Ayahs 34:1–2خلاصہ تفسیر
تمام تر حمد (وثنا) اسی اللہ کو سزاوار ہے، جس کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور کچھ زمین میں ہے (جس طرح وہ فی الحال مستحق حمد ہے اسی طرح) اسی کو حمد (وثناء) آخرت میں (بھی) سزاوار ہے (اس کا ظہور اس طرح ہوگا کہ اہل جنت، جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد ان الفاظ میں کریں گے، (آیت) الحمد للہ الذی ھدانا لہٰذا، الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن، الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ، وغیرہ) اور وہ حکمت والا ہے (کہ آسمان و زمین کی تمام مخلوقات کو بیشمار مصالح اور منافع پر مشتمل بنایا ہے، اور وہ) خبردار (بھی) ہے (کہ ان مصالح اور منافع کو پیدا کرنے سے پہلے سے جانتا ہے، ہر چیز میں مصالح اور منافع بڑی حکمت کے ساتھ رکھ دیئے اور وہ ایسا خبیر ہے کہ) وہ سب کچھ جانتا ہے جو چیز زمین کے اندر داخل ہوتی ہے (مثلاً بارش کا پانی) اور جو چیز اس میں سے نکلتی ہے (مثلاً درخت اور عام نباتات) اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے (مثلاً فرشتے جو آسمان سے اترتے ہیں اور چڑھتے رہتے ہیں، اور مثلاً احکام شرعیہ جو آسمان سے اتارے جاتے ہیں اور اعمال صالحہ جو آسمان میں لے جائے جاتے ہیں) اور (چونکہ ان سب چیزوں میں جسمانی یا روحانی منافع ہیں جن کا مقتضا یہ ہے کہ سب لوگ پورا شکر ادا کریں اور جو کوتاہی کرے وہ مستحق سزا ہو، لیکن وہ (اللہ) رحیم (اور) غفور (بھی) ہے، (اور اپنی رحمت سے صغیرہ گناہ کو نیک اعمال سے اور کبیرہ کو توبہ سے، اور کبھی دونوں قسم کے گناہوں کو محض اپنے اپنے فضل سے معاف فرما دیتا ہے۔ اور جو گناہ کفر و شرک کی حد تک پہنچ جائے اس کو ایمان لانے سے معاف کردیتا ہے)۔
Ayah 34:3خلاصہ تفسیر
اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہ آئے گی، آپ فرما دیجئے کہ کیوں نہیں (آویگی) قسم اپنے پروردگار عالم الغیب کی کہ وہ ضرور تم پر آوے گی (اس کا علم ایسا وسیع اور محیط ہے کہ) اس (کے علم) سے کوئی ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ آسمانوں میں نہ زمین میں (بلکہ سب اس کے علم میں حاضر ہیں) اور نہ کوئی چیز اس (مقدار مذکور) سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی چیز (اس سے) بڑی ہے مگر یہ سب (بوجہ احاطہ علم الٰہی کے) کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (مرقوم) ہے (قیامت کے متعلق کفار کے کئی شہبات تھے، ایک یہ کہ اگر آنے والی ہے تو اس کا وقت بتلایئے، کما قال تعالیٰ (آیت) ایان مرسہا، دوسرا یہ کہ جن اجزاء کو جمع کر کے ان میں حیات پیدا کرنا بتلایا جاتا ہے، اس کا کہیں نشان بھی نہ رہے گا پھر جمع کیسے ہوں گے ؟
اس مضمون اثبات علم غیب سے شبہ اول کا جواب ہوگیا، کہ اس کا علم بوجہ حکمت کے مختص ہے باری تعالیٰ کے ساتھ، اگر نبی کو اس کا معین وقت معلوم نہ ہو تو لازم نہیں آتا کہ اس کا وقوع ہی نہ ہو، کما قال تعالیٰ (آیت) قل انما علمہا عند اللہ اور مضمون اثبات علم محیط سے دوسرے شبہ کا جواب ہوگیا ہے کہ ان تمام اجزاء کے زمین میں منتشر اور ہوا میں پھیل جانے کے باوجود وہ ہمارے علم سے خارج نہ ہوں گے، ہم جب چاہیں گے جمع کرلیں گے کما قال تعالیٰ (آیت) افلم یروا الخ، اب قیامت کی غایت بتلاتے ہیں کہ وہ قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ ان لوگوں کو صلہ (نیک) دے جو ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک کام کیا تھا (سو) ایسے لوگوں کے لئے مغفرت اور (بہشت میں) عزت کی روزی ہے، اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے متعلق (ان کے ابطال کی) کوشش کی تھی (نبی کو) ہرانے کے لئے (گو اس کوشش میں ناکام ہی رہے) ایسے لوگوں کے واسطے سختی کا دردناک عذاب ہوگا اور (آیات قرآنیہ کی تکذیب پر یہ سزا ہونی ہی چاہئے، کیونکہ اول تو قرآن فی نفسہ امر حق منزل من اللہ ہے اور ایسے امر حق کی تکذیب خود حق تعالیٰ کی تکذیب ہے، اس پر جتنی سزا ہو بجا ہے۔ دوسرے قرآن راہ راست کی تعلیم و ہدایت کرتا ہے، جو شخص اس کو نہ مانے گا وہ راہ راست سے قصداً دور رہے گا، نہ اس کو عقائد حقہ کا پتہ لگے گا نہ اعمال صالحہ کا اور یہی طریقہ تھا نجات کا۔ پس طریقہ نجات سے قصداً دور رہنے پر سزا کا ہونا بےجا نہیں ہے، اور قرآن کا حق اور ہادی ہونا ایسا واضح ہے کہ علاوہ اس کے اور دلائل سے ثابت ہے۔ ایک سہل طریق اس کے ثبوت کا یہ ہے کہ) جن لوگوں کو (آسمانی کتابوں کا) علم دیا گیا ہے وہ اس قرآن کو جو کہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس بھیجا گیا ہے ایسا سمجھتے ہیں کہ وہ حق ہے اور وہ خدائے غالب محمود (کی رضا) کا راستہ بتلاتا ہے (اس استدلال کی تقریر شروع رکوع اخیر سورة شعراء میں گزر چکی ہے۔ اور شاید منجملہ جمیع امور واجبة الایمان کے، بیان حقیقت قرآن کا اہتمام اس لئے فرمایا ہو کہ یہ ان امور واجبۃ الایمان پر مشتمل ہے بالخصوص خبر قیامت پر جس میں اس مقام میں کلام ہے۔ پس اس بنا پر حاصل یہ ہوا کہ قیامت کے روز اسی قیامت کی تکذیب پر بھی سزا ہوگی) اور (آگے پھر قیامت کا اثبات ہے یعنی) یہ کافر (آپس میں) کہتے کہ کیا ہم تم کو ایک ایسا آدمی بتائیں جو تم کو یہ (عجیب) خبر دیتا ہے کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو (اس کے بعد قیامت کو) تم ضرور ایک نئے جنم میں آؤ گے معلوم نہیں اس شخص نے خدا پر (قصداً) جھوٹ بہتان باندھا ہے یا اس کو کسی طرح کا جنون ہے (کہ بلاقصد جھوٹ بول رہا ہے، کیونکہ یہ امر تو محال ہے تو اس کے وقوع کی خبر ضرور غلط ہے، خواہ قصد سے ہو یا فساد تخیل سے ہو۔ حق تعالیٰ ان دونوں شقوں کو رد فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی تو مفتری اور مجنون کچھ بھی نہیں) بلکہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے (وہی) عذاب اور دور دراز گمراہی میں (مبتلا) ہیں، (اس گمراہی کا حالی اثر یہ ہے کہ سچے بھی مفتری اور مجنون نظر آتے ہیں، اور مالی اثر یہ ہے کہ عذاب بھگتنا پڑے گا۔ اور یہ جاہل جو اس جمع واحیاء اجزاء متفرقہ جمادیہ کو محال بعید از قدرت سمجھ رہے ہیں) تو کیا انہوں نے (دلائل عظمت قدرت آلہیہ میں سے) آسمان اور زمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے آگے (بھی) اور ان کے پیچھے (بھی) موجود ہیں (کہ جدھر دیکھیں وہ نظر آ رہے ہیں۔ پس ان اجرام عظیمہ کا ابتداً پیدا کرنیوالا کیا اجسام صغیرہ کے ثانیاً پیدا کرنے پر قادر نہیں، کما قال تعالیٰ لخلق السموٰت والارض اکبر من خلق الناس الخ۔ اور باوجود وضوح دلائل حق کے پھر بھی اکار وعناد کرنے کی وجہ سے یہ ہیں تو اس قابل کہ ان کو ابھی سزا دی جائے اور سزا بھی ایسی کہ یہ دلائل قدرت آسمان و زمین جو ان کے لئے نعمت عظیمہ بھی ہیں انہی کو ان کے آلہ تعذیب بنادیا جائے کہ جس نعمت کا کفران ہو اسی نعمت کو نقمت یعنی عذاب بنانے سے سخت حسرت ہوتی ہے۔ اور ہم اس سزا پر بھی قادر ہیں چنانچہ) اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا (اگر چاہیں تو) ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں (لیکن حکمت مقتضی ہے تاخیر کو، اس لئے مہلت دے رکھی ہے، غرض ان لوگوں کو دفع تو ہم استحالہ کے لئے آسمان و زمین پر نظر کرنا چاہئے کیونکہ) اس (دلیل مذکور) میں (قدرت آلہیہ) کی پوری دلیل ہے (مگر) اس بندہ کے لئے جو (خدا کی طرف) متوجہ (بھی) ہو (اور حق کی طلب ہو یعنی دلیل تو کافی ہے مگر ان کی طرف سے طلب نہیں اس لئے محروم ہیں)۔
