33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 33:59–60

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی کہہ دے اپنی عورتوں کو اور اپنی بیٹیوں کو اور مسلمانوں کی عورتوں کو نیچے لٹکا لیں اپنے اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں اس میں بہت قریب ہے کہ پہچانی پڑیں تو کوئی ان کو نہ ستائے اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

البتہ اگر باز نہ آئے منافق اور جن کے دل میں روگ ہے اور جھوٹی خبریں اڑانے والے مدینہ میں تو ہم لگا دیں گے تجھ کو ان کے پیچھے پھر نہ رہنے پائیں تیرے ساتھ اس شہر میں مگر تھوڑے دنوں

خلاصہ تفسیر اے پیغمبر پانی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ (سر سے) نیچی کرلیا کریں اپنے (چہرے کے) اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں اس سے جلدی پہچان ہوجایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی (یعنی کسی ضرورت سے باہر نکلنا پڑے تو چادر سے سر اور چہرہ بھی چھپا لیا جائے جیسا کہ سورة نور کے ختم کے قریب غیر متبرجت بزینة میں اس کی تفسیر روایت سے گزر چکی ہے، چونکہ کنیزوں کے لئے سر فی نفسہ داخل ستر نہیں، اور چہرہ کھولنے میں ان کو آزاد عورتوں سے زیادہ رخصت ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آقا کی خدمت میں لگی رہتی ہیں، اس لئے کام کاج کے لئے ان کو باہر نکلنے اور چہرہ وغیرہ کھولنے کی ضرورت زیادہ پڑتی ہے، بخلاف آزاد عورتوں کے کہ وہ اتنی مجبور نہیں، اور چونکہ اوباش لوگ آزاد عورتوں کو چھیڑنے کی ہمت ان کی خاندانی وجاہت و حمایت کی وجہ سے نہ کرتے تھے، کنیزوں کو چھیڑتے تھے، بعض اوقات کنیزوں کے دھوکے میں آزاد عورتوں کو بھی چھیڑنے لگتے تھے، اسی لئے اس آیت نے آزاد عورتوں کو کنیزوں سے ممتاز کرنے کے لئے بھی اور اس لئے بھی کہ سر اور گردن وغیرہ ان کا ستر میں داخل ہے، رسول اللہ ﷺ کی ازواج و بنات اور عام مسلمانوں کی بیبیوں کو یہ حکم دیا کہ لمبی چادر میں مستور ہو کر نکلیں جس کو سر سے کچھ نیچے چہرے پر لٹکا لیا کریں جس کو اردو میں گھونگھٹ کرنا کہتے ہیں۔ اس حکم سے پردہ شرعی کے حکم کی تعمیل بھی ہوجائے گی اور بہت سہولت کے ساتھ اوباش اور شریر لوگوں سے حفاظت بھی۔ رہ گئی غیر حرائر یعنی کنیزیں سو ان کی حفاظت کا انتظام اگلی آیت میں آئے گا) اور (اس چہرہ کے اور سر کے ڈھانکنے میں اگر کوئی کمی یا بےاحتیاطی بلاقصد ہوجائے تو) اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے (اس کو معاف کر دے گا آگے ان لوگوں کی تنبیہ کی گئی جو کنیزوں کو چھیڑا کرتے تھے اور ان لوگوں کو بھی جو ایک دوسری شرارت کے مرتکب تھے کہ مسلمانوں کے خلاف غلط افواہیں پھیلا کر ان کو پریشان کرنا چاہتے تھے فرمایا) یہ (خاص اصل) منافقین اور (عام منافقین میں سے) وہ لوگ جن کے دلوں میں (شہوت پرستی کی) خرابی ہے (جس کی وجہ سے کنیزوں کو چھیڑتے اور پریشان کرتے ہیں) اور (انہی منافقین میں) وہ لوگ جو مدینہ میں (جھوٹی اور پریشان کرنے والی) افواہیں اڑایا کرتے ہیں (یہ لوگ) اگر (اپنی ان حرکتوں سے) باز نہ آئے تو ضرور (ایک نہ ایک دن) ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے (یعنی ان کے مدینہ سے اخراج کا حکم دیں گے) پھر (اس حکم کے بعد) یہ لوگ آپ کے پاس مدینہ میں بہت ہی کم رہنے پائیں گے وہ بھی (ہر طرف سے) پھٹکارے ہوئے (یعنی مدینہ سے نکل جانے کا سامان کرنے کے لئے جو کچھ قلیل مدت معین کی جائے گی اس مدت میں تو یہ یہاں رہ لیں گے اور اس مدت میں بھی ہر طرف سے ذلیل و خوار ہوں گے، پھر نکال دیئے جائیں گے اور نکالنے کے بعد بھی کہیں امن نہ ہوگا بلکہ) جہاں ملیں گے پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کی جائے گی (وجہ یہ کہ ان منافقین کے کفر کا مقتضا تو یہی تھا، لیکن نفاق کی آڑ میں ان کو پناہ ملی ہے جب علی الاعلان ایسی مخالفتیں کرنے لگیں گے، تو وہ مانع اٹھ گیا اس لئے ان کے ساتھ بھی کفر کے اصلی اقتضاء کے موافق معاملہ ہوگا کہ ان کا اخراج اور قید اور قتل سب جائز ہے، اور اگر خروج کے لئے کچھ عدت معین ہوجائے تو اس مدت کے اندر بوجہ معاہدہ کے مامون ہوں گے، اس کے بعد جہاں ملیں گے عہد ختم ہوجانے کی بنا پر ان کے قتل وقید کی اجازت ہوگی۔ منافقین کو جو یہ دھمکی دی گئی اس میں کنیزوں کو چھیڑنے کا بھی انتظام کیا اور دوسری شرارت افواہیں پھیلانے کا بھی انسداد ہوگیا۔ مطلب آیت کا یہ ہوگیا کہ اگر یہ لوگ علی الاعلان مخالفت احکام اور مسلمانوں کے خلاف حرکتوں سے باز آگئے گو اپنی درپردہ منافقانہ چالوں میں لگے رہیں تو یہ سزا جاری نہ ہوگی، ورنہ پھر عام کفار کے حکم میں داخل ہو کر سزاوار ہوجائیں گے، اور فساد و شورش پر سزا جاری کرنا کچھ انہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ) اللہ تعالیٰ نے ان (مفسد) لوگوں میں بھی اپنا یہی دستور (جاری) رکھا ہے جو (ان سے) پہلے ہو گزرے ہیں (کہ ان کو آسمانی سزائیں دیں یا انبیاء کے ہاتھ سے جہاد کے ذریعہ سزائیں دلوائی ہیں، پس اگر پہلے ایسا نہ ہو چکتا تو ایسی سزا میں کچھ استبعاد ہوسکتا تھا، اور اب تو اس کی کوئی گنجائش ہی نہیں) اور آپ اللہ تعالیٰ کے دستور میں (کسی شخص کی طرف سے) ردو بدل نہ پائیں گے (کہ خدا تو کوئی حکم جاری کرنا چاہئے اور کوئی اس کو روک سکے، لفظ سنتہ اللہ میں تو اس کا اظہار کردیا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ سے پہلے کوئی کام نہیں کرسکتا، (آیت) ولن تجد لسنتہ اللہ تبدیلاً ، میں یہ بتلا دیا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ فرما لیں تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا) معارف و مسائل سابقہ آیات میں عام مسلمانوں مردوں اور عورتوں کو ایذاء پہنچانے کا حرام اور گناہ کبیرہ ہونا اور خصوصاً سیدالمومنین ﷺ کی ایذا کا کفر موجب لعنت ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ منافقین کی طرف سے دو طرح کی ایذائیں سب مسلمانوں کو اور رسول اللہ ﷺ کو پہنچتی تھیں۔ آیات مذکورہ میں ان ایذاؤں کے انسداد کا انتظام ہے اور اس کے ضمن میں عورتوں کے پردے کے کچھ مزید احکام کا بیان ایک مناسبت سے آیا ہے جو آگے معلوم ہوجائے گی۔ ان دونوں ایذاؤں میں ایک یہ تھی کہ منافقین کے عوام اور آوارہ قسم کے لوگ مسلمانوں کی باندیوں کنیزوں کو جب وہ کام کاج کے لئے باہر نکلتیں چھیڑا کرتے تھے، اور کبھی کنیزوں کے شبہ میں حرائر کو ستاتے تھے، جس کی وجہ سے عام مسلمانوں کو اور رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچتی تھی۔ دوسری ایذاء یہ تھی کہ یہ لوگ ہمیشہ ایسی جھوٹی خبریں اڑاتے تھے کہ اب فلاں غنیم مدینہ پر چڑھائی کرنے والا ہے۔ وہ سب کو ختم کر دے گا۔ آیات مذکورہ میں پہلی ایذاء سے حرائر (آزاد بیبیوں) کو بچانے کا فوری اور سہل انتظام یہ ہوسکتا تھا کہ ان کو یہ لوگ ان کے خاندان کی وجاہت اور حمایت کی وجہ سے باقصد چھیڑنے کی جرأت نہ کرتے تھے، کبھی کنیزوں کے شبہ میں یہ بھی ان کی چھیڑ چھاڑ کی زد میں آجاتی تھیں، اگر ان کی پہچان ہوجاتی تو یہ نوبت نہ آتی، اس لئے ضرورت پیش آئی کہ حرائر کا کوئی خاص امتیاز ہوجائے، تاکہ آسانی کے ساتھ خود بخود ہی کم از کم حرائر تو ان شریروں کے فساد سے فوری طور پر محفوظ ہوجائیں اور کنیزوں کا دوسرا انتظام کیا جائے۔ دوسری طرف شریعت اسلام نے حرائر اور کنیزوں کے پردہ شرعی میں بضرورت ایک فرق بھی رکھا ہے کہ کنیزوں کا شرعی پردہ وہ ہے جو حرائر کا اپنے محرموں کے سامنے ہوتا ہے کہ مثلاً چہرہ وغیرہ کھولنا جو حرائر کے لئے اپنے محرموں کے سامنے جائز ہے، کنیزوں کے لئے باہر بھی اس کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ ان کا کام ہی اپنے آقا اور اس کے گھر کی خدمت ہے جس میں ان کو باہر بھی بار بار نکلنا پڑتا ہے، اور چہرہ اور ہاتھ مستور رکھنا مشکل ہوتا ہے، بخلاف حرائر کے کہ ان کو کسی ضرورت سے باہر نکلنا بھی پڑے تو کبھی کبھی ہوگا جس میں پورے پردے کی رعایت مشکل نہیں، اس لئے حرائر کو یہ حکم دے دیا گیا کہ وہ لمبی چادر جس میں مستور ہو کر نکلتی ہیں اس کو اپنے سر پر سے چہرے کے سامنے لٹکا لیا کریں تاکہ چہرہ اجنبی مردوں کے سامنے نہ آئے اس سے ان کا پردہ بھی مکمل ہوگیا، اور باندیوں کنیزوں سے امتیاز خاص بھی ہوگیا، جس کے سبب وہ شریر لوگوں کی چھیڑ چھاڑ سے خود بخود مامون ہوگئیں۔ اور کنیزوں کی حفاظت کا انتظام ان منافقین کو سزا کی وعید سنا کر کیا گیا کہ اس سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں بھی اپنے نبی اور مسلمانوں کے ہاتھوں سزا دلوائیں گے۔ آیت مذکورہ میں حرہ (آزاد) عورتوں کے پردہ کے لئے یہ حکم ہوا ہے کہ (آیت) یدنین علیہن من جلابیبہن، اس میں یدنین، اوناً سے مشتق ہے، جس کے لفظی معنی قریب کرنے کے ہیں اور لفظ علیہن کے معنی اپنے اوپر اور جلابیب جمع جلباب کی ہے جو ایک خاص لمبی چادر کو کہا جاتا ہے، اس چادر کی ہئیت کے متعلق حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ وہ چادر ہے جو دوپٹہ کے اوپر اوڑھی جاتی ہے (ابن کثیر) اور حضرت ابن عباس نے اس کی ہئیت یہ بیان فرمائی ہے ”اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت سے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے سروں کے اوپر سے یہ چادر لٹکا کر چہروں کو چھپا لیں اور صرف ایک آنکھ (راستہ دیکھنے کے لئے) کھلی رکھیں“ اور امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سلمانی سے اس آیت کا مطلب اور جلباب کی کیفیت دریافت کی تو انہوں نے سر کے اوپر سے چادر چہرہ پر لٹکا کر چہرہ چھپا لیا، اور صرف بائیں آنکھ کھلی رکھ کر ادنا وجلباب کی تفسیر عملاً بیان فرمائی۔ سر کے اوپر سے چہرہ پر چادر لٹکانا جو حضرت ابن عباس اور عبیدہ سلمانی کے بیان میں آیا ہے یہ لفظ علیہن کی تفسیر ہے کہ اپنے اوپر چادر کو قریب کرنے کا مطلب چادر کو سر کے اوپر سے چہرہ پر لٹکانا ہے۔ اس آیت نے بصراحت چہرہ کے چھپانے کا حکم دیا ہے جس سے اس مضمون کی مکمل تائید ہوگئی جو اوپر حجاب کی پہلی آیت کے ذیل میں مفصل بیان ہوچکا ہے، کہ چہرہ اور ہتھیلیاں اگرچہ فی نفسہ ستر میں داخل نہیں مگر بوجہ خوف فتنہ کے ان کا چھپانا بھی ضروری ہے، صرف مجبوری کی صورتیں مستثنیٰ ہیں۔ تنبیہ ضروری اس آیت میں حرہ عورتوں کو ایک خاص طرح کے پردہ کی ہدایت فرمائی کہ چادر کو سر کے اوپر سے لٹکا کر چہرے کو چھپا لیں، تاکہ عام کنیزوں سے ان کا امتیاز ہوجائے اور یہ شریر لوگوں کے فتنہ سے محفوظ ہوجائیں۔ مذکورہ الصدر بیان میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام نے عصمت وعفت کی حفاظت میں حرائر اور کنیزوں کے درمیان کوئی فرق کردیا کہ حرائر کی حفاظت کرائی، کنیزوں کو چھوڑ دیا، بلکہ درحقیقت یہ فرق اوباش شریر لوگوں نے خود کر رکھا تھا، کہ حرائر پر دست اندازی کی تو جرأت وہمت نہیں کرتے تھے، مگر اماء یعنی کنیزوں کو چھیڑتے تھے، شریعت اسلام نے ان کے اختیار کردہ اس فرق سے یہ فائدہ اٹھایا کہ عورتوں کی اکثریت تو خود انہی کے مسلمہ عمل کے ذریعہ خود بخود محفوظ ہوجائے گی، باقی رہا کنیزوں کا معاملہ سو ان کی عصمت کی حفاظت بھی اسلام میں ایسی ہی فرض و ضروری ہے جیسی حرائر کی۔ اس کے لئے قانونی تشدد اعتبار کئے بغیر چارہ نہیں، تو اگلی آیت میں اس کا قانون بتلا دیا کہ جو لوگ اپنی اس حرکت سے باز نہ آئیں گے ان کو کسی طرح معاف نہ کیا جائے گا، بلکہ جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے، اور قتل کردیئے جائیں گے، اس نے کنیزوں کی عصمت کو بھی حرائر کی طرح محفوظ کردیا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ علامہ ابن حزم وغیرہ نے جو مذکورہ شبہ سے بچنے کیلئے آیت کی تفسیر جمہور علماء سے مختلف کرنے کی تاویل کی ہے۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں، شبہ تو جب ہوتا جبکہ کنیزوں کی حفاظت کا انتظام نہ کیا گیا ہوتا۔
Ayahs 33:61–62

