Ayah 33:1خلاصہ تفسیر
اے نبی اللہ سے ڈرتے رہئے (اور کسی سے نہ ڈریئے اور ان کی دھمکیوں کی ذرا پروا نہ کیجئے) اور کافروں کا (جو کھلم کھلا دین کے خلاف مشورے دیتے ہیں) اور منافقوں کا (جو درپردہ ان کے ساتھ متفق ہیں) کہنا نہ مانئے (بلکہ اللہ ہی کا کہنا کیجئے) بیشک اللہ تعالیٰ بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے (اس کا ہر حکم فوائد اور مصالح پر مشتمل ہوتا ہے) اور (اللہ کا کہنا ماننا یہ ہے کہ) آپ کے پروردگار کی طرف سے جو حکم آپ پر وحی کیا جاتا ہے اس پر چلئے (اور اے لوگو) بیشک تم لوگوں کے سب اعمال کی اللہ تعالیٰ پوری خبر رکھتا ہے (تم میں سے جو ہمارے پیغمبر کی مخالفت اور مزاحمت کر رہے ہیں ہم سب کو سمجھیں گے) اور (اے نبی) آپ (ان لوگوں کی دھمکیوں کے معاملہ میں) اللہ پر بھروسہ رکھئے اور اللہ کافی کارساز ہے (اس کے مقابلہ میں ان لوگوں کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی، اس لئے کچھ فکر نہ کیجئے، البتہ اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کسی ابتلاء کو مقتضی ہو اور اس کی وجہ سے کوئی عارضی تکلیف پہنچ جائے تو وہ ضرر نہیں بلکہ عین منفعت ہے۔
معارف و مسائل
یہ مدنی سورة ہے اس کے بیشتر مضامین رسول کریم ﷺ کی محبوبیت اور خصوصیت عند اللہ پر مشتمل ہیں، جس میں آپ کی تعظیم کا واجب ہونا اور آپ کی ایذا رسانی کا حرام ہونا مختلف عنوانات سے بیان ہوا ہے اور باقی مضامین سورة بھی انہی کی تکمیل و اتمام سے مناسبت رکھتے ہیں۔
شان نزول
اس سورة کے سبب نزول میں چند روایات منقول ہیں۔ ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ طیبہ میں تشریف فرما ہوئے، تو مدینہ کے آس پاس یہود کے قبائل بنو قریظہ، بنو نضیر، بنو قینقاع وغیرہ آباد تھے۔ رحمة العالمین کی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ کسی طرح یہ لوگ مسلمان ہوجائیں۔ اتفاقاً ان یہودیوں میں سے چند آدمی آپ کی خدمت میں آنے لگے اور منافقانہ طور پر اپنے آپ کو مسلمان کہنے لگے، دلوں میں ایمان نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو غنیمت سمجھا، کہ کچھ لوگ مسلمان ہوجائیں تو دوسروں کو دعوت دینا آسان ہوجائے گا۔ اس لئے آپ ان لوگوں کے ساتھ خاص مدارات کا معاملہ فرماتے اور ان کے چھوٹے بڑے آنے والوں کا احترام کرتے تھے اور کوئی بری بات بھی ان سے صادر ہوتی تو دینی مصلحت سمجھ کر اس سے چشم پوشی فرماتے تھے۔ اس واقعہ پر سورة احزاب کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ (قرطبی)
ایک دوسرا واقعہ ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ ہجرت کے بعد کفار مکہ میں سے ولید بن مغیرہ اور شیبہ ابن ربیعہ مدینہ طیبہ آئے اور آنحضرت ﷺ کے سامنے یہ پیش کش کی کہ ہم سب قریش مکہ کے آدھے اموال آپ کو دے دیں گے اگر آپ اپنے دعوے کو چھوڑ دیں۔ اور مدینہ طیبہ کے منافقین اور یہود نے آپ کو یہ دھمکی دی کہ اگر آپ نے اپنا دعویٰ اور دعوت سے رجوع نہ کیا تو ہم آپ کو قتل کردیں گے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ (روح)
تیسرا ایک واقعہ ثعلبی اور واحدی نے بغیر سند یہ نقل کیا ہے کہ ابو سفیان اور عکرمہ ابن ابی جہل اور ابو الاعو رسلمی اس زمانے میں جب واقعہ حدیبیہ میں کفار مکہ اور آنحضرت ﷺ کے مابین ترک جنگ پر معاہدہ ہوگیا تھا تو یہ لوگ مدینہ طیبہ آئے اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ہمارے معبودوں کا برائی سے ذکر کرنا چھوڑ دیں، صرف اتنا کہہ دیں کہ یہ بھی شفاعت کریں گے اور نفع پہنچائیں گے۔ آپ اتنا کرلیں تو ہم آپ کو اور آپ کے رب کو چھوڑ دیں گے، جھگڑا ختم ہوجائے گا۔
ان کی بات رسول اللہ ﷺ اور سب مسلمانوں کو سخت ناگوار ہوئی، مسلمانوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ان سے معاہدہ صلح کرچکا ہوں اس لئے ایسا نہیں ہوسکتا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں (روح) یہ روایات اگرچہ مختلف ہیں مگر درحقیقت ان میں کوئی تضاد نہیں، یہ واقعات بھی آیات مذکورہ کے نزول کا سبب ہو سکتے ہیں۔
ان آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کو دو حکم دئے گئےپہلا اتق اللہ یعنی اللہ سے ڈرو، دوسرا لاتطع الکفرین، یعنی کافروں کا کہنا نہ مانو۔ اللہ سے ڈرنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ ان لوگوں کو قتل کرنا عہد شکنی ہے جو حرام ہے۔ اور کفار کی بات نہ ماننے کا حکم اس لئے کہ ان تمام واقعات میں کفار کی جو فرمائشیں ہیں وہ ماننے کے قابل نہیں۔ اس کی تفصیل آگے آتی ہے۔
(آیت) یایھا النبی اتق اللہ، یہ رسول اللہ ﷺ کا خاص اعزازو اکرام ہے کہ پورے قرآن میں کہیں آپ کو نام لے کر مخاطب نہیں کیا گیا، جیسا کہ دوسرے انبیاء کے خطابات میں یا آدم، یا لوح، یا ابراہیم، یا موسیٰ وغیرہ بار بار آیا ہے، بلکہ خاتم الانبیاء ﷺ کو پورے قرآن میں جہاں خطاب کیا گیا وہ کسی لقب نبی یا رسول وغیرہ سے خطاب کیا گیا۔ صرف چار مواقع جن میں یہی بتلانا منظور تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، ان میں آپ کا نام ذکر کیا گیا ہے جو ضروری تھا۔
