Ayah 33:50خلاصہ تفسیر
اے نبی (بعض احکام آپ کے ساتھ مخصوص ہیں جن سے آپ کا اختصاص اور شرف بھی ثابت ہوتا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں، حکم اول) ہم نے آپ کے لئے آپ کی یہ بیبیاں (جو کہ اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہیں اور) جن کو آپ ان کے مہر دے چکے ہیں (باوجود چار سے زائد ہونے کے) حلال کی ہیں (حکم دوم) اور وہ عورتیں بھی (خاص طور پر حلال کی ہیں) جو تمہاری مملوکہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنیمت میں دلوا دی ہیں (اس خاص طور کا بیان معاف و مسائل میں آئے گا حکم سوم) اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں (مراد اس سے باپ کے خاندان کی بیٹیاں ہیں) اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں (مراد اس سے ماں کے خاندان کی بیٹیاں ہیں، یعنی ان سب کو) ابھی (اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے) مگر یہ خاندان کی عورتیں مطلقاً نہیں بلکہ ان میں سے صرف وہی) جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو (ساتھ کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل ہجرت میں موافقت کی ہو اور معیت زمانیہ کی قید نہیں ہے اور اس قید سے وہ نکل گئیں جو مہاجر نہ ہوں، حکم چہارم) اور اس مسلمان عورت کو بھی (آپ کے لئے حلال کیا) جو بلا عوض (یعنی بلا مہر) اپنے کو پیغمبر کو دے دے (یعنی نکاح میں آنا چاہے، بشرطیکہ پیغمبر اس کو نکاح میں لانا چاہے (اور مسلمان کی قید سے کافرہ نکل گئی کہ حضور ﷺ کو اس سے نکاح درست نہ تھا اور یہ حکم پنجم ہے اور) یہ سب (احکام) آپ کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں اور نہ مومنین کے لئے (کہ ان کے لئے اور احکام ہیں چنانچہ) ہم کو وہ احکام معلوم ہیں (اور آیات و احادیث کے ذریعہ اور دن کو بھی معلوم کرا دیئے ہیں) جو ہم نے ان (عام مومنین) پر ان کی بیبیوں اور لونڈیوں کے بارے میں مقرر کئے ہیں (جو ان احکام سے متمائز اور متغائر ہیں، جن میں سے نمونہ کے طور پر ایک اوپر بھی آیت اذا نکحتم میں مذکور ہے، جس میں فمتعوہن سے مہر کا لزوم ہر نکاح کے لئے ثابت ہوتا ہے خواہ حقیقتاً یا حکماً ، اور خواہ باہم قرار داد سے ہو یا شرعی حکم سے۔ اور نکاح نبوی حکم چہارم میں مہر سے خالی ہے اور یہ اختصاص اس لئے ہے) تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی (واقع) نہ ہو (پس جن احکام مخصوصہ میں اوروں سے توسیع ہے جیسے حکم اول و چہارم، ان میں تو تنگی نہ ہونا ظاہر ہے، اور جن میں ظاہراً تقیید و تضییق ہے جیسے حکم سوم اور پنجم وہاں تنگی نہ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے یہ قید آپ کے بعض مصالح کے لئے لگائی ہے اگر یہ قید نہ ہوتی تو آپ کی وہ مصلحت فوت ہوجاتی اور اس وقت آپ کو تنگی ہوتی جو ہم کو معلوم ہے، اس لئے رعایت اس مصلحت کی گئی تاکہ وہ تنگی متحمل واقع نہ ہو اور حکم دوم کے متعلق معارف و مسائل میں آوے گی) اور (رفع حرج کی رعایت کچھ انہی احکام مختصہ میں ہی نہیں ہے بلکہ عام مومنین کے متعلق جو احکام ہیں ان میں بھی یہ امر ملحوظ ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے (پس رحمت سے احکام میں سہولت کی رعایت فرماتے ہیں، اور سہل احکام میں بھی کوتاہی ہوجانے پر احیاناً مغفرت فرماتے ہیں جو دلیل غایت رحمت ہے جو بناء ہے سہولت احکام و رفع حرج کی اور یہ تو بیان تھا ان عورتوں کی اقسام کا جو آپ کے لئے حلال کی گئیں، آگے اس کا بیان ہے کہ جو اقسام حلال کی گئیں ہیں ان میں سے جتنی جس وقت آپ کے پاس ہوں ان کے کیا احکام ہیں، پس حکم ششم یہ ارشاد ہے کہ) ان میں سے آپ جس کو چاہیں (اور جب تک چاہیں) اپنے سے دور رکھیں (یعنی اس کو باری نہ دیں) اور جس کو چاہیں (اور جب تک چاہیں) اپنے نزدیک رکھیں (یعنی اس کو باری دیں) اور جن کو دور کر رکھا تھا ان سے پھر کسی کو طلب کریں تب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں (مطلب یہ ہوا کہ ازواج میں شب باشی کی باری وغیرہ کی رعایت آپ پر واجب نہیں اور اس میں ایک بڑی ضروری مصلحت ہے وہ یہ کہ) اس میں زیادہ توقع ہے کہ ان (بیبیوں) کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی (یعنی خوش رہیں گی) اور آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی آپ ان کو دے دیں گے اس پر سب کی سب راضی رہیں گی (کیونکہ بنا رنج کی عادتاً دعویٰ استحقاق کا ہوتا ہے، اور جب معلوم ہوجائے کہ جو کچھ مال یا توجہ مبذول ہوگی وہ تبرع محض ہے، ہمارا حق واجب نہیں ہے تو کسی کو کوئی شکایت نہیں رہے گی، اور لونڈیوں کا حق باری میں نہ ہونا سب ہی کو معلوم ہے) اور (اے مسلمانو ! یہ احکام مختصہ سن کر دل میں یہ خیالات مت پکا لینا کہ یہ احکام عام کیوں نہ ہوئے اگر ایسا کرو گے تو) خدا تعالیٰ کو تم لوگوں کے دلوں کی سب باتیں معلوم ہیں (ایسا خیال پکا لینے پر تم کو سزا دے گا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض اور رسول اللہ ﷺ پر حسد ہے جو موجب تعذیب ہے) اور اللہ تعالیٰ (یہی کیا) سب کچھ جاننے والا ہے (اور معترضین کو جو عاجلاً سزا نہیں ہوئی تو اس سے نفی علم لازم نہیں آتی بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ) بردبار (بھی) ہے (اس لئے کبھی سزا میں ڈھیل دیتا ہے، آگے بقیہ احکام مختصہ بحضرة الرسالة ارشاد فرماتے ہیں جن میں بعضے تو احکام بالا کا نتیجہ ہیں اور بعضے جدید ہیں، پس ارشاد ہے کہ اوپر جو حکم سوم و پنجم میں منکوحہ عورتوں میں ہجرت اور ایمان کی قید لگائی ہے سو) ان کے علاوہ اور عورتیں (جن میں یہ قید نہ ہو) آپ کے لئے حلال نہیں ہیں (یعنی اہل قرابت میں سے غیر مہاجرات حلال نہیں اور دوسری عورتوں میں سے غیر مومنات حلال نہیں، یہ تو تتمہ ہوا حکم بالا کا) اور (آگے حکم ہفتم جدید ہے کہ) نہ یہ درست ہے کہ آپ ان (مجودہ) بیبیوں کی جگہ دوسری بیبیاں کرلیں (اس طرح سے کہ ان میں سے کسی کو طلاق دے دیں اور بجائے ان کی دوسری کرلیں اور یوں بدون ان کے طلاق دیئے ہوئے اگر کسی سے نکاح کرلیں تو اس کی ممانعت نہیں اسی طرح اگر بلا قصد تبدل کسی کو طلاق دے دیں تو اس کی بھی ممانعت ثابت نہیں، بلکہ لفظ تبدل اس مجموعہ کی ممانعت پر دال ہے، پس یہ تبدل ممنوع ہے) اگرچہ آپ کو ان (دوسریوں) کا حسن اچھا معلوم ہو مگر جو آپ کی مملوکہ ہو (کہ وہ حکم پنجم اور ہفتم دونوں سے مستثنیٰ ہے، یعنی وہ کتابیہ ہونے پر بھی حلال ہے، اور اس میں تبدل بھی درست ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کی حقیقت اور آثار و مصالح) کا پورا نگراں ہے (اس لئے ان سب احکام میں مصلحتیں و حکمتیں ہیں گو عام مکلفین کو وہ تعییناً نہ بتلائی جائیں، اس واسطے کسی کو سوال یا اعتراض کا منصب و استحقاق نہیں)
معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں نکاح و طلاق وغیرہ سے متعلق ان سات احکامات کا ذکر ہے جو رسول اللہ ﷺ کے لئے مخصوص ہیں۔ اور یہ خصوصیات آنحضرت محمد ﷺ کی ایک امتیازی شان اور خصوصی اعزاز کی علامت ہیں، ان میں سے بعض احکام تو ایسے ہیں کہ ان کی خصوصیت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بالکل واضح اور جلی ہے اور بعض ایسے ہیں جو اگرچہ سب مسلمانوں کے لئے عام ہیں مگر ان میں کچھ قیدیں شرطیں رسول اللہ ﷺ کے لئے مخصوص ہیں، اب ان کی تفصیل دیکھئے۔
پہلا حکم
(آیت) انا احللنا لک ازواجک التی اتیت اجورھن، ”یعنی ہم نے حلال کردیا۔ آپ کے لئے آپ کی سب موجودہ ازواج کو جن کے مہر آپ نے ادا کردیئے ہیں۔“ یہ حکم بظاہر سبھی مسلمانوں کے لئے عام ہے، مگر اس میں وجہ خصوصیت یہ ہے کہ نزول آیت کے وقت آپ کے نکاح میں چار سے زیادہ عورتیں موجود تھیں اور عام مسلمانوں کے لئے چار سے زائد عورتوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حلال نہیں، تو یہ آپ کی خصوصیت تھی کہ چار سے زیادہ عورتوں کو نکاح میں رکھنا آپ کے لئے حلال کردیا گیا۔
اور اس آیت میں جو التی اتیت اجورھن، فرمایا ہے یہ کوئی قید احترازی یا شرط حلت نہیں بلکہ واقعہ کا اظہار ہے کہ جتنی عورتیں رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آئیں آپ نے سب کا مہر نقد ادا کردیا ادھار نہیں رکھا۔ آپ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جس چیز کا دینا آپ کے ذمہ عائد ہو اس کو فوراً دے کر سبکدوش ہوجاتے تھے، بلا ضرورت تاخیر نہ فرماتے تھے۔ اس واقعہ کے اظہار میں عام مسلمانوں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب ہے۔
دوسرا حکم
(آیت) وما ملکت بمینک مما افاء اللہ علیک، ”یعنی آپ کے لئے حلال کردیا ان عورتوں کو جو آپ کی ملک میں ہوں، اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کا مالک بنادیا ہے اس آیت میں لفظ افاء فیی سے مشتق ہے۔ اصطلاحی معنی کے لحاظ سے وہ مال جو کفار سے بغیر جنگ کے یا بطور مصالحت کے حاصل ہوجائے اور کبھی مطلق مال غنیمت کو بھی لفظ فی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس آیت میں اس کا ذکر کسی شرط کے طور پر نہیں کہ آپ کے لئے صرف وہ کنیز حلال ہوگی جو مال فئی یا غنیمت میں سے آپ کے حصہ میں آتی ہو، بلکہ جس کو آپ نے قیمت دے کر خریدا ہو وہ بھی اس حکم میں شامل ہے۔
لیکن اس حکم میں بظاہر رسول اللہ ﷺ کا کوئی اختصاص و امتیاز نہیں، پوری امت کے لئے یہ حکم ہے، جو کنیز مال غنیمت سے حصہ میں آئے یا جس کی قیمت دے کر خریدیں وہ ان کے لئے حلال ہے، اور بظاہر سیاق ان تمام آیات کا یہ چاہتا ہے کہ ان میں جو احکام آئے ہیں وہ کچھ نہ کچھ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خصوصیت رکھتے ہوں۔ اسی لئے روح المعانی میں کنیزوں کی حلت سے متعلق بھی رسول اللہ ﷺ کی ایک خصوصیت یہ بتلائی ہے کہ جس طرح آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی کا نکاح کسی امتی سے حلال نہیں۔
اسی طرح جو کنیز آپ کے لئے حلال کی گئی ہے آپ کے بعد وہ کسی کے لئے حلال نہ ہوگی، جیسا کہ حضرت ماریہ قبطیہ ہیں جن کو مقوقس بادشاہ روم نے آپ کے لئے بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ تو جس طرح آپ کی وفات کے بعد ازواج مطہرات کا نکاح کسی سے جائز نہیں تھا ان کا بھی نکاح کسی سے جائز نہیں رکھا گیا۔ اس لحاظ سے (آیت) ما ملکت ایمانہم کے حلال ہونے میں بھی آپ کی ایک خصوصیت ثابت ہوگئی۔
اور سیدی حضرت حکیم الامة قدس سرہ، نے اور دو خصوصیتیں بیان القرآن میں بیان فرمائی ہیں جو مذکورہ خصوصیت سے زیادہ واضح ہیں
اول یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو حق تعالیٰ کی طرف سے یہ اختیار خصوصی دیا گیا تھا کہ مال غنیمت کو تقسیم کرنے سے پہلے آپ اس میں سے کسی چیز کا اپنے لئے انتخاب فرما لیں تو وہ آپ کی ملک خاص ہوجاتی تھی، اس خاص چیز کو اصطلاح میں صفی النبی کہا جاتا تھا، جیسا کہ غزوہ خیبر کی غنیمت میں سے آنحضرت ﷺ نے حضرت صفیہ کو اپنے لئے مخصوص کرلیا تھا تو ملک یمین کے مسئلہ میں یہ صرف آنحضرت ﷺ کی خصوصیت ہے۔
دوسری خصوصیت یہ ہے کہ دار الحرب سے کسی غیر مسلم کی طرف سے اگر کوئی ہدیہ مسلمانوں کے امیر المومنین کے نام پر آئے تو حکم شرعی یہ ہے کہ اس کا مالک امیر المومنین نہیں ہوتا بلکہ وہ بیت المال شرعی کی ملک قرار دیا جاتا ہے، بخلاف نبی کریم ﷺ کے کہ ایسا ہدیہ آپ کے لئے خصوصیت سے حلال کردیا گیا، جیسا ماریہ قبطیہ کا معاملہ ہے کہ مقوقس نے ان کو بطور ہدیہ وتحفہ آپ کی خدمت میں پیش کیا، تو یہ آپ ہی کی ملک قرار پائیں۔ واللہ اعلم۔
تیسرا حکم
بنت عمک وبنت عمتک الآیة، اس آیت میں عم اور خال کو مفرد اور عمات اور خالات کو جمع لانے کی توجیہات علماء نے بہت لکھی ہیں، تفسیر روح المعانی نے ابوحیان کی اس توجیہ کو اختیار کیا ہے کہ محاورہ عرب کا اسی طرح ہی اشعار عرب اس پر شاہد ہیں کہ عم کی جمع استعمال نہیں کرتے مفرد ہی استعمال ہوتا ہے۔
مطلب آیت کا یہ ہے کہ آپ کے لئے چچا اور پھوپھی کی لڑکیاں اور ماموں خالہ کی لڑکیاں حلال کردی گئیں، چچا پھوپھی میں باپ کے خاندان کی سب لڑکیاں اور ماموں خالہ میں ماں کے خاندان کی سب لڑکیاں شامل ہیں، اور ان سے نکاح کا حلال ہونا تو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں، سب مسلمانوں کا یہی حکم ہے۔ لیکن ان میں یہ قید کہ انہوں نے آپ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے ہجرت کی ہو یہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیت ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ عام امت کے لئے تو باپ اور ماں کے خاندان کی یہ لڑکیاں بغیر کسی شرط کے حلال ہیں، خواہ انہوں نے ہجرت کی ہو یا نہ کی ہو، مگر رسول اللہ ﷺ کے لئے ان میں سے صرف وہ حلال ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو۔ ساتھ ہجرت کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ سفر میں آپ کی معیت رہی ہو یا ایک ہی وقت میں ہجرت کی ہو، بلکہ مراد نفس ہجرت میں معیت وموافقت ہے۔ ان میں سے جس نے کسی وجہ سے ہجرت نہیں کی اس سے آپ کا نکاح حلال نہیں رکھا گیا، جیسا کہ آپ کے چچا ابو طالب کی بیٹی ام ہانی نے فرمایا کہ مجھ سے آپ کا نکاح اس لئے حلال نہیں تھا کہ میں نے مکہ سے ہجرت نہیں کی تھی، بلکہ میرا شمار طلقاء میں تھا۔ طلقاء ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جن کو فتح مکہ کے وقت رسول اللہ ﷺ نے آزاد کردیا تھا نہ قتل کیا نہ غلام بنایا۔ (روح و جصاص)
