33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 33:13–27

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب کہنے لگی ایک جماعت ان میں سے اے یثرب والو ! تمہارے لئے ٹھکانہ نہیں سو پھر چلو اور رخصت مانگنے لگا ایک فرقہ ان میں نبی سے کہنے لگے ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں اور وہ کھلے نہیں پڑے ان کی کوئی غرض نہیں مگر بھاگ جانا

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر شہر میں کوئی گھس آئے ان پر اس کے کناروں سے پھر ان سے چاہے دین سے بچلنا تو مان لیں اور دیر نہ کریں اس میں مگر تھوڑی

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

اور اقرار کرچکے تھے اللہ سے پہلے کہ نہ پھیریں گے پیٹھ اور اللہ کے قرار کی پوچھ ہوتی ہے

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

تو کہہ کچھ کام نہ آئے گا تمہارے یہ بھاگنا اگر بھاگو گے مرنے سے یا مارے جانے سے اور پھر بھی پھل نہ پاؤ گے مگر تھوڑے دنوں

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

تو کہہ کون ہے کہ تم کو بچائے اللہ سے اگر چاہے تم پر برائی یا چاہے تم پر مہربانی اور نہ پائیں گے اپنے واسطے اللہ کے سوائے کوئی حمایتی اور نہ مددگار

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

اللہ کو خوب معلوم ہیں جو اٹکانے والے ہیں تم میں اور کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو چلے آؤ ہمارے پاس اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کبھی

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

دریغ رکھتے ہیں تم سے پھر جب آئے ڈر کا وقت تو تو دیکھے ان کو کہ تکتے ہیں تیری طرف پھرتی ہیں آنکھیں ان کی جیسے کسی پر آئے بےہوشی موت کی پھر جب جاتا رہے ڈر کا وقت چڑھ چڑھ بولیں تم پر تیز تیز زبانوں سے ڈھلے پڑتے ہیں مال پر وہ لوگ یقین نہیں لائے پھر اکارت کر ڈالے اللہ نے ان کے کام اور یہ ہے اللہ پر آسان

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

سمجھتے ہیں کہ فوجیں کفار کی نہیں پھر گئیں اور اگر آجائیں وہ فوجیں تو آرزو کریں کسی طرح ہم باہر نکلے ہوئے ہوں گاؤں میں پوچھ لیا کریں تمہاری خبریں اور اگر ہوں تم میں لڑائی نہ کریں مگر بہت تھوڑی

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

تمہارے لئے بھلی تھی سیکھنی رسول ﷺ اللہ کی چال اس کے لئے جو کوئی امید رکھتا ہے اللہ کی اور پچھلے دن کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت سا

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب دیکھی مسلمانوں نے فوجیں بولے یہ وہی ہے جو وعدہ دیا تھا ہم کو اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے اور ان کو اور بڑھ گیا یقین اور اطاعت کرنا

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

ایمان والوں میں کتنے مرد ہیں کہ سچ کر دکھلایا جس بات کا عہد کیا تھا اللہ سے پھر کوئی تو ان میں پورا کرچکا اپنا ذمہ اور کوئی ہے ان میں راہ دیکھ رہا اور بدلا نہیں ایک ذرہ

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کے سچ کا اور عذاب کرے منافقوں پر اگر چاہے یا توبہ ڈالے ان کے دل پر بیشک اللہ ہے بخشنے والا مہربان

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور پھیر دیا اللہ نے منکروں کو اپنے غصہ میں بھرے ہوئے ہاتھ نہ لگی کچھ بھلائی اور اپنے اوپر لے لی اللہ نے مسلمانوں کی لڑائی اور ہے اللہ زور آور زبردست

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اتار دیا ان کو جو ان کے پشت پناہ ہوئے تھے اہل کتاب سے ان کے قلعوں سے اور ڈال دی ان کے دلوں میں دھاک کتنوں کو تم جان سے مارنے لگے اور کتنوں کو قید کرلیا

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور تم کو دلائی ان کی زمین اور ان کے گھر اور ان کے مال اور ایک زمین کہ جس پر نہیں پھیرے تم نے اپنے قدم اور ہے اللہ سب کچھ کرسکتا۔

دوسرا حال منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے کھلے طور پر اللہ و رسول کے وعدوں کو دھوکہ فریب کہنا شروع کردیا، (آیت) واذیقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الاغروراً ، یہ ان کے باطنی کفر کا اظہار تھا آگے عملی طور پر وہ منافقین جو ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک جہاد تھے، ان کے دو طبقوں کا ذکر ہے۔ ایک طبقہ تو بےپوچھے بھاگنے لگا، جس نے کہا (آیت) یاھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا، اور دوسرے طبقے نے حیلے بہانے تراش کر کے آنحضرت ﷺ سے واپس چلے جانے کی درخواست کی جن کا حال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ (آیت) ویستاذن فریق منہم النبی یقولون ان بیوتنا عورة الایة، قرآن کریم نے ان کے حیلے بہانے کو کھول دیا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ میدان سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ ان یریدون الافراراً ، آگے کئی آیتوں میں ان کی شرارت اور مسلمانوں کے ساتھ عداوت پھر ان کے انجام بد کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد مومنین مخلصین کا ذکر فرما کر ان کے ثبات و استقلال کی مدح کی گئی ہے۔ اس کے ضمن میں رسول اللہ ﷺ کے اتباع و اقتداء کی تاکید ایک ضابطہ کی صورت میں بیان فرمائی گئی ہے، (آیت) لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ، اس سے رسول کریم ﷺ کے اقوال و افعال سب کی اقتداء کا حکم ثابت ہوا، مگر محققین آئمہ تفسیر کے نزدیک اس کی عملی صورت یہ ہے کہ جس کام کا کرنا یا چھوڑنا رسول اللہ ﷺ سے بدرجہ وجوب ثابت ہو اس کا اتباع واجب و لازم ہے۔ اور جس کام کا کرنا یا چھوڑنا بدرجہ استحباب ثابت ہو اس کا کرنا یا چھوڑنا ہم پر بھی درجہ استحباب میں رہے گا کہ اس کی خلاف ورزی گناہ نہ قرار دی جائے گی۔ (قلت الیہ یرجع کلام الجصاص فی حکام القرآن) آیات مذکورہ میں سے آخری تین آیتوں میں واقعہ بنو قریظہ کا ذکر ہے (آیت) وانزل الذین ظاہروہم من اہل الکتب من صیاصیہم، یعنی جن اہل کتاب نے اہل احزاب کی مدد کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کا رعب ڈال کر ان کے مضبوط قلعوں سے ان کو نیچے اتار دیا، اور ان کے اموال اور دار و دیار کا مسلمانوں کو وارث بنایا۔ آخری آیت میں آئندہ ہونے والی فتوحات کی خوشخبری دی گئی ہے کہ اب کفار کے حملے ختم ہوئے، اب مسلمانوں کی فتوحات کا دور شروع ہوگا اور ایسی ایسی زمینیں ان کے قبضہ میں آئیں گی جہاں ان کے قدم بھی اب تک نہیں پہنچے۔ جس کا ظہور صحابہ کرام کے دور میں سب کی آنکھوں نے دیکھ لیا کہ کسریٰ و قیصر کی سب سے بڑی سلطنتیں ان کے زیرنگیں آگئیں۔ واللہ یفعل مایشاء۔
Ayahs 33:28–29

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی کہہ دے اپنی عورتوں کو اگر تم چاہتی ہو دنیا کی زندگانی اور یہاں کی رونق تو آؤ کچھ فائدہ پہنچا دوں تم کو اور رخصت کر دوں بھلی طرح سے رخصت کرنا

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم چاہتی ہو اللہ کو اور اس کے رسول کو اور پچھلے گھر کو تو اللہ نے رکھ چھوڑا ہے ان کے لئے جو تم میں نیکی پر ہیں بڑا ثواب