معارف و مسائل
عالم الغیب، یہ صفت رب کی ہے جس کی اوپر قسم کھائی گئی ہے، اور اللہ جل شانہ، کی تمام صفات میں سے اس جگہ صفت علم غیب وعلم محیط کو شاید اس لئے خاص کیا گیا کہ کلام منکرین قیامت کے معاملہ میں ہے، اور قیامت کے انکار کا بڑا سبب کفار کے لئے یہ تھا کہ جب سب انسان مر کر مٹی ہوجائیں گے اور اس مٹی کے ذرات بھی دنیا میں منتشر ہوجائیں گے تو سارے جہان میں پھیلے ہوئے ذرات کو جمع کرنا پھر ہر ایک انسان کے ذرات کو دوسرے انسانوں کے ذرات سے الگ کر کے ہر ایک کے ذرات اسی کے وجود میں پیوست کرنا کیسے ممکن ہے ؟ اور اس کو ناممکن سمجھنا اسی بنا پر تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کو اپنے علم وقدرت پر قیاس کر رکھا تھا۔ حق تعالیٰ نے بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کا علم سارے عالم پر ایسا محیط ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے اس کو سب معلوم ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے، کوئی ذرہ مخلوقات کا اس کے علم سے باہر نہیں، اور یہ علم محیط حق تعالیٰ کی خصوصیت ہے کسی مخلوق کو خواہ فرشتہ ہو یا پیغمبر ایسا علم محیط کہ کوئی ذرہ جہاں کا اس سے خارج نہ ہو حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور جس ذات کو ایسا علم محیط حاصل ہو اس کے لئے ایک انسان کے ذرات کو الگ الگ سارے جہان میں سے جمع کرلینا اور اس سے ان کے اجسام کو دوبارہ مرکب کردینا کیا مشکل ہے۔
Ayah 34:4لیجزی الذین امنوا، اس جملہ کا تعلق اس سے پہلے جملے لتاتینکم سے ہے، یعنی قیامت ضرور آئے گی، اور قیامت آنے کا مقصد یہ ہوگا کہ ایمان والوں کو جزاء اور بہترین رزق جنت کا دیا جائے
Ayah 34:5اور ان کے مقابل (آیت) الذین سعوافی ایتنا، یعنی وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات پر اعتراض کئے اور لوگوں کو ان کے ماننے سے روکنے کی کوشش کی۔
معجزین یعنی ان کی یہ کوشش گویا اس لئے تھی کہ وہ ہمیں گرفت سے عاجز کردیں گے اور قیامت کی حاضری سے چھوٹ جائیں گے۔
(آیت) اولئک لہم عذاب من رجز الیم، یعنی ایسے لوگوں کے لئے عذاب ہوگا رجز الیم کا جس کے معنی سخت عذاب کے ہیں جو دردناک ہو۔
Ayah 34:6(آیت) ویری الذین اوتوا العلم، یہ منکرین قیامت کے بالمقابل ان مومنین کا ذکر ہے جو قیامت پر ایمان لائے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو علم رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا وہ اس علم سے مستفید ہوئے۔
Ayah 34:7(آیت) وقال الذین کفروا ھل ندلکم علیٰ رجل ینبکم اذا مزقتم کل ممزق انکم لفی خلق جدید، یہ کفار منکرین قیامت کا قول نقل کیا گیا ہے، جو بطور تحقیر و استہزاء کے یوں کہا کرتے تھے کہ آؤ ہم تمہیں ایک ایسے عجیب شخص کا پتہ دیں جو یوں کہتا ہے کہ جب تم پوری طرح ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے۔ اس کے بعد پھر تمہیں نئی پیدائش دی جائے گی، اور پھر تم اسی شکل و صورت میں تیار ہو کر زندہ کردیئے جاؤ گے۔
یہ بات ظاہر ہے کہ اس شخص سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں جو قیامت اور اس میں سب مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کی خبر دیتے اور لوگوں کو اس پر ایمان لانے کی تاکید کرتے تھے، اور یہ سب لوگ آپ کو پوری طرح جانتے تھے، مگر یہاں اس انداز سے ذکر کیا کہ گویا یہ آپ کے متعلق اور کچھ نہیں جانتے، بجز اس کے کہ آپ قیامت میں مردوں کے زندہ ہونے کی خبر دیتے ہیں۔ یہ طرز کلام استہزاء و تحقیر کے لئے اختیار کیا تھا۔
اور مزقتم مزق سے مشتق ہے، جس کے معنی چیزنے پھاڑنے اور ٹکڑے کرنے ہیں اور کل ممزق سے مراد بدن انسانی کا ریزہ ریزہ ہو کر الگ ہوجانا ہے، آگے آپ کے قول اور ذکر قیامت کے متعلق اپنے خیال کا اظہار اس طرح کرتے ہیں
Ayah 34:8(آیت) افتریٰ علیٰ اللہ کذباً ام بہ جنة، مطلب یہ ہے کہ جسم کے ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد سب ذرات کا جمع ہو کر پھر بدن انسانی بن جانا اور زندہ ہونا تو ایسی نامعقول بات ہے جس کو تسلیم کرنے اور ماننے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس لئے ان کا یہ قول یا تو جان بوجھ کر خدا تعالیٰ پر افتزاء و بہتان باندھنا ہے، یا پھر یہ کہنے والا مجنون ہے جس کے کلام کی کوئی بنیاد صحیح نہیں ہوتی۔
Ayah 34:9(آیت) افلم یروا الی مابین ایدیہم وما خلفہم، الایة جیسا کہ خلاصہ تفسیر سے معلوم ہوچکا ہے اس آیت میں قیام قیامت کے دلائل بھی ہیں کہ آسمان و زمین کی مخلوقات میں غور کرنے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا مشاہدہ کرنے سے وہ استبعاد رفع ہوسکتا ہے جو منکرین قیامت کو اس کی تسلیم سے مانع تھا، اور ساتھ ہی منکرین کے لئے سزا کی دھمکی بھی ہے کہ یہ آسمان و زمین کی تمام مخلوقات عظیمہ جو تمہارے لئے بڑی نعمتیں ہیں، اگر ان کے مشاہدہ کے بعد بھی تم تکذیب و انکار پر جمے رہے تو اللہ کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ انہی نعمتوں کو تمہارے لئے عذاب بنا دے کہ زمین تمہیں نگل جائے، یا آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر تم پر گر پڑے۔
Ayah 34:10خلاصہ تفسیر
