Ayah 37:41خلاصہ تفسیر
ان (اللہ کے مقبول بندوں) کے واسطے ایسی غذائیں ہیں جن کا حال (دوسری سورتوں میں) معلوم (ہو چکا) ہے یعنی میوے (جن کا ملنا سورة یٰسین آیت (آیت) لہم فیہا فاکہتہ میں اور جن کی صفات سورة واقعہ آیت (آیت) وفاکہتہ کثیرة لا مقطوعة ولا ممنوعہ میں اس کے قبل نازل ہوچکی ہیں، کیونکہ یٰسین اور واقعہ سورة صفٰت سے نزول میں مقدم ہیں۔ کذا فی الاتقان) اور وہ لوگ بڑی عزت سے آرام کے باغوں میں تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے (اور) ان کے پاس ایسا جام شراب لایا جائے گا (یعنی غلمان لائیں گے) جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا (اس سے شراب کی کثرت اور لطافت معلوم ہوئی اور دیکھنے میں) سفید ہوگی (اور پینے میں) پینے والوں کو لذیذ معلوم ہوگی (اور) نہ اس میں درد سر ہوگا (جیسے دنیا کی شراب میں ہوتا ہے جس کو خمار کہتے ہیں، اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا، اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی (جن کی رنگت ایسی صاف ہوگی کہ) گویا بیضے ہیں جو (پروں کے نیچے) چھپے ہوئے ہیں (کہ گردو غبار اور داغ سے بالکل محفوظ ہوتے ہیں تشبیہ محض صفائی میں ہے) پھر (جب سب لوگ ایک جلسہ میں جمع ہوں گے تو) ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے (اس بات چیت کے دوران میں) ان (اہل جنت) میں سے ایک کہنے والا (اہل مجلس سے) کہے گا کہ (دنیا میں) میرا ایک ملاقاتی تھا وہ (مجھ سے بطور تعجب) کہا کرتا تھا کہ کیا تو بعث کے معتقدین میں سے ہے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم (دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور زندہ کر کے) جزا سزا دیئے جائیں گے ؟ (یعنی وہ آخرت کا منکر تھا، اس لئے ضرور وہ دوزخ میں گیا ہوگا۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ (اے اہل جنت) کیا تم جھانک کر (اس کو) دیکھنا چاہتے ہو ؟ (اگر چاہو تو تم کو اجازت ہے) سو وہ شخص (جس نے قصہ بیان کیا تھا) جھانکے گا تو اس کو وسط جہنم میں (پڑا ہوا) دیکھے گا (اس کو وہاں دیکھ کر اس سے) کہے گا کہ خدا کی قسم تو تو مجھ کو تباہ ہی کرنے کو تھا (یعنی مجھ کو بھی منکر آخرت بنانے کی کوشش کیا کرتا تھا) اور اگر میرے رب کا (مجھ پر) فضل نہ ہوتا (کہ مجھ کو اس نے صحیح عقیدے پر قائم رکھا) تو میں بھی (تیری طرح) ماخوذ لوگوں میں ہوتا (اور اس کے بعد جنتی اہل مجلس سے کہے گا کہ) کیا ہم بجز پہلی بار مر چکنے کے (کہ دنیا میں مر چکے ہیں) اب نہیں مریں گے اور نہ ہم کو عذاب ہوگا ؟ (یہ ساری باتیں اس جوش مسرت میں کہی جائیں گی کہ اللہ تعالیٰ نے سب آفات اور کلفتوں سے بچا لیا اور ہمیشہ کے لئے بےفکر کردیا۔ آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جنت کی جتنی جسمانی اور روحانی نعمتیں اوپر بیان کی گئیں) یہ بیشک بڑی کامیابی ہے، ایسی ہی کامیابی (حاصل کرنے) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے (یعنی ایمان لانا اور اطاعت کرنا چاہئے)۔
معارف و مسائل
اہل دوزخ کے حالات بیان کرنے کے بعد ان آیات میں اہل جنت کے احوال کا تذکرہ کیا گیا ہے، یہ تذکرہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ابتدائی دس آیتوں میں عام اہل جنت کو جو عیش و آرام حاصل ہوگا، اس کا بیان ہے اور اس کے بعد کی آیات میں ایک خاص جنتی کا عبرت آموز واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ابتدائی دس آیتوں میں چند باتیں بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
