوع میں ادا کرنے کا خیال ہو تو رکوع میں جاتے وقت سجدہ تلاوت کی نیت کر لینی چاہئے، ورنہ اس رکوع سے سجدہ ادا نہیں ہوگا۔ ہاں جب سجدہ میں جانے لگا تو بلا نیت بھی سجدہ ادا ہوجائے گا۔ مسئلہ۔ افضل بہرحال یہی ہے کہ سجدہ تلاوت کو نماز کے فرض رکوع میں ادا کرنے کے بجائے مستقل سجدہ کیا جائے۔ اور سجدہ سے اٹھ کر ایک دو آیتیں تلاوت کر کے پھر رکوع میں جائیں۔ (بدائع)
Ayah 38:25

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

پھر ہم نے معاف کردیا اس کو وہ کام اور اس کے لئے ہمارے پاس مرتبہ ہے اور اچھا ٹھکانا۔

وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَـزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ (اور بلاشبہ ان کے لئے ہمارے یہاں خاص تقرب اور نیک انجامی ہے) اس آیت پر واقعے کو ختم کر کے اس بات کی طرف اشارہ کردیا گیا کہ حضرت داؤد ؑ کی لغزش جو کچھ بھی رہی ہو۔ ان کے استغفار اور انابت کے بعد اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے تعلق میں اور اضافہ ہوگیا۔ غلطی پر تنبیہ میں حکمت کی رعایت اس واقعہ سے متعلق ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ حضرت داؤد ؑ کی لغزش خواہ کچھ رہی ہو، اللہ تعالیٰ براہ راست وحی کے ذریعہ بھی آپ کو اس پر متنبہ فرما سکتے تھے۔ لیکن اس کے بجائے ایک مقدمہ میں بھیج کر تنبیہ کے لئے یہ خاص طریقہ کیوں اختیار کیا گیا ؟ درحقیقت اس طریقہ پر غور کرنے سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ کسی شخص کو اس کی غلطی پر تنبیہ کیلئے حکمت سے کام لینے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ایسا طریقہ اختیار کرنا زیادہ اچھا ہے جس سے متعلقہ شخص خود بخود اپنی غلطی کو محسوس کرلے اور اسے زبانی تنبیہ کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ اور اس کے لئے ایسی تمثیلات سے کام لینا زیادہ موثر ہوتا ہے جس سے کسی کی دل آزاری بھی نہ ہو اور ضرورت بات بھی واضح ہوجائے۔
Ayah 38:26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

اے داؤد ہم نے کیا تجھ کو نائب ملک میں سو تو حکومت کر لوگوں میں انصاف سے اور نہ چل جی کی خواہش پر پھر وہ تجھ کو بچلاوے اللہ کی راہ سے مقرر جو لوگ بچلتے ہیں اللہ کی راہ سے ان کو سخت عذاب ہے اس بات کہ بھلا دیا انہوں نے دن حساب کا

