Ayahs 38:30–31خلاصہ تفسیر
اور ہم نے داؤد ؑ کو سلیمان (علیہ السلام فرزند) عطا کیا بہت اچھے بندے تھے کہ (خدا کی طرف) بہت رجوع ہونے والے تھے (چنانچہ ان کا وہ قصہ یاد رکھنے کے لائق ہے) جبکہ شام کے وقت ان کے روبرو اصیل (اور) عمدہ گھوڑے (جو بغرض جہاد وغیرہ رکھے جاتے تھے) پیش کئے گئے (اور ان کے ملاحظہ کرنے میں اس قدر دیر ہوگئی کہ دن چھپ گیا اور کوئی معمول از قسم نماز فوت ہوگیا اور بوجہ ہیبت و جلالت کے کسی خادم کی جرأت نہ ہوئی کہ مطلع و متنبہ کرے، پھر جب خود ہی تنبہ ہوا) تو کہنے لگے کہ (افسوس) میں اس مال کی محبت کی خاطر (لگ کر) اپنے رب کی یاد سے (یعنی نماز سے) غافل ہوگیا، یہاں تک کہ آفتاب پردہ (مغرب) میں چھپ گیا (پھر خادموں کو حکم دیا کہ) ان گھوڑوں کو ذرا پھر تو میرے سامنے لاؤ (چنانچہ لائے گئے) سو انہوں نے ان (گھوڑوں) کی پنڈلیوں اور گردنوں پر (تلوار سے) ہاتھ صاف کرنا شروع کیا (یعنی ان کو ذبح کر ڈالا)۔
معارف و مسائل
ان آیتوں میں حضرت سلیمان ؑ کا ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس واقعہ کی مشہور تفسیر وہی ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں ذکر کی گئی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ گھوڑوں کے معائنہ میں ایسے مشغول ہوئے کہ عصر کا وقت جو نماز پڑھنے کا معمول تھا وہ چھوٹ گیا، بعد میں متنبہ ہو کر آپ نے ان تمام گھوڑوں کو ذبح کر ڈالا کہ ان کی وجہ سے یاد الٰہی میں خلل واقع ہوا تھا۔
یہ نماز نفلی بھی ہو سکتی ہے۔ اور اس صورت میں کوئی اشکال نہیں، کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اتنی غفلت کی بھی تلافی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرض نماز ہو، اور معائنہ میں لگ کر بھول طاری ہوگئی ہو، بھول جانے کی صورت میں فرض نماز کے قضا ہونے سے گناہ تو نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت سلیمان ؑ نے اپنے بلند منصب کے پیش نظر اس کا بھی تدارک فرمایا۔
ان آیات کی یہ تفسیر متعدد ائمہ تفسیر سے منقول ہے، اور حافظ ابن کثیر جیسے محقق عالم نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے۔ اور اس کی تائید ایک مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے جو علامہ سیوطی نے معجم طبرانی اسماعیلی اور ابن مردویہ کے حوالے سے نقل کی ہے۔
عن ابی بن کعب عن النبی ﷺ فی قولہ فطفق مسحاً بالسوق والاعناق قال قطع سو تھا واھنا تھا بالسیف)
علامہ سیوطی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ (درمنثور ص 903 ج 5) اور علامہ ھثیمی مجمع الزوائد میں یہ حدیث نقل کر کے لکھتے ہیں۔
”اسے طبرانی نے اوسط میں روایت کیا ہے اس میں ایک راوی سعید بن بشیر ہیں، جنہیں شعبہ وغیرہ نے ثقہ کیا ہے، اور ابن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے اور اس کے باقی رجال ثقہ ہیں“ (مجمع الزوائد ص 99 ج 7 کتاب التفسیر)
اس حدیث مرفوع کی وجہ سے یہ تفسیر کافی مضبوط ہوجاتی ہے لیکن اس پر عموماً یہ شبہ ہوتا ہے کہ گھوڑے اللہ کا عطا کیا ہوا ایک انعام تھا، اور اپنے مال کو اس طرح ضائع کردینا ایک نبی کے شایان شان معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن مفسرین نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ گھوڑے حضرت سلیمان ؑ کی ذاتی ملکیت میں تھے، اور ان کی شریعت میں گائے، بکری، اونٹ کی طرح گھوڑوں کی قربانی بھی جائز تھی، لہٰذا انہوں نے گھوڑوں کو ضائع نہیں کیا بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے نام پر قربان کردیا۔ جس طرح گائے، بکری کی قربانی سے ان کو ضائع کرنا لازم نہیں آتا، بلکہ یہ عبادت ہی کا ایک شعبہ ہے، اسی طرح یہاں بھی عبادت ہی کے طور پر ان کی قربانی پیش کی گئی۔ (روح المعانی)
اکثر حضرات مفسرین نے آیت کی یہی تفسیر کی ہے، لیکن ان آیات کی ایک اور تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے جس میں واقعہ بالکل مختلف طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ اس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے سامنے وہ گھوڑے معائنہ کے لئے پیش کئے گئے جو جہاد کے لئے تیار کئے گئے تھے۔ حضرت سلیمان ؑ انہیں دیکھ کر مسرور ہوئے۔ اور ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا کہ مجھے ان گھوڑوں سے جو محبت اور تعلق خاطر ہے وہ دنیا کی محبت سے نہیں، بلکہ اپنے پروردگار ہی کی یاد کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ جہاد کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔ اور جہاد ایک اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔ اتنے میں گھوڑوں کی وہ جماعت آپ کی نگاہوں سے روپوش ہوگئی۔ آپ نے حکم دیا کہ انہیں دوبارہ سامنے لایا جائے۔ چناچہ جب وہ دوبارہ سامنے آئے تو آپ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے۔
اس تفسیر کے مطابق عن ذکر ربی میں عن سبیہ ہے۔ اور تو ارت کی ضمیر گھوڑوں ہی کی طرف راجع ہے، اور مسح سے مراد کاٹنا نہیں، بلکہ محبت سے ہاتھ پھیرنا ہے۔
قدیم مفسرین میں سے حافظ ابن جریر طبری اور امام رازی وغیرہ نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے، کیونکہ اس پر مال ضائع کرنے کا شبہ نہیں ہوتا۔
قرآن کریم کے الفاظ کے لحاظ سے دونوں تفسیروں کی گنجائش ہے، لیکن پہلی تفسیر کے حق میں چونکہ ایک مرفوع حدیث آگئی ہے جو سند کے اعتبار سے حسن ہے، اسی لئے اس کی قوت بڑھ جاتی ہے۔
Ayahs 38:32–33سورج کی واپسی کا قصہ