اور ہم نے داؤد ؑ کو اپنی طرف سے بڑی نعمت دی تھی (چنانچہ ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا تھا کہ) اے پہاڑو ! داؤد کے ساتھ بار بار تسبیح کرو (یعنی جب یہ ذکر میں مشغول ہوں تم بھی ان کا ساتھ دو) اور (اسی طرح) پرندوں کو بھی حکم دیا (کہ ان کے ساتھ تسبیح کرو کما قال اللہ تعالیٰ (آیت) انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی ولاشراق والطیر محشورة الخ شاید اس میں ایک حکمت یہ ہو کہ ان کو ذکر میں نشاط ہوگا اور یہ بھی حکمت ہو کہ آپ کا ایک معجزہ ظاہر ہوگا اور غالباً یہ تسبیح ایسی ہوگی کہ سننے والے بھی سمجھ لیں ورنہ غیر مفہوم تسبیح تو عام ہے، اس میں معیت داؤد ؑ کی کیا تخصیص ہے کما قال تعالیٰ (آیت) وان من شئی الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم) اور (ایک نعمت یہ دے دی کہ) ہم نے ان کے واسطے لوہے کو (مثل موم کے) نرم کردیا (اور یہ حکم دیا) کہ تم (اس لوہے کی اچھی) پوری زرہیں بناؤ اور (کڑیوں کے) جوڑنے میں (مناسب) اندازہ (کا خیال) رکھو اور (جیسے ہم نے تم کو نعمتیں دی ہیں ان کے شکر میں) تم سب (یعنی داؤد ؑ اور ان کے متعلقین) نیک کام کیا کرو میں تمہارے سب کے اعمال کو دیکھ رہا ہوں (اس لئے رعایت حدود کا پورا اہتمام رکھو) اور سلیمان ؑ کے لئے ہوا کو مسخر کردیا کہ اس (ہوا) کا صبح کا چلنا مہینے بھر کی مسافت تھی اور (اسی طرح) اس کا شام کو چلنا مہینے بھر کی مسافت تھی (یعنی وہ ہوا سلیمان ؑ کو اتنی اتنی دور پہنچاتی تھی، کمال قال تعالیٰ (آیت) وسخرنا لہ الریح تجری بامرہ) اور (ایک نعمت ان کو یہ دی کہ) ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہا دیا (یعنی تانبے کو اس کے معدن میں رقیق سیال کردیا تاکہ اس سے مصنوعات بنانے میں بدون آلات کے سہولت ہو، پھر وہ منجمد ہوجاتا، یہ بھی ایک معجزہ ہے) اور (ایک نعمت یہ تھی کہ ہم نے جنات کو ان کے تابع کردیا تھا چنانچہ) جنات میں بعضے وہ تھے جو ان کے آگے (طرح طرح کے) کام کرتے تھے ان کے رب کے حکم (تسخیری سے) (یعنی چونکہ پروردگار نے مسخر کردیا تھا) اور (حکم تسخیری کے ساتھ ان کو حکم تشریعی بھی مع وعیدیہ دیا تھا کہ) ان میں جو شخص ہمارے (اس) حکم سے (کہ سلیمان ؑ کی اطاعت کرو) سرتابی کرے گا (یعنی تسلیم وانقیاد سے کام نہ کرے گا گو بوجہ تسخیر کے سلیمان ؑ سے جبراً کام لینے پر قادر ہوں گے جیسے بیگاریوں سے کام لیا جاتا ہے تو) ہم اس کو (آخرت میں) دوزخ کا عذاب چکھا دیں گے (اس سے یہ بھی مفہوم ہوا کہ جو تسلیم وانقیاد سے کام کرے گا اور پورا انقیاد یہ ہے کہ ایمان بھی اختیار کرے کیونکہ ہر نبی اپنے محکومین کو اس کا امر کرتا ہے تو بدون اس کے انقیاد نہیں پس حاصل یہ کہ جو جن ایمان و اطاعت اختیار کرے گا وہ عذاب سعیر سے محفوظ رہے گا، جیسا کہ ایمان کا مقتضا ہے آگے ان کاموں کو بتلاتے ہیں جن پر جنات مامور تھے) یعنی وہ جنات ان کے لئے وہ چیزیں بناتے جو ان کو (بنوانا) منظور ہوتا بڑی بڑی عمارتیں اور مورتیں اور لگن (ایسے بڑے) جیسے حوض اور (بڑی بڑی) دیگیں جو ایک ہی جگہ جمی رہیں (ہلائے ہل نہ سکیں اور ہم نے ان کو یہ حکم دیا کہ جیسے ہم نے تم کو نعمتیں بھی دی ہیں) اے داؤد کے خاندان والو (یعنی سلیمان ؑ اور ان کے متعلقین) تم سب (ان نعمتوں کے) شکریہ میں نیک کام کیا کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار کم ہی ہوتے ہیں (اس لئے اس شکرگزاری کرنے سے جس کا طریقہ مقصود عمل صالح ہے تم کو خلق کثیر پر امتیاز ہوجائے گا۔ پس اس جملہ میں تحریض ہوگئی شکر وعمل صالح پر، جیسے داؤد ؑ کو بھی اعملوا صالحاً حکم ہوا تھا اور اسی طرح وہاں تسخیر جبال وطیور تھی، اور یہاں تسخیر ریح وجن مذکور ہوئی اور وہاں لوہے کو نرم کردینا تھا یہاں تانبے کو، غرض زندگی بھر سلیمان ؑ کے سامنے جناب کا یہ معاملہ رہا) پھر جب ہم نے ان پر (یعنی سلیمان ؑ پر) موت کا حکم جاری کردیا، (یعنی انتقال فرما گئے) تو (ایسے طور پر موت واقع ہوئی کہ جناب کو خبر نہیں ہوئی وہ یہ کہ سلیمان ؑ موت کے قریب عصا کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس کو زیر زمین لگا کر تخت پر بیٹھ گئے اور اسی حالت میں روح قبض ہوگئی اور اسی طرح سال بھر تک بیٹھے رہے، جنات آپ کو بیٹھا دیکھ کر زندہ سمجھتے رہے، یہ کسی کی مجال نہ تھی کہ پاس جا کر یا خوب گھور کر دیکھ سکے، خصوصاً جب کوئی وجہ شبہ کی نہ ہو اور زندہ سمجھ کر بدستور کام کرتے رہے اور) کسی چیز نے ان کے مرنے کا پتہ نہ بتلایا مگر گھن کے کیڑے نے کہ وہ سلیمان ؑ کے عصا کو کھاتا تھا (یہاں تک کہ ایک حصہ اس کا کھالیا، تو وہ عصا گر پڑا، اس کے گرنے سے سلیمان ؑ گر پڑے) سو جب وہ گر پڑے (اور گھن کے کھانے کا تخمینہ لگانے سے معلوم ہوا کہ ان کو تو وفات پائے ہوئے ایک سال ہوا) تب جنات کو (اپنے دعویٰ غیب دانی کی) حقیقت معلوم ہوئی (وہ یہ کہ) اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو (سال بھر تک) اس ذلت کی مصیبت میں نہ رہتے (مراد اعمال شاقہ ہیں جن میں بوجہ محکومیت کے ذلت بھی تھی اور مشقت کی وجہ سے مصیبت بھی ہے)۔
معارف و مسائل
اوپر منکرین قیامت کفار سے خطاب تھا، جو مرنے اور جسم کے اجزاء منتشر ہوجانے کے بعد دوبارہ ان کے جمع کرنے اور ان میں حیات پیدا کرنے کو خلاف عقل سمجھ کر انکار کرتے تھے، آیات مذکورہ میں ان کا استبعاد دور کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے حضرت داؤد اور سلیمان ؑ کے قصے اس لئے ذکر فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں اسی دنیا میں ایسے کاموں کا مشاہدہ کرا دیا جن کو یہ لوگ محال سمجھا کرتے تھے، مثلاً لوہے کو موم بنادینا، ہوا کو تابع فرمان بنادینا، تانبے کو ایک سیال چیز پانی کی طرح کردینا۔
(آیت) ولقد اتینا داود منا فضلاً ، ”یعنی عطا کیا ہم نے داؤد کو اپنا فضل“ فضل کے لفظی معنی زیادتی کے ہیں، مراد وہ خاص صفات ہیں جو دوسروں سے زائد ان کو عطا کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی پیغمبر کو بعض خاص صفات امتیازی عطا فرمائی ہیں جو ان کی مخصوص فضیلت سمجھی جاتی ہے۔ حضرت داؤد ؑ کی مخصوص صفات یہ تھیں کہ ان کو اپنی نبوت و رسالت کے ساتھ پوری دنیا کی سلطنت و حکومت بھی عطا فرمائی تھی۔ اور خوش آوازی کی ایسی صفت عطا فرمائی تھی کہ جب آپ اللہ کے ذکر یا زبور کی تلاوت میں مشغول ہوتے تو پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے سننے کو جمع ہوجاتے تھے، اسی طرح متعدد معجزات خصوصی عطا ہوئے تھے جن کا ذکر آگے آتا ہے۔
یا جبال اوبی، اوبی، تاویب سے مشتق ہے، جس کے معنی دہرانے اور لوٹانے کے آتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو حکم دے دیا تھا کہ جب حضرت داؤد ؑ اللہ کا ذکر و تسبیح کریں تو پہاڑ بھی وہ کلمات پڑھ کر لوٹائیں۔
اسی طرح حضرت ابن عباس نے اوبی کی تفسیر سجی سے فرمائی ہے۔ (ابن کثیر)