اور رسول اللہ ﷺ سے نکاح کے لئے مہاجرات کی شرط صرف اپنی ماں باپ کے خاندان کی لڑکیوں میں تھی، عام امت کی عورتوں میں ہجرت کی شرط نہ تھی، بلکہ ان کا صرف مسلمان ہونا کافی تھا۔ اور خاندان کی لڑکیوں میں ہجرت کی شرط لگانے میں شاید یہ حکمت ہو کہ عموماً خاندان کی لڑکیوں کو اپنے خاندان کا ایک ناز اور فخر ہوتا ہے، اور رسول کی زوجیت کے لئے یہ شایان شان نہیں، اس کا علاج ہجرت کی شرط سے کیا گیا۔ کیونکہ ہجرت صرف وہی عورت کرے گی جو اللہ و رسول کی محبت کو اپنے سارے خاندان اور وطن و جائیداد کی محبت سے غالب رکھے۔ نیز ہجرت کے وقت انسان کو طرح طرح کی تکلیفیں پیش آتی ہیں، اور اللہ کی راہ میں جو تکلیف و مشقت اٹھائی جائے اس کو اصلاح اعمال میں خاص دخل ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ماں اور باپ کے خاندان کی لڑکیوں سے نکاح میں آنحضرت ﷺ کے لئے ایک خصوصی شرط یہ ہے کہ انہوں نے مکہ سے ہجرت کرنے میں آپ کا ساتھ دیا ہو۔
چوتھا حکم
(آیت) وامراة مومنة ان وھبت نفسہا للنبی ان ارادالنبی ان یستنکہا خالصة لک من دون المومنین، ”یعنی اگر کوئی مسلمان عورت اپنے نفس کو آپ کے لئے ہبہ کر دے، یعنی بغیر مہر کے آپ سے نکاح کرنا چاہے، اگر آپ اس سے نکاح کا ارادہ کریں تو آپ کے لئے بلا مہر کے بھی نکاح حلال ہے، اور یہ خاص حکم آپ کے لئے ہے دوسرے مومنین کے لئے نہیں“
اس معاملہ کی خصوصیت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بالکل واضح ہے کیونکہ عام لوگوں کے لئے نکاح میں مہر شرط لازم ہے، یہاں تک کہ اگر بوقت نکاح کسی مہر کا ذکر نہی یا نفی کے ساتھ آیا کہ عورت نے کہا کہ مہر نہیں لوں گی، یا مرد نے کہا کہ نکاح اس شرط پر کرتے ہیں کہ مہر نہیں دیں گے، دونوں صورتوں میں ان کا کہنا اور شرط شرعی حیثیت سے لغو ہوگی، اور شرعاً مہر مثل واجب ہوگا۔ صرف رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت سے نکاح بلا مہر حلال کیا گیا ہے جبکہ عورت بلا مہر نکاح کرنے کی خواہش مند ہو۔
فائدہ
یہ حکم کہ جو عورت آپ کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کرے۔ یعنی بلا مہر کے نکاح کرنا چاہے وہ آپ کے لئے حلال ہے، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ کوئی ایسا واقعہ پیش بھی آیا یا نہیں ؟ بعض نے فرمایا کہ کسی ایسی عورت سے رسول اللہ ﷺ کا نکاح کرنا ثابت نہیں، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ نے کسی ہبہ کرنے والی عورت سے نکاح نہیں کیا، اور بعض حضرات نے بعض ایسی عورتوں سے نکاح ہونا ثابت کیا ہے۔ (روح المعانی)
اس حکم کے ساتھ جو جملہ خالصة لک کا آیا ہے، اس کو بعض حضرات نے صرف اسی حکم چہارم کے ساتھ مخصوص کہا ہے اور زمخشری وغیرہ مفسرین نے اس جملے کو ان تمام احکام کے ساتھ لگایا ہے جو اوپر مذکور ہوئے ہیں، کہ یہ سب خصوصیات نبی کریم ﷺ کی ہیں۔ اس کے آخر میں فرمایا لکیلا یکون علیک حرج، یعنی یہ خصوصی احکام آپ کے لئے اس لئے دیئے گئے ہیں کہ آپ پر کوئی تنگی نہ ہو۔ جو احکام مخصوصہ اوپر بیان ہوئے ہیں ان میں پہلا حکم یعنی چار سے زائد بیبیاں آپ کے لئے حلال کردی گئیں اور حکم چہارم کے بغیر مہر کے نکاح حلال کردیا گیا، ان میں تو تنگی کا رفع کرنا اور مزید سہولت دیا جانا ظاہر ہے، مگر باقی تین حکم یعنی دوم و سوم اور پنجم ان میں تو بظاہر آپ پر کچھ مزید قیدیں لگا دی گئیں جن سے تنگی اور بڑھنی چاہئے۔ مگر اس میں اشارہ فرما دیا کہ اگرچہ ظاہر میں یہ قیدیں ایک تنگی بڑھاتی ہیں، مگر ان میں آپ کی ایسی مصلحتوں کی رعایت ہے کہ یہ قیدیں نہ ہوتیں تو آپ کو بڑی تکلیف پیش آتی جو ضیق قلب کا سبب بنتیں، اس لئے قید زائد میں بھی آپ کی تنگی رفع کرنا ہی مقصود ہے۔
پانچواں حکم
جو آیات مذکورہ میں مومنہ کی قید سے مستفاد ہوتا ہے یہ کہ اگرچہ عام مسلمانوں کے لئے یہود و نصاریٰ کی عورتوں یعنی کتابیات سے نکاح بنص قرآن حلال ہے، مگر رسول اللہ ﷺ کے لئے عورت کا مومن ہونا شرط ہے، کتابیات سے آپ کا نکاح نہیں ہو سکتا۔
ان پانچوں احکام کی خصوصیت نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیان فرمانے کے بعد عام مسلمانوں کا حکم اجمالاً ذکر فرمایا ہے، (آیت) قد علمنا مافرضنا علیہم فی ازواجہم وما ملکت ایمانہم، یعنی احکام مذکورہ آپ کے لئے مخصوص ہیں، باقی مسلمانوں کے نکاح کے لئے جو ہم نے فرض کیا ہے وہ ہم جانتے ہیں، مثلاً عام مسلمانوں کا نکاح بغیر مہر کے نہیں ہوسکتا اور کتابیات سے ان کا نکاح ہوسکتا ہے، اسی طرح سابقہ احکام میں جو قیدیں شرطیں آپ کے نکاح کے لئے ضروری قرار دی گئی ہیں وہ اوروں کے لئے نہیں ہیں۔
آخر میں فرمایا (آیت) لکیلا یکون علیک حرج، یعنی نکاح کے معاملے میں آپ کے لئے یہ خصوصی احکام اس لئے ہیں کہ آپ پر کوئی تنگی نہ ہو اور جو قیدیں شرطیں آپ پر بہ نسبت دوسرے مسلمانوں کے زائد لگائی گئی ہیں اگرچہ بظاہر وہ ایک قسم کی تنگی ہے مگر جن مصالح اور حکمتوں کے پیش نظر آپ کے لئے یہ شرطیں لگائی ہیں ان میں غور کریں تو وہ بھی آپ کی روحانی پریشانی اور تنگ دلی کو دور کرنے ہی کے لئے ہیں۔
یہاں تک نکاح کے متعلق پانچ احکام آئے ہیں، جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی نہ کوئی خصوصیت رکھتے ہیں۔ آگے دو حکم انہی پانچ احکام سے متعلق بیان فرمائے ہیں ،
Ayah 33:51چھٹا حکم
(آیت) ترجی من تشاء منہن وتوی الیک من تشاء۔ ، ترجی، ارجاء سے مسشتق ہے، جس کے معنی موخر کرنے کے ہیں، اور تو ی، ایواء سے مشتق ہے جس کے معنی قریب کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کو اختیار ہے کہ ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں موخر کردیں جس کو چاہیں اپنے قریب کریں۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا مخصوص حکم ہے، عام امت کے لوگوں کے لئے جب متعدد بیویاں ہوں تو سب میں برابری کرنا ضروری ہے، اس کے خلاف کرنا حرام ہے۔ برابری سے مراد نفقہ کی برابری اور شب باشی میں برابری ہے کہ جتنی راتیں ایک بیوی کے ساتھ گزاریں اتنی دوسری اور تیسری کے ساتھ گزارنا چائے، کمی بیشی ناجائز ہے۔ مگر نبی کریم ﷺ کو اس معاملے میں مکمل اختیار دے دیا کہ جس بی بی سے ایک مرتبہ اجتناب کا ارادہ کرلیا پھر اگر چاہیں تو اس کو پھر قریب کرسکتے ہیں، (آیت) و من ابتغیت ممن عزلت فلا جناح علیک۔ کا یہی مطلب ہے۔
