Ayah 33:35خلاصہ تفسیر
بیشک اسلام کے کام کرنے والے مرد اور اسلام کے کام کرنے والی عورتیں اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں (مسلمین و مسلمات کی اس تفسیر پر اسلام سے مراد اعمال نماز، روزہ، زکوٰة، حج وغیرہ ہوئے اور مومنین و مومنات میں ایمان سے مراد عقائد ہوئے جیسا صحیح بخاری و مسلم میں حضرت جبرئیل ؑ کے پوچھنے پر آنحضرت ﷺ سے اسلام و ایمان کے متعلق بھی یہی جواب دینا منقول ہے) اور فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں (اس راست بازی میں صادق القول ہونا بھی داخل ہے صادق العمل ہونا بھی اور ایمان اور نیت میں صادق ہونا بھی، یعنی نہ ان کے کلام میں کوئی جھوٹ ہے نہ عمل میں کم ہمتی اور سستی اور نہ ریاکاری یا نفاق) اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں (اس میں صبر کی سب قسمیں آگئیں، یعنی طاعات و عبادات پر ثابت قدم رہنا اور معاصی سے اپنے نفس کو روکنا اور مصائب پر صبر کرنا) اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں (لفظ خشوع میں نماز و عبادت کا خشوع بھی داخل ہے کہ قلب سے بھی عبادت کی طرف متوجہ ہو اور اپنے اعضاء وجوارح کو بھی اس کے مناسب رکھے اور اس میں عام تواضع بھی داخل ہے جو تکبر کے بالمقابل ہے۔ یعنی یہ لوگ تکبر اور اپنی بڑائی سے بھی پاک ہیں اور نماز وغیرہ عبادات میں بھی خشوع و خضوع ان کا وظیفہ ہے) اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں (اس میں زکوٰة اور صدقات نافلہ سب داخل ہیں) اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنیوالے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت خدا کو یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں (یعنی جو اذکار فرض کے علاوہ نفلی اذکار کو بھی ادا کرتے ہیں) ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔
معارف و مسائل
قرآن کے عام خطابات مردوں کو ہیں عورتیں ضمناً شامل ہیں، اس کی حکمت
قرآن کریم کے عام احکام میں اگرچہ مرد و عورت دونوں ہی شامل ہیں، مگر عموماً خطاب مردوں کو کیا گیا ہے، عورتیں اس میں ضمناً شامل ہیں۔ ہر جگہ ایہا الذین امنوا کے الفاظ استعمال فرما کر عورتوں کو ان کے ضمن میں مخاطب کیا گیا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ عورتوں کے سب معاملات تستر اور پردہ پوشی پر مبنی ہیں، اس میں ان کا اکرام و اعزاز ہے۔ خصوصاً پورے قرآن میں غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حضرت مریم بنت عمران کے سوا کسی عورت کا نام قرآن میں نہیں لیا گیا، بلکہ ذکر آیا تو مردوں کی نسبت کے ساتھ امراة فرعون، امراة نوح، امراة لوط کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حضرت مریم کی خصوصیت شاید یہ ہو کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی نسبت کسی باپ کی طرف نہ ہو سکتی تھی، اس لئے ماں کی طرف نسبت کرنا تھا اس نسبت کے لئے ان کا نام ظاہر کیا گیا۔ واللہ اعلم۔
قرآن کریم کا یہ اسلوب اگرچہ خود ایک بڑی حکمت و مصلحت پر مبنی تھا، مگر عورتوں کو اس کا خیال گزرنا ایک امر طبعی تھا۔ اسی لئے کتب حدیث میں ایسی متعدد روایات ہیں جن میں عورتوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ مردوں کا ہی ذکر قرآن میں فرماتے ہیں، انہی کو مخاطب فرماتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ ہم عورتوں میں کوئی خیر ہی نہیں، ہمیں ڈر ہے کہ ہماری عبادت بھی قبول نہ ہو (رواہ البغوی عن الازواج المطہرات) اور ترمذی میں بسند حسن حضرت ام عمارہ انصاریہ سے اور بعض روایات میں حضرت اسماء بنت عمیس سے اس طرح کی عرضداشت پیش کرنا منقول ہے، اور ان سب روایات میں آیات مذکور الصدر کا سبب نزول اسی عرض داشت کو قرار دیا ہے۔
آیات مذکورہ میں عورتوں کی دل جوئی اور ان کے اعمال کی مقبولیت کا خصوصی ذکر فرمایا گیا ہے، جس میں یہ جتلا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبولیت اور فضیلت کا مدار اعمال صالحہ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ہے اس میں مرد و عورت میں کوئی امتیاز نہیں۔
ذکر اللہ کی کثرت کا حکم اور اس کی حکمت
اسلام کے ارکان پانچ عبادتیں ہیں، نماز، زکوٰة، روزہ، حج، جہاد لیکن پورے قرآن میں ان میں سے کسی عبادت کو کثرت کے ساتھ کرنے کا حکم نہیں۔ مگر ذکر اللہ کے متعلق قرآن کریم کی متعدد آیات میں بکثرت کرنے کا ارشاد ہے۔ سورة انفال، سورة جمعہ میں اور اس سورت میں والذاکرین اللہ کثیراً والذاکرات فرمایا۔