یہ پہاڑوں کی تسبیح جو وہ حضرت داؤد ؑ کے ساتھ کرتے تھے اس عام تسبیح کے علاوہ ہے جس میں کل مخلوقات شریک ہیں اور جو ہر جگہ ہر وقت ہر زمانے میں جاری ہے، جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے(آیت) و ان منی شئی الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم، ”یعنی دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی تسبیح نہ پڑھتی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔“ یہاں جس تسبیح کا ذکر ہے وہ حضرت داؤد ؑ کے معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے یہ ظاہر ہے کہ اس تسبیح کو عام سننے والے بھی سنتے سمجھتے ہوں گے، ورنہ پھر معجزہ ہی نہ ہوتا۔
اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ داؤد ؑ کی آواز کے ساتھ پہاڑوں کا آواز ملانا اور تسبیح کو دہرانا یہ آواز بازگشت کے طور پر نہ تھا جو عام طور پر گنبد یا کنویں وغیرہ میں آواز دینے کے وقت آواز کے لوٹنے سے سنی جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے اس کو حضرت داؤد ؑ پر خصوصی فضل و انعام کی حیثیت میں ذکر فرمایا ہے، آواز باز گشت میں کسی کی فضیلت وخصوصیت سے کیا تعلق ہے، وہ تو ہر انسان چاہے کافر ہی ہو بازگشت کی جگہ میں اس کی آواز بھی لوٹتی ہے۔
والطیر، یہ لفظ نحوی ترکیب میں سخرنا محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (روح) معنی یہ ہیں کہ ہم نے پردوں کو حضرت داؤد ؑ کے لئے مسخر کردیا تھا، مراد اس تسخیر سے یہ ہے کہ پرندے بھی آپ کی آواز پر ہوا میں جمع ہوجاتے اور آپ کے ساتھ پہاڑوں کی تسبیح کرتے تھے، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں مذکور ہے، (آیت) انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق والطیر محشورةً ”یعنی ہم نے پہاڑوں کو داؤد ؑ کا مسخر کردیا تھا کہ صبح شام ان کے ساتھ تسبیح کیا کریں اور پرندوں کو بھی مسخر کردیا۔
Ayah 34:11(آیت) والنالہ الحدید ان اعمل سبغت وقدر فی السرد، یہ دوسرا معجزہ ہے کہ لوہے کو ان کے لئے نرم کردیا تھا۔ حسن بصری، قتادہ، اعمش وغیرہ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ کے لوہے کو ان کے لئے موم کی طرح نرم بنادیا تھا کہ اس سے کوئی چیز بنانے میں نہ ان کو آگ کی ضرورت پڑتی تھی اور نہ کسی ہتھوڑے یا دوسرے آلات کی۔ آگے آیت میں اس کا بیان ہے کہ لوہے کو ان کے لئے نرم اس لئے بنایا گیا تھا کہ وہ لوہے کی زرہ آسانی سے بنا سکیں، اور ایک دوسری آیت میں یہ بھی مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زرہ سازی کی صنعت آپ کو خود سکھائی تھی (آیت) وعلمنہ صنعة لبوس لکم، ”یعنی ہم نے سکھائی ان کو صنعت زرہ بنانے کی“ اور اس آیت میں بھی آگے جو قدر فی الشرد آیا ہے، یہ بھی اس صنعت کے سکھانے کی تکمیل ہے۔ لفظ قدر تقدیر سے مشتق ہے، جس کے معنی ایک اندازے پر بنانے کے ہیں۔ اور سرد کے لفظی معنی بننے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ زرہ کے بنانے میں اس کی کڑیوں کو متوازن اور متناسب بنائیں، کوئی چھوٹی کوئی بڑی نہ ہو، تاکہ وہ مضبوط بھی بنے اور دیکھنے میں بھی بھلی معلوم ہو۔ قدر فی السرد کی یہ تفسیر حضرت عبداللہ ابن عباس سے منقول ہے۔ (ابن کثیر)
فائدہ
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صنعت میں ظاہری خوش نمائی کی رعایت بھی پسندیدہ چیز ہے کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خاص ہدایت فرمائی۔
فائدہ دوم
بعض حضرات نے قدر فی السرد کی تفسیر میں تقدیر سے یہ مراد لیا ہے کہ اس صنعت کے لئے ایک مقدار وقت کی معین کرلینا چاہئے۔ سارے اوقات اس میں صرف نہ ہوجائیں، تاکہ عبادت اور امور سلطنت میں اس کی وجہ سے خلل نہ آئے۔ اس تفسیر پر معلوم ہوا کہ صنعت کار اور محنت کش لوگوں کو بھی یہ چاہئے کہ عبادت اور اپنی معلومات حاصل کرنے کے لئے اپنے کام سے کچھ وقت بچایا کریں اور اوقات کا انضباط رکھیں۔ (روح المعانی)
صنعت و حرفت کی بڑی فضیلت ہے
آیت مذکورہ سے ثابت ہوا کہ اشیاء ضرورت کی ایجاد و صنعت ایسی اہم چیز ہے کہ حق تعالیٰ نے خود اس کی تعلیم دینے کا اہتمام فرمایا، اور اپنے عظیم الشان پیغمبروں کو سکھلایا ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو زرہ سازی کی صنعت سکھانا اسی آیت سے ثابت ہوا، حضرت نوح ؑ کو کشتی بنانے کی صنعت اسی طرح سکھائی گئی، واصنع الفلک باعیننا ”یعنی ہمارے سامنے کشتی بناؤ“ سامنے بنانے کا مطلب یہی ہے کہ جس طرح ہم بتلاتے ہیں اسی طرح بناؤ۔ اسی طرح دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی مختلف صنعتیں سکھانا بعض روایات سے ثابت ہے۔ الطب النبوی کے نام سے ایک کتاب امام حدیث حافظ شمس الدین ذہبی کی طرف نسبت کے ساتھ چھپی ہے، اس میں تو ایک روایت یہ نقل کی ہے کہ انسانی زندگی کے لئے جتنی اہم اور ضروری صنعتیں ہیں مثلاً مکان بنانا، کپڑا بننا، درخت بونا اور اگانا، کھانے کی چیزیں تیار کرنا، حمل ونقل کے لئے پہیوں کی گاڑی بنا کر چلانا وغیرہ یہ سب ضروری صنعتیں اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے انبیاء (علیہم السلام) کو سکھلائی تھیں۔
صنعت پیشہ لوگوں کو حقیر سمجھنا گناہ ہے
عرب میں مختلف آدمی مختلف صنعتیں اختیار کرتے تھے، کسی صنعت کو حقیر یا ذلیل نہیں سمجھا جاتا تھا، اور پیشہ و صنعت کی بنیاد پر کسی شخص کو کم یا زیادہ نہ سمجھا جاتا تھا، نہ پیشوں کی بنیاد پر کوئی برادری بنتی تھی۔ پیشوں کی بنیاد پر برادریاں بنانا اور بعض پیشوں کو بحیثیت پیشہ حقیر و ذلیل سمجھنا ہندوستان میں ہندوؤں کی پیداوار ہے، ان کے ساتھ رہنے سہنے سے مسلمانوں میں بھی یہ اثرات قائم ہوگئے۔
حضرت داؤد ؑ کو صنعت زرہ سکھانے کی حکمت
تفسیر ابن کثیر میں امام حدیث حافظ ابن عساکر کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت داؤد ؑ اپنی خلافت و سلطنت کے زمانہ میں بھیس بدل کر بازاروں وغیرہ میں جاتے، اور مختلف اطراف سے آنے والے لوگوں سے پوچھا کرتے تھے کہ داؤد کیسا آدمی ہے ؟ چونکہ حضرت داؤد ؑ کی سلطنت میں عدل و انصاف عام تھا اور سب انسان آرام وعیش کے ساتھ گزارہ کرتے تھے، کسی کو حکومت سے کوئی شکایت نہ تھی، اس لئے جس سے سوال کرتے وہ داؤد ؑ کی مدح وثناء اور عدل و انصاف پر اظہار شکر کرتا تھا۔
حق تعالیٰ نے ان کی تعلیم کے لئے اپنے ایک فرشتے کو بشکل انسان بھیج دیا، جب داؤد ؑ اس کام کے لئے نکلے تو یہ فرشتہ ان سے ملا حسب عادت اس سے بھی وہی سوال کیا، فرشتے نے جواب دیا کہ داؤد بہت اچھا آدمی ہے اور سب آدمیوں سے وہ اپنے نفس کے لئے بھی اور اپنی امت و رعیت کے لئے بھی بہتر ہے، مگر اس میں ایک عادت ایسی ہے کہ وہ نہ ہوتی تو وہ بالکل کامل ہوتا۔ داؤد ؑ نے پوچھا وہ عادت کیا ہے ؟ فرشتے نے کہا کہ وہ اپنا کھانا پینا اور اپنے اہل و عیال کا گزارہ مسلمانوں کے مال یعنی بیت المال میں سے لیتے ہیں۔