خلاصہ تفسیر اے نبی ﷺ آپ اپنی بیبیوں سے فرما دیجئے (تم سے دو ٹوک بات کہی جاتی ہے تاکہ ہمیشہ کے لئے قصہ ایک طرف ہو وہ بات یہ ہے کہ) تم اگر دنیوی زندگی (کی عیش) اور اس کی بہار چاہتی ہو تو آؤ (یعنی لینے کے لئے متوجہ ہو) میں تم کو کچھ (مال و) متاع (دنیوی) دے دوں (یا تو مراد اس سے وہ جوڑا ہے جو مطلقہ مدخولہ کو بوقت طلاق دینا مستحب ہے یا مراد نان نفقہ عدت کا ہے، یا دونوں کو شامل ہے) اور (متاع دے کر) تم کو خوبی کے ساتھ رخصت کروں (یعنی موافق سنت کے طلاق دے دوں تاکہ جہاں چاہو جا کر دنیا حاصل کرو) اور اگر تم اللہ کو چاہتی ہو اور (مطلب اللہ کو چاہنے کا اس جگہ یہ ہے کہ) اس کے رسول کو (چاہتی ہو، یعنی فقر و افلاس کی موجودہ حالت کے ساتھ رسول کے نکاح میں رہنا چاہتی ہو) اور عالم آخرت (کے درجات عالیہ) کو (چاہتی ہو جو کہ زوجیت رسول پر مرتب ہونے والے ہیں) تو (یہ تمہاری نیک کرداری ہے اور) تم میں نیک کرداروں کے لئے اللہ تعالیٰ نے (آخرت میں) اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے (یعنی وہ ثواب جو مخصوص ہی زوجات نبی کے لئے کہ اور نیک بیبیوں کے اجر سے وہ عظیم ہے۔ اور جس سے زوجیت نبی کو اختیار نہ کرنے کی صورت میں محرومی ہوگی، گو عموم دلائل سے مطلق ایمان و اعمال صالحہ کے ثمرات اس صورت میں بھی حاصل ہوں گے۔ یہاں تک تو مضمون تخییر کا ہے جس میں حضور ﷺ کی طرف سے ازواج کو اختیار دیا گیا کہ موجودہ حالت پر قناعت کر کے آپ کی زوجیت میں رہنا پسند کریں، یا پھر آپ سے طلاق حاصل کرلیں، آگے حق تعالیٰ ان کو خود خطاب کر کے وہ احکام فرماتے ہیں جو بصورت اختیار زوجیت واجب الاہتمام ہوں گے۔ ارشاد ہے کہ) اے نبی کی بیبیو ! جو تم میں کھلی ہوئی بےہودگی کرے گی (مراد اس سے وہ معاملہ ہے جس سے رسول اللہ ﷺ تنگ و پریشان ہوں تو) اس کو (اس پر آخرت میں) دوہری سزا دی جائے گی (یعنی دوسرے شخص کو اس عمل پر جتنی سزا ملتی اس سے دوہری سزا ہوگی) اور یہ بات اللہ کو (بالکل) آسان ہے (یہ نہیں کہ دنیوی حکام کی طرح احیاناً سزا بڑھانے سے کسی کی عظمت اس کو مانع ہوجاوے، اور اس سزا کے بڑھنے کی وجہ ابھی تضعیف اجر کی تقریر میں آتی ہے) اور جو کوئی تم میں اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی (یعنی جن امور کو اللہ تعالیٰ نے واجب فرمایا ہے ان کو ادا کرے گی اور خود رسول اللہ ﷺ کے زوج ہونے کے جو حقوق اطاعت وغیرہ واجب ہیں وہ ادا کرے گی کیونکہ حیثیت رسالت کے حقوق اللہ کی اطاعت میں داخل ہوگئے) اور (امور غیر واجبہ میں سے جو) نیک کام (ہیں ان کو) کرے گی تو ہم اس کو اس کا ثواب (بھی) دوہرا دیں گے اور ہم نے اس کے لئے (علاوہ دوہرے اجر موعود کے) ایک (خاص) عمدہ روزی (جو جنت میں ازواج نبی ﷺ کے لئے مخصوص ہے اور جو صلہ عمل سے زائد ہے) تیار کر رکھی ہے (اطاعت کی صورت میں دوہرے اجر اور ترک اطاعت پر دوہرے عذاب کی وجہ شرف زوجیت نبی ہے جس پر ینساء النبی دال ہے۔ کیونکہ اہل خصوصیت کی کوتاہی بھی اوروں کی کوتاہی سے اشد ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کی اطاعت بھی اوروں کی اطاعت سے زیادہ مقبول ہوتی ہے۔ پس وعدہ وعید دونوں ہیں وہ دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں۔ اور خصوصاً مقام کلام میں یہ کہنا ممکن ہے کہ حضرات امہات المومنین سے خدمت اور اطاعت کا صدور حضور ﷺ کے قلب کو راحت افزا زیادہ ہوگا پس آپ کی راحت رسانی موجب زیادتی اجر ہوگئی، علیٰ ھذا اس کی ضد میں سمجھنا چاہئے، یہاں تک ازواج سے آپ کے حقوق کے متعلق خطاب تھا آگے عام احکام کے متعلق زیادہ اہتمام کے لئے خطاب ہے کہ) اے نبی کی بیبیو (محض اس بات پر مت بھول جانا کہ ہم نبی کی بیبیاں ہیں اور اس لئے عام عورتوں سے ممتاز ہیں، یہ نسبت اور شرف ہمارے لئے بس ہے، سو یہ وسوسہ مت کرنا یہ بات صحیح ہے کہ) تم معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو (بیشک ان سے ممتاز ہو مگر مطلقاً نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایک شرط بھی ہے وہ یہ کہ) اگر تم تقویٰ اختیار کرو (تب تو واقعی اس نسبت کے سبب تم کو اوروں سے فضیلت حاصل ہے، حتیٰ کہ ثواب مضاعف ملے گا اور اگر یہ شرط مستحق نہیں تو یہی نسبت بالعکس دوہرے عذاب کا سبب بن جائے گی، جب یہ بات ہے کہ نسبت بلا تقویٰ ہیچ ہے) تو (تم کو احکام شرعیہ کی پوری پابندی کرنا چاہئے عموماً اور ان احکام مذکورہ آیت آئندہ کی خصوصاً ، اور وہ احکام یہ ہیں کہ) تم (نامحرم مرد سے) بولنے میں (جب کہ بضرورت بولنا پڑے) نزاکت مت کرو (اس کا مطلب یہ نہیں کہ قصداً نزاکت مت کرو کیونکہ اس کا برا ہونا تو بدیہی ہے دوسری مخاطب یعنی ازواج مطہرات میں اس کا احتمال نہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جیسے عورتوں کے کلام کا فطری انداز ہوتا ہے کہ کلام میں نرمی اور نزاکت طبعی ہوتی ہے، اس انداز کو مت برتو) کہ (اس سے) ایسے شخص کو (طبعاً) خیال (فاسد پیدا) ہونے لگتا ہے، جس کے قلب میں خرابی (اور بدی) ہے (بلکہ ایسے موقع پر تکلف اور اہتمام سے اس فطری انداز کو بدل کر گفتگو کرو) اور قاعدہ (عفت) کے موافق بات کو (یعنی ایسے انداز سے جس میں خشکی اور روکھا پن ہو کہ یہ حافظ عفت ہے، اور یہ بد اخلاقی نہیں ہے۔ بد اخلاقی وہ ہے جس سے کسی کے قلب کو ایذاء پہنچے اور طمع فاسد کے روکنے سے ایذاء لازم نہیں آتی۔ اس میں تو بولنے کے متعلق حکم فرمایا) اور (آگے پردہ کے متعلق ارشاد ہے اور امر مشترک دونوں میں فقط عفت ہے یعنی) تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو (مراد اس سے یہ ہے کہ محض کپڑا اوڑھ لپیٹ کر پردہ کرلینے پر کفایت مت کرو بلکہ پردہ اس طریقہ سے کرو کہ بدن مع لباس نظر نہ آئے، جیسا کہ آج کل شرفاء میں پردہ کا طریقہ متعارف ہے کہ عورتیں گھروں ہی سے نہیں نکلتیں، البتہ مواقع ضرورت دوسری دلیل سے مستثنیٰ ہیں) اور (آگے اسی حکم کی تاکید کے لئے ارشاد ہے کہ) قدیم زمانہ جہالت کے دستور کے موافق مت پھرو (جس میں بےپردگی رائج تھی گو بلافحش ہی کیوں نہ ہو، اور قدیم جاہلیت سے مراد وہ جاہلیت ہے جو اسلام سے پہلے تھی، اور اس کے مقابلہ میں ایک مابعد کی جاہلیت ہے کہ بعد تعلیم و تبلیغ احکام اسلام کے ان پر عمل نہ کیا جائے۔ پس جو تبرج بعد اسلام ہوگا وہ جاہلیت اخرٰی ہے، اس لئے تشبیہ میں تخصیص جاہلیت اولیٰ ہی ظاہر ہے، کیونکہ مشبہ و مشتبہ بہ کا تغائر ضروری ہے۔ مطلب یہ کہ جاہلیت اخریٰ جاری کر کے جاہلیت اولیٰ کا اقتداء نہ کرو جس کے مٹانے کو اسلام آیا ہے۔ یہاں تک احکام متعلقہ عفت کے تھے) اور (آگے دوسرے شرائع کا ارشاد ہے کہ) تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوٰة (اگر نصاب کی مالک ہو) دیا کرو (کہ دونوں اعظم شعائر سے ہیں، اس لئے ان کی تخصیص کی گئی) اور (بھی جتنے احکام ہیں اور تم کو معلوم ہیں سب میں) اللہ کا اور اس کے رسول ﷺ کا کہنا مانو (اور ہم نے جو تم کو ان احکام کے اس التزام اور اہتمام کا مکلف فرمایا ہے تو تمہارا ہی نفع ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ کو (ان احکام کے بتانے سے تشریعاً) یہ منظور ہے کہ اے (پیغمبر کے) گھر والو تم سے (معصیت و نافرمانی کی) آلودگی کو دور رکھے، اور تم کو (ظاہراً و باطناً وعملاً وخلقاً بالکل) پاک صاف رکھے (کیونکہ علم بالا حکام کے سبب مخالفت سے جو کہ موجب آلودگی اور مانع تطہیر ہے بچنا ممکن ہے) اور (چونکہ ان احکام پر عمل واجب ہے اور عمل موقوف ہی احکام کے جاننے اور ان کے یاد رکھنے پر اس لئے) تم ان آیات آلہیہ (یعنی قرآن) کو اور اس علم (احکام) کو یاد رکھو جس کا تمہارے گھروں میں چرچا رہتا ہے (اور یہ بھی پیش نظر رکھو کہ) بیشک اللہ تعالیٰ راز داں ہے (کہ اعمال قلوب کو بھی جانتا ہے اور) پورا خبردار ہے (کہ پوشیدہ اعمال کو بھی جانتا ہے، اس لئے ظاہراً و باطناً سراً و علانیةً امتثال اور امر اور اجتناب نواہی کا اہتمام واجب ہے) معارف و مسائل اس سورة کے مقاصد میں سے اہم مقصد رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے اور ہر ایسی چیز سے بچنے کی تاکید ہے جس سے آپ کو تکلیف پہنچے، نیز آپ کی اطاعت اور رضا جوئی کے موکد احکام ہیں۔ غزوہ احزاب کا تفصیلی واقعہ جو اوپر گزرا ہے اس میں کفار و منافقین کی طرف سے جو رسول اللہ ﷺ کو ایذائیں پہنچیں ان کا ذکر اور اس کے ساتھ انجام کار موذی کفار و منافقین کا ذلیل و خوار ہونا اور رسول اللہ ﷺ کا ہر موقع پر فتح مند اور کامیاب ہونا ذکر کیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی مومنین مخلصین جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم و اشارہ پر اپنا سب کچھ قربان کردیا، ان کی مدح وثناء اور درجات آخرت کا بیان تھا۔ مذکورہ الصدر آیات میں خاص ازواج مطہرات کو تعلیم ہے کہ وہ خصوصاً اس کا اہتمام کریں کہ آپ کو ان کے کسی قول و فعل سے ایذا نہ پہنچے، اور یہ جبھی ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مکمل اطاعت میں لگ جائیں۔ اس سلسلے کے چند احکام ازواج مطہرات کو خطاب کر کے بتلائے گئے ہیں۔ شروع آیات میں جو ازواج مطہرات کو طلاق لینے کا اختیار دینا مذکور ہے، اس کا ایک یا چند واقعات ہیں جو ازواج مطہرات کی طرف سے پیش آئے، جو رسول اللہ ﷺ کے منشاء کے خلاف تھے، جن سے بلا قصد و اختیار رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچی۔ ان واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت جابر کی روایت سے مفصل آیا ہے، اس میں مذکور ہے کہ ازواج مطہرات نے جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ سے اس کا مطالبہ کیا کہ ان کا نان نفقہ بڑھایا جائے۔ تفسیر بحر محیط میں ابوحیان نے اس کی تشریح یہ بیان کی ہے کہ غزوہ احزاب کے بعد بنو نضیر پھر بنو قریظہ کی فتوحات اور اموال غنیمت کی تقسیم نے عام مسلمانوں میں ایک گونہ خوشحالی پیدا کردی تھی۔ ازواج مطہرات کو اس وقت یہ خیال ہوا کہ ان اموال غنیمت میں سے آنحضرت ﷺ نے ابھی اپنا حصہ رکھا ہوگا، اس لئے انہوں نے جمع ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ، یہ کسریٰ و قیصر کی بیبیاں طرح طرح کے زیورات اور قیمتی لباسوں میں ملبوس ہیں، اور ان کی خدمت کے لئے کنیزیں ہیں، اور ہمارا حال فقر وفاقہ کا آپ دیکھتے ہیں، اس لئے اب کچھ توسیع سے کام لیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے یہ مطالبہ سنا کہ ان کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے جو بادشاہوں اور دنیا داروں میں ہوتا ہے تو آپ کو اس سے بہت رنج ہوا کہ انہوں نے بیت نبوت کی قدر نہ پہچانی۔ ازواج مطہرات کو خیال نہ تھا کہ اس سے آپ کو ایذا پہنچے گی، عام مسلمانوں میں مالی وسعت دیکھ کر اپنے لئے بھی وسعت کا خیال دل میں آ گیا تھا۔ ابوحیان نے فرمایا کہ اس واقعہ کو غزوہ احزاب کے واقعہ کے بعد بیان کرنے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ ازواج کا یہ مطالبہ ہی تخییر طلاق کا سبب بنا۔ بعض روایات حدیث میں حضرت زینب کے گھر میں شہد پینے کا واقعہ جو آگے سورة تحریم میں مفصل آئے گا اس میں ازواج کی باہمی غیرت کے سبب جو صورت پیش آئی وہ تخییر طلاق کی سبب بنی۔ اگر یہ دونوں چیزیں قریبی زمانے میں پیش آئی ہوں تو یہ بعید نہیں کہ دونوں ہی سبب ہوں، لیکن آیت تخییر کے الفاظ سے زیادہ تائید اسی کی ہوتی ہے کہ ازواج مطہرات کی طرف سے کوئی مالی مطالبہ اس کا سبب بنا ہے۔ کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے۔ (آیت) ان کنتن تردن الحیوٰة الدنیا وزینتہا الاٰیة۔ اس آیت نے سب ازواج مطہرات کو اختیار دے دیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کی موجودہ حالت یعنی معاشی عسرت و تنگی کے ساتھ آپ کی زوجیت میں رہنا قبول کریں یا پھر آپ سے طلاق کے ساتھ آزاد ہوجائیں۔ پہلی صورت میں ان کو عام عورتوں کی نسبت سے بہت زیادہ اجر عظیم اور آخرت کے خاص درجات عالیہ عطا ہوں گے، اور دوسری صورت یعنی طلاق لینے میں بھی ان کو دنیا کے لوگوں کی طرح کسی تلخی و تکلیف کی نوبت نہیں آئے گی، بلکہ سنت کے مطابق کپڑوں کا جوڑا وغیرہ دے کر عزت کے ساتھ رخصت کیا جائے گا۔ ترمذی نے ام المومنین حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت تخییر نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے اظہار و اعلان کی ابتداء مجھ سے فرمائی اور آیت سنانے سے پہلے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، مگر تم اس کے جواب میں جلدی نہ کرنا، بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر کے جواب دینا۔ صدیقہ فرماتی ہیں کہ یہ مجھ پر خاص عنایت تھی کہ مجھے والدین سے مشورہ کے بغیر اظہار رائے سے آپ نے منع فرمایا کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی یہ رائے نہ دیں گے کہ میں رسول اللہ ﷺ سے مفارقت اختیار کرلوں۔ میں نے جب یہ آیت سنی تو فوراً عرض کیا کہ کیا میں اس معاملے میں والدین سے مشورہ لینے جاؤ ں ؟ میں تو اللہ کو اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہوں۔ پھر میرے بعد سب ازواج مطہرات کو قرآن کا یہ حکم سنایا گیا سب نے وہی کہا جو میں نے اول کہا تھا (کسی نے بھی دنیا کی فراخی کو رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کے مقابلے میں قبول نہ کیا (قال الترمذی ہذا حدیث حسن صحیح) فائدہ اختیار طلاق کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ طلاق کا اختیار عورت کے سپرد کردیا جائے، اگر وہ چاہے تو خود اپنے نفس کو طلاق دے کر آزاد ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ طلاق شوہر ہی کے ہاتھ میں رہے کہ اگر عورت چاہے تو وہ طلاق دے دے۔ آیت مذکورہ میں بعض مفسرین نے پہلی صورت کو اور بعض نے دوسری کو اختیار کیا ہے۔ سیدی حکیم الامة نے بیان القرآن میں فرمایا کہ صحیح بات یہ ہے کہ آیت کے الفاظ میں دونوں احتمال ہیں، جب تک صریح نص سے ایک کی تعیین نہ ہوجائے اپنی طرف سے کسی صورت کو متعین کرنے کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب زوجین کی طبیعتوں میں مناسبت نہ ہو تو مستحب یہ ہے کہ بیوی کو اختیار دیا جائے کہ شوہر کی موجودہ حالت پر قناعت کر کے ساتھ رہنا چاہے تو رہے ورنہ سنت کے مطابق طلاق دے کر کپڑے کے جوڑے دے کر عزت کے ساتھ رخصت کردیا جائے۔ آیت مذکورہ سے اس معاملہ کا استحباب ہی ثابت کیا جاسکتا ہے وجوب پر کوئی دلیل نہیں۔ بعض ائمہ فقہاء نے اس آیت سے وجوب پر استدلال کیا ہے، اور اسی بناء پر ایسے مفلس آدمی کی بیوی کو عدالت کی طرف سے طلاق دینے کا حق دیا ہے جو بیوی کو نفقہ دینے پر قادر نہیں۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل احکام القرآن حزب خامس میں اسی آیت کے تحت میں بزبان عربی مذکور ہے۔
Ayahs 33:30–31

