32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 32:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اتارنا کتاب کا اس میں کچھ دھوکہ نہیں پروردگار عالم کی طرف سے ہے

خلاصہ تفسیر الم (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے (اور) اس میں کچھ شبہ نہیں (اور) یہ رب العالمین کی طرف سے ہے (جیسا کہ اس کتاب کا اعجاز خود اس کی دلیل ہے) کیا یہ (منکر) لوگ یوں کہتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے یہ اپنے دل سے بنا لیا ہے (یعنی یہ کہنا محض لغو اور جھوٹ ہے یہ بنایا ہوا نہیں) بلکہ یہ سچی کتاب ہے آپ کے رب کی طرف سے (آئی ہے) تاکہ آپ (اس کے ذریعہ سے) ایسے لوگوں کو (عذاب الٰہی سے) ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانیوالا نہیں آیا تھا تاکہ وہ لوگ راہ پر آجائیں۔
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ باندھ لایا ہے کوئی نہیں وہ ٹھیک ہے تیرے رب کی طرف سے تاکہ تو ڈر سناوے ان لوگوں کو جن کے پاس نہیں آیا کوئی ڈرانے والا تجھ سے پہلے تاکہ وہ راہ پر آئیں۔

معارف و مسائل (آیت) ما اتہم من نذیر، نذیر سے مراد اس جگہ رسول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قریش مکہ میں آنحضرت محمد ﷺ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا تھا۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انبیاء کی دعوت بھی ان کو اب تک نہ پہنچی تھی۔ کیونکہ دوسری آیت قرآن میں واضح طور پر ارشاد ہے و ان من امة الا خلا فیہا نذیر، یعنی کوئی امت اور جماعت دنیا میں ایسی نہیں جس میں کوئی اللہ سے ڈرانے والا اور اس کی طرف دعوت دینے والا نہ آیا ہو۔ اس آیت میں لفظ نذیر اپنے عام لغوی معنی میں ہے۔ یعنی اللہ کی طرف دعوت دینے والا وہ خواہ رسول اور پیغمبر ہو یا ان کا کوئی نائب، خلیفہ یا عالم دین۔ تو اس آیت سے تمام امتوں اور جماعتوں تک توحید کی دعوت پہنچ جانا معلوم ہوتا ہے، وہ اپنی جگہ صحیح درست اور حق تعالیٰ کی رحمت عامہ کا مقتضا ہے، جیسا کہ ابوحیان نے فرمایا کہ توحید اور ایمان کی دعوت کسی زمانے اور کسی مکان اور کسی قوم میں کبھی منقطع نہیں ہوتی، اور جب کہیں نبوت پر زمانہ دراز تک گزر جانے کے بعد اس نبوت کا علم رکھنے والے علماء بہت کم رہ گئے تو کوئی دوسرا نبی و رسول مبعوث ہوگیا۔ اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اقوام عرب میں بھی بقدر ضرورت توحید کی دعوت پہلے سے ضرور پہنچی ہوگی مگر اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ یہ دعوت خود کوئی نبی و رسول لے کر آیا ہو، ہوسکتا ہے کہ ان کے نائبین علماء کے ذریعہ پہنچ گئی ہو۔ اس لئے اس سورة اور سورة یٰسین وغیرہ کی وہ آیتیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قریش عرب میں آپ سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا تھا، ضروری ہے کہ اس میں نذیر سے مراد اصطلاحی معنی کے اعتبار سے رسول و نبی ہو۔ اور مراد یہ ہو کہ اس قوم کے اندر آپ سے پہلے کوئی نبی و رسول نہیں آیا تھا، اگرچہ دعوت ایمان و توحید دوسرے ذرائع سے یہاں بھی پہنچ چکی ہو۔ زمانہ فترت یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے بہت سے حضرات کے متعلق یہ ثابت ہوا ہے کہ وہ دین ابراہیم و اسماعیل ؑ پر قائم تھے، توحید پر ان کا ایمان تھا، بت پرستی اور بتوں کے لئے قربانی دینے سے متنفر تھے۔ روح المعانی میں موسیٰ بن عقبہ کی مغازی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل جو آنحضرت محمد ﷺ کی بعثت اور نبوت سے پہلے آپ سے ملے بھی تھے، مگر نبوت سے پہلے ان کا انتقال اس سال میں ہوگیا، جس میں قریش نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی اور یہ واقعہ آپ کی نبوت سے پانچ سال پہلے کا ہے، ان کا حال موسیٰ بن عقبہ نے یہ نقل کیا ہے کہ قریش کو بت پرستی سے روکتے تھے اور بتوں کے نام پر قربانی دینے کو بہت برا کہتے تھے اور مشرکین کے ذبائح کا گوشت نہ کھاتے تھے۔ اور ابو داؤد طیالسی نے زید بن عمرو بن نفیل کے صاحبزادے حضرت سعید بن زید بن عمرو سے جو صحابہ میں عشرہ مبشرہ میں داخل ہیں۔ یہ روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ میرے والد کا جو کچھ حال تھا وہ آپ کو معلوم ہے کہ توحید پر قائم، بت پرستی کے منکر تھے، تو کیا میں ان کے لئے دعائے مغفرت کرسکتا ہوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ان کے لئے دعائے مغفرت جائز ہے، وہ قیامت کے روز ایک مستقل امت ہو کر اٹھیں گے۔ (روح) اسی طرح ورقہ بن نوفل جو آپ کے زمانہ نبوت شروع ہونے اور نزول قرآن کی ابتداء کے وقت موجود تھے توحید پر قائم تھے اور رسول اللہ ﷺ کی مدد کرنے کا اپنا عزم ظاہر کیا تھا، مگر فوراً بعد ہی ان کی وفات ہوگئی۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اقوام عرب بھی دعوت الٰہیہ اور دعوت ایمان و توحید سے محروم تو نہیں تھیں، مگر خود ان کے اندر کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ واللہ اعلم ان تینوں آیتوں میں قرآن کی حقانیت اور رسول اللہ ﷺ کے رسول برحق ہونے کا اثبات ہے
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن کے اندر پھر قائم ہوا عرش پر کوئی نہیں تمہارا اس کے سوائے حمایتی اور نہ سفارشی پھر کیا تم دھیان نہیں کرتے