یہ بات سن کر حضرت داؤد ؑ نے اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف الحاح وزاری اور دعا کا اہتمام کیا کہ مجھے کوئی ایسا کام سکھا دیں جو میں اپنے ہاتھ کی مزدوری سے پورا کروں، اور اس کی اجرت سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا گزارہ کروں، اور مسلمانوں کی خدمت اور سلطنت کے تمام کام بلامعاوضہ کروں۔ ان کی دعاء کو حق تعالیٰ نے قبول فرمایا، ان کو زرہ سازی کی صنعت سکھا دی، اور پیغمبرانہ اعزازیہ دیا کہ لوہے کو ان کے لئے موم بنادیا تاکہ یہ صنعت بہت آسان ہوجائے اور تھوڑے وقت میں اپنا گزارہ پیدا کر کے باقی وقت عبادت اور امور سلطنت میں لگا سکیں۔
مسئلہ
خلیفہ وقت یا سلطان کو جو اپنا پورا وقت امور سلطنت کی انجام دہی میں صرف کرتا ہے شرعاً یہ جائز ہے کہ اپنا متوسط گزارہ بیت المال سے لے لے، لیکن کوئی دوسری صورت گزارہ کی ہو سکے تو وہ زیادہ پسند ہے۔ جیسے حضرت سلیمان ؑ پر اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کے خزانے کھول دیئے تھے، اور زر و جواہرات اور تمام اشیاء ضرورت کی بڑی فراوانی تھی، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو بیت المال کے مال میں حسب منشاء ہر تصرف کی اجازت بھی دے دی گئی تھی۔ آیت فامنن او امسک بغیر حساب میں یہ بھی اطمینان دلایا تھا کہ آپ جس طرح چاہیں خرچ کریں، آپ کے ذمہ حساب دینا نہیں ہے۔ مگر انبیاء (علیہم السلام) کو حق تعالیٰ جس مقام بلند پر رکھنا چاہتے ہیں اس کے تقاضا سے یہ واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد حضرت داؤد ؑ اتنی بڑی سلطنت کے ہوتے ہوئے اپنی مزدوری سے اپنا گزارہ پیدا کرتے اور اسی پر قناعت کرتے تھے۔
علماء جو تعلیم و تبلیغ کی خدمت مفت انجام دیتے ہوں اور قاضی و مفتی جو لوگوں کے کام میں اپنا وقت صرف کرتے ہوں ان کا بھی یہی حکم ہے کہ بیت المال سے اپنا خرچ لے سکتے ہیں، مگر کوئی دوسری صورت گزارہ کی ہو جو دینی خدمت میں خلل انداز بھی نہ ہو تو وہ بہتر ہے۔
فائدہ
حضرت داؤد ؑ کے اس طرز عمل سے کہ اپنے اعمال و عادات کے متعلق لوگوں کی رائیں بےتکلف آزادانہ معلوم کرنے کا اہتمام فرماتے تھے یہ ثابت ہوا کہ اپنے عیوب چونکہ آدمی کو خود معلوم نہیں ہوتے، اس لئے دوسروں سے تحقیق کرنا چاہئے۔ حضرت امام مالک بھی اس کا اہتمام فرماتے تھے کہ یہ معلوم کریں کہ عام لوگ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔
Ayah 34:12(آیت) ولسلیمٰن الریح غدوھا شہر و رواحھا شہر، حضرت داؤد ؑ کے خصوصی فضائل و انعامات کے ذکر کے بعد حضرت سلیمان ؑ کا ذکر فرمایا اور ارشاد ہوا کہ جس طرح حضرت داؤد ؑ کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا، اسی طرح سلیمان ؑ کے لئے ہوا کو مسخر فرما دیا تھا، اور حضرت سلیمان ؑ کے تخت کو جس پر وہ مع اپنے اہل دربار کے بڑی تعداد میں سوار ہوتے تھے، ہوا ان کے حکم کے تابع جہاں وہ چاہتے لے جاتی تھی۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ تسخیر ہوا کا معجزہ حضرت سلیمان ؑ کو اس عمل کے صلہ میں عطا ہوا تھا کہ ایک روز وہ اپنے گھوڑوں کے معائنہ میں مشغول تھے، اس میں ایسی مشغولیت ہوئی کہ عصر کی نماز قضاء ہوگئی چونکہ گھوڑے اس غفلت کا سبب ہوئے تھے، اسی سبب غفلت کو ختم کرنے کے لئے حضرت سلیمان ؑ نے ان گھوڑوں کو ذبح کر کے قربان کردیا (کیونکہ سلیمان ؑ کی شریعت میں گائے بیل کی طرح گھوڑے کی قربانی بھی جائز تھی) اور یہ گھوڑے خود حضرت سلیمان ؑ کی ملک میں تھے، اس لئے بیت المال کے نقصان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور قربانی کی وجہ سے اپنا مال ضائع کرنے کا اشکال بھی نہیں ہوتا۔ اس کی پوری تفصیل سورة ص میں آئے گی، چونکہ سلیمان ؑ نے اپنی سواری کے جانور قربان کردیئے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر سواری عطا فرما دی۔ (قرطبی)
(آیت) غدوھا شہر ورواحھا شہر، غدو کے معنی صبح کو چلنے اور رواح کے معنی شام کو چلنے کے ہیں۔ مطلب آیت کا یہ ہوا کہ صبح سے دوپہر تک یہ تخت سلیمانی ہوا کے کاندھوں پر ایک مہینہ کی مسافت طے کرلیتا تھا، اور پھر شام سے رات تک ایک مہینہ کی، اس طرح دو مہینے کی مسافت ایک دن میں طے کرتا تھا۔
حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ حضرت سلیمان ؑ صبح کو بیت المقدس سے روانہ ہوتے تو دوپہر کو اصطخر میں جا کر قیام فرماتے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے، پھر یہاں سے بعد ظہر واپس چلتے تو کا بل میں جا کر رات ہوتی تھی، اور بیت المقدس اور اصطخر کے درمیان اتنی مسافت ہے جو تیز سواری پر چلنے والا ایک ماہ میں طے کرسکتا ہے، اسی طرح اصطخر سے کا بل تک کی مسافت بھی تیز سواری پر چلنے والا ایک ماہ میں طے کرسکتا ہے۔ (ابن کثیر)
(آیت) واسلنا لہ عین القطر، یعنی بہا دیا ہم نے سلیمان ؑ کے لئے چشمہ تانبے کا، یعنی تانبے جیسی سخت دھات کو اللہ تعالیٰ نے سلیمان ؑ کے لئے پانی کی طرح بہنے والا سیال بنادیا، جو پانی کے چشمہ کی طرح جاری تھا اور گرم بھی نہ تھا، تاکہ آسانی کے ساتھ اس کے برتن اور دوسری ضروریات بنا سکیں۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ چشمہ اتنی دور تک جاری ہوا جس کی مسافت تین دن تین رات میں طے ہو سکے، اور یہ ارض یمن میں تھا۔ اور مجاہد کی روایت میں ہے کہ یہ چشمہ صنعاء یمن سے شروع ہوا اور تین دن تین رات کی مسافت تک پانی کے چشمہ کی طرح جاری رہا، خلیل نحوی نے فرمایا کہ لفظ قطر جو اس آیت میں آیا ہے اس سے مراد پگھلا ہوا تانبا ہے۔ (قرطبی)
ومن الجن من یعمل بین یدیہ، یہ جملہ بھی سخرنا محذوف سے متعلق ہے معنی یہ ہیں کہ مسخر کردیا ہم نے سلیمان ؑ کے لئے جنات میں سے ایسے لوگوں کو جو ان کے سامنے ان کے کام انجام دیں اپنے رب کے حکم کے موافق، بین یدیہ ”یعنی ان کے سامنے“ کے الفاظ بڑھانے سے شاید یہ بتلانا ہو کہ سلیمان ؑ کے لئے جنات کی تسخیر اس طرح کی نہیں جس طرح چاند سورج وغیرہ کو انسان کے لئے مسخر کرنے کا ارشاد قرآن میں آیا ہے، بلکہ یہ تسخیر ایسی تھی کہ جنات نوکروں چاکروں کی طرح ان کے سامنے مفوضہ خدمات میں لگے رہتے تھے۔
تسخیر جنات کا مسئلہ