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور مارے گئے جان سے

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

دستور پڑا ہوا ہے اللہ کا ان لوگوں میں جو پہلے ہوچکے ہیں اور تو نہ دیکھے گا اللہ کی چال بدلتی۔

جو شخص مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوجائے اس کی سزا قتل ہے آیت مذکورہ میں منافقین کی دو شرارتوں کا ذکر کے ان سے باز نہ آنے کی صورت میں جس سزا کا ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ملعونین اینما اخذوا وقتلوا تقتیلا، ”یعنی یہ لوگ جہاں رہیں گے لعنت اور پھٹکار ان کے ساتھ ہوگی، اور جہاں ملیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور قتل کردیئے جائیں گے۔“ یہ سزا عام کفار کی نہیں، بیشمار نصوص قرآن و سنت اس پر شاہد ہیں کہ عام کفار کے لئے شریعت اسلام میں یہ قانون نہیں ہے، بلکہ قانون یہ ہے کہ اول ان کو دعوت اسلام دی جائے، ان کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے اس پر بھی وہ اسلام نہ لائیں تو مسلمانوں کے تابع ذمی بن کر رہنے کا حکم دیا جائے، اگر وہ اس کو قبول کرلیں تو ان کی جان و مال اور آبرو کی حفاظت مسلمانوں پر مسلمانوں ہی کی طرح فرض ہوجاتی ہے، ہاں جو اس کو بھی قبول نہ کریں اور جنگ پر آمادہ ہوجائیں تو ان کے مقابلہ میں جنگ کرنے کا حکم ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کو مطلقاً قید و قتل کی سزا سنائی گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ منافقین کا تھا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے۔ اور جب کوئی مسلمان احکام اسلام کی کھلی مخالفت اور انکار کرنے لگے تو وہ اصطلاح شرع میں مرتد کہلاتا ہے، اس کے ساتھ شریعت اسلام میں کوئی مصالحت نہیں، بجز اس کے کہ وہ تائب ہو کر پھر مسلمان ہوجائے، اور احکام اسلام کو قولاً وعملاً تسلیم کرلے ورنہ پھر اس کو قتل کیا جائے گا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے واضح ارشادات اور صحابہ کرام کے اجماعی تعامل سے ثابت ہے۔ مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کے خلاف باجماع صحابہ جنگ و جہاد اور مسیلمہ کا قتل اس کی کافی شہادت ہے، اور آخر آیت میں اس کو اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت و دستور قرار دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ انبیاء سابقین کی شرائع میں بھی مرتد کی سزا قتل ہی تھی۔ مذکور الصدر خلاصہ تفسیر میں ان سزاؤں کو عام کفار کے ضابطہ میں لانے کے لئے جو توجیہ کی گئی ہے اس تقریر سے اس کی ضرورت نہیں رہتی۔ چند مسائل اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ (1) عورتوں کو جب کسی ضرورت کی بنا پر گھر سے نکلنا پڑے تو لمبی چادر سے تمام بدن چھپا کر نکلیں، اور اس چادر کو سر کے اوپر سے لٹکا کر چہرہ بھی چھپا کر چلیں، مروجہ برقع بھی اس کے قائم مقام ہے۔ (2) مسلمانوں میں ایسی افواہیں پھیلانا حرام ہے جن سے ان کو تشویش اور پریشانی ہو اور نقصان پہنچے۔
Ayahs 33:63–68

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں قیامت کو تو کہہ اس کی خبر ہے اللہ ہی کے پاس اور تو کیا جانے شاید وہ گھڑی پاس ہی ہو

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ نے پھٹکار دیا ہے منکروں کو اور رکھی ہے ان کے واسطے دہکتی آگ

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

رہا کریں اسی میں ہمیشہ نہ پائیں کوئی حمایتی اور نہ مددگار

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن اوندھے ڈالے جائیں گے ان کے منہ آگ میں کہیں گے کیا اچھا ہوتا جو ہم نے کہا مانا ہوتا اللہ کا اور کہا مانا ہوتا رسول کا

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے اے رب ہم نے کہا مانا اپنے سرداروں کا اور اپنے بڑوں کا پھر انہوں نے چکا دیا ہم کو راہ سے

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے رب ان کو دے دونا عذاب اور پھٹکار ان کو بڑی پھٹکار۔

خلاصہ تفسیر یہ (منکر) لوگ آپ سے قیامت کے متعلق (منکرانہ) سوال کرتے ہیں (کہ کب ہوگی) آپ (ان کے جواب میں) فرما دیجئے کہ اس (کے وقت) کی خبر بس اللہ ہی کے پاس ہے اور آپ کو کیا خبر (کہ کب ہے، البتہ اجمالاً ان لوگوں کو جان رکھنا چاہئے کہ) عجب نہیں کہ قیامت ابھی واقع ہوجائے (کیونکہ جب کوئی وقت معین نہیں تو قریب زمانے میں اس کے واقع ہوجانے کا بھی احتمال نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جس کا مقتضاء یہ تھا کہ یہ لوگ انجام سے ڈرتے اور اس کی تیاری میں لگتے، منکرانہ سوالات اور استہزاء سے بچتے۔ اور قیامت کو قریب فرمانے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قیامت ہر روز قریب ہی ہوتی جا رہی ہے، اور جو چیز سامنے سے آ رہی ہو اس کو قریب ہی سمجھنا دانشمندی ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی قیامت کو قریب کہا جاسکتا ہے کہ قیامت کے ہولناک واقعات اور اشتداد کے پیش نظر یہ ساری دنیا کی عمر بھی قلیل نظر آوے گی، اور ہزاروں سال کی یہ مدت چند روز کے برابر محسوس ہوگی) بیشک اللہ تعالیٰ نے کافروں کو رحمت سے دور کر رکھا ہے، اور ان کے لئے آتش سوزاں تیار کر رکھی ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (اور) نہ کوئی یار پائیں گے اور نہ کوئی مددگار جس روز ان کے چہرے دوزخ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے (یعنی چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے کبھی چہرے کی اس کروٹ پر کبھی دوسری کروٹ پر، اور اس وقت غایت حسرت سے) یوں کہیں گے اے کاش ! ہم نے (دنیا میں) اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول کی اطاعت کی ہوتی (تو آج اس مصیبت میں مبتلا نہ ہوتے) اور (حسرت کے ساتھ اپنے گمراہ کرنے والوں پر غصہ آئے گا تو) یوں کہیں گے کہ ہمارے رب ہم اپنے سرداروں کا، (یعنی اہل حکومت کا) اور اپنے بڑوں کا (جن میں کسی دوسری وجہ سے یہ صفت پائی جاتی تھی کہ ان کی بات ماننا اور اتباع کرنا ہمارے ذمے داری تھی) کہنا مانا تھا سو انہوں نے ہم کو (سیدھے) رستہ سے گمراہ کیا تھا اے ہمارے رب ان کو دوہری سزا دیجئے اور ان پر بڑی لعنت کیجئے (یہ ایسا مضمون ہے جیسا سورة اعراف کے چوتھے رکوع میں پہلے آ چکا ہے (آیت) ربنا ھولاء اضلونا فاتہم عذاباً ضعفاً فی النار، جس کا جواب اسی آیت میں یہ بیان فرمایا ہے لکل ضعف۔ معارف و مسائل سابقہ آیات میں اللہ و رسول کی مخالفت کرنے والوں کو دنیا اور آخرت میں لعنت و عذاب کی وعید سنائی گئی تھی، اور کفار کے بہت سے فرقے خود قیامت اور آخرت ہی کے منکر تھے اور انکار کی وجہ سے بطور استہزاء کے پوچھا کرتے تھے کہ وہ قیامت کب آئے گی ؟ آخر سورة میں ان کا جواب مذکورہ آیات میں دیا گیا ہے، جن کی تفسیر اوپر آ چکی ہے۔
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم مت ہو ان جیسے جنہوں نے ستایا موسیٰ کو پھر بےعیب دکھلایا اس کو اللہ نے ان کے کہنے سے اور تھا اللہ کے یہاں آبرو والا