(1) اولئک لھم رزق معلوم، کا لفظی ترجمہ یہ ہے ”انہی لوگوں کے لئے ایسا رزق ہے جس کا حال معلوم ہے“ مفسرین نے اس کے مختلف مطلب بتائے ہیں۔ بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اس سے جنتی غذاؤں کی ان تفصیلی صفات کی طرف اشارہ ہے جو مختلف سورتوں میں بیان کی گئی ہیں۔ چناچہ خلاصہ تفسیر میں حکیم الامت حضرت تھانوی نے اسی تفسیر کو اختیار فرمایا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ”رزق معلوم“ سے مراد یہ ہے کہ اس کے اوقات متعین اور معلوم ہیں، یعنی وہ صبح و شام پابندی کے ساتھ عطا کیا جائے گا، جیسا کہ دوسری آیت میں بکرة وعشیا (صبح و شام) کے الفاظ صراحةً آئے ہیں ایک تیسری تفسیر اور ہے، اور وہ یہ کہ ”رزق معلوم“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ یقینی اور دائمی رزق ہوگا، دنیا کی طرح نہیں کہ کوئی شخص یقین کے ساتھ نہیں بتاسکتا کہ کل مجھے کیا اور کتنا رزق ملنے والا ہے ؟ اور نہ کسی کو یہ علم ہے کہ جتنا رزق مجھے حاصل ہے وہ کب تک میرے پاس رہے گا ؟ ہر انسان کو ہر وقت یہ دھڑا لگا ہوا ہے کہ جو نعمتیں مجھے اس وقت حاصل ہیں وہ شاید کل میرے پاس نہ رہیں، جنت میں یہ خطرہ نہیں ہوگا بلکہ وہاں کا رزق یقینی ہوگا اور دائمی بھی۔ (تفسیر قرطبی وغیرہ)
Ayahs 37:42–43(2) فواکہ، اس لفظ کے ذریعہ قرآن نے جنت کے رزق کی خود تفسیر فرما دی ہے کہ وہ رزق میووں پر مشتمل ہوگا۔ فواکہ، فاکہة کی جمع ہے، اور عربی میں فاکہة ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو بھوک کی ضرورت رفع کرنے کے لئے نہیں، بلکہ لذت حاصل کرنے کے لئے کھائی جائے اردو میں اس کا ترجمہ ”میوہ“ اس لئے کردیا جاتا ہے کہ میوہ بھی لذت حاصل کرنے کے لئے کھایا جاتا ہے، ورنہ درحقیقت ”فاکہتہ“ کا مفہوم میوے کے مفہوم سے زیادہ عام ہے امام رازی نے اسی ”فواکہ“ کے لفظ سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ جنت میں جتنی غذائیں دی جائیں گی وہ سب لذت بخشنے کے لئے دی جائیں گی، بھوک کی حاجت رفع کرنے کے لئے نہیں۔ اس لئے کہ جنت میں انسان کی حاجت کسی چیز کی نہیں ہوگی، وہاں اسے اپنی زندگی برقرار رکھنے یا حفظان صحت کے لئے بھی کسی غذا کی ضرورت نہیں ہوگی، ہاں خواہش ہوگی، اس خواہش کے پورے ہونے سے لذت حاصل ہوگی، اور جنت کی تمام نعمتوں کا مقصد لذت عطا کرنا ہوگا۔ (تفسیر کبیر، ص 89 ج 7)
(3) (آیت) وھم مکرمون، کہہ کر بتادیا گیا ہے کہ اہل جنت کو یہ رزق پورے اعزازو اکرام کے ساتھ دیا جائے گا۔ کیونکہ اعزازو اکرام نہ ہو تو لذیذ سے لذیذ غذا بھی بےحلاوت ہوجاتی ہے، اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مہمان کا حق صرف کھانا کھلانے سے پورا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اعزازو اکرام بھی اس کے حقوق میں داخل ہے۔
Ayahs 37:44–45(4) (آیت) علیٰ سرر متقبلین، یہ اہل جنت کی مجلس کا نقشہ ہے کہ وہ ”تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے“ کسی کو کسی کی طرف پشت نہیں ہوگی، اس کی عملی صورت کیا ہوگی ؟ اس کا صحیح علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، بعض حضرات نے فرمایا کہ مجلس کا دائرہ اتنا وسیع ہوگا کہ کسی کو کسی کی طرف پشت کرنے کی ضرورت نہ ہوگی، اور اللہ تعالیٰ اہل جنت کو ایسی قوت بینائی، سماعت اور گویائی عطا فرما دے گا کہ وہ دور بیٹھے ہوئے لوگوں سے بڑے آرام کے ساتھ باتیں کرسکیں۔
اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ تخت گھومنے والے ہوں گے اور جس سے بات کرنی ہو اسی کی طرف گھوم جائیں گے۔ واللہ سبحانہ، اعلم۔
Ayah 37:46(5) لذة للشاربین، ”لذة“ اصل میں مصدر ہے، جس کے معنی ہیں لذیذ ہونا۔ اسی لئے بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے، اصل میں ”ذات لذة“ تھا، یعنی ”لذت والی“ لیکن اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ اول تو اگر ”لذة“ کو مصدر ہی سمجھا جائے تو مصدر اسم فاعل کے معنی میں بکثرت استعمال ہوتا ہے، اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ شراب پینے والوں کے لئے ”مجسم لذت“ ہوگی۔ اس کے علاوہ ”لذة“ کا صیغہ صفت لذیذ کے علاوہ لذ بھی آتا ہے، ہوسکتا ہے کہ یہاں لذة اسی لذ کا مونث ہو (تفسیر قرطبی) اس صورت میں معنی ہوں گے ”پینے والوں کے لئے لذیذ“
Ayah 37:47(6) (آیت) لا فیھا غول، غول کے معنی کسی نے ”درد سر“ بیان کئے ہیں۔ کسی نے ”پیٹ کا درد“ کسی نے ”بدبو دار گندگی“ اور کسی نے ”عقل کا بہک جانا“ درحقیقت لفظ ”غول“ ان سبھی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور حافظ ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہاں ”غول“ آفت کے معنی میں ہے، اور مطلب یہ ہے کہ جنت کی شراب میں ایسی کوئی آفت نہیں ہوگی جیسی دنیا کی شرابوں میں پائی جاتی ہے، نہ درد سر ہوگا نہ درد شکم نہ بدبو کا بھبکارہ، نہ عقل کا بہک جانا (تفسیر ابن جریر)
Ayah 37:48(7) (آیت) قصرت الطرف، یہ جنت کی حوروں کی صفت ہے کہ وہ ”نگاہیں نیچی رکھنے والی ہوں گی“ مطلب یہ ہے کہ جن شوہروں کے ساتھ ان کا ازدواجی رشتہ اللہ تعالیٰ نے قائم کردیا، وہ ان کے علاوہ کسی بھی مرد کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ علامہ ابن جوزی نے نقل کیا ہے کہ یہ عورتیں اپنے شوہروں سے کہیں گی، ”میرے پروردگار کی عزت کی قسم ! جنت میں مجھے تم سے بہتر کوئی نظر نہیں آتا جس اللہ نے مجھے تمہاری بیوی اور تمہیں میرا شوہر بنایا تمام تعریفیں اسی کی ہیں“
”نگاہیں نیچی رکھنے والی“ کا ایک اور مطلب علامہ ابن جوزی نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہیں نیچی رکھیں گی۔ یعنی وہ خود اتنی خوب صورت اور وفا شعار ہوں گی کہ ان کے شوہروں کو کسی اور کی طرف نظر اٹھانے کی خواہش ہی نہ ہوگی۔ (تفسیر زاد المسیر لابن جوزی ص 75، 85، ج 8)
Ayah 37:49(8) کانھن بیض مکنون، اس آیت میں جنت کی حوروں کو ”چھپے ہوئے انڈوں“ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اہل عرب کے یہاں یہ تشبیہ مشہور و معروف تھی جو انڈا پروں میں چھپا ہوا ہو اس پر بیرونی گرد و غبار کا اثر نہیں پہنچتا۔ اس لئے وہ نہایت صاف ستھرا ہوتا ہے، اس کے علاوہ اس کا رنگ زردی مائل سفید ہوتا ہے جو اہل عرب کے یہاں عورتوں کے لئے دلکش ترین رنگ شمار ہوتا تھا، اس لئے اس سے تشبیہ دی گئی۔ اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہاں انڈوں سے تشبیہ نہیں ہے، بلکہ انڈوں کی اس جھلی سے ہے جو چھلکے کے اندر پوشیدہ ہوتی ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ عورتیں اس جھلی کی طرح نرم و نازک اور گداز ہوں گی۔ (روح المعانی) واللہ سبحانہ اعلم۔