جنات کی تسخیر جو اس جگہ مذکور ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے، اس میں تو کوئی سوال ہی نہیں ہوسکتا اور بعض صحابہ کرام کے متعلق جو روایات میں آیا ہے کہ جنات ان کے مسخر اور تابع تھے، تو یہ تسخیر بھی اسی قسم کی تسخیر باذن اللہ تھی جو بطور کرامت ان حضرات کو عطا کی گئی تھی اس میں کسی عمل و وظیفہ کا کوئی دخل نہیں تھا، جیسا کہ علامہ شربینی نے تفسیر سراج المنیر میں اس آیت کے تحت میں حضرت ابوہریرہ، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، عمر بن خطاب، ابو ایوب انصاری، زید بن ثابت وغیرہ ؓ کے متعدد واقعات ایسے لکھے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جنات ان کی اطاعت و خدمت کرتے تھے۔ مگر یہ سب محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا کہ سلیمان ؑ کی طرح کچھ جنات کو ان حضرات کا مسخر بنادیا، لیکن جو تسخیر عملیات کے ذریعہ عاملوں میں مشہور ہے وہ قابل غور ہے، کہ شرعاً اس کا کیا حکم ہے ؟ قاضی بدر الدین شبلی حنفی جو آٹھویں صدی کے علماء میں سے ہیں انہوں نے جنات کے احکام پر ایک مستقل کتاب ”آکام المرجان فی احکام الجان“ لکھی ہے۔ اس میں بیان کیا ہے کہ جنات سے خدمت لینے کا کام سب سے پہلے حضرت سلیمان ؑ نے باذن اللہ بطور معجزہ کے کیا ہے، اور اہل فارس جمشید بن اونجہان کی طرف منسوب کرتے ہیں، کہ انہوں نے جنات سے خدمت لی ہے۔ اسی طرح آصف بن برخیا وغیرہ جن کا تعلق حضرت سلیمان ؑ سے رہا ہے، ان کے متعلق بھی است خدام جن کے واقعات مشہور ہیں، اور مسلمانوں میں سب سے زیادہ شہرت ابو نصر احمد بن ہلال البکیل اور ہلال بن وصیف کی ہے جن سے است خدام جنات کے عجیب عجیب واقعات مذکور ہیں۔ ہلال بن وصیف نے ایک مستقل کتاب میں جنات کے کلمات جو انہوں نے حضرت سلیمان ؑ کے سامنے پیش کئے اور جو عہد و میثاق سلیمان ؑ نے ان سے لئے ان کو جمع کردیا ہے۔
قاضی بدرالدین نے اسی کتاب میں لکھا ہے کہ عام طور سے تسخیر جنات کا عمل کرنیوالے عاملین کلمات کفریہ شیطانیہ سے اور سحر سے کام لیتے ہیں، جن کو کافر جنات و شیاطین پسند کرتے ہیں، اور ان کے مسخر و تابع ہونے کا راز صرف یہ ہے کہ وہ ان کے اعمال کفریہ شرکیہ سے خوش ہو کر بطور رشوت کے ان کے کچھ کام بھی کردیتے ہیں، اور اسی لئے بکثرت ان عملیات میں قرآن کریم کو نجاست یا خون وغیرہ سے لکھتے ہیں جس سے کفار جن اور شیاطین راضی ہو کر ان کے کام کردیتے ہیں۔ البتہ ایک شخص ابن الامام کے متعلق لکھا ہے کہ یہ خلیفہ معتضد باللہ کے زمانہ میں تھا، جنات کو اس نے اسماء آلہیہ کے ذریعے سے مسخر کیا تھا، اس میں کوئی بات خلاف شرع نہیں تھی۔ (آکام المرجان، ص 100)۔
خلاصہ یہ ہے کہ جنات کی تسخیر اگر کسی کے لئے بغیر قصد و عمل کے محض منجانب اللہ ہوجائے جیسا کہ سلیمان ؑ اور بعض صحابہ کرام کے متعلق ثابت ہے وہ تو معجزہ یا کرامت میں داخل ہے، اور جو تسخیر عملیات کے ذریعہ کی جاتی ہے اس میں اگر کلمات کفریہ بااعمال کفریہ ہوں تو کفر، اور صرف معصیت پر مشتمل ہوں تو گناہ کبیرہ ہے، اور جن عملیات میں ایسے الفاظ استعمال کئے جائیں جن کے معنی معلوم نہیں ان کو بھی فقہاء نے اس بنا پر ناجائز کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان کلمات میں کفر و شرک یا معصیت پر مشتمل کلمات ہوں، قاضی بدر الدین نے ”آکام المرجان“ میں ایسے نامعلوم المعنی کلمات کے استعمال کو بھی ناجائز لکھا ہے۔
اور اگر یہ عمل تسخیر اسماء آلہیہ یا آیات قرآنیہ کے ذریعہ ہو اور اس میں نجاست وغیرہ کے استعمال جیسی کوئی معصیت بھی نہ ہو، تو وہ اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ مقصود اس سے جنات کی ایذاء سے خود بچنا یا دوسرے مسلمانوں کو بچانا ہو، یعنی دفع مضرت مقصود ہو، جلب منفعت مقصود نہ ہو۔ کیونکہ اگر اس کو کسب مال کا پیشہ بنایا گیا تو اس لئے جائز نہیں کہ اس میں استرقاق حر یعنی آزاد کو اپنا غلام بنانا اور بلاحق شرعی اس سے بیگار لینا ہے، جو حرام ہے۔ واللہ اعلم۔
(آیت) ومن یزغ منہم عن امرنا نذقہ من عذاب السعیر، ”یعنی ہم نے جنات کو سلیمان ؑ کی خدمت و اطاعت کا جو حکم دیا ہے اگر ان میں کوئی فرد اس اطاعت سے انحراف کرے گا تو اس کو آگ کا عذاب دیا جائے گا“ اکثر مفسرین نے اس سے آخرت کا عذاب جہنم مراد لیا ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک فرشتہ کو مسلط کردیا تھا کہ جو جن سلیمان ؑ کی اطاعت میں کوتاہی کرے اس کو آتشین کوڑے مار کر کام کرنے پر مجبور کرتا تھا (قرطبی) اور اس پر یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ جنات تو خود آگ سے بنے ہوئے ہیں، آگ ان پر کیا اثر کرے گی۔ کیونکہ جنات کے آگ سے بننے کا مطلب وہی ہے جو انسان کے مٹی سے بننے کا مطلب ہے، یعنی عنصر غالب انسان کے وجود کا مٹی ہے، مگر اس کو مٹی پتھر سے مارا جائے تو تکلیف پہنچتی ہے اسی طرح جنات کا عنصر غالب آگ ہے، مگر خالص اور تیز آگ سے وہ بھی جل جاتے ہیں۔
Ayah 34:13(آیت) یعملون لہ ما یشاء من محاریب وتماثیل وجفان کالجواب وقدورراسیات، اس آیت میں ان کاموں کی کچھ تفصیل ہے جو حضرت سلیمان ؑ جنات سے لیتے تھے۔ محاریب، محراب کی جمع ہے جو مکان کے اشرف واعلیٰ حصہ کے لئے بولا جاتا ہے، بادشاہ اور بڑے لوگ جو اپنے لئے حکومت کا کمرہ بنائیں اس کو بھی محراب کہا جاتا ہے۔ اور لفظ محراب حرب بمعنی جنگ سے مشتق ہے، کوئی آدمی جو اپنا حکومت کدہ خاص بناتا ہے اس کو دوسروں کی رسائی سے محفوظ رکھتا ہے، اس میں کوئی دست اندازی کرے تو اس کے خلاف لڑائی کرتا ہے۔ اس مناسبت سے مکان کے مخصوص حصہ کو محراب کہتے ہیں۔ مساجد میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کو بھی اسی امتیاز کی بنا پر محراب کہتے ہیں، اور کبھی خود مساجد کو محاریب کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں محاریب بنی اسرائیل اور اسلام میں محاریب صحابہ سے ان کی مساجد مراد ہوتی ہیں۔
مساجد میں محراب کے لئے مستقل مکان بنانے کا حکم
رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے عہد تک امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کو ایک علیحدہ مکان کی حیثیت سے بنانے کا رواج نہیں تھا، قرون اولیٰ کے بعد سلاطین نے اس کا رواج اپنے تحفظ کے لئے دیا اور عام مسلمانوں میں اس کا رواج اس مصلحت سے بھی ہوا کہ امام جس جگہ کھڑا ہوتا ہے وہ پوری صف خالی رہتی ہے۔ نمازیوں کی کثرت اور مساجد کی تنگی کے پیش نظر صرف امام کے کھڑے ہونے کی جگہ دیوار قبلہ میں گہری کر کے بنادی جاتی ہے، تاکہ اس کے پیچھے پوری صفوف کھڑی ہو سکیں، چونکہ یہ طریقہ قرون اولیٰ میں نہ تھا اس لئے بعض علماء نے اس کو بدعت کہہ دیا ہے۔ شیخ جلال الدین سیوطی نے اس مسئلہ پر مستقل رسالہ بنام اعلام الارانیب فی بدعة المحاریب لکھا ہے۔ اور تحقیق اور صحیح بات یہ ہے کہ اگر اس طرح کی محرابیں نمازیوں کی سہولت اور مسجد کے مصالح کے پیش نظر بنائیں جائیں اور ان کو سنت مقصودہ نہ سمجھا جائے تو ان کو بدعت کہنے کی کوئی وجہ نہیں، ہاں اس کو سنت مقصودہ بنا لیا جائے اس کے خلاف کرنیوالے پر نکیر ہونے لگے تو اس غلو سے یہ عمل بدعت میں داخل ہوسکتا ہے۔
مسئلہ
