Ayah 33:40خلاصہ تفسیر
(پہلی آیات میں نکاح زینب کا تبلیغ عملی ہونے اور سنت انبیاء ہونے کی حیثیت سے محمود ہونا بتلایا گیا تھا، آگے ان معترضین کا جواب ہے جو اس نکاح کو مذموم سمجھ کر طعنہ زنی کرتے تھے، یعنی) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں (یعنی جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے علاقہ اولاد نہیں رکھتے، جیسا کہ اس آیت میں عام صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا رجالکم یعنی تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ اس میں نسبت عام لوگوں کی طرف دی گئی، اور آنحضرت ﷺ سے نسبت قطع کی گئی۔ اس لئے اپنے خاندان کے افراد میں سے کسی مرد کا باپ ہونا اس کے منافی نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ عام امت کے لوگوں کے ساتھ آپ کو ایسی ابوت حاصل نہیں جو کسی دلیل صحیح سے ان کی مطلقہ بیوی کے ساتھ نکاح حرام ہونے کا موجب ہو) لیکن (ہاں ایک دوسری قسم کی ابوت روحانی ضرور حاصل ہے، چنانچہ) اللہ کے رسول ہیں (اور ہر رسول روحانی مربی ہونے کی وجہ سے امت کا روحانی باپ ہوتا ہے) اور (اس ابوت روحانیہ میں اس درجہ کامل ہیں کہ سب رسولوں سے افضل واکمل ہیں، چناچہ آپ) سب نبیوں کے ختم پر ہیں (اور جونہی ایسا ہوگا وہ ابوت روحانیہ میں سب سے بڑھ کر ہوگا، کیونکہ آپ کی ابوت روحانیہ کا سلسلہ قیامت تک چلے گا، جس کے نتیجہ میں آپ کی روحانی اولاد سب سے زیادہ ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ امت کے لئے آپ کی ابوت جسمانی اور نسبی نہیں ہے جس سے حرمت نکاح متعلق ہوتی ہے بلکہ ابوت روحانی ہے۔ اس لئے متبنیٰ بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کوئی قابل اعتراض نہیں، بلکہ اس روحانی ابوت کا تقاضا یہ ہے کہ سب لوگ آپ پر مکمل اعتماد و اعتقاد رکھیں، آپ کے کسی قول و فعل پر شک و شبہ نہ کریں) اور (اگر یہ وسوسہ ہو کہ یہ نکاح ناجائز تو نہیں تھا، لیکن اگر نہ ہوتا تو بہتر ہوتا تاکہ لوگوں کو اعتراض اور طعن کا موقع ہی نہ ملتا تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ) اللہ تعالیٰ ہر چیز (کے وجود یا عدم کی مصلحت) کو خوب جانتا ہے۔
معارف و مسائل
آیت مذکورہ میں لوگوں کے خیال کا رد ہے جو اپنی رسم جاہلیت کے مطابق زید بن حارثہ کو رسول اللہ ﷺ کا بیٹا کہتے تھے، اور ان کی طلاق کے بعد حضرت زنیب سے آنحضرت ﷺ کے نکاح پر طعن کرتے تھے، کہ بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس کے رد کے لئے یہ کہہ دینا کافی تھا کہ رسول اللہ ﷺ زید کے باپ نہیں بلکہ زید کے باپ حارثہ ہیں، مگر اس میں مبالغہ اور تاکید کیلئے ارشاد فرمایا (آیت) ماکان محمد ابا احدمن رجالکم، یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ بھی نہیں، تو ایسے شخص پر جس کی اولاد میں کوئی بھی مرد نہ ہو یہ طعن دینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے، کہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور اس کی مطلقہ بیوی آپ کے بیٹے کی بیوی ہونے کی وجہ سے آپ پر حرام ہے۔
اس مضمون کے بیان کے لئے مختصر الفاظ یہ تھے کہ (ابا احد منکم) کہا جاتا، اس کے بجائے قرآن حکیم نے لفظ رجال کا اضافہ کر کے اس شبہ کو دور کردیا کہ رسول اللہ ﷺ تو چار فرزندوں کے والد ہیں، تین فرزند حضرت خدیجہ سے قاسم، طیب، طاہر ہیں اور ایک حضرت ماریہ قبطیہ سے ابراہیم، کیونکہ یہ سب بچپن ہی میں وفات پا گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی رجال کی حد میں داخل نہیں ہوا، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ نزول آیت کے وقت آپ کا کوئی فرزند نہ تھا۔ قاسم، طیب، اور طاہر کی وفات ہوگئی تھی اور ابراہیم ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔
مخالفین کے اعتراض اور طعن کا جواب اسی جملہ سے ہوگیا تھا، مگر آگے دوسرے شبہات کے ازالہ کے لئے فرمایا ولکن رسول اللہ حرف لکن عربی زبان میں اس کام کے لئے آتا ہے کہ پچھلے کلام میں جو کوئی شبہ ہوسکتا تھا اس کو دور کیا جائے۔ یہاں جب رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ بیان کیا گیا کہ آپ امت کے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں تو اس پر شبہ ہوسکتا تھا کہ ہر نبی و رسول اپنی امت کا باپ ہوتا ہے، اس لحاظ سے رسول اللہ ﷺ امت کے سبھی مردوں کے بلکہ ہر مرد و عورت کے باپ ہیں آپ سے ابوت کی نفی گویا نبوت کی نفی ہے۔
اس کا جواب لکن رسول اللہ کے لفظ سے یہ دیا گیا کہ حقیقی اور نسبی باپ ہونا اور چیز ہے جس پر نکاح کے حلال و حرام کے احکام عائد ہوتے ہیں اور بحیثیت نبوت امت کا روحانی باپ ہونا دوسری چیز ہے جس سے یہ احکام متعلق نہیں ہوتے، تو گویا مطلب اس پورے جملے کا یہ ہوگیا کہ آپ امت کے مردوں میں سے کسی کے بھی نسبی باپ نہیں، لیکن روحانی باپ سب کے ہیں۔
اس میں ایک دوسرے طعن کا جواب بھی ہوگیا، جو بعض مشرکین نے کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ معاذ اللہ ابتر (یعنی مقطوع النسل) ہیں۔ یعنی کوئی نرینہ اولاد آپ کی نہیں ہے، جس سے نسب چلے، اور آپ کا یہ پیغام آگے بڑھے، چند روز کے بعد ان کا قصہ ہی ختم ہوجائے گا۔ الفاظ مذکور نے یہ واضح کردیا کہ اگرچہ نسبی اولاد نرینہ آپ کی نہیں لیکن آپ کی رسالت ونبوت کے پیغام کو پھیلانے اور قائم رکھنے اور بڑھانے کے لئے نسبی اولاد کی ضرورت نہیں، اس کے لئے روحانی اولاد کام کیا کرتی ہے۔ اور چونکہ آپ رسول اللہ ہیں، اور رسول امت کا روحانی باپ ہوتا ہے، اس لئے آپ پوری امت کے روحانی باپ ہونے کی حیثیت سے تم سب سے زیادہ کثیر الاولاد ہیں۔
یہاں جبکہ آنحضرت ﷺ کی رسالت و نبوت کا ذکر آیا، اور اس منصب نبوت میں آپ تمام دوسرے انبیاء سے خاص امتیازی فضیلت رکھتے ہیں تو آگے آپ کی مخصوص شان اور تمام انبیاء (علیہم السلام) پر آپ کا فائق ہونا اس لفظ سے واضح ہوگیا وخاتم النبین، لفظ خاتم میں دو قراتیں ہیں، امام حسن اور عاصم کی قرات خاتم بفتح تاء ہے اور دوسرے آئمہ قرات خاتم بکسر تاء پڑھتے ہیں۔ حاصل معنی دونوں کا ایک ہی ہے، یعنی انبیاء کو ختم کرنے والے، کیونکہ خاتم خواہ بکسر التاء ہو یا بفتح التاء دونوں کے معنی آخر کے بھی آتے ہیں، اور مہر کے معنی میں بھی یہ دونوں لفظ استعمال ہوتے ہیں، اور نتیجہ دوسرے معنی کا بھی وہی آخر کے معنی ہوتے ہیں کیونکہ مہر کسی چیز پر بند کرنے کے لئے آخر ہی میں کی جاتی ہے۔ لفظ خاتم بالکسر والفتح دونوں کے معنی لغت عربی میں تمام کتابوں میں مذکور ہیں۔ قاموس، صحاح، لسان العرب، تاج العروس وغیرہ اسی لئے تفسیر روح المعانی میں خاتم بمعنی مہر کا حاصل بھی وہی معنی آخر کے بتلائے ہیں۔ اس کے الفاظ یہ ہیں والخاتم اسم الہ لما یختم بہ کالطابع لما یطبع بہ فمعنی خاتم النبین الذی ختم النبیون بہ ومالہ اخر النبین۔ یہی مضمون تفسیر بیضاوی اور احمدی میں بھی مذکور ہے اور امام راغب نے مفرادات القرآن میں فرمایا وخاتم النبوة الایۃ ختم النبوة ای تممہا بمجیہ، یعنی آپ کو خاتم نبوت اس لئے کہا گیا کہ آپ نے نبوت کو اپنے تشریف لانے سے ختم اور مکمل کردیا ہے۔