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جنہوں نے (کچھ تہمت تراش کر) موسیٰ ؑ کو ایذاء دی تھی سو ان کو خدا تعالیٰ نے بری ثابت کردیا اس چیز سے جو وہ کہتے تھے (یعنی ان کو تو کچھ نقصان نہ پہنچا تہمت لگانے والے ہی کذاب اور مستحق سزا ٹھہرے) اور وہ (یعنی موسیٰ علیہ السلام) اللہ کے نزدیک بڑے معزز (پیغمبر) تھے (اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت ظاہر فرما دی جیسا کہ دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کے لئے اس طرح کی تہمتوں سے برات عام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم رسول کی مخالفت کر کے ان کو ایذاء نہ دینا کیونکہ ان کی مخالفت اللہ کی مخالفت ہے، ورنہ اس کے نتیجہ میں تم خود اپنا ہی نقصان کرلو گے اس لئے ہر کام میں اللہ و رسول کی اطاعت کرنا جس کا حکم آگے آتا ہے کہ) اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو (یعنی ہر امر میں اس کی اطاعت کرو) اور (بالخصوص کلام کرنے میں اس کی بہت رعایت رکھو کہ جب بات کرو) راستی کی بات کرو (جس میں عدل و اعتدال سے تجاوز نہ ہو) اللہ تعالیٰ (اس کے صلہ میں) تمہارے اعمال کو قبول کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا (کچھ ان اعمال کی برکت سے کچھ توبہ کی برکت سے جو تقویٰ اور قول سدید میں داخل ہے) اور (یہ ثمرات اطاعت کے ہیں اور اطاعت ایسی چیز ہے کہ) جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا۔ معارف و مسائل اس سے پہلی آیات میں اللہ و رسول کی ایذا کا مہلک اور خطرناک ہونا بیان کیا گیا تھا اس آیت میں خاص طور سے مسلمانوں کو اللہ و رسول کی مخالفت سے بچنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ یہ مخالفت ان کی ایذا کا سبب ہے۔ پہلی آیت میں ایک واقعہ حضرت موسیٰ ؑ کا جس میں ان کی قوم نے ان کو ایذا پہنچائی تھی ذکر کر کے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم ایسا نہ کرنا۔ اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ مسلمانوں سے کوئی ایسا کام سرزد ہوا ہو بلکہ حفظ ماتقدم کے طور پر ان کو یہ قصہ سنا کر ہدایت کی گئی ہے۔ اور ایک روایت میں جو قصہ بعض صحابہ کا منقول ہے اس کا محمل بھی یہی ہے کہ ان کو اس وقت اس طرف توجہ نہ ہوئی ہوگی کہ یہ کلمہ آنحضرت ﷺ کی ایذا کا موجب ہے، بالقصد ایذا پہنچانے کا کسی صحابی سے امکان نہیں، جتنے قصے بالقصد ایذا کے ہیں وہ سب منافقین کے ہیں۔ اور موسیٰ ؑ کا قصہ خود رسول اللہ ﷺ نے بیان فرما کر اس آیت کی تفسیر بیان فرما دی ہے جس کو امام بخاری نے کتاب التفیسر اور کتاب الانبیاء میں حضرت ابوہریرہ سے روایت فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ بہت حیا کرنے والے اور اپنے بدن کو چھپانے والے تھے، ان کے بدن کو کوئی نہ دیکھتا تھا، جب غسل کی ضرورت ہوتی تو پردہ کے اندر غسل کرتے تھے، ان کی قوم بنی اسرائیل میں عام طور پر یہ رواج تھا کہ مرد سب کے سامنے ننگے ہو کر نہاتے تھے، تو بعض بنی اسرائیل کہنے لگے کہ موسیٰ ؑ جو کسی کے سامنے نہیں نہاتے اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے بدن میں کوئی عیب ہے، یا تو برص ہے یا خصیتین بہت بڑھے ہوئے ہیں، یا کوئی اور آفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ موسیٰ ؑ کی اس طرح کے عیوب سے برات کا اظہار فرما دیں۔ ایک روز موسیٰ ؑ خلوت میں غسل کرنے کے لئے اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے، جب غسل سے فارغ ہو کر اپنے کپڑے لینے چاہے تو یہ پتھر (بحکم خداوندی حرکت میں آگیا) اور کپڑے لے کر بھاگنے لگا۔ موسیٰ ؑ اپنی لاٹھی اٹھا کر پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے چلے ثوبی حجر ثوبی حجر، ”یعنی اے پتھر میرے کپڑے، اے پتھر میرے کپڑے“ مگر پتھر چلتا رہا یہاں تک کہ یہ پتھر ایسی جگہ جا کر ٹھہرا جہاں بنی اسرائیل کا ایک مجمع تھا، اس وقت بنی اسرائیل نے موسیٰ ؑ کو سر سے پاؤں تک ننگا دیکھا تو بہترین صحیح وسالم بدن دیکھا (جس میں ان کا منسوب کیا ہوا کوئی عیب نہ تھا) اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی برات ان عیوب سے ان سب کے سامنے ظاہر فرما دی۔ پتھر یہاں پہنچ کر ٹھہر گیا تھا، موسیٰ ؑ نے اپنے کپڑے اٹھا کر پہن لئے، پھر موسیٰ ؑ نے پتھر کو لاٹھی سے مارنا شروع کیا۔ خدا کی قسم ! اس پتھر میں موسیٰ ؑ کی ضرب سے تین یا چار یا پانچ اثر قائم ہوگئے۔ یہ واقعہ بیان فرما کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کی اس آیت کا یہی مطلب ہے۔ یعنی آیت مذکورہ (آیت) کالذین اذواموسیٰ۔ کا آیت مذکورہ میں موسیٰ ؑ کی جس ایذا کا ذکر ہے اس کی تفسیر اس قصہ میں خود رسول کریم ﷺ سے منقول ہے۔ بعض صحابہ کرام سے ایذا موسیٰ ؑ کا ایک قصہ اور بھی مشہور ہے۔ وہ بھی اس کے ساتھ ضرور ملحق ہے۔ مگر تفسیر آیت وہی راجح ہے جو مرفوع حدیث میں موجود ہے۔ (آیت) وکان عند اللہ وجیہاً ”یعنی تھے موسیٰ ؑ اللہ کے نزدیک صاحب وجاہت“ اللہ کے نزدیک کسی کی وجاہت اور جاہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرمائیں اس کی خواہش کو رد نہ کریں۔ چناچہ موسیٰ ؑ کا مستجاب الدعوات ہونا قرآن میں ان واقعات کثیرہ سے ثابت ہے جن میں انہوں نے کسی چیز کی دعا مانگی اللہ تعالیٰ نے اسی طرح قبول فرمایا۔ ان میں سب سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ ہارون ؑ کو پیغمبر بنانے کی دعا کی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرما کر ان کو موسیٰ ؑ کے ساتھ شریک رسالت بنادیا، حالانکہ منصب نبوت کسی کو کسی کی سفارش پر نہیں دیا جاتا۔ (ابن کثیر)
Ayah 33:70

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ڈرتے رہو اللہ سے اور کہو بات سیدھی