Ayahs 37:50–60ایک جنتی اور اس کا کافر ملاقاتی
ابتدائی دس آیتوں میں اہل جنت کے عمومی حالات بیان فرمانے کے بعد ایک جنتی کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے، کہ وہ جنت کی مجلس میں پہنچنے کے بعد اپنے ایک کافر دوست کو یاد کرے گا جو دنیا میں آخرت کا منکر تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اسے جہنم کے اندر جھانک کر اس سے باتیں کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں اس شخص کا کچھ نام و پتہ نہیں بتایا گیا۔ اس لئے یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کون ہوگا ؟ تاہم بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس مومن شخص کا نام یہو واہ اور اس کے کافر ملاقاتی کا نام مطروس ہے۔ اور یہ وہی دو ساتھی ہیں جن کا ذکر سورة کہف کی آیت واضرب لہم مثلاً رجلین الخ میں گزر چکا ہے۔ (تفسیر مظہری)
اور علامہ سیوطی نے متعدد تابعین سے اس شخص کی تعیین کے لئے ایک اور واقعہ نقل کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دو آدمی کاروبار میں شریک تھے، ان کو آٹھ ہزار دینار کی آمدنی ہوئی، اور دونوں نے چار چار ہزار دینار آپس میں بانٹ لئے۔ ایک شریک نے اپنی رقم میں سے ایک ہزار دینار خرچ کر کے ایک زمین خریدی۔ دوسرا ساتھی بہت نیک تھا، اس نے یہ دعا کی کہ ”یا اللہ فلاں شخص نے ایک ہزار دینار میں ایک زمین خریدی ہے، میں آپ سے ایک ہزار دینار کے عوض جنت میں زمین خریدتا ہوں ”۔ اور ایک ہزار دینار کا صدقہ کردیا۔ پھر اس کے ساتھی نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے ایک گھر بنوایا، تو اس شخص نے کہا ”یا اللہ فلاں شخص نے ایک ہزار دینار میں ایک گھر تعمیر کیا ہے، میں ایک ہزار دینار میں آپ سے جنت کا ایک گھر خریدتا ہوں“ یہ کہہ کر اس نے مزید ایک ہزار دینار صدقہ کردیئے۔ اس کے بعد اس کے ساتھی نے ایک عورت سے شادی کی اور اس پر ایک ہزار دینار خرچ کردیئے، تو اس نے کہا ”یا اللہ فلاں نے ایک عورت سے شادی کر کے اس پر ایک ہزار دینار خرچ کردیئے ہیں اور میں جنت کی عورتوں میں سے کسی کو پیغام دیتا ہوں اور یہ ایک ہزار دینار نذر کرتا ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ ایک ہزار بھی صدقہ کردیئے۔ پھر اس کے ساتھی نے ایک ہزار دینار میں کچھ غلام اور سامان خریدا تو اس نے پھر ایک ہزار صدقہ کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کے عوض جنت کے غلام اور جنت کا سامان طلب کیا۔
اس کے بعد اتفاق سے اس مومن بندے کو کوئی شدید حاجت پیش آئی، اسے خیال ہوا کہ میں اپنے سابق شریک کے پاس جاؤں تو شاید وہ نیکی کا ارادہ کرے۔ چناچہ اس نے اپنے ساتھی سے اپنی ضرورت کا ذکر کیا، ساتھی نے پوچھا، تمہارا مال کیا ہوا ؟ اس کے جواب میں اس نے پورا قصہ سنا دیا۔ اس پر اس نے حیران ہو کر کہا کہ ”کیا واقعی تم اس بات کو سچا سمجھتے ہو کہ ہم جب مر کر خاک ہوجائیں گے تو ہمیں دوسری زندگی ملے گی، اور وہاں ہم کو ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، جاؤ، میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا“ اس کے بعد دونوں کا انتقال ہوگیا۔ مذکورہ آیات میں جنتی سے مراد وہ بندہ ہے جس نے آخرت کی خاطر اپنا سارا مال صدقہ کردیا تھا اور اس کا جہنمی ملاقاتی وہی شریک کاروبار ہے جس نے آخرت کی تصدیق کرنے پر اس کا مذاق اڑایا تھا (تفسیر الدر المنثور بحوالہ ابن جریر وغیرہ، ص 561 ج 5)