اس خطاب میں آنحضرت محمد ﷺ کو دو حکم دیئے گئے۔ ایک خدا تعالیٰ سے ڈرنے کا، کہ مشرکین سے جو معاہدہ ہوچکا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے، دوسرے مشرکین اور منافقین و یہود کی بات نہ ماننے کا۔ یہاں جو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو ہر گناہ سے معصوم ہیں، عہد شکنی بھی گناہ کبیرہ ہے، اور کفار و مشرکین کی وہ باتیں جو شان نزول میں اوپر بیان کی گئیں، ان کا ماننا بھی گناہ عظیم ہے تو آپ خود ہی اس سے محفوظ تھے۔ پھر اس حکم کی ضرورت کیا پیش آئی ؟ روح المعانی میں ہے کہ مراد ان احکام سے آئندہ بھی ان پر قائم رہنے کی ہدایت ہے جیسا کہ اس واقعہ میں آپ ان پر قائم رہے اور اتق اللہ کے حکم کو اس لئے مقدم کیا کہ مسلمانوں نے ان مشرکین مکہ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا جن سے معاہدہ صلح ہوچکا تھا۔ اس لئے عہد شکنی سے بچنے کی ہدایت لفظ اتق اللہ کے ذریعہ مقدم کی گئی۔ بخلاف اطاعت کفار و مشرکین کے کہ اس کا کسی نے ارادہ بھی نہ کیا تھا اس لئے اس کو موخر کیا گیا۔
اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت میں اگرچہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے مگر مراد امت کو سنانا ہے۔ آپ تو معصوم تھے، احکام آلہیہ کی خلاف ورزی کا آپ سے کوئی احتمال نہ تھا۔ مگر قانون پوری امت کے لئے ہے، ان کو سنانے کا عنوان یہ اختیار کیا گیا کہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو فرمایا جس سے حکم کی اہمیت بڑھ گئی، کہ جب اللہ کے رسول بھی اس کے مخاطب ہیں تو امت کا کوئی فرد اس سے کیسے مستثنیٰ ہوسکتا ہے۔
اور ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت میں کفار و مشرکین کی اطاعت سے منع کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ آپ ان سے مشورے نہ کریں، ان کو زیادہ مجالست کا موقع نہ دیں۔ کیونکہ ایسے مشورے اور باہمی روابط بسا اوقات اس کا سبب بن جایا کرتے ہیں کہ ان کی بات مان لی جائے تو اگرچہ ان کی بات مان لینے کا رسول اللہ ﷺ سے کوئی احتمال نہ تھا مگر ان کے ساتھ ایسے روابط رکھنے اور ان کو اپنے مشوروں میں شریک کرنے سے بھی آپ کو روک دیا گیا، اور اس کو اطاعت کے لفظ سے اس لئے تعبیر کردیا کہ ایسے مشورے اور باہمی روابط عادتاً ماننے کا سبب بن جایا کرتے ہیں۔ تو یہاں درحقیقت آپ کو اسباب اطاعت سے منع کیا گیا ہے، نفس اطاعت کا تو آپ سے احتمال ہی نہ تھا۔
رہا یہ سوال کہ آیت مذکورہ میں کافروں کی طرف سے خلاف شرع اور خلاف حق باتوں کا اظہار تو کوئی بعید نہیں، ان کی اطاعت سے منع کرنا بھی ظاہر ہے۔ مگر منافقین نے اگر اسلام کے خلاف کوئی بات آپ سے کہی تو پھر وہ منافقین نہ رہے، کھلے کافر ہوگئے، ان کو الگ ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہوتی ؟ جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ منافقین نے بالکل کھول کر تو کوئی بات خلاف اسلام نہ کہی ہو مگر دوسرے کفار کی تائید اور حمایت میں کوئی کلمہ کہا ہو۔
اور منافقین کا جو واقعہ شان نزول میں اوپر بیان ہوا ہے، اگر اس کو سبب نزول قرار دیا جائے تو اس میں اشکال ہی نہیں۔ کیونکہ اس واقعہ کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ کو اس سے روکا گیا ہے کہ ان اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے یہود سے آپ زیادہ مدارات کا معاملہ نہ کریں۔
اس آیت کے آخر میں (آیت) ان اللہ کان علیماً حکیماً ، فرما کر اس حکم کی حکمت بیان کردی گئی۔ جو اوپر دیا گیا ہے کہ اللہ سے ڈریں، اور کفار و منافقین کا کہنا نہ مانیں۔ کیونکہ عواقب امور اور نتائج کا جاننے والا اللہ تعالیٰ بڑا حکیم ہے، وہی مصالح عباد کو جانتا ہے، یہ اس لئے فرمایا کہ کفار یا منافقین کی بعض باتیں ایسی بھی تھیں جن سے شر و فساد کم ہونے اور باہمی رواداری کی فضا قائم ہونے وغیرہ کے فوائد حاصل ہو سکتے تھے۔ مگر حق تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ یہ رواداری بھی مصلحت کے خلاف ہے، اس کا انجام اچھا نہیں۔
Ayah 33:2(آیت) واتبع مایوحیٰ الیک من ربک ان اللہ کان بما تعملون خبیراً ، یہ پہلے ہی حکم کا تکملہ ہے کہ آپ کفار و منافقین کی باتوں میں نہ آئیں، ان کی بات نہ مانیں بلکہ جو کچھ اللہ کی طرف سے آپ کو بذریعہ وحی بتلایا گیا ہے بس آپ اور صحابہ اسی کا اتباع کریں۔ چونکہ اس خطاب میں صحابہ کرام اور عام مسلمان بھی شامل ہیں، اس لئے آخر میں بصیغہ جمع بما تعملون فرما کر تنبیہ کردی گئی۔
Ayah 33:3و توکل علی اللہ وکفیٰ باللہ وکیلاً ، یہ بھی اسی حکم کی تکمیل ہے۔ اس میں ارشاد ہے کہ آپ ان لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں اور اپنے مقصد کی کامیابی میں صرف اللہ پر بھروسہ کریں کہ وہی کافی کارساز ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے آپ کو کسی کی رواداری کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ
آیات مذکورہ سے ثابت ہوا کہ امور دین میں کفار سے مشورہ لینا بھی جائز نہیں۔ دوسرے امور جن کا تعلق تجربہ وغیرہ سے ہو ان میں مشورہ لینے میں مضائقہ نہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 33:4–5خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور (اسی طرح) تمہاری ان بیبیوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری ماں نہیں بنایا اور (اسی طرح سمجھ لو) کہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا (بھی) نہیں بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے (جو غلط ہے واقعہ کے مطابق نہیں) اور اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے (اور جب منہ بولے بیٹے واقعہ میں تمہارے بیٹے نہیں تو) تم ان کو (متنبیٰ بنانے والوں کا بیٹا مت کہو، بلکہ) ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف منسوب کیا کرو، یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور گر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو (ان کو اپنا بھائی یا اپنا دوست کہہ کر پکارو کیونکہ آخر) وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجائے تو اس سے تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا لیکن ہاں جو دل سے ارادہ کر کے کہو (تو اس سے گناہ ہوگا) اور (اس سے بھی معافی مانگ لو تو معاف ہوجائے گا کیونکہ) اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کو کفار و منافقین کے مشوروں پر عمل نہ کرنے اور ان کی بات نہ ماننے کی ہدایت ہے۔ آیات مذکورہ میں کفار میں چلی ہوئی تین رسموں اور باطل خیالات کی تردید ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں عرب لوگ ایسے شخص کو جو زیادہ ذہین ہو یہ کہا کرتے تھے کہ اس کے سینے میں دو دل ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان میں اپنی ازواج کے متعلق ایک یہ رسم تھی کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو اپنی ماں کی پیٹھ یا اور کسی عضو سے تشبیہ دی اور کہہ دیا تو میرے لئے ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ، اس کو ان کے محاورہ میں ظہار کہا جاتا تھا، جو ظہر سے مشتق ہے، ظہر کے معنے ہیں پیٹھ۔ اور ان کا خیال یہ تھا کہ جس شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا وہ ہمیشہ کے لئے اس پر حرام ہوگئی۔
تیسرے یہ کہ ان میں ایک رسم یہ تھی کہ ایک آدمی کسی دوسرے کے بیٹے کو اپنا متبنی (منہ بولا بیٹا) بنا لیتا تھا اور جو اس طرح بیٹا بناتا یہ لڑکا اسی کا بیٹا مشہور ہوجاتا، اور اسی کا بیٹا کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اور ان کے نزدیک یہ منہ بولا بیٹا تمام احکام میں اصلی بیٹے کی طرح مانا جاتا تھا۔ مثلاً میراث میں بھی اس کی اولاد کے مثل حقیقی اولاد کے شریک ہوتا تھا اور نسبی رشتہ سے جن عورتوں کے ساتھ نکاح حرام ہوتا ہے، یہ منہ بولے بیٹے کے رشتہ کو بھی ایسا ہی قرار دیتے۔ مثلاً جیسے اپنے حقیقی بیٹے کی بیوی سے اس کے طلاق دینے کے بعد بھی نکاح حرام رہتا ہے یہ منہ بولے بیٹے کی بیوی کو بھی طلاق کے بعد اس شخص کے لئے حرام سمجھتے تھے۔
زمانہ جاہلیت کے یہ تین باطل خیالات و رسوم تھے۔ جن سے پہلی بات اگرچہ مذہبی عقیدے یا عمل سے متعلق نہیں تھی۔ اس لئے شریعت اسلام کو اس کی تردید کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ محض فن تشریح و طب کا معاملہ تھا کہ انسان کے سینے میں ایک ہی دل ہوتا ہے یا دو بھی ہوتے ہیں، اس کا ظاہر البطلان ہونا سبھی کو معلوم تھا۔ اس لئے شاید اس کے بطلان کے ذکر کو بھی باقی دو مسئلوں کی تائید و تمہید کے طور پر بیان کردیا گیا کہ جس طرح اہل جاہلیت کا یہ کہنا باطل ہے کہ کسی ایک انسان کے سینہ میں دو دل ہو سکتے ہیں اور اس کے بطلان کو عام و خاص سبھی جانتے ہیں اسی طرح ظہار اور متبنیٰ کے مسائل میں بھی اس کے خیالات باطل ہیں۔
باقی دو مسئلے ایک ظہار دوسرے متبنیٰ بیٹے کے احکام یہ ان معاشرتی اور عائلی مسائل میں سے ہیں جن کی اسلام میں خاص اہمیت ہے۔ یہاں تک کہ ان کی جزئیات اور تفصیلات بھی حق تعالیٰ نے قرآن میں خود ہی بیان فرمائی ہیں۔ دوسرے معاملات کی طرح صرف اصول بیان کر کے تفصیلی بیان کو پیغمبر کے حوالہ نہیں فرمایا۔ ان دونوں مسئلوں میں اہل جاہلیت نے اپنی بےبنیاد خواہشات سے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے خود ساختہ قوانین بنا رکھے تھے۔ دین حق کا فرض تھا کہ وہ ان باطل رسوم و خیالات کا ابطال کر کے حق بات واضح کرے۔ اس لئے بیان فرمایا (آیت) وما جعل ازواجکم الی تظہرون منھن امہاتکم، یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ اگر کسی نے بیوی کو ماں کی برابر یا مثل کہہ دیا تو وہ حقیقی ماں کی طرح ہمیشہ کے لئے اس پر حرام ہوگئی، تمہارے کہنے سے بیوی حقیقتاً ماں نہیں ہوجاتی، تمہاری ماں تو وہی ہے جس سے تم پیدا ہوئے ہو۔ اس آیت نے اہل جاہلیت کے اس خیال کو تو باطل کردیا کہ ظہار کرنے سے حرمت موبدہ نہیں ہوتی۔ آگے یہ بات کہ ایسا کہنے پر کوئی شرعی اثر مرتب ہوتا ہے یا نہیں ؟ اس کا حکم مستقلاً سورة مجادلہ میں بتایا گیا ہے کہ ایسا کہنا گناہ ہے، اس سے پرہیز واجب ہے، اور ایسا کہنے والا اگر کفارہ ظہار ادا کر دے تو بیوی اس کے لئے حلال ہوجاتی ہے۔ کفارہ ظہار کی تفصیل سورة مجادلہ میں آئے گی۔
دوسرا مسئلہ متبنیٰ بیٹے کا تھا۔ اس کے متعلق فرمایا (آیت) وماجعل ادعیاء کم ابناء کم، ادعیاء دعیً کی جمع ہے۔ دعی وہ لڑکا ہے جس کو منہ بولا بیٹا کہا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک انسان کے پہلو میں دو دل نہیں ہوتے، اور جس طرح بیوی کو ماں کے مثل کہنے سے بیوی ماں نہیں بن جاتی، اسی طرح منہ بولا بیٹا تمہارا بیٹا نہیں بن جاتا۔ یعنی دوسرے بیٹوں کے ساتھ نہ وہ میراث میں شریک ہوگا اور نہ حرمت نکاح کے مسائل اس پر عائد ہوں گے کہ بیٹے کی مطلقہ بیوی باپ پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے تو متبنیٰ کی بیوی بھی حرام ہو۔