اور محکم ابن سیدہ میں ہے وخاتم کل شئی وخاتمتہ عاقبتہ واخرہ یعنی ہر چیز کا خاتم اور خاتمہ اس کے انجام اور آخر کو کہا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ قراءت خواہ بفتح تاء کی لی جائے یا بکسر تاء کی، معنی دونوں صورتوں میں یہ ہیں کہ آپ ختم کرنے والے ہیں انبیاء کے، یعنی سب کے آخر اور بعد میں آپ مبعوث ہوئے ہیں۔
صفت خاتم الانبیاء ایک ایسی صفت ہے جو تمام کمالات نبوت و رسالت میں آپ کی اعلیٰ فضیلت اور خصوصیت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیونکہ عموماً ہر چیز میں تدریجی ترقی ہوتی ہے اور انتہا پر پہنچ کر اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ اور جو آخری نتیجہ ہوتا ہے وہی اصل مقصود ہوتا ہے، قرآن کریم نے خود اس کو واضح کردیا ہے (آیت) الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی، یعنی آج میں نے تمہارا دین مکمل کردیا ہے، اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی ہے۔
انبیائے سابقین کے دین بھی اپنے اپنے وقت کے لحاظ سے مکمل تھے، کوئی ناقص نہ تھا، لیکن کمال مطلق اسی دین مصطفوی کو حاصل ہوا جو اولین و آخرین کے لئے حجت اور قیامت تک چلنے والا دین ہے۔
اس جگہ صفت خاتم النبین کے اضافہ سے اس مضمون کی بھی اور زیادہ وضاحت اور تکمیل ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ کو مقطوع النسل کہنا جہالت ہے، جبکہ ساری امت کے باپ ہونے کی حیثیت سے آپ مصنف ہیں کیوں کہ لفظ خاتم النبین نے یہ بھی بتلا دیا کہ آپ کے بعد قیامت تک آنے والی سب نسلیں اور قومیں آپ ہی کی امت میں شامل ہوں گی۔ اس وجہ سے آپ کی امت کی تعداد بھی دوسری امتوں سے زیادہ ہوگی اور آپ کی روحانی اولاد دوسرے انبیاء کی نسبت سے بھی زیادہ ہوگی۔
صفت خاتم النبین نے یہ بھی بتلا دیا کہ آنحضرت ﷺ کی شفقت اپنی اولاد روحانی یعنی پوری امت پر دوسرے تمام انبیاء سے زائد ہوگی، اور آپ قیامت تک پیش آنے والی ضرورتوں کو واضح کرنے کا پورا اہتمام فرمائیں گے۔ کیونکہ آپ کے بعد کوئی نبی اور کوئی وحی دنیا میں آنے والی نہیں، بخلاف انبیاء سابقین کے کہ ان کو اس کی فکر نہ تھی وہ جانتے تھے کہ جب قوم میں گمراہی پھیلے گی تو ہمارے بعد دوسرے انبیاء آ کر اس کی اصلاح کردیں گے، مگر خاتم الانبیاء ﷺ کو یہ فکر لاحق تھی کہ قیامت تک امت کو جن حالات سے سابقہ پڑے گا ان سب حالات کے متعلق ہدایات امت کو دے کر جائیں، جس پر رسول اللہ ﷺ کی احادیث شاہد ہیں کہ آپ کے بعد جتنے لوگ قابل اقتداء آنے والے تھے اکثر ان کے نام لے کر بتلا دیا ہے۔ اسی طرح جتنے گمراہی کے علمبردار ہیں ان کے حالات اور پتے ایسے کھول کر بتلا دیئے ہیں کہ ذرا غور کرنے والے کو کوئی اشتباہ باقی نہ رہ جائے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے انی ترکتکم علی شریعة بیضاء لیلہا ونہارھا سواء، ”یعنی میں نے تم کو ایسے روشن راستے پر چھوڑا ہے جس میں رات دن برابر ہیں کسی وقت بھی گمراہی کا خطرہ نہیں“
اس آیت میں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ اوپر آنحضرت ﷺ کا ذکر بصفت رسول آیا ہے، اس کے لئے بظاہر مناسب یہ تھا کہ آگے ”خاتم الرسل“ یا ”خاتم المرسلین“ کا لفظ استعمال ہوتا، مگر قرآن حکیم نے اس کے بجائے ”خاتم النبین“ کا لفظ اختیار فرمایا۔
وجہ یہ ہے کہ جمہور علماء کے نزدیک نبی اور رسول میں ایک فرق ہے۔ وہ یہ کہ نبی تو ہر شخص کو کہا جاتا ہے جس کو حق تعالیٰ اصلاح خلق کے لئے مخاطب فرمائیں، اور اپنی وحی سے مشرف فرمائیں، خواہ اس کے لئے کوئی مستقل کتاب اور مستقل شریعت تجویز کریں، یا پہلے ہی کسی نبی کی کتاب و شریعت کے تابع لوگوں کو ہدایت کرنے پر مامور ہو، جیسے ہارون ؑ حضرت موسیٰ ؑ کی کتاب و شریعت کے تابع ہدایت کرنے پر مامور تھے۔
اور لفظ رسول خاص اس نبی کے لئے بولا جاتا ہے جس کو مستقل کتاب و شریعت دی گئی ہو۔ اسی طرح لفظ نبی کے مفہوم میں بہ نسبت لفظ رسول کے عموم زیادہ ہے، تو آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ آپ انبیاء کے ختم کرنے والے اور سب سے آخر میں ہیں خواہ وہ صاحب شریعت نبی ہوں یا صرف پہلے نبی کے تابع۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی کی جتنی قسمیں اللہ کے نزدیک ہو سکتی ہیں وہ سب آپ پر ختم ہوگئیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔
”یعنی یہ آیت نص صریح ہے اس عقیدہ کے لئے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، اور جب نبی نہیں تو بدرجہ اولیٰ رسول بھی نہیں، کیونکہ لفظ نبی عام اور لفظ رسول خاص ہے اور یہ وہ عقیدہ ہے جس پر احادیث متواترہ شاہد ہیں، جو صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت کی روایت سے ہم تک پہنچی ہیں“
اس آیت کی لفظی تشریح میں کسی قدر تفصیل سے اس لئے کام لیا گیا کہ ہمارے ملک میں مرزا قادیانی مدعی نبوت نے اس آیت کو اپنے راستہ کی رکاوٹ سمجھ کر اس کی تفسیر میں طرح طرح کی تحریفات اور احتمالات پیدا کئے ہیں، مذکور الصدر تقریر سے الحمد للہ ان سب کا جواب ہوجاتا ہے۔
مسئلہ ختم نبوت
رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبین ہونا اور آپ کا آخری پیغمبر ہونا، آپ کے بعد کسی نبی کا دنیا میں مبعوث نہ ہونا اور ہر مدعی نبوت کا کاذب و کافر ہونا ایسا مسئلہ ہے جس پر صحابہ کرام سے لے کر آج تک ہر دور کے مسلمانوں کا اجماع و اتفاق رہا ہے۔ اس لئے ضرورت نہ تھی کہ اس پر کوئی تفصیلی بحث کی جائے، لیکن قادیانی فرقہ نے اس مسئلہ میں مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے بڑا زور لگایا ہے، سینکڑوں چھوٹی بڑی کتابیں شائع کر کے کم علم لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے احقر نے اس مسئلہ کی پوری تفصیل ایک مستقل کتاب ”ختم نبوت“ میں لکھ دی ہے، جس میں ایک سو آیات اور دو سو سے زائد احادیث اور سینکڑوں اقوال وآثار سلف وخلف سے اس مسئلہ کو پورا واضح کردیا ہے اور قادیانی دجل کے شبہ کا مفصل جواب دیا ہے، یہاں اس میں سے چند ضروری باتیں لکھی جاتی ہیں۔