عادة اللہ یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو ایسے جسمانی عیوب سے بھی بری رکھا جاتا ہے جو موجب نفرت ہوں اس واقعہ میں قوم کے عیب لگانے پر اس سے برات کا حق تعالیٰ نے اتنا اہتمام فرمایا کہ بطور معجزہ پتھر کپڑے لے کر بھاگا اور موسیٰ ؑ اضطراراً لوگوں کے سامنے ننگے آگئے یہ اہتمام اس کی نشان دہی کرتا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے انبیاء کے اجسام کو بھی قابل نفرت و تحقیر عیوب سے عموماً پاک اور بری رکھتا ہے، جیسا کہ حدیث بخاری سے یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء سب کے سب عالی نسب میں پیدا کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ عرفاً جس نسب اور خاندان کو لوگ حقیر سمجھتے ہوں اس کی بات سننے ماننے کے لئے تیار ہونا مشکل ہے۔ اسی طرح تاریخ انبیاء میں کسی پیغمبر کا نابینا، بہرا، گونگا یا ہاتھ پاؤں سے معذور ہونا ثابت نہیں، اور حضرت ایوب ؑ کے واقعہ سے اس پر اعتراض نہیں ہوسکتا کہ وہ بحکمت خداوندی ایک خاص ابتلاء و امتحان کے لئے چند روزہ تکلیف تھی پھر ختم کردی گئی۔ واللہ اعلم۔ (آیت) یایہا الذین امنوا اتقوا اللہ وقولوا قولاً سدیداً۔ یصلح لکم اعمالکم ویغفرلکم ذنوبکم، قول سدید کی تفسیر بعض نے صدق کے ساتھ کی، بعض نے مستقیم اور بعض نے صواب وغیرہ سے کی۔ ابن کثیر نے سب کو نقل کر کے فرمایا کہ سب حق ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ قرآن کریم نے اس جگہ صادق یا مستقیم وغیرہ کے الفاظ چھوڑ کر سدید کا لفظ اختیار فرمایا، کیونکہ لفظ سدید ان تمام اوصاف کا جامع ہے۔ اسی لئے کاشفی نے روح البیان میں فرمایا کہ قول سدید وہ قول ہے جو سچا ہو جھوٹ کا اس میں شائبہ نہ ہو، صواب ہو جس میں خطاء کا شائبہ نہ ہو، ٹھیک بات ہو، ہزل یعنی مذاق و دل لگی نہ ہو، نرم کلام ہو دلخراش نہ ہو۔
Ayah 33:71

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

کہ سنوار دے تمہارے واسطے تمہارے کام اور بخش دے تم کو تمہارے گناہ اور جو کوئی کہنے پر چلا اللہ کے اور اس کے رسول کے اس نے پائی بڑی مراد۔

زبان کی اصلاح باقی سب اعضاء و اعمال کی اصلاح میں موثر ذریعہ ہے اس آیت میں اصل حکم سب مسلمانوں کو یہ دیا گیا ہے کہ اتقوا اللہ یعنی تقویٰ اختیار کرو جس کی حقیقت تمام احکام آلہیہ کی مکمل اطاعت ہے کہ تمام اوامر کی تعمیل کرے اور تمام منہیات و مکروہات سے اجتناب کرے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کام انسان کے لئے آسان نہیں، اس لئے اتقوا اللہ کے بعد ایک خاص عمل کی ہدایت ہے، یعنی اپنے کلام کی درستی اور اصلاح۔ یہ بھی اگرچہ تقویٰ کا ہی ایک جز ہے مگر ایسا جز ہے کہ اس پر قابو پا لیا جائے تو باقی اجزاء تقویٰ خود بخود حاصل ہوتے چلے جائیں گے جیسا کہ خود آیت مذکورہ میں قول سدید اختیار کرنے کے نتیجہ میں (آیت) یصلح لکم اعمالکم کا وعدہ ہے یعنی اگر تم نے اپنی زبان کو غلطی سے روک لیا اور کلام درست اور بات سیدھی کہنے کے خوگر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال کی اصلاح فرمائیں گے، اور سب کو درست کردیں گے اور آخر آیت میں یہ وعدہ فرمایا کہ یغفرلکم ذنوبکم یعنی جس شخص نے اپنی زبان پر قابو پا لیا، راست گوئی اور سیدھی بات کا عادی بن گیا، اللہ تعالیٰ اس کے باقی اعمال کی بھی اصلاح فرما دیں گے اور جو لغزشیں اس سے ہوئی ہیں ان کو معاف فرما دیں گے۔ قرآنی احکام میں تسہیل کا خاص اہتمام قرآن کریم کے عام اسلوب میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کوئی حکم ایسا دیا گیا جس کی تعمیل میں کچھ مشقت و دشواری ہو تو ساتھ ہی اس کے آسان کرنے کا طریقہ بھی بتلا دیا گیا ہے۔ اور چونکہ سارے دین کا خلاصہ تقویٰ ہے اور اس میں پورا اترنا بڑی مشقت ہے، اس لئے عموماً جہاں اتقوا اللہ کا حکم دیا گیا ہے تو اس سے پہلے یا بعد میں کوئی ایک عمل ایسا بتلا دیا ہے جس کے اختیار کرنے سے تقویٰ کے باقی ارکان پر عمل منجانب اللہ آسان کردیا جاتا ہے۔ اسی کی ایک نظر اس آیت میں اتقوا اللہ کے بعد قولوا قولاً سدیداً کی تلقین ہے، اور اس سے پہلی آیت میں اتقوا اللہ سے پہلے (آیت) ولا تکونوا کالذین اذا واموسیٰ فرما کر اس بات کی طرف ہدایت فرما دی کہ تقویٰ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اللہ کے نیک اور مقبول بندوں کو ایذاء دینا ہے اسے چھوڑ دو تو تقویٰ آسان ہوجائے گا۔ ایک آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) اتقوا اللہ وکونوامع الصدقین، اس میں تقویٰ کو آسان کرنے کے لئے ایسے لوگوں کی صحبت ومجالست کی تلقین فرمائی جو بات کے سچے ہوں اور عمل کے بھی سچے ہوں، جس کا حاصل ولی اللہ ہونا ہے۔ اور دوسری آیت میں اتقوا اللہ کے ساتھ (آیت) ولتنظر نفس ماقدمت لغد بڑھا دیا، جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر انسان کو اس کی فکر چاہئے کہ اس نے کل یعنی روز محشر کے لئے کیا سامان بھیجا ہے ؟ جس کا خلاصہ فکر آخرت ہے اور یہ فکر تقویٰ کے تمام ارکان کو آسان کردینے والی چیز ہے۔ زبان و کلام کی درستی دین و دنیا دونوں کے کام درست کرنیوالی ہے حضرت شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی ؒ نے جو ترجمہ اس آیت کا کیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں جو سیدھی بات کا عادی ہونے پر اصلاح اعمال کا وعدہ ہے وہ صرف دینی اعمال ہی نہیں، بلکہ دنیا کے سب کام بھی اس میں داخل ہیں، جو شخص قول سدید کا عادی ہوجائے یعنی کبھی جھوٹ نہ بولے، سوچ سمجھ کر کلام کرے جو خطاء و لغزش سے پاک ہو، کسی کو فریب نہ دے، دل خراش بات نہ کرے، اس کے اعمال آخرت میں بھی درست ہوجائیں گے اور دنیا کے کام بھی بن جائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب کا ترجمہ یہ ہے کہ (کہو بات سیدھی کہ سنوار دے تم کو تمہارے کام)۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے دکھلائی امانت آسمانوں کو اور زمین کو اور پہاڑوں کو پھر کسی نے قبول نہ کیا کہ اس کو اٹھائیں اور اس سے ڈر گئے اور اٹھا لیا اس کو انسان نے یہ ہے بڑا بےترس نادان