اور چونکہ اس آخری معاملے کا اثر بہت سے معاملات پر پڑتا ہے۔ اس لئے یہ حکم نافذ کردیا گیا کہ متبنیٰ بیٹے کو جب پکارو اس کا ذکر کرو تو اس کے اصلی باپ کی طرف منسوب کر کے ذکر کرو۔ جس نے بیٹا بنا لیا ہے اس کا بیٹا کہہ کر خطاب نہ کرو۔ کیونکہ اس سے بہت سے معاملات میں اشتباہ اور التباس پیدا ہوجانے کا خطرہ ہے۔
صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں حضرت ابن عمر کی حدیث ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہا کرتے تھے (کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو متبنیٰ بنا لیا تھا، اس آیت کے نزول کے بعد ہم نے یہ عادت چھوڑ دی۔
مسئلہ
اس سے معلوم ہوا کہ اکثر آدمی جو دوسروں کے بچوں کو بیٹا کہہ کر پکارتے ہیں جب کہ محض شفقت کی وجہ سے ہو متبنیٰ قرار دینے کی وجہ سے نہ ہو تو یہ اگرچہ جائز ہے مگر پھر بھی بہتر نہیں کہ صورتاً ممانعت میں داخل ہے (کذافی الروح عن الخفاجی علی البیضادی)
اور یہی وہ معاملہ ہے جس نے قریش عرب کو مغالطہ میں ڈال کر ایک بہت بڑے گناہ عظیم کا مرتکب بنادیا کہ رسول کریم ﷺ پر یہ الزام لگانے لگے کہ آپ نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرلیا۔ حالانکہ وہ آپ کے بیٹے نہ تھے بلکہ متبنیٰ تھے، جس کا ذکر اسی سورة میں آگے آنے والا ہے۔
Ayah 33:6خلاصہ تفسیر
نبی ﷺ مومنین کے ساتھ تو ان کے نفس (اور ذات) سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں (کیونکہ انسان کا نفس تو کبھی اس کو نفع پہنچاتا ہے کبھی نقصان، کیونکہ اگر نفس اچھا ہے اچھے کاموں کی طرف چلتا ہے تو نفع ہے اور برے کاموں کی طرف چلنے لگے تو خود اپنا نفس ہی اپنے لئے مصیبت بن جاتا ہے، بخلاف رسول اللہ ﷺ کے کہ آپ کی تعلیم نفع ہی نفع اور خیر ہی خیر ہے۔ اور اپنا نفس اگر اچھا بھی ہو اور نیکی ہی کی طرف چلتا ہو پھر بھی اس کا نفع رسول اللہ ﷺ کے نفع کے برابر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اپنے نفس کو تو خیر و شر اور مصلحت و مضرت میں مغالطہ بھی ہوسکتا ہے اور اس کو مصالح و مضار کا پورا علم بھی نہیں، بخلاف رسول اللہ ﷺ کے کہ آپ کی تعلیمات میں کسی مغالطہ کا خطرہ نہیں۔ اور جب نفع رسانی میں رسول اللہ ﷺ ہماری جان اور ہمارے نفس سے بھی زیادہ ہیں تو ان کا حق ہم پر ہماری جان سے زیادہ ہے اور وہ حق یہی ہے کہ آپ کے ہر کام میں اطاعت کریں اور آپ کی تعظیم و تکریم تمام مخلوق سے زیادہ کریں) اور آپ کی بیبیاں ان (مومنین) کی مائیں ہیں (یعنی مذکورہ تقریر سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ مومنین کے لئے روحانی باپ ہیں جو ان کی اپنی ذات سے بھی زیادہ ان پر شفیق و مہربان ہیں، اسی مناسبت سے آپ کی ازواج مطہرات امت کی مائیں ہوگئیں یعنی تعظیم و تکریم میں ان کا حق ماؤں کی طرح ہے۔
اس آیت نے ازواج مطہرات کو صراحتہ امت کی مائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اشارةً امت کے روحانی باپ قرار دے دیا، تو اس سے بھی اس طرح کا ایک التباس اور اشتباہ ہوسکتا تھا جس طرح کا اشتباہ متبنیٰ کو اس کے غیر حقیقی باپ کی طرف منسوب کرنے میں ہوتا تھا، جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا تھا کہ امت کے مسلمان سب آپس میں حقیقی بہن بھائی ہوجائیں تو ان کے آپس میں نکاح کا تعلق حرام ہوجائے، اور میراث کے احکام میں بھی ہر مسلمان دوسرے کا وارث قرار دیا جائے۔ اس التباس کو دور کرنے کے لئے آخر آیت میں فرمادیا (آیت) ، واولوا الا رحام بعضہم اولیٰ ببعض فی کتب اللہ الایة یعنی) رشتہ دار کتاب اللہ (یعنی حکم شرعی) میں ایک دوسرے سے (میراث کا) زیادہ تعلق رکھتے ہیں، بہ نسبت دوسرے مومنین اور مہاجرین کے مگر یہ کہ تم اپنے (ان) دوستوں سے (بطور وصیت کے) کچھ سلوک کرنا چاہو تو وہ جائز ہے، یہ بات لوح محفوظ میں لکھی جا چکی ہے، (کہ ابتداء ہجرت میں ایمانی اخوت کی بنا پر مہاجرین کو انصار کی میراث کا حق دار بنادیا گیا تھا مگر بالآخر تقسیم میراث رشتہ داری اور ارحام کی بنیاد پر رہے گی)
معارف مسائل
جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے سورة احزاب میں بیشتر مضامین رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور آپ کی ایذا رسانی کے حرام ہونے سے متعلق ہیں۔ شروع سورة میں مشرکین و منافقین کی ایذاؤں کا ذکر کر کے رسول اللہ ﷺ کو ہدایات دی گئی تھیں۔ اس کے بعد جاہلیت کی تین رسموں کا ابطال کیا گیا جن میں آخری رسم کا تعلق رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے تھا کیونکہ کفار نے حضرت زید کی مطلقہ بی بی زینب سے آنحضرت ﷺ کے نکاح کے وقت اسی اپنی جاہلانہ رستم متبنیٰ کی بنا پر آپ پر یہ الزام لگایا کہ آپ نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس طرح شروع سورة سے یہاں تک ایذاء رسول اللہ ﷺ سے متعلق مضمون تھا، اس آیت مذکورہ میں آپ کی تعظیم و اطاعت تمام مخلوق سے زیادہ واجب ہونا بیان کیا گیا ہے۔
(آیت) النبی اولیٰ بالمومنین، اولیٰ بالمومنین کا جو مطلب خلاصہ تفسیر میں بیان کیا گیا ہے وہ ابن عطیہ وغیرہ کا قول ہے جس کو قرطبی اور اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کا حکم ہر مسلمان کے لئے اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ واجب التعمیل ہے۔ اگر ماں باپ آپ کے کسی حکم کے خلاف کہیں ان کا کہنا ماننا جائز نہیں، اسی طرح خود اپنے نفس کی تمام خواہشات پر بھی آپ کے حکم کی تعمیل مقدم ہے۔
صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”یعنی کوئی مومن ایسا نہیں جس کے لئے میں دنیا و آخرت میں سارے انسانوں سے زیادہ اولیٰ اور اقرب نہ ہوں، اگر تمہارا دل چاہے تو اس کی تصدیق کے لئے قرآن کی یہ آیت پڑھ لو، (آیت) النبی اولیٰ بالمومنین۔
جس کا حاصل یہ ہے کہ میں ہر مومن مسلمان پر ساری دنیا سے زیادہ شفیق و مہربان ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ اس کا لازمی اثر ہونا چاہئے کہ ہر مومن کو آنحضرت محمد ﷺ کی محبت سب سے زیادہ ہو۔ جیسا کہ حدیث میں یہ بھی ارشاد ہے
”یعنی تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کے دل میں میری محبت اپنے باپ، بیٹے اور سب انسانوں سے زیادہ نہ ہوجائے۔“
وازواجہ امہاتہم، ازواج مطہرات کو امت کی مائیں فرمانے سے مراد تعظیم و تکریم کے اعتبار سے مائیں ہونا ہے۔ ماں اور اولاد کے دوسرے احکام حرمت نکاح اور محرم ہونے کی وجہ سے باہم پردہ نہ ہونا اور میراث میں حصہ دار ہونا وغیرہ یہ احکام اس سے متعلق نہیں، جیسا کہ آخر آیت میں اس کو کھول دیا گیا ہے۔ اور ازواج مطہرات سے کسی امتی کا نکاح حرام ہونا وہ ایک مستقل آیت میں علیحدہ فرمایا گیا ہے۔ اس لئے یہ ضروری نہیں کہ یہ حرمت نکاح بھی مائیں ہونے کی وجہ سے ہو۔
مسئلہ
آیت مذکورہ سے ثابت ہوا کہ ازواج مطہرات میں سے کسی کی شان میں کوئی ادنیٰ سی بےادبی اس لئے بھی حرام ہے کہ وہ امت کی مائیں ہیں، اور اس لئے بھی کہ ان کی ایذاء سے رسول اللہ ﷺ کو ایذاء پہنچے گی جو اشد درجہ کا حرام ہے۔
(آیت) واولوالارحام بعضہم اولیٰ ببعض، اولوالارحام کے لفظی معنی سب رشتہ داروں اور قرابت داروں کو شامل ہیں، خواہ وہ لوگ ہوں جن کو فقہاء عصبات کے نام سے تعبیر کرتے ہیں، یا وہ جن کو خاص اصطلاح کے اعتبار سے عصبات کے بالمقابل اولو الارحام کہتے ہیں۔ قرآن کریم میں یہ فقہی اصطلاح جو بعد میں اختیار کی گئی ہے مراد نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ رسول اور ان کی ازواج کا تعلق مومنین امت سے اگرچہ اس درجہ ہے کہ ماں باپ سے بھی مقدم ہے، مگر میراث کے احکام میں اس کا کوئی دخل نہیں بلکہ میراث نسبی اور قرابتی رشتوں کی بنیاد پر ہی تقسیم کی جائے گی۔
میراث کی حصہ داری شروع اسلام میں ایمانی اور روحانی رشتہ کی بنیاد پر تھی، بعد میں اس کو منسوخ کر کے قرابتی رشتوں کی بنیاد پر کردی گئی۔ جس کی تفصیل قرآن کریم نے خود بتلا دی ہے۔ یہ پوری تفصیل ناسخ اور منسوخ آیتوں کی سورة انفال میں گزر چکی ہے۔ اور من المومنین کے بعد المہاجرین کا ذکر اس صورت میں ان کا اختصاص و امتیاز بتلانے کے لئے ہے۔
اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہاں مومنین سے مراد انصار اور مہاجرین سے مراد قریش ہیں۔ مہاجرین کے تقابل سے مومنین کا لفظ انصار کے لئے ہونا معلوم ہوگیا۔ اس صورت میں یہ آیت توارث بالہجرة کے لئے ناسخ ہوگی۔ کیونکہ ابتداء ہجرت میں رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات کرا کر ان کے باہم وراثت جاری ہونے کا بھی حکم دیا تھا، اس آیت نے اس توارث بالہجرة کو بھی منسوخ کردیا۔ (قرطبی)
(آیت) الا ان تفعلوا الی اولیاء کم معروفاً ، یعنی وراثت تو صرف رشتہ داری کے تعلق سے ملے گی، غیر رشتہ دار وارث نہیں ہوگا۔ مگر ایمانی اخوت کی بنا پر جن لوگوں سے تعلق ہو ان کو کچھ دینا چاہو تو اس کا بہرحال اختیار ہے۔ اپنی زندگی میں بھی بطور ہدیہ تحفہ ان کو دے سکتے ہو اور موت کے بعد ان کے لئے وصیت بھی کرسکتے ہیں۔
Ayahs 33:7–8خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب کہ ہم نے تمام پیغمبروں سے ان کا اقرار لیا (کہ احکام آلہیہ کا اتباع کریں، جن میں خلق اللہ کو تبلیغ و دعوت اور باہمی تعاون و تناصر بھی داخل ہے) اور (ان پیغمبروں میں) آپ سے بھی (اقرار لیا) اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) سے بھی اور (یہ کوئی معمولی عہد و اقرار نہیں تھا بلکہ) ہم نے ان سب سے خوب پختہ عہد لیا تاکہ (قیامت کے روز) ان سچے لوگوں سے (یعنی انبیاء (علیہم السلام) سے) ان کے سچ کی تحقیقات کرے (تا کہ ان کا شرف و اعزاز اور نہ ماننے والوں پر حجت مکمل ہوجائے، اس عہد اور اس کی تحقیقات سے دو باتوں کا وجوب ثابت ہوگیا کہ صاحب وحی پر اپنی وحی کا اتباع واجب ہے، اور جو عام لوگ صاحب وحی نہیں ان پر اپنے صاحب وحی پیغمبر کے اتباع کا وجوب) اور کافروں کے لئے (جو صاحب وحی کے اتباع سے منحرف ہیں) اللہ تعالیٰ نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
معارف و مسائل
شروع سورة میں نبی کریم ﷺ کو اپنی وحی کے اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ (آیت) واتبع مایوحی الیک اور گزشتہ آیت (آیت) النبی اولیٰ بالمومنین۔ میں مومنین پر صاحب وحی کے احکام کی تعمیل واجب کی گئی ہے۔ انہی دونوں باتوں کے مزید اثبات و اظہار کے لئے مذکورہ دونوں آیتوں میں بھی دو مضمون بیان ہوئے ہیں۔ یعنی صاحب وحی کو اپنی وحی کا اتباع اور غیر صاحب وحی کو صاحب وحی کا اتباع کرنا واجب ہے۔
میثاق انبیاء
آیت مذکورہ میں جو انبیاء (علیہم السلام) سے عہد وقرار لینے کا ذکر ہے وہ اس اقرار عام کے علاوہ ہے جو ساری مخلوق سے لیا گیا ہے۔ جیسا کہ مشکوة میں بروایت امام احمد مرفوعاً آیا ہے کہخصو ابمیثاق الرسالة والنبوة وھو قولہ تعالیٰ و اذا اخذنا من النبین میثاقہم الآیة
