37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 37:78–82

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور باقی رکھا اس پر پچھلے لوگوں میں

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

کہ سلام ہے نوح پر سارے جہان والوں میں

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

ہم یوں بدلہ دیتے ہیں نیکی والوں کو

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

وہ ہے ہمارے ایماندار بندوں میں

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ڈبا دیا ہم نے دوسروں کو۔

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ ، سَلٰمٌ عَلٰي نُوْحٍ فِي الْعٰلَمِيْنَ (اور ہم نے ان کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی کہ نوح ؑ پر سلام ہو عالم والوں میں) اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد جو لوگ پیدا ہوئے ان کی نظر میں حضرت نوح ؑ کو ایسا معزز و مکرم بنادیا کہ وہ قیامت تک حضرت نوح ؑ کے لئے سلامتی کی دعا کرتے رہیں گے چناچہ واقعہ بھی یہی ہے کہ تمام وہ مذاہب جو اپنے آپ کو آسمانی کتابوں سے منسوب کرتے ہیں سب کے سب حضرت نوح ؑ کی نبوت اور تقدس کے قائل ہیں، مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور نصرانی بھی آپ ﷺ کو اپنا پیشوا مانتے ہیں۔
Ayah 37:83

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور اسی کی راہ والوں میں ہے ابراہیم

خلاصہ تفسیر اور نوح ؑ کے طریقہ والوں میں سے (یعنی ان لوگوں میں سے جو اصولی عقائد میں نوح ؑ کے ساتھ متفق تھے) ابراہیم بھی تھے (ان کا وہ واقعہ یاد رکھنے کے قابل ہے) جب کہ وہ اپنے رب کی طرف صاف دل سے متوجہ ہوئے (صاف دل کا مطلب یہ کہ ان کا دل بد عقیدگی اور دکھلاوے کے جذبہ سے پاک تھا) جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے (جو بت پرست تھی) فرمایا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کیا کرتے ہو ؟ کیا جھوٹ موٹ کے معبودوں کو اللہ کے سوا (معبود بنانا) چاہتے ہو تو تمہارا رب العالمین کے ساتھ کیا خیال ہے، (یعنی تم نے جو اس کی عبادت ترک کر رکھی ہے تو کیا اس کے معبود ہونے میں کوئی شبہ ہے ؟ یعنی اول تو ایسا نہ ہونا چاہئے اور اگر کوئی شبہ ہے تو اسے رفع کرلو۔ غرض یوں ہی بحث و مباحثہ ہوتا رہتا تھا، ایک بار کا واقعہ ہے کہ ان کا کوئی تہوار آیا، قوم نے ان سے بھی درخواست کی کہ ہمارے میلہ میں چلو) سو ابراہیم ؑ نے ستاروں کو ایک نگاہ بھر کر دیکھا اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہونے کو ہوں (اس لئے میلہ میں نہیں جاسکتا) غرض وہ لوگ (ان کا یہ عذر سن کر) ان کو چھوڑ کر چلے گئے (کہ ناحق بیماری میں ان کو اور ان کی وجہ سے اوروں کو تکلیف ہوگی) تو یہ (یعنی ابراہیم علیہ السلام) ان کے بتوں میں جا گھسے اور (استہزاء کے طور پر ان سے) کہنے لگے کیا تم (یہ چڑھاوے جو تمہارے سامنے رکھے ہیں) کھاتے نہیں ہو (اور) تم کو کیا ہوا تم بولتے بھی نہیں ؟ پھر ان پر قوت کے ساتھ جا پڑے اور مارنے لگے (اور کلہاڑی وغیرہ سے ان کو توڑ پھوڑ دیا) سو (ان لوگوں کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو) وہ لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے (گھبرائے ہوئے غصہ میں) آئے اور (گفتگو شروع ہوئی) ابراہیم ؑ نے فرمایا کیا تم ان چیزوں کو پوجتے ہو جن کو خود (اپنے ہاتھ سے) تراشتے ہو (تو جو تمہارا محتاج ہو وہ خدا کیا ہوگا ؟) حالانکہ تم کو اور تمہاری بنائی ہوئی ان چیزوں کو (سب کو) اللہ ہی نے پیدا کیا ہے (سو عبادت اسی کی کرنا چاہئے) وہ لوگ (جب مناظرہ میں مغلوب ہوئے تو جھلا کر باہم) کہنے لگے کہ ابراہیم کے لئے ایک آتش خانہ تعمیر کرو (اور اس میں آگ دہکا کر) ان کو اس دہکتی آگ میں ڈال دو ، غرض ان لوگوں نے ابراہیم کے ساتھ برائی کرنی چاہی تھی (کہ یہ ہلاک ہوجائیں گے) سو ہم نے انہی کو نیچا دکھایا (جس کا قصہ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے)۔ معارف و مسائل حضرت نوح ؑ کے واقعہ کے بعد قرآن کریم نے حضرت ابراہیم ؑ کی حیات طیبہ کے دو واقعے ذکر کئے ہیں، دونوں واقعے ایسے ہیں جن میں حضرت ابراہیم ؑ نے محض اللہ کے واسطے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ ان میں سے پہلا واقعہ جو مذکورہ آیات میں بیان کیا گیا ہے حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالنے کا واقعہ ہے، اور اس کی تفصیلات سورة انبیاء میں گزر چکی ہیں، البتہ یہاں جس انداز میں اس کو بیان کیا گیا ہے اس میں چند باتیں تشریح طلب ہیں۔ وان من شیعتہ لابرھیم، شیعة عربی زبان میں اس گروہ یا جماعت کو کہتے ہیں جس کے افراد بنیادی نظریات اور طور طریق میں یکساں ہوں۔ اور یہاں ظاہر یہی ہے کہ شیعتہ کی ضمیر حضرت نوح ؑ کی طرف راجع ہے، لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے پیش رو نبی حضرت نوح ؑ کے طریقے پر تھے، اور بنیادی اصول دین میں دونوں کا مکمل اتفاق تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں کی شریعتیں بھی یکساں یا ملتی جلتی ہوں۔ واضح رہے کہ بعض تاریخی روایات کے مطابق حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کے درمیان دو ہزار چھ سو چالیس سال کا وقفہ ہے، اور دونوں کے درمیان حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہما السلام) کے سوا کوئی اور نبی نہیں ہوا۔ (کشاف، ص 84 ج 4)
Ayahs 37:84–87

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب آیا اپنے رب کے پاس لیکر دل نروگا

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب کہا اپنے باپ کو اور اس کی قوم کو تم کیا پوجتے ہو

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا جھوٹ بنائے ہوئے حاکموں کو اللہ کے سوا چاہتے ہو

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

پھر کیا خیال کیا ہے تم نے پروردگار عالم کو ؟

اِذْ جَاۗءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِـيْمٍ ، اس کے ٹھیٹھ لفظی معنی یہ ہیں”جبکہ وہ آئے اپنے پروردگار کے پاس صاف دل لے کر“ اور پروردگار کے پاس آنے سے مراد ہے، اللہ کی طرف رجوع کرنا، اس کی طرف متوجہ ہونا اور اس کی عبادت کرنا۔ اس کے ساتھ ”صاف دل“ کی قید لگا کر اشارہ کردیا گیا ہے کہ اللہ کی کوئی عبادت اس وقت تک قابل قبول نہیں ہے جب تک کہ عبادت کرنے والے کا دل غلط عقیدوں اور برے جذبات سے پاک نہ ہو، اگر غلط عقیدے کے ساتھ کوئی عبادت کی جائے تو خواہ عبادت گزار نے اس میں کتنی محنت اٹھائی ہو وہ قابل قبول نہیں۔ اسی طرح اگر عبادت کرنیوالے کا اصل مقصد اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے بجائے دکھلاوا ہو یا کوئی مادی منفعت ہو تو وہ عبادت قابل تعریف نہیں، حضرت ابراہیم ؑ کا رجوع الی اللہ ان تمام ملاوٹوں سے پاک تھا۔
Ayahs 37:88–98

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر نگاہ کی ایک بار تاروں میں

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

پھر پھرگئے وہ اس سے پیٹھ دے کر

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

پھر جاگھسا ان کے بتوں میں پھر بولا تم کیوں نہیں کھاتے

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تم کو کیا ہے کہ نہیں بولتے ؟

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر گھسا ان پر مارتا ہوا داہنے ہاتھ سے