بری صحبت سے بچنے کی تعلیم
بہرکیف، اس سے مراد خواہ کوئی ہو یہاں اس واقعہ کو ذکر کرنے سے قرآن کریم کا اصل منشاء لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ اپنے حلقہ احباب کا پوری احتیاط کے ساتھ جائزہ لے کر یہ دیکھیں کہ اس میں کوئی ایسا شخص تو نہیں ہے جو انہیں کشاں کشاں دوزخ کے انجام کی طرف لے جا رہا ہو۔ بری صحبت سے جو تباہی آسکتی ہے اس کا صحیح اندازہ آخرت ہی میں ہوگا، اور اس وقت اس تباہی سے بچنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا، اس لئے دنیا ہی میں دوستیاں اور تعلقات بہت دیکھ بھال کر قائم کرنے چاہئیں۔ بسا اوقات کسی کافر یا نافرمان شخص سے تعلقات قائم کرنے کے بعد انسان غیر محسوس طریقے پر اس کے افکار و نظریات اور طرز زندگی سے متاثر ہوتا چلا جاتا ہے، اور یہ چیز آخرت کے انجام کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔
Ayah 37:61موت کے خاتمہ پر تعجب
یہاں جس شخص کا یہ واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کافر ساتھی کو دیکھنے کے لئے جہنم میں جھانکے گا، اسی کے بارے میں آگے یہ مذکور ہے کہ وہ جنت کی نعمتوں کو حاصل کر کے فرط مسرت سے یہ کہے گا ”کیا اب ہم کبھی نہیں مریں گے“ ؟ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ جنت کی جادوائی زندگی کا یقین نہیں ہوگا، بلکہ جس شخص کو مسرتوں کا انتہائی درجہ حاصل ہوجائے وہ بسا اوقات ایسی باتیں کرتا ہے، جیسے اسے یقین نہیں ہے کہ یہ مسرتیں اسے حاصل ہوگئی ہیں، یہ جملے بھی اسی نوعیت کے ہیں۔
آخر میں قرآن کریم اس واقعہ کے اصل سبق کی طرف متوجہ کر کے فرماتا ہے، لیمثل ھذا فلیعمل العملون (ایسی ہی کامیابی کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے)۔
Ayah 37:62خلاصہ تفسیر
(عذاب اور ثواب دونوں کا موازنہ کر کے اب اہل ایمان کو ترغیب اور کفار کو ترہیب فرماتے ہیں کہ بتلاؤ) بھلا یہ دعوت (جنت کی نعمتوں کی) بہتر ہے (جو اہل ایمان کے لئے ہے) یا زقوم کا درخت (جو کفار کے لئے ہے) ہم نے اس درخت کو (آخرت کی سزا بنانے کے علاوہ دنیا میں بھی ان) ظالموں کے لئے موجب امتحان بنایا ہے (کہ اس کو سن کر تصدیق کرتے ہیں، یا تکذیب و استہزاء کرتے ہیں، چناچہ کفار تکذیب و استہزاء سے پیش آئے، کہنے لگے کہ زقوم تو مسکہ اور خرما کو کہتے ہیں، وہ تو خوب لذیذ چیز ہے۔ اور کہنے لگے کہ زقوم اگر درخت ہے تو دوزخ میں جو آگ ہی آگ ہے درخت کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ) وہ ایک درخت ہے جو قعر دوزخ میں سے نکلتا ہے (یعنی مسکہ اور خرما نہیں ہے، اور چونکہ وہ خود آگ ہی میں پیدا ہوتا ہے اس لئے وہاں رہنا بعید نہیں، جیسے سمندر نامی جانور آگ میں پیدا ہوتا ہے، اور آگ ہی میں رہتا ہے) اس سے دونوں باتوں کا جواب ہوگیا۔ آگے زقوم کی ایک کیفیت مذکور ہے، کہ) اس کے پھل ایسے (کریہہ المنظر) ہیں جیسے سانپ کے پھن (پس ایسے درخت سے ظالموں کی دعوت ہوگی) تو وہ لوگ (بھوک کی شدت میں جب اور کچھ نہ ملے گا تو) اس سے کھاویں گے اور (چونکہ بھوک سے بےچین ہوں گے) اسی سے پیٹ بھریں گے، پھر (جب پیاس سے بےقرار ہو کر پانی مانگیں گے تو) ان کو کھولتا ہوا پانی (غساق یعنی پیپ میں) ملا کردیا جائے گا اور (یہ نہیں کہ اس مصیبت کا خاتمہ ہوجاوے بلکہ اس کے بعد) پھر اخیر ٹھکانا ان کا دوزخ ہی کی طرف ہوگا (یعنی اس کے بعد بھی وہیں ہمیشہ کے لئے رہنا