یہ عہد انبیاء (علیہم السلام) سے نبوت و رسالت کے فرائض ادا کرنے اور باہم ایک دوسرے کی تصدیق اور مدد کرنے کا عہد تھا۔ جیسا کہ ابن جریر وابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت قتادہ سے روایت کیا ہے۔ اور ایک روایت میں اس عہد انبیاء میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ سب اس کا بھی اعلان کریں کہ محمد رسول اللہ لا نبی بعدہ، ”یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا“
اور یہ میثاق انبیاء بھی ازل میں اسی وقت لیا گیا جبکہ عام مخلوق سے الست بربکمہ کا عہد لیا گیا تھا۔ (روح ومظہری)
(آیت) ومنک ومن نوح الآیة، انبیاء (علیہم السلام) کا عام ذکر کرنے کے بعد ان میں سے پانچ انبیاء کا خصوصی ذکر ان کے اس خاص امتیاز وشرف کی بنا پر کیا گیا، جو ان کو زمرہ انبیاء میں حاصل ہے۔ اور ان میں بھی لفظ منک میں آنحضرت ﷺ کے ذکر کو اوروں سے مقدم کیا گیا، اگرچہ آپ کی بعثت سب کے بعد ہے، وجہ اس کی خود حدیث میں یہ بیان فرمائی ہے
”یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تخلیق وتکوین میں سارے انسانوں سے پہلا ہوں اور بعثت و نبوت میں سب سے آخر“
Ayah 33:9خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! اللہ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو، جب تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے (یعنی عیینہ کا لشکر اور ابوسفیان کا لشکر اور یہود بنی قریظہ) پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی (جس نے ان کو پریشان کردیا اور ان کے خیمے اکھاڑ پھینکے) اور (فرشتوں کی) ایسی فوج بھیجی جو تم کو (عام طور پر) دکھائی نہ دیتی تھی (گو بعض صحابہ مثلاً حضرت حذیفہ نے بعض ملائکہ کو بشکل انسان دیکھا بھی اور کفار کے لشکر میں یہ جاسوسی کے لئے گئے تھے وہاں یہ آواز بھی سنی کہ بھاگو بھاگو۔ اور اس واقعہ میں ملائکہ نے قتال نہیں کیا، صرف کفار کے دلوں میں رعب ڈالنے کے لئے بھیجے گئے تھے) اور اللہ تعالیٰ تمہارے (اس وقت کے) اعمال کو دیکھتے تھے (کہ تم نے ایک طویل و عریض اور گہری خندق کھودنے میں بڑی محنت اٹھائی، پھر کفار کے مقابلہ کے لئے بڑے استقلال کے ساتھ ثابت قدم رہے اور اس پر خوش ہو کر تمہاری امداد فرما رہے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا تھا) جبکہ وہ (دشمن) لوگ تم پر (ہر طرف سے نرغہ کر کے) آ چڑھے تھے اوپر کی طرف سے اور نیچے کی طرف سے بھی (یعنی کوئی قبیلہ مدینہ کے نشیب کی طرف سے اور کوئی قبیلہ اس کی بلندی کی طرف سے) اور جب کہ آنکھیں (مارے دہشت کے) کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم لوگ اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کر رہے تھے (جیسا مواقع شدت میں طبعی طور پر مختلف وسوسے آیا کرتے ہیں اور یہ غیر اختیاری ہونے کی وجہ سے کوئی گناہ نہیں، اور نہ اس قول کے منافی ہے جو آگے اہل ایمان کا آئے گا، (آیت) ھذا ما وعدنا اللہ و رسولہ وصدق اللہ و رسولہ کیونکہ اس میں لفظ ہذا کا اشارہ احزاب کے چڑھ آنے کی طرف ہے، چونکہ اس کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دے دی گئی تھی، اس لئے یہ تو متیقن تھا لیکن انجام اس واقعہ کا نہیں بتلایا گیا تھا اس لئے اس میں احتمالات مختلفہ غالب آنے اور مغلوب ہونے کے پیدا ہوتے تھے) اس موقع پر مسلمانوں کا (پورا) پورا امتحان کیا گیا (جس میں وہ پورے اترے) اور (سخت) زلزلہ میں ڈالے گئے اور (یہ واقعہ اس وقت ہوا تھا) جب کہ منافقین اور وہ (وہ) لوگ جن کے دلوں میں (نفاق اور شک کا) مرض ہے یوں کہہ رہے تھے کہ ہم سے تو اللہ نے اور اس کے رسول نے محض دھوکہ ہی کا وعدہ کر رکھا ہے (جیسا معتب بن قثیر اور اس کے ہمراہیوں نے یہ قول اس وقت کہا تھا کہ خندق کھودتے وقت کدال لگنے سے کئی بار آگ کا شرارہ نکلا، اور حضور ﷺ نے ہر بار ارشاد فرمایا کہ مجھ کو فارس اور روم اور شام کے محل اس کی روشنی میں نظر آئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی فتح کا وعدہ فرمایا ہے۔ جب احزاب کے اجتماع کے وقت پریشانی ہوئی تو یہ لوگ کہنے لگے کہ یہ تو حالت ہے اور اس پر فتح روم وفارس کی بشارتیں سنا رہے ہیں، یہ محض دھوکہ ہے اور گو وہ اس کو اللہ کا وعدہ نہ سمجھتے تھے نہ آپ کو رسول جانتے تھے، پھر یہ کہنا (آیت) ماوعدنا اللہ و رسولہ، یا تو صرف حکایت کے درجہ میں ہے اور یا بطور فرض و استہزاء ہے) اور (یہ واقعہ اس وقت کا تھا) جبکہ ان (منافقین) میں سے بعض لوگوں نے (دوسرے حاضرین معرکہ) سے کہا کہ یثرب (یعنی مدینہ) کے لوگو ! (یہاں) ٹھہرنے کا موقع نہیں (کیونکہ یہاں رہنا موت کے منہ میں جانا ہے) سو (اپنے گھروں کو) لوٹ چلو (یہ قول اوس بن قیطی نے کہا تھا اور بھی کچھ لوگ اس میں شریک تھے) اور بعضے لوگ ان (منافقوں میں) نبی ﷺ سے (اپنے گھر واپس جانے کی) اجازت مانگتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں (یعنی صرف عورتیں بچے رہ گئے ہیں، دیواریں قابل اطمینان نہیں کبھی چور نہ آ گھسیں، یہ قول ابوعرابہ اور دوسرے بعض بنی حارثہ کا تھا) حالانکہ وہ (ان کے خیال میں) غیر محفوظ نہیں ہیں (یعنی ان کو اندیشہ چوری وغیرہ کا ہرگز نہیں اور نہ واپس جانے سے یہ نیت ہے کہ ان کا انتظام قابل اطمینان