اس کی حکمت غالباً یہ ہے کہ اول تو ذکر اللہ سب عبادات کی اصل روح ہے، جیسا کہ حضرت معاذ بن انس کی روایت سے آیا ہے کہ کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ مجاہدین میں سب سے زیادہ اجر وثواب کس کا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرے۔ پھر پوچھا کہ روزہ داروں میں کس کا ثواب سب سے زیادہ ہے ؟ فرمایا جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرے۔ پھر اسی طرح نماز، زکوٰة اور حج و صدقہ کے متعلق سوالات کئے، ہر مرتبہ آپ نے یہی فرمایا کہ جو اللہ کا ذکر زیادہ کرے، وہی زیادہ مستحق اجر ہے۔ رواہ احمد (ابن کثیر)
دوسرے وہ سب عبادات میں سب سے زیادہ سہل ہے۔ شریعت نے بھی اس کے لئے کوئی شرط نہیں رکھی، وضو، بےوضو، لیٹے، بیٹھے، چلتے پھرتے، ہر وقت میں ذکر اللہ کیا جاسکتا ہے۔ وہ نہ انسان سے کوئی محنت لیتا ہے، نہ کسی فرصت کو مقتضی ہے۔ اور اثر و فائدہ اس کا اتنا عظیم ہے کہ ذکر اللہ کے ذریعہ دنیا کے کام بھی دین اور عبادت بن جاتے ہیں۔ کھانے سے پہلے اور بعد کی دعا، گھر سے نکلنے اور واپس آنے کی دعائیں، سفر میں جانے اور دوران سفر اور وطن کی واپسی کی دعائیں، کوئی کاروبار کرنے سے پہلے اور بعد میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیم فرمودہ دعاؤں کا حاصل ہی یہ ہے کہ مسلمان کسی وقت اللہ سے غافل ہو کر کوئی کام نہ کرے، اور اس نے یہ ماثور دعائیں اپنے کاموں میں پڑھ لیں تو وہ دنیا کے کام بھی دین بن جاتے ہیں۔
Ayah 33:36خلاصہ تفسیر
اور کسی ایمان دار مرد اور کسی ایمان دار عورت کو گنجائش نہیں جبکہ اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا (گو وہ دنیا ہی کی بات کیوں نہ ہو وجوباً) حکم دے دیں کہ (پھر) ان (مومنین) کو ان کے اس کام میں کوئی اختیار (باقی) رہے (یعنی اس اختیار کی گنجائش نہیں رہتی کہ خواہ کریں یا نہ کریں بلکہ عمل ہی کرنا واجب ہوجاتا ہے) اور جو شخص (بعد حکم وجوبی کے) اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا اور (اس وقت کو یاد کیجئے) جب آپ (فہمائش و مشورہ کے طور سے) اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا (کہ اسلام کی توفیق دی جو انعام دینی ہے اور غلامی سے چھڑایا کہ نعمت دنیویہ ہے) اور آپ نے بھی انعام کیا (تعلیم دین فرمائی اور آزاد کیا، اور پھوپھی زاد بہن سے نکاح کرایا مراد حضرت زید ہیں کہ آپ ان کو سمجھا رہے تھے) کہ اپنی بی بی (زینب) کو اپنی زوجیت میں رہنے دے (اور اس کی معمولی خطاؤں پر نظر نہ کر کہ گاہے اس سے ناموافقت ہوجاتی ہے) اور خدا سے ڈر (اور اس کے حقوق میں بھی کوتاہی نہ کر کہ کبھی اس سے ناموافقت پیدا ہوجاتی ہے) اور (جب شکایتیں حد سے متجاوز ہوگئیں اور قرائن سے اصلاح و توافق کی امید نہ رہی تو اس وقت فہمائش کے ساتھ) آپ اپنے دل میں وہ بات (بھی) چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ تعالیٰ (آخر) میں ظاہر کرنیوالا تھا (مراد اس سے آپ کا نکاح ہے حضرت زینب سے جبکہ زید ان کو طلاق دے دیں جس کو حق تعالیٰ نے زوجنکہا میں قولاً اور خود نکاح کردینے سے فعلاً ظاہر فرمایا) اور (اس مشروط اور معلق ارادہ کے ساتھ ہی) آپ لوگوں (کے طعن) سے (بھی) اندیشہ کرتے تھے (کیونکہ اس وقت اس نکاح میں کسی اہم مصلحت دینیہ کا ہونا ذہن مبارک میں نہ آیا ہوگا، محض دنیوی مصلحت خاص حضرت زینب کی خیال میں ہوگی اور امور دنیویہ میں ایسا اندیشہ ہونا مضائقہ نہیں، بلکہ بعض حیثیتوں سے مطلوب ہے، جبکہ اعتراض سے دوسروں کی دین کی خرابی کا احتمال ہو اور ان کو اس سے بچانا مقصود ہو) اور ڈرنا تو آپ کو خدا ہی سے زیادہ سزاوار ہے (یعنی چونکہ واقع میں اس میں دینی مصلحت ہے، جیسا کہ آگے لکی لایکون الخ میں مذکور ہے، اس لئے خلق سے اندیشہ نہ کیجئے، چناچہ بعد اطلاع مصلحت دینیہ کے پھر اندیشہ آپ نے نہیں کیا اور ارادہ نکاح میں تو کیا اندیشہ ہوتا خود نکاح کے بعد بھی اندیشہ نہیں کیا۔ جس کا قصہ آگے ہے کہ) پھر جب زید کا اس (زینب) سے جی بھر گیا، (یعنی طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی تو) ہم نے آپ سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیبیوں کے (نکاح کے) بارے میں کچھ تنگی نہ رہے جب وہ (منہ بولے بیٹے) ان سے اپنا جی بھر چکیں (یعنی طلاق دے دیں، مطلب یہ کہ اس تشریح کا اظہار مقصود تھا) اور خدا کا یہ حکم تو ہونے والا تھا ہی (کیونکہ حکمت اس کو مقتضی تھی، آگے طعن کا جواب ہے کہ) ان پیغمبر کے لئے خدا تعالیٰ نے جو بات (تکویناً یا تشریعاً) مقرر کردی تھی اس میں نبی پر کوئی الزام (اور طعن کی بات) نہیں، اللہ تعالیٰ نے ان (پیغمبروں) کے حق میں (بھی) یہی معمول کر رکھا ہے جو پہلے ہو گزرے ہیں (کہ ان کو جس امر کی اجازت ہوتی ہے بےتکلف وہ اس کو کرتے رہے ہیں اور محل طعن نہیں بنے، ایسے ہی یہ نبی بھی محل اعتراض نہیں) اور (ان پیغمبروں کے بھی اس قسم کے جتنے کام ہوتے ہیں ان سب کے بارے میں بھی) اللہ کا حکم تجویز کیا ہوا (پہلے سے) ہوتا ہے (اور اسی کے موافق پھر ان کو حکم ہوتا ہے اور وہ عمل کرتے ہیں۔ شاید آپ کے قصہ میں اس مضمون کو لانا اور پھر انبیاء کے تذکرہ میں اس کو مکرر لانا اس طرف اشارہ ہے کہ ایسے امور مثل تمام امور تکوینیہ کے ایسے متضمن حکمت ہوتے ہیں کہ پہلے ہی سے علم الہٰی میں تجویز ہو چکتے ہیں، پھر نبی پر طعن کرنا اللہ پر طعن کرنا ہے۔ بخلاف ان امور کے جن پر خود حق تعالیٰ ملامت فرما دیں گو وہ مقدر ہونے کی وجہ سے متضمن حکمت ہوں مگر محل ملامت ہونا دلیل ہے، اس کے تضمن مفاسد کی۔ اس لئے ان مفاسد کے اعتبار سے ان پر نکیر جائز ہے۔ آگے ایک مدح خاص ہے ان پیغمبروں کی تاکہ آپ کو تسلی ہو یعنی) یہ سب (پیغمبران گزشتہ) ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے (اگر تبلیغ قولی کے مامور ہوئے تو قولاً اور اگر تبلیغ فعلی کے مامور ہوئے تو فعلاً) اور (اس باب میں) اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے (پس آپ کو بھی جب تک معلوم نہ تھا کہ یہ نکاح تبلیغ فعلی ہے اندیشہ ہونا مضائقہ نہیں، لیکن آپ کو جب یہ بات معلوم ہوگئی تو آپ بھی اندیشہ نہ کیجئے جیسا کہ مقتضا ہے شان رسالت کا۔ چناچہ اس کے انکشاف کے بعد پھر آپ نے اندیشہ نہیں کیا اور باوجودیکہ خود آپ کو تبلیغ رسالت میں کسی سے خوف نہیں ہوا، نہ اس کا احتمال تھا پھر بھی انبیاء ؑ کا قصہ سنانا زیادہ تقویت قلب کے لئے ہے) اور (آپ کی زیادہ تسلی کے لئے فرماتے ہیں کہ) اللہ (اعمال کا) حساب لینے کے لئے کافی ہے (پھر کسی سے کا ہے کا ڈر ہے نیز آپ پر طعن کرنے والوں کو بھی سزا دے گا آپ طعن سے مغموم نہ ہوجئے)
معارف و مسائل
یہ بات پہلے کئی مرتبہ معلوم ہوچکی ہے کہ سورة احزاب میں زیادہ تر وہ احکام ہیں جن کا تعلق رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و محبت اور مکمل اطاعت سے یا آپ کو کسی قسم کی ایذاء و تکلیف پہنچانے کی ممانعت سے ہے۔ آیات مذکورہ الصدر بھی اسی سلسلے کے چند واقعات سے متعلق نازل ہوئی ہیں۔
ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ حضرت زید بن حارثہ کسی شخص کے غلام تھے۔ زمانہ جاہلیت میں رسول اللہ ﷺ نے ان کو بازار عکاظ سے خرید لیا تھا، ابھی عمر بھی کم تھی۔ آپ نے خریدنے کے بعد ان کو آزاد کر کے یہ شرف بخشا کہ عرب کے عام رواج کے مطابق ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا اور ان کی پرورش فرمائی۔ مکہ مکرمہ میں ان کو زید بن محمد ﷺ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ قرآن کریم نے اس کو جاہلیت کی رسم غلط قرار دے کر اس کی ممانعت کردی کہ منہ بولے بیٹے کو اس شخص کا بیٹا کہہ کر پکارا جائے، اور حکم دیا کہ اس کو اس کے اصلی باپ کی طرف منسوب کیا جائے۔ اسی سلسلے میں وہ آیات نازل ہوئیں جو اسی سورة میں پہلے آ چکی ہیں (آیت) ادعوہم لاباہم الآیہ ان احکام کے نازل ہونے کے بعد صحابہ کرام نے ان کو زید بن محمد ﷺ کہنا چھوڑ دیا اور ان کے والد حارثہ کی طرف منسوخ کرنے لگی۔
ایک لطیفہ
پورے قرآن میں انبیاء (علیہم السلام) کے سوا کسی بڑے سے بڑے صحابی کا بھی نام ذکر نہیں کیا گیا بجز حضرت زید بن حارثہ کے۔ اس کی حکمت بعض حضرات نے یہی بیان کی ہے کہ ان کی نسبت ولدیت کو بحکم قرآنی رسول اللہ ﷺ سے قطع کیا گیا تو ان کے لئے ایک بہت بڑے اعزاز سے محرومی ہوگئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا بدل اس طرح کردیا کہ قرآن میں ان کا نام لے کر ذکر فرما دیا۔ اور لفظ زید قرآن کا ایک لفظ ہونے کی حیثیت سے اس کے ہر لفظ پر حسب وعدہ حدیث دس نیکیاں نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں ان کا نام جب قرآن میں پڑھا جائے تو صرف ان کا نام لینے پر تیس نیکیاں ملتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ بھی ان کا اکرام فرماتے تھے۔ حضرت صدیقہ عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ نے جب کبھی کسی لشکر میں ان کو بھیجا ہے تو امیر لشکر انہی کو بنایا ہے۔ (ابن کثیر)
تنبیہ
یہ تھی اسلام میں غلامی کی حقیقت کہ ان کو تعلیم و تربیت دے کر جو صاحب صلاحیت ثابت ہوا اس کو مقتداؤں کا درجہ دیا۔