آپ کا خاتم النبیین ہونا آخر زمانہ میں عیسیٰ ؑ کے نزول کے منافی نہیں
چونکہ قرآن کریم کی متعدد آیات اور احادیث متواترہ سے یہ ثابت ہے کہ قیامت سے پہلے آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ ؑ پھر دنیا میں تشریف لائیں گے، اور دجال اعظم کو قتل کریں گے اور اس وقت ہر گمراہی کو ختم کریں گے، جس کی تفصیل احقر کے رسالہ ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ میں مذکور ہے۔
مرزائی قادیانی نے عیسیٰ ؑ کا زندہ آسمان میں اٹھایا جانا اور پھر آخر زمانے میں تشریف لانا جو قرآن و سنت کی بیشمار نصوص سے ثابت ہیں ان کا انکار کر کے خود مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اور استدلال میں یہ پیش کیا کہ اگر حضرت عیسیٰ بن مریم نبی بنی اسرائیل کا پھر دنیا میں آنا تسلیم کیا جائے تو یہ آنحضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے منافی ہوگا۔
جواب بالکل واضح ہے کہ خاتم النبیین اور آخر النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی شخص عہدہ نبوت پر فائز نہ ہوگا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ سے پہلے جس کو نبوت عطا ہوچکی ہے ان کی نبوت سلب ہوجائے گی، یا ان میں سے کوئی اس عالم میں پھر نہیں آسکتا۔ البتہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو بھی آپ کی امت میں اصلاح و تبلیغ کے لئے آئے گا وہ اپنے منصب نبوت پر قائم ہوتے ہوئے اس امت میں اصلاح کی خدمت آنحضرت ﷺ کی تعلیمات ہی کے تابع انجام دے گا، جیسا کہ احادیث صحیفہ میں تصریح ہے۔
امام ابن کثیر نے اسی آیت کی تفسیر میں فرمایا۔
”یعنی رسول اللہ ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے سے یہ مراد ہے کہ وصف نبوت آپ کے بعد منقطع ہوگیا، اب کسی کو یہ وصف اور منصب نہیں ملے گا، اس سے اس مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا جس پر امت کا اجماع ہے اور قرآن اس پر ناطق ہے اور احادیث رسول جو تقریباً درجہ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں اس پر شاہد ہیں وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ آخر زمانے میں نازل ہوں گے، کیونکہ ان کو نبوت اس دنیا میں ہمارے نبی ﷺ سے پہلے مل چکی تھی“
نبوت کے مفہوم کی تحریف ظلی اور بروزی نبوت کی ایجاد
اس مدعی نبوت نے دعویٰ نبوت کا راستہ ہموار کرنے کے لئے ایک نئی چال یہ چلی کہ نبوت کی ایک نئی قسم ایجاد کی، جس کا قرآن وسنت میں کوئی وجود و ثبوت نہیں اور پھر کہا کہ یہ قسم نبوت کی حکم قرآنی ختم نبوت کے منافی نہیں۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اس نے نبوت کے مفہوم میں وہ راستہ اختیار کیا جو ہندوؤں اور دوسری قوموں میں معروف ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے کے جنم میں دوسرے کے روپ میں آسکتا ہے، اور پھر یہ کہا کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے مکمل اتباع کی وجہ سے آپ کا ہم رنگ ہوگیا ہو اس کا آنا گویا خود آپ کا ہی آنا ہے، وہ درحقیقت آپ ہی کا ظل اور بروز ہوتا ہے، اس لئے اس کے دعوے سے عقیدہ ختم نبوت متاثر نہیں ہوتا۔
مگر اول تو خود یہ نو ایجاد نبوت اسلام میں کہاں سے آئی، اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ اس کے علاوہ مسئلہ ختم نبوت چونکہ عقائد اسلامیہ کا ایک بنیادی عقیدہ ہے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس کو مختلف عنوانات سے مختلف اوقات میں ایسا واضح کردیا ہے کہ کسی تحریف کرنے والے کی تحریف چل نہیں سکتی۔ اس جواب کی پوری تفصیل تو احقر کی کتاب ختم نبوت ہی میں دیکھی جاسکتی ہے، یہاں چند چیزیں بقدر ضرورت پیش کرنے پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔
صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں تمام کتب حدیث میں حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت اسناد صحیح کے ساتھ آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک مکان بنایا ہو اور اس کو خوب مضبوط اور مزین کیا ہو مگر اس کے ایک گوشہ میں دیوار کی ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ہو تو لوگ اس کو دیکھنے کے لئے اس میں چلیں پھریں اور تعمیر کو پسند کریں مگر سب یہ کہیں کہ اس مکان بنانے والے نے یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی جس سے تعمیر بالکل مکمل ہوجاتی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”(قصر نبوت کی) وہ آخری اینٹ میں ہوں، اور بعض الفاظ حدیث میں ہیں کہ میں نے اس خالی جگہ کو پر کر کے قصر نبوت کو مکمل کردیا“
اس تمثیل بلیغ کا حاصل یہ ہے کہ نبوت ایک عالی شان محل کی طرح ہے، جس کے ارکان انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ آنحضرت محمد ﷺ سے پہلے یہ محل بالکل تیار ہوچکا تھا اور اس میں صرف ایک اینٹ کے سوا کسی اور قسم کی گنجائش تعمیر میں باقی نہیں تھی، آنحضرت ﷺ نے اس جگہ کو پر کر کے قصر نبوت کی تکمیل فرما دی، اب اس میں نہ کسی نبوت کی گنجائش ہے نہ رسالت کی، اگر نبوت یا رسالت کی کچھ اقسام مان لی جائیں تو اب ان میں سے کسی قسم کی گنجائش قصر نبوت میں نہیں ہے۔
صحیح بخاری و مسلم اور مسند احمد وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ کی ایک دوسری حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”بنی اسرائیل کی سیاست اور انتقام خود انبیاء کے ہاتھ میں تھا، جب ایک نبی کی وفات ہوجاتی تو دوسرا نبی اس کے قائم مقام ہوجاتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ میرے خلیفہ ہوں گے جو بہت ہوں گے“
اس حدیث نے یہ بھی واضح کردیا کہ آنحضرت ﷺ چونکہ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا تو امت کی ہدایت کا انتظام کیسے ہوگا ؟ اس کے متعلق فرمایا کہ آپ کے بعد امت کی تعلیم و ہدایت کا انتظام آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے ہوگا، جو رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے مقاصد نبوت کو پورا کریں گے، اگر ظلی بروزی کوئی نبوت کی قسم ہوتی یا غیر تشریعی نبوت باقی ہوتی، تو ضرور تھا کہ یہاں اس کا ذکر کیا جاتا کہ اگرچہ عام نبوت ختم ہوچکی مگر فلاں قسم کی نبوت باقی ہے جس سے اس عالم کا انتظام ہوگا