خلاصہ تفسیر اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو اور اس مخلوق کو جو ان دونوں کے درمیان میں (موجود) ہے چھ روز (کی مقدار) میں پیدا کیا پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (جو کہ اس کی شان کے لائق ہے وہ ایسا عظیم ہے کہ) بدون اس (کی رضا و اذن) کے نہ تمہارا کوئی مددگار ہے اور نہ سفارش کرنے والا (البتہ اذن سے شفاعت ہوجائے گی اور نصرت کے ساتھ اذن ہی متعلق نہ ہوگا) سو کیا تم سمجھتے نہیں ہو (کہ ایسی ذات کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا اور) وہ (ایسا ہے کہ) آسمان سے لے کر زمین تک (جتنے امور ہیں) ہر امر کی (وہی) تدبیر (اور انتظام) کرتا ہے، پھر ہر امر اسی کے حضور میں پہنچ جائے گا ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے موافق ایک ہزار برس کی ہوگی (یعنی قیامت میں سب امور اور ان کے متعلقات اس کے حضور میں پیش ہوں گے۔ کقولہ تعالیٰ) (آیت) والیہ یرجع الامر کلہ) وہی ہے جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا زبردست رحمت والا جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی (یعنی جس مصلحت کے لئے اس کو بنایا اس کے مناسب بنایا) اور انسان (یعنی آدم ؑ کی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس (انسان یعنی آدم) کی نسل کو خلاصہ اخلاط یعنی ایک بےقدر پانی سے (یعنی نطفہ سے جو فضلہ ہے ہضم رابع غذا کا جس میں چار خلط خون، بلغم، سودا، صفرا بنتے ہیں) بنایا پھر (ماں کے رحم میں) اس کے اعضاء درست کئے اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور (بعد تولد) تم کو کان اور آنکھیں اور دل (یعنی ادراکات ظاہرہ و باطن) دیئے (اور ان سب باتوں کا جو کہ دال علی القدرة و الانعام ہیں مقتضا یہ تھا کہ خدا کا شکر کرتے جس کی فرد اعظم توحید ہے مگر) تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو (یعنی نہیں کرتے)
Ayahs 32:5–6