زید بن حارثہ جوان ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے نکاح کے لئے اپنی پھوپھی کی لڑکی حضرت زینب بنت جحش کا انتخاب فرما کر پیغام نکاح دیا۔ حضرت زید پر چونکہ یہ عرفی عیب لگا ہوا تھا کہ آزاد کردہ غلام تھے۔ حضرت زینب اور ان کے بھائی عبداللہ بن جحش نے اس رشتہ سے انکار کردیا کہ ہم با اعتبار خاندان و نسب کے ان سے اشرف ہیں۔
اس واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ماکان لمومن ولامومنة الایة، جس میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی کو کسی کام کا حکم بطور وجوب دے دیں تو اس پر وہ کام کرنا واجب ہوجاتا ہے، اس کو نہ کرنے کا اختیار شرعاً نہیں رہتا اگرچہ فی نفسہ وہ کام شرعاً واجب و ضروری نہ ہو، مگر جس کو آپ نے حکم دے دیا اس کے ذمہ لازم و واجب ہوجاتا ہے اور جو ایسا نہ کرے آخر آیت میں اس کو کھلی گمراہی فرمایا ہے۔
اس آیت کو حضرت زینب بنت جحش اور ان کے بھائی نے سنا تو اپنے انکار سے باز آگئے، اور نکاح پر راضی ہوگئے۔ چناچہ یہ نکاح کردیا گیا۔ ان کا مہر رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے ادا کیا۔ جو دس دینار سرخ (جو پونے چار تولہ سونا ہوتا ہے) اور ساٹھ درہم (جس کی پونے سولہ تولہ چاندی ہوتی ہے) اور ایک بار برداری کا جانور اور پورا زنانہ جوڑا اور پچاس مد آٹا (یعنی تقریباً پینتالیس سیر) اور دس مد (ساڑھے آٹھ سیر تیس ماشہ) کھجور تھا (ابن کثیر) اس آیت کے نزول کا مشہور واقعہ جمہور مفسرین کے نزدیک یہی حضرت زید اور حضرت زینب بنت جحش کے نکاح کا قصہ ہے (ابن کثیر، قرطبی، مظہری)
ابن کثیر وغیرہ مفسرین نے اس طرح کے دو واقعے اور بھی نقل کئے ہیں۔ ان میں بھی یہ مذکور ہے کہ آیت مذکورہ ان واقعات کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک واقعہ حضرت جلیبیب کا ہے کہ ان کا رشتہ ایک انصاری صحابی کی لڑکی سے کرنا چاہا تو اس انصاری اور ان کے گھر والوں نے اس رشتہ اور نکاح سے انکار کردیا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو سب راضی ہوگئے اور نکاح کردیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے وسعت رزق کی دعا فرمائی۔ صحابہ کرام کا بیان ہے کہ اللہ نے ان کے گھر میں ایسی برکت دی تھی کہ مدینہ طیبہ کے گھروں میں سب سے زیادہ اجلا اور بڑا خرچ اس گھر کا تھا، بعد میں حضرت جلیبیب ایک جہاد میں شہید ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی تجہیز وتکفین اپنے دست مبارک سے فرمائی۔
اسی طرح کا ایک واقعہ روایات حدیث میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط کا منقول ہے (ابن کثیر، قرطبی) اور ان میں کوئی تضاد نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس طرح کے متعدد واقعات ہی نزول آیت کا سبب بنے ہوں۔
نکاح میں نسبی کفو کی رعایت کا حکم اور درجہ
نکاح مذکور میں حضرت زینب بنت جحش اور ان کے بھائی عبداللہ نے جو زید بن حارثہ سے نکاح کو ابتدا میں نامنظور کیا تھا، اس کی وجہ ان دونوں میں خاندانی اور نسبی کفاءت و مماثلت کا نہ ہونا تھا۔ اور یہ وجہ شرعاً خود مطلوب ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ لڑکیوں کا نکاح ان کے کفوء میں کرنا چاہئے (جس کی تحقیق آگے آئے گی) اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں حضرت زینب اور ان کے بھائی کا عذر کیوں مقبول نہ ہوا۔
جواب یہ ہے کہ دینی اعتبار سے کفاءت و مماثلت زوجین کی تو لازم وضروری ہے، کسی مسلمان لڑکی کا نکاح کسی کافر سے باجماع امت حلال نہیں، اگرچہ لڑکی اس پر راضی ہو۔ کیونکہ یہ صرف عورت کا حق نہیں جو اس کی رضامندی سے ساقط ہوجائے بلکہ حق اللہ اور فریضہ آلہیہ ہے بخلاف نسبی اور مالی کفاءت کے وہ لڑکی کا حق ہے، اور خاندانی کفایت کے حق میں لڑکی کے ساتھ اس کے اولیاء بھی شریک ہیں۔ اگر عاقلہ بالغہ لڑکی مالدار خاندان سے ہونے کے باوجود کسی غریب فقیر سے نکاح پر راضی ہو کر اپنا حق ساقط کر دے تو اس کو اختیار ہے اور خاندانی کفایت میں لڑکی اور اس کے اولیاء سب اس حق کو کسی دوسری اہم مصلحت کی خاطر چھوڑ کر کسی ایسے شخص سے نکاح پر راضی ہوجائیں جو نسب اور خاندان کے اعتبار سے ان سے کم درجہ ہے تو ان کو اس کا حق ہے۔ بلکہ مصالح دینیہ کے پیش نظر اس حق کو چھوڑ دینا محمود و مطلوب ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے متعدد مواقع میں اس حق کو نظرانداز کرنے اور مصالح دینیہ کی وجہ سے نکاح کردینے کا مشورہ دیا۔