اس حدیث میں صاف واضح الفاظ میں بتلا دیا کہ نبوت کی کوئی قسم آپ کے بعد باقی نہیں، اور ہدایت خلق کا کام جو پچھلی امتوں میں انبیاء بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا، وہ اس امت میں آپ کے خلفاء سے لیا جائے گا۔
صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث مرفوع ہے
”یعنی نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا بجز مبشرات کے“
مسند احمد وغیرہ میں حضرت صدیقہ عائشہ اور ام کرز کعبیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا بجز مبشرات کے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہیں ؟ فرمایا سچے خواب جو مسلمان خود دیکھے یا اس کے متعلق کوئی دوسرا دیکھے“
اس حدیث نے کس قدر وضاحت سے بتلا دیا کہ نبوت کی کوئی قسم تشریعی یا غیر تشریعی اور بقول مرزا قادیانی ظلی یا بروزی آنحضرت ﷺ کے بعد باقی نہیں، صرف مبشرات یعنی سچے خواب لوگوں کو آئیں گے جن سے کچھ معلومات ہوجائیں گی۔
اور مسند احمد اور ترمذی میں حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”بیشک رسالت اور نبوت میرے بعد منقطع ہوچکی ہے، میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی“ وقال ھذا الحدیث صحیح
اس حدیث نے واضح کردیا کہ غیر تشریعی نبوت بھی آپ کے بعد باقی نہیں، اور ظلی بروزی تو نبوت کی کوئی قسم ہی نہیں نہ اسلام میں اس طرح کی کوئی چیز معروف ہے۔
اس جگہ مسئلہ ختم نبوت کی احادیث جمع کرنا مقصود نہیں، وہ تو دو سو سے زیادہ رسالہ ”ختم نبوت“ میں جمع کردی گئی ہیں، صرف چند احادیث سے یہ بتلانا مقصود تھا کہ مرزائی قادیانی نے جو بقاء نبوت کے لئے ظلی اور بروزی کا عنوان ایجاد کیا ہے، اول تو اسلام میں اس کی کوئی اصل و بنیاد نہیں، اور بالفرض ہوتی بھی تو ان احادیث مذکورہ نے واضح طور پر یہ بتلا دیا کہ آپ کے بعد نبوت کی کوئی قسم کسی طرح کی باقی نہیں ہے۔
اسی لئے صحابہ کرام سے لے کر آج تک امت مسلمہ کے سب طبقات کا اجماع اس عقیدہ پر رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی یا رسول نہیں ہوسکتا جو دعوے کرے وہ کا ذب، منکر قرآن اور کافر ہے۔ اور صحابہ کرام کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر ہوا جس کی رو سے مسیلمہ کذاب مدعی نبوت سے خلیفہ اول صدیق اکبر کے عہد میں جہاد کر کے اس کو اور اس کے ماننے والوں کو قتل کیا گیا۔
آئمہ سلف اور علماء امت کے اقوال و تصریحات بھی اس معاملہ میں رسالہ ”ختم نبوت“ کے تیسرے حصہ میں بڑی تفصیل سے لکھ دیئے گئے ہیں، اس جگہ چند کلمات نقل کئے جاتے ہیں۔
”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول اللہ ﷺ نے احادیث متواترہ میں خبر دی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ آپ کے بعد جو شخص اس مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب، مفتری، دجال، گمراہ، گمراہ کرنے والا ہے، اگرچہ وہ کتنی ہی شعبدہ بازی کرے اور قسم قسم کے جادو اور طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے کہ سب کے سب محال اور گمراہی میں عقل والوں کے نزدیک جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسود عنسی (مدعی نبوت) کے ہاتھ پر یمن میں اور مسیلمہ کذاب (مدعی نبوت) کے ہاتھ پر یمامہ میں اس طرح کے حالات فاسدہ اور بےہودہ اقوال ظاہر کرائے، جن کو دیکھ کر سن کر ہر عقل و فہم والے نے سمجھ لیا کہ یہ دونوں کاذب اور گمراہ ہیں، اللہ ان پر لعنت فرمائے، اسی طرح جو شخص بھی قیامت تک نبوت کا دعویٰ کرے وہ کاذب و کافر ہے، یہاں تک کہ مدعیان نبوت کا یہ سلسلہ مسیح دجال پر ختم ہوگا“
امام غزالی نے اپنی کتاب ”الاقتصادفی الاعتقاد“ میں آیت مذکورہ کی تفسیر اور عقیدہ ختم نبوت کے متعلق یہ الفاظ لکھے ہیں
”بیشک امت نے اس لفظ (یعنی خاتم النبیین اور لا نبی بعدی) سے اور قرائن احوال سے باجماع یہی سمجھا ہے کہ آپ کے بعد ابد تک نہ کوئی نبی ہوگا، اور نہ کوئی رسول اور یہ کہ نہ اس میں کوئی تاویل چل سکتی ہے نہ تخصیص“
اور قاضی عیاض نے اپنی کتاب شفا میں نبی کریم ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنیوالے کو کافر اور کذاب اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنیوالا اور آیت مذکورہ کا منکر کہہ کر یہ الفاظ لکھے ہیں
”امت نے اجماع کیا ہے کہ اس کلام کو اپنے ظاہر پر محمول کیا جائے اور اس پر کہ اس آیت کا نفس مفہوم ہی مراد ہے بغیر کسی تاویل یا تخصیص کے اس لئے ان تمام فرقوں کے کفر میں کوئی شک نہیں، (جو کسی مدعی نبوت کی پیروی کریں) بلکہ ان کا کفر قطعی طور سے اجماع امت اور نقل یعنی کتاب و سنت سے ثابت ہے“
رسالہ ختم نبوت کے تیسرے حصہ میں ائمہ دین اور ہر طبقے کے اکابر علماء کے بہت سے اقوال جمع کردیئے گئے ہیں اور جو یہاں نقل کئے گئے ہیں ایک مسلمان کے لئے وہ بھی کافی ہیں واللہ اعلم
Ayah 33:41خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو تم (احسانات آلہیہ کو عموماً اور ایسے اکمل رسل کی بعثت کے احسان کو خصوصاً یاد کر کے اس کا یہ شکر ادا کرو کہ) اللہ کو خوب کثرت سے یاد کرو (اس میں سب طاعات آگئیں) اور (اس ذکر وطاعت پر دوام رکھو پس) صبح وشام (یعنی علی الدوام) اس کی تسبیح (و تقدیس) کرتے رہو (یعنی دل سے بھی اور اعضاء سے بھی اور زبان سے بھی پس جملہ اولیٰ سے عموم اعمال و طاعات کا اور جملہ ثانیہ میں عموم از منہ و اوقات کا حاصل ہوگیا یعنی نہ تو ایسا کرو کہ کوئی حکم بجا لائے اور کوئی نہ بجا لائے، اور نہ ایسا کرو کہ کسی دن کوئی کام کرلیا کسی دن نہ کیا، اور جیسا اس نے تم پر بہت احسان کئے ہیں اور آئندہ بھی کرتا رہتا ہے پس بالضرورة مستحق ذکر و شکر ہے، چنانچہ) وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ (خود بھی) اور (اس کے حکم سے) اس کے فرشتے (بھی) تم پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں (اس کا رحمت بھیجنا تو رحمت کرنا ہے اور فرشتوں کا رحمت بھیجنا رحمت کی دعاء کرنا ہے کماقال (آیت) الذین یحملون العرش (الیٰ قولہ) وقہم السیات، اور یہ رحمت بھیجنا اس لئے ہے) تاکہ حق تعالیٰ (ببرکت اس رحمت کے) تم کو (جہالت و ضلالت کی) تاریکیوں سے (علم اور ہدایت کے) نور کی طرف لے آئے (یعنی خدائی رحمت اور دعاء ملائکہ کی برکت ہے کہ تم کو علم اور ہدایت کی توفیق اور اس پر ثبات حاصل ہے کہ یہ ہر وقت متجدد ہوتی رہتی ہے) اور (اس سے ثابت ہوا کہ) اللہ تعالیٰ مومنین پر بہت مہربان ہے (اور یہ رحمت تو مومنین کے حال پر دنیا میں ہے اور آخرت میں بھی وہ مورد رحمت ہوں گے، چنانچہ) وہ جس روز اللہ سے ملیں گے تو ان کو جو سلام ہوگا وہ یہ ہوگا کہ (اللہ تعالیٰ خود ان سے ارشاد فرما دے گا) السلام علیکم (کہ اولاً خود سلام ہی علامت اعزاز کی ہے، پھر جب کہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام ہو کما قال (آیت) سلام قولاً من رب رحیم اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اہل جنت سے فرمائے گا السلام علیکم، رواہ ابن ماجہ وغیرہ اور یہ سلام تو روحانی انعام ہے جس کا حاصل اکرام ہے) اور (آگے جسمانی انعام کی خبر بعنوان عام ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ان (مومنین کے لئے) عمدہ صلہ (جنت میں) تیار کر رکھا ہے (کہ ان کے جانے کی دیر ہے، یہ گئے اور وہ ملا، آگے حضور ﷺ کو خطاب ہے کہ) اے نبی (آپ مشتے چند معترضین کے طعن سے مغموم نہ ہوں، اگر یہ سفہاء آپ کو نہ جانیں تو کیا ہوا ہم نے تو ان بڑی بڑی نعمتوں اور رحمتوں کا جو کہ خطاب مومنین میں مذکور ہوئی ہیں، آپ ہی کو واسطہ بنایا ہے اور آپ کے مخالفین کی سزا کے لئے خود آپ کا بیان کافی قرار دیا گیا ہے کہ ان کے مقابلہ میں آپ سے ثبوت نہ لیا جائے گا، پس اس سے ظاہر ہے کہ آپ ہمارے نزدیک کس درجہ محبوب و مقبول ہیں، چنانچہ) ہم نے بیشک آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ آپ (قیامت کے روز امت کے اعتبار سے خود سرکاری) گواہ ہوں گے (کہ آپ کے بیان کے موافق ان کا فیصلہ ہوگا کما قال انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہدا علیکم اور ظاہر ہے کہ خود صاحب معاملہ کو دوسرے فریق اہل معاملہ کے مقابلہ میں گواہ قرار دینا اعلیٰ درجہ کا اکرام اور علو شان ہے جس کا قیامت کے روز ظہور ہوگا) اور (دنیا میں جو آپ کی صفات کمال ظاہر ہیں وہ یہ ہیں کہ) آپ (مومنین کے) بشارت دینے والے ہیں اور (کفار کے) ڈرانے والے ہیں اور (عام طور پر سب کو) اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے ہیں (اور یہ تبشیر وانذار دعوت تبلیغاً ہے) اور (یوں خود اپنی ذات وصفات و کمالات و عبادات و عادات وغیرہا مجموعی حالات کے اعتبار سے) آپ (سرتاپا نمونہ ہدایت ہونے میں بمنزلہ) ایک روشن چراغ (کے) ہیں (کہ آپ کی ہر حالت طالبان انوار کے لئے سرمایہ ہدایت ہے، پس قیامت میں ان مومنین پر جو کچھ رحمت ہوگی وہ آپ ہی کی ان صفات بشیر و نذیر و داعی وسراج منیر کے واسطہ سے ہے۔ پس آپ اس غم و پریشانی کو الگ کیجئے) اور (اپنے منصبی کام میں لگئے یعنی) مومنین کو بشارت دیجئے کہ ان پر اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہونے والا ہے اور (اسی طرح کافروں اور منافقوں کو ڈراتے رہئے جس کو ایک خاص عنوان سے تعبیر کیا ہے وہ یہ کہ) کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ کیجئے (رسول اللہ ﷺ سے اس کا تو امکان ہی نہ تھا کہ آپ کفار و منافقین کے کہنے میں آ کر تبلیغ و دعوت چھوڑ دیں، لیکن لوگوں کی طعن وتشنیع سے بچنے کے لئے ممکن تھا کہ آپ اس عملی تبلیغ میں جو نکاح زینب کے ذریعہ مقصود تھی کوئی سستی کریں اس کو کفار کا کہنا ماننے سے تعبیر کردیا گیا) اور ان (کافروں اور منافقوں) کی طرف سے جو (کوئی) ایذاء پہنچے (جیسا اس نکاح میں کہ تبلیغ فعل ہے ایذاء قولی پہنچی) اس کا خیال نہ کیجئے اور (فعلی ایذاء کا بھی اندیشہ نہ کیجئے) اور اگر اس کا وسوسہ آئے تو اللہ پر بھروسہ کیجئے اور اللہ کافی کارساز ہے، (وہ آپ کو ہر ضرر سے بچائے گا اور اگر تبلیغ میں کوئی ظاہری ضرر پہنچتا ہے وہ باطناً نفع ہوتا ہے، وہ وعدہ کفایت و وکالت کے منافی نہیں)۔
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و تکریم اور آپ کی ایذاء رسانی سے بچنے کے لئے ہدایات کے ضمن میں حضرت زید اور زینب کا قصہ اور اس کی مناسبت سے رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا بیان ہوا ہے، آگے بھی آپ کی صفات کمال کا بیان آنے والا ہے۔ اور آپ کی ذات وصفات سب مسلمانوں کے لئے دنیا میں سب سے بڑی نعمت ہیں، ان کا شکر ادا کرنے کے لئے آیت مذکورہ میں ذکر اللہ کی کثرت کا حکم دیا گیا ہے۔
ذکر اللہ ایسی عبادت ہے جس کے لئے کوئی شرط نہیں اور اس کے بکثرت کرنے کا حکم ہے
(آیت) یایہا الذین امنوا ذکر واللہ ذکراً کثیراً ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اللہ نے اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسی عبادت عائد نہیں کی جس کی کوئی خاص حد مقرر نہ ہو، نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں، روزے ماہ رمضان کے متعین اور مقرر ہیں، حج بھی خاص مقام پر خاص اعمال مقررہ کرنے کا نام ہے، زکوٰة بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوتی ہے، مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد اور تعداد متعین ہے، نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے، نہ اس کے لئے کوئی خاص ہئیت قیام یا نشست کی مقرر ہے نہ اس کے لئے طاہر اور باوضو ہونا شرط ہے۔ ہر وقت ہر حال میں ذکر اللہ بکثرت کرنے کا حکم ہے، سفر ہو یا حضر، تندرستی ہو یا بیماری، خشکی میں ہو یا دریا میں، رات ہو یا دن ہر حال میں ذکر اللہ کا حکم ہے۔
اسی لئے اس کے ترک میں انسان کا کوئی عذر مسموع نہیں، بجز اس کے عقل و حواس ہی نہ رہیں بےہوش ہوجائے، اس کے علاوہ دوسری عبادات میں بیماری اور مجبوری کے حالات میں انسان کو معذور قرار دے کر عبادت میں اختصار اور کمی یا معافی کی رخصتیں بھی ہیں، مگر ذکر اللہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی شرط نہیں رکھی۔ اس لئے اس کے ترک میں کسی حال کوئی عذر مسموع بھی نہیں، اور اس کے فضائل و برکات بھی بیشمار ہیں۔
