Ayah 35:1خلاصہ تفسیر
تمام تر حمدو ثناء اسی) اللہ کو لائق ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جو فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا ہے، جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر دار بازو ہیں (پیغام سے مراد انبیاء (علیہم السلام) کی طرف وحی لانا ہے خواہ وہ شرائع احکام سے متعلق ہو یا محض بشارت وغیرہ سے، اور بازوؤں کی تعداد کچھ چار چار ہی میں منحصر نہیں بلکہ) وہ پیدائش میں جو چاہتا ہے زیادہ کردیتا ہے (یہاں تک کہ بعض فرشتوں کے چھ سو بازو (پیدا کیے ہیں جیسا کہ حدیث میں حضرت جبرئیل کے متعلق آیا ہے) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (اور قادر بھی ایسا جس کا کوئی مزاحم نہیں کہ وہ) اللہ جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے (مثلاً بارش، نباتات اور عام رزق) تو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کر دے تو اس کے (بند کرنے کے) بعد اس کا کوئی جاری کرنے والا نہیں (البتہ وہ خود ہی بند و کشاد کرسکتا ہے) اور وہی غالب (یعنی قادر اور) حکمت والا ہے (یعنی کھولنے اور بند کرنے پر قادر بھی ہے اور بند و کشاد ہمیشہ حکمت کے ساتھ ہوتی ہے) اے لوگو ! جیسے اس کی قدرت کامل ہے اسی طرح اس کی نعمت بھی کامل ہے، اس کی نعمتوں کی کوئی شمار نہیں، اس لئے) تم پر جو اللہ کے احسانات ہیں ان کو یاد کرو (اور ان کا شکریہ ادا کرو اور وہ شکر یہ ہے کہ توحید اختیار کرو شرک چھوڑو کم از کم اس کی دو بڑی نعمتوں میں غور کرو جو مخلوقات کی ایجاد پھر ان کو باقی اور قائم رکھنا ہے) کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق پہنچاتا ہو (یعنی اس کے سوا نہ کوئی تخلیق و ایجاد کرسکتا ہے اور نہ کوئی ایجاد کردہ کو باقی اور قائم رکھنے کے لئے رزق پہنچانے کا کام کرسکتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ وہ ہر طرح کامل ہے تو یقیناً اس کے سوا کوئی لائحق عبادت (بھی) نہیں تو (جب معبود ہونا اسی کا حق ہے تو) تم (شرک کر کے) کہاں الٹے جا رہے ہو۔
معارف و مسائل
جاعل الملئکة رسلا، فرشتوں کو رسول یعنی اللہ تعالیٰ کا پیغام اور احکام پہنچانے والا بنانے کا مطلب ظاہر یہ ہے کہ ان کو انبیاء (علیہم السلام) کی طرف اللہ کا قاصد و رسول بنا کر بھیجا جاتا ہے وہ اللہ کی وحی اور احکام ان کو پہنچاتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسول سے مراد اس جگہ واسطہ ہو اللہ تعالیٰ اور اس کی عام مخلوقات کے درمیان جن میں انبیاء (علیہم السلام) سب سے افضل و اعلیٰ ہیں ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان بھی وحی کا واسطہ بنتے ہیں اور عام مخلوقات تک اللہ تعالیٰ کی رحمت یا عذاب پہنچانے کا بھی واسطہ فرشتے ہی ہوتے ہیں۔
اولی اجنحة مثنی و ثلاث ورباع یعنی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پر والے بازو عطا فرمائے ہیں جن سے وہ اڑ سکتے ہیں حکمت اس کی ظاہر ہے کہ وہ آسمان سے زمین تک کی مسافت بار بار طے کرتے ہیں، یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ ان کو سرعت سیر کی قوت عطا کی جائے اور وہ اڑنے ہی کی صورت میں ہوتی ہے۔
اور لفظ مثنی و ثلاث ورباع ظاہر یہ ہے کہ اجنحۃ کی صفت ہے کہ فرشتوں کے پر مختلف تعداد پر مشتمل ہیں۔ بعض کے صرف دو دو پر ہیں بعض کے تین تین بعض کے چار چار اور اس میں کوئی حصر نہیں، جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث سے جبریل ؑ کے چھ سو پر ہونا ثابت ہوتا ہے، بطور تمثیل کے چار تک ذکر کردیا گیا ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ مثنی و ثلث رسلاً کی صفت ہو یعنی یہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسالات دنیا میں پہنچاتے ہیں، کبھی دو دو آتے ہیں کبھی تین تین یا چار چار اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں بھی چار کا عدد حصر کے لئے نہیں، محض تمثیل کے طور پر ہے، کیونکہ اس سے بہت زیادہ مقدار میں فرشتوں کا نزول خود قرآن کریم سے ثابت ہے (ابوحیان فی البحر المحیط)
یزید فی الخلق ما یشاء یعنی اللہ تعالیٰ کو سب اختیار ہے کہ اپنی مخلوقات کی تخلیق میں جتنی چاہے اور جس قسم کی چاہے زیادتی کرے۔ اس کا تعلق بظاہر تو اجنحہ ہی کے ساتھ ہے کہ فرشتوں کے پر وبازو کچھ دو چار میں منحصر نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو اس سے بہت زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اکثر مفسرین کا قول یہی ہے اور زہری، قتادہ وغیرہ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ اس زیادت خلق سے عام معنی مراد ہیں، جس میں فرشتوں کے پر وبازو کی زیادتی بھی شامل ہے اور مختلف انسانوں کی تخلیق میں خاص خاص صفات کی زیادتی بھی۔ جس میں حسن صورت، حسن سیرت، حسن صوت وغیرہ سب داخل ہیں۔ ابوحیان نے بحر محیط میں اسی کو اختیار کر کے فرمایا ہے کہ اس زیادت خلق میں حسن خلق، حسن صوت اور حسن خط اور حسن صورت کمال عقل و علم، شیریں کلامی وغیرہ سب داخل ہیں۔ اس دوسری تفسیر سے ثابت ہوا کہ کسی چیز کا بھی حسن و کمال جو انسان کو حاصل ہو وہ اللہ تعالیٰ کی عطاء اور نعمت ہے، اس کا شکر گذار ہونا چاہئے۔
Ayahs 35:2–3(آیت) ما یفتح اللہ للناس من رحمة فلا ممسک لھا، یہاں لفظ رحمت عام ہے اس میں دینی اور اخروی نعمتیں داخل ہیں، جیسے ایمان اور علم اور عمل صالح اور نبوت و ولایت وغیرہ اور دنیوی نعمتیں بھی، جیسے رزق اور اسباب اور آرام و راحت اور صحت و تندرستی اور مال و عزت وغیرہ معنی آیت کے ظاہر ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے لئے اپنی رحمت کھولنے کا ارادہ کرے اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔
اسی طرح دوسرا جملہ وما یمسک عام ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ روکتا ہے اس کو کوئی کھول نہیں سکتا۔ اس میں دنیا کے مصائب و آلام بھی داخل ہیں کہ جب اللہ ان کو اپنے کسی بندے سے روکنا چاہیں تو کسی کی مجال نہیں کہ ان کو کوئی گزند و مصیبت پہنچا سکے اور اس میں رحمت بھی داخل ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی کسی حکمت سے کسی شخص کو رحمت سے محروم کرنا چاہیں تو کسی کی مجال نہیں کہ اس کو دے سکے (ابو حیان)
اسی مضمون آیت کے متعلق ایک حدیث اس طرح آتی ہے کہ حضرت معاویہ نے اپنے عامل (گورنر) کوفہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی حدیث لکھ کر بھیجو جو تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ حضرت مغیرہ نے اپنے میر منشی رواد کو بلاکر لکھوایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت جبکہ آپ نماز سے فارغ ہوئے یہ کلمات پڑھتے ہوئے سنا اللھم لا مانع لما اعطیت ولامعطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد (یعنی یا اللہ جو چیز آپ کسی کو عطا فرما دیں اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو آپ روکیں اس کو کوئی دینے والا نہیں، آپ کے ارادے کے خلاف کسی کوشش کرنے والے کی کوشش نہیں چلتی) ابن کثیر از مسند احمد)
اور صحیح مسلم میں حضرت ابوسعید خدری کی روایت یہ ہے کہ یہ کلمہ آپ نے رکوع سے سر اٹھانے کے وقت فرمایا اور اس کلمہ سے پہلے فرمایا احق ما قال العبد وکلنا لک (یعنی یہ کلمہ ان تمام کلمات میں جو کوئی بندہ کہہ سکتا ہے سب سے زیادہ احق اور مقدم و اعلیٰ ہے۔
اللہ پر توکل و اعتماد سارے مصائب سے نجات ہے۔
آیت مذکورہ نے انسان کو جو سبق دیا ہے کہ غیر اللہ سے نفع و ضرر کی امید و خوف نہ رکھے، صرف اللہ تعالیٰ کی طرف نظر رکھے۔ دین و دنیا کی درستی اور دائمی راحت کا نسخہ اکسیر ہے اور انسان کو ہزاروں غموں اور فکروں سے نجات دینے والا ہے۔ (روح)
حضرت عامر بن عبد قیس نے فرمایا کہ جب میں صبح کو چار آیتیں قرآن کریم کی پڑھ لوں تو مجھے یہ فکر نہیں رہتی صبح کو کیا ہوگا شام کو کیا، وہ آیتیں یہ ہیں۔ ایک یہ آیت (آیت) مایفتح اللہ للناس من رحمة فلا ممسک لھا وما یمسک فلا مرس لہ من بعدہ۔ دوسری آیت اسی کے ہم معنی یہ ہے ان یمسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو و ان یردک بخیر فلا راد لفضلہ، تیسری آیت سیجعل اللہ بعد عسر یسراً چوتھی وما من دابة فی الارض الا علی اللہ رزقھا (اخرجہ ابن منذر، روح)
اور حضرت ابوہریرہ جب بارش ہوتے دیکھتے تو فرمایا کرتے تھے مطرنا بنواء الفتح اور پھر آیت (آیت) ما یفتع اللہ للناس من رحمة پڑھتے تھے یہ عرب کے باطل خیالات کی تردید ہے جو بارش کو خاص خاص ستاروں کی طرف منسوب کر کے کہا کرتے کہ ہمیں یہ بارش فلاں ستارے کی وجہ سے ملی ہے۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بارش آیت فتح سے ملی ہے۔ مراد آیت فتح سے یہی مذکورہ آیت ہے جس کو وہ ایسے وقت تلاوت فرمایا کرتے (رواہ مالک فی الموطا)
Ayah 35:4خلاصہ تفسیر
اور (اے پیغمبر ﷺ اگر یہ لوگ (دوبارہ توحید و رسالت وغیرہ) آپ کو جھٹلائیں تو (آپ غم نہ کریں کیونکہ آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر جھٹلائے جا چکے ہیں (ایک تو اس سے تسلی حاصل کیجئے) اور (دوسری بات یہ کہ) سب امور اللہ ہی کے روبرو پیش کئے جاویں گے (وہ خود سب سے سمجھ لے گا آپ کیوں فکر میں پڑے۔ آگے عام لوگوں کو خطاب ہے کہ) اے لوگو (الی اللہ ترجع الامور) جس میں قیامت کی خبر ہے اس کو سن کر تعجب واستبعاد مت کرنا) اللہ تعالیٰ کا (یہ) وعدہ ضرور سچا ہے، سو ایسا نہ ہو کہ یہ (دنیوی زندگی تم کو دھوکہ میں ڈالے رکھے (کہ اس میں منہمک ہو کر اس یوم موعود سے غافل (ہو) اور ایسا نہ ہو کہ تم کو دھوکہ باز شیطان اللہ سے دھوکہ میں ڈال دے (کہ تم اس کے اس بہکانے میں نہ آجاؤ کہ اللہ تعالیٰ تم کو عذاب نہ دے گا جیسا کہ کہا کرتے تھے (آیت) ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنے اور) یہ شیطان (جس کے دھوکہ کا اوپر ذکر ہے) بیشک تمہارا دشمن ہے سو تم اس کو (اپنا) دشمن (ہی) سمجھتے رہو وہ تو اپنے گروہ کو (یعنی اپنے متعبین کو) محض اس لئے (باطل کی طرف) بلاتا ہے تاکہ وہ لوگ دوزخیوں میں سے ہوجاویں (پس) جو لوگ کافر ہوگئے (اور اس کی دعوت و غرور میں پھنس گئے) ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے (اور اس کی دعوت و غرور میں نہیں پھنسے) ان کے لئے (معاصی کی) بخشش اور (ایمان و عمل صالح پر) بڑا اجر ہے (اور جب کافر کا انجام شدید اور مؤمن کا انجام مغفرت و اجر کبیر ہے) تو کیا (دونوں مساوی ہو سکتے ہیں یعنی) ایسا شخص جس کو اس کا عمل بد اچھا کر کے دکھلایا گیا، پھر وہ اس کو اچھا سمجھنے لگا (اور ایسا شخص جو برے کو برا سمجھتا ہے کہیں برابر ہو سکتے ہیں ؟ پہلے شخص سے مراد کافر ہے جو اغواء شیطان سے باطل کو حق اور مضر کو نافع سمجھتا ہے اور دوسرے شخص سے مراد مومن ہے جو اتباع انبیاء و مخالفت شیطان سے باطل کو باطل حق کو حق ضار کو ضار، نافع کو نافع جانتا ہے۔ یعنی دونوں برابر کہاں ہوئے بلکہ ایک جہنمی اور دوسرا جنتی ہے۔ پس شیطان کے دھوکہ میں آنے والے اور اس کو دشمن سمجھنے والوں میں یہ تفاوت ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں لا یغرنکم اور ان الشیطن لکم عدو اور اگر اس پر تعجب ہو کہ عاقل آدمی بد کو نیک کیسے سمجھ لیتا ہے سو (اس کی وجہ یہ ہی کہ) اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے (اس کی عقل الٹی ہوجاتی) اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے (اس کا ادراک صحیح رہتا ہے، پھر جب ہدایت و ضلال کا اصل مدار مشیت ہے تو ان پر افسوس کر کے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے (یعنی کچھ افسوس نہ کیجئے صبر سے بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کے کاموں کی خبر ہے (وقت پر ان سے سمجھ لے گا۔)