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

پھر لوگ آئے اس پر دوڑ کر گھبراتے ہوئے

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

بولا کیوں پوجتے ہو جو آپ تراشتے ہو ؟

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

اور اللہ نے بنایا تم کو اور جو تم بناتے ہو

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

بولے بناؤ اس کے واسطے ایک عمارت پھر ڈالو اس کو آگ کے ڈھیر میں

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

پھر چاہنے لگے اس پر بڑا داؤ کرنا پھر ہم نے ڈالا انہی کو نیچے۔

فَنَظَرَ نَــظْرَةً فِي النُّجُوْمِ فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ، ان آیتوں کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ایک خاص دن میں تہوار منایا کرتی تھی، جب وہ دن آیا تو اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو دعوت دی کہ آپ بھی ہمارے ساتھ جشن میں شرکت کے لئے چلیں مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ اس جشن میں ہمارے ساتھ رہیں گے تو شاید ہمارے دین سے متاثر ہوجائیں، اور اپنے دین کی دعوت چھوڑ دیں۔ (درمنثور وابن جریر وغیرہ) لیکن ابراہیم ؑ اس موقع سے دوسرا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، آپ کا ارادہ یہ تھا کہ جب ساری قوم جشن منانے چلی جائے گی تو میں ان کی عبادت گاہوں میں جا کر ان کے بتوں کو توڑ ڈالوں گا، تاکہ یہ لوگ واپس آ کر اپنے جھوٹے معبودوں کی بےبسی کا عملی نقشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، ہوسکتا ہے کہ اپنے بتوں کو بےبس دیکھ کر کسی کے دل میں ایمان پیدا ہو اور وہ شرک سے توبہ کرلے۔ اس غرض سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کے ساتھ جانے سے انکار فرما دیا، لیکن انکار کا طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ پہلے نگاہ بھر کر ستاروں کو دیکھا اور پھر کہا کہ ”میں بیمار ہوں“ قوم والوں نے آپ کو معذور سمجھ کر چھوڑ دیا اور جشن منانے چلے گئے۔ ستاروں پر نگاہ ڈالنے کا مقصد اس واقعے سے متعدد تفسیری اور فقہی مباحث متعلق ہیں، یہاں ان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ سب سے پہلی بحث تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جواب دینے سے پہلے جو ستاروں پر نظر ڈالی، اس کا مقصد کیا تھا ؟ بعض حضرات نے تو یہ فرمایا ہے کہ یہ محض ایک اتفاقی عمل تھا، کسی اہم بات کو سوچتے ہوئے انسان بعض اوقات بےاختیار آسمان کی طرف دیکھنے لگتا ہے، جس وقت حضرت ابراہیم ؑ کو جشن میں شرکت کی دعوت دی گئی تو آپ اس سوچ میں پڑگئے کہ اس دعوت کو کس طرح ٹلاؤ ں ؟ اسی سوچ کے عالم میں آپ نے بےاختیار ستاروں کی طرف دیکھا اور اس کے بعد جواب دیا ستاروں پر نظر ڈالنے کی یہ تشریح بظاہر بےغبار معلوم ہوتی ہے، لیکن قرآن کریم کے اسلوب کو پیش نظر اسے درست کہنا مشکل ہے۔ اول تو اس لئے کہ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ واقعات کے صرف اہم اور ضروری اجزاء کو بیان فرماتا ہے، اور غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ دیتا ہے، خود انہی آیتوں میں واقعے کے کئی اجزاء محذوف ہیں، یہاں تک کہ اس کا پورا پس منظر بھی بیان نہیں کیا گیا، اس لئے یہ باور کرنا ممکن نہیں کہ قرآن کریم نے واقعے کے پس منظر کو تو تطویل کے خیال سے چھوڑ دیا ہو اور ایک قطعی غیر اختیاری عمل جس کا واقعے سے دور دراز کا بھی تعلق نہ تھا اسے پوری ایک آیت میں بیان فرمایا ہو۔ دوسرے اگر ستاروں کو دیکھنے میں کوئی خاص حکمت پیش نظر تھی، بلکہ یہ ایک غیر اختیاری عمل تھا تو عربی زبان کے قواعد کی رو سے فنظر نظرةً الی النجوم کہنا چاہئے تھا، فی النجوم نہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ستاروں کو دیکھنے میں کوئی خاص مصلحت حضرت ابراہیم ؑ کے پیش نظر تھی، اسی لئے قرآن کریم نے اہمیت کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اب وہ مصلحت کیا تھی ؟ اس کے جواب میں اکثر مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ دراصل حضرت ابراہیم ؑ کی قوم علم نجوم کی بڑی شیدائی تھی، اور ستاروں کو دیکھ دیکھ کر اپنے کاموں کا تعین کیا کرتی تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ستاروں کی طرف دیکھ کر جو جواب دیا اس کا مقصد یہ تھا کہ قوم والے یہ سمجھیں کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنی بیماری کے بارے میں جو کچھ فرما رہے ہیں وہ کوئی ہوائی بات نہیں ہے، بلکہ ستاروں کے چلن پر غور کر کے کہہ رہے ہیں، اگرچہ حضرت ابراہیم ؑ بذات خود علم نجوم کے قائل نہ ہوں، لیکن جشن کی شرکت سے اپنی گلوخلاصی کے لئے آپ نے طریقہ وہ اختیار فرمایا جو ان کی نظر میں زیادہ قابل اعتماد ہو اور چونکہ آپ نے زبان سے علم نجوم کا کوئی حوالہ نہیں دیا، نہ یہ بتایا کہ ستاروں کو دیکھنے سے میرا مقصد علم نجوم سے مدد لینا ہے۔ بلکہ صرف نظر بھر کر ستاروں کو دیکھا، اس لئے اس میں جھوٹ کا بھی کوئی پہلو نہیں ہوا۔ یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے اس عمل سے ان کافروں کی ہمت افزائی ہوئی ہوگی جو نہ صرف علم نجوم کے قائل تھے، بلکہ ستاروں کو دنیا کے واقعات میں موثر حقیقی مانتے تھے۔ لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ ہمت افزائی تو تب ہوتی جب کہ حضرت ابراہیم ؑ بعد میں انہیں صراحت کے ساتھ ان کی گمراہیوں پر متنبہ نہ فرماتے، یہاں تو یہ ساری تدبیر کی ہی اس لئے جا رہی تھی کہ انہیں توحید کی دعوت زیادہ سے زیادہ موثر بنا کردی جائے، چناچہ تھوڑے ہی وقفہ کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے قوم کی ایک ایک گمراہی کو کھول کھول کر بیان فرما دیا، اس لئے محض اس مبہم عمل سے کافروں کی ہمت افزائی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں اصل مقصد جشن کی شرکت سے اپنی جان چھڑانا تھا، تاکہ دعوت حق کے لئے زیادہ موثر فضا پیدا کی جاسکے، اس مقصد کے لئے ایہام کا یہ طریقہ عین حکمت پر مبنی ہے، اور اس پر کوئی معقول اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ ستاروں کی طرف دیکھنے کی یہ تشریح اکثر مفسرین سے منقول ہے، اور حکیم الامت حضرت تھانوی نے بھی بیان القرآن میں اسی کو اختیار فرمایا ہے۔ علم نجوم کی شرعی حیثیت اس آیت کے تحت دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ علم نجوم کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ یہاں اختصار کے ساتھ اس سوال کا جواب عرض کیا جاتا ہے۔ یہ تو ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاند، سورج اور ستاروں میں کچھ ایسی خاصیتیں رکھی ہیں جو انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں، ان میں سے بعض خاصیات ایسی ہیں جن کا ہر شخص مشاہدہ کرسکتا ہے، مثلاً سورج کے قرب وبعد سے گرمی اور سردی کا پیدا ہونا، چاند کے اتار چڑھاؤ سے سمندر میں مدو جزر وغیرہ، اب بعض حضرات کا کہنا تو یہ ہے کہ ان ستاروں کی خصوصیات صرف اتنی ہی ہیں جتنی عام مشاہدہ سے معلوم ہوتی ہیں اور بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ان کے علاوہ بھی ستاروں کی گردش کے کچھ ایسے خواص ہوتے ہیں جو انسان کی زندگی کے اکثر معاملات پر اثر ڈالتے ہیں۔ ایک انسان کے لئے کسی ستارے کا کسی خاص برج میں چلے جانا مسرتوں اور کامیابیوں کا سبب بنتا ہے، اور کسی کے لئے غموں اور ناکا میوں کا، پھر بعض لوگ تو ان ستاروں ہی کو کامیابیوں اور ناکامیوں کے معاملہ میں موثر حقیقی مانتے ہیں، اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ موثر حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے، مگر اس نے ستاروں کو ایسے خواص عطا کردیئے ہیں، اس لئے دنیا کے دوسرے اسباب کی طرح وہ بھی انسان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا ایک سبب ہوتے ہیں۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو ستاروں کو موثر حقیقی مانتے ہیں، یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے انقلابات اور واقعات ستاروں ہی کے مرہون منت ہیں، ستارے ہی دنیا کے تمام واقعات کے فیصلے کرتے ہیں، تو بلاشبہ ان کا خیال غلط اور باطل ہے، اور یہ عقیدہ انسان کو شرک کی حد تک پہنچا دیتا ہے۔ اہل عرب بارش کے بارے میں یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ ایک خاص ستارہ (جسے ”نور“ کہا جاتا تھا) بارش لے کر آتا ہے اور وہ بارش کے لئے موثر حقیقی کی حیثیت رکھتا ہے، آنحضرت محمد نے اس عقیدے کی سخت تردید فرمائی ہے، جس کی تصریح احادیث میں موجود ہے۔ رہے وہ لوگ جو دنیوی واقعات میں موثر حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں، لیکن ساتھ ہی اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ نے ستاروں کو ایسے خواص عطا فرمائے ہیں جو سبب کے درجہ میں انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس طرح بارش برسانے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے، لیکن اس کا ظاہری سبب بادل ہیں، اسی طرح تمام کامیابیوں اور ناکامیوں کا اصل سرچشمہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی ہے، لیکن یہ ستارے ان کامیابیوں اور ناکامیوں کا سبب بن جاتے ہیں، سو یہ خیال شرک نہیں ہے، اور قرآن و حدیث سے اس خیال کی نہ تصدیق ہوتی ہے نہ تردید۔ لہٰذا یہ کچھ بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی گردش اور ان کے طلوع و غروب میں کچھ ایسے اثرات رکھے ہوں، لیکن ان اثرات کی جستجو کرنے کے لئے علم نجوم کی تحصیل، اس علم پر اعتماد اور اس کی بنا پر مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنا بہرحال ممنوع اور ناجائز ہے، اور احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا ”جب تقدیر کا ذکر چھڑے تو رک جاؤ، (یعنی اس میں زیادہ غور و خوض اور بحث و مباحثہ نہ کرو) اور جب ستاروں کا ذکر چھڑے تو رک جاؤ اور جب میرے صحابہ کا (یعنی ان کے باہمی اختلافات وغیرہ کا) ذکر چھڑے تو رک جاؤ“ اور حضرت فاروق اعظم ؓ کا ارشاد ہے ”ستاروں کے علم سے اتنا علم حاصل کرو جس کے ذریعہ تم خشکی اور سمندر میں راستے جان سکو اس کے بعد رک جاؤ“ اس ممانعت سے ستاروں کے خواص و آثار کا انکار لازم نہیں آتا، لیکن ان خواص و آثار کے پیچھے پڑنے اور ان کی جستجو میں قیمتی اوقات برباد کرنے کو منع کیا گیا ہے۔ امام غزالی نے احیاء العلوم میں اس پر مفصل بحث کرتے ہوئے اس ممانعت کی متعدد حکمتیں بتائی ہیں۔ علم نجوم کے ممنوع و مذموم ہونے کی پہلی حکمت تو یہ ہے کہ جب اس علم میں انسان کا انہماک بڑھتا ہے تو تجربہ یہ ہے کہ وہ رفتہ رفتہ ستاروں ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے، اور یہ چیز اسے کشاں کشاں ستاروں کے موثر حقیقی ہونے کا مشرکانہ عقیدے کی طرف لے جاتی ہے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ اگر ستاروں میں اللہ تعالیٰ نے کچھ خواص و آثار رکھے بھی ہوں تو ان کے یقینی علم کا ہمارے سوائے وحی کے کوئی راستہ نہیں ہے، حضرت ادریس ؑ کے بارے میں احادیث میں آیا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کا کوئی علم عطا فرمایا تھا لیکن اب وہ علم جس کی بنیاد وحی الٰہی پر تھی، دنیا سے مٹ چکا ہے، اب علم نجوم کے ماہرین کے پاس جو کچھ ہے وہ محض قیاسات، اندازے اور تخمینے ہیں، جن سے کوئی یقینی علم حاصل نہیں کیا جاسکتا، یہی وجہ ہے کہ نجومیوں کی بیشمار پیشن گوئیاں آئے دن غلط ثابت ہوتی رہتی ہیں، کسی نے اس علم کے بارے میں بہترین تبصرہ کیا ہے کہ ”یعنی اس علم کا جتنا حصہ مفید ہوسکتا ہے وہ کسی کو معلوم نہیں اور جتنا لوگوں کو معلوم ہے وہ فائدہ مند نہیں“ علامہ آلوسی نے روح المعانی میں تاریخی واقعات کی ایسی متعدد مثالیں پیش کی ہیں جن میں علم نجوم کے مسلمہ قواعد کے تحت ایک واقعہ جس طرح پیش آنا چاہئے تھا حقیقت میں اس کے بالکل برعکس پیش آیا، چناچہ جن بڑے بڑے لوگوں نے اس علم کی تحصیل میں اپنی عمریں کھپائی ہیں وہ آخر میں یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ اس علم کا انجام قیاس وتخمین سے آگے کچھ نہیں۔ ایک مشہور منجم کو شیار دیلمی نے علم نجوم پر اپنی کتاب المجمل فی الاحکام میں لکھا ہے ”علم نجوم ایک غیر مدلل علم ہے، اور اس میں انسان کے وسوسوں اور گمانوں کے لئے بڑی گنجائش ہے“ (روح المعانی، ص 611 ج 32) علامہ آلوسی نے اور بھی متعدد علماء نجوم کے اسی قسم کے اقوال نقل فرمائے ہیں، بہرحال یہ بات طے شدہ ہے کہ علم نجوم کوئی یقینی علم نہیں ہے، اور اس میں غلطیوں کے بےحساب احتمالات ہوتے ہیں، لیکن ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ اس علم کی تحصیل میں لگتے ہیں وہ اسے بالکل قطعی اور یقینی علم کا درجہ دے بیٹھتے ہیں، اسی کی بنا پر مستقبل کے فیصلے کرتے ہیں، اسی کی وجہ سے دوسروں کے بارے میں اچھی بری رائیں قائم کرلیتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس علم کا جھوٹا پندار بعض اوقات انسان کو علم غیب کے دعوؤں تک پہنچا دیتا ہے، اور ظاہر ہے کہ ان میں سے ہر چیز بیشمار مفاسد پیدا کرنے والی ہے۔ علم نجوم کی ممانعت کی تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ عمر عزیز کو ایک بےفائدہ کام میں صرف کرنے کے مترادف ہے، جب اس سے کوئی نتیجہ یقینی طور پر حاصل نہیں کیا جاسکتا تو ظاہر ہے کہ دنیا کے کاموں میں یہ علم چنداں مددگار نہیں ہو سکتا۔ اب خواہ مخواہ ایک بےفائدہ چیز کے پیچھے پڑنا اسلامی شریعت کی روح اور مزاج کے بالکل خلاف ہے، اس لئے اس کو ممنوع کردیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی بیماری کا مطلب اس آیت سے متعلق تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کی دعوت کے جواب میں جو انی سقیم (میں بیمار ہوں) فرمایا تو کیا حضرت ابراہیم ؑ اس وقت واقعی بیمار تھے ؟ قرآن کریم میں اس کے متعلق کوئی صراحت نہیں ہے، لیکن صحیح بخاری کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس وقت ایسے بیمار نہیں تھے کہ قوم کے ساتھ نہ جاسکیں، اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے یہ بات کیسے ارشاد فرمائی ؟ اس کا جواب جمہور مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ درحقیقت ان الفاظ کے ذریعہ حضرت ابراہیم ؑ نے ”توریہ“ کیا تھا، ”توریہ“ کا مطلب ہے ”کوئی ایسی بات کہنا جو بظاہر واقعہ کے خلاف ہو، لیکن کہنے والے نے اس سے کوئی ایسے دور کے معنی مراد لئے ہوں جو واقعہ کے مطابق ہوں“ یہاں حضرت ابراہیم ؑ نے جو جملہ ارشاد فرمایا اس کا ظاہری مفہوم تو یہی ہے کہ ”میں اس وقت بیمار ہوں“ لیکن آپ کی اصل مراد یہ نہیں تھی۔ اب اصل مراد کیا تھی ؟ اس کے بارے میں مفسرین نے مختلف رائیں ظاہر کی ہیں، بعض نے فرمایا کہ اس سے آپ کا مقصد وہ طبعی انقباض تھا جو آپ کو اپنی قوم کی مشرکانہ حرکات دیکھ دیکھ کر پیدا ہو رہا تھا، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ یہاں ”سقیم“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو ”مریض“ کے مقابلہ میں بہت ہلکا لفظ ہے، اور اس کا مفہوم اردو میں اس طرح ادا کیا جاسکتا ہے کہ ”میری طبیعت ناساز ہے“ ظاہر ہے کہ اس جملہ میں طبعی انقباض کے مفہوم کی بھی پوری گنجائش پائی جاتی ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ”انی سقیم“ سے حضرت ابراہیم ؑ کا مقصد یہ تھا کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں“ اس لئے کہ عربی زبان میں اسم فاعل کا صیغہ بکثرت زمانہ مستقبل کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کریم ہی میں آنحضرت ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہے”انک میت وانھم میتون“ اس کے ظاہری الفاظ کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ ”تم بھی مردہ ہو اور وہ بھی مردہ ہیں۔“ لیکن ظاہر ہے کہ یہاں مراد یہ معنی ہیں کہ ”تم بھی مرنے والے ہو اور وہ بھی مرنے والے ہیں“ اسی طرح انی سقیم کے معنی حضرت ابراہیم ؑ نے یہ مراد لئے تھے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں۔“ اور یہ اس لئے فرمایا کہ موت سے پہلے پہلے ہر انسان کا بیمار ہونا یقینی امر ہے۔ اگر کسی کو ظاہری بیماری نہ ہو تب بھی موت سے ذرا پہلے انسان کے مزاج میں خلل کا واقع ہونا ناگزیر ہے۔ اور اگر کسی کا دل ان تاویلات پر مطمئن نہ ہو تو سب سے بہتر توجیہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی طبیعت اس وقت واقعتا تھوڑی بہت ناساز تھی، لیکن بیماری ایسی تھی جو جشن میں شرکت سے مانع ہوتی، آپ نے اپنی معمولی ناسازی طبع کا ذکر ایسے ماحول میں کیا جس سے سننے والے یہ سمجھے کہ آپ کو کوئی بڑی بیماری لاحق ہے، جس کی وجہ سے آپ واقعی ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے، حضرت ابراہیم ؑ کے توریہ کی یہ تشریح سب سے زیادہ معقول اور اطمینان بخش تھی۔ اس تشریح سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضرت ابراہیم ؑ کے ارشاد ”انی سقیم“ کے لئے جو ”کذبة“ (جھوٹ) کے الفاظ استعمال کئے ہیں ان سے مراد ”توریہ“ ہے جس کی ظاہری شکل جھوٹ ہوتی ہے، لیکن متکلم کی مراد کے لحاظ سے وہ جھوٹ نہیں ہوتا، خود اسی حدیث کی بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں ”ان میں سے کوئی جھوٹ ایسا نہیں ہے جو اللہ کے دین کی مدافعت اور حمایت میں نہ بولا گیا ہو“ ان الفاظ نے خود یہ واضح کردیا ہے کہ یہاں ”کذب“ اپنے عام معنی سے جدا مفہوم رکھتا ہے، اس حدیث سے متعلق قدرے تفصیلی بحث سورة انبیاء میں آیت (آیت) قال بل فعلہ کبیرھم کے تحت گزر چکی ہے۔ توریہ کا شرعی حکمفیصل انہی آیات سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ ضرورت کے مواقع پر توریہ کرنا جائز ہے توریہ ایک تو قولی ہوتا ہے، یعنی ایسی بات کہنا جس کا ظاہری مفہوم خلاف واقعہ ہو، اور باطنی مراد مطابق واقعہ۔ اور ایک توریہ عملی ہوتا ہے، یعنی ایسا عمل کرنا جس کا مقصد دیکھنے والا کچھ سمجھے اور درحقیقت اس کا مقصد کچھ اور ہو۔ اسے ایہام بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کا ستاروں کو دیکھنا (اکثر مفسرین کے قول کے مطابق) ایہام تھا، اور اپنے آپ کو بیمار کہنا توریہ۔ ضرورت کے مواقع پر توریہ کی یہ دونوں قسمیں خود سرکار عالم ﷺ سے ثابت ہیں، جس وقت آپ ہجرت کے لئے تشریف لے جا رہے تھے، اور مشرکین آپ کی تلاش میں لگے ہوئے تھے، تو راستے میں ایک شخص نے حضرت ابوبکر صدیق سے آنحضرت ﷺ کے بارے میں پوچھا کہ ”یہ کون ہیں ؟“ حضرت صدیق اکبر نے جواب دیا”ھوھاد تھدینی“ (وہ میرے رہنما ہیں، مجھے راستہ دکھاتے ہیں) سننے والا یہ سمجھا کہ عام راستہ بتانے والے رہنما مراد ہیں، اس لئے چھوڑ کر چل دیا، حالانکہ حضرت ابوبکر کا مقصد یہ تھا کہ آپ دینی اور روحانی رہنما ہیں۔ (روح المعانی) اسی طرح حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ آنحضرت محمد ﷺ کو جہاد کے لئے جس سمت میں جانا ہوتا مدینہ طیبہ سے نکلتے وقت اس سمت میں روانہ ہونے کے بجائے کسی دوسری سمت میں چلنا شروع فرماتے تھے، تاکہ دیکھنے والوں کو صحیح منزل معلوم نہ ہو سکے (صحیح مسلم وغیرہ) یہ عملی توریہ اور ایہام تھا۔ مزاج اور خوش طبعی کے مواقع پر بھی آنحضرت ﷺ سے توریہ ثابت ہےشمائل ترمذی میں روایت ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے ایک بوڑھی عورت سے مزاحاً فرمایا”کوئی بوڑھی عورت جنت میں نہیں جائے گی“ وہ عورت یہ سن کر بہت پریشان ہوئی تو آپ نے تشریح فرمائی کہ بوڑھیوں کے جنت میں نہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑھاپے کی حالت میں جنت میں نہ جائیں گی ہاں جوان ہو کر جائیں گی۔ اس کے بعد کی آیات کا مفہوم خلاصہ تفسیر سے واضح ہے، اور واقعہ کی تفصیلات سورة انبیاء میں گزر چکی ہیں۔
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور بولا میں جاتا ہوں اپنے رب کی طرف وہ مجھ کو راہ دے گا