بعض حضرات نے پہلی تفسیر کو اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ نماز عصر کے قضا ہوجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے یا فرشتوں سے یہ درخواست کی کہ سورج کو دوبارہ لوٹا دیا جائے، چناچہ سورج لوٹا دیا گیا، اور آپ نے اپنا معمول پورا کرلیا۔ اس کے بعد دوبارہ سورج غروب ہوا، یہ حضرات ردوھا کی ضمیر کو سورج کی طرف راجع مانتے ہیں۔
لیکن محقق مفسرین مثلاً علامہ آلوسی وغیرہ نے اس قصے کی تردید کی ہے۔ اور کہا ہے کہ ردوھا کی ضمیر گھوڑوں کی طرف راجع ہے نہ کہ سورج کی طرف۔ اس لئے نہیں کہ معاذ اللہ سورج کو دوبارہ لوٹا دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں، بلکہ اس لئے کہ یہ قصہ قرآن و حدیث کی کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے۔ (روح المعانی)
خدا کی یاد میں غفلت ہو تو اپنے اوپر سزا مقرر کرنا دینی غیرت کا تقاضا ہے
بہرکیف اس واقعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کسی وقت اللہ کی یاد سے غفلت ہوجائے تو نفس کو سزا دینے کے لئے اسے کسی فعل مباح سے محروم کردینا جائز ہے۔ اور حضرات صوفیائے کرام کی اصطلاح میں اسے ”غیرت“ کہا جاتا ہے۔ (بیان القرآن)
کسی نیکی کی عادت ڈالنے کے لئے اپنے نفس پر ایسی سزائیں مقرر کرنا اصلاح نفس کا ایک نسخہ ہے اور اس واقعہ سے اس کا جواز بلکہ استحباب معلوم ہوتا ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ سے بھی مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوجہم نے ایک شامی چادر ہدیتاً پیش کی جس پر کچھ نقش و نگار بنے ہوئے تھے آپ نے اس چادر میں نماز پڑھی اور واپس آ کر حضرت عائشہ سے فرمایا کہ یہ چادر ابوجہم کو واپس کرو کیونکہ نماز میں میری نگاہ اس کے نقش ونگار پر پڑگئی تو قریب تھا کہ یہ نقش و نگار مجھے فتنہ میں ڈال دیں۔ (احکام القرآن بحوالہ موطاء ومالک)
اسی طرح حضرت ابوطلحہ ایک مرتبہ اپنے باغ میں نماز پڑھتے ہوئے ایک پرندے کو دیکھنے میں مشغول ہوگئے۔ جس سے نماز کی طرف دھیان نہ رہا تو بعد میں آپ نے پورا باغ صدقہ کردیا۔
لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس مقصد کے لئے سزا ایسی ہی ہونی چاہئے جو بذات خود جائز ہو، کسی مال کو بلاوجہ ضائع کردینا جائز نہیں۔ لہٰذا ایسا کوئی کام درست نہیں جس سے اضاعت مال لازم آتی ہو صوفیاء میں سے حضرت شبلی ؒ نے ایک مرتبہ اسی سزا کے طور پر اپنے کپڑے جلا دیئے تھے، لیکن محقق صوفیاء مثلاً شیخ عبدالوہاب شعرانی ؒ نے ان کے اس عمل کو صحیح قرار نہیں دیا۔ (روح المعانی)
امیر کو بذات خود ریاست کے کاموں کی نگرانی کرنی چاہئے
اس واقعہ سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مملکت کے ذمہ دار یا اونچے درجہ کے افسر کو چاہئے کہ وہ اپنے ماتحت شعبوں پر بذات خود نگرانی رکھے اور انہیں اپنے ماتحتوں پر چھوڑ کر فارغ نہ ہو بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے ماتحتوں کی کثرت کے باوجود بہ نفس نفیس گھوڑوں کا معائنہ فرمایا۔ خلفائے راشدین اور خاص طور سے حضرت فاروق اعظم کے عمل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔
ایک عبادت کے وقت دوسری عبادت میں مشغول ہونا غلطی ہے
تیسری بات اس واقعہ سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ ایک موقت عبادت کے وقت کو کسی دوسری عبادت میں بھی صرف نہ کرنا چاہئے۔ ظاہر ہے کہ جہاد کے گھوڑوں کا معائنہ ایک عظیم عبادت تھی لیکن چونکہ وہ وقت اس عبادت کے بجائے نماز کا تھا، اس لئے حضرت سلیمان ؑ نے اس کو بھی غلطی میں شمار کر کے اس کا تدارک فرمایا۔ اسی لئے ہمارے فقہاء نے لکھا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد جس طرح خریدو فروخت میں مشغولیت جائز نہیں، اسی طرح نماز جمعہ کی تیاری کے علاوہ کسی اور کام میں مشغول ہونا بھی درست نہیں، خواہ وہ تلاوت قرآن یا نفل پڑھنے کی عبادت ہی کیوں نہ ہو۔
Ayah 38:34خلاصہ تفسیر
اور ہم نے سلیمان ؑ کو (ایک اور طرح سے بھی) امتحان میں ڈالا اور ہم نے ان کے تخت پر ایک دھڑلا ڈالا۔ پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا۔
معارف و مسائل
اس آیت میں باری تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی ایک اور آزمائش کا تذکرہ فرمایا ہے، اور اس سلسلے میں صرف اتنا ذکر کیا گیا ہے کہ اس آزمائش کے دوران کوئی دھڑ حضرت سلیمان ؑ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ اب وہ دھڑ کیا تھا ؟ اس کے کرسی پر ڈالنے کا کیا مطلب ہے ؟ اور اس سے آزمائش کیونکر ہوئی ؟ یہ تفصیلات نہ قرآن کریم میں موجود ہیں اور نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں۔ اس لئے بعض محقق مفسرین مثلاً حافظ ابن کثیر کا رجحان یہاں بھی اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے جب بات کو مجمل چھوڑا ہے اس کی تفصیلات میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں، بس اتنی بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی کوئی آزمائش کی تھی، جس کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے اللہ کی طرف پہلے سے زیادہ رجوع فرمایا اور قرآن کریم کا اصل مقصد اتنے بیان سے پورا ہوجاتا ہے۔
اور بعض مفسرین نے اس آزمائش کی تفصیلات کا کھوج لگانے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں متعدد احتمالات بیان فرمائے ہیں۔ ان میں سے بعض احتمالات تو خالص اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہیں، مثلاً یہ کہ حضرت سلیمان ؑ کی حکومت کا راز ان کی انگوٹھی میں تھا، ایک دن ایک شیطان نے اس انگوٹھی کو قبضہ میں کرلیا اور اس کی وجہ سے وہ حضرت سلیمان ؑ کے تخت پر آپ ہی کی شکل میں حکمران بن بیٹھا۔ چالیس دن کے بعد حضرت سلیمان ؑ کو وہ انگوٹھی ایک مچھلی کے پیٹ میں سے ملی، اس کے بعد آپ نے دوبارہ حکومت پر قبضہ کیا۔ یہ روایت متعدد مزید قصوں کے ساتھ کئی تفسیر کی کتابوں میں آئی ہے لیکن حافظ ابن کثیر اس قسم کی تمام روایات کو اسرائیلیات میں شمار کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ
”اہل کتاب میں ایک جماعت ایسی ہے جو حضرت سلیمان ؑ کو نبی نہیں مانتی، بس ظاہر یہ ہے کہ یہ جھوٹے قصے انہی لوگوں نے گھڑے ہیں۔“ (تفسیر ابن کثیر ص 62 ج 4)
لہٰذا اس قسم کی روایات کو اس قرآنی آیت کی تفسیر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔
حضرت سلیمان ؑ کا ایک اور واقعہ صحیح بخاری وغیرہ میں مذکور ہے، بعض حضرات مفسرین نے اس واقعہ کے بعض حصوں کو قرآن کریم کی اس آیت سے ملتا جلتا دیکھ کر اسے اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے یہ خیال ظاہر فرمایا کہ آج رات میں ازواج کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کروں گا۔ اور ان میں سے ہر بیوی سے ایک لڑکا پیدا ہوگا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ لیکن یہ خیال ظاہر فرماتے وقت آپ ”انشاء اللہ“ کہنا بھول گئے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے جلیل القدر پیغمبر کی یہ فرو گذاشت پسند نہ آئی اور اس نے آپ کے دعوے کو اس طرح غلط ثابت کردیا کہ تمام ازواج مطہرات میں سے صرف ایک بیوی کے یہاں ایک مردہ بچہ پیدا ہوا۔ جس کا ایک پہلو ندارد تھا۔
بعض مفسرین نے اس واقعہ کو آیت پر منطبق کر کے یہ فرمایا کہ تخت پر دھڑ کے لا ڈالنے سے مراد یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے کسی خادم نے یہ بچہ آپ کے تخت پر لا کر رکھ دیا۔ حضرت سلیمان ؑ کو اس پر تنبہ ہوا کہ یہ انجام میرے ”انشاء اللہ“ نہ کہنے کا ہے۔ چناچہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع فرمایا اور اپنی اس فروگذاشت پر استغفار کیا۔
اس تفسیر کو متعدد محقق مفسرین مثلاً قاضی ابوالسعود اور علامہ آلوسی وغیرہ نے اختیار کیا ہے حکیم الامت حضرت تھانوی نے بیان القرآن میں بھی اسی کے مطابق تفسیر کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ کو بھی آیت کی قطعی تفسیر نہیں کہا جاسکتا۔ اس لئے کہ یہ واقعہ جتنی روایتوں میں آیا ہے ان میں کہیں اس بات کی کوئی علامت نہیں ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے اس کو زیر بحث آیت کی تفسیر میں ذکر فرمایا ہو۔ امام بخاری نے بھی یہ حدیث کتاب الجہاد، کتاب الانبیاء اور کتاب الایمان والنذور وغیرہ میں تو متعدد طریقوں سے نقل کی ہے۔ لیکن کتاب التفسیر میں سورة ص کی تفسیر کے تحت اسے کہیں ذکر نہیں کیا، بلکہ (آیت) وھب لی ملکا الخ کے تحت ایک دوسری روایت نقل کی ہے اور اس حدیث کا کوئی حوالہ تک نہیں دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک بھی یہ واقعہ آیت زیر بحث کی تفسیر نہیں، بلکہ جس طرح انبیاء (علیہم السلام) کے دوسرے متعدد واقعات آنحضرت محمد ﷺ نے بیان فرمائے ہیں اسی طرح یہ بھی ایک جداگانہ واقعہ ہے۔ جس کا کسی آیت کی تفسیر ہونا کوئی ضروری نہیں۔
ایک تیسری تفسیر امام رازی وغیرہ نے بیان کی ہے، اور وہ یہ کہ حضرت سلیمان ؑ ایک مرتبہ سخت بیمار ہوگئے اور اس کی وجہ سے نقاہت اس درجہ بڑھ گئی کہ جب تخت پر لا کر بٹھائے گئے تو ایک بےروح جسم معلوم ہوتا تھا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت عطا فرمائی۔ اس وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے شکر بھی ادا کیا اور مغفرت بھی طلب فرمائی اور آئندہ کے لئے بےنظیر حکومت کی دعا بھی کی۔
لیکن یہ تفسیر بھی محض قیاسی ہے، قرآن کریم کے الفاظ سے بھی زیادہ مناسبت نہیں رکھتی اور کسی روایت سے بھی اس کا ثبوت نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی یقینی تفصیلات معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے، اور نہ ہم اس کے مکلف ہیں۔ لہٰذا اتنی بات پر ایمان رکھنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی کوئی آزمائش کی تھی جس کے بعد ان میں انابت الی اللہ کا جذبہ پہلے سے زیادہ پیدا ہوا اور اس واقعہ کو ذکر کرنے سے قرآن کریم کا اصل مقصد تمام انسانوں کو اس بات کی دعوت دینا ہے کہ وہ کسی مصیبت یا آزمائش میں مبتلا ہوں تو انہیں حضرت سلیمان ؑ کی طرح پہلے سے زیادہ رجوع الی اللہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ رہیں حضرت سلیمان ؑ کی آزمائش کی تفصیلات سو ان کو اللہ کے حوالے کرنا چاہئے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 38:35–37خلاصہ تفسیر
(حضرت سلیمان نے اللہ سے) دعا مانگی کہ اے میرے رب میرا (پچھلا) قصور معاف کر اور (آئندہ کے لئے) مجھ کو ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا (میرے زمانہ میں) کسی کو میسر نہ ہو (خواہ کوئی غیبی وھبی سامان عطا کر دیجئے خواہ سلاطین زمانہ کو ویسے ہی دبا دیجئے تاکہ مقابلہ ہی نہ کرسکیں اور) آپ بڑے دینے والے ہیں (آپ کو اس دعا کا قبول کرلینا کچھ دشوار نہیں) سو (ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی خطا بھی معاف کردی اور نیز) ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا کہ وہ ان کے حکم سے جہاں وہ (جانا) چاہتے نرمی سے چلتی (کہ اس سے گھوڑوں کی ضرورت نہ رہی) اور جنات کو بھی ان کے تابع کردیا یعنی تعمیر بنانے والوں کو بھی اور (موتی وغیرہ کے لئے) غوطہ غوروں کو بھی اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے (غالباً جو مفوضہ خدمات سے گریز یا اس میں کوتاہی کرتا ہو اس کو قید کی سزا ہوتی ہوگی، اور ہم نے یہ سامان دے کر ارشاد فرمایا کہ) یہ ہمارا عطیہ ہے، سو خواہ (کسی کو) دو یا نہ دو تم سے کچھ داروگیر نہیں (یعنی جتنا سامان ہم نے تم کو دیا ہے، اس میں تم کو دوسرے بادشاہوں کی طرح محض خازن اور منتظم ہی نہیں بنایا، بلکہ تم کو مالک بھی بنادیا ہے) اور علاوہ اس سامان کے جو دنیا میں ان کو عطا ہوا تھا) ان کے لئے ہمارے یہاں (خاص) قرب اور (اعلیٰ درجہ کی نیک نامی ہے جس کا ثمرہ پورے طور پر آخرت میں ظاہر ہوگا)۔