کر کے چلے آویں گے) یہ محض بھاگنا ہی چاہتے ہیں، اور (ان کی یہ حالت ہے کہ) اگر مدینہ میں اس کے (سب) اطراف سے ان پر (جب یہ اپنے گھروں میں ہوں) کوئی (لشکر کفار کا) آ گھسے پھر ان سے فساد (یعنی مسلمانوں سے لڑنے) کی درخواست کی جاوے تو یہ (فوراً) اس (فساد) کو منظور کرلیں اور ان گھروں میں بہت ہی کم ٹھہریں (یعنی اتنا توقف ہو کہ کوئی ان سے درخواست کرے اور یہ منظور کریں اور اس کے بعد وہ فوراً ہی تیار ہوجائیں اور مسلمانوں کے مقابلہ میں جا پہنچیں اور کچھ بھی گھروں کا خیال نہ کریں کہ ہم تو دوسروں کو لوٹ مار کرتے جاتے ہیں، کبھی کوئی ہمارے گھر کو لوٹ لے تو اگر ان کا قصد واقعی حفاظت کا ہے تو اب گھروں میں کیوں نہیں رہے، اس سے صاف معلوم ہوا کہ اصل میں ان کو مسلمانوں سے عداوت اور کفار سے محبت ہے، اس لئے تکثیر سواد سے بھی مسلمانوں کی نصرت پسند نہیں کرتے۔ باقی گھروں کا تو بہانہ ہے) حالانکہ یہ لوگ (اس سے) پہلے خدا سے عہد کرچکے تھے کہ (دشمن کے مقابلہ میں) پیٹھ نہ پھیریں گے (یہ عہد اس وقت کیا تھا جبکہ بدر میں بعض شرکت سے رہ گئے تھے تو بعض منافقین بھی مفت کرم داشتن کے طور پر کہنے لگے کہ افسوس ! ہم شریک نہ ہوئے، ایسا کرتے ویسا کرتے، جب وقت آیا ساری قلعی کھل گئی) اور اللہ سے جو (اس قسم) کا عہد کیا جاتا ہے اس کی باز پرس ہوگی، آپ (ان سے) فرما دیجئے کہ (تم جو بھاگے بھاگے پھرتے ہو کماقال تعالیٰ (آیت) ان یریدون الافر ارا تو) تم کو بھاگنا کچھ نافع نہیں ہوسکتا اگر تم موت سے یا قتل سے بھاگتے ہو اور اس (بھاگنے کی) حالت میں بجز تھوڑے دنوں کے (کہ وہ بقیہ عمر مقدر ہے) اور زیادہ (حیات سے) متمتع نہیں ہو سکتے (یعنی بھاگ کر عمر نہیں بڑھ سکتی، کیونکہ اس کا وقت مقدر ہے، اور جب مقدر ہے تو اگر نہ بھاگتے تو بھی وقت سے پہلے مر نہیں سکتے۔ پس نہ قرار بالقاف سے کوئی ضرر اور نہ فرار بالفاء سے کوئی نفع، پھر بھاگنا محض بےعقلی اور اس مسئلہ قدر کی تحقیق کے لئے ان سے) یہ بھی فرما دیجئے کہ وہ کون ہے جو تم کو خدا سے بچا سکے اگر وہ تمہارے ساتھ برائی کرنا چاہے (مثلاً تم کو ہلاک کرنا چاہے تو کیا تم کو کوئی بچا سکتا ہے جیسا تم فرار کو نافع خیال کرتے ہو) یا وہ کون ہے جو خدا کے فضل کو تم سے روک سکے اگر وہ تم پر فضل کرنا چاہے (مثلاً وہ زندہ رکھنا چاہے جو کہ رحمت دنیویہ ہے تو کوئی اس کا مانع ہوسکتا ہے ؟ جیسا تمہارا خیال ہے کہ ثبات فی المعرکہ کو قاطع حیات سمجھتے ہو) اور (وہ لوگ سن رکھیں کہ) خدا کے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائیں گے (جو نفع پہنچائے) اور نہ کوئی مددگار (جو ضرر سے بچائے اب مسئلہ تقدیر کے بعد پھر تشنیع منافقین کا سلسلہ ہے، یعنی) اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو (دوسروں کو لڑائی میں جانے سے) مانع ہوتے ہیں اور جو اپنی (نسبی یا وطنی) بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آجاؤ (وہاں اپنی جان کیوں دیتے ہو، یہ بات ایک شخص نے اپنے حقیقی بھائی سے کہی تھی۔ اور اس وقت یہ کہنے والا گوشت بریاں اور روٹی کھا رہا تھا۔ مسلمان بھائی نے کہا افسوس ! تو اس چین میں ہے اور حضور ﷺ ایسی تکلیف میں، وہ بولا میاں تم بھی یہاں ہی چلے آؤ) اور (ان کی بزدلی اور حرص و بخل کی یہ کیفیت ہے کہ) لڑائی میں بہت ہی کم آتے ہیں (جس میں ذرا نام ہوجائے یہ تو ان کی بزدلی ہے اور آتے بھی ہیں تو) تمہارے حق میں بخیلی لئے ہوئے (یعنی آنے میں بڑی نیت یہ ہوتی ہے کہ سب غنیمت مسلمانوں کو نہ مل جائے برائے نام شریک ہونے سے استحقاق غنیمت کا دعویٰ تو کسی درجہ میں کرسکیں گے) سو (جب ان کا جبن اور بخل دونوں امر ثابت ہوگئے ہیں تو اس مجموعہ کا اثر یہ ہے کہ) جب (کوئی) خوف (کا موقع) پیش آتا ہے تو ان کو دیکھتے ہو کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھنے لگتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو (یہ تو بزدلی کا اثر ہوا) پھر جب وہ خوف دور ہوجاتا ہے تو تم کو تیز تیز زبانوں سے طعنے دیتے ہیں مال (غنیمت) پر حرص لئے ہوئے، (یعنی مال غنیمت لینے کے لئے دل خراش باتیں کرتے ہیں کہ کیوں ہم شریک نہ تھے، ہماری ہی مدد سے تم کو یہ فتح میسر نہیں ہوئی، یہ اثر بخل اور حرص کا ہے۔ یہ معاملہ ان کا تم سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا معاملہ یہ ہے کہ) یہ لوگ (پہلے ہی سے) ایمان نہیں لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال (نیک پہلے ہی سے) بےکار کر رکھے ہیں (آخرت میں کچھ ثواب نہ ملے گا) اور یہ بات اللہ کے نزدیک بالکل آسان ہے (کوئی اس سے مزاحمت نہیں کرسکتا کہ ہم ان اعمال کا صلہ دیں گے اور یہ حالت تو ان کی اجتماع احزاب کے وقت تھی مگر ان کا جُبُن یہاں تک بڑھا ہوا ہے کہ احزاب کے چلے جانے کے بعد بھی) ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ (ابھی تک) یہ لشکر گئے نہیں اور غایت بزدلی سے ان کی یہ حالت ہے کہ) اگر (بالفرض) یہ (گئے ہوئے) لشکر (پھر لوٹ کر) آجائیں تو (پھر تو) یہ لوگ (اپنے لئے) بھی پسند کریں کہ کاش ہم (کہیں) دیہاتوں میں باہر جا رہیں کہ (وہاں ہی بیٹھے بیٹھے آنے جانے والوں سے) تمہاری خبریں پوچھتے رہیں (اور وہ جگر دوز معرکہ اپنی آنکھ سے نہ دیکھیں) اور اگر (اتفاق سے کل یا بعض دیہات میں نہ جاسکیں) بلکہ تم ہی میں رہیں تب بھی (اس وقت کی لے دے سن کر