اور قرآن کریم کی تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حق اپنی امت کے مرد و زن پر سب سے زیادہ ہے، بلکہ اپنے نفس سے بھی زیادہ ہے جیسا کہ قرآن حکیم کا ارشاد ہے النبی اولیٰ بالمومنین من انفسہم، ”یعنی نبی کریم ﷺ کا حق مومنین پر ان کے اپنے نفوس سے بھی زیادہ ہے“ اس لئے حضرت زینب اور عبداللہ کے معاملہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے نسبی کفایت کے حق کو نظر انداز کر کے زید بن حارثہ سے نکاح منظور کرلینے کا حکم دے دیا تو یہ ان کا فرض تھا کہ اس حکم کے سامنے اپنی رائے اور اپنے نفس کے حقوق کو ترک کردیتے، اس لئے ان کے انکار پر قرآن کریم کا یہ حکم نازل ہوا۔
رہا یہ معاملہ کہ جب نسبی کفایت خود رسول اللہ ﷺ کے نزدیک قابل رعایت ہے تو خود آپ نے اس کی رعایت کیوں نہ فرمائی ؟ تو اس کا جواب بھی مذکورہ تقریر سے واضح ہوگیا کہ یہ رعایت دوسری دینی مصالح کے بالمقابل قابل ترک ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں متعدد نکاح اسی طرح غیر کفوء میں اسی قسم کی دینی مصالح کی بناء پر کئے گئے، اس سے اصل مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
مسئلہ کفاءت
نکاح ایک ایسا معاملہ ہے جس میں اگر زوجین کی طبائع میں موافقت نہ ہو تو مقاصد نکاح میں خلل آتا ہے، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے میں خلل آتا ہے، باہمی جھگڑے نزاع پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے شریعت میں کفاءت یعنی باہمی مماثلت کی رعایت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی اعلیٰ خاندان کا آدمی اپنے سے کم خاندان والے آدمی کو رذیل یا ذلیل سمجھے۔ ذلت وعزت کا اصل مدار اسلام میں تقویٰ اور دینداری ہے جس میں یہ چیز نہیں اس کو خاندانی شرافت کتنی بھی حاصل ہو اللہ کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں، صرف انتظامی معاملات کو استوار رکھنے کے لئے نکاح میں کفاءت کی رعایت کا حکم دیا گیا ہے۔
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ لڑکیوں کا نکاح ان کے اولیاء ہی کے ذریعہ ہونا چاہئے (یعنی بالغ لڑکی کو بھی یہ مناسب نہیں کہ اپنے نکاح کا معاملہ خود طے کرے، حیا کا تقاضا یہ ہے کہ یہ کام اس کے والدین اور اولیاء کریں) اور فرمایا کہ لڑکیوں کا نکاح ان کے کفوء ہی میں کرنا چاہئے۔ اس حدیث کی سند اگرچہ ضعیف ہے، مگر صحابہ کرام کے آثار و اقوال سے اس کی تائید ہو کر حدیث قابل استدلال ہوجاتی ہے۔ امام محمد نے کتاب الآثار میں حضرت فاروق اعظم کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ”میں یہ حکم جاری کروں گا کہ کسی بڑے اونچے معروف خاندان کی لڑکی کا نکاح دوسرے کم درجہ والے سے نہ کیا جائے“ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت انس نے بھی اس کی تاکید فرمائی کہ نکاح میں کفاءت کی رعایت کی جائے، جو متعدد اسانید سے منقول ہے۔ امام ابن ہمام نے بھی فتح القدیر میں اس کی تفصیل لکھی ہے۔
حاصل یہ ہے کہ نکاح میں کفاءت و مماثلت کی رعایت کرنا دین میں مطلوب ہے تاکہ زوجین میں موافقت رہے، لیکن کوئی دوسری اہم مصلحت اس کفاءت سے بڑھ کر سامنے آجائے تو عورت اور اس کے اولیاء کو اپنا یہ حق چھوڑ کر غیر کفوء میں نکاح کرلینا بھی جائز ہے۔ خصوصاً جب کہ کوئی دینی مصلحت پیش نظر ہو تو ایسا کرنا افضل و بہتر ہے جیسا کہ صحابہ کرام کے متعدد واقعات سے ثابت ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان واقعات سے اصل مسئلہ کفاءت کی نفی نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 33:37دوسرا واقعہ
حضرت زینب بنت جحش کا نکاح بامر نبی کریم ﷺ حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ ہوگیا، مگر دونوں کی طبیعتوں میں موافقت نہ ہوئی۔ حضرت زید ان کی تیز زبانی اور نسبی شرافت کی بنا پر اپنے کو اونچا سمجھنے اور اطاعت میں کوتاہی کرنے کی شکایت کیا کرتے تھے۔ دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی یہ بتلا دیا گیا تھا کہ زید ان کو طلاق دیں گے، اس کے بعد زینب آپ کے نکاح میں آئیں گی۔ ایک روز حضرت زید نے انہی شکایات کو آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کر کے اپنا یہ ارادہ ظاہر کیا کہ ان کو طلاق دے دیں۔ رسول اللہ ﷺ کو اگرچہ منجانب اللہ یہ علم ہوگیا تھا کہ واقعہ یوں ہی پیش آنے والا ہے، کہ زید ان کو طلاق دے دیں گے، پھر یہ نبی کریم ﷺ کے نکاح میں آئیں گی، لیکن دو وجہ سے آپ نے حضرت زید کو طلاق دینے سے روکا۔ اول یہ کہ طلاق دینا اگرچہ شریعت اسلام میں جائز ہے مگر پسندیدہ نہیں بلکہ بعض المباحات یعنی جائز چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض و مکروہ ہے، اور تکوینی طور پر کسی کام کا وقوع تشریعی حکم کو متاثر نہیں کرتا۔ دوسرے قلب مبارک میں یہ بھی خیال پیدا ہوا کہ اگر انہوں نے طلاق دے دی اور پھر زینب کا نکاح آپ سے ہوا تو عرب اپنے دستور جاہلیت کے مطابق یہ طعنے دیں گے کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اگرچہ قرآن نے اس دستور جاہلیت کو سورة احزاب کی ہی سابقہ آیات میں ختم کردیا ہے۔ اس کے بعد کسی مومن کے لئے تو اس کے وسوسہ کا بھی خطرہ نہ تھا مگر کفار جو قرآن ہی کو نہیں مانتے وہ اپنی جاہلانہ رسم یعنی منہ بولے بیٹے کو تمام احکام میں حقیقی بیٹے کی طرح سمجھنے پر زبان طعن دراز کریں گے۔ یہ اندیشہ بھی حضرت زید کو طلاق دینے سے منع کرنے کا سبب بنا۔ اس پر حق تعالیٰ کی طرف سے محبوبانہ عتاب قرآن کی ان آیات میں نازل ہوا(آیت) واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ، یعنی آپ اس وقت کو یاد کریں جب کہ آپ کہہ رہے تھے اس شخص کو جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے بھی انعام کیا، مراد اس شخص سے حضرت زید ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے پہلا انعام تو یہ فرمایا کہ ان کو مشرف با اسلام کردیا دوسرے آپ کی صحبت کا شرف عطا فرمایا۔ اور آپ نے ان پر ایک انعام تو یہ کیا کہ ان کو غلامی سے آزاد کردیا، دوسرا یہ کہ ان کی تربیت فرما کر ایسا بنادیا کہ بڑے بڑے صحابہ بھی ان کی تعظیم کرتے تھے۔ آگے وہ قول نقل کیا جو آپ نے زید سے فرمایا (آیت) امسک علیک زوجک واتق اللہ، یعنی اپنی بی بی کو آپ اپنے نکاح میں روکیں، طلاق نہ دیں اور خدا سے ڈریں۔ خدا سے ڈرنے کا حکم اس جگہ اس معنی میں بھی ہوسکتا ہے کہ طلاق ایک مبغوض و مکروہ فعل ہے اس سے اجتناب کریں اور اس معنی سے بھی ہوسکتا ہے کہ نکاح میں روکنے کے بعد طبعی منافرت کی وجہ سے ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں۔ آپ کا یہ فرمانا اپنی جگہ صحیح و درست تھا، مگر منجانب اللہ ہونے والے واقعہ کا علم ہوجانے اور دل میں حضرت زینب سے نکاح کا ارادہ پیدا ہوجانے کے بعد زید کو طلاق نہ دینے کی نصیحت ایک طرح کی رسمی اظہار خیر خواہی کے درجہ میں تھی، جو شان رسالت کے مناسب نہ تھی، خصوصاً اس لئے کہ اس کے ساتھ لوگوں کے طعنوں کا اندیشہ بھی شامل تھا اس لئے آیت مذکورہ میں عتاب ان الفاظ میں نازل ہوا کہ آپ دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا۔ جب منجانب اللہ حضرت زنیب کے ساتھ آپ کے نکاح کی خبر مل چکی، اور آپ کے دل میں ارادہ نکاح پیدا ہوچکا تو اس ارادہ کو چھپا کر ایسی رسمی گفتگو جو آپ کی شان کے مناسب نہیں تھی کی۔ اور لوگوں کے طعنوں کے اندیشہ پر فرمایا کہ آپ لوگوں سے ڈرنے لگے، حالانکہ ڈرنا تو آپ کو اللہ ہی سے سزا وار ہے۔ یعنی جب آپ کو یہ معلوم تھا کہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والا ہے، اس کی ناراضی کا اس میں کوئی خوف وخطر نہیں تو پھر محض لوگوں کے طعنوں سے گھبرا کر آپ کے لئے یہ گفتگو مناسب نہیں تھی۔
اس واقعہ کی جو تفصیل اوپر لکھی گئی ہے، یہ سب تفسیر ابن کثیر اور قرطبی اور روح المعانی سے لی گئی ہے، اور (آیت) تحفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ کی یہ تفسیر کہ وہ چیز جس کو آپ نے دل میں چھپایا تھا وہ یہ ارادہ تھا کہ زید نے طلاق دے دیتو حکم الٰہی کے مطابق آپ ان سے نکاح کرلیں گے، یہ تفسیر حکیم ترمذی اور ابن ابی حاتم وغیرہ محدثین نے حضرت علی بن حسین زین العابدین کی روایت سے نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں
”یعنی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی یہ اطلاع دے دی تھی کہ حضرت زنیب کو زید طلاق دینے والے ہیں اور اس کے بعد وہ آپ کے نکاح میں آئیں گی“
اور ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوال سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں
”یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو پہلے ہی بتلا دیا تھا کہ حضرت زینب بھی ازواج مطہرات میں داخل ہوجائیں گی، پھر جب حضرت زید ان کی شکایت لے کر آپ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو طلاق نہ دو ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تو آپ کو بتلا دیا تھا کہ میں ان سے آپ کا نکاح کرا دوں گا اور آپ اپنے دل میں اس چیز کو چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا۔