جن مساجد میں محراب امام ایک مستقل مکان کی صورت میں بنائی جاتی ہے وہاں امام پر لازم ہے کہ اس محراب سے کسی قدر باہر اس طرح کھڑا ہو کہ اس کے قدم محراب سے باہر نمازیوں کی طرف رہیں، تاکہ امام اور مقتدیوں کا مکان ایک شمار ہو سکے، ورنہ یہ صورت مکروہ و ناجائز ہے کہ امام الگ مکان میں تنہا کھڑا ہو، اور سب مقتدی دوسرے مکان میں۔ بعض مساجد میں محراب اتنی وسیع و عریض بنائی جاتی ہے کہ ایک مختصر سی صف مقتدیوں کی بھی اس میں آجائے، ایسی محراب میں اگر ایک صف مقتدیوں کی بھی محراب میں کھڑی ہو اور امام ان کے آگے پورا محراب میں کھڑا ہو تو امام و مقتدیوں کے مکان کا اشتراک ہوجانے کی وجہ سے کراہت نہیں رہے گی۔
تماثیل، تمثال کی جمع ہے۔ قاموس میں ہے کہ تمثال فتح التاء مصدر ہے اور بکسر التاء تمثال تصویر کو کہا جاتا ہے۔ ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ تمثال یعنی تصویر دو طرح کی ہوتی ہے، ایک ذی روح جاندار چیزوں کی تصویر، دوسرے غیر ذی روح بےجان چیزوں کی۔ پھر بےجان چیزوں میں دو قسمیں ہیں۔ ایک جماد جس میں زیادتی اور نمو نہیں ہوتا، جیسے پتھر مٹی وغیرہ، دوسرے نامی جس میں نمو اور زیادتی ہوتی رہتی ہے، جیسے درخت اور کھیتی وغیرہ۔ جنات حضرت سلیمان ؑ کے لئے ان سب قسم کی چیزوں کی تصویریں بناتے تھے۔ اول تو لفظ تماثیل کے عموم ہی سے یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ یہ تصاویر کسی خاص قسم کی نہیں، بلکہ ہر قسم کے لئے عام تھیں۔ دوسرے تاریخی روایات میں تخت سلیمان پر پرندوں کی تصاویر ہونا بھی مذکور ہے۔
شرح اسلام میں جاندار کی تصویر بنانے اور استعمال کرنے کی ممانعت
آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان ؑ کی شریعت میں جان داروں کی تصاویر بنانا اور استعمال کرنا حرام نہیں تھا، مگر چونکہ پچھلی امتوں میں اس کا مشاہدہ ہوا کہ لوگوں کی تصاویر ان کی یادگار کے طور پر بنائیں اور ان کو اپنے عبادت خانوں میں اس غرض کے لئے رکھا کہ ان کو دیکھ کر ان کی عبادت گزاری کا نقشہ سامنے آئے تو خود ہمیں بھی عبادت کی توفیق ہوجائے گی مگر رفتہ رفتہ ان لوگوں نے انہی تصویروں کو اپنا معبود بنا لیا، اور بت پرستی شروع ہوگئی۔
خلاصہ یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں جانداروں کی تصاویر بت پرستی کا ذریعہ بن گئیں، شریعت اسلام کے لئے چونکہ قیامت تک قائم اور باقی رکھنا تقدیر الٰہی ہے، اس لئے اس میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ جس طرح اصل حرام چیزوں اور معاصی کو حرام و ممنوع کیا گیا ہے، اسی طرح ان کے ذرائع اور اسباب قریبہ کو بھی اصل معاصی کے ساتھ ملحق کر کے حرام کردیا گیا ہے۔ اصل جرم عظیم شرک و بت پرستی ہے، اس کی ممانعت ہوئی تو جن راستوں سے بت پرستی آسکتی تھی ان راستوں پر بھی شرعی پہرہ بٹھا دیا گیا اور بت پرستی کے ذرائع اور اسباب قریبہ کو بھی حرام کردیا گیا۔ ذی روح کی تصاویر کا بنانا اور استعمال کرنا اسی اصول کی بنا پر حرام کیا گیا، رسول اللہ ﷺ کی احادیث صحیحہ سے متواتر سے اس کی حرمت ثابت ہے۔
اسی طرح شراب حرام کی گئی تو اس کی خرید، فروخت، اس کو لانے لے جانے کی مزدوری اس کی صنعت سب حرام کردی گئی جو شراب نوشی کے ذرائع ہیں۔ چوری حرام کی گئی تو کسی کے مکان میں بلا اجازت داخل ہونا بلکہ باہر سے جھانکنا بھی ممنوع کردیا گیا زنا حرام کیا گیا تو غیر محرم کی طرف بالقصد نظر کرنے کو بھی حرام کردیا گیا۔ شریعت اسلام میں اس کی بیشمار نظائر موجود ہیں۔
حرمت تصویر پر ایک عام شبہ اور اس کا جواب
یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ کے عہد مبارک میں تصاویر کو جس حیثیت سے استعمال کیا جاتا تھا وہ ذریعہ بت پرستی بن سکتی تھی، لیکن آج کل تصویر سے جس طرح کے کام لئے جاتے ہیں، ملزموں کی شناخت، تجارتوں کے خاص مارک، دوستوں عزیزوں سے ملاقات، واقعات و حالات کی تحقیق میں امداد وغیرہ جس کی وجہ سے وہ ضروریات زندگی میں داخل کرلی گئی ہیں اس میں بت پرستی اور عبادت کا کوئی تصور دور دور نہیں، تو یہ ممانعت جو بت پرستی کے خطرہ سے کی گئی تھی اب مرتفع ہوجانی چاہئے۔
جواب یہ ہے کہ اولاً یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ آج کل تصویر ذریعہ بت پرستی نہیں رہی، آج بھی کتنے فرقے اور گروہ ہیں جو اپنے پیرو وں کی تصویر کو پوجا پاٹ کرتے ہیں اور جو حکم کسی علت پر دائر ہو، یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر فرد میں پایا جائے۔ اس کے علاوہ تصویر کی ممانعت کا سبب صرف ایک یہی نہیں کہ وہ بت پرستی کا ذریعہ ہے، بلکہ احادیث صحیحہ میں اس کی حرمت کی دوسری وجوہ بھی مذکور ہیں۔ مثلاً یہ کہ تصویر سازی حق تعالیٰ کی صفت خاص کی نقالی ہے، مصور حق تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے اور صورت گری درحقیقت اسی کے لئے سزاوار اور اسی کی قدرت میں ہے کہ مخلوقات کی ہزاروں اجناس اور انواع اور ہر نوع میں اس کے کروڑوں افراد ہوتے ہیں، ایک کی صورت دوسرے سے نہیں ملتی، انسان ہی کو لے لو تو مرد کی صورت اور عورت کی صورت میں نمایاں امتیاز، پھر عورتوں اور مردوں کے کروڑوں افراد میں دو فرد بالکل یکساں نہیں ہوئے۔ ایسے کھلے ہوئے امتیازات ہوتے ہیں کہ دیکھنے والوں کو کسی تامل اور غور و فکر کے بغیر ہی امتیاز واضح ہوجاتا ہے۔ یہ صورت گری اللہ رب العزت کے سوا کس کی قدرت میں ہے، جو انسان کسی جاندار کا مجسمہ یا نقوش اور رنگ سے اس کی تصویر بناتا ہے وہ گویا عملی طور پر اس کا مدعی ہے کہ وہ بھی صورت گری کرسکتا ہے۔ اسی لئے صحیح بخاری وغیرہ کی احادیث میں ہے کہ قیامت کے روز تصویریں بنانے والوں کو کہا جائے گا کہ جب تم نے ہماری نقل اتاری تو اس کو مکمل کر کے دکھلاؤ، اگر تمہارے بس میں ہو کہ ہم نے تو صرف صورت ہی نہیں بنائی اس میں روح بھی ڈالی ہے۔ اگر تمہیں اس تخلیق کا دعویٰ ہے تو اپنی بنائی ہوئی صورت میں روح بھی ڈال کر دکھلاؤ۔
ایک سبب تصویر کی ممانعت کا احادیث صحیحہ میں یہ بھی آیا ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو تصویر اور کتے سے نفرت ہے جس گھر میں یہ چیزیں ہوتی ہیں، اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس کے سبب اس گھر کی برکت اور نورانیت مٹ جاتی ہے، گھر میں بسنے والوں کو عبادت و اطاعت کی توفیق گھٹ جاتی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ مشہور مقولہ بھی غلط نہیں کہ ”خانہ خالی راد یومی گیرد“ یعنی خالی گھر پر جن بھوت قبضہ کرلیتے ہیں جب کوئی گھر رحمت کے فرشتوں سے خالی ہوگا تو شیاطین اس کو گھیر لیں گے اور ان کے بسنے والوں کے دلوں میں گناہوں کے وسوسے اور پھر ارادے پیدا کرتے رہیں گے۔