خلاصہ تفسیر اے داؤد، ہم نے تم کو زمین پر حاکم بنایا ہے، سو (جس طرح اب تک کرتے رہے ہو، اسی طرح آئندہ بھی) لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے رہنا اور (جس طرح اب تک کبھی نفسانی خواہش کی پیروی نہیں کی، اسی طرح آئندہ بھی) نفسانی خواہش کی پیروی مت کرنا کہ (اگر ایسا کرو گے تو) وہ خدا کے رستہ سے تم کو بھٹکا دے گی (اور) جو لوگ خدا کے رستہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہوگا اس وجہ سے کہ وہ روز حساب کو بھولے رہے۔ معارف و مسائل حضرت داؤد ؑ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ حکومت و سلطنت بھی عطا فرمائی تھی، چناچہ اس آیت میں حکومت وسیاست کے لئے آپ کو ایک بنیادی ہدایت نامہ عطا کردیا گیا ہے۔ اس ہدایت نامہ میں تین بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) ہم نے آپ کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ (2) اس حیثیت سے آپ کا بنیادی کام حق کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ (3) اور اس کام کے لئے خواہشات نفسانی کی پیروی سے بچنا ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں تک زمین میں خلیفہ بنانے کا تعلق ہے، اس کا مفہوم سورة بقرہ میں گزر چکا ہے (دیکھئے معارف القرآن جلد اول ص 421) اور اسی سے اسلامی سیاست کا یہ اصل الاصول واضح ہوتا ہے کہ ”اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے“ زمین کے حکمران اسی کے احکام کے مطابق چلنے کے مجاز ہیں اس سے باہر نہیں جاسکتے۔ لہٰذا مسلمانوں کا حاکم، شوریٰ یا اسمبلی اسلامی قانون کی تشریح یا تدوین تو کرسکتی ہے، لیکن درحقیقت وہ واضح قانون نہیں بلکہ اللہ کے قانون کو پیش کرنے والے ہیں۔ اسلامی ریاست کا بنیادی کام اقامت حق ہے دوسری بات یہاں واضح کردی گئی ہے کہ اسلامی ریاست کا بنیادی کام اقامت حق ہے۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنے انتظامی معاملات اور تنازعات کے تصفیہ میں حق و انصاف قائم کرے۔ اسلام چونکہ ایک ابدی دین ہے، اس لئے اس نے سیاست و حکمرانی کے لئے ایسے انتظامی جزئیات کی تعیین نہیں فرمائی، جو حالات اور زمانے کے بدلنے سے قابل تبدیل ہوجائیں۔ بلکہ کچھ ایسی بنیادی ہدایات عطا فرما دی ہیں جن کی روشنی میں ہر زمانے کے مطابق انتظامی جزئیات خود طے کی جاسکتی ہیں۔ اسی لئے یہاں یہ بات تو بتادی گئی ہے کہ حکومت کا اصل کام اقامت حق ہے، لیکن اس کی انتظامی تفصیلات ہر دور کے اہل رائے مسلمانوں پر چھوڑی گئی ہیں۔ عدلیہ اور انتظامیہ کا رشتہ چنانچہ یہ بات کہ عدلیہ انتظامیہ سے بالکل الگ رہے یا اس کے ساتھ وابستہ ؟ اس مسئلہ میں کوئی ایسا متعین حکم نہیں دیا گیا جو ہر دور میں ناقابل تبدیل ہو۔ اگر کسی زمانہ میں حکمرانوں کی امانت و دیانت پر پورا اعتماد کیا جاسکتا ہو تو عدلیہ اور انتظامیہ کی دوری کو مٹایا جاسکتا ہے اور اگر کسی دور میں حکمرانوں کی امانت و دیانت پر پورا بھروسہ نہ ہو تو عدلیہ کو انتظامیہ سے بالکل آزاد بھی رکھا جاسکتا ہے۔ حضرت داؤد ؑ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر تھے ان سے زیادہ امانت و دیانت کا کون دعویٰ کرسکتا تھا ؟ اس لئے انہیں بیک وقت انتظامیہ اور عدلیہ دونوں کا سربراہ بنا کر تنازعات کے فیصلے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ انبیاء (علیہم السلام) کے علاوہ خلفاء راشدین میں بھی یہی طرز رہا کہ امیر المومنین خود ہی قاضی بھی ہوتا تھا۔ بعد کی اسلامی حکومتوں میں اس طریقے کو بدلا گیا اور امیر المومنین کو انتظامیہ کا اور قاضی القضاة کو عدلیہ کا سربراہ بنایا گیا۔ تیسری ہدایت جس پر اس آیت میں سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ خواہشات نفسانی کی پیروی مت کرو، اور روز حساب کو ہر وقت پیش نظر رکھو۔ اس ہدایت پر سب سے زیادہ زور اس لئے دیا گیا ہے کہ یہ چیز اقامت حق کی بنیاد ہے۔ جس حاکم یا قاضی کے دل میں خدا کا خوف اور آخرت کی فکر ہے وہی صحیح معنی میں حق و انصاف قائم کرسکتا ہے۔ اور اگر یہ نہیں ہے تو آپ اچھے سے اچھا قانون بنا لیجئے۔ نفس انسانی کی دسیسہ کاریاں ہر جگہ اپنا راستہ خود بنا لیتی ہیں اور ان کی موجودگی میں کوئی بہتر سے بہتر نظام قانون بھی حق و انصاف قائم نہیں کرسکتا۔ دنیا کی تاریخ اور موجودہ زمانے کے حالات اس پر گواہ ہیں۔ ذمہ داری کے عہدوں میں سب سے پہلے دیکھنے کی چیز انسان کا کردار ہے یہیں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کسی شخص کو حاکم، قاضی یا کسی محکمے کا افسر بنانے کے لئے سب سے پہلے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس میں خدا کا خوف اور آخرت کی فکر ہے یا نہیں اور اس کے اخلاق و کردار کی کیا حالت ہے ؟ اگر یہ محسوس ہو کہ اس کے دل پر خوف خدا کے بجائے خواہشات نفسانی کی حکمرانی ہے تو خواہ وہ کیسی اعلیٰ ڈگریاں رکھتا ہو اور اپنے فن میں کتنا ہی ماہر اور پختہ کار ہو، اسلام کی نظر میں وہ کسی اونچے منصب کا مستحق نہیں ہے۔
Ayah 38:27