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

تدبیر سے اتارتا ہے کام آسمان سے زمین تک پھر چڑہتا ہے وہ کام اس کی طرف ایک دن میں جس کا پیمانہ ہزار برس کا ہے تمہاری گنتی میں

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہ ہے جاننے والا چھپے اور اور کھلے کا زبردست رحم والا

معارف و مسائل روز قیامت کا طول (آیت) فی یوم کان مقدار الف سنة مما تعدون، ”یعنی اس دن کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہوگی“ اور سورة معارج کی آیت میں ہے (آیت) فی یوم کان مقدار خمسین الف سنة، ”یعنی اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی“ اس کا ایک سیدھا سا جواب تو وہ ہے جو بیان القرآن میں اختیار کیا گیا ہے کہ اس دن کے ہولناک ہونے کے سبب یہ ان لوگوں کو بہت دراز محسوس ہوگا۔ اور یہ درازی بمقدار اپنے ایمان و اعمال کے ہوگی۔ جو بڑے مجرم ہیں ان کو زیادہ جو کم ہیں ان کو کم محسوس ہوگی، یہاں تک کہ جو دن بعض کو ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا وہ دوسروں کے نزدیک پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ تفسیر روح المعانی میں اور بھی متعدد توجیہات علماء اور صوفیاء کرام سے نقل کی گئی ہیں، مگر وہ سب کے سب قیاسات ہی ہیں۔ ایسی چیز جس کو قرآن کا مدلول کہا جاسکے یا جس پر یقین کیا جاسکے کوئی نہیں۔ اس لئے اسلم وہی طریقہ ہے جو سلف صالحین صحابہ وتابعین نے اختیار کیا، کہ اس ایک پچاس کے فرق کو علم الٰہی کے حوالہ کیا اور خود اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ ہمیں معلوم نہیں۔ حضرت ابن عباس نے اس کے متعلق فرمایا ہما یومان ذکرہما اللہ تعالیٰ فی کتابہ اللہ تعالیٰ اعلم بھما واکرہ ان اقول فی کتاب اللہ مالا اعلم (اخرجہ عبدالرزاق والحاکم وصححہ) ”یعنی یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے اور اللہ ہی ان کی حقیقت کو جانتا ہے اور میں اس کو برا سمجھتا ہوں کہ قرآن میں وہ بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں۔
Ayahs 32:7–9

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے خوب بنائی جو چیز بنائی اور شروع کی انسان کی پیدائش ایک گارے سے

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر بنائی اس کی اولاد نچڑے ہوئے بےقدر پانی سے

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس کو برابر کیا اور پھونکی اس میں اپنی ایک جان اور بنا دیئے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا شکر کرتے ہو۔