امام احمد نے حضرت ابو الدرداء سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو خطاب کر کے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتلا دوں جو تمہارے سب اعمال سے بہتر اور تمہارے مالک کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول ہے، اور تمہارے درجات بلند کرنے والی ہے اور تمہارے لئے سونے چاندی کے صدقہ و خیرات سے بہتر ہے اور اس سے بھی بہتر ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلو اور تمہارا دشمن سے معاملہ ہو تم ان کی گردنیں مار دو وہ تمہاری، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کون سی چیز اور کونسا عمل ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ذکر اللہ عزوجل، ”یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد (ابن کثیر)
نیز امام احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک دعاء سنی ہے جس کو میں کبھی نہیں چھوڑتا، وہ یہ ہے
”یا اللہ مجھے ایسا بنا دے کہ میں تیرا شکر بہت کروں اور تیری نصیحت کا تابع رہوں اور تیرا ذکر کثرت سے کیا کروں اور تیری وصیت کو محفوظ رکھوں“
اس میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کی کہ ذکر اللہ کی کثرت کی توفیق عطا ہو۔
ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اسلام کے اعمال و فرائض و واجبات تو بہت ہیں، آپ مجھے کوئی ایسی مختصر جامع بات بتلا دیں کہ میں اس کو مضبوطی سے اختیار کرلوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”یعنی تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تروتازہ رہنی چاہئے“
اور حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”یعنی تم اللہ کا ذکر اتنا کرو کہ دیکھنے والے تمہیں دیوانہ کہنے لگیں“
اور حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں جس میں اللہ کا ذکر نہ آئے تو قیامت کے روز یہ مجلس ان کے لئے حسرت ثابت ہوگی۔ (رواہ احمد، ابن کثیر)
Ayah 33:42(آیت) وسبحوہ بکرة واصلاً ، یعنی اللہ کی پاکی بیان کرو صبح و شام۔ صبح و شام سے مراد یا تو تمام اوقات ہیں، یا پھر صبح و شام کی تخصیص اس لئے ہے کہ ان اوقات میں ذکر اللہ کی تاکید بھی زیادہ ہے اور برکت بھی۔ ورنہ ذکر اللہ کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص و محدود نہیں ہے۔
Ayah 33:43(آیت) ہو الذین یصلی علیکم وملئکة، یعنی جب تم ذکر اللہ کی کثرت کے عادی ہوگئے اور صبح و شام کی تسبیح پر مداومت کرنے لگے تو اس کا اعزازو اکرام اللہ کے نزدیک یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحمت نازل فرمائے گا اور اس کے فرشتے تمہارے لئے دعا کریں گے۔
آیت مذکورہ میں لفظ صلوٰة اللہ تعالیٰ کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے اور فرشتوں کے لئے بھی، لیکن مصداق صلوٰة کا الگ الگ ہے۔ اللہ کی صلوٰة تو یہ ہے کہ وہ رحمت نازل فرمائے، اور فرشتے خود تو کسی کام پر قادر نہیں ان کی صلوٰة یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے نزول رحمت کی دعا مانگیں۔
اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ صلوٰة اللہ کی طرف سے رحمت ہے اور فرشتوں کی طرف سے استغفار یعنی دعا مغفرت اور باہمی ایک دوسرے کی دعا، لفظ صلوٰة ان تینوں معنی کے لئے شامل ہے جو عموم مشترک جائز قرار دیتے ہیں، ان کے نزدیک یہ لفظ معنی میں مشترک ہے، اور تینوں مراد ہیں جو عموم مشترک کو قواعد عربیہ کی رو سے جائز نہیں سمجھتے وہ بطور عموم مجاز کے ان سب معنوں پر لفظ صلوٰة کا اطلاق قرار دیں گے۔
Ayah 33:44(آیت) تحیتہم یوم یلقونہ سلام، یہ اسی صلوٰة کی توضیح و تفسیر ہے جو اللہ کی طرف سے مومن بندوں پر ہوتی ہے، یعنی جس روز یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملیں گے تو اس کی طرف سے ان کا اعزازی خطاب سلام سے کیا جائے گا یعنی السلام علیکم کہا جائے گا۔ اللہ سے ملنے کا دن کون سا ہوگا ؟ امام راغب وغیرہ نے فرمایا کہ مراد اس سے روز قیامت ہے، اور بعض آئمہ تفسیر نے فرمایا کہ جنت میں داخلہ کا وقت مراد ہے، جہاں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی سلام پہنچے گا اور سب فرشتے بھی سلام کریں گے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے اللہ سے ملنے کا دن موت کا دن قرار دیا ہے کہ وہ دن سارے عالم سے چھوٹ کر صرف ایک اللہ کے سامنے حاضری کا دن ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ملک الموت جب کسی مومن کی روح قبض کرنے کے لئے آتا ہے تو اول اس کو یہ پیام پہنچاتا ہے کہ تیرے رب نے تجھے سلام کہا ہے۔
اور لفظ بقاء ان تینوں حالات پر صادق ہے اس لئے ان اقوال میں کوئی تضاد و تعارض نہیں ہو سکتا، کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سلام تینوں حالات میں ہوتا ہے۔ (روح المعانی)
مسئلہ
اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے باہم ایک دوسرے کا تحیر لفظ السلام علیکم ہونا چاہئے خواہ بڑے کی طرف سے چھوٹے کے لئے ہو یا چھوٹے کی طرف سے بڑے کے لئے ہو۔
Ayah 33:45رسول اللہ ﷺ کی خاص صفات
(آیت) یایہا النبی انا ارسلنک شاہداً ومبشراً اونذیراً ، وداعیاً الیٰ اللہ باذنہ وسراجاً منیراً ، یہ پھر عود ہے رسول اللہ ﷺ کی خاص صفات کمال اور مناقب کی طرف، اس میں رسول اللہ ﷺ کی پانچ صفات کا ذکر فرمایا۔ شاہد، مبشر، نذیر، داعی الی اللہ، سراج، منیر، شاہد سے مراد یہ ہے کہ آپ قیامت کے روز امت کے لئے شہادت دیں گے جیسا کہ صحیح بخاری، نسائی، ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوسعید خدری سے ایک طویل حدیث روایت ہے جس کے بعض جملے یہ ہیں کہ قیامت کے روز نوح ؑ پیش ہوں گے تو ان سے سوال کیا جائے گا کہ کیا آپ نے ہمارا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا تھا وہ عرض کریں گے کہ میں نے پہنچا دیا، پھر ان کی امت پیش ہوگی، وہ اس سے انکار کرے گی کہ ان کو اللہ کا کوئی پیغام نہیں پہنچا ہے۔ اس وقت حضرت نوح ؑ سے پوچھا جائے گا کہ آپ جو پیغام حق پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہیں اس پر کوئی آپ کا شاہد بھی ہے ؟ وہ عرض کریں گے کہ محمد ﷺ اور ان کی امت گواہ ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ گواہی میں امت محمدیہ کو پیش کریں گے، یہ امت ان کے حق میں گواہی دے گی، تو امت نوح ؑ ان پر یہ جرح کرے گی کہ یہ ہمارے معاملہ میں کیسے گواہی دے سکتے ہیں، یہ تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، ہمارے زمانے سے بہت طویل زمانے کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ اس جرح کا جواب امت محمدیہ سے پوچھا جائے گا، وہ یہ جواب دے گی کہ بیشک ہم اس وقت موجود نہیں تھے، مگر ہم نے اس کی خبر اپنے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی، جس پر ہمارا ایمان و اعتقاد ہے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ سے آپ کی امت کے اس قول کی تصدیق کے لئے شہادت لی جائے گی۔
خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی شہادت کے ذریعہ اپنی امت کی تصدیق و توثیق فرمائیں گے کہ بیشک میں نے ان کو یہ اطلاع دی تھی۔
اور امت پر شاہد ہونے کا ایک مفہوم عام یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے سب افراد کے اچھے برے اعمال کی شہادت دیں گے۔ اور یہ شہادت اس بنا پر ہوگی کہ امت کے اعمال رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہر روز صبح و شام اور بعض روایات میں ہفتہ میں ایک روز پیش ہوتے ہیں، اور آپ امت کے ایک ایک فرد کو اس کے اعمال کے ذریعہ پہچانتے ہیں۔ اس لئے قیامت کے روز آپ امت کے شاہد بنائے جائیں گے۔ (رواہ ابن المبارک عن سعید بن المسیب، مظہری)
اور مبشر کے معنی بشارت دینے والا، مراد یہ ہے کہ آپ اپنی امت کے نیک با شرع لوگوں کو جنت کی خوش خبری سنانے والے ہیں۔ اور نذیر کے معنی ڈرانے والا، مراد یہ ہے کہ آپ امت کے لوگوں کو در صورت خلاف ورزی و نافرمانی کے عذاب سے ڈرانے والے بھی ہیں۔
Ayahs 33:46–48داعی الی اللہ سے مراد یہ ہے کہ آپ امت کو اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید اور اطاعت کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ داعیاً الیٰ اللہ کو باذنہ کے ساتھ مشروط فرمایا کہ آپ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے والے اور بلانے والے اللہ ہی کے اذن و اجازت سے ہیں۔ اس قید وشرط کا اضافہ اس اشارہ کے لئے ہے کہ تبلیغ و دعوت کی خدمت سخت دشوار ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اذن و اجازت کے بغیر انسان کے بس میں نہیں آسکتی۔
سراج کے معنی چراغ اور منیر کے معنی روشن کرنے والا۔ آنحضرت محمد ﷺ کی پانچویں صفت اس میں یہ بیان فرمائی گئی کہ آپ روشن کرنے والے چراغ ہیں اور بعض حضرات نے سراج منیر سے مراد قرآن لیا ہے، مگر نسق کلام سے قریب یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی آنحضرت ﷺ کی صفت ہے۔
بیہقی وقت حضرت قاضی ثناء اللہ صاحب نے تفسیر مظہری میں فرمایا کہ آپ کی صفت داعی الی اللہ تو ظاہر اور زبان کے اعتبار سے ہے، اور سراج منیر آپ کی صفت آپ کے قلب مبارک کے اعتبار سے ہے کہ جس طرح سارا عالم آفتاب سے روشنی حاصل کرتا ہے اسی طرح تمام مومنین کے قلوب آپ کے نور قلب سے منور ہوتے ہیں اس لئے صحابہ کرام جنہوں نے اس عالم میں آپ کی صحبت پائی وہ ساری امت سے افضل و اعلیٰ قرار پائے۔ کیونکہ ان کے قلوب نے قلب نبی کریم ﷺ سے بلا واسطہ عیاناً فیض اور نور حاصل کیا، باقی امت کو یہ نور صحابہ کرام کے واسطے سے واسطہ در واسطہ ہو کر پہنچا (انتہیٰ کلامہ) اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ تمام انبیاء خصوصاً رسول کریم ﷺ اس دنیا سے گزرنے کے بعد بھی اپنی قبروں میں زندہ ہیں، ان کی یہ حیات برزخی عام لوگوں کی حیات برزخی سے بدرجہا زیادہ فائق و ممتاز ہوتی ہے جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
بہرحال اس حیات کی وجہ سے قیامت تک مومنین کے قلوب آپ کے قلب مبارک سے استفاضہ نور کرتے رہیں گے، اور جو جتنی محبت و تعظیم اور درود شریف کا زیادہ اہتمام کرے گا اس نور کا حصہ زیادہ پائے گا۔
رسول اللہ ﷺ کے نور کو چراغ سے تشبیہ دی گی، حالانکہ آپ کا نور باطن آفتاب کے نور سے کہیں زیادہ ہے، آفتاب سے صرف دنیا کا ظاہر روشن ہوتا ہے لیکن آپ کے قلب مبارک سے سارے جہان کا باطن اور مومنین کے قلوب روشن ہوتے ہیں۔ وجہ اس تشبیہ کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ چراغ کی روشنی سے استفادہ اختیار ہے، ہر وقت کرسکتے ہیں، اس تک رسائی بھی آسان ہے۔ اس کا حاصل کرنا بھی آسان ہے بخلاف آفتاب کے کہ وہاں تک رسائی بھی متعذر ہے اور اس سے استفادہ ہر وقت نہیں کیا جاسکتا۔
رسول اللہ ﷺ کی یہ صفات جیسے قرآن میں آئی ہیں قرآن سے پہلے تورات میں بھی مذکور ہیں جیسا کہ امام بخاری نے نقل کیا ہے کہ حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ میں ایک روز حضرت عبداللہ بن عمرو عاص سے ملا، تو ان سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی جو صفات تورات میں آئی ہیں وہ مجھے بتلائیے۔ انہوں نے فرمایا بیشک میں بتلاتا ہوں، خدا کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کی بعض صفات جو قرآن میں مذکور ہیں وہ تورات میں بھی موجود ہیں، اور فرمایا
”اے نبی ہم نے آپ کو بھیجا ہے شاہد بنا کر اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا اور پناہ و حفاظت امین یعنی عرب کی آپ میرے بندے اور رسول ہیں، میں نے آپ کا نام متوکل (یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والا) رکھا ہے نہ آپ تندخو ہیں نہ سخت مزاج اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے، اور آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے، بلکہ معاف کردیتے ہیں، اور آپ کو اللہ تعالیٰ دنیا سے اس وقت تک نہیں واپس لائیں گے جب تک کہ آپ کے ذریعہ ٹیڑھی امت کو سیدھا نہ کردیں کہ وہ لا الہ الا اللہ کہنے لگیں، آپ کے ذریعہ اللہ اندھی آنکھوں، بہرے کانوں اور بند دلوں کو کھول دے گا“
Ayah 33:49خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (تمہارے نکاح کے احکام میں سے تو ایک حکم یہ ہے کہ) جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو (اور) پھر ان کو قبل ہاتھ لگانے کے (کسی وجہ سے) طلاق دے دو تو تمہاری ان پر کوئی عدت (واجب) نہیں جس کو تم شمار کرنے لگو (تاکہ ان کو اس عدت میں نکاح ثانی سے روک سکو جیسا کہ عدت واجب ہونے کی صورت میں شرعاً یہ روکنا جائز بلکہ واجب ہے اور جب اس صورت میں عدت نہیں) تو ان کو کچھ (مال) متاع دے دو اور خوبی کے ساتھ ان کو رخصت کردو (اور مومنات کی طرح کتابیات کا بھی یہی حکم ہے) آیت میں مومنات کی قید بطور شرط کے نہیں بلکہ ایک ترغیبی ہدایت ہے، کہ مومن کو اپنے نکاح میں مسلمان عورت ہی کا انتخاب کرنا بہتر ہے۔