جمہور مفسرین زہری، بکر بن العلاء، قشیری، قاضی ابوبکر بن العربی نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے کہ جس چیز کے دل میں چھپانے کا ذکر کیا گیا وہ بوحی الہٰی ارادہ نکاح تھا، اس کے خلاف جن روایات میں ما فی نفسک کی تفسیر محب زنیب سے منقول ہے، اس کے متعلق ابن کثیر نے فرمایا کہ ہم نے ان روایات کا ذکر کرنا اس لئے پسند نہیں کیا کہ ان میں کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔
اور خود الفاظ قرآن سے تائید اسی تفسیر کی ہوتی ہے جو حضرت زین العابدین کی روایت سے اوپر بیان ہوئی ہے، کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود بتلا دیا کہ دل میں چھپائی ہوئی چیز وہ تھی جس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو اگلی آیت میں ظاہر فرمایا وہ نکاح ہے حضرت زنیب کے ساتھ جیسا کہ فرمایا زوجنکھا (روح)
محمود ہی جب تک کسی مقصود شرعی پر اثر انداز نہ ہو
یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں کے طعن وتشنیع سے بچنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے اس معاملہ کا اخفاء کیوں فرمایا جو سبب عتاب بنا۔ جواب یہ ہے کہ اس معاملہ میں اصل مغالطہ جو قرآن و سنت سے ثابت ہے یہ ہے کہ جس کام کے کرنے سے لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہونے اور ان کے طعن وتشنیع میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہو تو لوگوں کے دین کی حفاظت اور ان کو طعن وتشنیع کے گناہ سے بچنے کے نیت سے چھوڑ دینا اس صورت میں تو جائز ہے جب کہ یہ فعل خود مقاصد شرعیہ میں سے نہ ہو، اور کوئی دینی حکم حلال و حرام کا اس سے متعلق نہ ہو، اگرچہ فعل فی نفسہ محمود ہو۔ اس کی نظیر حدیث و سنت رسول اللہ ﷺ میں موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب بیت اللہ کی تعمیر کی گئی تو اس میں کئی چیزیں بناء ابراہیمی کے خلاف کردی گئی ہیں اول تو یہ کہ بیت اللہ کا کچھ حصہ تعمیر سے باہر چھوڑ دیا، دوسرے بناء ابراہیمی میں لوگوں کے بیت اللہ میں داخل ہونے کے لئے دو دروازے تھے، ایک مشرقی جانب میں دوسرا مغربی جانب میں، جس کی وجہ سے بیت اللہ میں داخل ہونے اور نکلنے میں زحمت نہ ہوتی تھی، اہل جاہلیت نے اس میں دو تصرف کئے کہ مغربی دروازہ تو بالکل بند کردیا اور مشرقی دروازہ جو سطح زمین سے متصل تھا اس کو اتنا اونچا کردیا کہ بغیر سیڑھی کے اس میں داخلہ نہ ہو سکے، جس سے یہ مقصد تھا کہ وہ جس کو اجازت دیں صرف وہ اندر جاسکے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر نو مسلم لوگوں کے غلط فہمی میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو پھر بناء ابراہیمی کے مطابق بنا دیتا۔ یہ حدیث سب کتب معتبرہ میں موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو غلط فہمی سے بچانے کے لئے اپنا یہ ارادہ جو شرعاً محمود تھا اس کو ترک کردیا، اور منجانب اللہ اس پر کوئی عتاب نہیں ہوا، جس سے اس عمل کا عند اللہ مقبول ہونا بھی معلوم ہوگیا۔ مگر یہ معاملہ بیت اللہ کو بناء ابراہیمی کے مطابق دوبارہ تعمیر کرنے کا ایسا نہیں جس پر کوئی مقصد شرعی موقوف ہو یا جس سے احکام حلال و حرام متعلق ہوں۔
بخلاف واقعہ نکاح زینب کے کہ اس سے ایک مقصد شرعی متعلق تھا کہ جاہلیت کی رسم بد اور اس خیال باطل کی عملی تردید ہوجائے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح حرام ہے۔ کیونکہ قوموں میں چلی ہوئی غلط رسموں کو توڑنا عملاً جب ہی ممکن ہوتا ہے جب اس کا عملی مظاہرہ ہو۔ حکم ربانی اسی کی تکمیل کے لئے حضرت زینب کے نکاح سے متعلق ہوا تھا۔ اس تقریر سے بناء بیت اللہ کے ترک اور نکاح زینب پر بارشاد خداوندی عمل کے ظاہری تعارض کا جواب ہوگیا۔
اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حکم کی قولی تبلیغ جو سورة احزاب کی پہلی آیات میں آ چکی ہے اس کو کافی سمجھا اور اس کے عملی مظاہرہ کی حکمت کی طرف نظر نہیں گئی، اس لئے باوجود علم و ارادہ کے اس کو چھپایا۔ اللہ تعالیٰ نے آیات مذکورہ میں اس کی اصلاح فرمائی، اور اس کا اظہار فرمایا (آیت) لکی لایکون علیٰ المومنین حرج فی ازواج ادعیاہیم اذا قضوا منہن وطراً ، یعنی ہم نے زنیب سے آپ کا نکاح اس لئے کیا تاکہ مسلمانوں پر اس معاملے میں کوئی عملی تنگی پیش نہ آئے، کہ منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ بیویوں سے نکاح کرسکیں۔