Ayahs 35:5–7معارف و مسائل
(آیت) لایغرنکم باللہ الغرور، غرور بفح غین مبالغہ کا صیغہ ہے، جس کے معنی ہیں بہت دھوکہ دینے والا اور مراد اس سے شیطان ہے کہ اس کا کام ہی لوگوں کو دھوکہ میں ڈال کر کفر و معصیت میں مبتلا کرنا ہے اور یغرنکم باللہ یعنی وہ تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکہ نہ دیدے، اس دھوکہ سے مطلب یہ ہے کہ شیطان برے کاموں کو اچھا ثابت کر کے تمہیں اس میں مبتلا نہ کر دے اور تمہارا حال یہ ہوجائے کہ گناہ کرتے رہو اور ساتھ ہی یہ سمجھتے رہو کہ ہم اللہ کے نزدیک مقبول ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ (قرطبی)
Ayah 35:8(آیت) فان اللہ یضل من یشاء۔ امام بغوی نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا کی تھی کہ یا اللہ اسلام کو عزت وقوت عطا کر دے، عمر بن خطاب کے ذریعہ یا ابوجہل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے عمر بن خطاب کو ہدایت دے کر اسلام کی عزت و قوت کا سبب بنادیا اور ابوجہل اپنی گمراہی میں رہا۔ (مظہری)
Ayah 35:9خلاصہ تفسیر
اور اللہ ایسا (قادر) ہے جو (بارش سے پہلے) ہواؤں کو بھیجتا ہے پھر وہ (ہوائیں) بادلوں کو اٹھاتی ہیں (جس کی کیفیت سورة روم کے رکوع پنجم آیت (آیت) اللہ الذی یرسل الریاح کی تفسیر میں گذری ہے) پھر ہم اس بادل کو خشک قطعہ زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں (جن سے وہاں بارش ہوتی ہے) پھر ہم اس کے ذریعہ سے (یعنی اس بادل کے پانی کے ذریعہ سے) زمین کو (نباتات سے) زندہ کرتے ہیں اس کے خشک ہونے کے بعد (اور جس طرح زمین کے مناسب اس کو حیات عطا فرمائی) اسی طرح (قیامت میں آدمیوں کا) جی اٹھنا ہے (کہ ان کے مناسب حیات ان کو عطا ہوگی وجہ تشبیہ ظاہر ہے کہ دونوں میں ایک زائل شدہ صفت کا احداث و اعادہ ہے۔ گو زمین میں صرف ایک امر عرضی یعنی نشو ونما کا تعلق ہوا ہے اور اعضاء میں ایک امر جوہری یعنی روح کا یہ مضمون حشر و نشر کا دلائل توحید کے ضمن میں تبعاً آ گیا ہے۔ پھر اس نشور کی مناسب سے ایک اور مضمون ہے وہ یہ کہ جب قیامت میں زندہ ہونا ہے تو وہاں کی ذلت و خواری سے بچنے کی فکر کرنا ضروری ہے۔ اس بارے میں مشرکین نے اپنے خود ساختہ معبودوں کو شیطان کے فریب میں آ کر حصول عزت کا ذریعہ قرار دے رکھا تھا، وہ کہتے تھے (آیت) ہوءلآء شفعاؤنا عنداللہ یعنی یہ ہمارے علی الاطلاق شفیع ہیں دنیاوی حوائج میں بھی اور اگر قیامت کوئی چیز ہے تو نجات اخری کے لئے بھی جیسا حق تعالیٰ نے سورة مریم میں ارشاد فرمایا ہے (آیت) واتخذومن دون اللہ آلہتہ لیکونوا لہم عزاً اس کے متعلق ارشاد ہے کہ) جو شخص (آخرت میں) عزت حاصل کرنا چاہے (اور یہ چاہنا اس لئے ضروری بھی ہے کہ آخرت کا واقع ہونا امر یقینی ہے) تو (اس کو چاہئے کہ اللہ سے عزت حاصل کرے کیونکہ) تمام تر عزت (بالذات) خدا ہی کے لئے (حاصل) ہے (اور دوسرے کے لئے جب ہوگی بالعرض ہوگی، اور مابالعرض ہمیشہ مابالذات کا محتاج ہوتا ہے پس اس میں سب خدا ہی کے محتاج ہوئے۔ اور خدا سے اس کے حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ قولاً و عملاً اس کی اطاعت وانقیاد اختیار کرے کہ خدا کے نزدیک یہی چیزیں پسندیدہ ہیں چناچہ اچھا کلام اسی تک پہنچتا ہے، (یعنی وہ اس کو قبول کرتا ہے) اور اچھا کام اس کو پہنچاتا ہے (اچھے کلام میں کلمہ توحید اور تمام اذکار الہیہ اور اچھے کام میں تصدیق قلبی اور جمیع اعمال صالحہ ظاہرہ و باطنہ داخل ہیں تو معنی یہ ہوئے کہ کلمہ توحید اور تمام اذکار کے مقبول بنانے کا ذریعہ عمل صالح ہے اور مقبولیت عام ہے اصل قبولیت اور مکمل قبولیت دونوں کو اور اس اجمال کو دوسرے دلائل نے اس طرح مفصل کردیا کہ تصدیق قلبی تو جمیع کلم طیب کے لئے نفس قبول کی شرط ہے اس کے بغیر کوئی ذکر مقبول نہیں اور دوسرے اعمال صالحہ جمیع کلم طیب کے لئے مکمل قبول کی شرط ہے نہ کہ نفس قبول کی۔ کیونکہ فاسق سے اگر کلمہ طیب کا صدور ہو تو بھی قبول تو ہوجاتا ہے مگر مکمل قبولیت نہیں ہوتی، پس جب یہ چیزیں عند اللہ پسندیدہ ہیں تو جو شخص اس کو اختیار کرے گا وہ معزز ہوگا) اور جو لوگ (اس کے خلاف طریقہ اختیار کر کے آپ کی مخالفت کر رہے ہیں کہ وہ اللہ ہی کی مخالفت ہے اور آپ کے ساتھ) بری بری تدبیریں کر رہے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا، (جو موجب ان کی ذلت کا ہوگا اور ان کی خود ساختہ معبود ان کو خاک عزت نہ دے سکیں گے، بلکہ بالعکس خود وہ ان کے خلاف ہوجائیں گے، کماقال تعالیٰ فی سورة مریم (آیت) سیکفرون بعبادتہم ویکونون علیہم ضداً ، یہ تو ان کا خسران آخرت میں ہوگا) اور (دنیا میں بھی ان کو یہ خسران ہوگا کہ) ان لوگوں کا یہ مکر نیست و نابود ہوجائے گا (یعنی ان تدبیروں میں ان کو کامیابی نہ ہوگی، چناچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ اسلام کو مٹانا چاہتے تھے خود ہی مٹ گئے۔ یہ مضمون بطور جملہ معترضہ کے تمام ہو کر آگے پھر عود ہے مضمون توحید کی طرف، یعنی حق تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ایک تو وہ تھا جو اوپر اللہ الذی ارسل الخ میں بیان کیا گیا اور (دوسرا مظہر جو توحید پر دلالت کرتا ہے یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے تم کو (ضمنا خلق آدم میں) مٹی سے پیدا کیا، پھر (استقلالاً) نطفہ سے پیدا کیا، پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا (یعنی کچھ مذکر کچھ مونث بنائے یہ تو اس کی قدرت ہے) اور علم اس کا ایسا ہے کہ) کسی عورت کو نہ حمل رہتا ہے اور نہ وہ جنتی ہے مگر سب اس کی اطلاع سے ہوتا ہے (یعنی اس کو پہلے سے سب کی خبر ہوتی ہے) اور (اسی طرح) نہ کسی کی عمر زیادہ (مقرر) کی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم (مقرر) کی جاتی ہے مگر یہ سب لوح محفوظ میں (لکھا ہوا) ہوتا ہے (جسکو حق تعالیٰ نے اپنے علم قدیم کے موافق اس میں ثبت فرما دیا ہے اور گو معلومات بیشمار اور لامتناہی ہیں، مگر یہ تعجب نہ کرو کہ قبل از وقوع سب واقعات کو کیسے مقدور و مقرر فرمایا کیونکہ) یہ سب اللہ کو آسان ہے (کیونکہ اس کا علم ذاتی ہے جس کی نسبت جمیع معلومات کے ساتھ قبل از وقوع و بعد از وقوع یکساں ہے) اور (آگے قدرت کے اور دلائل سنو کہ باوجود یکہ پانی مادہ واحدہ ہے مگر باوجود وحدت قابل کے اس میں اختلاف افعال سے دو مختلف قسمیں پیدا کردیں) دونوں دربار برابر نہیں (بلکہ) ایک تو شیریں پیاس بجھانے والا ہے جس کا پینا بھی (بوجہ قبول طبیعت کے) آسان ہے اور ایک شور تلخ ہے (تو یہ امر بھی عجائب قدرت سے ہے) اور دوسرے دلائل قدرت بھی ہیں جو دلالت علی القدرة کے ساتھ دال علی النعمتہ بھی ہیں بعض تو انہی دریاؤں کے متعلق ہیں مثلاً یہ کہ) تم ہر ایک صدریا) سے (مچھلیاں نکال کر ان کا) تازہ گوشت کھاتے ہو اور (نیز) زیور (یعنی موتی) نکالتے ہو جس کو تم پہنتے ہو اور (اے مخاطب) تو کشتیوں کو اس میں دیکھتا ہے پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم (ان کے ذریعہ سے سفر کرکے) اس کی روزی ڈھونڈو اور تاکہ (روزی حاصل کر کے تم (اللہ کا) شکر کرو (اور بعض اور نعمتیں ہیں مثلاً یہ کہ) وہ رات (کے اجزائ) کو دن (کے اجزائ) میں داخل کردیتا ہے، اور ان (کے اجزائ) کو رات (کے اجزائ) میں داخل کردیتا ہے (جس سے دن اور رات گھٹنے بڑھنے کے متعلق منافع حاصل ہوتے ہیں) اور مثلاً یہ کہ) اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے (ان میں سے) ہر ایک وقت مقرر (یعنی قیوم قیامت) تک (اسی طرح) چلتے رہیں گے، یہی اللہ (جس کی یہ شان ہے) تمہارا پروردگار ہے، اسی کی سلطنت ہے اور اس کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چناچہ جمادات میں تو ظار ہے اور ذوات الارواح میں بایں معنی کہ بالذات اختیار نہیں رکھتے اور ان کی یہ حالت ہے کہ) اگر تم پکارو تو بھی وہ تمہاری پکار (اول تو) سنیں گے نہیں (جمادات تو اس لئے کہ ان میں سننے کی صلاحیت نہیں اور ذوات الارواح بایں معنی کہ مرنے کے بعد ان کا سننا لازمی اور دائمی نہیں، جب اللہ چاہے سنا دے جب نہ چاہے نہ سنا دے) اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو تمہارا کہنا نہ کریں گے اور قیامت کے روز وہ (خود) تمہارے شرک کرنے کی مخالفت کریں گے (قولہ تعالیٰ ماکانوا ایانا یعبدون و غیر ذلک من آلاویات) اور (ہم نے جو کچھ فرمایا ہے اس کے صدق میں ذرا شک و شبہ نہیں کیونکہ ہم حقائق پوری خبر رکھنے والے ہیں اور اے مخاطب) تجھ کو خبر رکھنے والے کی برابر کوئی نہیں بتلائے گا۔ (پس ہمارا بتلانا اس سے زیادہ صحیح ہے۔)
Ayah 35:10معارف و مسائل
(آیت) الیہ یصعد الکلم الطییب والعمل الصالح یرفعہ، اس سے پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جو شخص عزت و قوت کا طلب گار ہو تو اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اللہ کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔ جن چیزوں کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے یا جن سے عزت کی توقع پر دوستی کر رکھی ہے وہ کسی کو عزت نہیں دے سکتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے عزت و قوت حاصل کرنے کا طریقہ بتلایا گیا ہے جس کے دو اجزاء ہیں، ایک کلم طیب، یعنی کلمہ توحید اور اللہ کی ذات وصفات کا علم دوسرے عمل صالح یعنی دل سے ایمان لانا پھر اس کے مقضنی کے موافق تابع شریعت عمل کرنا۔ حضرت شاہ عبدالقادر نے موضع القرآن میں فرمایا کہ حصول عزت کا یہ نسخہ بالکل صحیح و مجرب ہے، شرط یہ ہے کہ ذکر اللہ اور عمل صالح پر مداومت ہو، یہ مداومت ایک حد مقرر پر پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے کرنے والے کو وہ لازوال عزت دینا و آخرت میں نصیب فرماتے ہیں جس کی نظیر نہیں۔
آیت مذکورہ میں ان دونوں جزاؤں کی تعبیر ان الفاظ سے کی گئی ہے کہ اچھا کلام اللہ کی طرف چڑھتا اور پہنچتا ہے اور عمل صالح اس کو اٹھاتا ہے اور پہنچاتا ہے۔ العمل الصالح یرفعہ کی ترکیب نحوی میں چند احتمال ہیں، ہر احتمال کے اعتبار سے جملے کے معنی الگ ہوجاتے ہیں۔ ائمہ تفسیر نے ان احتمالوں کے مطابق تفسیر اپنی اپنی صواب دید کے مطباق کی ہے۔ پہلا احتمال تو وہی ہے جس کے مطابق خلاصہ تفسیر میں ترجمہ کیا گیا ہے کہ یرفعہ کی ضمیر فاعل عمل صالح کی طرف راجع ہو اور ضمیر مفعول کلم طیب کی طرف اور معنی یہ ہوں کہ کلم طیب اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتے ہیں مگر ان کے چڑھانے کا ذریعہ عمل صالح ہوتا ہے۔ جمہور ائمہ تفسیر ابن عباس، حسن بصری، ابن جبیر، مجاہد ضحاک، شہر بن جوشب وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور اللہ کی طرف چڑھنے اور چڑھانے سے مراد اللہ کے نزدیک مقبول ہونا ہے۔ اس لئے خلاصہ اس جملے کا یہ ہوگا کہ کلم طیب خواہ کلمہ توحید ہو یا دوسرے اذکار تسبیح وتحمید وغیرہ ان میں سے کوئی چیز بغیر عمل صالح کے عند اللہ مقبول نہیں ہوتی۔ اس میں عمل صالح کا اہم جز، تصدیق قلبی ہے یعنی دل سے اللہ پر اور اس کی توحید پر ایمان لانا یہ تو مطلقاً قبولیت اعمال کی شرط لازم ہے، اس کے بغیر نہ کلمہ لا الہ الا اللہ مقبول ہے نہ کوئی دوسرا ذکر۔
اور عمل صالح کے دوسرے اجزاء نماز، روزہ وغیرہ اعمال صالحہ اور محرمات و مکروہات سے پرہیز ہے۔ یہ اگرچہ مطلقاً قبولیت کی شرط نہیں، مگر قبولیت نامہ کی شرط یہ اعمال بھی ہیں۔ تو اگر ایک شخص دل میں ایمان و تصدیق ہی نہیں رکھتا تو وہ کتنا بھی زبان سے کلمہ توحید پڑھے اور تسبیح وتحمید کرے اللہ کے نزدیک اس کو کوئی حصہ قبولیت کا حاصل نہ ہوگا اور جو تصدیق و ایمان تو رکھتا ہے مگر دوسرے اعمال صالحہ نہیں کرتا یا ان میں کوتاہی کرتا ہے اس کا ذکر اللہ اور کلمہ توحید بالکل ضائع تو نہیں ہوگا صرف اتنا کام دے گا کہ ہمیشہ کے عذاب سے اس کو نجات مل جائے گی، مگر مکمل قبولیت اس کو حاصل نہیں ہوگی جس کا یہ اثر ہوگا کہ بقدر اپنے ترک عمل کے اور کوتاہی کے عذاب بھگتے گا۔