خلاصہ تفسیر اور ابراہیم (علیہ السلام جب ان لوگوں کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو) کہنے لگے کہ میں تو (تم سے ہجرت کر کے) اپنے رب کی (راہ میں کسی) طرف چلا جاتا ہوں، وہ مجھ کو (اچھی جگہ) پہنچا ہی دے گا، (چنانچہ ملک شام میں جا پہنچے اور یہ دعا کی کہ) اے میرے رب مجھ کو ایک نیک فرزند دے، سو ہم نے ان کو ایک حلیم المزاج فرزند کی بشارت دی (اور وہ فرزند پیدا ہوا اور ہشیار ہوا) سو جب وہ لڑکا ایسی عمر کو پہنچا کہ ابراہیم ؑ کے ساتھ چلنے پھرنے لگا، تو ابراہیم ؑ نے (ایک خواب دیکھا کہ میں اس فرزند کو خدا کے حکم سے ذبح کر رہا ہوں، اور یہ ثابت نہیں کہ حلقوم کٹا ہوا بھی دیکھا یا نہیں، غرض آنکھ کھلی تو اسے اللہ کا حکم سمجھے، کیونکہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے اور اس حکم کی تعمیل پر آمادہ ہوگئے۔ پھر یہ سوچ کر کہ خدا جانے میرے فرزند کی اس بارے میں کیا رائے ہو، اس کو اطلاع کرنا ضروری سمجھا، اس لئے اس سے) فرمایا کہ برخوردار میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو (بامر الٰہی) ذبح کر رہا ہوں، سو تم بھی سوچ لو تمہاری کیا رائے ہے ؟ وہ بولے ابا جان (اس میں مجھ سے پوچھنے کی کیا بات ہے، جب آپ کو خدا کی طرف سے حکم کیا گیا ہے تو) آپ کو جو حکم ہوا ہے آپ (بلاتامل) کیجئے، انشاء اللہ تعالیٰ آپ مجھ کو سہار کرنے والوں میں سے دیکھیں گے، غرض جب دونوں نے (خدا کے حکم کو) تسلیم کرلیا، اور باپ نے بیٹے کو (ذبح کرنے کے لئے) کروٹ پر لٹایا اور (چاہتے تھے کہ گلا کاٹ ڈالیں اور اس وقت) ہم نے ان کو آواز دی کہ ابراہیم (شاباش ہے) تم نے خواب کو خوب سچ کر دکھایا (یعنی خواب میں جو حکم ہوا تھا اپنی طرف سے اس پر پورا عمل کیا اب ہم اس حکم کو منسوخ کرتے ہیں بس ان کو چھوڑ دو۔ غرض ان کو چھوڑ دیا، جان کی جان بچ گئی، اور بلند درجات مزید برآں عطا ہوئے) ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (کہ دونوں جہاں کی راحت انہیں عطا کرتے ہیں) حقیقت میں یہ تھا بھی بڑا امتحان (جس کو بجز مخلص کامل کے دوسرا برداشت نہیں کرسکتا تو ہم نے ایسے امتحان میں پورا اترنے پر صلہ بھی بڑا بھاری دیا، اور اس میں جیسا امتحان ابراہیم ؑ کا تھا، اسی طرح اسماعیل ؑ کا بھی تھا، تو وہ صلہ میں شریک ہوں گے) اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا (کہ ابراہیم ؑ سے وہ ذبح کرایا گیا) اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات ان کے لئے رہنے دی کہ ابراہیم پر سلام ہو (چنانچہ ان کے نام کے ساتھ اب تک ”ؑ“ کہا جا رہا ہے) ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں، (کہ انہیں لوگوں کی دعاؤں اور سلامتی کی بشارتوں کا مرکز بنا دیتے ہیں) بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے اور ہم نے (ایک انعام ان پر یہ کیا کہ) ان کو اسحاق ؑ کی بشارت دی کہ نبی اور نیک بختوں میں ہوں گے اور ہم نے ابراہیم پر اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں (ان برکتوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی نسل بہت پھیلی اور اس نسل میں کثرت سے انبیاء پیدا ہوئے) اور (پھر آگے) ان دونوں کی نسل میں بعضے اچھے بھی ہیں اور بعضے ایسے بھی جو (بدیاں کر کے) صریح اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ معارف و مسائل بیٹے کی قربانی کا واقعہ ان آیات میں حضرت ابراہیم ؑ کی حیات طیبہ کا ایک دوسرا اہم واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس میں حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ کے لئے اپنے اکلوتے فرزند کی قربانی پیش کی، واقعہ کے بنیادی اجزاء خلاصہ تفسیر سے واضح ہوجاتے ہیں، بعض تاریخی تفصیلات آیتوں کی تفسیر کے ذیل میں آجائیں گی وَقَالَ اِنِّىْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ (اور ابراہیم ؑ کہنے لگے کہ میں تو اپنے رب کی طرف چلا جاتا ہوں) یہ بات حضرت ابراہیم ؑ نے اس وقت ارشاد فرمائی جبکہ آپ اپنے اہل وطن سے بالکل مایوس ہوگئے، اور وہاں آپ کے بھانجے حضرت لوط ؑ کے سوا کوئی آپ پر ایمان نہیں لایا۔ ”رب کی طرف چلے جانے“ سے مراد یہ ہے کہ میں دارالکفر کو چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلا جاؤں گا جہاں کا مجھے اپنے رب کی طرف سے حکم ہوا ہے، اور جہاں میں اپنے پروردگار کی عبادت کرسکوں گا، چناچہ آپ اپنی زوجہ مطہرہ حضرت سارہ اور اپنے بھانجے حضرت لوط ؑ کو لے کر سفر پر روانہ ہوئے، اور عراق کے مختلف حصوں سے ہوتے ہوئے بالاخر شام تشریف لے آئے۔ اس تمام عرصہ میں حضرت ابراہیم ؑ کے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی، اس لئے آپ نے وہ دعا فرمائی جس کا اگلی آیت میں ذکر ہے
Ayah 37:100