حق تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو یہ اعزاز بخشا کہ ازواج مطہرات میں برابری کرنے کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس استثناء و اجازت کے باوجود اپنے عمل میں ہمیشہ برابری کا التزام ہی فرمایا۔ امام ابوبکر جصاص نے فرمایا کہ حدیث کی روایت یہی ہے کہ نبی کریم ﷺ اس آیت کے نزول کے بعد بھی ازواج مطہرات میں برابری کی رعایت ہمیشہ رکھتے تھے، پھر اپنی اسناد کے ساتھ حضرت صدیقہ عائشہ سے یہ حدیث نقل کی جو مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابو داؤد وغیرہ میں بھی موجود ہے
”رسول اللہ ﷺ سب ازواج میں برابری فرماتے تھے اور یہ دعا کیا کرتے تھے کہ یا اللہ جس چیز میں میرا اختیار ہے اس میں تو میں نے برابر کرلی، (یعنی نفقہ اور شب باشی وغیرہ میں) مگر جس میں میرا اختیار نہیں اس معاملہ میں مجھے ملامت نہ فرمائیں اور مراد دل کی محبت ہے، کسی سے زیادہ کسی سے کم“
اور صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ہی کی روایت ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کو کسی بی بی کی نوبت میں ان کے یہاں جانے سے کوئی عذر ہوتا تو آپ اس سے اجازت لیتے تھے، جب کہ یہ آیت نازل ہوچکی تھی، تو یہ الیک الآیة (جس میں بیویوں میں برابری کرنے کا فرض آپ سے معاف کردیا گیا)۔
یہ حدیث بھی سب کتب حدیث میں معروف ہے، کہ مرض وفات میں جب آپ کو ازواج مطہرات کے گھروں میں روزانہ منتقل ہونا مشکل ہوگیا تو آپ نے سب سے اجازت حاصل کر کے حضرت صدیقہ عائشہ کے بیت میں بیماری کے دن گزارنا اختیار فرمایا تھا۔
انبیاء (علیہم السلام) خصوصاً سید الانبیاء ﷺ کی عادت شریفہ یہی تھی کہ جن کاموں میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی رخصت آپ کی آسانی کے لئے دی جاتی تھی تو اس کی شکر گزاری کے طور پر آپ عموماً عزیمت پر عمل کرتے اور رخصت کو صرف ضرورت کے وقت استعمال کرتے تھے۔
(آیت) ذلک ادنی ان تقرا اعینہن ولا یحزن ویرضین الآیة۔ یہ حکم ششم یعنی نسبی کریم ﷺ سے ازواج مطہرات میں برابری کی فرضیت کا اٹھا دینا اور آپ کو ہر طرح کا اختیار دے دینا، اس کی علت و حکمت کا بیان ہے۔ آپ کو یہ عام اختیار دینے کی مصلحت یہ ہے کہ سب ازواج مطہرات کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ اپنے حصہ پر راضی رہیں۔
یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ حکم تو بظاہر ازواج مطہرات کی مرضی اور منشاء کے خلاف اور ان کے رنج کا سبب ہوسکتا ہے، اس کو ازواج کی خوشی کا سبب کیسے قرار دیا گیا ؟ اس کا جواب خلاصہ تفسیر میں اوپر آ چکا ہے کہ دراصل ناراضی کا اصل سبب اپنا استحقاق ہوتا ہے، جس شخص کے متعلق انسان کو یہ معلوم ہو کہ میرا فلاں حق اس کے ذمہ واجب ہے، اگر وہ اس کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو رنج وغم پیش آتا ہے۔ اور جس شخص پر ہمارا کوئی حق واجب نہ ہو پھر وہ جو کچھ بھی مہربانی کرے وہ خوشی ہی خوشی ہوتی ہے، یہاں بھی جب یہ بتلا دیا گیا کہ ازواج میں برابری کرنا آپ پر واجب نہیں، بلکہ آپ مختار ہیں تو اب جس بی بی کو جتنا حصہ بھی آپ کی توجہ اور صحبت کا ملے گا، وہ اس کو ایک احسان و تبرع سمجھ کر خوش ہوگی۔
آخر میں فرمایا (آیت) واللہ یعلم ما فی قلوبکم وکان اللہ علیماً حلیماً۔
یعنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اور وہ بڑے علم والا بڑے حلم والا ہے۔ آیات مذکورہ میں اوپر سے یہاں تک ان احکام کا ذکر چلا آتا ہے جو دربارہ نکاح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی طرح کی خصوصیت رکھتے ہیں، آگے بھی ایسے ہی بعض احکام کا بیان آ رہا ہے، درمیان میں یہ آیت کہ اللہ تعالیٰ تمارے دلوں کا حال جانتا ہے اور علیم وحلیم ہے، بظاہر ما قبل اور ما بعد سے کوئی جوڑ نہیں رکھتا۔ روح المعانی میں فرمایا کہ احکام مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ کے لئے چار سے زیادہ ازواج کی اجازت اور بلامہر کے نکاح کی اجازت سے کسی کے دل میں شیطانی وساوس پیدا ہو سکتے تھے، اس لئے درمیان میں اس آیت نے یہ ہدایت دے دی کہ مسلمان اپنے دلوں کی ایسے وساوس سے حفاظت کریں، اور اس پر ایمان کو پختہ کریں کہ یہ سب خصوصیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں جو بہت سی حکمتوں اور مصالح پر مبنی ہیں، نفسانی خواہشات کی تکمیل کا یہاں گزر نہیں۔
Ayahs 33:52–53رسول اللہ ﷺ کی زاہدانہ زندگی اور اس کے ساتھ تعدد ازواج کا مسئلہ
اعداء اسلام نے ہمیشہ مسئلہ تعدد ازواج اور خصوصاً رسول اللہ ﷺ کی کثرت ازواج کو اسلام کی مخالفت میں موضوع بحث بنایا ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی کو سامنے رکھا جائے تو کسی شیطان کو بھی شان رسالت کے خلاف وسوسہ پیدا کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ جس سے ثابت ہے کہ آپ نے سب سے پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ سے کیا، جو بیوہ سن رسیدہ صاحب اولاد اور دو شوہروں کے نکاح میں رہنے کے بعد آئی تھیں، اور پچاس سال کی عمر تک صرف اسی ایک سن رسیدہ بیوی کے ساتھ شباب کا پورا زمانہ گزارا۔ یہ پچاس سالہ دور عمر مکہ کے لوگوں کے سامنے گزرا۔ چالیس سال کی عمر میں اعلان نبوت کے بعد شہر میں آپ کی مخالفت شروع ہوئی، اور مخالفین نے آپ کے ستانے اور آپ پر عیب لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، ساحر کہا، شاعر کہا، مجنون کہا، مگر کبھی کسی دشمن کو بھی آپ کی طرف کوئی ایسی چیز منسوب کرنے کا موقع نہیں مل سکا، جو تقویٰ و شہارت کو مشکوک کرسکے۔
پچاس سال عمر شریف کے گزرنے اور حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد حضرت سودہ نکاح میں آئیں یہ بھی بیوہ تھیں۔
ہجرت مدینہ اور عمرشریف چون سال ہوجانے کے بعد 2 ہجری میں حضرت صدیقہ عائشہ کی رخصتی آنحضرت ﷺ کے گھر میں ہوئی۔ اس کے ایک سال بعد حضرت حفصہ سے اور کچھ دنوں کے بعد حضرت زنیب بنت خزیمہ سے نکاح ہوا۔ یہ حضرت زینب چند ماہ کے بعد وفات پا گئیں۔ 4 ہجری میں حضرت ام سلمہ جو صاحب اولاد بیوہ تھیں آپ کے نکاح میں آئیں۔ 5 ہجری میں حضرت زینب بنت جحش سے بحکم خداوندی نکاح ہوا، جس کا ذکر سورة احزاب کے شروع میں آ چکا ہے۔ اس وقت آپ کی عمر شریف اٹھاون سال تھی۔ آخری پانچ سال میں باقی ازواج مطہرات آپ کے حرم میں داخل ہوئیں۔ پیغمبر کی خانگی زندگی اور گھریلو معاملات سے متعلق احکام دین کا ایک بہت بڑا حصہ ہوتے ہیں۔ ان نو ازواج مطہرات سے جس قدر دین کی اشاعت ہوئی اس کا اندازہ صرف اس سے ہوسکتا ہے کہ صرف حضرت صدیقہ عائشہ سے دو ہزار دو سو دس احادیث اور حضرت ام سلمہ سے تین سو اڑسٹھ احادیث کی روایت معتبر کتب حدیث میں جمع ہیں۔ حضرت ام سلمہ نے جو احکام و فتاویٰ لوگوں کو بتلائے ان کے متعلق حافظ ابن قیم نے اعلام الموقعین میں لکھا ہے کہ اگر ان کو جمع کرلیا جائے تو ایک مستقل کتاب بن جائے، دو سو سے زیادہ حضرات صحابہ حضرت صدیقہ عائشہ کے شاگرد ہیں، جنہوں نے حدیث اور فقہ و فتاویٰ ان سے سیکھے ہیں۔