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے نبی کی عورتو ! جو کوئی کر لائے تم میں کام بےحیائی کا صریح دونا ہو اس کو عذاب دوہرا اور ہے یہ اللہ پر آسان

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو کوئی تم میں اطاعت کرے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور عمل کرے اچھے دیویں ہم اس کو اس کا ثواب دو بار اور رکھی ہے ہم نے اس کے واسطے روزی عزت کی

ازواج مطہرات کی ایک خصوصیت اور اس کی وجہ سے ان پر کڑی پابندی (آیت) ینساء النبی من یات منکن بفاحشة مبینة یضعف لہا العذاب ضعفین وکان ذلک علیٰ اللہ یسیراً۔ ومن یقنت منکن للہ و رسولہ وتعمل صالحاً نوتہا اجرہا مرتین الایة) ان دو آیتوں میں ازواج مطہرات کی یہ خصوصیت بیان فرمائی ہے کہ اگر وہ کوئی گناہ کا کام کریں گی تو ان کو دوسری عورتوں کی نسبت سے دوگنا عذاب دیا جائے گا یعنی ان کا ایک گناہ دو کے قائم مقام قرار دیا جائے گا، اسی طرح اگر وہ نیک عمل کریں گی تو دوسری عورتوں کی نسبت ان کو ثواب بھی دوہرا دیا جائے گا، ان کا ایک نیک عمل دو کے قائم مقام ہوگا۔ یہ آیت ایک حیثیت سے ازواج مطہرات کے لئے ان کے اس عمل کی جزاء ہے جو انہوں نے آیت تخییر نازل ہونے پر رسول اللہ ﷺ کی زوجیت پر دنیا کی فراخی کو قربان کردیا۔ اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایک عمل کو دو کا درجہ دے دیا، اور گناہ کی صورت میں دوہرا عذاب بھی ان کی خصوصی فضیلت اور امتیازی شرافت کی وجہ سے ہوا۔ کیونکہ یہ بات عقلی بھی ہے اور نقلی بھی کہ جتنا کسی کا اعزازو احترام ہوتا ہے اتنا ہی اس کی طرف سے غفلت و سرکشی کی سزا بھی بڑھ جاتی ہے۔ ازواج مطہرات پر حق تعالیٰ کے انعامات بڑے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زوجیت کے لئے انتخاب فرمایا۔ ان کے گھروں میں وحی الہٰی نازل ہوتی رہی تو ان کی ادنیٰ غلطی کوتاہی بھی بڑی ہوگی۔ اگر دوسروں سے رسول اللہ ﷺ کو ایذاء پہنچے تو اس سے کہیں زیادہ اشد ہوگا کہ ان سے کوئی بات ایذاء و تکلیف کی سرزد ہو۔ قرآن کریم کے ان الفاظ میں خود اس سبب کی طرف اشارہ ہے۔ (آیت) واذکرن مایتلی فی بیوتکن۔ فائدہ ازواج مطہرات کی یہ خصوصیت کہ ان کے عمل کو دوہرا ثواب ملے عام امت کے اعتبار سے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ امت میں کسی فرد یا جماعت کو کسی خصوصیت سے ایسا انعام نہ بخشا جائے کہ اس کو دوہرا ثواب ملے، چناچہ اہل کتاب میں سے جو لوگ مسلمان ہوگئے ان کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد ہے (آیت) اولئک یوتون اجرہم مرتین۔ اور قیصر روم کے نام جو نامہ مبارک رسول اللہ ﷺ نے تحریر فرمایا اس میں اس ارشاد قرآنی کی وجہ سے آپ نے قیصر روم کو یہ لکھا کہ یوتک اللہ اجرک مرتین۔ اہل کتاب جو اسلام لے آئیں ان کے متعلق تو خود قرآن میں اجر مرتین کی تصریح ہے۔ اور ایک حدیث اور بھی ہے جس میں تین آدمیوں کے لئے اس طرح دوہرا اجر مذکور ہے اس کی تفصیل سورة قصص میں (آیت) یوتون اجرہم مرتین کے تحت میں لکھی گئی ہے۔ عالم کے عمل صالح کا ثواب بھی دوسروں سے زیادہ ہے اور اس کے گناہ کی سزا بھی زیادہ امام ابوبکر جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ جب سبب سے حق تعالیٰ نے ازواج مطہرات کے عمل صالح کا ثواب دوگنا اور ان کی معصیت کا عذاب بھی دوگنا قرار دیا ہے، کہ وہ علوم نبوت اور وحی الہٰی کی خاص مورد ہیں، یہی سبب علماء دین میں بھی موجود ہے۔ اس لئے جو عالم اپنے علم پر عامل بھی ہے اس کو بھی اس عمل کا ثواب دوسروں سے زیادہ ملے گا، اور اگر وہ کوئی گناہ کرے گا تو عذاب بھی دوسروں سے زیادہ ہوگا۔ بفاحشة مبینة، لفظ فاحشہ عربی زبان میں بدکاری اور زنا وغیرہ کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اور مطلق معصیت اور گناہ کے لئے بھی یہ لفظ قرآن میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ اس آیت میں فاحشہ کے لفظ سے بدکاری اور زنا مراد نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سب پیغمبروں کو ازواج کو اس سخت عیب سے بری فرمایا ہے، تمام انبیاء (علیہم السلام) کی بیبیاں ان کے دین سے منحرف ہوئیں اور سرکشی اختیار کی جس کی سزا ان کو ملی، لیکن بدکاری کا الزام ان میں بھی کسی پر نہیں تھا۔ ازواج مطہرات میں سے کسی بےحیائی و بدکاری کے صدور کا تو احتمال ہی نہ تھا۔ اس لئے اس آیت میں فاحشہ سے مراد عام گناہ یا رسول اللہ ﷺ کی ایذاء و تکلیف ہے۔ اور اس جگہ فاحشہ کے ساتھ جو لفظ مبینہ آیا ہے یہ اس پر شاید ہے۔ کیونکہ بےحیائی اور بدکاری کہیں بھی مبینہ نہیں ہوتی، وہ تو پردوں میں اخفاء سے کی جاتی ہے۔ فاحشہ مبینہ سے مراد عام گناہ ہیں، یا رسول اللہ ﷺ کی ایذاء ؟ آئمہ تفسیر میں سے مقاتل بن سلیمان نے اس آیت میں فاحشہ کا مفہوم رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی یا آپ سے کوئی ایسا مطالبہ قرار دیا ہے جس کا پورا کرنا آپ کے لئے شاق ہو۔ (رواہ البیہقی فی السنن) اور قرآن کریم نے دوہرے عذاب کے سلسلہ میں تو صرف فاحشہ مبینہ پر یہ عذاب مرتب کیا ہے، مگر دوہرے اجر وثواب کے لئے کئی شرطیں رکھی ہیں ومن یقنت منکن للہ و رسولہ وتعمل صالحاً ، اس میں قنوت یعنی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی شرط ہے، پھر عمل صالح شرط ہے۔ سبب یہ ہے کہ اجر وثواب تو اسی وقت ملتا ہے جب اطاعت مکمل ہو اور سزا کے لئے ایک گناہ بھی کافی ہے۔
Ayah 33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے نبی کی عورتوں تم نہیں ہو جیسے ہر کوئی عورتیں اگر تم ڈر رکھو سو تم دب کر بات نہ کرو پھر لالچ کرے کوئی جس کے دل میں روگ ہے اور کہو بات معقول