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے رب بخش مجھ کو کوئی نیک بیٹا

رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ (اے میرے پروردگار ! مجھے ایک نیک فرزند عطا فرما) چناچہ آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک فرزند کی پیدائش کی خوشخبری سنائی۔
Ayah 37:101

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

پھر خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے کی جو ہوگا تحمل والا

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ (پس ہم نے ان کو ایک حلیم المزاج فرزند کی بشارت دی) ”حلیم المزاج“ فرما کر اشارہ کردیا گیا کہ یہ نومولود اپنی زندگی میں ایسے صبر وضبط اور بردباری کا مظاہرہ کرے گا کہ دنیا اس کی مثال نہیں پیش کرسکتی۔ اس فرزند کی ولادت کا واقعہ یہ ہوا کہ جب حضرت سارہ نے یہ دیکھا کہ مجھ سے کوئی اولاد نہیں ہو رہی تو وہ سمجھیں کہ میں بانجھ ہوچکی ہوں ادھر فرعون مصر نے حضرت سارہ کو اپنی بیٹی جن کا نام ہاجرہ تھا، خدمت گزاری کے لئے دے دی تھی، حضرت سارہ نے یہی ہاجرہ حضرت ابراہیم ؑ کو عطا کردیں اور حضرت ابراہیم ؑ نے ان سے نکاح کرلیا، انہی ہاجرہ کے بطن سے یہ صاحبزادے پیدا ہوئے اور ان کا نام اسماعیل ؑ رکھا گیا۔
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پھر جب پہنچا اس کے ساتھ دوڑنے کو کہا اے بیٹے میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ تجھ کو ذبح کرتا ہوں پھر دیکھ تو تو کیا دیکھتا ہے ؟ بولا اے باپ کر ڈال جو تجھ کو حکم ہوتا ہے تو مجھ کو پائے گا اگر اللہ نے چاہا سہارنے والا

فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ (سو جب وہ فرزند ایسی عمر کو پہنچا کہ ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے لگا تو ابراہیم نے فرمایابرخوردار میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں) بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواب حضرت ابراہیم ؑ کو تین روز متواتر دکھایا گیا (قرطبی) اور یہ بات طے شدہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا خواب وحی ہوتا ہے، اس لئے اس خواب کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم ؑ کو حکم ہوا ہے کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کردو۔ یوں یہ حکم براہ راست کسی فرشتے وغیرہ کے ذریعہ بھی نازل کیا جاسکتا تھا، لیکن خواب میں دکھانے کی حکمت بظاہر یہ تھی کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اطاعت شعاری اپنے کمال کے ساتھ ظاہر ہو، خواب کے ذریعہ دیئے ہوئے حکم میں انسانی نفس کے لئے تاویلات کی بڑی گنجائش تھی، لیکن حضرت ابراہیم ؑ نے تاویلات کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔ (تفسیر کبیر) اس کے علاوہ یہاں باری تعالیٰ کا اصل مقصد نہ حضرت اسماعیل ؑ کو ذبح کرانا تھا، نہ حضرت ابراہیم ؑ کو یہ حکم دینا کہ انہیں ذبح کر ہی ڈالو، بلکہ منشاء یہ حکم دینا تھا کہ اپنی طرف سے انہیں ذبح کرنے کے سارے سامان کر کے ان کے ذبح کا اقدام کر گزرو۔ اب یہ حکم اگر زبانی دیا جاتا تو اس میں آزمائش نہ ہوتی، اس لئے انہیں خواب میں دکھلایا کہ وہ بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں، اس سے حضرت ابراہیم ؑ یہ سمجھے کہ ذبح کا حکم ہوا ہے، اور وہ پوری طرح ذبح کرنے پر آمادہ ہوگئے، اس طرح آزمائش بھی پوری ہوگئی اور خواب بھی سچا ہوگیا، یہ بات زبانی حکم کے ذریعہ آتی تو یا آزمائش نہ ہوتی، یا حکم کو بعد میں منسوخ کرنا پڑتا یہ امتحان کس قدر سخت تھا ؟ اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے یہاں اللہ تعالیٰ نے فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَهُ السَّعْيَ کے الفاظ بڑھائے ہیں، یعنی ارمانوں سے مانگے ہوئے اس بیٹے کو قربان کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا تھا جب یہ بیٹا اپنے باپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تھا، اور پرورش کی مشقتیں برداشت کرنے کے بعد اب وقت آیا تھا کہ وہ قوت بازو بن کر باپ کا سہارا ثابت ہو۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس وقت حضرت اسماعیل ؑ کی عمر تیرہ سال تھی اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ بالغ ہوچکے تھے۔ (تفسیر مظہری) فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى ۭ (سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟) حضرت ابراہیم ؑ نے یہ بات حضرت اسماعیل ؑ سے اس لئے نہیں پوچھی کہ آپ کو حکم الٰہی کی تعمیل میں کوئی تردد تھا، بلکہ ایک تو وہ اپنے بیٹے کا امتحان لینا چاہتے تھے کہ وہ اس آزمائش میں کس حد تک پورا اترتا ہے ؟ دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کا طرز ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ احکام الٰہی کی اطاعت کے لئے تو ہر وقت تیار رہتے ہیں لیکن اطاعت کے لئے ہمیشہ راستہ وہ اختیار کرتے ہیں جو حکمت اور حتی المقدور سہولت پر مبنی ہو۔ اگر حضرت ابراہیم ؑ پہلے سے کچھ کہے بغیر بیٹے کو ذبح کرنے لگتے، تو یہ دونوں کے لئے مشکل کا سبب ہوتا، اب یہ بات آپ نے مشورہ کے انداز میں بیٹے سے اس لئے ذکر کی کہ بیٹے کو پہلے سے اللہ کا یہ حکم معلوم ہوجائے گا تو وہ ذبح ہونے کی اذیت سہنے کے لئے پہلے سے تیار ہو سکے گا، نیز اگر بیٹے کے دل میں کچھ تذبذب ہوا بھی تو اسے سمجھایا جاسکے گا۔ (روح المعانی وبیان القرآن) لیکن وہ بیٹا بھی اللہ کے خلیل کا بیٹا تھا اور اسے خود منصب رسالت پر فائز ہونا تھا، اس نے جواب میں کہا يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ ۡ (اباجان جس بات کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزریئے)۔ اس سے حضرت اسماعیل ؑ کے بےمثال جذبہ جاں سپاری کی تو شہادت ملتی ہی ہے، اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کم سنی ہی میں اللہ نے انہیں کیسی ذہانت اور کیسا علم عطا فرمایا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کے سامنے اللہ کے کسی حکم کا حوالہ نہیں دیا تھا، بلکہ محض ایک خواب کا تذکرہ فرمایا تھا، لیکن حضرت اسماعیل ؑ سمجھ گئے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا خواب وحی ہوتا ہے، اور یہ خواب بھی درحقیقت حکم الٰہی کی ہی ایک شکل ہے، چناچہ انہوں نے جواب میں خواب کے بجائے حکم الٰہی کا تذکرہ فرمایا۔ وحی غیر متلو کا ثبوت یہیں سے ان منکرین حدیث کی واضح تردید ہوجاتی ہے جو وحی غیر متلو کے وجود کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ وحی صرف وہ ہے جو آسمانی کتاب میں نازل ہوگئی، اس کے علاوہ وحی کی کوئی دوسری قسم موجود نہیں ہے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ کو بیٹے کی قربانی کا حکم خواب کے ذریعہ دیا گیا، اور حضرت اسماعیل ؑ نے صریح الفاظ میں اسے اللہ کا حکم قرار دیا، اگر وحی غیر متلو کوئی چیز نہیں ہے تو یہ حکم کون سی آسمانی کتاب میں اترا تھا ؟ حضرت اسماعیل ؑ نے اپنی طرف سے اپنے والد بزرگوار کو یہ یقین بھی دلایا کہ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ (انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے) اس جملے میں حضرت اسماعیل ؑ کی غایت ادب اور غایت تواضع کو دیکھئے۔ ایک تو انشاء اللہ کہہ کر معاملہ اللہ کے حوالہ کردیا اور اس وعدے میں دعوے کی جو ظاہری صورت پیدا ہو سکتی تھی اسے ختم فرما دیا۔ دوسرے آپ یہ بھی فرما سکتے تھے کہ ”آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے“ لیکن اس کے بجائے آپ نے فرمایا کہ ”آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے“ جس سے اس بات کی طرف اشارہ فرما دیا کہ یہ صبر و ضبط تنہا میرا کمال نہیں ہے بلکہ دنیا میں اور بھی بہت سے صبر کرنے والے ہوئے ہیں، انشاء اللہ میں بھی ان میں شامل ہوجاؤں گا۔ اس طرح آپ نے اس جملے میں فخر وتکبر، خودپسندی اور پندار کے ہر ادنیٰ شائبے کو ختم کر کے اس میں انتہا درجے کی تواضع اور انکسار کا اظہار فرما دیا (روح المعانی) اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو کسی معاملے میں اپنے اوپر کتنا ہی اعتماد ہو لیکن اسے ایسے بلند بانگ دعوے نہیں کرنے چاہئیں جن سے غرور وتکبر ٹپکتا ہوا، اگر کہیں ایسی کوئی بات کہنے کی ضرورت ہو تو الفاظ میں اس کی رعایت ہونی چاہئے، کہ ان میں اپنے بجائے اللہ پر بھروسہ کا اظہار ہو، اور جس حد تک ممکن ہو تواضع کے دامن کو نہ چھوڑا جائے۔
Ayah 37:103