دنیا کی ہر چیز اپنی ذات میں حسن اور اچھی ہے برائی اس کے غلط استعمال سے آتی ہے (آیت) الذی احسن کل شئی خلقہ، یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے ہر چیز کی خلقت کو حسین اور بہتر بنایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس عالم میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا فرمایا وہ حکمت اور مصالح عالم کے اقتضا سے بنایا ہے۔ اس لئے ہر چیز اپنی ذات کے اعتبار سے ایک حسن رکھتی ہے۔ اور ان سب سے زیادہ حسین اور بہتر انسان کو بنایا ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا(آیت) لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ”یعنی ہم نے انسان کو سب سے زیادہ حسین تقویم اور بہتر شکل و صورت میں پیدا کیا ہے“ اور دوسری مخلوقات خواہ وہ ظاہر میں کتنی ہی قبیح اور بری سمجھی جاتی ہوں، کتا، خنزیر، سانپ، بچھو، شیر اور بھیڑیا یہ سب زہریلے اور درندے جانور عام نظروں میں برے سمجھے جاتے ہیں، مگر مجموعہ عالم کے مصالح کے اعتبار سے ان میں سے کوئی برا نہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں حضرت حکیم الامة نے فرمایا کہ کل شئی میں تمام جواہر اور اعراض داخل ہیں یعنی وہ چیزیں بھی جو وجود جوہری رکھتی ہیں جیسے حیوانات، نباتات، جمادات وغیرہ اور اعراض بھی جن میں اخلاق و اعمال بھی داخل ہیں۔ یہاں تک کہ جو اخلاق برے بتلائے جاتے ہیں جیسے غصہ، حرص، شہوت وغیرہ یہ بھی اپنی ذات میں برے نہیں، ان کی برائی غیر مصرف میں صرف کرنے اور بےمحل استعمال کرنے سے ہوتی ہے۔ اپنے محل میں رہیں تو ان میں کوئی چیز بری نہیں۔ لیکن مراد اس سے ان اشیاء کی جہت تخلیق وتکوین ہے کہ وہ خیر ہی خیر اور حسن ہی حسن ہے۔ اور اعمال کی دوسری جہت انسان کا کسب و اکتساب ہے، یعنی اپنے اختیار کو کسی کے کام کے کرنے میں صرف کرنا، تو اس حیثیت سے سب حسن نہیں، بلکہ ان میں تفصیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کی اجازت نہیں دی وہ حسن نہیں، قبیح ہیں۔ واللہ اعلم۔ (آیت) وبد اخلق الانسان من طیناس سے پہلے یہ بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم کی ہر چیز کو حسن بنایا ہے، اس کے بعد انسان کا ذکر فرمایا جو ان سب میں زیادہ حسین ہے۔ اس کے ساتھ کمال قدرت کے اظہار کے لئے یہ بھی بتلا دیا کہ جس انسان کو ہم نے سب مخلوق سے زیادہ بہتر بنایا ہے وہ یہ نہیں کہ اس کا مادہ تخلیق کچھ سب سے زیادہ اشرف و اعلیٰ اور بہتر لیا گیا، اس لئے سب سے بہتر ہوگیا۔ بلکہ مادہ تخلیق تو اس کا سب سے کمتر چیز یعنی منی کو بنایا گیا، پھر قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ نے اس کمترین چیز کو کہاں سے کہاں پہنچایا کہ اشرف المخلوقات قرار دیا گیا۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جب ہم رل گئے زمین میں کیا ہم کو نیا بننا ہے ؟ کچھ نہیں وہ اپنے رب کی ملاقات سے منکر ہیں