اور بہت سی ازواج کو حرم نبوی میں داخل کرنے میں ان کے خاندان کو اسلام کی طرف لانے کی حکمت بھی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے اس اجمالی نقشہ کو سامنے رکھیں تو کیا کسی کو یہ کہنے کی گنجائش رہ سکتی ہے کہ یہ تعدد اور کثرت ازواج معاذ اللہ کسی نفسانی اور جنسی خواہش کی تکمیل کے لئے ہوا تھا، اگر یہ ہوتا تو ساری عمر تجرد یا ایک بیوہ کے ساتھ گزارنے کے بعد عمر کے آخری حصہ کو اس کام کے لئے کیوں منتخب کیا جاتا۔ یہ مضمون پوری تفصیل کے ساتھ، نیز اصل مسئلہ تعدد ازواج پر شرعی اور عقلی، فطری اور اقتصادی حیثیت سے مکمل بحث معارف القرآن جلد دوم سورة نساء کی تیسری آیت کے تحت میں آ چکی ہے وہاں دیکھا جائے۔ (معارف جلد دوم، ص 582 تا 292)۔
ساتواں حکم
(آیت) لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بہن من ازواج ولوا عجبک حسنہن، ”یعنی اس کے بعد آپ کے لئے دوسری عورتوں سے نکاح حلال نہیں، اور یہ بھی حلال نہیں کہ موجودہ ازواج میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ دوسری بدلیں“
اس آیت میں لفظ من بعد کی دو تفسیریں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ من بعد سے مراد یہ ہو کہ بعد ان نو عورتوں کے جو اس وقت آپ کے نکاح میں ہیں، اور کسی سے آپ کا نکاح حلال نہیں، بعض صحابہ اور آئمہ تفسیر سے بھی یہی تفسیر منقول ہے، جیسا کہ حضرت انس نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ دنیا طلبی کے لئے آپ سے جدائی اختیار کریں یا پھر تنگی و فراخی جو کچھ پیش آئے اس پر قناعت کر کے آپ کی زوجیت میں رہیں، تو سب ازواج مطہرات نے اپنے نفقہ کی زیادتی کے مطالبہ کو چھوڑ کر اسی حال میں زوجیت کے اندر رہنا اختیار کیا تو اس پر بطور انعام کے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات گرامی کو بھی انہی نو ازواج کے لئے مخصوص کردیا، ان کے سوا کسی سے نکاح جائز نہ رہا۔ (رواہ البیہقی فی سننہ کذا فی الروح)
اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو آپ کے لئے مخصوص فرما دیا کہ آپ کے بعد بھی وہ کسی سے نکاح نہیں کرسکتیں، اسی طرح آپ کو بھی ان کے لئے مخصوص فرما دیا کہ آپ ان کے علاوہ اور کوئی نکاح نہیں کرسکتے۔ حضرت عکرمہ سے بھی ایک روایت میں یہ تفسیر منقول ہے۔
اور حضرت عکرمہ، ابن عباس اور مجاہد آئمہ تفسیر سے ایک روایت میں لفظ من بعد کی یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ من بعد الاصناف المذکورة، یعنی شروع آیت میں آپ کے لئے جتنی اقسام عورتوں کی حلال کی گئی ہیں، اس کے بعد یعنی ان کے سوا کسی اور قسم کی عورتوں سے آپ کا نکاح حلال نہیں۔ مثلاً شروع آیت میں اپنے خاندان کی عورتوں میں سے صرف وہ حلال کی گئیں جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ ہجرت کرنے میں آپ کی موافقت کی تھی، خاندان کی عورتوں میں غیر مہاجرات سے آپ کا نکاح حلال نہیں رکھا گیا۔ اسی طرح مومنہ کی قید لگا کر آپ کے لئے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح ناجائز قرار دے دیا گیا۔ تو آیت کے جملہ من بعد کا مطلب یہ ہے کہ جتنی قسمیں آپ کے لئے حلال کردی گئی ہیں صرف انہی میں سے آپ کا نکاح ہوسکتا ہے، عام عورتوں میں تو مسلمان ہونا ہی شرط ہے اور خاندان کی عورتوں میں مسلمان ہونے کے ساتھ مہاجرہ ہونا بھی شرط ہے۔ جن میں یہ دو شرطیں موجود نہ ہوں، ان سے آپ کا نکاح حلال نہیں۔ اس تفسیر کے مطابق یہ جملہ کوئی نیا حکم نہیں، بلکہ پہلے ہی حکم کی تاکید و توضیح ہے، جو شروع آیت میں بیان ہوا ہے۔ اور اس آیت کی وجہ سے نو کے بعد کسی اور عورت سے نکاح حرام نہیں کیا گیا، بلکہ غیر مومنہ اور خاندان کی غیر مہاجرہ سے نکاح ممنوع ہوا ہے، جو پہلے ہی معلوم ہوچکا ہے، باقی عورتوں سے مزید نکاح آپ کے اختیار میں رہا۔ حضرت عائشہ صدیقہ کی ایک روایت سے بھی اس دوسری تفسیر کی تائید ہوتی ہے، کہ آپ کیلئے مزید نکاح کرنے کی اجازت رہی ہے۔ واللہ اعلم۔
(آیت) ولا ان تبدل بہن من ازواج، آیت مذکورہ کی اگر دوسری تفسیر اختیار کی جائے تو اس جملے کا مطلب واضح ہے کہ اگرچہ آپ کو موجودہ ازواج کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح بشرائط مذکورہ جائز ہے، مگر یہ جائز نہیں کہ ایک کو طلاق دے کر اس کی جگہ دوسری کو بدلیں یعنی خالص تبدیلی کی نیت سے کوئی نکاح جائز نہیں، بغیر لحاظ و نیت تبدیلی کے جتنے چاہیں نکاح کرسکتے ہیں۔
اور اگر آیت مذکورہ کی پہلی تفسیر مراد لی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ آئندہ نہ کسی عورت کا اضافہ موجودہ ازواج میں آپ کرسکتے ہیں، اور نہ کسی کی تبدیلی کرسکتے ہیں، کہ اسے طلاق دے کر اس کے قائم مقام کسی اور عورت سے نکاح کرلیں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
Ayahs 33:54–55(آیت) ان تبدواشیئاً او تخفوہ فان اللہ کان بکل شئی علیماً ، آخر آیت میں پھر اس مضمون کو دہرایا گیا، کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے ارادوں اور خیالات سے بھی واقف ہے، تم کسی چیز کو چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ تعالیٰ کے سامنے سب ظاہر ہی ہے۔ اس میں تاکید ہے کہ مذکور الصدر احکام میں کسی قسم کا شک و شبہ یا وسوسہ دل میں پیدا نہ ہونے دیں، اور احکام مذکورہ کی مخالفت سے بچنے کا پورا اہتمام کریں۔
آیت مذکورہ میں تین احکام بیان کئے گئے ہیں، ان میں عورتوں کے پردہ کا مسئلہ کئی وجہ سے تفصیل طلب ہے، اس لئے بقدر ضرورت لکھا جاتا ہے۔
Ayah 33:56خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں ان پیغمبر ﷺ پر اے ایمان والو تم بھی آپ پر رحمت بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔ (تا کہ آپ کا حق عظمت جو تمہارے ذمہ ہے ادا ہوجائے)
معارف و مسائل