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

پھر جب دونوں نے حکم مانا اور پچھاڑا اس کو ماتھے کے بل

فَلَمَّآ اَسْلَمَا (پس جب وہ دونوں جھک گئے) اسلمہ کے معنی ہیں جھک جانا، مطیع ہوجانا، رام ہوجانا۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ اللہ کے حکم کے آگے جھک گئے، یعنی باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کا اور بیٹے نے ذبح ہوجانے کا ارادہ کرلیا، یہاں لما (جب) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، لیکن اس کا جواب مذکور نہیں ہے، یعنی آگے یہ نہیں بتایا گیا کہ جب یہ واقعات پیش آ چکے تو کیا ہوا ؟ اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ باپ بیٹے کا یہ اقدام فداکاری اس قدر عجیب و غریب تھا کہ الفاظ اس کی پوری کیفیت کو بیان کر ہی نہیں سکتے۔ بعض تاریخی اور تفسیری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے تین مرتبہ حضرت ابراہیم ؑ کو بہکانے کی کوشش کی، ہر بار حضرت ابراہیم ؑ نے اسے سات کنکریاں مار کر بھگا دیا۔ آج تک منیٰ کے تین جمرات پر اسی محبوب عمل کی یاد کنکریاں مار کر منائی جاتی ہے، بالآخر جب دونوں باپ بیٹے یہ انوکھی عبادت انجام دینے کے لئے قربان گاہ پر پہنچے تو حضرت اسماعیل ؑ نے اپنے والد سے کہا کہ ابا جان مجھے خوب اچھی طرح باندھ دیجئے، تاکہ میں زیادہ تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑوں کو بھی مجھ سے بچائیے، ایسا نہ ہو کہ ان پر میرے خون کی چھینٹیں پڑیں، تو میرا ثواب گھٹ جائے، اس کے علاوہ میری والدہ خون دیکھیں گی تو انہیں غم زیادہ ہوگا، اور اپنی چھری کو بھی تیز کرلیجئے، اور اسے میرے حلق پر ذرا جلدی جلدی پھیریئے گا، تاکہ آسانی سے میرا دم نکل سکے، کیونکہ موت بڑی سخت چیز ہے، اور جب آپ میری والدہ کے پاس جائیں تو ان سے میرا سلام کہہ دیجئے گا، اور اگر آپ میری قمیض والدہ کے پاس لے جانا چاہیں تو لے جائیں، شاید اس سے انہیں کچھ تسلی ہو۔ اکلوتے بیٹے کی زبان سے یہ الفاظ سن کر ایک باپ کے دل پر کیا گزر سکتی ہے ؟ لیکن حضرت ابراہیم ؑ استقامت کے پہاڑ بن کر جواب یہ دیتے ہیں کہ”بیٹے ! تم اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے میرے کتنے اچھے مددگار ہو۔“ یہ کہہ کر انہوں نے بیٹے کو بوسہ دیا، پر نم آنکھوں سے انہیں باندھا۔ (مظہری) اور وَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ (انہیں پیشانی کے بل خاک پر لٹا دیا) حضرت ابن عباس سے اس کا مطلب یہ منقول ہے کہ انہیں اس طرح کروٹ پر لٹا دیا کہ پیشانی کا ایک کنارہ زمین سے چھونے لگا، (مظہری) لغت کے اعتبار سے یہ تفسیر راجح ہے۔ اس لئے کہ جبین عربی زبان میں پیشانی کی دونوں کروٹوں کو کہتے ہیں، اور پیشانی کا درمیانی حصہ جبہتہ کہلاتا ہے۔ اسی لئے حکیم الامت حضرت تھانوی نے اس کا ترجمہ کروٹ پر لٹانے سے کیا ہے لیکن بعض دوسرے حضرات مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اوندھے منہ زمین پر لٹا دیا۔ بہرصورت تاریخی روایات میں اس طرح لٹانے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ شروع میں حضرت ابراہیم ؑ نے انہیں سیدھا لٹایا تھا، لیکن جب چھری چلانے لگے تو بار بار چلانے کے باوجود گلا کٹتا نہیں تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے پیتل کا ایک ٹکڑا بیچ میں حائل کردیا تھا، اس موقع پر بیٹے نے خود یہ فرمائش کی کہ ابا جانمجھے چہرے کے بل کروٹ سے لٹا دیجئے، اس لئے کہ جب آپ کو میرا چہرہ نظر آتا ہے تو شفقت پدری جوش مارنے لگتی ہے، اور گلا پوری طرح کٹ نہیں پاتا، اس کے علاوہ چھری مجھے نظر آتی ہے تو مجھے بھی گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم ؑ نے انہیں اسی طرح لٹا کر چھری چلانی شروع کی۔ (تفسیر مظہری وغیرہ) واللہ اعلم۔
Ayah 37:104

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو پکارا یوں کہ اے ابراہیم

وَنَادَيْنٰهُ اَنْ يّـٰٓاِبْرٰهِيْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَ آ (اور ہم نے انہیں آواز دی کہ اے ابراہیم ! تم نے خواب سچ کر دکھایا) یعنی اللہ کے حکم کی تعمیل میں جو کام تمہارے کرنے کا تھا اس میں تم نے اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ (خواب میں بھی غالباً صرف یہی دکھایا گیا تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ انہیں ذبح کرنے کے لئے چھری چلا رہے ہیں) اب یہ آزمائش پوری ہوچکی اس لئے اب انہیں چھوڑ دو۔
Ayahs 37:105–106