اور ہاتھ لگانا کنایہ ہے صحبت سے خواہ حقیقتاً یا حکماً ، جیسے باہم خلوت صحیحہ ہوجائے تو یہ بھی صحبت کے حکم میں ہے اور صحبت حقیقتاً ہو یا حکماً دونوں صورتوں میں عدت واجب ہے۔ کذا فی الہدایہ وغیرہا، اور اگر مہر مقرر ہوچکا ہے تو یہ متاع نصف مہر کی ادائیگی ہے۔ اور سراج جمیل یہ ہے کہ ان کو بغیر حق کے نہ روکے، اور جو متاع دینا واجب ہے وہ ادا کر دے اور دیا ہوا واپس نہ لے، زبان سے بھی کوئی سخت بات نہ کہے)
معارف و مسائل
پچھلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کی چند صفات کمال اور آپ کی مخصوص شان کا ذکر تھا آگے بھی آپ کی ان خصوصیات کا ذکر آنے والا ہے، جو نکاح و طلاق کے معاملات میں آپ کے ساتھ ایک گونہ خصوصیت رکھتی ہیں اور عام امت کی نسبت سے آپ کو ان میں ایک امتیاز حاصل ہے۔ اس سے پہلے بطور تمہید کے ایک عام حکم متعلقہ طلاق ذکر کیا گیا ہے، جو سب مسلمانوں کے لئے عام ہے۔
آیت مذکورہ میں اس کے متعلق تین احکام بیان کئے گئے ہیں
پہلا حکم
یہ کہ کسی عورت سے نکاح کرلینے کے بعد خلوت صحیحہ سے پہلے ہی کسی وجہ سے طلاق کی نوبت آجائے، تو مطلقہ عورت پر کوئی عدت واجب نہیں، وہ فوراً ہی دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ آیت مذکورہ میں ہاتھ لگانے سے مراد صحبت اور صحبت کا حقیقی یا حکمی ہونا اور دونوں کا ایک حکم ہونا خلاصہ تفسیر میں معلوم ہوچکا ہے، اور صحبت حکمی خلوت صحیحہ ہوجانا ہے۔
دوسرا حکم
یہ ہے کہ مطلقہ عورت کو شرافت اور حسن خلق کے ساتھ کچھ سامان دے کر رخصت کیا جائے، کچھ سامان دے کر رخصت دینا ہر مطلقہ کے لئے مستحب و مسنون ہے اور بعض صورتوں میں واجب ہے۔ جس کی تفصیل خلاصہ تفسیر میں گزر چکی ہے اور سورة بقرہ کی آیت (آیت) لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوہن کے تحت میں گزر چکی ہے، اور ان الفاظ قرآنی میں لفظ متاع اختیار فرمانا شاید اس حکمت سے ہو کہ یہ لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہے، ہر اس چیز کے لئے جس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس میں عورت کے حقوق واجبہ مہر وغیرہ بھی شامل ہیں کہ اگر اب تک مہر نہ دیا گیا ہو تو طلاق کے وقت خوش دلی سے ادا کردیں، اور غیر واجب حقوق مثلاً مطلقہ کو رخصت کے وقت کپڑوں کا ایک جوڑا دے کر رخصت کرنا یہ بھی داخل ہے جو ہر مطلقہ عورت کو دینا مستحب ہے (کذا فی المبسوط والمحیط، روح) اس لحاظ سے متعوہن کا صیغہ امر عام ترغیب کے لئے ہے، جس میں واجب اور غیر واجب دونوں قسمیں شامل ہیں۔ (روح)
امام حدیث عبد بن حمید نے حضرت حسن سے روایت کیا ہے کہ متعہ یعنی متاع و سامان دینا ہر مطلقہ کے لئے ہے خواہ اس کے ساتھ خلوت صحیحہ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اور اس کا مہر مقرر ہو یا نہ ہو۔
طلاق کے وقت متعہ یعنی لباس کی تفصیل
بدائع میں ہے کہ متعہ طلاق سے مراد وہ لباس ہے جو عورت گھر سے نکلنے کے وقت ضرور ہی استعمال کرتی ہے۔ اس میں پاجامہ، کرتا، اوڑھنی اور ایک بڑی چادر جو سر سے پاؤں تک بدن کو چھپا سکے شامل ہے۔ اور چونکہ لباس قیمت کے اعتبار سے اعلیٰ ، ادنیٰ ، اوسط ہر طرح کا ہوسکتا ہے، اس لئے فقہاء نے اس کی یہ تفصیل فرمائی کہ اگر شوہر بیوی دونوں مالدار گھرانوں کے ہیں تو کپڑے اعلیٰ قسم کے دیئے جائیں، اور دونوں غریب ہیں تو کپڑے ادنیٰ درجہ کے دیئے جائیں، اور ایک غریب اور دوسرا مالدار ہے تو اوسط درجہ کا لباس دیا جائے۔ (کذا قال الخصاف فی التفقات)
اسلام میں حسن معاشرت کی بےنظیر تعلیم
دنیا میں حقوق کی ادائیگی عام طور پر صرف دوستوں عزیزوں تک اور زیادہ سے زیادہ عام لوگوں تک محدود رہتی ہے، حسن اخلاق حسن معاشرت کا سارا زور صرف یہیں تک خرچ ہوتا ہے، اپنے مخالف اور دشمن کے بھی حقوق پہچاننا اس کے لئے قوانین وضع کرنا صرف شریعت اسلام ہی کا کام ہے۔ اس زمانہ میں اگرچہ حقوق انسانیت کی حفاظت کے لئے دنیا میں بہت سے مستقبل ادارے قائم کئے گئے ہیں، اور اس کے لئے کچھ ضابطے قاعدے بھی بنائے ہوئے ہیں، اس مقصد کے لئے اقوام عالم سے لاکھوں روپے کا سرمایہ بھی جمع کیا جاتا ہے، مگر اول تو ان اداروں پر سیاسی مقاصد چھائے ہوئے ہیں۔ جو کچھ مصیبت زدگان کی امداد کی جاتی ہے وہ بھی بےغرض اور ہر جگہ نہیں، بلکہ جہاں اپنے سیاسی مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ اور بالفرض یہ ادارے بالکل صحیح طور پر بھی خدمت خلق انجام دیں تو ان کی زیادہ سے زیادہ اس وقت پہنچ ہو سکتی ہے جب کسی خطہ زمین میں کوئی عام حادثہ طوفان، وبائی امراض وغیرہ کا پیش آجائے۔ افراد واحاد کی مصیبت و تکلیف کو کس کی خبر ہوتی ہے، کون مدد کو پہنچ سکتا ہے ؟ شریعت اسلام کی حکیمانہ تعلیم دیکھئے کہ طلاق کا معاملہ ظاہر ہے کہ باہمی مخالفت غصے اور ناراضی سے پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ جو تعلق انتہائی یگانگت اور محبت والفت کی بنیاد پر قائم ہوا تھا وہ اب اس کی نقیض بن کر نفرت، دشمنی، انتقامی جذبات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت مذکورہ اور اسی قسم کی بہت سی آیات نے عین طلاق کے موقع پر جو مسلمان کو ہدایات دی ہیں وہی ایسی ہیں کہ ان میں حسن خلق اور حسن معاشرت کا پورا امتحان ہوتا ہے۔ نفس کا تقاضا ہوتا ہے کہ جس عورت نے ہمیں ستایا اذیت دی یہاں تک کہ قطع تعلق پر مجبوری ہوئی اس کو خوب ذلیل کر کے نکالا جائے اور جو انتقام اس سے لیا جاسکتا ہے لے لیا جائے۔
مگر قرآن کریم نے عام مطلقہ عورتوں کے لئے تو ایک بڑی پابندی عدت کی اور ایام عدت کو شوہر کے مکان میں گزارنے کی لگا دی۔ طلاق دینے والے پر یہ فرض کردیا کہ اس مدت کے اندر عورت کو اپنے گھر سے نہ نکالے، اور اس کو بھی پابند کردیا کہ ایام عدت میں اس گھر سے نہ نکلے۔ دوسرے شوہر پر فرض کردیا کہ طلاق دے دینے کے باوجود اس زمانہ عدت کا نفقہ بدستور جاری رکھے۔ تیسرے شوہر کے لئے مستحب کیا کہ عدت پوری ہونے کے بعد بھی جب اس کو رخصت کرے تو متاع یعنی لباس دے کر عزت کے ساتھ رخصت کرے۔ صرف وہ عورتیں جن کے ساتھ صرف نکاح کا بول پڑھا گیا ہے رخصتی اور خلوت و صحبت کی نوبت نہیں آئی وہ عدت سے مستثنیٰ قرار دی گئیں، لیکن ان کے متاع کی تاکید بہ نسبت دوسری عورتوں کے زیادہ کردی گئی۔ اسی کے ساتھ
تیسرا حکم یہ دیا گیا کہ (آیت) سرحوہن سراحاً جمیلاً ، یعنی ان کو رخصت کرو خوبی کے ساتھ، جس میں یہ پابندی لگا دی گئی کہ زبان سے بھی کوئی سخت بات نہ کہیں، طعن وتشنیع کا طریقہ اختیار نہ کریں۔
مخالفت کے وقت مخالف کے حقوق کی رعایت وہی کرسکتا ہے جو اپنے نفس کے جذبات پر قابو رکھے، اسلام کی ساری تعلیمات میں اس کی رعایت رکھی گئی ہے۔