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے نہیں بنایا آسمان اور زمین کو اور جو ان کے بیچ میں ہے نکما یہ خیال ہے ان کا جو منکر ہیں سو خرابی ہے منکروں کے لئے آگ سے

خلاصہ تفسیر اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو چیزیں ان کے درمیان موجود ہیں ان کو خالی از حکمت پیدا نہیں کیا۔ (بلکہ بہت سی حکمتیں ہیں، جن میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ ان سے توحید اور آخرت ثابت ہوتی ہے) یہ (یعنی ان کا خالی از حکمت ہونا) ان لوگوں کا خیال ہے جو کافر ہیں (کیونکہ جب وحید اور آخرت کی جزا و سزا کا انکار کیا تو کائنات کی تخلیق کی سب سے بڑی حکمت کا انکار کیا) سو کافروں کے لئے (آخرت میں) بڑی خرابی ہے۔ یعنی دوزخ (کیونکہ وہ توحید کا انکار کرتے تھے) ہاں (ایک غلطی ان کی یہ ہے کہ قیامت کے منکر ہیں، حالانکہ قیامت میں یہ حکمت ہے کہ نیکوں کو جزا اور مفسدوں کو سزا ملے، اب ان کے انکار قیامت سے لازم آتا ہے کہ اس حکمت کا تحقق نہ ہو بلکہ سب برابر ہیں) تو کیا ہم ان لوگوں کو جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ان کی برابر کردیں گے جو (کفر وغیرہ کر کے) دنیا میں فساد کرتے پھرتے ہیں یا (بالفاظ دیگر کیا) ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے۔ (یعنی ایسا نہیں ہو سکتا، لہٰذا قیامت ضرور آئے گی تاکہ نیکوں کو جزا اور بدکاروں کو سزا ملے، اسی طرح توحید اور آخرت کے ساتھ رسالت پر ایمان رکھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ) یہ (قرآن) ایک بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر اس واسطے نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں (یعنی ان کے اعجاز میں بھی اور کثیر النفع مضامین میں بھی) اور تاکہ (غور سے اس کی حقیقت معلوم کر کے اس سے) اہل فہم نصیحت حاصل کریں (یعنی اس پر عمل کریں)۔ معارف و مسائل آیات کی لطیف ترتیب یہ آیتیں جن میں اسلام کے بنیادی عقائد، خاص طور سے آخرت کا اثبات کیا گیا ہے، حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کے واقعات کے درمیان انتہائی لطیف ترتیب کے ساتھ آئی ہیں۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ سمجھ رہا ہو تو اس سے حکیمانہ طریقہ یہ ہے کہ زیر بحث موضوع چھوڑ کر کوئی غیر متعلق بات شروع کردی جائے۔ اور جب اس کا ذہن پہلی بات سے ہٹ جائے تو باتوں ہی باتوں میں اسے پہلی بات ماننے پر مجبور کردیا جائے۔ یہاں آخرت کے اثبات کے لئے یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت داؤد ؑ کے واقعہ سے پہلے کفار کی ہٹ دھرمیوں کا ذکر چل رہا تھا جو اس آیت پر ختم ہوا کہ (آیت) وقالوا ربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب۔ جس کا یہ حاصل تھا کہ وہ لوگ آخرت کا انکار کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کے فوراً بعد یہ ارشاد ہوا کہ (آیت) اصبر علیٰ ما یقولون واذکو عبدنا داؤد (ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور ہمارے بندے داؤد کو، یاد کیجئے) اس طرح ایک نئی بات شروع کردی گئی، لیکن حضرت داؤد ؑ کے واقعہ کو اس بات پر ختم کیا گیا کہ ”اے داؤد، ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تم لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے رہنا“ اب یہاں سے ایک غیر محسوس طریقہ پر آخرت کا اثبات کردیا گیا کہ جو ذات زمین میں اپنے خلیفہ کو عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دے رہی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بدکاروں کو سزا ملے اور نیکوں کو راحت، کیا وہ خود اس کائنات میں عدل و انصاف قائم نہیں کرے گا ؟ یقینا اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اچھے اور برے تمام لوگوں کو ایک لاٹھی سے ہانکنے کے بجائے بدکاروں کو سزا دے، اور نیکو کاروں کو انعام عطا فرمائے، یہی اس کائنات کی تخلیق کا مقصد ہے اور اس کے روبکار آنے کے لئے قیامت و آخرت کا وجود اس کی حکمت کے عین مطابق ہے۔ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں وہ گویا زبان حال سے یہ کہتے ہیں کہ یہ کائنات بےمقصد اور خالی از حکمت پیدا کردی گئی ہے۔ اور اس میں اچھے برے تمام لوگ زندگی گزار کر مر جائیں گے اور پھر ان سے کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر ایمان رکھنے والا اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتا۔
Ayahs 38:28–29

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

کیا ہم کردیں گے ایمان والوں کو جو کرتے ہیں نیکیاں برابر ان کے جو خرابی ڈالیں ملک میں کیا ہم کردیں گے ڈرنے والوں کو برابر ڈھیٹ لوگوں کے ؟

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

ایک کتاب ہے جو اتاری ہم نے تیری طرف برکت کی تادھیان کریں لوگ اس کی باتیں اور تا سمجھیں عقل والے۔

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ (تو کیا ہم ایمان لانے والوں اور نیکو کاروں کو زمین میں فساد پھیلانے والوں کے برابر کردیں گے یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے ؟) یعنی ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، بلکہ دونوں کا انجام بالکل مختلف ہوگا۔ اسی سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ مومن اور کافر کا یہ فرق آخرت کے احکام کے اعتبار سے ہے۔ دنیا میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافر کو مومن سے بڑھ کر مادی راحتیں مل جائیں۔ نیز اس سے یہ نتیجہ بھی نہیں نکالا جاسکتا کہ کافر کے دنیوی حقوق مومن کی برابر نہیں ہو سکتے۔ بلکہ کافر کو مسلمان کے برابر انسانی حقوق دیئے جاسکتے ہیں۔ چناچہ اسلامی مملکت میں جو غیر مسلم اقلیتیں عہد و پیمان کے ساتھ بستی ہوں، انہیں تمام انسانی حقوق مسلمانوں کے برابر ہی دیئے جائیں گے۔