خلاصہ تفسیر اور یہ (کافر) لوگ کہتے ہیں کہ ہم جب زمین میں (مل جل کر) نیست و نابود ہوگئے، تو کیا ہم پھر (قیامت میں) نئے جنم میں آویں گے (اور یہ لوگ اس بعث و نشر پر صرف متعجب ہی نہیں ہیں جیسا کہ ظاہرا ان کے عنوان سے معلوم ہوتا ہے) بلکہ (درحقیقت) وہ لوگ اپنے رب سے ملنے کے منکر ہی ہیں (اور یہ استفہام ان کا انکاری ہے) آپ (جواب میں) فرما دیں کہ تمہاری جان موت کا فرشتہ قبض کرتا ہے جو تم پر (اللہ کی طرف سے) متعین ہے، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا کر لائے جاؤ گے (جواب میں اصل مقصود تو یہی ترجعون ہے، اور یتوفکم بیچ میں بڑھا دینا تخویف کے لئے ہے کہ موت بھی فرشتہ کے ذریعہ سے آئے گی جو جان نکلنے کے وقت تم کو مارے دھاڑے گا بھی جیسا دوسری آیت میں ہے۔ (آیت) ولو تریٰ اذ یتوفی الذین کفرو الملاکة یضربون وجوہہم وادبارہم الخ پس مر جانے کا انجام صرف خاک ہی میں مل جانا نہ ہوگا، جیسا تمہارا قول اذا اضللنا الخ سے معلوم ہوتا ہے) اور (اس رجوع کے وقت جس پر ترجعون دال ہے) اگر آپ (ان لوگوں کا حال) دیکھیں تو عجب حال دیکھیں جب کہ یہ مجرم لوگ (غایت شرمندگی سے) اپنے رب کے سامنے سر جھکائے (کھڑے) ہوں گے (اور کہتے ہوں گے) کہ اے ہمارے پروردگار بس (اب) ہماری آنکھیں اور کان کھل گئے (اور معلوم ہوگیا کہ پیغمبروں نے جو کچھ کہا سب حق تھا) سو ہم کو (دنیا میں) پھر بھیج دیجئے ہم (اب کے جا کے خوب) نیک کام کیا کریں گے (اب) ہم کو پورا یقین آ گیا اور (یہ کہنا ان کا بےکار محض ہوگا اس لئے کہ) اگر ہم کو (یہ) منظور ہوتا (کہ ضرور ہی یہ راہ پر آئیں) تو ہم ہر شخص کو اس (کی نجات) کا راستہ (مقصود تک پہنچا دینے کے درجہ میں ضرور) عطا فرماتے (جیسا کہ ہدایت بمعنی مطلوب کا راستہ دکھانا ان کو عطاء فرماتی ہے) لیکن میری (تو) یہ (ازلی تقدیری) بات (بہت سی حکمتوں سے) محقق ہوچکی ہے کہ میں جہنم کو جنات و انسان دونوں (میں جو کافر ہوں گے ان) سے ضرور بھروں گا (اور بیان بعض حکمتوں کا سورة ہود کے اخیر میں ایسی ہی آیت کی تفسیر میں گزرا ہے) تو (ان سے کہا جائے گا کہ) اب اس کا مزہ چکھو کہ تم اپنے اس دن کے آنے کو بھولے رہے، ہم نے تم کو بھلا دیا (یعنی رحمت سے محروم کردیا جس کو بھلانا مجازاً کہہ دیا) اور (ہم جو کہتے ہیں کہ مزہ چکھو، تو ایک دو روز کا نہیں بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ) اپنے اعمال (بد) کی بدولت ابدی عذاب کا مزہ چکھو (یہ تو کفار کا حال اور ان کا مآل ہوا۔ آگے مومنین کا حال اور مآل مذکور ہے، یعنی) بس ہماری آیتوں پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو وہ آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں (جس کی تحقیق سورة مریم کے رکوع چہارم میں ہوئی ہے) اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرنے لگتے ہیں اور وہ لوگ (ایمان سے) تکبر نہیں کرتے (جیسا کافر کا حال آیا ہے ولی متکبراً ، یہ تو ان کی تصدیق و اقرار و اخلاق کا حال تھا اور اعمال کا حال یہ ہے کہ شب کو) ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ ہوتے ہیں (خواہ فرض عشاء کے لئے یا تہجد کے لئے بھی اور اس سے سب روایتیں جمع ہوگئیں، اور خالی علیحدہ ہی نہیں ہوتے بلکہ) اس طور پر (علیحدہ ہوتے ہیں) کہ وہ لوگ اپنے رب کو (ثواب کی) امید سے اور (عذاب کے) خوف سے پکارتے ہیں (اس میں نماز اور دعا و ذکر سب آ گیا) اور ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہیں (مطلب یہ کہ ایمان لانے والوں کی یہ صفات ہیں جن میں بعض تو نفس ایمان کا موقوف علیہ ہیں اور بعض کمال ایمان کا) سو کسی شخص کو خبر نہیں جو جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ایسے لوگوں کے لئے خزانہ غیب میں موجود ہے، یہ ان کو ان کے اعمال (نیک) کا صلہ ملا ہے (اور جب فریقین کا حال اور مآل معلوم ہوگیا) تو (اب بتلاؤ) جو شخص مومن ہو کیا وہ اس شخص جیسا ہوجائے گا جو بےحکم (یعنی کافر) ہو (نہیں) وہ آپس میں (نہ حالاً نہ مالٓا) برابر نہیں ہو سکتے (چنانچہ معلوم بھی ہوا ہے، اور خاص مآل میں برابر نہ ہونے کی تفصیل تاکید کے لئے پھر بھی سن لو کہ) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے، سو ان کے لئے ہمیشہ کا ٹھکانہ جنتیں ہیں، جو ان کے اعمال (نیک) کے بدلہ میں بطور ان کی مہمانی کے ہیں (یعنی مثل مہمان کے ان کو یہ چیزیں اکرام کے ساتھ ملیں گی نہ کہ سائل محتاج کی طرح بےقدری اور بےوقعتی کے ساتھ) اور جو لوگ بےحکم تھے سو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ لوگ جب اس سے باہر نکلنا چاہیں گے (اور کنارہ کی طرف کو بڑھیں گے گو بوجہ گہرائی کے اور دروازوں کے قفل ہونے کے نکل نہ سکیں گے، مگر ایسے وقت میں یہ حرکت طبعی ہوتی ہے) تو پھر اسی میں دھکیل دیئے جائیں گے، اور ان کو کہا جائے گا کہ دوزخ کا وہ عذاب چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے، (اور یہ عذاب موعود تو آخرت میں ہوگا) اور ہم ان کو قریب کار (یعنی دنیا میں آنے والا) عذاب بھی اس بڑے عذاب (موعود فی الآخرة) سے پہلے چکھا دیں گے (جیسے امراض و اسقام و مصائب کذا فی الدر مرفوعاً وموقوفاً ، کیونکہ امراض و آفات حسب تصریح قرآن اکثر اعمال بد کے سبب آتے ہیں) تاکہ یہ لوگ (متاثر ہو کر کفر سے) باز آئیں (کقولہ تعالیٰ ظہر الفساد (الیٰ) یرجعون، پھر جو باز نہ آئے اس کے لئے عذاب اکبر ہے ہی) اور (ایسے لوگوں پر عذاب ہونے سے کچھ تعجب نہ ہونا چاہئے کیونکہ) اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جس کو اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں پھر وہ ان سے اعراض کرے (تو اس کے استحقاق عذاب میں کیا شبہ ہے، اس لئے) ہم ایسے مجرموں سے بدلہ لیں گے۔
Ayahs 32:11–15