ایک سبب بعض احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ تصویریں دنیا کی زائد از ضرورت زینت ہیں اور اس زمانے میں جس طرح تصاویر سے بہت سے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں ہزاروں جرائم اور فحاشی بھی انہی تصاویر سے جنم لیتے ہیں۔ غرض شریعت اسلام نے صرف ایک وجہ سے نہیں، بہت سے اسباب پر نظر کر کے جاندار کی تصاویر بنانے اور اس کے استعمال کرنے کو حرام قرار دے دیا ہے۔ اب اگر کسی خاص فرد میں فرض کرلیں کہ وہ اسباب اتفاق سے موجود نہ ہوں تو اس اتفاقی واقعہ سے قانون شرعی نہیں بدل سکتا۔
صحیح و بخاری و مسلم میں بروایت عبداللہ بن مسعود یہ حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اشد الناس عذاباً یوم القیمة المصورون، یعنی سب سے زیادہ سخت عذاب میں قیامت کے روز تصویر بنانے والے ہوں گے۔
اور بعض روایات حدیث میں تصویر بنانے والوں پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، اور صحیحین میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کل مصور فی النار، الحدیث، یعنی ہر مصور جہنم میں جائے گا۔
اس مسئلہ کے متعلق روایات حدیث اور تعامل سلف کے شواہد تفصیل کے ساتھ احقر نے اپنے رسالہ ”التصویر الاحکام التصویر“ میں جمع کردیئے ہیں، اور لوگوں کے شبہات کے جوابات بھی اس میں مفصل ہیں، ضرورت ہو تو اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔
فوٹو کی تصویر بھی تصویر ہی ہے
بعض لوگوں کا یہ کہنا قطعاً غلط ہے کہ فوٹو تصویر سے خارج ہے، کیونکہ وہ تو ظل اور عکس ہے، جیسے آئینہ اور پانی وغیرہ میں آجاتا ہے تو جس طرح آئینہ میں اپنی صورت دیکھنا جائز ہے ایسے ہی فوٹو کی تصویر بھی جائز ہے۔ جواب واضح ہے کہ عکس اور ظل اس وقت تک عکس ہے جب تک وہ کسی ذریعہ سے قائم اور پائدار نہ بنا لیا جائے، جیسے آئینہ یا پانی میں اپنا عکس جس وقت پانی کے مقابلہ سے آپ ہٹ جائیں گے ختم ہوجائے گا، اگر آئینہ کے اوپر کسی مسالہ یا آلہ کے ذریعہ اس صورت کے عکس کو پائیدار بنادیا جائے تو یہی تصویر ہوجائے گی، جس کی حرمت و ممانعت احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ فوٹو کی مفصل بحث بھی رسالہ مذکور التصویر میں لکھ دی گئی ہے۔
جفان، جفنہ کی جمع ہے، جو پانی کے بڑے برتن جیسے تشلہ یا ٹب وغیرہ کو کہا جاتا ہے۔ کالجواب، جابیہ کی جمع ہے، چھوٹے حوض کو جابیہ کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ پانی بھرنے کے بڑے برتن ایسے بناتے ہیں جس میں چھوٹے حوض کے برابر پانی آتا ہے۔ قدور قدر بکسر القاف کی جمع ہے، ہنڈیا کو کہا جاتا ہے۔
راسیات، اپنی جگہ ٹھہری ہوئی۔ مراد یہ ہے کہ اتنی وزنی اور بڑی دیگیں بناتے تھے جو ہلائے نہ ہلیں، اور ممکن ہے کہ یہ دیگیں پتھر سے تراش کر پتھر ہی کے چولہوں پر لگی ہوئی بناتے ہوں جو ناقابل حمل و نقل ہوں۔ امام تفسیر ضحاک نے قدور راسیات کی یہی تفسیر کی ہے۔
(آیت) اعملوا آل داؤد شکراً و قلیل من عبادی الشکور، حضرت داؤد سلیمان (علیہما السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے نوازا اور مخصوص انعامات عطا فرمائے، ان کا بیان فرمانے کے بعد ان کو مع ان کے اہل و عیال کے شکر گزاری کا حکم اس آیت میں دیا گیا ہے۔
شکر کی حقیقت اور اس کے احکام
قرطبی نے فرمایا کہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اس کا اعتراف کرے کہ یہ نعمت فلاں منعم نے دی ہے اور پھر اس کو اس کی اطاعت ومرضی کے مطابق استعمال کرے، اور کسی کی دی ہوئی نعمت کو اس کی مرضی کے خلاف استعمال کرنا ناشکری اور کفران نعمت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شکر جس طرح زبان سے ہوتا ہے اسی طرح عمل سے بھی شکر ہوتا ہے، اور عملی شکر اس نعمت کا منعم کی اطاعت ومرضی کے مطابق استعمال ہے اور ابو عبدالرحمن اسلمی نے فرمایا کہ نماز شکر ہے، روزہ شکر ہے اور ہر نیک کام شکر ہے، اور محمد بن کعب قرظی نے فرمایا کہ شکر تقویٰ اور عمل صالح کا نام ہے، (ابن کثیر)۔
آیت مذکورہ میں قرآن حکیم نے حکم شکر کے لئے مختصر لفظ اشکرونی کے بجائے اعملوا شکراً استعمال فرما کر شاید اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ آل داؤد سے مطلوب شکر عملی ہے، چناچہ اس حکم کی تعمیل حضرت داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) اور ان کے خاندان نے قول و عمل دونوں سے اس طرح کی کہ ان کے گھر میں کوئی وقت ایسا نہ گزرتا تھا جس میں گھر کا کوئی فرد اللہ کی عبادت میں نہ لگا ہوا ہو۔ افراد خاندان پر اوقات تقسیم کردیئے گئے تھے۔ اس طرح حضرت داؤد ؑ کا مصلیٰ کسی وقت نماز پڑھنے والے سے خالی نہ رہتا تھا۔ (ابن کثیر)
بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نمازوں میں اللہ کے نزدیک محبوب تر نماز داؤد ؑ کی ہے، وہ نصف رات سوتے تھے پھر ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے تھے، پھر آخری چھٹے حصہ میں سوتے تھے اور سب روزوں میں محبوب تر اللہ کے نزدیک صیام داؤد ؑ ہیں کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ (ابن کثیر)
حضرت فضیل سے منقول ہے کہ جب حضرت داؤد ؑ پر یہ حکم شکر نازل ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اے میرے پروردگار میں آپ کا شکر کس طرح پورا کرسکتا ہوں جب کہ میرا شکر قولی ہو یا عملی وہ بھی آپ ہی کی عطا کردہ نعمت ہے، اس پر بھی مستقل شکر واجب ہے۔ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایاالان شکرتنی یا داؤد، یعنی اے داؤد اب آپ نے شکر ادا کردیا، کیونکہ حق شکر ادا کرنے اپنے عجز و قصور کو سمجھ لیا اور اعتراف کرلیا۔
حکیم ترمذی اور امام ابوبکر جصاص نے حضرت عطاء بن یسار سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اعملوا آل داؤد شکراً تو رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور اس آیت کو تلاوت فرمایا پھر ارشاد فرمایا کہ تین کام ایسے ہیں کہ جو شخص ان کو پورا کرلے تو جو فضیلت آل داؤد کو عطا کی گئی تھی وہ اس کو بھی مل جائے گی۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ وہ تین کام کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ رضا اور غضب کی دونوں حالتوں میں انصاف پر قائم رہنا، اور غنا اور فقر کی دونوں حالتوں میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنا، اور خفیہ اور علانیہ دونوں حالتوں میں اللہ سے ڈرنا (قرطبی احکام القرآن، جصاص)
وقلیل من عبادی الشکور، شکر کے حکم اور تاکید کے بعد اس واقعہ کا بھی اظہار فرما دیا کہ میرے بندوں میں شکر گزار کم ہی ہوں گے۔ اس میں بھی مومن کے لئے تنبیہ اور تحریض ہے شکر پر۔