اس سے پہلی آیات میں رسول اللہ ﷺ کی کچھ خصوصیات و امتیازات کا ذکر تھا، جن کے ضمن میں ازواج مطہرات کے پردہ کا حکم آیا تھا، اور آگے بھی کچھ احکام پردے کے آئیں گے، درمیان میں اس چیز کا حکم دیا گیا ہے جس کے لئے یہ سب خصوصیات و امتیازات رکھے گئے ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت شان کا اظہار اور آپ کی عظمت و محبت اور اطاعت کی ترغیب ہے۔
اصل مقصود و آیت کا مسلمانوں کو یہ حکم دینا تھا کہ رسول اللہ ﷺ پر صلوٰة وسلام بھیجا کریں، مگر اس کی تعبیر وبیان میں اس طرح فرمایا کہ پہلے حق تعالیٰ نے خود اپنا اور اپنے فرشتوں کا رسول اللہ ﷺ کے لئے عمل صلوٰة کا ذکر فرمایا، اس کے بعد عام مومنین کو اس کا حکم دیا، جس میں آپ کے شرف اور عظمت کو اتنا بلند فرما دیا کہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں جس کام کا حکم مسلمانوں کو دیا جاتا ہے وہ کام ایسا ہے کہ خود حق تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی وہ کام کرتے ہیں تو عام مومنین جن پر رسول اللہ ﷺ کے بیشمار احسانات ہیں ان کو تو اس عمل کا بڑا اہتمام کرنا چاہئے۔ اور ایک فائدہ اس تعبیر میں یہ بھی ہے کہ اس سے درود وسلام بھیجنے والے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام میں شریک فرما لیا جو کام حق تعالیٰ خود بھی کرتے ہیں اور اس کے فرشتے بھی۔
صلوٰة وسلام کے معنی
لفظ صلوٰة عربی زبان میں چند معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے، رحمت، دعا، مدع وثناء، آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف جو نسبت صلوٰة کی ہے اس سے مراد رحمت نازل کرنا ہے، اور فرشتوں کی طرف سے صلوٰة ان کا آپ کے لئے دعا کرنا ہے، اور عام مومنین کی طرف سے صلوٰة کا مفہوم دعا اور مدح وثناء کا مجموعہ ہے۔ عامہ مفسرین نے یہی معنی لکھے ہیں۔ اور امام بخاری نے ابوالعالیہ سے یہ نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صلوٰة سے مراد آپ کی تعظیم اور فرشتوں کے سامنے مدح وثناء ہے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی تعظیم دنیا میں تو یہ ہے کہ آپ کو بلند مرتبہ عطا فرمایا کہ اکثر مواقع اذان و اقامت وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ آپ کا ذکر شامل کردیا ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دین کو دنیا بھر میں پھیلا دیا، اور غالب کیا، اور آپ کی شریعت پر عمل قیامت تک جاری رکھا، اس کے ساتھ آپ کی شریعت کو محفوظ رکھنے کا ذمہ حق تعالیٰ نے لے لیا۔ اور آخرت میں آپ کی تعظیم یہ ہے کہ آپ کا مقام تمام خلائق سے بلند وبالا کیا، اور جس وقت کسی پیغمبر اور فرشتے کی شفاعت کی مجال نہ تھی اس حال میں آپ کو مقام شفاعت عطا فرمایا، جس کو مقام محمود کہا جاتا ہے۔
اس معنی پر جو یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ صلوٰة وسلام میں تو روایات حدیث کے مطابق آپ کے ساتھ آپ کے آل و اصحاب کو بھی شامل کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور مدح وثناء میں آپ کے سوا کسی کو کیسے شریک کیا جاسکتا ہے ؟ اس کا جواب روح المعانی وغیرہ میں یہ دیا گیا ہے کہ تعظیم اور مدح وثناء وغیرہ کے درجات بہت ہیں، رسول اللہ ﷺ کو اس کا اعلیٰ درجہ حاصل ہے، اور ایک درجہ میں آل و اصحاب اور عام مومنین بھی شامل ہیں۔
ایک شبہ کا جواب
اور ایک لفظ صلوٰة سے بیک وقت متعدد معنی رحمت، دعاء، تعظیم وثناء مراد لینا جو اصطلاح میں عموم مشترک کہلاتا ہے، اور بعض حضرات کے نزدیک وہ جائز نہیں، اس لئے اس کی یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ لفظ صلوٰة کے اس جگہ ایک ہی معنی لئے جائیں، یعنی آپ کی تعظیم اور مدح وثناء اور خیر خواہی پھر یہ معنی جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوں تو اس کا حاصل رحمت ہوگا اور فرشتوں کی طرف منسوب ہوں تو دعا و استغفار ہوگا، عام مومنین کی طرف منسوب کیا جائے تو دعاء اور مدح وثناء و تعظیم کا مجموعہ ہوگا۔
اور لفظ سلام مصدر بمعنی السلام ة ہے، جیسے ملام بمعنی ملامت مستعمل ہوتا ہے۔ اور مراد اس سے نقائص و عیوب اور آفتوں سے سالم رہنا ہے۔ اور السلام علیک کے معنی یہ ہیں کہ نقائص اور آفات سے سلامتی آپ کے ساتھ رہے۔ اور عربی زبان کے قاعدہ سے یہاں حرف علیٰ کا موقع نہیں، مگر چونکہ لفظ سلام معنی ثناء کو متضمن ہے، اس لئے حرف علیٰ کے ساتھ علیک یا علیکم کہا جاتا ہے۔
اور بعض حضرات نے یہاں لفظ سلام سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات لی ہے، کیونکہ سلام اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے تو مراد السلام علیک کی یہ ہوگی کہ اللہ آپ کی حفاظت و رعایت پر متولی اور کفیل ہے۔
صلوٰة وسلام کا طریقہ
صحیح بخاری و مسلم وغیرہ سب کتب حدیث میں یہ حدیث آئی ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ نے فرمایا کہ (جب یہ آیت نازل ہوئی تو) ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ (آیت میں ہمیں دو چیزوں کا حکم ہے صلوٰة وسلام) سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ (کہ السلام علیک ایہا النبی کہتے ہیں) صلوٰة کا طریقہ بھی بتلا دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ الفاظ کہا کرو۔ اللھم صلی علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید، اللہم بارک علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما بارکت علیٰ ابراہیم و علیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید، دوسری روایات میں اس میں کچھ کلمات اور بھی منقول ہیں۔
اور صحابہ کرام کے سوال کرنے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ ان کے سلام کرنے کا طریقہ تو تشہد (یعنی التحیات) میں پہلے سکھایا جا چکا تھا کہ السلام علیک ایہا النبی ورحمة اللہ وبرکاتہ کہا جائے، اس لئے لفظ صلوٰة میں انہوں نے اپنی طرف سے الفاظ مقرر کرنا پسند نہیں کیا، خود رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر کے الفاظ صلوٰة متعین کرائے۔ اسی لئے نماز میں عام طور پر انہی الفاظ کے ساتھ صلوٰة کو اختیار کیا گیا ہے، مگر یہ کوئی ایسی تعیین نہیں جس میں تبدیلی ممنوع ہو، کیونکہ خود رسول اللہ ﷺ سے صلوٰة یعنی درودشریف کے بہت سے مختلف صیغے منقول و ماثور ہیں صلوٰة وسلام کے حکم کی تعمیل ہر اس صیغہ سے ہو سکتی ہے جس میں صلوٰة وسلام کے الفاظ ہوں۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ الفاظ آنحضرت ﷺ سے بعینہ منقول بھی ہوں بلکہ جس عبارت سے بھی صلوٰة وسلام کے الفاظ ادا کئے جائیں اس حکم کی تعمیل اور درود شریف کا ثواب حاصل ہوجاتا ہے۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ جو الفاظ خود آنحضرت ﷺ سے منقول ہیں وہ زیادہ بابرکت اور زیادہ ثواب کے موجب ہیں، اسی لئے صحابہ کرام نے الفاظ صلوٰة آپ سے متعین کرانے کا سوال فرمایا تھا۔