ہوگا، اور انہیں یہ سزا اس لئے دی گئی کہ) انہوں نے (ہدایت آلٰہیہ کا اتباع نہیں کیا تھا بلکہ) اپنے بڑوں کو گمراہی کی حالت میں پایا تھا، پھر یہ بھی انہی کے قدم بقدم تیزی کے ساتھ چلتے تھے (یعنی شوق اور رغبت سے ان کی بےراہی پر چلتے تھے) اور ان (موجودہ کفار) سے پہلے بھی اگلے لوگوں میں اکثر گمراہ ہوچکے ہیں اور ہم نے ان میں بھی ڈرانے والے (پیغمبر) بھیجے تھے سو دیکھ لیجئے ان لوگوں کو کیسا (برا) انجام ہوا جن کو ڈرایا گیا تھا (اور انہوں نے نہ مانا تھا، کہ ان پر دنیا ہی میں کیا کیا عذاب نازل ہوا) ہاں مگر جو اللہ کے خاص کئے ہوئے (یعنی ایمان والے) بندے تھے (وہ اس دنیوی عذاب سے بھی محفوظ رہے)۔
معارف و مسائل
دوزخ اور جنت دونوں کے تھوڑے تھوڑے حالات بیان فرمانے کے بعد باری تعالیٰ نے ہر انسان کو موازنہ کرنے کی دعوت دی ہے کہ غور کرو ان میں سے کون سی حالت بہتر ہے ؟ چناچہ فرمایااذلک خیر نزلاً ام شجرة الزقوم ؟ جنت کی جن نعمتوں کا تذکرہ کیا گیا وہ بہتر ہیں یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کو کھلایا جائے گا ؟
زقوم کی حقیقت
زقوم نام کا ایک درخت جزیرہ عرب کے علاقہ تہامہ میں پایا جاتا ہے، اور علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ دوسرے بنجر صحراؤں میں بھی ہوتا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے یہ وہی درخت ہے جسے اردو میں ”تھوہڑ“ کہتے ہیں، اسی کے قریب قریب کا ایک اور درخت ہندوستان میں ”ناگ پھن“ کے نام سے معروف ہے۔ بعض حضرات نے اس کو زقوم قرار دیا ہے اور یہ زیادہ قرین قیاس ہے۔ اب حضرات مفسرین کی رائیں اس میں مختلف ہیں کہ جہنمیوں کو جو درخت کھلایا جائے گا وہ یہی دنیا کا زقوم ہے، یا کوئی اور درخت ہے ؟ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہی دنیا کا زقوم مراد ہے، اور بعض نے کہا کہ دوزخ کا زقوم بالکل الگ چیز ہے، دنیا کے زقوم سے اس کا کوئی تعلق نہیں، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سانپ بچھو وغیرہ دنیا میں بھی ہوتے ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی ہوتے ہیں، لیکن دوزخ کے سانپ بچھو یہاں کے سانپ بچھوؤں سے کہیں زیادہ خوفناک ہوں گے، اسی طرح دوزخ کا زقوم بھی اپنی جنس کے لحاظ سے تو دنیا ہی کے زقوم کی طرح ہوگا، لیکن یہاں کے زقوم سے کہیں زیادہ کریہہ المنظر اور کھانے میں کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ واللہ سبحانہ، وتعالیٰ اعلم۔
Ayah 37:63(آیت) انا جعلنا ھافتنةً للظلمین، یعنی ”ہم نے اس (زقوم کے درخت) کو ان ظالموں کے لئے فتنہ بنایا ہے“ اس میں فتنہ سے بعض مفسرین کے نزدیک عذاب مراد ہے، یعنی اس درخت کو عذاب کا ذریعہ بنادیا ہے۔ لیکن اکثر حضرات کا کہنا یہ ہے کہ یہاں ”فتنہ“ کا ترجمہ ”آزمائش“ اور ”امتحان“ کرنا زیادہ موزوں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس درخت کا تذکرہ کر کے ہم یہ امتحان لینا چاہتے ہیں کہ کون اس پر ایمان لاتا ہے ؟ اور کون اس کا مذاق اڑاتا ہے ؟ چناچہ کفار عرب اس امتحان میں ناکام رہے، انہوں نے بجائے اس کے کہ اس عذاب سے ڈر کر ایمان لاتے تمسخر و استہزاء کا طریقہ اختیار کیا۔ روایات میں ہے کہ جب قرآن کریم کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں کافروں کو زقوم کھلانے کا تذکرہ ہے، تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا”تمہارا دوست (حضرت محمد ﷺ کہتا ہے کہ آگ میں ایک درخت ہے، حالانکہ آگ تو درخت کو کھاتی ہے، اور خدا کی قسم ! ہم تو یہ جانتے ہیں کہ زقوم کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں، تو آؤ اور یہ کھجور مکھن کھاؤ۔“ (درمنثور، ص 772، ج 5) دراصل زقوم بربری زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے تھے، اس لئے اس نے استہزاء کا یہ طریقہ اختیار کیا۔ باری تعالیٰ نے ایک ہی جملے میں اس کی دونوں باتوں کا جواب دے دیا کہ