معارف و مسائل
هَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ (مجھ کو ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو) اس دعا کا مطلب بعض مفسرین نے تو یہ بتایا ہے کہ میرے زمانے میں میری جیسی عظیم الشان سلطنت کسی اور کو میسر نہ ہو۔ گویا ان کے نزدیک ”میرے بعد“ کا مطلب ”میرے سوا“ ہے۔ حضرت تھانوی نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن بیشتر مفسرین کے نزدیک دعا کا مفہوم یہ ہے کہ میرے بعد بھی کسی کو ایسی عظیم الشان حکومت حاصل نہ ہو، چناچہ واقعہ بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کو جیسی حکومت عطا فرمائی، ویسی بعد میں بھی کسی کو نصیب نہ ہوسکی۔ کیونکہ ہواؤں کا مسخر ہونا اور جنات کا ایسا تابع ہونا بعد میں کسی کو میسر نہ آسکا۔ بعض لوگ عملیات وغیرہ کے ذریعہ بعض جنات کو جو مسخر کرلیتے ہیں وہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ حضرت سلیمان ؑ کی تسخیر جنات سے اس کو کوئی نسبت نہیں، عملیات کے ماہرین دو ایک یا چند جنات کو تابع بنا لیتے ہیں۔ لیکن جس طرح کی ہمہ گیر حکومت حضرت سلیمان ؑ کو حاصل تھی ویسی کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔
حکومت اور اقتدار کی دعا
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی کوئی دعا اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتی۔ حضرت سلیمان ؑ نے یہ دعا بھی باری تعالیٰ کی اجازت ہی سے مانگی تھی۔ اور چونکہ اس کا منشاء محض طلب اقتدار نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرنے اور کلمہ حق کو سربلند کرنے کا جذبہ کار فرما تھا، اور باری تعالیٰ کو معلوم تھا کہ حکومت ملنے کے بعد حضرت سلیمان ؑ انہی مقاصد عالیہ کے لئے کام کریں گے۔ اور حب جاہ کے جذبات ان کے دل میں جگہ نہیں پائیں گے۔ اس لئے انہیں اس دعا کی اجازت بھی دے دی گئی اور اسے قبول بھی کرلیا گیا۔ لیکن عام لوگوں کے لئے از خود اقتدار کے طلب کرنے کو حدیث میں اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس میں حب جاہ ومال کے جذبات شامل ہوجاتے ہیں۔ چناچہ جہاں انسان کو اس قسم کے جذبات نفسانی سے خالی ہونے کا یقین ہو اور وہ واقعتاً اعلاء کلمة الحق کے سوا کسی اور مقصد سے اقتدار حاصل نہ کرنا چاہتا ہو تو اس کے لئے حکومت کی دعا مانگنا جائز ہے۔ (روح المعانی وغیرہ)
Ayahs 38:38–40مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ (زنجیروں میں جکڑے ہوئے) جنات کی تسخیر اور جو خدمات وہ انجام دیتے تھے، ان کی تفصیل سورة سبا میں گزر چکی ہے، یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ سرکش جنات کو حضرت سلیمان نے زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، اب ان زنجیروں کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ یہی نظر آنے والی لوہے کی زنجیریں ہوں، ہوسکتا ہے کہ جنات کو جکڑنے کے لئے کوئی اور طریقہ اختیار کیا گیا ہو۔ جسے آسانی سے سمجھانے کے لئے یہاں زنجیروں سے تعبیر کردیا گیا ہو۔
Ayahs 38:41–43خلاصہ تفسیر
اور آپ ہمارے بندہ ایوب ؑ کو یاد کیجئے جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے۔ اور یہ رنج و آزار بعض مفسرین کے مطابق وہ ہے جو امام احمد نے کتاب الزہد میں ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت ایوب ؑ کی بیماری کے زمانے میں ایک بار شیطان ایک طبیب کی شکل میں حضرت ایوب کی بیوی کو ملا تھا۔ اسے انہوں نے طبیب سمجھ کر علاج کی درخواست کی، اس نے کہا اس شرط سے کہ اگر ان کو شفا ہوجائے تو یوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی، میں اور کچھ نذرانہ نہیں چاہتا۔ انہوں نے ایوب ؑ سے ذکر کیا، انہوں نے فرمایا کہ بھلی مانس وہ تو شیطان تھا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو شفا دے دے تو میں تجھ کو سو قمچیاں ماروں گا۔ پس آپ کو سخت رنج پہنچا اس سے کہ میری بیماری کی بدولت شیطان کا یہاں تک حوصلہ بڑھا کہ خاص میری بیوی سے ایسے کلمات کہلوانا چاہتا ہے۔ جو ظاہراً موجب شرک ہیں۔ گو تاویل سے شرک نہ ہوں اگرچہ حضرت ایوب ازالہ مرض کے لئے پہلے بھی دعا کرچکے تھے۔ مگر اس واقعہ سے اور زیادہ ابہال اور تضرع سے دعا کی، پس ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور حکم دیا کہ) اپنا پاؤں (زمین پر) مارو۔ (چنانچہ انہوں نے زمین پر پاؤں مارا تو وہاں سے ایک چشمہ پیدا ہوگیا۔ (رواہ احمد)