مسئلہ
قعدہ نماز میں تو قیامت تک الفاظ صلوٰة وسلام اسی طرح کہنا مسنون ہے، جس طرح اوپر منقول ہوئے ہیں اور خارج نماز میں جب آنحضرت ﷺ خود مخاطب ہوں جیسا کہ آپ کے عہد مبارک میں وہاں تو وہی الفاظ الصلوٰة والسلام علیک کے اختیار کئے جائیں، آپ کی وفات کے بعد روضہ اقدس کے سامنے جب سلام عرض کیا جائے تو اس میں بھی صیغہ السلام علیک کا اختیار کرنا مسنون ہے۔ اس کے علاوہ جہاں غائبانہ صلوٰة وسلام پڑھا جائے تو صحابہ وتابعین اور ائمہ امت سے صیغہ غائب کا استعمال کرنا منقول ہے، مثلاً ﷺ جیسا کہ عام محدثین کی کتابیں اس سے لبریز ہیں۔
صلوٰة وسلام کے مذکورہ طریقہ کی حکمت
جو طریقہ صلوٰة وسلام کا رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک اور آپ کے عمل سے ثابت ہوا اس کا حاصل یہ ہے کہ ہم سب مسلمان آپ کے لئے اللہ تعالیٰ سے رحمت و سلامتی کی دعا کریں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مقصود آیت کا تو یہ تھا کہ ہم آپ کی تعظیم و تکریم کا حق خود ادا کریں۔ مگر طریقہ یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حق تعظیم و اطاعت پورا ادا کرنا ہمارے کسی کے بس میں نہیں، اس لئے ہم پر یہ لازم کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ (روح)
صلوٰة وسلام کے احکام
نماز کے قعدہ اخیرہ میں صلوٰة (درود شریف) سنت موکدہ تو سب کے نزدیک ہے، امام شافعی اور احمد بن حنبل کے نزدیک واجب ہے، جس کے ترک سے نماز واجب اعادہ ہوجاتی ہے۔
مسئلہ
اس پر بھی جمہور فقاء کا اتفاق ہے کہ جب کوئی آنحضرت ﷺ کا ذکر کرے یا سنے تو اس پر درود شریف واجب ہوجاتا ہے۔ کیونکہ حدیث میں آپ کے ذکر مبارک کے وقت درود شریف نہ پڑھنے پر وعید آئی ہے، جامع ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہرغم انف رجل ذکرت عندہ فلم یصل علیٰ ، ”یعنی ذلیل ہو وہ آدمی جس کے سامنے میرا ذکر آئے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے“ (قال الترمذی حدیث حسن و رواہ ابن السنی باسناد جید)
اور ایک حدیث میں ارشاد ہے البخیل من ذکرت عندہ فلم یصل علیٰ ”یعنی بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر آئے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے“ (رواہ الترمذی و قال حدیث حسن صحیح)
مسئلہ
اگر ایک مجلس میں آپ کا ذکر مبارک بار بار آئے تو صرف ایک مرتبہ درود پڑھنے سے واجب ادا ہوجاتا ہے، لیکن مستحب یہ ہے کہ جتنی بار ذکر مبارک خود کرے یا کسی سے سنے ہر مرتبہ درود شریف پڑھے۔ حضرات محدثین سے زیادہ کون آپ کا ذکر کرسکتا ہے کہ ان کا ہر وقت کا مشغلہ ہی حدیث رسول ہے، جس میں ہر وقت بار بار آپ کا ذکر آتا ہے، تمام ائمہ حدیث کا دستور یہی رہا ہے کہ ہر مرتبہ درود سلام پڑھتے اور لکھتے ہیں۔ تمام کتب حدیث اس پر شاہد ہیں۔ انہوں نے اس کی بھی پروا نہیں کی کہ اس تکرار صلوٰة وسلام سے کتاب کی ضخامت کافی بڑھ جاتی ہے کیونکہ اکثر تو چھوٹی چھوٹی حدیثیں آتی ہیں جن میں ایک دو سطر کے بعد نام مبارک آتا ہے، اور بعض جگہ تو ایک سطر میں ایک سے زیادہ مرتبہ نام مبارک مذکور ہوتا ہے، حضرات محدثین کہیں صلوٰة وسلام ترک نہیں کرتے۔
مسئلہ
جس طرح زبان سے ذکر مبارک کے وقت زبانی صلوٰة وسلام واجب ہے اسی طرح قلم سے لکھنے کے وقت صلوٰة وسلام کا قلم سے لکھنا بھی واجب ہے، اور اس میں جو لوگ حروف کا اختصار کر کے ”صلعم“ لکھ دیتے ہیں یہ کافی نہیں، پورا صلوٰة وسلام لکھنا چاہئے۔
مسئلہ
ذکر مبارک کے وقت افضل و اعلیٰ اور مستحب تو یہی ہے کہ صلوٰة اور سلام دونوں پڑھے اور لکھے جائیں، لیکن اگر کوئی شخص ان میں سے ایک یعنی صرف صلوٰة یا صرف سلام پر اکتفا کرے تو جمہور فقہاء کے نزدیک کوئی گناہ نہیں۔ شیخ الاسلام نووی وغیرہ نے دونوں میں سے صرف ایک پر اکتفا کرنا مکروہ فرمایا ہے۔ ابن حجر ہیثمی نے فرمایا کہ ان کی مراد کراہت سے خلاف اولیٰ ہونا ہے، جس کو اصطلاح میں مکروہ تنزیہی کہا جاتا ہے۔ اور علماء امت کا مسلسل عمل اس پر شاہد ہے کہ وہ دونوں ہی کو جمع کرتے ہیں اور بعض اوقات ایک پر بھی اکتفا کرلیتے ہیں۔
مسئلہ
لفظ صلوٰة انبیاء (علیہم السلام) کے سوا کسی کے لئے استعمال کرنا جمہور علماء کے نزدیک جائز نہیں۔ امام بیہقی نے اپنے سنن میں حضرت ابن عباس کا یہ فتویٰ نقل کیا ہےلا یصلی علیٰ احد الا علیٰ النبی ﷺ لکن یدعیٰ للمسلمین والمسلیمات بالاستغفار۔ امام شافعی کے نزدیک غیر نبی کے لئے لفظ صلوٰة کا استعمال مستقلاً مکروہ ہے، امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی مذہب ہے، البتہ تبعاً جائز ہے یعنی آنحضرت ﷺ پر صلوٰة وسلام کے ساتھ آل واصحاب یا تمام مومنین کو شریک کرلے اس میں مضائقہ نہیں۔
اور امام جوینی نے فرمایا کہ جو حکم لفظ صلوٰة کا ہے وہی لفظ سلام کا بھی ہے کہ غیر نبی کے لئے اس کا استعمال درست نہیں، بجز اس کے کہ کسی کو خطاب کرنے کے وقت بطور تحیہ کے السلام علیکم کہے، یہ جائز و مسنون ہے۔ مگر کسی غائب کے نام کے ساتھ ”ؑ“ کہنا اور لکھنا غیر نبی کے لئے درست نہیں (خصائص کبریٰ سیوطی ص 262 ج 2)
علامہ لقائی نے فرمایا کہ قاضی عیاض نے فرمایا ہے کہ محققین علماء امت اس طرف گئے ہیں اور میرے نزدیک بھی یہی صحیح ہے، اور اسی کو امام مالک، سفیان اور بہت سے فقہاء و متکلمین نے اختیار کیا ہے کہ صلوٰة و تسلیم نبی کریم ﷺ اور دوسرے انبیاء کے لئے مخصوص ہے غیر نبی کے لئے جائز نہیں، جیسے لفظ سبحانہ اور تعالیٰ ، اللہ جل شانہ، کے لئے مخصوص ہے۔ انبیاء کے سوا عام مسلمانوں کے لئے مغفرت اور رضا کی دعا ہونا چاہئے، جیسے قرآن میں حضرات صحابہ کے متعلق آیا رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ (روح المعانی)
صلوٰة وسلام کے احکام کی مفصل بحث احقر کے رسالہ تنقیح الکلام فی احکام الصلوٰة والسلام میں ہے جو بزبان عربی احکام القرآن سورة احزاب کا جز ہو کر شائع ہوچکا ہے۔
Ayah 33:57خلاصہ تفسیر
بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو (قصداً) ایذاء دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے، اور (اسی طرح) جو لوگ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو بدون اس کے کہ انہوں نے کچھ (ایسا کام) کیا ہو (جس سے وہ مستحق سزا ہوجاویں) ایذاء پہنچاتے ہیں تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا (اپنے اوپر) بار لیتے ہیں (یعنی اگر وہ ایذاء قولی ہے تو بہتان ہے اور اگر فعلی ہے تو مطلق گناہ ہی ہے)