ازواج مطہرات کو خاص ہدایات (آیت) ینساء النبی لستن کا حد من النساء ان اتقین فلا تخضعن بالقول، سابقہ آیات میں ازواج میں مطہرات کو رسول اللہ ﷺ سے ایسے مطالبات کرنے سے روکا گیا ہے جن کا پورا کرنا آپ کے لئے دشوار ہو یا جو آپ کی شان کے مناسب نہ ہوں۔ اور جب انہوں نے اس کو اختیار کرلیا تو ان کا درجہ عام عورتوں سے بڑھا دیا گیا کہ ان کے ایک عمل کو دو کے قائم مقام بنادیا۔ آگے ان کو اصلاح عمل اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت و زوجیت کے مناسب بنانے کے لئے چند ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ سب ہدایات اگرچہ ازواج مطہرات کے لئے مخصوص نہیں بلکہ تمام ہی مسلمان عورتیں ان کی مامور ہیں، مگر یہاں ازواج مطہرات کو خصوصی خطاب کر کے اس پر متوجہ کیا ہے کہ یہ اعمال و احکام جو سب مسلمان عورتوں کے لئے لازم و واجب ہیں آپ کو ان کا اہتمام دوسروں سے زیادہ کرنا چاہئے اور (آیت) لستن کا حد من النساء سے یہی خصوصیت مراد ہے۔ کیا ازواج مطہرات سارے عالم کی عورتوں سے افضل ہیں ؟ آیت کے ان الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات تمام دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں۔ مگر قرآن کریم کی آیت حضرت مریم (علیہا السلام) کے بارے میں یہ ہے (آیت) ان اللہ اصطفک وطہرک واصطفک علیٰ نساء العلمین، اس سے حضرت مریم ؑ کا سارے جہاں کی عورتوں سے افضل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اور ترمذی میں حضرت انس کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کافی ہیں تم کو ساری عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد (ام المومنین) اور فاطمہ بنت محمد ﷺ اور آسیہ زوجہ فرعون۔ اس حدیث میں حضرت مریم کے ساتھ اور تین عورتوں کو نساء عالمین سے افضل فرمایا ہے۔ اس لئے اس آیت میں جو ازواج مطہرات کی افضلیت اور فوقیت بیان کی گئی ہے، وہ ایک خاص حیثیت یعنی ازواج النبی اور نساء النبی ہونے کی ہے، جس میں تمام عالم کی عورتوں سے بلاشبہ افضل ہیں۔ اس سے عام فضیلت مطلقہ ثابت نہیں ہوتی جو دوسری نصوص کے خلاف ہو۔ (مظہری) لستن کا حد من النساء کے بعد ان اتقیتن یہ شرط اس فضیلت کی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو نساء نبی ہونے کی وجہ سے بخشی ہے۔ مقصود اس سے اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ فقط اس نسبت وتعلق پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں کہ ہم ازواج رسول ہیں، بلکہ تقویٰ اور اطاعت احکام آلہیہ پر فضیلت کی شرط ہے۔ (قرطبی ومظہری) اس کے بعد چند ہدایات ازواج مطہرات کو دی گئیں۔ پہلی ہدایت عورتوں کے پردہ سے متعلق آواز اور کلام پر پابندی ہے۔ فلا تخضعن بالقول، یعنی کسی غیر محرم سے پس پردہ بات کرنے کی ضرورت بھی پیش آئے تو کلام میں اس نزاکت اور لطافت کے لہجہ سے بتکلف پرہیز کیا جائے جو فطرت عورتوں کی آواز میں ہوتی ہے۔ مطلب اس نرمی اور نزاکت سے وہ نرمی ہے جو مخاطب کے دل میں میلان پیدا کرے جیسا کہ اس کے بعد فرمایا ہے (آیت) فیطمع الذین فی قلبہ مرض، یعنی ایسی نرم گفتگو نہ کرو جس سے ایسے آدمی کو طمع اور میلان پیدا ہونے لگے جس کے دل میں مرض ہو، مرض سے مراد نفاق ہے یا اس کا کوئی شعبہ ہو۔ اصلی منافق سے تو ایسی طمع سرزد ہونا ظاہر ہی ہے، لیکن جو آدمی مومن مخلص ہونے کے باوجود کسی حرام کی طرف مائل ہوتا ہے وہ منافق نہ سہی مگر ضعیف الایمان ضروری ہے۔ اور یہ ضعف ایمان جو حرام کی طرف مائل کرتا ہے درحقیقت ایک شعبہ نفاق ہی کا ہے۔ ایمان خالص جس میں شائبہ نفاق کا نہ ہو اس کے ہوتے ہوئے کوئی حرام کی طرف مائل نہیں ہو سکتا۔ (مظہری) خلاصہ اس پہلی ہدایت کا عورتوں کے لئے اجنبی مردوں سے اجتناب اور پردہ کا وہ اعلیٰ مقام حاصل کرنا ہے کہ جس سے کسی اجنبی ضعیف الایمان کے دل میں کوئی طمع یا میلان پیدا ہو سکے اس کے پاس بھی نہ جائیں۔ پردہ نسواں کی مفصل بحث اسی سورة میں آگے آنے والی آیات کے تحت میں بیان ہوگی۔ یہاں ازواج مطہرات کے لئے خصوصی ہدایات کے ضمن میں جو کچھ آیا ہے صرف اس کی تشریح لکھی جاتی ہے۔ کلام کے متعلق جو ہدایت دی گئی ہے اس کو سننے کے بعد بعض امہات المومنین اس آیت کے نزول کے بعد اگر غیر مرد سے کلام کرتیں تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیتیں تاکہ آواز بدل جائے۔ اس لئے حضرت عمرو بن عاص کی ایک حدیث میں ہے ان النبی ﷺ نہیٰ ان یلکم النساء الا باذن ازواجہن (رواہ الطبرانی بسند حسن مظہری) مسئلہ اس آیت اور حدیث مذکور سے اتنا تو ثابت ہوا کہ عورت کی آواز ستر میں داخل نہیں، لیکن اس پر بھی احتیاطی پابندی یہاں بھی لگا دی اور تمام عبادات اور احکام میں اس کی رعایت کی گئی ہے کہ عورتوں کا کلام جہری نہ ہو جو مرد سنیں۔ امام کوئی غلطی کرے تو مقتدیوں کو لقمہ زبان سے دینے کا حکم ہے، مگر عورتوں کو زبان سے لقمہ دینے کے بجائے یہ تعلیم دی گئی کہ اپنے ہاتھ کی پشت پر دوسرا ہاتھ مار کر تالی بجا دیں جس سے امام متنبہ ہوجائے زبان سے کچھ نہ کہیں۔ دوسری ہدایت مکمل پردہ کرنے کی ہے (آیت) وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ ، ”یعنی بیٹھو اپنے گھروں میں اور زمانہ قدیم کی جاہلیت والیوں کی طرح نہ پھرو“ یہاں جاہلیت اولیٰ سے مراد وہ جاہلیت ہے جو اسلام سے پہلے دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس لفظ میں اشارہ ہے کہ اس کے بعد دوسری بھی کوئی جاہلیت آنے والی ہے، جس میں اس طرح کی بےحیائی و بےپردگی پھیل جائے گی، وہ شاید اس زمانہ کی جاہلیت ہے، جس کا اب مشاہدہ ہر جگہ ہو رہا ہے۔ اس آیت میں پردہ کے متعلق اصلی حکم یہی ہے کہ عورتیں گھروں میں رہیں (یعنی بلا ضرورت شرعیہ باہر نہ نکلیں) اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جس طرح اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت کی عورتیں علانیہ بےپردہ پھرتی تھیں ایسے نہ پھرو۔ لفظ تبرج کے اصلی معنی ظہور کے ہیں اور اس جگہ مراد اس سے اپنی زینت کا اظہار ہے غیر مردوں پر، جیسا کہ دوسری آیت میں غیر متبرجت بزینة آیا ہے۔ عورتوں کے پردہ کی پوری بحث اور مفصل احکام آگے اسی سورت میں آئیں گے۔ یہاں صرف آیت مذکورہ کی تشریح لکھی جاتی ہے۔ اس آیت سے پردہ کے متعلق دو باتیں معلوم ہوئیں، اول یہ کہ اصل مطلوب عند اللہ عورتوں کے لئے یہ ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں، ان کی تخلیق گھریلو کاموں کے لئے ہوئی ہے ان میں مشغول رہیں، اور اصل پردہ جو شرعاً مطلوب ہے وہ حجاب بالبیوت ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اگر بضرورت کبھی عورت کو گھر سے نکلنا ہی پڑے تو زینت کے اظہار کے ساتھ نہ نکلے، بلکہ برقع یا جلباب جس میں پورا بدن ڈھک جائے وہ پہن کر نکلے۔ جیسا کہ آگے اسی سورة احزاب کی (آیت) ویدنین علیہن من جلابیہن میں اس کی تفصیل آئے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور قرار پکڑو اپنے گھروں میں اور دکھلاتی نہ پھرو جیسا کہ دکھلانا دستور تھا پہلے جہالت کے وقت میں اور قائم رکھو نماز اور دیتی رہو زکوٰة اور اطاعت میں رہو اللہ کی اور اس کے رسول کی اللہ یہی چاہتا ہے کہ دور کرے تم سے گندی باتیں اے نبی کے گھر والو ! اور ستھرا کر دے تم کو ایک ستھرائی سے