خلاصہ تفسیر ہم نے یہ امانت (یعنی احکام جو بمنزلہ امانت کے ہیں) آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تھی (یعنی ان میں کچھ شعور پیدا کر کے جو کہ اب بھی ہے ان کے روبرو اپنے احکام اور بصورت ماننے کے اس پر انعام و اکرام اور بصورت نہ ماننے کے اس پر تعذیب و آلام پیش کر کے ان کو لینے نہ لینے کا اختیار دیا۔ اور حاصل اس پیش کرنے کا یہ تھا کہ اگر تم ان احکام کو اپنے ذمہ رکھتے ہو تو ان کے موافق عمل کرنے کی صورت میں تم کو ثواب ملے گا اور خلاف کرنے کی صورت میں عذاب ہوگا اور اگر نہیں لیتے تو مکلف نہ بنائے جاؤ گے، اور ثواب و عذاب کے بھی مستحق نہ ہو گے، تم کو دونوں اختیار ہیں کہ اس کو نہ لینے سے نافرمان نہ ہو گے جس قدر ان کو شعور تھا وہ اجمالاً اس قدر مضمون سمجھ لینے کے لئے کافی تھا، چونکہ ان کو اختیار بھی دیا گیا تھا) سو انہوں نے (خوف و عذاب کے سبب احتمال ثواب سے بھی دست برداری کی اور) اس کی ذمہ داری سے انکار کردیا اور اس (کی ذمہ داری) سے ڈر گئے (کہ خدا جانے کیا انجام ہو، اور اگر وہ اپنے ذمہ رکھ لیتے تو مثل انسان کے ان کو بھی عقل عطا کی جاتی، جو تفصیل احکام و مثوبات و عقوبات کے سمجھنے کے لئے ضروری ہے، چونکہ اس کو نہیں منظور کیا، اس لئے عقل کی بھی ضرورت نہ ہوئی۔ غرض انہوں نے تو عذر کردیا) اور (جب ان سموات و ارض و جبال کے بعد انسان کو پیدا کر کے اس سے یہی بات پوچھی گئی تو) انسان نے (بوجہ اس کے کہ علم الٰہی میں اس کا خلیفہ ہونا مقرر تھا) اس کو اپنے ذمہ لے لیا (غالباً اس وقت تک اس میں بھی اتنا ہی ضرورت کے قدر شعور ہوگا اور غالباً یہ پیش کرنا اخذ میثاق سے مقدم ہے، اور وہ میثاق اسی حمل امانت کی فرع ہے، اور اس میثاق کے وقت اس میں عقل عطا کی گئی ہوگی، اور یہ کسی خاص انسان سے مثل آدم ؑ کے نہیں پوچھا گیا، بلکہ مثل اخذ میثاق کے یہ عرض بھی عام ہوگا اور التزام بھی عام تھا۔ پس سموات و ارض جبال مکلف نہ ہوئے اور یہ مکلف بنادیا گیا۔ آیت میں اس کا یاد دلانا غالباً اسی حکمت سے ہے جیسا کہ میثاق یاد دلایا، یعنی ان احکام کا تم نے از خود التزام کیا ہے تو پھر نبھانا چاہئے۔ اور چونکہ مکلف جن بھی ہے اس لئے غالباً وہ اس عرض اور حمل میں شریک ہیں مگر تخصیص ذکر انسان کی صرف اس لئے ہے کہ اس مقام میں کلام اسی سے ہو رہا ہے، پھر اس التزام کے بعد انسان کی حالت باعتبار اکثر افراد کے یہ ہوئی کہ) وہ (انسان عملیات میں) ظالم ہے (اور عملیات میں) جاہل ہے (یعنی دونوں امر میں اعمال میں بھی اور عقائد میں بھی خلاف و رزی کرتا ہے یہ تو حالت با عتبار اکثر افراد کے ہے، باقی مجموعہ کے اعتبار سے اس ذمہ داری کا) انجام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کو (کہ یہ لوگ احکام کے ضائع کرنیوالے ہیں) سزا دے گا اور مومنین و مومنات پر توجہ (اور رحمت) فرما دے گا اور (بعد مخالفت بھی اگر کوئی باز آ جاوے تو پھر اس کو بھی مومنین و مومنات کے زمرہ میں شامل کرلیا جائے گا۔ کیونکہ) اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ معارف و مسائل اس پوری سورة میں تعظیم و تکریم رسول اور ان کی اطاعت پر زور دیا گیا ہے، آخر سورة میں اس اطاعت کا مقام بلند اور اس کا درجہ بتلایا گیا ہے، اس میں اللہ و رسول کی اطاعت اور ان کے احکام کی تعمیل کو امانت سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کی وجہ آگے آجائے گی۔ امانت سے کیا مراد ہے اس جگہ لفظ امانت کی تفسیر میں ائمہ تفسیر صحابہ وتابعین وغیرھم کے بہت سے اقوال منقول ہیں۔ فرائض شرعیہ، حفاظت عفت، امانات اموال، غسل جنابت، نماز، زکوٰة، روزہ، حج وغیرہ، اسی لئے جمہور مفسرین نے فرمایا ہے کہ دین کے تمام وظائف و اعمال اس میں داخل ہیں۔ (قرطبی) تفسیر مظہری میں فرمایا کہ شریعت کی تمام تکلیفات امر و نہی کا مجموعہ امانت ہے، ابوحیان نے بحیر محیط میں فرمایا ”یعنی ہر وہ چیز جس میں انسان پر اعتماد کیا جاتا ہے یعنی امر و نہی اور ہر حال جس کا دین یا دنیا سے تعلق ہو اور شریعت پوری کی پوری امانت ہے یہی جمہور کا قول ہے“ خلاصہ یہ ہے کہ امانت سے مراد احکام شرعیہ کا مکلف و مامور ہونا ہے، جن میں پورا اترنے پر جنت کی دائمی نعمتیں اور خلاف ورزی یا کوتاہی پر جہنم کا عذاب موعود ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ امانت سے مراد احکام الہیہ کا بار اٹھانے کی صلاحیت و استعداد ہے جو عقل و شعور کے خاص درجہ پر موقوف ہے، اور ترقی اور استحقاق خلافت الہیہ اسی خاص استعداد پر موقوف ہے جن میں اجناس مخلوقات میں یہ استعداد نہیں ہے وہ اپنی جگہ کتنا ہی اونچا اور اعلیٰ مقام رکھتے ہوں مگر وہ اس مقام سے ترقی نہیں کرسکتے۔ اسی وجہ سے آسمان زمین وغیرہ میں یہاں تک کہ فرشتوں میں بھی ترقی نہیں جس کا جو مقام قرب ہے بس وہی ہے، ان کا حال یہ ہے مامنا الا لہ مقام معلوم، ”یعنی ہم میں سے کوئی نہیں مگر اس کا ایک معین مقام ہے“ امانت کے اس مفہوم میں تمام روایات حدیث جو امانت کے متعلق آئی ہیں مربوط و مطابق ہوجاتی ہیں، جمہور مفسرین کے اقوال بھی اس میں تقریباً متفق ہوجاتے ہیں۔ صحیحین بخاری و مسلم اور مسند احمد میں حضرت حذیفہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ہمیں دو حدیثیں سنائی تھیں، ان میں سے ایک کو تو ہم نے خود آنکھوں سے دیکھ لیا، دوسری کا انتظار ہے۔ پہلی حدیث یہ ہے کہ اول رجال دین کے قلوب میں امانت نازل کی گئی، پھر قرآن اتارا گیا، تو اہل ایمان نے قرآن سے علم حاصل اور سنت سے عمل حاصل کیا۔ اس کے بعد دوسری حدیث یہ سنائی کہ (ایک وقت ایسا آنے والا ہے جس میں) آدمی سو کر اٹھے گا تو اس کے قلب سے امانت سلب کرلی جائے گی اور اس کا کچھ اثر و نشان ایسا رہ جائے گا جیسے تم کوئی آگ کا انگارہ اپنے پاؤں پر لڑھکا دو (وہ انگارہ تو چلا گیا مگر) اس کا اثر پاؤں پر ورم یا چھالے کی صورت میں رہ گیا حالانکہ اس میں آگ کا کوئی جز نہیں (الیٰ قولہ) یہاں تک کہ لوگ باہم معاملات اور معاہدات کریں گے، مگر کوئی امانت کا حق ادا نہ کرے گا اور (دیانتدار آدمی کا ایسا قحط ہوجائے گا کہ) لوگ یہ کہا کریں گے کہ فلاں قبیلہ میں ایک آدمی دیانتدار ہے۔ اس حدیث میں امانت ایک ایسی چیز کو قرار دیا ہے جس کا تعلق انسان کے قلب سے ہے، اور وہی تکالیف شرعیہ اور وظائف دینیہ کے مکلف ہونے کی صلاحیت و استعداد رکھتا ہے۔ اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار چیزیں ایسی ہیں کہ جب وہ تمہیں حاصل ہوجائیں تو دنیا کی اور کوئی چیز تمہیں حاصل نہ ہو تو کوئی افسوس کی بات نہیں، (وہ چار چیزیں یہ ہیں) امانت کی حفاظت، بات کی سچائی، حسن خلق اور لقمہ حلال۔ (از ابن کثیر) عرض امانت کی تحقیق آیت مذکورہ میں یہ ارشاد ہے کہ ہم نے امانت کو آسمانوں پر، زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا تو سب نے اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے، کہ ہم اس کا حق ادا کرسکیں گے، اور انسان نے یہ بوجھ اٹھا لیا۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ آسمان، زمین، پہاڑ جو غیر ذی روح اور بظاہر بےعلم و شعور ہیں ان کے سامنے پیش کرنے اور ان کے جواب دینے کی کیا صورت ہو سکتی ہے ؟ بعض حضرات نے تو اس کو مجاز اور تمثیل قرار دے دیا جیسے قرآن کریم نے ایک موقع پر بطور تمثیل کے فرمایا (آیت) لو انزلنا ھذا القرآن علیٰ جبل لرایة خاشعاً متصدعاً من خشیة اللہ،”یعنی ہم اگر یہ قرآن پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ وہ بھی اس کے بوجھ سے جھک جاتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا اللہ کے خوف سے“ کہ اس میں بطور فرض کے یہ مثال دی گئی ہے، یہ نہیں کہ حقیقتاً پہاڑ پر اتارا ہو۔ ان حضرات نے آیت انا عرضنا کو بھی اسی طرح کی تمثیل و مجاز قرار دے دیا۔ مگر جمہور علماء کے نزدیک یہ صحیح نہیں، کیونکہ جس آیت سے تمثیل پر استدلال کیا گیا ہے وہاں تو قرآن کریم نے حرف لو کے ساتھ بیان کر کے اس کا قضیہ فرضیہ ہونا خود واضح کردیا ہے، اور آیت انا عرضنا میں ایک واقعہ کا اثبات ہے، جس کو مجاز و تمثیل پر حمل کرنا بغیر کسی دلیل کے جائز نہیں۔ اور اگر دلیل میں یہ کہا جائے کہ یہ چیزیں بےحس و بےشعور ہیں ان سے جواب سوال نہیں ہو سکتا، تو یہ قرآن کی دوسری تصریحات سے مردود ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کا واضح ارشاد ہے (آیت) و ان من شئی الا یسبح بحمدہ، ”یعنی کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد و تسبیح نہ پڑھتی ہو“ اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہچاننا اور اس کو خالق ومالک اور سب سے اعلیٰ و برتر جان کر اس کی تسبیح کرنا بغیر ادراک و شعور کے ممکن نہیں۔ اس لئے اس آیت سے ثابت ہوا کہ ادراک و شعور تمام مخلوقات میں یہاں تک کہ جمادات میں بھی موجود ہے، اسی ادراک و شعور کی بنا پر ان کو مخاطب بھی بنایا جاسکتا ہے اور وہ جواب بھی دے سکتے ہیں جواب کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، الفاظ و حروف کے ذریعہ بھی ہوسکتا ہے اور اس میں عقلی امتتاع نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان جمادات، آسمان، زمین اور پہاڑوں کو نطق و گویائی عطا فرما دیں۔ اس لئے جمہور امت کے نزدیک آسمان، زمین اور پہاڑوں پر عرض امانت حقیقی طور پر کیا گیا اور انہوں نے حقیقی طور پر ہی اپنا اس بار سے عاجز ہونا ظاہر کیا، اس میں کوئی تمثیل یا مجاز نہیں۔ عرض امانت اختیاری تھا جبری نہیں رہا یہ سوال کہ جب حق تعالیٰ شانہ نے آسمان زمین وغیرہ پر اس امانت کو خود پیش فرمایا تو ان کی مجال انکار کیسے ہوئی، حکم الہٰی سے روگردانی کی تھی تو ان کو نیست و نابود ہوجانا چاہئے تھا، اس کے علاوہ آسمان و زمین کا مطیع ہونا اور تابع فرمان ہونا قرآن کریم کی آیت اتینا طالعین سے بھی ثابت ہے یعنی جب حق تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حکم دیا کہ (ہمارے حکم کی تعمیل کے لئے) آجاؤ خواہ اپنی خوشی سے یا زبردستی سے، تو دونوں نے یہ جواب دیا کہ ہم تعمیل حکم کے لئے خوشی سے حاضر ہیں۔ جواب یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں ان کو ایک حاکمانہ پابندی کا حکم دے دیا گیا تھا، جس میں یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ تم اس حکم پر دل سے راضی ہو یا نہ ہو بہرحال یہ حکم ماننا پڑے گا بخلاف اس آیت عرض امانت کے کہ اس میں امانت کو پیش کر کے ان کو اختیار دیا گیا تھا کہ قبول کریں یا نہ کریں۔ ابن کثیر نے متعدد سندوں کے ساتھ متعدد صحابہ وتابعین ابن عباس، حسن بصری، مجاہد وغیرہ سے عرض امانت کی یہ تفصیل نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اول آسمان پر پھر زمین پر پھر پہاڑوں پر اختیاری صورت میں یہ پیش کیا۔ کہ ہماری امانت (یعنی اطاعت احکام) کا بار اٹھا لو اس معاوضہ کے ساتھ جو اس کے لئے مقرر ہے۔ ہر ایک نے سوال کیا کہ معاوضہ کیا ہے تو بتلایا گیا کہ امانت (یعنی اطاعت احکام) تم نے پوری طرح کی تو تمہیں جزاء وثواب اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعزاز خاص ملے گا اور اگر تعمیل احکام نہ کی یا اس میں کوتاہی کی تو عذاب و سزا ملے گی۔ ان سب بڑے بڑے اجسام نے یہ سن کر جواب دیا کہ اے ہمارے پروردگار ہم اب بھی آپ کے تابع فرمان چل رہے ہیں، لیکن (جب ہمیں اختیار دیا گیا تو) ہم اس بار کو اٹھانے سے اپنے کو عاجز پاتے ہیں، ہم نہ ثواب چاہتے ہیں نہ ہی عذاب کے متحمل ہیں۔ اور تفسیر قرطبی میں حکیم ترمذی کے حوالہ سے حضرت ابن عباس کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (آسمان، زمین وغیرہ پر عرض امانت اور ان کے جواب کے بعد) حق تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو خطاب فرمایا اور فرمایا کہ ہم نے اپنی امانت آسمان زمین کے سامنے پیش کی تو وہ اس کا بار اٹھانے سے عاجز ہوگئے، تو آپ اس بار امانت کو اٹھائیں گے مع اس چیز کے جو اس کے ساتھ ہے۔ آدم ؑ نے سوال کیا کہ اے پروردگار وہ چیز جو اس کے ساتھ ہے کیا ہے ؟ جواب ملا کہ اگر حمل امانت میں پورے اترے (یعنی اطاعت مکمل کی) تو آپ کو جزا ملے گی (جو اللہ تعالیٰ کے قرب و رضا اور جنت کی دائمی نعمتوں کی صورت میں ہوگی) اور اگر اس امانت کو ضائع کیا تو سزا ملے گی۔ آدم ؑ نے (اللہ تعالیٰ کے قرب و رضا میں ترقی ہونے کے شوق میں) اس کو اٹھا لیا، یہاں تک کہ بار امانت اٹھانے پر اتنا وقت بھی نہ گزرا تھا جتنا ظہر سے عصر تک ہوتا ہے کہ اس میں شیطان نے ان کو مشہور لغزش میں مبتلا کردیا، اور جنت سے نکالے گئے۔ عرض امانت کا واقعہ کس زمانے میں ہوا ؟ ابھی جو روایت حضرت ابن عباس کی اوپر گزری ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عرض امانت آسمان، زمین وغیرہ پر تخلیق آدم سے پہلے ہوا تھا، پھر جب آدم ؑ کو پیدا کیا گیا تو ان کے سامنے یہ بھی بیان فرمایا گیا کہ آپ سے پہلے آسمان زمین پر بھی یہ امانت پیش کی جا چکی ہے، جس کی ان کو طاقت نہ تھی، اس لئے عذر کردیا۔ اور ظاہر یہ ہے کہ یہ عرض امانت کا واقعہ میثاق اول یعنی عہد الست سے پہلے کا ہے کیونکہ عہد الست بربکم اسی بار امانت کی پہلی کڑی اور اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے قائم مقام ہے۔ خلافت ارضی کے لئے بار امانت اٹھانے کی صلاحیت ضروری تھی حق تعالیٰ نے تقدیر ازلی میں آدم ؑ کو زمین میں اپنا خلیفہ بنانا طے فرمایا تھا اور یہ خلافت اسی کو سپرد کی جاسکتی تھی، جو احکام الہیہ کی اطاعت کا بار اٹھائے، کیونکہ اس خلافت کا حاصل ہی یہ ہے کہ زمین پر اللہ کے قانون کو نافذ کرے، خلق خدا کو احکام الہیہ کی اطاعت پر امادہ کرے۔ اس لئے تکوینی طور پر حضرت آدم ؑ اس امانت کے اٹھانے کے لئے آمادہ ہوگئے، حالانکہ دوسری بڑی بڑی مخلوقات کا اس سے عاجز ہونا بھی معلوم ہوچکا تھا۔ (مظہری وبیان القرآن) ان کان ظلوماً جھولاً ، ظلوم سے مراد اپنے نفس پر ظلم کرنے والا، اور جہول سے مراد انجام سے ناواقف۔ اس حملے سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مطلقاً انسان کی مذمت میں آیا ہے کہ اس نادان نے اپنی جان پر ظلم کیا کہ اتنا بڑا بار اٹھا لیا۔ جو اس کی طاقت سے باہر تھا مگر قرآنی تصریحات کے مطابق واقعہ ایسا نہیں، کیونکہ انسان سے مراد حضرت آدم ؑ ہوں یا پوری نوع انسانی، ان میں آدم ؑ تو نبی معصوم ہیں، انہوں نے جو بار اٹھایا تھا اس کا حق بھی یقینی طور پر ادا کردیا۔ اسی کے نتیجہ میں ان کو خلیفة اللہ بنا کر زمین پر بھیجا گیا، ان کو فرشتوں کا مسجود بنایا گیا، اور آخرت میں ان کا مقام فرشتوں سے بھی بلند وبالا ہے۔ اور اگر نوع انسانی ہی مراد ہو تو اس پوری نوع میں لاکھوں تو انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور کروڑوں وہ صالحین اور اولیاء اللہ ہیں جن پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں، جنہوں نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ وہ امانت الٰہیہ کے اہل اور مستحق تھے۔ انہیں حق امانت کو ادا کرنے والوں کی بنا پر قرآن حکیم نے نوع انسانی کو اشرف المخلوقات ٹھہرایا۔ (آیت) ولقد کرمنا بنی آدم، اس سے ثابت ہوا کہ نہ آدم ؑ قابل مذمت ہیں نہ پوری نوع انسانی، اسی لئے حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ جملہ مذمت کے لئے نہیں بلکہ اکثر افراد نوع کے اعتبار سے بیان واقعہ کے طور پر ارشاد ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نوع انسانی کی اکثریت ظلوم و جہول ثابت ہوئی، جس نے اس امانت کا حق ادا نہ کیا، اور خسارہ میں پڑی، اور چونکہ اکثریت کا یہ حال تھا، اس لئے اس کو نوع انسانی کی طرف منسوب کردیا گیا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ آیت میں ظلوم وجہول خاص ان افراد انسانی کو کہا گیا ہے جو احکام شرعیہ کی اطاعت میں پورے نہ اترے اور امانت کا حق ادا نہ کیا، یعنی امت کے کفار و منافقین اور فساق و فجار اور گناہ گار مسلمان۔ یہ تفسیر حضرت ابن عباس، ابن جبیر، حسن بصری وغیرہ سے منقول ہے۔ (قرطبی) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ لفظ ظلوم وجہول اس جگہ بھولے بھالے کے معنی ہیں بطور محبانہ خطاب کے ہے کہ اس نے اللہ جل شانہ کی محبت اور اس کے مقام قرب کی جستجو میں اور کسی انجام کو نہیں سوچا۔ اسی طرح یہ لفظ پوری بنی نوع کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ تفسیر مظہری میں حضرت مجدد الف ثانی اور دوسرے صوفیائے کرام سے اسی طرح کا مضمون منقول ہے۔
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ عذاب کرے اللہ منافق مردوں کو اور عورتوں کو اور شرک کرنے والے مردوں کو اور عورتوں کو اور معاف کرے اللہ ایمان دار مردوں کو اور عورتوں کو اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان۔