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قول کو بغیر عمل کے اور کسی قول و عمل کو بغیر نیت کے اور کسی قول و عمل اور نیت کو بغیر مطابقت سنت کے قبول نہیں کرتا۔ (قرطبی)
اس سے معلوم ہوا کہ مکمل قبولیت کی شرط سنت کے مطابق ہونا ہے، اگر قول بھی عمل بھی اور نیت بھی، یہ سب درست بھی ہوں مگر طریقہ عمل سنت کے مطابق نہ ہو تو قبولیت نامہ حاصل نہیں ہوگی۔
اور بعض مفسرین نے اس جملہ کی ترکیب نحوی یہ قرار دی ہے کہ یرفعہ کی ضمیر فاعل کلم طیب کی طرف اور ضمیر مفعول عمل صالح کی طرف راجع ہے۔ اس صورت میں معنی جملہ کے پہلے سے بالکل مختلف یہ ہوگئے کہ کلم طیب یعنی ذکر اللہ عمل صالح کو چڑھاتا اور اٹھاتا ہے، یعنی قابل قبول بناتا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوگا کہ جو شخص عمل صالح کے ساتھ ذکر اللہ بھی بکثرت کرتا ہے تو یہ ذکر اللہ اس کے عمل کو مزین اور قابل قبول بنا دیتا ہے۔
اور حقیقت یہی ہے کہ جس طرح صرف کلمہ توحید اور تسبیحات بغیر عمل صالح کے کافی نہیں اسی طرح عمل صالح اور امر و نواہی کی پابندی بھی بغیر کثرت ذکر اللہ کے بےرونق رہتی ہے، ذکر اللہ کی کثرت ہی اعمال صالحہ کو مزین کر کے قابل قبول بناتی ہے۔
Ayah 35:11(آیت) وما یعمرمن معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتاب، اس آیت کا مفہوم جمہور مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو عمر طویل عطا فرماتے ہیں وہ پہلے ہی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اسی طرح جس کی عمر کم رکھی جاتی ہے وہ بھی سب لوح محفوظ میں پہلے ہی درج ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ یہاں عمر کا طول اور نقص فرد واحد کے متعلق مراد نہیں، بلکہ کلام نوع انسانی کے متعلق ہے کہ اس کے کسی فرد کو عمر طویل دی جاتی ہے کسی کو اس سے کم یہ تفسیر حضرت عباس سے ابن کثیر نے نقل کی ہے۔ حصاص نے حسن بصری اور ضحاک کا یہی قول نقل کیا ہے، اسی لئے ابن جریر، ابن کثیر، روح المعانی وغیرہ عام تفاسیر میں اسی کو جمہور کی تفسیر قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے اگر عمر کی کمی زیادتی کو ایک ہی شخص کے متعلق کہا جائے تو عمر میں کمی کرنے کا یہ مطلب ہے کہ ہر شخص کی جو عمر اللہ تعالیٰ نے لکھ دی ہے وہ یقینی ہے اور جو دن گذرتا ہے اس مقررہ مدت عمر میں سے ایک دن کی کمی کردیتا ہے، دو دن گذرتے ہیں تو دو کم ہوجاتے ہیں، اسی طرح ہر دن بلکہ ہر سن اس کی عمر کو گھٹاتا رہتا ہے۔ یہ تفسیر شعبی، ابن جبیر، ابومالک، ابن عطیہ اور سدی سے منقول ہے (روح) اسی مضمون کو اس شعر میں ادا کیا گیا ہے۔
”یعنی تیری زندگی چند گنے ہوئے سانسوں کا نام ہے تو جب بھی ایک سانس گذراتا ہے تیری عمر کا ایک جز گھٹ جاتا ہے۔“
امام نسائی نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت انس بن مالک سے یہ روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا۔ من سرہ ان یبسط لہ فی رزقہ وینساء فی اثرہ فلیصل رحمہ بخاری، مسلم، ابوداؤد نے بھی یہ حدیث یونس بن یزید ایلی کی روایت سے نقل کی ہے۔ معنی حدیث کے یہ ہیں کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت اور عمر میں زیادتی ہو تو اس کو چاہئے کو صلہ رحمی کرے یعنی اپنی ذی رحم رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے۔ بظاہر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صلہ رحمی سے عمر بڑھ جاتی ہے، مگر اس کا مطلب ایک دوسری حدیث نے خود واضح کردیا ہے وہ یہ ہے۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابو الدروا سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس (مضمون کا ذکر) رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا تو آپ نے فرمایا کہ (عمر تو اللہ کے نزدیک ایک ہی مقرر اور مقدر ہے جب مقررہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو کسی شخص کو ذرا بھی مہلت نہیں دی جاتی۔ بلکہ زیادتی عمر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اولاد صالح عطا فرما دیتا ہے وہ اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔ یہ شخص نہیں ہوتا ہے اور ان لوگوں کی دعائیں اس کو قبر میں ملتی رہتی ہیں (یعنی مرنے کے بعد بھی ان کو وہ فائدہ پہنچتا رہتا ہے، جو خود زندہ رہنے سے حاصل ہوتا ہے، اسی طرح گویا اس کی عمر بڑھ گئی۔ یہ دونوں روایتیں ابن کثیر نے نقل کی ہیں) خلاصہ یہ ہے کہ جن احادیث میں بعض اعمال کے متعلق یہ آیا ہے کہ ان سے عمر بڑھ جاتی ہے، اس سے مراد عمر میں برکت کا بڑھ جانا ہے۔
Ayahs 35:12–13(آیت) ومن کل یاکلون لحما طریا و تسخرجون حلیة تلبسونھا یعنی دریائے شور و شیریں دونوں سے تمہیں تازہ گوشت کھانے کو ملتا ہے، مراد اس سے مچھلی ہے۔ اس آیت میں مچھلی کو گوشت کے لفظ سے تعبیر کرنے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ مچھلی خود بخود حلال گوشت ہی اس کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں۔ بخلاف دوسرے بڑی جانوروں کے کہ جب تک ان کو اللہ کے نام پر ذبح نہ کرو وہ حلال نہیں۔ مچھلی میں شرط نہیں اس لئے وہ بنا بنایا گوشت ہے اور حلیہ کے معنی زیور کے ہیں، مراد اس سے موتی ہیں۔ آیت سے معلوم ہوا کہ موتی جس طرح دریائے شور میں پیدا ہوتے ہیں شیریں دریاؤں میں بھی ہوتے ہیں جو عام شہرت کے خلاف ہے کیونکہ معروف و مشہور یہی بات ہے کہ موتی دریائے شور (سمندر) میں پیدا ہوتے ہیں اور حقیقت یہی ہے جو قرآن کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ دونوں میں موتی پیدا ہوتے ہیں۔ البتہ شیریں دریاؤں میں بہت کم اور سمندر میں بہت زیادہ پیدا ہوتے ہیں، زیادتی کی وجہ سے یہ شہرت ہوگئی کہ موتی صرف دریائے شور سے نکلتے ہیں۔