بھی کبھی غیرت نہ آوے اور محض نام کرنے کو) کچھ یوں ہی سا لڑیں (آگے ثبات فی الحرب میں رسول اللہ ﷺ کے اقتداء و اتباع کا مقتضائے ایمان ہونا بیان فرماتے ہیں تاکہ منافقین کو عار دلائی جائے کہ باوجود دعویٰ ایمان اس کے مقتضاء سے تخلف کیا، اور مخلصین کو بشارت ملے کہ یہ لوگ البتہ مصداق (کان یر جو اللہ الخ کے ہیں پس ارشاد فرماتے ہیں کہ) تم لوگوں کے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے جو اللہ سے اور روز آخرت سے ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکر الٰہی کرتا ہو (یعنی مومن کامل ہو اس کے لئے) رسول اللہ ﷺ کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا (کہ جب آپ ہی شریک رہے تو آپ سے زیادہ کون پیارا ہے کہ وہ اقتداء نہ کرے اور اپنی جان بچائے پھرے) اور (آگے منافقین کے مقابلہ میں مومنین مخلصین کا ذکر ہے) جب ایمان داروں نے ان لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ وہی (موقع) ہے جس کی ہم کو اللہ، رسول نے خبر دی تھی (چنانچہ اس آیت بقرہ میں اس کا اشارہ قریب بصراحت موجود ہے، (آیت) ام حسبتم ان تدخلوا الجنة (الی قولہ) وزلزلوا کیونکہ سورة بقرہ نزول میں سورة احزاب سے مقدم ہے، کذا فی الاتقان) اور اللہ، رسول نے سچ فرمایا تھا اور اس (احزاب کے دیکھنے) سے (جو کہ مصدق پیشن گوئی ہے) ان کے ایمان اور اطاعت میں ترقی ہوگئی (یہ وصف تو سب مومنین میں مشترک ہے اور بعض اوصاف بعض مومنین میں خاص بھی ہیں جس کا بیان یہ ہے کہ) ان مومنین میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ سے عہد کیا تھا اس میں سچے اترے (اس تقسیم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بعضے مسلمانوں نے عہد کیا اور سچے نہیں اترے بلکہ یہ تقسیم اس بنا پر ہے کہ بعض نے عہد ہی نہیں کیا تھا اور بلاعہد ہی ثابت قدم رہے۔ ان معاہدین کے ذکر کی تصریح بمقابلہ آیت بالا کے ہے جو منافقین کے حق میں ہے، ولقد کانوا عاھدوا اللہ الخ اور مراد ان معاہدین سے حضرت انس بن النضر اور ان کے رفقاء ہیں۔ یہ حضرات اتفاق سے غزوہ بدر میں شریک نہیں ہونے پائے تھے تو ان کو افسوس ہوا اور عہد کیا کہ اگر اب کے کوئی جہاد ہو تو اس میں ہماری جان توڑ کوشش دیکھ لی جائے گی۔ مطلب یہ تھا کہ منہ نہ موڑیں گے گو مارے جاویں) پھر ان (معاہدین) میں (دو قسمیں ہوگئیں) بعضے تو ان میں وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے، (مراد وہ عہد ہے جو مثل نذر کے واجب الایقاع ہے۔ مطلب یہ کہ شہید ہوچکے اور اخیر دم تک منہ نہیں موڑا۔ چناچہ حضرت انس بن نضر احد میں شہید ہوگئے تھے، اسی طرح حضرت مصعب) اور بعضے ان میں (اس کے ایفاء کے آخری اثر یعنی شہادت کے) مشتاق ہیں (ابھی شہید نہیں ہوئے) اور (اب تک) انہوں نے (اس میں) ذرا تغیر تبدل نہیں کیا (یعنی اپنے عزم پر قائم ہیں، پس مجموعہ قوم کا دو قسم پر ہے، ایک منافق جن کا اوپر بیان ہوا، دوسرے مومنین۔ پھر مومنین کی دو قسم ہیں، معاہد اور غیر معاہد، اور ثبات میں دونوں مشترک ہیں۔ لقولہ تعالیٰ (آیت) لما را المومنون الخ۔ پھر معاہدہ دو قسم پر ہیں شہید اور منتظر شہادت، کل چار قسمیں ان آیات میں مذکور ہیں۔ آگے اس غزوہ کی ایک حکمت بیان فرماتے ہیں کہ) یہ واقعہ اس لئے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ سچے مسلمانوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو چاہے سزا دے یا چاہے ان کو (نفاق سے) توبہ کی توفیق دے (کیونکہ ایسے مصائب اور حوادث میں مخلص اور متصنع متمیز ہوجاتا ہے اور احیاناً ملامت سے بعض متصنعین بھی متاثر ہو کر مخلص ہوجاتے ہیں اور بعضے بحالہ بھی رہتے ہیں) بیشک اللہ غفور رحیم ہے (اس لئے توبہ کا قبول ہوجانا مستبعد نہیں، اس میں ترغیب ہے توبہ کی) اور (یہاں تک اس مجمع اسلام کے اقسام مختلفہ کے حالات تھے، آگے کفار مخالفین کی حالت کا ذکر ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے کافروں کو (یعنی مشرکین کو) ان کے غصہ میں بھرا ہوا (مدینہ سے) ہٹا دیا کہ ان کی کچھ بھی مراد پوری نہ ہوئی (اور ان کا غصہ بھرا ہوا تھا) اور جنگ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے آپ ہی کافی ہوگیا (یعنی کفار کو قتال متعارف کی نوبت ہی نہ آئی کہ پہلے ہی دفع ہوگئے اور خفیف سی لڑائی متفرق طور پر منفی نہیں ہے) اور (اس طرح کافروں کا ہٹا دینا کچھ عجیب نہ سمجھو، کیونکہ) اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا زبردست ہے (اس کو کچھ دیوار نہیں۔ یہ تو مشرکین کا حال ہوا) اور (دوسرا گروہ مخالفین میں یہود بنی قریظہ کا تھا آگے ان کا ذکر ہے) جن اہل کتاب نے ان (مشرکین) کی مدد کی تھی ان کو اللہ تعالیٰ نے) ان کے قلعوں سے (جن میں وہ محصور تھے) نیچے اتار دیا اور ان کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھلا دیا (جس سے وہ اتر آئے اور پھر) بعض کو تم قتل کرنے لگے اور بعض کو قید کرلیا اور ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا تم کو مالک بنادیا، اور ایسی زمین کا بھی (تم کو اپنے علم ازلی میں مالک بنا رکھا ہے) جس پر تم نے (ابھی) قدم (تک) نہیں رکھا (اس میں بشارت ہے فتوحات مستقبلہ کی عموماً یا فتح خیبر کی خصوصاً جو اس سے کچھ بعید ہوا) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے (اس لئے یہ امور کچھ بعید نہیں ہیں)