Ayah 37:64(آیت) انھا شجرة تخرج فی اصل الجحیم، یعنی ”زقوم تو جہنم کی تہہ میں اگنے والا ایک درخت ہے“ لہٰذا نہ تو اس سے مراد کھجور اور مکھن ہے اور نہ یہ اعتراض معقول ہے کہ آگ میں درخت کیسے ہوسکتا ہے ؟ جب وہ درخت پیدا ہی آگ میں ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی خصوصیات رکھ دی ہیں کہ وہ آگ سے جلنے کی بجائے اس سے نشوونما پاتا ہے، نمونے کے طور پر ایسے کئی حیوانات موجود ہیں جو آگ ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں، آگ انہیں جلانے کے بجائے اور نشوونما عطا کرتی ہے۔
Ayahs 37:65–74(آیت) طلعھا کانہ رءوس الشیاطین، اس آیت میں زقوم کے پھل کو ”شیاطین کے سروں“ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے تو یہاں ”شیاطین“ کا ترجمہ ”سانپوں“ سے کیا ہے، یعنی زقوم کا پھل ایسی شکل کا ہوتا ہے جیسے سانپ کا پھن، اردو میں اسے ”ناگ پھن“ اسی لئے کہتے ہیں۔ لیکن اکثر مفسرین نے فرمایا کہ یہاں ”شیاطین“ سے اس کے معروف معنی ہی مراد ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ زقوم کا پھل اپنی بدصورتی میں شیطانوں کے سر کی طرح ہوتا ہے۔ اب یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ شیطان کو تو کسی نے دیکھا نہیں، پھر اس کے ساتھ تشبیہ کیوں دی گئی ؟ اس لئے کہ یہ ایک تخیلی تشبیہ ہے، محاورہ میں بدصورت اور بدہئیت اشیاء کو شیطان اور جن بھوت سے تشبیہ دے دی جاتی ہے، اس کا منشاء محض انتہا درجے کی بدصورتی بیان کرنا ہوتا ہے، یہاں بھی تشبیہ اسی نوعیت کی ہے۔ (روح المعانی وغیرہ)
باقی آیات کا مفہوم خلاصہ تفسیر سے واضح ہے۔
Ayahs 37:75–76خلاصہ تفسیر
اور ہم کو نوح ؑ نے (نصرت کے لئے) پکارا (یعنی دعا کی) سو (ہم نے ان کی فریاد رسی کی اور) ہم خوب فریاد سننے والے ہیں اور ہم نے ان کو اور ان کے تابعین کو بڑے بھاری غم سے (جو کفار کی تکذیب اور ایذاء رسانی سے پیش آیا تھا) نجات دی (کہ طوفان سے کفار کو غرق کردیا اور ان کے تابعین کو بچا لیا) اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رہنے دیا (اور کسی کی نسل نہیں چلی) اور ہم نے ان کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات (مدت دراز کے لئے) رہنے دی کہ نوح پر سلام ہو عالم والوں میں (یعنی خدا کرے اپنے تمام اہل عالم جن و انس و ملائکہ سلام بھیجا کریں) ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں تھے، پھر ہم نے دوسرے (طریق کے) لوگوں کو (یعنی کافروں کو) غرق کردیا۔
معارف و مسائل
پچھلی آیت میں تذکرہ کیا گیا تھا کہ ہم نے پہلی امتوں کے پاس بھی ڈرانے والے پیغمبر بھیجے تھے، لیکن اکثر لوگوں نے ان کی بات نہیں مانی، اس لئے ان کا انجام بہت برا ہوا۔ اب یہاں سے اسی اجمال کی کچھ تفصیل بیان کی جا رہی ہے، اور اس ضمن میں کئی انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ سب سے پہلے ان آیات میں حضرت نوح ؑ کا تذکرہ کیا گیا ہے، حضرت نوح ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود میں گزر چکا ہے، یہاں چند باتیں جو خاص طور سے انہی آیات کی تفسیر سے متعلق ہیں درج ذیل کی جاتی ہیں