قراربیوت سے مواقع ضرورت مستثنیٰ نہیں (آیت) قرن فی بیوتکن۔ میں عورتوں پر قرار فی البیوت واجب کیا گیا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ عورتوں کے لئے گھر سے باہر نکلنا مطلقاً ممنوع اور حرام ہو۔ مگر اول تو خود اسی آیت ولا تبرجن سے اس طرف اشارہ کردیا گیا کہ مطلقاً خروج بضرورت ممنوع نہیں بلکہ وہ خروج ممنوع ہے جس میں زینت کا اظہار ہو۔ دوسرے سورة احزاب کی آیت جو آگے آ رہی ہے، اس میں خود (آیت) یدنین علیہن من جلابیہن کا حکم یہ بتلا رہا ہے کہ کسی درجہ میں عورتوں کے لئے گھر سے نکلنے کی اجازت بھی ہے بشرطیکہ برقع وغیرہ کے پردہ کے ساتھ نکلیں۔ اس کے علاوہ خود رسول اللہ ﷺ نے مواضع ضرورت کا اس حکم سے مستثنیٰ ہونا ایک حدیث میں واضح فرما دیا۔ جس میں ازواج مطہرات کو خطاب کر کے فرمایا قد اذن لکن ان تخرجن لحاجتکن رواہ مسلم، یعنی تمہارے لئے اس کی اجازت ہے کہ اپنی ضرورت کے لئے گھر سے نکلو، پھر رسول اللہ ﷺ کا عمل آیت حجاب نازل ہونے کے بعد اس پر شاہد ہے کہ ضرورت کے مواقع میں عورتوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے۔ جیسا کہ حج وعمرہ کے لئے آنحضرت ﷺ کے ساتھ ازواج مطہرات کا جانا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اسی طرح بہت سے غزوات میں ساتھ جانا ثابت ہے۔ اور بہت سی روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ ازواج مطہرات اپنے والدین وغیرہ سے ملاقات کے لئے اپنے گھروں سے نکلتی تھیں اور عزیزوں کی بیمار پرسی اور تعزیت وغیرہ میں شرکت کرتی تھیں اور عہد نبوی میں ان کو مساجد میں جانے کی بھی اجازت تھی۔ اور صرف یہی نہیں کہ حضور ﷺ کے ساتھ یا آپ کے زمانے ہی میں ایسا ہوا ہو، رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی حضرت سودہ اور زینب بنت جحش وغیرہ کے علاوہ سب ازواج مطہرات کا حج وعمرہ کے لئے جانا ثابت ہے۔ جس پر صحابہ کرام میں سے کسی نے نکیر نہیں کیا بلکہ فاروق اعظم نے اپنے عہد خلافت میں ازواج مطہرات کو خود اپنے اہتمام سے حج کے لئے بھیجا۔ اور حضرت عثمان غنی اور عبدالرحمن بن عوف کو ان کے ساتھ نگرانی و انتظام کے لئے بھیجا۔ اور ام المومنین حضرت سودہ اور حضرت زینب بنت جحش کا بعد وفات نبی کریم ﷺ حج وعمرہ کے لئے نہ جانا اس آیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک حدیث کی بنا پر تھا۔ وہ یہ کہ حجة الوداع میں جب ازواج مطہرات کو رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے ساتھ حج کرا دیا تو واپسی کے وقت فرمایا ھذہ ثم لزوم العصر، ہذٰہ کا اشارہ اس حج کی طرف ہے اور حصر حصیر کی جمع ہے، جس کے معنی بوریا کے ہیں۔ مطلب حدیث کا یہ ہے کہ تمہارا نکلنا صرف اس کے لئے ہوچکا اس کے بعد اپنے گھروں کے بوریوں کو لازم پکڑو، ان سے نہ نکلو۔ حضرت سودہ بنت زمعہ اور زینب بنت جحش نے اس حدیث کا یہ مفہوم قرار دیا کہ تمہارا خروج صرف اسی حجة الوداع کے لئے جائز تھا، آگے جائز نہیں۔ باقی اور ازواج مطہرات جن میں صدیقہ عائشہ جیسی فقیہہ بھی داخل تھیں سب نے اس کا مفہوم یہ قرار دیا کہ جس طرح کا یہ سفر تھا کہ ایک شرعی عبادت کی ادائیگی کے لئے ہو بس اسی طرح کا خروج جائز ہے، ورنہ اپنے گھروں میں رہنا لازم ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ (آیت) وقرن فی بیوتکن کے مفہوم سے باشارات قرآن اور بعمل نبی کریم ﷺ اور باجماع صحابہ مواقع ضرورت مستثنیٰ ہیں، جن میں عبادات حج وعمرہ بھی داخل ہیں اور ضروریات طبعیہ والدین اور اپنے محارم کی زیارت، عیادت وغیرہ بھی۔ اسی طرح اگر کسی کے نفقہ اور ضروریات زندگی کا کوئی اور سامان نہ ہو تو پردہ کے ساتھ محنت مزدوری کے لئے نکلنا بھی، البتہ مواقع ضرورت میں خروج کے لئے شرط یہ ہے کہ اظہار زینت کے ساتھ نہ نکلیں، بلکہ برقع یا جلباب (بڑی چادر) کے ساتھ نکلیں۔ حضرت ام المومنین صدیقہ عائشہ کا سفر بصرہ اور جنگ جمل کے واقعہ پر روافض کے ہفوات اوپر یہ بات وضاحت کے ساتھ آ چکی ہے کہ آیت مذکورہ میں وقرن فی بیوتکن کا مفہوم خود قرآنی اشارات بلکہ تصریحات میں نیز نبی کریم ﷺ کے عمل سے اور آپ کے بعد صحابہ کرام کے اجماع سے یہ ثابت ہے کہ مواقع ضرورت اس سے مستثنیٰ ہیں جن میں حج وعمرہ وغیرہ دینی ضروریات شامل ہیں۔ صدیقہ عائشہ اور ان کے ساتھ حضرت ام سلمہ اور صفیہ ؓ یہ سب حج کے لئے تشریف لے گئیں تھیں۔ وہاں حضرت عثمان غنی کی شہادت اور بغاوت کے واقعات سنے تو سخت غمگین ہوئیں اور مسلمانوں کے باہمی افتراق سے نظام مسلمین میں خلل اور فتنہ کا اندیشہ پریشان کئے ہوئے تھا۔ اسی حالت میں حضرت طلحہ اور زبیر اور نعمان بن بشیر اور کعب بن عجرہ اور چند دوسرے صحابہ کرام مدینہ سے بھاگ کر مکہ معظمہ پہنچے، کیونکہ قاتلان عثمان ان کے بھی قتل کے درپے تھے۔ یہ حضرات اہل بغاوت کے ساتھ شریک نہ تھے، بلکہ ان کو ایسے فعل سے روکتے تھے۔ حضرت عثمان غنی کے قتل کے بعد وہ ان کے بھی درپے تھے، اس لئے یہ لوگ جان بچا کر مکہ معظمہ پہنچ گئے، اور ام المومنین حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشورہ طلب کیا۔ حضرت صدیقہ نے ان کو یہ مشورہ دیا کہ آپ لوگ اس وقت تک مدینہ طیبہ نہ جائیں جب تک کہ باغی لوگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ، کے گرد جمع ہیں اور وہ ان سے قصاص لینے سے مزید فتنہ کے اندیشہ کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں تو آپ لوگ کچھ روز ایسی جگہ جا کر رہیں جہاں اپنے آپ کو مامون سمجھیں، جب تک امیر المومنین انتظام پر قابو نہ پالیں اور تم لوگ جو کچھ کوشش کرسکتے ہو اس کی کرو کہ یہ لوگ امیر المومنین کے گرد سے متفرق ہوجائیں اور امیر المومنین ان سے قصاص یا انتقام لینے پر قابو پالیں۔ یہ حضرات اس پر راضی ہوگئے، اور ارادہ بصرہ چلے جانے کا کیا۔ کیونکہ اس وقت وہاں مسلمانوں کے لشکر جمع تھے۔ ان حضرات نے وہاں جانے کا قصد کرلیا تو ام المومنین سے بھی درخواست کی کہ انتظام حکومت برقرار ہونے تک آپ بھی ہمارے ساتھ بصرہ میں قیام فرمائیں۔ اور اس وقت قاتلان عثمان اور مفسدین کی قوت و شوکت اور حضرت علی کا ان پر حد شرعی جاری کرنے سے بےقابو ہونا خود نہج البلاغہ کی روایت سے واضح ہے۔ یاد رہے کہ نہج البلاغہ کو شیعہ حضرات مستند مانتے ہیں۔ نہج البلاغہ میں ہے کہ ”حضرت امیر سے ان کے بعض اصحاب و رفقاء نے خود کہا کہ اگر آپ ان لوگوں کو سزا دے دیں جنہوں نے عثمان غنی پر حملہ کیا تو بہتر ہوگا۔ اس پر حضرت امیر نے فرمایا کہ میرے بھائی ! میں اس بات سے بیخبر نہیں جو تم کہتے ہو، مگر یہ کام کیسے ہو جبکہ مدینہ پر یہی لوگ چھائے ہوئے ہیں، اور تمہارے غلام اور آس پاس کے اعراب بھی ان کے ساتھ لگ گئے ہیں، ایسی حالت میں ان کی سزا کے احکام جاری کر دوں تو نافذ کس طرح ہوں گے۔ حضرت صدیقہ کو ایک طرف حضرت علی کی مجبوری کا اندازہ تھا دوسری طرف یہ بھی معلوم تھا کہ حضرت عثمان غنی کی شہادت سے مسلمانوں کے قلوب زخمی ہیں، اور ان کے قاتلوں سے انتقام لینے میں تاخیر جو امیر المومنین علی کی طرف سے بمجبوری دیکھی جا رہی تھی اور مزید یہ کہ قاتلان عثمان، امیر المومنین کی مجالس میں بھی شریک ہوتے تھے۔ جو لوگ حضرت امیر المومنین کی مجبوری سے واقف نہ تھے، ان کو اس معاملہ میں ان سے بھی شکایت پیدا ہو رہی تھی۔ ممکن تھا کہ یہ شکوہ و شکایت کسی دوسرے فتنے کا آغاز نہ بن جائے۔ اس لئے لوگوں کو فہمائش کر کے صبر کرنے اور امیر المومنین کو قوت پہنچا کر نظم مملکت کو مستحکم کرنے اور باہمی شکوہ و شکایت کو رفع کر کے اصلاح بین الناس کے قصد سے بصرہ کا سفر اختیار کرلیا، جس میں ان کے محرم بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیر وغیرہ ان کے ساتھ تھے۔ اپنے اس سفر کا مقصد خود ام المومنین نے حضرت قعقاع کے سامنے بیان فرمایا تھا، جیسا کہ آگے آئے گا۔ اور ایسے شدید فتنہ کے وقت اصلاح بین المومنین کا کام جس قدر اہم دینی خدمت تھی وہ بھی ظاہر ہے۔ اس کے لئے اگر ام المومنین نے بصرہ کا سفر محارم کے ساتھ اور پردہ کے آہنی ہودج میں اختیار فرما لیا تو اس کو جو شیعہ اور روافض نے ایک طوفان بنا کر پیش کیا ہے کہ ام المومنین نے احکام قرآن کی خلاف ورزی کی اس کا کیا جواز ہوسکتا ہے۔ آگے منافقین اور مفسدین کی شرارت نے جو صورت جنگ باہمی کی پیدا کردی اس کا خیال کبھی صدیقہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اس آیت کی تفسیر کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ آگے واقعہ جنگ جمل کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، مگر اختصار کے ساتھ حقیقت واضح کرنے کے لئے چند سطور لکھی جاتی ہیں۔ باہمی فتنوں اور جھگڑوں کے وقت جو صورتیں دنیا میں پیش آیا کرتی ہیں ان سے کوئی اہل بصیرت و تجربہ غافل نہیں ہو سکتا۔ یہاں بھی صورت یہ پیش آئی کہ مدینہ سے آئے ہوئے صحابہ کرام کی معیت میں حضرت صدیقہ کے سفر بصرہ کو منافقین اور مفسدین نے حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ کے سامنے صورت بگاڑ کر اس طرح پیش کیا کہ یہ سب اس لئے بصرہ جا رہے ہیں کہ وہاں سے لشکر ساتھ لے کر آپ کا مقابلہ کریں، اگر آپ امیر وقت ہیں تو آپ کا فرض ہے کہ اس فتنہ کو آگے بڑھنے سے پہلے وہیں جا کر روکیں۔ حضرت حسن و حسین و عبداللہ بن جعفر، عبداللہ بن عباس ؓ جیسے صحابہ کرام نے اس رائے سے اختلاف بھی کیا اور مشورہ یہ دیا کہ آپ ان کے مقابلہ پر لشکر کشی اس وقت تک نہ کریں جب تک صحیح حال معلوم نہ ہوجائے، مگر کثرت دوسری طرف رائے دینے والوں کی تھی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اسی طرف مائل ہو کر لشکر کے ساتھ نکل آئے، اور یہ شریر اہل فتنہ و بغاوت بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب یہ حضرات بصرہ کے قریب پہنچے تو حضرت قعقاع کو ام المومنین کے پاس دریافت حال کے لئے بھیجا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے ام المومنین آپ کے یہاں تشریف لانے کا کیا سبب ہوا ؟ تو صدیقہ نے فرمایا ای بنی الاصلاح بین الناس، ”یعنی میرے پیارے بیٹے ! میں اصلاح بین الناس کے ارادہ سے یہاں آئی ہوں“ پھر حضرت طلحہ اور زبیر کو بھی قعقاع کی مجلس میں بلا لیا۔ قعقاع نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ قاتلان عثمان پر حد شرعی جاری کرنے کے سوا ہم کچھ نہیں چاہتے۔ حضرت قعقاع نے سمجھایا کہ یہ کام تو اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک مسلمانوں کی جماعت منظم اور مستحکم نہ ہوجائے، اس لئے آپ حضرات پر لازم ہے کہ اس وقت آپ مصالحت کی صورت اختیار کرلیں۔ ان بزرگوں نے اس کو تسلیم کیا۔ حضرت قعقاع نے جا کر امیرالمومنین کو اس کی اطلاع دے دی وہ بھی بہت مسرور ہوئے اور مطمئن ہوگئے اور سب لوگوں نے واپسی کا قصد کرلیا، اور تین روز اس میدان میں قیام اس حال پر رہا کہ کسی کو اس میں شک نہیں تھا کہ اب دونوں فریقوں میں مصالحت کا اعلان ہوجائے گا، اور چوتھے دن صبح کو یہ اعلان ہونے والا تھا اور حضرت امیر المومنین کی ملاقات حضرت طلحہ و زبیر کے ساتھ ہونے والی تھی جس میں یہ قاتلان عثمان غنی شریک نہیں تھے، یہ چیز ان لوگوں پر سخت گراں گزری اور انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ تم اول حضرت عائشہ کی جماعت میں پہنچ کر قتل و غارت گری شروع کردو، تاکہ وہ اور ان کے ساتھی یہ سمجھیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے عہد شکنی ہوئی، اور یہ لوگ غلط فہمی کا شکار ہو کر حضرت علی کے لشکر پر ٹوٹ پڑیں ان کی یہ شیطانی چال چل گئی، اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لشکر میں شامل ہونے والے مفسدین کی طرف سے جب حضرت صدیقہ کی جماعت پر حملہ ہوگیا تو وہ یہ سمجھنے میں معذور تھے کہ یہ حملہ امیر المومنین کے لشکر کی طرف سے ہوا ہے، اس کی جوابی کارروائی شروع ہوگئی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے یہ ماجرا دیکھا تو قتال کے سوا چارہ نہ رہا، اور جو حادثہ باہمی قتل و قتال کا پیش آنا تھا آ گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون، یہ واقعہ ٹھیک اسی طرح طبری اور دوسرے ثقات مورخین نے حضرت حسن اور حضرت عبداللہ بن جعفر اور عبداللہ بن عباس وغیرہ ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے (روح المعانی) غرض مفسدین و مجرمین کی شرارت اور فتنہ انگیزی کے نتیجہ میں ان دونوں مقدس گروہوں میں غیر شعوری طور پر قتال کا واقعہ پیش آ گیا اور جب فتنہ فرد ہوا تو دونوں ہی حضرات اس پر سخت غمگین ہوئے۔ حضرت صدیقہ عائشہ کو یہ واقعہ یاد آجاتا تو اتنا روتی تھیں کہ ان کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہوجاتا تھا۔ اسی طرح حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ کو بھی اس واقعہ پر سخت صدمہ پیش آیا۔ فتنہ فرد ہونے کے بعد مقتولین کی لاشوں کو دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تو اپنی رانوں پر ہاتھ مار کر یہ فرماتے تھے کہ کاش میں اس واقعہ سے پہلے مر کر نسیاً منسیا ہوگیا ہوتا۔ اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت ام المومنین جب قرآن میں یہ آیت پڑھتی (آیت) و قرن فی بیوتکن تو رونے لگتیں، یہاں تک کہ ان کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہوجاتا۔ (رواہ عبداللہ بن احمدنی زوائد الزہد وابن المنذرد ابن شیبة عن مسروق، روح) آیت مذکورہ پڑھنے پر رونا اس لئے نہ تھا کہ قرار فی البیوت کی خلاف ورزی ان کے نزدیک گناہ تھی یا سفر ممنوع تھا بلکہ گھر سے نکلنے پر جو واقعہ ناگوار اور حادثہ شدیدہ پیش آ گیا، اس پر طبعی رنج وغم اس کا سبب تھا۔ (یہ سب روایات اور پورا مضمون تفسیر روح العانی سے لیا گیا ہے) ازواج مطہرات کو قرآن کی تیسری، چوتھی اور پانچویں ہدایت (آیت) واقمن الصلوٰة واتین الزکوٰة واطعن اللہ و رسولہ، ”یعنی نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔“ دو ہدایتیں تفصیل کے ساتھ پہلے گزر چکی ہیں، یعنی غیر مردوں سے کلام میں نرمی و نزاکت سے اجتناب اور گھروں سے بلاضرورت نہ نکلنا۔ تین ہدایتیں اس میں آگئیں۔ یہ کل پانچ ہدایات ہیں جو عورتوں کے لئے مہمات دین میں سے ہیں۔ یہ پانچوں ہدایات سب مسلمانوں کے لئے عام ہیں مذکورہ ہدایات میں آخری ہدایات میں تو کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ ازواج مطہرات کے ساتھ مخصوص ہوں، نماز، زکوٰة اور اللہ و رسول کی اطاعت سے کون سا مسلمان مرد و عورت مستثنیٰ ہوسکتا ہے۔ باقی پہلی دو ہدایتیں جو عورتوں کے پردہ سے متعلق ہیں ذرا غور کرنے سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ بھی ازواج مطہرات کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ سب مسلمان عورتوں کے لئے یہی حکم ہے۔ رہا یہ معاملہ کہ ان ہدایات کے ذکر سے پہلے قرآن نے یہ فرمایا ہے (آیت) لستن کا حد من النساء ان اتقیتن، یعنی ازواج مطہرات عام عورتوں کی طرح نہیں اگر وہ تقویٰ اختیار کریں۔ اس سے بظاہر تخصیص معلوم ہوتی ہے۔ تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ تخصیص احکام کی نہیں بلکہ ان پر عمل کے اہتمام کی ہے۔ یعنی ازواج مطہرات عام عورتوں کی طرح نہیں، بلکہ ان کی شان سب سے اعلیٰ وارفع ہے، اس لئے جو احکام تمام مسلمان عورتوں پر فرض ہیں ان کا اہتمام ان کو سب سے زیادہ کرنا چاہئے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ (آیت) انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت ویطہر کم تطہیراً۔ آیات سابقہ میں جو ہدایات ازواج مطہرات کو مخاطب کر کے دی گئی ہیں، وہ اگرچہ ان کی ذات کے ساتھ مخصوص نہ تھیں بلکہ پوری امت ان احکام کی مکلف ہے، مگر ازواج مطہرات کو خصوصی خطاب اس لئے کیا گیا کہ وہ اپنی شان اور بیت نبوت کے مناسب ان اعمال کا زیادہ اہتمام کریں۔ اس آیت میں اس خصوصی خطاب کی حکمت مذکور ہے کہ اصلاح اعمال کی خاص ہدایت سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مطلوب یہ ہے کہ اہل بیت رسول کو (جس گندگی) سے پاک کر دے۔ لفظ رجس قرآن میں متعدد معانی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ایک جگہ رجس بتوں کے معنی میں آیا ہے، (آیت) فاجتنبوا الرجس من الاوثان اور کبھی لفظ رجس مطلق گناہ کے معنی میں، کبھی عذاب کے معنی میں کبھی نجاست اور گندگی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو شرعاً یا طبعاً قابل نفرت سمجھی جاتی ہو وہ رجس ہے۔ اس آیت میں یہی عام معنی مراد ہیں (بحرمحیط)
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور یاد کرو جو پڑھی جاتی ہیں تمہارے گھروں میں اللہ کی باتیں اور عقلمندی کی مقرر اللہ ہے بھید جاننے والا خبردار۔