Ayah 35:14ان تدعوھم لایسمعوا دعاء کم ولوسمعوا ما استجابوالکم یعنی یہ بت یا بعض انبیاء یا فرشتے جن کو تم خدا سمجھ کر پرستش کرتے ہو اگر ان کو مصیبت کے وقت پکارو گے تو اولاً یہ تمہاری بات سن ہی نہ سکیں گے، کیونکہ بتوں میں تو سننے کی صلاحیت ہے ہی نہیں، انبیاء اور فرشتوں میں اگرچہ صلاحیت ہے مگر نہ وہ ہر جگہ موجود ہیں نہ ہر ایک کے کلام کو سنتے ہیں۔ آگے فرمایا کہ اگر بالفرض وہ سن بھی لیں جیسے فرشتے اور انبیاء تو پھر بھی وہ تمہاری درخواست پوری نہ کریں گے۔ کیونکہ ان کو خود قدرت نہیں اور اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس سے کسی کی سفارش نہیں کرسکتے۔
سماع موتی کا مسئلہ جو پہلے گذر چکا ہے اس آیت سے نہ اس کا اثبات ثابت ہوتا ہے نہ نفی، اس بحث کے دلائل دوسرے ہیں جن کا ذکر سورة روم میں مفصل آ چکا ہے۔
Ayahs 35:15–17خلاصہ تفسیر
اے لوگو تم (ہی) خدا کے محتاج ہو اور اللہ (تو) بےنیاز (اور خود تمام) خوبیوں والا ہے (پس تمہاری احتیاج دیکھ کر تمہارے لئے توحید وغیرہ کی تعلیم کی گئی ہے، اگر تم نہیں مانو گے تو تم اپنا ضرر کرو گے۔ باقی حق تعالیٰ کو تو بوجہ غنائے ذاتی و کمال ذاتی کے تمہاری یا تمہارے عمل کی کوئی حاجت ہی نہیں کہ اس کے ضرر کا احتمال ہو اور کفر یہ جو ضرر ہونے والا ہے خدا تعالیٰ اس کے فی الحال ایقاع پر بھی قادر ہے چنانچہ) اگر وہ چاہے تو (تمہارے کفر کی سزا میں) تم کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق پیدا کر دے (جو تمہاری طرح کفر و انکار نہ کریں) اور یہ بات خدا کو کچھ مشکل نہیں (لیکن بمصلحت مہلت دے رکھی ہے۔ غرض یہاں تو وہ ضرر محض محتمل الوقوع ہے، لیکن قیامت میں وہ ضرور واقع ہوجائے گا) اور (اس وقت یہ حالت ہوگی کہ) کوئی دوسرے کا بوجھ (گناہ کا) نہ اٹھاوے گا اور (خود تو کوئی کسی کی کیا رعایت کرتا یہ حالت ہوگی کہ) اگر کوئی بوجھ کا لدا ہوا (یعنی کوئی گنہگار) کسی کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گا (بھی) تب بھی اس میں سے کچھ بھی بوجھ نہ ہٹایا جائے گا، اگرچہ وہ شخص (جس کو اس نے بلایا تھا اس کا) قرابت دار ہی (کیوں نہ) ہو (پس اس وقت پورا ضرر اس کفر و بدعملی کا خود ہی بھگتنا پڑے گا، یہ تو تحزیر منکرین کی ہوگئی۔ آگے حضور ﷺ کا تسلیہ ہے، کہ اے محمد ﷺ آپ ان کے انکار پر جس کی سزا یہ ایک دن ضرور بھگتیں گے اس قدر غم و افسوس کیوں کرتے ہیں) آپ تو (ایسا ڈرانا جس پر نفع مرتب ہو) صرف ایسے لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں (مراد اس الذین سے مومنین ہیں، یعنی آپ کے انداز سے صرف مومنین منتفع ہوتے ہیں فی الحال ہوں یا باعتبار آئندہ کے اور امر مشترک دونوں میں طلب حق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ طالب حق کو نفع ہوا کرتا ہے یہ لوگ طالب حق ہیں ہی نہیں، ان سے امید نہ رکھئے) اور (آپ ان کے ایمان نہ لانے سے اس قدر فکر کیوں کرتے ہیں) جو شخص (ایمان لا کر شرک و کفر سے) پاک ہوتا ہے وہ اپنے (نفع) کے لئے پاک ہوتا ہے اور (جو نہیں ایمان لاتا وہاں بھگتے گا، کیونکہ سب کو) اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے (پس نفع ہے تو ان کا آپ کیوں غم کرتے ہیں) اور (ان لوگوں سے کیا توقع رکھی جائے کہ ان کا علم و ادراک مثل ادراک مؤمنین کے ہو، اور مؤمنین کی طرح یہ بھی حق کو قبول کرلیں اور قبول حق کے ثمرات دینی میں بھی یہ لوگ شریک ہوجائیں، کیونکہ مؤمنین کی مثال حق بینی میں بین آدمی کی سی اور ان کی مثال عدم ادراک حق میں اندھے آدمی کی سی ہے اور اس طرح مومن نے ادراک کے ذریعہ سے جس طریق ہدایت کو اختیار کیا ہے اس طریقہ حق کی مثال نور کی سی ہے اور کافر نے عدم ادراک حق سے جس طریقہ کو اختیار کیا ہے اس کی مثال ظلمت کی سی ہے کما قال تعالیٰ (آیت) وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منھا اور اسی طرح جو ثمرہ جنت وغیرہ اس طریق پر مرتب ہوگا اس کی مثال ظل بار کی سی ہے اور جو ثمرہ جہنم وغیرہ طریق باطل پر مرتب ہوگا، اس کی مثال جلتی دھوپ کی سی ہے، کماقال تعالیٰ (آیت) ظلم ممدو دالی قولہ فی مسموم اور ظاہر ہے کہ) اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں اور نہ تاریکی اور روشنی اور چھاؤں اور دھوپ (پس نہ ان کا اور مومنین کا علم و ادراک برابر ہوگا اور نہ ان کا طریقہ اور نہ اس طریقہ کا ثمرہ اور (مومن اور کافر میں جو تفاوت بینا و نابینا کا سا کہا گیا ہے تو اس سے مقصود نفی کمی کی ہے نہ کہ زیادتی کی۔ کیونکہ ان میں تفاوت مردہ اور زندہ کا سا ہے، پس ان کی برابری کی نفی کے لئے یوں بھی کہنا صحیح ہے کہ) زندے اور مردے برابر نہیں ہو سکتے (اور جب یہ مردے ہیں تو مردوں کو زندہ کرنا تو خدا کی قدرت میں ہے بندہ کی قدرت میں نہیں۔ پس اگر خدا ہی نے ان کو ہدایت کردی تب تو اور بات ہے، کیونکہ) اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے (باقی آپ کی کوشش سے یہ لوگ حق کو قبول نہیں کریں گے، کیونکہ ان کی مثال تو مردوں کی آپ نے سن لی اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں (مدفون) ہیں۔ (لیکن اگر یہ نہ مانیں تو آپ غم میں نہ پڑیئے کیونکہ) آپ تو (کافروں کے حق میں) صرف ڈرانے والے ہیں (آپ کے ذمہ یہ نہیں کہ وہ کافر ڈر کر مان بھی جائیں اور یہ ڈرانا آپ کا اپنی طرف سے نہیں جیسا منکرین نبوت کہتے تھے بلکہ ہماری طرف سے ہے کیونکہ) ہم ہی نے آپ کو (دین) حق دے کر (مسلمانوں کو) خوشخبری سنانے والا اور (کافروں کو) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے اور (یہ بھیجنا کوئی انوکھی بات نہیں جیسا کافر کہتے تھے بلکہ) کوئی ایسی امت نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے والا (یعنی پیغمبر نہ گذرا ہو اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا دیں تو (آپ ان گزشتہ پیغمبروں کا جن کا ابھی اجمالاً ذکر ہوا ہے اور تفصیلاً دوسری آیات میں ذکر ہے کافروں کے ساتھ معاملہ یاد کر کے اپنے دل کو سمجھا لیجئے کیونکہ) جو لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ہیں انہوں نے بھی (اپنے وقت کے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا (اور) ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر معجزے اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے، (یعنی بعضے صحائف اور بعضی بڑی کتابیں اور بعضے صرف معجزات تصدیق نبوت کے لئے اور احکام انبیاء سابقین لے کر آئے) پھر (جب انہوں نے جھٹلایا تو) میں نے ان کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھو) میرا کیسا عذاب ہوا (اسی طرح ان کے قوت پر ان کو سزا دوں گا۔)
Ayahs 35:18–21معارف و مسائل
(آیت) ولا تزر وازرة وزر اخری، یعنی قیامت کے روز کوئی آدمی دوسرے آدمی کے گناہوں کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا، ہر ایک کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑے گا۔ اور سورة عنکبوت میں جو آیا ہے کہ ولیحملن اثقالہم واتقالاً مع اثقالہم، یعنی گمراہ کرنے والے لوگ اپنے گمراہ ہونے کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اتنا ہی دوسرا بوجھ اس کا اٹھائیں گے کہ انہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن کو گمراہ کیا تھا ان کا بوجھ یہ لوگ کچھ ہلکا کر دینگے، بلکہ ان کا بوجھ اپنی جگہ پر ان پر پورا ہوگا، اور گمراہ کرنے والوں کا جرم دوہرا ہونے کی وجہ سے ان کا بوجھ بھی دوہرا ہوجائے گا۔ ایک گمراہ ہونے کا دوسرا دوسروں کو گمراہ کرنے کا۔ اس لئے ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں۔ (روح)
Ayahs 35:22–26(آیت) وما انت بمسمع من فی القبور، اس آیت کے شروع میں کفار کی مثال مردوں سے اور مومنین کی زندوں سے دی گئی ہے۔ اسی کی مناسبت سے یہاں من فی القبور سے مراد کفار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے ان زندہ کافروں کو بھی نہیں سنا سکتے۔
اس آیت نے خود یہ بات واضح کردی کہ یہاں سنانے سے مراد وہ سنانا ہے جو مفید وموثر اور نافع ہو، ورنہ مطلق سنانا تو کفار کو ہمیشہ ہوتا ہی رہا، اور مشاہدہ میں آتا رہا ہے کہ ان کو تبلیغ کرتے اور وہ سنتے تھے۔ اس لئے مراد اس آیت کی یہ ہے کہ جس طرح آپ مردوں کو کلام حق سنا کر راہ حق پر نہیں لا سکتے کیونکہ وہ دنیا کے دارالعمل سے آخرت کے دار الجزاء میں منتقل ہوچکے ہیں، وہاں اگر وہ ایمان کا اقرار بھی کرلیں تو معتبر نہیں، اسی طرح کفار کا حال ہے اس سے ثابت ہوا کہ مردوں کے سنانے کی جو نفی اس آیت میں کی گئی ہے اس سے مراد خاص اسماع نافع ہے جس کی وجہ سے سننے والا باطل کو چھوڑ کر حق پر آجائے۔ اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ مسئلہ سماع مولیٰ سے اس آیت کا کوئی تعلق نہیں، یہ مسئلہ اپنی جگہ مستقل ہے کہ مردے زندوں کا کلام سنتے ہیں یا نہیں۔ اس کی مفصل تحقیق سورة روم میں اور سورة نمل میں گزر چکی ہے۔
Ayah 35:27خلاصہ تفسیر
(اے مخاطب) کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے (پانی) کے ذریعہ مختلف رنگتوں کے پھل لگائے (خواہ اس طرح کہ ان کی انواع و اقسام ہی الگ الگ ہوں یا ایک ہی نوع اور ایک ہی قسم کے پھل مختلف رنگتوں کے ہوں) اور (اسی طرح) پہاڑوں کے بھی مختلف حصے ہیں (بعضے) سفید اور (بعضے) سرخ کہ (پھر خود) ان (سفید وسرخ کی) بھی رنگتیں مختلف ہیں (بعض بہت سفید اور بہت سرخ، بعض ہلکے سفید اور ہلکے سرخ) اور (بعض نہ سفید نہ سرخ بلکہ) بہت گہرے سیاہ اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپاؤں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں، (بعض اوقات اختلاف اقسام واصناف کے ساتھ یہ اختلاف رنگ ہوتا ہے، اور بعض اوقات ایک ہی قسم میں مختلف رنگ ہوتے ہیں، تو یہ جو لوگ دلائل قدرت میں غور کرتے ہیں، ان کو خدا تعالیٰ کی عظمت کا علم ہوتا ہے، اور) خدا سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو (اس کی عظمت کا) علم رکھتے ہیں (اگر علم عظمت کا محض اعتقادی اور عقلی ہے تو یہ خشیت بھی اعتقادی عقلی ہی رہے گی اور اگر علم عظمت درجہ حال تک پہنچ گیا ہے تو خشیت بھی درجہ حال کی ہوگی کہ اس کے خلاف سے طبعی نفرت و تکلیف ہونے لگے گی) واقعی اللہ تعالیٰ (سے ڈرنا فی نفسہ بھی ضروری ہے کیونکہ وہ) زبردست ہے، (کہ سب کچھ کرسکتا ہے اور اپنے مطلب کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ وہ ڈرنے والوں کے گناہوں کا) بڑا بخشنے والا ہے۔
معارف و مسائل
ربط آیات
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان آیات میں عود ہے مضمون توحید کی طرف جس کو دلائل قدرت سے مدلل کیا گیا ہے۔ اور بعض نے فرمایا ہے کہ سابقہ آیات میں لوگوں کے احوال کا مختلف ہونا اور اس کی تمثیلات بیان فرمائی ہیں، (آیت) وما یستوی الا عمیٰ والبصیر ولا الظلمت ولا النور ولا الظل ولا الحرور، یہ اسی کا مزید بیان و توضیح ہے کہ مخلوقات آلٰہیہ میں باہمی تفاوت ایک خلقی اور طبعی امر ہے، اور نباتات و جمادات تک میں موجود ہے، اور یہ اختلاف صرف صورت اور لون ہی میں نہیں بلکہ طائع میں بھی ہے۔
ثمرات مختلفاً الوانہا، ثمرات میں اختلاف الوان کو ترکیب نحوی کے اعتبار سے حال بنا کر مختلفاً منصوب ذکر فرمایا ہے۔ اور آگے پہاڑوں میں رنگتوں کا اختلاف اسی طرح انسانوں اور چوپایوں وغیرہ میں یہ اختلاف بصورت صفت بیان فرمایا ہے۔ اسی لئے مختلف مرفوع لایا گیا۔ اس میں یہ اشارہ ہوسکتا ہے کہ ثمرات کا اختلاف الوان تو ایک حال پر نہیں، وہ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے بدلتا رہتا ہے، بخلاف پہاڑوں کے اور انسانوں اور جانوروں کے کہ ان کے جو رنگ ہیں وہ عموماً قائم رہنے والے ہیں بدلتے نہیں۔