Ayah 33:58معارف و مسائل
سابقہ آیات میں مسلمانوں کو ان چیزوں پر تنبیہ کی گئی تھی جن سے رسول اللہ ﷺ کو ایذا و تکلیف پہنچتی تھی، مگر کچھ مسلمان ناواقفیت یا بےتوجہی کی وجہ سے بلاقصد ایذاء اس میں مبتلا ہوجاتے تھے، جیسا کہ آپ کے بیوت میں بلا دعوت چلے جانا یا دعوت کے وقت سے پہلے آ کر بیٹھ جانا یا کھانے کے بعد آپ کے گھر میں باہمی بات چیت میں مشغول ہو کر دیر لگانا وغیرہ جس پر (آیت) یایہا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الآیہ میں تنبیہ کی گئی ہے۔ یہ وہ ایذاء تھی جو بلاقصد و ارادہ غفلت سے پہنچ جاتی تھی، اس پر تو صرف تنبیہ کردینا کافی سمجھا گیا۔ مذکور الصدر دو آیتوں میں اس ایذاء و تکلیف کا ذکر ہے جو مخالفین اسلام کفار و منافقین کی طرف سے قصداً آپ کو پہنچائی جاتی تھی۔ اسی لئے خلاصہ تفسیر میں یہاں قصداً کا لفظ بڑھایا ہے، جس میں جسمانی ایذائیں بھی داخل ہیں، جو مختلف اوقات میں کفار کے ہاتھوں آپ کو پہنچتی ہیں اور روحانی ایذائیں بھی جو آپ پر طعن وتشنیع اور ازواج مطہرات پر بہتان تراشی کے ذریعہ پہنچائی گئیں۔ اس بالارادہ ایذاء پہنچانے پر لعنت اور عذاب شدید کی وعید بھی آیت مذکورہ میں آتی ہے۔
اس آیت کے شروع میں جو یہ ارشاد ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچاتے ہیں اس میں ایذاء پہنچانے سے مراد وہ افعال و اقوال ہیں جو عادتاً ایذاء کا سبب بنا کرتے ہیں۔ اگرچہ حق تعالیٰ کی ذات پاک ہر تاثر وانفعال سے بالاتر ہے کسی کی مجال ہی نہیں کہ اس تک کوئی تکلیف پہنچا سکے، لیکن ایسے افعال جن سے عادتاً ایذاء پہنچا کرتی ہے ان کو ایذاء اللہ سے تعبیر کردیا گیا ہے۔
اس میں ائمہ تفسیر کا اختلاف ہے کہ یہاں پر اللہ کو ایذاء دینے سے کیا مراد ہے ؟ بعض ائمہ تفسیر نے ان افعال و اقوال کو اس کا مصداق ٹھہرایا ہے، جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی زبانی احادیث میں بتلایا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایذاء کا سبب ہیں، مثلاً حوادث و مصائب کے وقت زمانہ کو برا کہنا کہ درحقیقت فاعل حقیقی حق تعالیٰ ہے، یہ لوگ زمانہ کو فاعل سمجھ کر گالیاں دیتے تھے تو درحقیقت وہ فاعل حقیقی تک پہنچتی تھیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ جان دار چیزوں کی تصویریں بنانا اللہ تعالیٰ کی ایذاء کا سبب ہے۔ تو آیت میں اللہ کو ایذاء دینے سے مراد یہ اقوال یا افعال ہوئے۔
اور دوسرے ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ یہاں درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے روکنا اور اس پر وعید کرنا مقصود ہے۔ مگر آیت میں ایذاء رسول کو ایذا حق تعالیٰ کے عنوان سے تعبیر کردیا گیا، کیونکہ آپ کو ایذا پہنچانا درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو ایذاء پہنچانا ہے، جیسا کہ حدیث میں آگے آتا ہے۔ اور قرآن کے سیاق وسباق سے بھی ترجیح اس دوسری قول کی معلوم ہوتی ہے کیونکہ پہلے بھی ایذاء رسول کا بیان تھا اور آگے بھی اسی کا بیان آ رہا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی ایذاء کا اللہ تعالیٰ کے لئے ایذاء ہونا حضرت عبدالرحمن بن مغفل مزنی کی روایت سے ثابت ہے کہ
”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو ان کو میرے بعد اپنی اعتراضات و تنقیدات کا نشانہ نہ بناؤ، کیونکہ ان سے جس نے محبت کی، میری محبت کی وجہ سے کی اور جس نے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے رکھا، اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے گرفت کرے گا“
اس حدیث سے جیسا یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے اللہ تعالیٰ کی ایذاء ہوتی ہے اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ اکرام میں سے کسی کو ایذا پہنچانا یا ان کی شان میں گستاخی کرنا رسول اللہ ﷺ کی ایذاء ہے۔
اس آیت کے شان نزول کے متعلق متعدد روایات ہیں، بعض میں ہے کہ یہ حضرت صدیقہ عائشہ پر بہتان لگانے کے متعلق نازل ہوئی ہیں، جیسا کہ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جس زمانہ میں حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان باندھا گیا تو عبداللہ بن ابی منافق کے گھر میں کچھ لوگ جمع ہوئے اور اس بہتان کو پھیلانے چلتا کرنے کی باتیں کرتے تھے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے اس کی شکایت فرمائی کہ یہ شخص مجھے ایذاء پہنچاتا ہے۔ (مظہری)
بعض روایات میں ہے کہ حضرت صفیہ سے نکاح کے وقت کچھ منافین نے طعن کیا اس کے متعلق نازل ہوئی۔ اور صحیح بات یہی ہے کہ یہ آیت ہر ایسے معاملہ کے متعلق نازل ہوئی ہے جس سے رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچے۔ اس میں صدیقہ عائشہ پر بہتان بھی داخل ہے اور حضرت صفیہ اور زینب کے نکاحوں پر طعن وتشنیع بھی شامل ہے دوسرے صحابہ کرام کو برا کہنا اور ان پر تبرا کرنا بھی داخل ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح کی ایذاء پہنچانا کفر ہے
مسئلہ
جو شخص رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح کی ایذاء پہنچائے، آپ کی ذات باصفات میں کوئی عیب نکالے خواہ صراحتا ہو یا کنایةً وہ کافر ہوگیا، اور اس آیت کی رو سے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت دنیا میں بھی ہوگی اور آخرت میں بھی (کذا قال القاضی ثناء اللہ فی التفسیر المظہری)
دوسری آیت میں عام مومنین کو ایذاء پہنچانے کے حرام اور بہتان عظیم ہونے کو بیان کیا ہے جبکہ وہ شرعاً اس کے مستحق نہ ہوں۔ عام مومنین میں یہ قید اس لئے لگائی کہ ان میں دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ کسی نے کوئی ایسا کام کیا ہے جس کے بدلے میں اس کو ایذاء دینا شرعاً جائز ہے، اور پہلی آیت میں چونکہ معاملہ اللہ و رسول کی ایذا کا تھا اس میں کوئی قید نہیں لگائی، اس لئے کہ وہاں جائز ہونے کا کوئی احتمال ہی نہیں۔
کسی مسلمان کو بغیر وجہ شرعی دکھ پہنچانا حرام ہے
مذکورہ آیت میں الذین یوذون المومنین (الیٰ) بہتاناً عظیماً ، کسی مسلمان کو بغیر وجہ شرعی کے کسی قسم کی ایذاء اور دکھ پہنچانے کی حرمت ثابت ہوئی، اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
”مسلمان تو صرف وہ آدمی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے سب مسلمان محفوظ ہوں، کسی کو تکلیف نہ پہنچے، اور مومن تو صرف وہی ہے جس سے لوگ اپنے خون اور مال کے معاملہ میں محفوظ ومامون ہوں“