اور زوجنکہا کے لفظی معنی یہ ہیں کہ ہم نے ان کا نکاح آپ سے کردیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نکاح کو یہ امتیاز بخشا کہ خود ہی نکاح کردیا جو عام شرائط نکاح سے مستثنیٰ رہا، اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں ہم نے اس نکاح کا حکم دے دیا اب آپ شرعی قواعد و شرائط کے مطابق ان سے نکاح کرلیں۔ حضرات مفسرین میں بعض نے پہلے احتمال کو ترجیح دی، بعض نے دوسرے احتمال کو۔
اور حضرت زینب کا دوسری عورتوں کے سامنے یہ فرمانا کہ تمہارا نکاح تو تمہارے والدین نے کیا میرا نکاح خود اللہ تعالیٰ نے آسمان پر کیا، جیسا کہ روایات میں آیا ہے، یہ دونوں صورتوں میں صادق ہے۔ پہلی صورت میں زیادہ واضح ہے اور دوسری صورت بھی اس کے منافی نہیں۔
Ayah 33:38شبہات و اعتراضات کے جواب کی تمہید
(آیت) سنة اللہ فی الذین خلوا من قبل وکان امر اللہ قدراً مقدوراً ، یہ تمہید ہے اس نکاح پر پیش آنے والے شکوک و شبہات کی کہ دوسری ازواج کے ہوتے ہوئے اس نکاح کا اہتمام کس لئے کیا گیا۔ ارشاد فرمایا کہ یہ سنت ہے اللہ کی جو محمد مصطفیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں، آپ سے پہلے انبیاء میں بھی جاری رہی ہے، کہ بمصالح دینیہ بہت سی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی، جن میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) زیادہ معروف ہیں کہ داؤد ؑ کے نکاح میں سو اور سلیمان ؑ کے نکاح میں تین سو بیبیاں تھیں۔ اگر رسول اللہ کے لئے دینی مصالح سے متعدد نکاح کی اجازت ہوئی اور یہ نکاح بھی ان میں شامل ہے تو کوئی وجہ استبعاد نہیں۔ نہ یہ شان نبوت و رسالت کے منافی ہے نہ زید وتقویٰ کے۔ آخری جملے میں یہ بھی فرما دیا کہ نکاح کا معاملہ بھی عام رزق کی طرح منجانب اللہ طے شدہ ہے کہ کس کا نکاح کس سے ہوگا، تقدیر ازلی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ اس واقعہ میں حضرت زید اور زینب کے درمیان اختلاف طبائع اور زید کی ناراضی پھر طلاق دینے کا عزم یہ سب اسی تکوینی اور تقدیری امر کی کڑیاں تھیں۔
Ayah 33:39آگے ان انبیاء (علیہم السلام) کی خاص صفات کا ذکر ہے، جن کے لئے پچھلے زمانے میں متعدد بیویاں رکھنے کی اجازت اوپر معلوم ہوئی ہے، فرمایا (آیت) الذین یبلغون رسلت اللہ، یعنی یہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) سب ہی اللہ تعالیٰ کے پیغامات اپنی اپنی امتوں کو پہنچاتے تھے۔
ایک حکمت
شاید اس میں انبیاء (علیہم السلام) کی کثرت ازواج کی حکمت کی طرف بھی اشارہ ہو کہ ان کے تمام اعمال و اقوال امت کو پہنچنا ضروری ہیں، اور مردوں کا ایک بڑا حصہ وقت کا اپنے زنانے مکان میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ گزرتا ہے، اس وقت میں جو کوئی وحی نازل ہو یا خود پیغمبر کوئی حکم صادر فرما دیں یا کوئی عمل کریں، یہ سب امت کی امانت ہے جس کو ازواج ہی کے ذریعہ سے باآسانی امت تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ دوسری صورتیں مشکلات سے خالی نہیں، اس لئے انبیاء کے لئے اگر بیبیاں زیادہ ہوں تو ان کی خانگی زندگی کے افعال و اقوال اور ان کی خانگی سیرت عام امت تک پہنچنا سہل ہوجائے گا۔ واللہ اعلم
دوسری صفت انبیاء (علیہم السلام) کی یہ بیان کی گئی کہ (آیت) ویخشونہ ولایخشون احداً الا اللہ، یعنی یہ حضرات اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ بمصالح دینیہ اگر ان کو کسی کام کی عملی تبلیغ کا مامور کیا جاتا ہے وہ اس میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے، اگر کچھ لوگ اس پر طعنہ کریں تو اس سے نہیں ڈرتے۔
ایک اشکال اور جواب
یہاں جبکہ تمام زمرہ انبیاء کا یہ حال بیان فرمایا ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو اس سے پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ ارشاد ہے کہ تخشی الناس (یعنی آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں) یہ کس طرح درست ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں انبیاء کا غیر اللہ سے نہ ڈرنا تبلیغ رسالات کے معاملے میں بیان ہوا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کو خوف طعنہ زنی کا ایک ایسے کام میں پیش آیا جو بظاہر ایک دنیوی کام تھا، تبلیغ و رسالت سے اس کا تعلق نہ تھا۔ پھر جب آیات مذکورہ سے آپ پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ نکاح بھی عملی تبلیغ و رسالت کا ایک جز ہے تو اس کے بعد آپ کو بھی کسی کا خوف طعن وتشنیع مانع عمل نہیں ہوا، اور یہ نکاح عمل میں لایا گیا، اگرچہ بہت سے کفار نے اعتراضات کئے اور آج تک کرتے رہتے ہیں۔