پس ہم نے ان سے کہا کہ۔ یہ (تمہارے لئے) نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا۔ (یعنی اس میں غسل کرو اور پیو بھی۔ چناچہ نہائے اور پیا بھی، اور بالکل اچھے ہوگئے) اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ عطا فرمایا اور ان کے ساتھ (گنتی میں) ان کے برابر اور بھی (دیئے) اپنی رحمت خاصہ کے سبب سے اور اہل عقل کے لئے یادگار رہنے کے سبب سے (یعنی اہل عقل یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ صابروں کو کیسی جزا دیتے ہیں اور اب ایوب ؑ نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا۔ مگر چونکہ ان کی بیوی نے ایوب ؑ کی خدمت بہت کی تھی۔ اور ان سے کوئی گناہ بھی صادر نہ ہوا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کے لئے ایک تخفیف فرمائی) اور (ارشاد فرمایا کہ اے ایوب) تم اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لو (جس میں سو سینکیں ہوں) اور (اپنی بیوی کو) اس سے مار لو اور (اپنی) قسم نہ توڑو (چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آگے ایوب ؑ کی تعریف کی ہے کہ) بیشک ہم نے ان کو (بڑا) صابر پایا، اچھے بندے تھے کہ (خدا کی طرف) بہت رجوع ہوتے تھے۔
معارف و مسائل
حضرت ایوب ؑ کا واقعہ یہاں آنحضرت محمد ﷺ کو صبر کی تلقین کرنے کے لئے لایا گیا ہے یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے، یہاں چند باتیں قابل ذکر ہیں۔
مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ۔ (شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے) بعض حضرات نے شیطان کے رنج و آزار پہنچانے کی تفصیل یہ بیان کی ہے کہ حضرت ایوب ؑ جس بیماری میں مبتلا ہوئے وہ شیطان کے تسلط کی وجہ سے آئی تھی۔ اور ہوا یہ تھا کہ ایک مرتبہ فرشتوں نے حضرت ایوب ؑ کی بہت تعریف کی جس پر شیطان کو سخت حسد ہوا اور اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے ان کے جسم اور مال واولاد پر ایسا تسلط عطا کردیا جائے جس سے میں ان کے ساتھ جو چاہوں سو کروں، اللہ تعالیٰ کو بھی حضرت ایوب ؑ کی آزمائش مقصود تھی، اس لئے شیطان کو یہ حق دے دیا گیا اور اس نے آپ کو اس بیماری میں مبتلا کردیا۔
لیکن محقق مفسرین نے اس قصے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق انبیاء ؑ پر شیطان کو تسلط حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس نے آپ کو بیمار ڈال دیا ہو۔
بعض حضرات نے شیطان کے رنج وآزار پہنچانے کی یہ تشریح کی ہے کہ بیماری کی حالت میں شیطان حضرت ایوب ؑ کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالا کرتا تھا، اس سے آپ کو اور زیادہ تکلیف ہوتی تھی، یہاں آپ نے اسی کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن اس آیت کی سب سے بہتر تشریح وہ ہے جو حضرت تھانوی نے بیان القرآن میں اختیار کی ہے اور جو خلاصہ تفسیر میں اوپر لکھی گئی ہے۔
حضرت ایوب کے مرض کی نوعیت
قرآن کریم میں اتنا تو بتایا گیا ہے کہ حضرت ایوب ؑ کو ایک شدید قسم کا مرض لاحق ہوگیا تھا، لیکن اس مرض کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔ احادیث میں بھی اس کی کوئی تفصیل آنحضرت محمد ﷺ سے منقول نہیں ہے۔ البتہ بعض آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے ہر حصے پر پھوڑے نکل آئے تھے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے گھن کی وجہ سے آپ کو ایک کوڑی پر ڈال دیا تھا۔ لیکن بعض محقق مفسرین نے ان آثار کو درست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) پر بیماریاں تو آسکتی ہیں، لیکن انہیں ایسی بیماریوں میں مبتلا نہیں کیا جاتا جن سے لوگ گھن کرنے لگیں۔ حضرت ایوب ؑ کی بیماری بھی ایسی نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ کوئی عام قسم کی بیماری تھی، لہٰذا وہ آثار جن میں حضرت ایوب ؑ کی طرف پھوڑے پھنسیوں کی نسبت کی گئی ہے یا جن میں کہا گیا ہے کہ آپ کو کوڑی پر ڈال دیا گیا تھا، روایةً ودرایةً قابل اعتماد نہیں ہیں۔
(مخلص از روح المعانی و احکام القرآن)
Ayah 38:44(آیت) وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا۔ (تم اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لو) اس واقعہ کا پس منظر اوپر خلاصہ تفسیر میں آ چکا ہے۔ یہاں اس واقعہ سے متعلق چند مسائل درج کئے جاتے ہیں۔
پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی کو سو قمچیاں مارنے کی قسم کھالے اور بعد میں سو قمچیاں الگ الگ مارنے کے بجائے تمام قمچیوں کا ایک گٹھا بنا کر ایک ہی مرتبہ مار دے تو اس سے قسم پوری ہوجاتی ہے۔ اسی لئے حضرت ایوب ؑ کو ایسا کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہی امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے۔ لیکن جیسا کہ علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ اس کے لئے دو شرطیں ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس شخص کے بدن پر ہر قمچی طولاً یا عرضاً ضرور لگ جائے۔ دوسرے یہ کہ اس سے کچھ نہ کچھ تکلیف ضرور ہو۔ اگر اتنے ہلکے سے قمچیاں بدن کو لگائی گئیں کہ بالکل تکلیف نہ ہوئی تو قسم پوری نہیں ہوگی۔ حضرت تھانوی نے بیان القرآن میں جو لکھا ہے کہ قسم پوری نہیں ہوگی، تو غالباً اس کی مراد یہی ہے کہ تکلیف بالکل نہ ہو یا کوئی قمچی بدن کو لگ جانے سے رہ جائے اور نہ فقہائے حنیفہ نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر مذکورہ دو شرطوں کے ساتھ مارا جائے تو قسم پوری ہوجاتی ہے۔ (ملاحظہ ہو فتح القدیر۔ ص 731 ج 4)
حیلوں کی شرعی حیثیت
اس آیت سے دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ کسی نامناسب یا مکروہ بات سے بچنے کیلئے کوئی شرعی حیلہ اختیار کیا جائے تو وہ جائز ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت ایوب ؑ کے واقعہ میں قسم کا اصلی تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنی زوجہ مطہرہ کو پوری سو قمچیاں ماریں، لیکن چونکہ ان کی زوجہ مطہرہ بےگناہ تھیں اور انہوں نے حضرت ایوب ؑ کی بےمثال خدمت کی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ایوب ؑ کو ایک حیلہ کی تلقین فرمائی اور یہ تصریح کردی کہ اس طرح ان کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ اس لئے یہ واقعہ حیلہ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔
لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس قسم کے حیلے اسی وقت جائز ہوتے ہیں جبکہ انہیں شرعی مقاصد کے ابطال کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اور اگر حیلہ کا مقصد یہ ہو کہ کسی حقدار کا حق باطل کیا جائے، یا کسی صریح فعل حرام کو اس کی روح برقرار رکھتے ہوئے اپنے لئے حلال کرلیا جائے تو ایسا حیلہ بالکل ناجائز ہے۔ مثلاً زکوٰة سے بچنے کے لئے بعض لوگ یہ حیلہ کرتے ہیں کہ سال کے ختم ہونے سے ذرا پہلے اپنا مال بیوی کی ملکیت میں دے دیا، پھر کچھ عرصہ کے بعد بیوی نے شوہر کی ملکیت میں دے دیا اور جب اگلا سال ختم ہونے کے قریب ہوا تو پھر شوہر نے بیوی کو ہبہ کردیا۔ اس طرح کسی پر زکوٰة واجب نہیں ہوتی، ایسا کرنا چونکہ مقاصد شرعیہ کو باطل کرنے کی ایک کوشش ہے، اس لئے حرام ہے اور شاید اس کا وبال ترک زکوٰة کے وبال سے زیادہ بڑا ہو۔ (روح المعانی از مبسوط سرخسی)
نامناسب کام پر قسم کھانا
تیسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی نامناسب، غلط یا ناجائز فعل پر قسم کھالے تو قسم منعقد ہوجاتی ہے، اور اس کے توڑنے پر بھی کفارہ آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر اس صورت میں کفارہ نہ آتا تو حضرت ایوب ؑ کو یہ حیلہ تلقین نہ فرمایا جاتا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کسی نامناسب کام پر قسم کھالی جائے تو شرعی حکم یہ ہے کہ اسے توڑ کر کفارہ ادا کردیا جائے۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ۔
”جو شخص ایک قسم کھالے، پھر بعد میں اس کی رائے یہ ہو کہ اس قسم کے خلاف عمل کرنا زیادہ بہتر ہے تو اسے چاہئے کہ وہ وہی کام کرے جو بہتر ہو، اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے“
Ayah 38:45خلاصہ تفسیر
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کو یاد کیجئے جو ہاتھوں (سے عام کرنے) والے اور آنکھوں (سے دیکھنے) والے تھے (یعنی ان میں قوت عملیہ بھی تھی اور قوت علمیہ بھی اور) ہم نے ان کو ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا کہ وہ یاد آخرت کی ہے (چنانچہ یہ ظاہر ہے کہ انبیاء میں یہ صفت سب سے زیادہ تام اور کامل ہوتی ہے، اور شاید یہ جملہ اس لئے بڑھا دیا ہے کہ اہل غفلت کے کان ہوں کہ جب انبیاء اس فکر سے خالی نہ تھے تو ہم کس شمار میں ہیں) اور وہ (حضرات) ہمارے یہاں منتخب اور سب سے اچھے لوگوں میں سے ہیں (یعنی منتخب لوگوں میں بھی سب سے بڑھ کر، چناچہ ظاہر ہے کہ انبیاء، دوسرے اولیاء اور صلحا سے افضل ہوتے ہیں) اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کیجئے اور یہ سب بھی سب سے اچھے لوگوں میں سے ہیں (آگے توحید اور آخرت اور رسالت کا کسی قدر مفصل بیان ہے) ایک نصیحت کا مضمون تو یہ ہوچکا (اس سے مراد انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات ہیں کہ ان واقعات میں کافروں کے لئے عقیدہ رسالت کی تبلیغ ہے، اور مومنوں کے لئے اخلاق جمیلہ اور اعمال فاضلہ کی تعلیم ہے) اور (دوسرا مضمون آخرت کی جزا و سزا کے متعلق اب شروع ہوتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ) پرہیزگاروں کے لئے (آخرت میں) اچھا ٹھکانہ ہے، یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات جن کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے (ظاہر مراد یہ ہے کہ پہلے سے کھلے ہوں گے) وہ ان باغوں میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے (اور) وہ وہاں (جنت کے خادموں سے) بہت سے میوے اور پینے کی چیزیں منگوائیں گے اور ان کے پاس نیچی نگاہ والیاں ہم عمر ہوں گی (مراد حوریں ہیں اے مسلمانو) یہ (جس کا اوپر ذکر ہوا) وہ (نعمت) ہے جس کا تم سے روز حساب آنے پر وعدہ کیا جاتا ہے، بیشک یہ ہماری عطا ہے، اس کا کہیں ختم ہی نہیں (یعنی دائمی اور ابدی نعمت ہے) یہ بات تو ہوچکی (جو نیک بخت پرہیزگاروں کے متعلق تھی) اور (آگے کافروں کے متعلق مضمون ہے، وہ یہ کہ) سرکشوں کے لئے (یعنی جو کفر میں دوسروں کے رہنما تھے ان کے لئے) برا ٹھکانا ہے، یعنی دوزخ، اس میں داخل ہوں گے، سو وہ بہت ہی بری جگہ ہے، یہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ (موجود) ہے سو یہ لوگ اس کو چکھیں اور (اس کے علاوہ) اور بھی اس قسم کی (ناگوار اور موجب آزار) طرح طرح کی چیزیں (موجود) ہیں (اس کو بھی چکھیں، اور جو تابع تھے ان کے لئے بھی یہی چیزیں ہیں، گو تقدم و تاخر اور اشدیت اور شدت کا تفاوت ہو، باقی نفس عذاب میں سب شریک ہیں، چناچہ جب کافروں کے رہنما اول داخل جہنم ہو چکیں گے، پھر ان کے پیرو آئیں گے تو رہنما آپس میں کہیں گے کہ لو) یہ ایک جماعت اور آئی جو تمہارے ساتھ (عذاب میں شریک ہونے کے لئے جہنم میں) گھس رہے ہیں ان پر خدا کی مار یہ بھی دوزخ ہی میں آ رہے ہیں (یعنی کوئی ایسا آتا جو عذاب کا مستحق نہ ہوتا تو اس کے آنے کی خوشی بھی ہوتی اور اس کی آؤ بھگت بھی کرتے، یہ تو خود ہی جہنمی ہیں۔ ان سے کیا امید، اور ان کے آنے کی کیا خوشی اور کیا آؤ بھگت ؟) وہ (پیرو اپنے رہنماؤں سے) کہیں گے، بلکہ تمہارے ہی اوپر خدا کی مار (کیونکہ) تم ہی تو یہ (مصیبت) ہمارے آگے لائے (کیونکہ) تم ہی نے ہم کو بہکایا تھا) سو (جہنم) بہت ہی برا ٹھکانہ ہے (جو تمہاری بدولت ہمارے آگے آیا۔ اس کے بعد جب ان میں سے ہر شخص دوسرے پر الزام رکھنے لگے گا تو اس وقت یہ متبعین ان سے خطاب چھوڑ کر حق تعالیٰ سے) دعا کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار جو شخص اس (مصیبت) کو ہمارے آگے لایا ہو اس کو دوزخ میں دونا عذاب دیجؤ، اور وہ لوگ (یعنی متبعین یا سب دوزخی آپس میں) کہیں گے کہ کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو (دوزخ میں) نہیں دیکھتے جن کو ہم برے لوگوں میں شمار کیا کرتے تھے (یعنی مسلمانوں کو بد راہ اور حقیر سمجھا کرتے تھے، وہ کیوں نظر نہیں آتے) کیا ہم نے (ناحق) ان کی ہنسی کر رکھی تھی (اور وہ اس قابل نہ تھے اور جہنم میں نہیں آئے) یا (یہ کہ جہنم میں موجود ہیں مگر) ان (کے دیکھنے) سے نگاہیں چکرا رہی ہیں (کہ ان پر نظر نہیں جمتی۔ مطلب یہ کہ عذاب کے ساتھ یہ ایک اور حسرت ہوگی کہ جن لوگوں کو ہم برا سمجھتے تھے وہ عذاب سے بچ گئے، اور) یہ بات یعنی دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا بالکل سچی بات ہے (کہ ضرور ہو کر رہے گی)۔
معارف و مسائل
اُولِي الْاَيْدِيْ وَالْاَبْصَارِ۔ اس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ ”وہ ہاتھوں اور نگاہوں والے تھے“ مطلب یہ ہے کہ اپنی فکری اور عملی توانائیاں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے تھے۔ اس سے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ اعضاء انسانی کا اصل مصرف یہ ہے کہ وہ اطاعت الٰہی میں خرچ ہوں، اور جو اعضاء اس میں خرچ نہ ہوں ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔
Ayahs 38:46–47فکر آخرت انبیاء کا امتیازی وصف ہے
ذکری الدار۔ اس کے لفظی معنی ہیں ”گھر کی یاد“ اور ”گھر“ سے مراد آخرت ہے۔ آخرت کے بجائے یہ لفظ استعمال کر کے تنبیہ کردی گئی ہے کہ انسان کو اپنا اصلی گھر آخرت ہی کو سمجھنا چاہئے اور اسی کی فکر کو اپنے افکار و اعمال کی بنیاد بنانا چاہئے۔ یہیں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ فکر آخرت انسان کی فکری اور عملی قوت کو اور زیادہ جلا بخشتی ہے۔ بعض ملحدین کا یہ خیال بالکل بےبنیاد ہے کہ فکر آخرت انسان کی قوتوں کو کند کردیتی ہے۔
Ayahs 38:48–51حضرت الیسع ؑ
والیسع (اور الیسع ؑ کو یاد کرو) حضرت الیسع ؑ بنی اسرائیل کے انبیاء (علیہم السلام) میں سے ہیں اور قرآن کریم میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انعام میں اور دوسرے یہاں۔ دونوں میں سے کسی جگہ آپ کے تفصیلی حالات مذکور نہیں بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست میں صرف آپ کا اسم گرامی شمار کرایا گیا ہے۔
تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے کہ آپ حضرت الیاس ؑ کے چچا زاد بھائی ہیں اور حضرت الیاس ؑ کے نائب اور خلیفہ تھے، انہی کی رفاقت میں رہتے تھے، ان کے بعد آپ کو نبوت عطا کی گئی۔ بائبل کی کتاب سلاطین اول باب 91 اور سلاطین دوم باب 2 وغیرہ میں آپ کے تفصیلی حالات بیان کئے گئے ہیں۔ وہاں آپ کا اسم گرامی الیشع بن ساقط مذکور ہے۔
Ayahs 38:52–64وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم سن عورتیں ہوں گی) ان سے مراد جنت کی حوریں ہیں اور ”ہم سن“ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ عمر میں مساوی ہوں گی۔ پہلی صورت میں ان کے ہم عمر ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں محبت، انس اور دوستی کا تعلق ہوگا سوکنوں کا سا، بغض اور نفرت نہیں ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز شوہروں کے لئے انتہائی راحت کا موجب ہے۔
زوجین کے درمیان عمر کے تناسب کی رعایت بہتر ہے
اور دوسری صورت میں جبکہ ”ہم عمر“ کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، اس کا فائدہ یہ ہے کہ ہم عمری کی وجہ سے طبیعتوں میں زیادہ مناسبت اور توافق ہوگا۔ اور ایک دوسرے کی راحت و دلچسپی کا خیال زیادہ رکھا جاسکے گا۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زوجین کے درمیان عمر میں تناسب کی رعایت رکھنی چاہئے، کیونکہ اس سے باہمی انس پیدا ہوتا ہے۔ اور رشتہ نکاح زیادہ خوشگوار اور پائیدار ہوجاتا ہے۔
Ayahs 38:65–68خلاصہ تفسیر
آپ کہہ دیجئے کہ (تم جو رسالت اور توحید کے مسئلہ میں تکذیب و انکار کرتے ہو تو تمہارا ہی نقصان ہے میرا کچھ ضرر نہیں، کیونکہ) میں تو (تم کو صرف عذاب خداوندی سے) ڈرانے والا (پیغمبر) ہوں۔ اور (جیسے میرا رسول اور منذر ہونا واقعی ہے اسی طرح توحید بھی برحق ہے، یعنی) بجز اللہ واحد غالب کے کوئی لائق عبادت کے نہیں ہے، وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے درمیان میں ہیں (اور وہ) زبردست (اور گناہوں کا) بڑا بخشنے والا ہے۔ (اور چونکہ توحید کو تو کسی درجہ میں وہ لوگ مانتے بھی تھے اور رسالت کے بالکل ہی منکر تھے، اس لئے رسالت کی مزید تحقیق کے لئے ارشاد ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ یہ (یعنی اللہ تعالیٰ کا مجھ کو توحید اور احکام شریعت کی تعلیم کے لئے رسول بنانا) ایک عظیم الشان مضمون ہے جس (کا تم کو بڑا اہتمام چاہئے تھا، مگر افسوس کہ اس) سے تم (بالکل ہی) بےپروا ہو رہے ہو (اور اس کے عظیم الشان مضمون ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا اعتقاد رکھے بغیر حقیقی سعادت کا حصول ناممکن ہے۔ آگے آنحضرت محمد ﷺ کی رسالت ثابت کرنے کی ایک دلیل ہے۔ وہ یہ کہ) مجھ کو عالم بالا (کی بحث و گفتگو) کی (کسی ذریعہ سے) کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ وہ (تخلیق آدم کے بارے میں جس کی تفصیل آگے آتی ہے، اللہ تعالیٰ سے) گفتگو کر رہے تھے (اب میں جو اس گفتگو کا واقعہ بتارہا ہوں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ مجھے یہ واقعہ کہاں سے معلوم ہوا ؟ میں نے بچشم خود تو اسے دیکھا نہیں، اہل کتاب سے بھی میرا ایسا میل جول نہیں کہ ان سے معلوم کرلیتا، یقینا مجھے یہ علم وحی کے ذریعہ ہی حاصل ہوا ہے، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ) میرے پاس (جو) وحی (آتی ہے جس سے عالم بالا کے احوال بھی معلوم ہوتے ہیں، تو) محض اس سبب سے آتی ہے کہ میں (منجانب اللہ) صاف صاف ڈرانے والا (کر کے بھیجا گیا) ہوں (یعنی چونکہ مجھے پیغمبری ملی ہے، اس لئے وحی نازل ہوتی ہے۔ پس واجب ہے کہ تم میری رسالت کی تصدیق کرو۔ اور عالم بالا کی اللہ تعالیٰ سے گفتگو جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے اس وقت ہوئی تھی) جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں گارے سے ایک انسان کو (یعنی اس کے پتلے کو) بنانے والا ہوں، سو میں جب اس کو (یعنی اس کے جسمانی اعضاء کو) پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی (طرف سے) جان ڈالوں تو تم سب اس کے روبرو سجدہ میں گر پڑنا، سو (جب اللہ تعالیٰ نے اس کو بنا لیا تو) سارے کے سارے فرشتوں نے (آدم ؑ کو) سجدہ کیا، مگر ابلیس نے کہ وہ غرور میں آ گیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس جس چیز کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا (یعنی جس چیز کو وجود میں لانے کے لئے خاص عنایت ربانی متوجہ ہوئی، پھر اس کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو) اس کو سجدہ کرنے سے تجھ کو کون سی چیز مانع ہوئی، کیا تو غرور میں آ گیا ؟ (اور واقع میں بڑا نہیں ہے) یا یہ کہ تو (واقع میں ایسے) بڑے درجہ والوں میں سے ہے (جس کو سجدہ کا حکم کرنا ہی زیبا نہیں) کہنے لگا کہ (دوسری بات صحیح ہے، یعنی) میں آدم سے بہتر ہوں (کیونکہ) آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے۔ اور اس (آدم) کو خاک سے پیدا کیا ہے (پس مجھ کو حکم دینا کہ اس کے سامنے سجدہ کروں حکمت کے خلاف ہے) ارشاد ہوا تو (اچھا پھر) آسمان سے نکل کیونکہ بیشک تو (اس حرکت سے) مردود ہوگیا اور بیشک تجھ پر میری لعنت رہے گی قیامت کے دن تک (اور اس کے بعد مورد رحمت ہونے کا احتمال نہیں ہے) کہنے لگا (کہ اگر مجھ کو آدم کی وجہ سے مردود کیا ہے) تو پھر مجھ کو (مرنے سے) مہلت دیجئے قیامت کے دن تک (تاکہ ان سے اور ان کی اولاد سے خوب بدلہ لوں) ارشاد ہوا (جب تو مہلت مانگتا ہے) تو (جا) تجھ کو معین وقت کی تاریخ تک مہلت دی گئی، کہنے لگا (جب مجھ کو مہلت مل گئی) تو (مجھ کو بھی) تیری (ہی) عزت کی قسم (ہے) کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا بجز آپ کے ان بندوں کے جو ان میں منتخب کئے گئے ہیں (یعنی آپ نے ان کو میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے) ارشاد ہوا کہ میں سچ کہتا ہوں اور میں تو (ہمیشہ) سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیرا ساتھ دے ان سب سے دوزخ بھر دوں گا۔
(سورت کی ابتدائی آیات سے واضح ہے کہ اس سورت کا بنیادی مقصد آنحضرت محمد ﷺ کی رسالت کا اثبات ہے۔ اس موضوع پر دلائل تو دیئے جا چکے، اب ناصحانہ طریقہ پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے) آپ (بطور اتمام حجت کے) کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس (قرآن کی تبلیغ) پر نہ کچھ معاوضہ چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں (کہ بناوٹ کی راہ سے نبوت کا دعویٰ کیا ہو، اور غیر قرآن کو قرآن کہہ دیا ہو۔ یعنی اگر جھوٹ بولتا تو اس کا منشاء یا تو کوئی مادی نفع ہوتا جیسے معاوضہ، یا کوئی طبعی عادت ہوتی جیسے تکلف، سو یہ دونوں باتیں نہیں بلکہ فی الواقع) یہ قرآن تو (اللہ کا کلام اور) دنیا جہان والوں کے لئے بس ایک نصیحت ہے (جس کی تبلیغ کے لئے مجھ کو نبوت ملی ہے اور جس میں سراسر تمہارا ہی نفع ہے) اور (اگر حق کے واضح ہونے کے باوجود بھی تم نہیں مانتے تو) تھوڑے دنوں پیچھے تم کو اس کا حال معلوم ہوجاوے گا (یعنی مرنے کے ساتھ ہی حقیقت کھل جائے گی کہ یہ حق تھا اور اس کا انکار باطل تھا، مگر اس وقت معلوم ہونے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا)
معارف و مسائل
خلاصہ مضامین سورت
(آیت) قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ۔ سورت کے شروع میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ اس سورت کا اصل مقصد آنحضرت محمد ﷺ کی رسالت کا اثبات اور کفار کی تردید ہے، اسی ضمن میں انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات دو وجہ سے ذکر کئے گئے تھے۔ ایک یہ کہ آنحضرت محمد ﷺ کو تسلی ہو اور سابقہ انبیاء (علیہم السلام) کی طرح آپ بھی کفار کی بےہودہ باتوں پر صبر فرمائیں۔ دوسرے یہ کہ ان واقعات سے خود وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو ایک نبی برحق کی رسالت کا انکار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور طریقے سے کفار کو دعوت اسلام دی گئی اور وہ اس طرح کہ مومنوں کی نیک انجامی اور کافروں کے عذاب شدید کا نقشہ کھینچا گیا۔ اور اس بات پر تنبیہ کی گئی کہ جن لوگوں کی اتباع میں تم آج افضل الرسل ﷺ کی تکذیب کر رہے ہو، آخرت کے دن وہی لوگ تمہاری مدد سے دستبردار ہوجائیں گے، وہ تمہیں برا بھلا کہیں گے اور تم ان پر لعنت بھیجو گے۔
ان تمام مضامین کے بعد آخر میں پھر اصل مدعا یعنی اثبات رسالت کا بیان کیا گیا ہے، اور دلائل پیش کرنے کے ساتھ ناصحانہ انداز میں دعوت بھی دی گئی ہے۔