اور پہاڑوں میں جدد فرمایا، یہ جدہ کی جمع ہے، جس کے معروف معنی اس چھوٹے سے راستہ کے ہیں جس کو جادہ بھی کہا جاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے جدہ بمعنے قطعہ وحصہ قرار دیا ہے مطلب دونوں صورتوں میں پہاڑوں کے اجزاء کا مختلف الوان ہونا ہے، جن میں سب سے پہلے سفید کا اور آخر میں سیاہ کا ذکر فرمایا، درمیان میں احمر یعنی سرخ کے ذکر کے ساتھ مختلف الوانہ فرمایا اس میں اس طرف اشارہ نکل سکتا ہے کہ اصل رنگ دنیا میں دو ہی ہیں، سفید، سیاہ اور باقی رنگ اسی سفیدی اور سیاہی کے مختلف درجوں سے مرکب ہو کر بنتے ہیں۔
Ayah 35:28(آیت) کذالک انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء، اس جگہ لفظ کذلک پر جمہور کے نزدیک وقف ہے، جو اس کی علامت ہے کہ یہ لفظ پچھلے مضمون کے ساتھ متعلق ہے۔ یعنی مخلوقات کو مختلف انواع و اقسام اور مختلف الوان پر بڑی حکمت کے ساتھ بنانا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی خاص نشانی ہے۔
اور بعض روایات سے مستفاد ہوتا ہے کہ اس لفظ کا تعلق اگلے جملے سے ہے۔ یعنی جس طرح ثمرات، پہاڑ، حیوانات اور انسان مختلف رنگوں پر منقسم ہیں، اسی طرح خشیت اللہ میں بھی لوگوں کے درجات مختلف ہیں، کسی کو اس کا اعلیٰ درجہ حاصل ہے، کسی کو کم، اور مدار اس کا علم پر ہے جس درجہ کا علم ہے اسی درجہ کی خشیت بھی ہے۔ (روح)
سابقہ آیات میں ارشات فرمایا تھا (انما تنذر الذین یخشون ربہم بالغیب) جس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لئے فرمایا تھا کہ آپ کے انداز و تبلیغ کا فائدہ تو صرف وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو غائبانہ اللہ تعالیٰ سے خوف و خشیت رکھتے ہیں، اس کی مناسبت سے آیت (آیت) انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو اللہ تعالیٰ کی خشیت حاصل ہے۔ اور جیسا پہلے کفار و منکرین کا اور ان کے احوال کا ذکر آیا ہے، اس میں خاص اولیاء اللہ کا ذکر ہے۔ لفظ انما عربی زبان میں حصر بیان کرنے کے لئے آتا ہے، اس لئے اس جملے کے معنی بظاہر یہ ہیں کہ صرف علماء ہی اللہ سے ڈرتے ہیں مگر ابن عطیہ وغیرہ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ حرف انما جیسے حصر کے لئے آتا ہے ایسے ہی کسی کی خصوصیت کے بیان کرنے کے لئے بھی مستعمل ہوتا ہے، اور یہاں یہی مراد ہے کہ خشیة اللہ علماء کا وصف خاص اور لازم ہے۔ یہ ضرور نہیں کہ غیر عالم میں خشیة نہ ہو (بحر محیط، ابو حیان)
اور آیت میں لفظ علماء سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ جل شانہ، کی ذات وصفات کا کماحقہ علم رکھتے ہیں، اور مخلوقات عالم میں اس کے تصرفات پر اور اس کے احسانات و انعامات پر نظر رکھتے ہیں۔ صرف عربی زبان یا اس کے صرف و نحو اور فنون بلاغت جاننے والوں کو قرآن کی اصطلاح میں عالم نہیں کہا جاتا جب تک اس کو اللہ تعالیٰ کی معرفت مذکورہ طریق پر حاصل نہ ہو۔
حسن بصری نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ عالم وہ شخص ہے جو خلوت و جلوت میں اللہ سے ڈرے، اور جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ہے وہ اس کو مرغوب ہو اور جو چیز اللہ کے نزدیک مبغوض ہے اس کو اس سے نفرت ہو۔
اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا۔
”یعنی بہت سی احادیث یاد کرلینا یا بہت باتیں کرنا کوئی علم نہیں بلکہ علم وہ ہے جس کے ساتھ اللہ کا خوف ہو“
حاصل یہ ہے کہ جس قدر کسی میں خدائے تعالیٰ کا خوف ہے وہ اسی درجہ کا عالم ہے۔ اور احمد بن صالح مصری نے فرمایا کہ خشیتہ اللہ کو کثرت روایت اور کثرت معلومات سے نہیں پہچانا جاسکتا بلکہ اس کو کتاب و سنت کے اتباع سے پہچانا جاتا ہے۔ (ابن کثیر)
شیخ شہاب الدین سہروردی نے فرمایا کہ اس آیت میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ جس شخص میں خشیت نہ ہو وہ عالم نہیں (مظہری) اس کی تصدیق اکابر سلف کے اقوال سے بھی ہوتی ہے۔
حضرت ربیع بن انس نے فرمایا
”یعنی جو اللہ سے نہیں ڈرتا وہ عالم نہیں“
اور مجاہد نے فرمایا
”یعنی عالم تو صرف وہی ہے جو اللہ سے ڈرے“
سعد بن ابراہیم سے کسی نے پوچھا کہ مدینہ میں سب سے زیادہ فقیہ کون ہے ؟ تو فرمایااتقاہم لربہ ”یعنی جو اپنے رب سے زیادہ ڈرانے والا ہو“
اور حضرت علی مرتضیٰ نے فقیہ کی تعریف اس طرح فرمائی
”فقیہ مکمل فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس بھی نہ کرے اور ان کو گناہوں کی رخصت بھی نہ دے اور ان کو اللہ کے عذاب سے مطمئن بھی نہ کرے، اور قرآن کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کی طرف رغبت نہ کرے، (اور فرمایا) اس عبادت میں کوئی خیر نہیں جو بےعلم کے ہو اور اس علم میں کوئی خیر نہیں جو بےقصہ یعنی بےسمجھ بوجھ کے ہو اور اس قرات میں کوئی خیر نہیں جو بغیر تدبر کے ہو“
مذکورہ تصریحات سے یہ شبہ بھی جاتا رہا کہ بہت سے علماء کو دیکھا جاتا ہے کہ ان میں خدا کا خوف و خشیت نہیں۔ کیونکہ تصریحات بالا سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک صرف عربی جاننے کا نام علم اور جاننے والے کا نام عالم نہیں جس میں خشیت نہ ہو وہ قرآن کی اصطلاح میں عالم ہی نہیں۔ البتہ خشیت کبھی صرف اعتضادی اور عقلی ہوتی ہے جس کی وجہ سے آدمی بہ تکلف احکام شرعیہ کا پابند ہوتا ہے، اور کبھی یہ خشیتہ حالی اور ملکہ راسخہ کے درجہ میں ہوجاتی ہے جس میں اتباع شریعت ایک تقاضائے طبیعت بن جاتا ہے۔ خشیت کا پہلا درجہ ماموربہ اور عالم کے لئے ضروری ہے دوسرا درجہ افضل واعلیٰ ہے ضروری نہیں۔ (از بیان القرآن)