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

تو نے سچ کر دکھا یا خواب ہم یوں دیتے ہیں بدلہ نیکی کرنے والوں کو

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بیشک یہی ہے صریح جانچنا

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ (ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں) یعنی جب کوئی اللہ کا بندہ اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر کے اپنے تمام جذبات کو قربان کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے، تو ہم بالآخر اسے دنیوی تکلیف سے بھی بچا لیتے ہیں، اور آخرت کا اجر وثواب بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیتے ہیں۔
Ayahs 37:107–111

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور اس کا بدلہ دیا ہم نے ایک جانور ذربح کرنے کے واسطے بڑا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور باقی رکھا ہم نے اس پر پچھلے لوگوں میں

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

کہ سلام ہے ابراہیم پر

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم یوں دیتے ہیں بدلہ نیکی کرنے والوں کو

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

وہ ہے ہمارے ایمان دار بندوں میں

وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ (اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے یہ آسمانی آواز سن کر اوپر کی طرف دیکھا تو حضرت جبرئیل ؑ ایک مینڈھا لئے کھڑے تھے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی مینڈھا تھا جس کی قربانی حضرت آدم ؑ کے صاحبزادے حضرت ہابیل نے پیش کی تھی۔ واللہ اعلم۔ بہرحال یہ جنتی مینڈھا حضرت ابراہیم ؑ کو عطا ہوا اور انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے کے بجائے اس کو قربان کیا۔ اس ذبیحہ کو ”عظیم“ اس لئے کہا گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا تھا اور اس کی قربانی کے مقبول ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ (تفسیر مظہری وغیرہ)
Ayah 37:112

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحاق کی جو نبی ہوگا نیک بختوں میں