آیت میں اہل بیت سے کیا مراد ہے ؟ اوپر کی آیات میں نساء النبی ﷺ کو خطاب تھا، اس لئے بصیغہ تانیث خطاب کیا گیا۔ یہاں اہل البیت میں ازواج مطہرات کے ساتھ ان کی اولاد وآباء بھی داخل ہیں، اس لئے بصیغہ مذکر فرمایا عنکم، ویطہرکم اور بعض آئمہ تفسیر نے اہل بیت سے مراد صرف ازواج مطہرات کو قرار دیا ہے۔ حضرت عکرمہ و مقاتل نے یہی فرمایا ہے اور سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے بھی یہی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے آیت میں اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات کو قرار دیا۔ اور استدلال میں اگلی آیت پیش فرمائی، (آیت) واذاکرن مایتلی فی بیوتکن (رواہ ابن ابی حاتم وابن جریر) اور سابقہ آیات میں نساء النبی کے الفاظ سے خطاب بھی اس کا قرینہ ہے۔ حضرت عکرمہ تو بازار میں منادی کرتے تھے، کہ آیت میں اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات ہیں، کیونکہ یہ آیت انہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اور فرماتے تھے کہ میں اس پر مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن حدیث کی متعدد روایات جن کو ابن کثیر نے اس جگہ نقل کیا ہے اس پر شاید ہیں کہ اہل بیت میں حضرت فاطمہ اور علی اور حضرت حسن و حسین بھی شامل ہیں۔ جیسے صحیح مسلم کی حدیث حضرت عائشہ کی روایت سے ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ گھر سے باہر تشریف لے گئے اور اس وقت آپ ایک سیاہ رومی چادر اوڑھے ہوئے تھے، حسن بن علی آگئے تو ان کو اس چادر میں لے لیا، پھر حسین آگئے، ان کو بھی اسی چادر کے اندر داخل فرما لیا، اس کے بعد حضرت فاطمہ پھر حضرت علی مرتضیٰ آگئے، ان کو بھی چادر میں داخل فرما لیا، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیراً ، اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ آیت پڑھنے کے بعد فرمایا اللہم ھولاء اھل بیتی (رواہ ابن جریر) ابن کثیر نے اس مضمون کی متعدد احادیث معتبرہ نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ درحقیقت ان دونوں اقوال میں جو آئمہ تفسیر سے منقول ہیں کوئی تضاد نہیں۔ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت ازواج مطہرات کی شان میں نازل ہوئی اور اہل بیت سے وہی مراد ہیں یہ اس کے منافی نہیں کہ دوسرے حضرات بھی اہل بیت میں شامل ہوں۔ اس لئے صحیح یہی ہے کہ لفظ اہل بیت میں ازواج مطہرات بھی داخل ہیں، کیونکہ شان نزول اس آیت کا وہی ہیں، اور شان نزول کا مصداق آیت میں داخل ہونا کسی شبہ کا متحمل نہیں۔ اور حضرت فاطمہ و علی و حسن و حسین ؓ بھی ارشاد نبوی ؑ کے مطابق اہل بیت میں شامل ہیں۔ اور اس آیت سے پہلے اور بعد میں دونوں جگہ نساء النبی کے عنوان سے خطاب اور ان کے لئے صیغے مونث کے استعمال فرمائے گئے ہیں۔ سابقہ آیات میں (آیت) فلا تخصضعن بالقول سے آخر تک سب صیغے مونث کے استعمال ہوئے ہیں اور آگے پھر واذکرن مایتلیٰ میں بصیغہ تانیث خطاب ہوا ہے۔ اس درمیانی آیت کو سیاق وسباق سے کاٹ کر بصیغہ مذکر عنکم اور یطہرکم فرمانا بھی اس پر شاہد قوی ہے کہ اس میں صرف ازواج ہی داخل نہیں کچھ رجال بھی ہیں۔ آیت مذکورہ میں جو یہ فرمایا ہے کہ (آیت) لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطہرکم تطہیراً ، ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان ہدایات کے ذریعہ اغواء شیطانی اور معاصی اور قبائح سے حق تعالیٰ اہل بیت کو محفوظ رکھے گا، اور پاک کر دے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ تطہیر تشریعی مراد ہے، تکوینی تطہیر جو خاصہ انبیاء ہے وہ مراد نہیں۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ سب معصوم ہوں اور ان سے انبیاء (علیہم السلام) کی طرح کوئی گناہ سرزد ہونا ممکن نہ ہو، جو تکوینی تطہیر کا خاصہ ہے۔ اہل تشیع نے اس آیت میں جمہور امت سے اختلاف کر کے اول تو لفظ اہل بیت کا صرف اولاد و عصبات رسول کے ساتھ مخصوص ہونے اور ازواج مطہرات کے ان سے خارج ہونے کا دعویٰ کیا۔ دوسری آیت مذکورہ میں تطہیر سے مرادان کی عصمت قرار دے کر اہل بیت کو انبیاء کی طرح معصوم کیا۔ اس کا جواب اور مسئلہ کی مفصل بحث احقر نے احکام القرآن سورة احزاب میں لکھی ہے، اس میں عصمت کی تعریف اور اس کا انبیاء اور ملائکہ کے ساتھ مخصوص ہونا اور ان کے علاوہ کسی کا معصوم نہ ہونا دلائل شرعیہ سے واضح کردیا ہے، اہل علم اس کو دیکھ سکتے ہیں، عوام کو اس کی ضرورت نہیں۔ (آیت) واذ کرن مایتلیٰ فی بیوتکن من آیت اللہ والحکمة، آیات اللہ سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور سنت رسول ہے، جیسا کہ عامہ مفسرین نے حکمت کی تفسیر اس جگہ سنت کی ہے۔ اور لفظ اذکرن کے دو مفہوم ہو سکتے ہیںایک یہ کہ ان چیزوں کو خود یاد رکھنا جس کا نتیجہ ان پر عمل کرنا ہے، دوسرے یہ کہ جو کچھ قرآن ان کے گھروں میں ان کے سامنے نازل ہوا یا جو تعلیمات رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیں اس کا ذکر امت کے دوسرے لوگوں سے کریں اور ان کو پہنچائیں۔ فائدہ ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ سے کوئی آیت قرآن یا حدیث سنے اس پر لازم ہے کہ وہ امت کو پہنچائے، یہاں تک کہ ازواج مطہرات پر بھی لازم کیا گیا کہ جو آیات قرآن ان کے گھروں میں نازل ہوں یا جو تعلیمات رسول اللہ ﷺ سے ان کو حاصل ہوں اس کا ذکر امت کے دوسرے افراد سے کریں اور یہ اللہ کی امانت ان کو پہنچائیں۔ قرآن کی طرح حدیث کی حفاظت اس آیت میں جس طرح آیات قرآن کی تبلیغ وتعلیم امت پر لازم کی گئی ہے اسی طرح لفظ حکمت فرما کر احادیث رسول ﷺ کی تبلیغ وتعلیم کو بھی لازم کیا گیا ہے۔ اس لئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس حکم کی تعمیل ہر حال میں کی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت معاذ کا یہ واقعہ کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی، لیکن اس کو عام لوگوں کے سامنے اس لئے بیان نہیں کیا کہ خطرہ تھا کہ لوگ اس کو اس کے درجہ میں نہ رکھیں اور کسی غلط فہمی میں مبتلا ہوجائیں، لیکن جب ان کی وفات کا وقت آیا تو لوگوں کو جمع کر کے وہ حدیث سنا دی اور فرمایا کہ میں نے اس وقت تک دینی مصلحت سے اس کا ذکر کسی سے نہیں کیا تھا، مگر اب موت کا وقت قریب ہے اس لئے امت کی یہ امانت ان کو پہچانا ضروری سمجھتا ہوں۔ صحیح بخاری میں ان کے الفاظ یہ ہیں فاخبربہ معاذ عند مرتہ تائماً ”یعنی حضرت معاذ نے یہ حدیث لوگوں کو وفات کے وقت اس لئے سنا دی کہ وہ گناہگار نہ ہوں کہ حدیث رسول امت کو نہیں پہنچائی“ یہ واقعہ بھی اسی پر شاہد ہے کہ اس حکم قرآنی کی تعمیل سب صحابہ کرام واجب و ضروری سمجھتے تھے اور صحابہ کرام نے حدیث کو احتیاط کے ساتھ لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام فرمایا تھا تو حدیث کی حفاظت بھی ایک درجہ میں قرآن کی حفاظت کے قریب قریب ہوگئی، اس معاملہ میں شبہات کا نکالنا درحقیقت قرآن میں شبہات کا نکالنا ہے۔ واللہ اعلم