(آیت) لیعذب اللہ المنفقین والمنفقت الآیة، ”یعنی تاآنکہ عذاب دے گا اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو، اور مشرکین مردوں اور عورتوں کو، اور رحمت و مغفرت سے نوازے گا مومنین و مومنات کو“ لیعذب میں حرف لام بیان علت و غرض کے لئے نہیں بلکہ اصطلاح عربیت کے لحاظ سے لام عاقبت ہے۔ یعنی جو کسی چیز کا انجام بیان کرے جیسے ایک عربی شعر میں ہے لدو اللموت وابنو اللخراب۔ ”یعنی پیدا ہو موت کے لئے اور تعمیر کرو ویران ہونے کے لئے“ مراد یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والے کا انجام موت اور ہر تعمیر کا انجام ویرانی ہے۔ اس جملے کا تعلق حملہا الانسان سے ہے، یعنی انسان کے بار امانت اٹھانے کا انجام یہ ہوگا کہ نوع انسانی میں دو فریق ہوجائیں گے، ایک کفار و منافق وغیرہ جو اطاعت الٰہیہ سے سرکش ہو کر امانت کے ضائع کرنے والے ہوگئے، ان کو عذاب دیا جائے گا، دوسرے مومنین و مومنات جو اطاعت احکام شرعیہ کے ذریعہ حق امانت ادا کرچکے، ان کے ساتھ رحمت و مغفرت کا معاملہ ہوگا۔ اس آخری جملے میں بھی ظلوم وجہول کے الفاظ کی اس تفسیر کی تائید ہوئی جو اکثر ائمہ تفسیر سے اوپر نقل کی گئی ہے، کہ یہ تمام نوع انسانی کے لئے نہیں بلکہ خاص ان افراد کے لئے ہے جنہوں نے امانت الہیہ کو ضائع کیا۔ واللہ سبحانہ، وتعالیٰ اعلم۔ تمت سورة الاحزاب بعونہ تعالیٰ و حمدہ للعشرین من محرم الحرام 1392 ھ یوم الثلثاء