ذبیح حضرت اسماعیل تھے یا حضرت اسحاق اوپر آیات کی تفسیر یہ تسلیم کرتے ہوئے کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو جس بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ حضرت اسماعیل ؑ تھے، لیکن درحقیقت اس معاملہ میں مفسرین اور مورخین کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عباس، حضرت ابن عباس، کعب الاحبار، سعید بن جبیر، قتادہ، مسروق، عکرمہ، عطائ، مقاتل، زہری اور سدی سے منقول ہے کہ وہ صاحبزادے حضرت اسحاق ؑ تھے، اس کے برخلاف حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابو الطفیل، سعید بن المسیب، سعید بن جبیر، حسن بصری، مجاہد، حضرت عمر بن عبدالعزیز، اشعبی، محمد بن کعب قرظی، اور دوسرے بہت سے تابعین سے منقول ہے کہ وہ صاحبزادے حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ بعد کے مفسرین میں سے حافظ ابن جریر طبری نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے اور حافظ ابن کثیر وغیرہ نے دوسرے قول کو اختیار کر کے پہلے قول کی سختی کے ساتھ تردید فرمائی ہے۔ یہاں فریقین کے دلائل پر مکمل تبصرہ ممکن نہیں، تاہم قرآن کریم کے اسلوب بیان اور روایات کی قوت کے لحاظ سے راحج یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو جن صاحبزادے کے ذبح کا حکم دیا گیا وہ حضرت اسماعیل ؑ تھے، اس کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں (1) قرآن کریم نے بیٹے کی قربانی کا پورا واقعہ نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ (اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت دی کہ نبی اور نیک لوگوں میں سے ہوں گے) اس سے صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس بیٹے کی قربانی کا حکم دیا گیا تھا وہ حضرت اسحاق ؑ کے علاوہ کوئی اور تھے، اور حضرت اسحاق ؑ کی بشارت ان کی قربانی کے واقعہ کے بعد دی گئی۔ (2) حضرت اسحاق ؑ کی اسی بشارت میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت اسحاق ؑ نبی ہوں گے، اس کے علاوہ ایک دوسری آیت میں مذکور ہے، کہ حضرت اسحاق کی پیدائش کے ساتھ یہ بشارت بھی دے دی گئی تھی کہ ان سے حضرت یعقوب ؑ پیدا ہوں گے، (آیت) (فبشرناھا باسحق ومن وراء اسحاق یعقوب) اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ وہ بڑی عمر تک زندہ رہیں گے، یہاں تک کہ صاحب اولاد ہوں گے، پھر انہی کو بچپن میں ذبح کرنے کا حکم کیونکر دیا جاسکتا تھا، اور اگر انہی کو بچپن میں نبوت سے قبل ذبح کرنے کا حکم دیا جاتا تو حضرت ابراہیم ؑ سمجھ جاتے کہ انہیں تو ابھی نبوت کے منصب پر فائز ہونا ہے اور ان کی صلب سے حضرت یعقوب ؑ کی پیدائش مقدر ہے، اس لئے ذبح کرنے سے انہیں موت نہیں آسکتی۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں نہ یہ کوئی بڑا امتحان ہوتا، اور نہ حضرت ابراہیم اس کی انجام دہی میں کسی تعریف کے مستحق ہوتے، امتحان تو اسی صورت میں ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ پوری طرح یہ سمجھے ہوئے ہوں کہ میرا یہ بیٹا ذبح کرنے سے ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد وہ ذبح کرنے کا اقدام کریں۔ حضرت اسماعیل ؑ کے معاملہ میں یہ بات پوری طرح صادق آتی ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے زندہ رہنے اور نبی بننے کی کوئی پیشنگوئی نہیں فرمائی تھی۔ (3) قرآن کریم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا وہ حضرت ابراہیم ؑ کا پہلا بچہ تھا، اس لئے کہ انہوں نے اپنے وطن سے ہجرت کرتے وقت ایک بیٹے کی دعا کی تھی، اسی دعا کے جواب میں انہیں یہ بشارت دی گئی کہ ان کے یہاں ایک حلیم لڑکا پیدا ہوگا، اور پھر اسی لڑکے کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ جب وہ باپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو اسے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ سارا سلسلہ واقعات بتارہا ہے کہ وہ لڑکا حضرت ابراہیم کا پہلا بیٹا تھا، ادھر یہ بات متفق علیہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے پہلے صاحبزادے حضرت اسماعیل ؑ ہیں، اور حضرت اسحاق ؑ ان کے دوسرے صاحبزادے ہیں، اس کے بعد اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ ذبیح حضرت اسماعیل ؑ ہی تھے۔ (4) یہ بات بھی تقریباً طے شدہ ہے کہ بیٹے کی قربانی کا واقعہ مکہ مکرمہ کے آس پاس پیش آیا ہے، اس لئے اہل عرب میں برابر حج کے دوران قربانی کا طریقہ رائج رہا ہے، اس کے علاوہ حضرت ابراہیم ؑ کے صاحبزادے کے فدیہ میں جو مینڈھا جنت سے بھیجا گیا اس کے سینگ سالہا سال تک کعبہ شریف کے اندر لٹکے رہے ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے اس کی تائید میں کئی روایتیں قل کی ہیں، اور حضرت عامر شعبی کا یہ قول بھی ذکر کیا ہے کہ”میں نے اس مینڈھے کے سینگ کعبہ میں خود دیکھے ہیں۔“ (ابن کثیر، ص 81 ج 4) اور حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ ”اس مینڈھے کے سینگ مسلسل کعبہ میں لٹکتے رہے، یہاں تک کہ جب (حجاج بن یوسف کے زمانہ میں) کعبة اللہ میں آتش زدگی ہوئی تو یہ سینگ بھی جل گئے“ (ایضاً ، ص 71 ج 2) اب ظاہر ہے کہ مکہ مکرمہ میں حضرت اسماعیل ؑ تشریف فرما رہے ہیں، نہ کہ حضرت اسحاق علیہ السلام، اس لئے صاف ظاہر ہے کہ ذبح کا حکم حضرت اسماعیل ؑ ہی سے متعلق تھا، نہ کہ حضرت اسحاق ؑ سے۔ رہیں وہ روایات جن میں مختلف صحابہ وتابعین کے بارے میں مذکور ہے کہ انہوں نے ذبیح حضرت اسحاق ؑ کو قرار دیا، سو ان کے بارے میں حافظ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن بظاہر یہ سارے اقوال کعب الاحبار سے ماخوذ ہیں، اس لئے کہ جب وہ حضرت عمر کے زمانے میں اسلام لائے تو حضرت عمر کو اپنی پرانی کتابوں کی باتیں سنانے لگے، بعض اوقات حضرت عمر ان کی باتیں سن لیتے تھے، اس سے اور لوگوں کو بھی گنجائش ملی، اور انہوں نے بھی ان کی روایات سن کر انہیں نقل کرنا شروع کردیا، ان روایات میں ہر طرح کی رطب و یا بس باتیں جمع تھیں، اور اس امت کو ان باتوں میں سے ایک حرف کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ واللہ اعلم (تفسیر ابن کثیر ص 71 ج 4) حافظ ابن کثیر کی یہ بات بہت قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حضرت اسحاق ؑ کو ذبیح قرار دینے کی بنیاد اسرائیلی روایات ہی پر ہے، اس لئے یہود و نصاریٰ حضرت اسماعیل ؑ کے بجائے حضرت اسحاق ؑ کو ذبیح قرار دیتے ہیں، موجودہ بائبل میں یہ واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ”ان باتوں کے بعد یوں ہوا کہ خدا نے ابراہیم کو آزمایا اور اسے کہا اے ابراہیم ! اس نے کہا میں حاضر ہوں، تب اس نے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا“ (پیدائش 22 او 2) اس میں ذبح کا واقعہ حضرت اسحاق ؑ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، لیکن اگر انصاف سے اور تحقیق سے کام لیا جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ یہاں یہودیوں نے اپنے روایتی تعصب سے کام لے کر تورات کی عبارت میں تحریف کا ارتکاب کیا ہے، اس لئے کہ کتاب پیدائش کی مذکورہ عبارت ہی میں ”جو تیرا اکلوتا ہے“ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ حضرت ابراہیم کو جس بیٹے کی قربانی کا حکم دیا گیا وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا، اسی باب میں آگے چل کر پھر لکھا ہے کہ۔ ”تو نے اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے مجھ سے دریغ نہ کیا۔“ (پیدائش 22: 21) اس جملے میں بھی یہ تصریح موجود ہے کہ وہ بیٹا حضرت ابراہیم ؑ کا اکلوتا تھا، ادھر یہ بات طے شدہ ہے کہ حضرت اسحاق ؑ ان کے اکلوتے بیٹے نہ تھے، اگر ”اکلوتے“ کا اطلاق کسی پر ہوسکتا ہے تو وہ صرف حضرت اسماعیل ؑ ہیں، خود کتاب پیدائش ہی کی دوسری کئی عبارتیں اس کی شہادت دیتی ہیں کہ حضرت اسماعیل ؑ کی پیدائش حضرت اسحاق ؑ سے بہت پہلے ہوچکی تھی، ملاحظہ فرمائیے۔ ”اور ابراہیم کی بیوی ساریٰ کے کوئی اولاد نہ ہوئی، اس کی ایک مصری لونڈی تھی، جس کا نام ہاجرہ تھا اور وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور خداوند کے فرشتہ نے اس سے کہا کہ تو حاملہ ہے اور تیرے بیٹا ہوگا، اس کا نام اسماعیل رکھنا۔ اور جب ابراہیم سے ہاجرہ کے اسماعیل پیدا ہوا تب ابراہیم چھیاسی برس کا تھا“ (پیدائش باب 61 آیات 1 و 4، 01، 61) نیز اگلے باب میں لکھا ہے ”اور خدا نے ابرہام سے کہا کہ ساریٰ جو تیری بیوی ہے اس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا تب ابرہام سرنگوں ہوا اور ہنس کر دل میں کہنے لگا کہ کیا سو برس کے بڈھے سے کوئی بچہ ہوگا اور کیا سارہ کے جو نوے برس کی ہے اولاد ہوگی ؟ اور ابرہام نے خدا سے کہا کہ کاش ! اسماعیل ہی تیرے حضور جیتا رہے، تب خدا نے فرمایا کہ بیشک تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہوگا، تو اس کا نام اسحاق رکھنا“ (پیدائش 71، 51 تا 12) اس کے بعد حضرت اسحاق ؑ کی پیدائش کا تذکرہ اس طرح کیا گیا ہے ”اور جب اس کا بیٹا اسحاق اس سے پیدا ہوا تو ابراہام سو برس کا تھا“ (پیدائش 12 تا 5) ان عبارتوں سے صاف واضح ہے کہ حضرت اسحاق ؑ حضرت اسماعیل ؑ سے چودہ سال چھوٹے تھے اور اس چودہ سال کے عرصہ میں وہ حضرت ابراہیم ؑ کے اکلوتے بیٹے تھے، اس کے برعکس حضرت اسحاق ؑ پر ایسا کوئی وقت نہیں گزرا جس میں وہ اپنے والد کے اکلوتے ہوں، اب اس کے بعد جب کتاب پیدائش کے بائیسویں باب میں بیٹے کی قربانی کا ذکر آتا ہے تو اس میں ”اکلوتا“ کا لفظ صاف شہادت دے رہا ہے کہ اس سے مراد اسماعیل ؑ ہیں اور کسی یہودی نے اس کے ساتھ ”اضحاق“ کا لفظ محض اس لئے بڑھا دیا ہے تاکہ یہ فضیلت بنو اسماعیل کے بجائے بنو اسحاق کو حاصل ہو۔ اس کے علاوہ بائبل کی اسی کتاب پیدائش میں جہاں حضرت ابراہیم ؑ کو حضرت اسحاق ؑ کی پیدائش کی خوشخبری دی گئی ہے وہاں یہ بھی مذکور ہے کہ ”یقینا میں اسے (یعنی حضرت اسحاق کو) برکت دوں گا کہ قومیں اس کی نسل سے ہوں گی“ (پیدائش 71، 61) اب ظاہر ہے کہ جس بیٹے کے بارے میں اس کی پیدائش سے پہلے ہی یہ خبر دی جا چکی ہو کہ وہ صاحب اولاد ہوگا اور ”قومیں اس کی نسل سے ہوں گی“ اس کو قربان کرنے کا حکم کیسے دیا جاسکتا ہے، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم حضرت اسحاق ؑ سے متعلق نہیں تھا، بلکہ حضرت اسماعیل ؑ سے متعلق تھا۔ بائبل کی ان عبارتوں کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ حافظ ابن کثیر کا یہ خیال کس قدر صحیح ہے کہ ”یہودیوں کی کتب مقدسہ میں تصریح ہے کہ جب اسماعیل ؑ پیدا ہوئے تو حضرت ابراہیم ؑ کی عمر چھیاسی سال تھی اور جب اسحاق ؑ پیدا ہوئے تو ان کی عمر سو سال تھی، اور انہی کی کتابوں میں یہ بھی درج ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو ان کے اکلوتے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا اور ایک اور نسخہ میں ”اکلوتے“ کے بجائے ”پہلوٹھے“ کا لفظ ہے، پس یہودیوں نے یہاں ”اسحاق“ کا لفظ اپنی طرف سے بہتانا بڑھا دیا، اور اس کو درست قرار دینے کا کوئی جواز نہیں ہے، کیونکہ یہ خود ان کی کتابوں کی تصریحات کے خلاف ہے، اور یہ لفظ انہوں نے اس لئے بڑھایا کہ حضرت اسحاق ؑ ان کے جد امجد ہیں، اور حضرت اسماعیل ؑ عربوں کے، پس یہودیوں نے حسد کی وجہ سے یہ لفظ بڑھا دیا اور اب ”اکلوتے“ کے معنی یہ بتاتے ہیں کہ وہ ”بیٹا جس کے سوا اس وقت کوئی اور تمہارے پاس موجود نہیں ہے“ کیونکہ حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ اس وقت وہاں نہیں تھیں (اس لئے حضرت اسحاق کو اس معنی میں اکلوتا کہا جاسکتا ہے) لیکن یہ بالکل غلط تاویل ہے اور باطل تحریف ہے، اس لئے کہ ”اکلوتا“ اس بیٹے کو کہتے ہیں جس کے باپ کا اس کے سوا کوئی بیٹا نہ ہو تفسیر ابن کثیر، ص 42، ج 4) حافظ ابن کثیر ہی نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ علماء یہود میں سے ایک شخص حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں مسلمان ہوگیا تھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس سے پوچھا کہ ابراہیم ؑ کے بیٹوں میں سے کون سے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا ؟ تو اس نے کہا کہ ”خدا کی قسم امیر المومنین ! وہ اسماعیل ؑ تھے، یہودی اس بات کو خوب جانتے ہیں لیکن وہ آپ عرب لوگوں سے حسد کی وجہ سے ایسا کہتے ہیں“ (ص 81 ج 4) ان دلائل کی روشنی میں یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل ؑ ہی تھے۔ واللہ سبحانہ، اعلم
Ayah 37:113

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور برکت دی ہم نے اس پر اور اسحاق پر اور دونوں کی اولاد میں نیکی والے ہیں اور بدکار بھی اپنی حق میں صریح۔

وَمِنْ ذُرِّيَّـتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ (ان دونوں کی نسل میں بعض اچھے بھی ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو صریح اپنا نقصان کر رہے ہیں، اس آیت کے ذریعہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید کردی گئی ہے کہ ان حضرات انبیا (علیہم السلام) کی اولاد میں سے ہونا ہی انسان کی فضیلت اور نجات کے لئے کافی ہے۔ اس آیت نے وضاحت کے ساتھ بتادیا کہ کسی نیک انسان سے نسبی تعلق نجات کے لئے کافی نہیں بلکہ اس کا اصل مدار انسان کے اپنے عقائد اور اعمال پر ہے۔