(آیت) ولقد نادانا نوح میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت نوح ؑ نے ہمیں آواز دی تھی۔ اکثر مفسرین کے قول کے مطابق اس سے مراد حضرت نوح ؑ کی وہ دعا ہے جو سورة نوح میں مذکور ہے یعنی (آیت) رب لا تذر علیٰ الارض من الکفرین دیاراً (اے میرے پروردگار ! زمین پر کافروں میں سے ایک باشندہ بھی مت چھوڑ) یا جو سورة قمر میں مذکور ہے یعنی (آیت) انی مغلوب فانتصر (میں مغلوب ہوں، میری مدد کیجئے) یہ دعا حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کی مسلسل سرکشی اور نافرمانی کے بعد اس وقت کی تھی جبکہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلانے پر اکتفا کرنے کے بجائے الٹا آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
Ayah 37:77وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ (اور ہم نے باقی انہی کی اولاد کو رہنے دیا) اکثر حضرات مفسرین کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح ؑ کے زمانے میں جو طوفان آیا تھا اس میں دنیا کی اکثر آبادی ہلاک ہوگئی تھی، اور اس کے بعد ساری دنیا کی نسل حضرت نوح ؑ ہی کے تین بیٹوں سے چلی۔ ایک بیٹے کا نام سام تھا، اور ان کی اولاد سے اہل عرب اور اہل فارس وغیرہ کی نسل چلی۔ دوسرے بیٹے حام تھے اور ان سے افریقی ممالک کی آبادیاں دنیا میں پھیلیں، بعض حضرات نے ہندوستان کے باشندوں کو بھی اسی نسل میں شامل کیا ہے۔ اور تیسرے بیٹے یافث تھے، ان سے ترک، منگول اور یاجوج وماجوج کی نسلیں نکلی ہیں۔ جو لوگ حضرت نوح ؑ کی کشتی میں سوار ہو کر طوفان سے بچ گئے تھے ان میں سے حضرت نوع ؑ کے ان تین بیٹوں کے سوا کسی اور سے کوئی نسل نہیں چلی۔
البتہ بعض علماء جن کی تعداد بہت کم ہے اس بات کے قائل رہے ہیں کہ طوفان نوح ؑ پوری دنیا میں نہیں، بلکہ صرف ارض عرب میں آیا تھا۔ ان کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ارض عرب میں صرف حضرت نوح ؑ کی اولاد باقی رہی، اور انہی سے اہل عرب کی نسل چلی، دنیا کے دوسرے خطوں میں دوسروں کی نسل چلنے کی اس آیت سے نفی نہیں ہوتی۔ (بیان القرآن)
مفسرین کا ایک تیسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ طوفان نوح تو پوری دنیا میں آیا تھا، لیکن دنیا کی نسل صرف حضرت نوح ؑ کے بیٹوں سے نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں سے چلی ہے جو کشتی میں حضرت نوح ؑ کے ساتھ سوار تھے۔ یہ گروہ آیت میں حصر کو حصر اضافی قرار دے کر یہ کہتا ہے کہ یہاں اصل مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ ڈوبنے والوں کی نسل نہیں چلی۔ (قرطبی)
قرآن کریم کے سیاق کے لحاظ سے تیسرا قول بہت کم زور ہے اور پہلا قول سب سے بہتر ہے، اس لئے کہ اس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے، جو امام ترمذی وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں براہ راست آنحضرت ﷺ سے روایت کی ہیں۔ حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا”سام اہل عرب کا باپ ہے، حام اہل حبشہ کا باپ ہے، اور یافث اہل روم کا۔“ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (روح المعانی، ص 89، ج 32)