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

تو کہہ قبض کرلیتا ہے تم کو فرشتہ موت کا جو تم پر مقرر ہے پھر اپنے رب کی طرف پھر جاؤ گے

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور کبھی تو دیکھے جس وقت کو منکر سر ڈالے ہوئے ہوں گے اپنے رب کے سامنے اے رب ہمارے ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو بھیج دے کہ ہم کریں بھلے کام ہم کو یقین آ گیا

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو سمجھا دیتے ہر جی کو اس کی راہ لیکن ٹھیک پڑچکی میری کہی بات کہ مجھ کو بھرنی ہے دوزخ جنوں سے اور آدمیوں سے اکٹھے

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو اب چکھو مزہ جیسے تم نے بھلا دیا تھا اس اپنے دن کے ملنے کو ہم نے بھی بھلا دیا تم کو اور چکھو عذاب سدا کا عوض اپنے کئے کا

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری باتوں کو وہی مانتے ہیں کہ جب ان کو سمجھائے ان سے گر پڑیں سجدہ کر کر اور پاک ذات کو یاد کریں اپنے رب کی خوبیوں کے ساتھ اور وہ بڑائی نہیں کرتے

معارف و مسائل (آیت) قل یتو فکم ملک الموت الذی وکل بکم، اس سے پہلی آیت میں منکرین قیامت کو تنبیہ اور ان کے اس استعجاب کا جواب تھا کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے، اس آیت میں اس کا بیان ہے کہ اپنی موت پر دھیان دو اور غور کرو تو وہ خود حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر ہے، تم اپنی غفلت و جہل سے سمجھتے ہو کہ انسان کی موت خود بخود آجاتی ہے، بات یہ نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک تمہاری موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور اس کے لئے فرشتوں کا ایک خاص نظام ہے۔ جن میں بڑے عزرائیل ؑ ہیں کہ ساری دنیا کی موت ان کے انتظام میں دی گئی ہے۔ جس شخص کی جس وقت، جس جگہ موت مقدر ہے ٹھیک اسی وقت وہ اس کی روح قبض کرتے ہیں۔ آیت مذکورہ میں اسی کا بیان ہے اور اس میں ملک الموت بلفظ مفرد ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد عزرائیل ؑ ہیں۔ اور ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے (آیت) الذین تتو فھم الملاکة۔ اس میں ملائکہ بلفظ جمع لایا گیا ہے، اس میں اشارہ ہے کہ عزرائیل ؑ تنہا یہ کام انجام نہیں دیتے، ان کے ماتحت بہت سے فرشتے اس میں شریک ہوتے ہیں۔ قبض روح اور ملک الموت کے متعلق بعض تفصیلات امام تفسیر مجاہد نے فرمایا کہ ساری دنیا ملک الموت کے سامنے ایسی ہے جیسے کسی انسان کے سامنے ایک کھلے طشت میں دانے پڑے ہوں، وہ جس کو چاہے اٹھا لے۔ یہ مضمون ایک مرفوع حدیث میں بھی آیا ہے (ذکرہ القرطبی فی التذکرہ) اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ ایک انصاری صحابی کے سرہانے ملک الموت کو دیکھا تو فرمایا کہ میرے صحابی کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو۔ ملک الموت نے جواب دیا کہ آپ مطمئن رہیں، میں ہر مومن کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتا ہوں اور فرمایا کہ جتنے آدمی شہروں میں یا دیہات اور جنگلوں پہاڑوں میں یا دریا میں آباد ہیں) میں ان میں سے ہر ایک کو دن میں پانچ مرتبہ دیکھتا ہوں۔ اس لئے میں ان کے ہر چھوٹے بڑے سے بلاواسطہ واقف ہوں۔ پھر فرمایا کہ اے محمد ﷺ یہ جو کچھ ہے اللہ کے حکم سے ہے ورنہ میں اگر ایک مچھر کی روح بھی قبض کرنا چاہوں تو مجھے اس پر قدرت نہیں، جب تک اللہ تعالیٰ ہی کا امر اس کے لئے نہ آجائے۔ کیا جانوروں کی روح ملک الموت قبض کرتے ہیں مذکورہ روایت حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھر کی روح بھی باذن خداوندی ملک الموت ہی قبض کرتے ہیں۔ حضرت امام مالک نے ایک سوال کے جواب میں یہی فرمایا ہے، مگر بعض دوسری روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے کے ذریعہ قبض روح انسان کے لئے مخصوص ہے، اس کی شرافت و کرامت کے لئے باقی جانور باذن خداوندی بغیر واسطہ فرشتے کے مر جائیں گے (ذکرہ ابن عطیہ از قرطبی) یہی مضمون ابوالشیخ، عقیلی، دیلمی وغیرہ نے حضرت انس کی روایت سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہائم اور حشرات الارض سب کے سب اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتے ہیں (یہی ان کی زندگی ہے) جب ان کی تسبیح ختم ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی روح قبض فرما لیتا ہے، جانوروں کی موت ملک الموت کے سپرد نہیں۔ اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت ابن عمر سے بھی روایت کی گئی ہے۔ (مظہری) اور ایک روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عزرائیل ؑ کے سپرد ساری دنیا کی موت کا معاملہ کیا تو انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! آپ نے مجھے ایسی خدمت سپرد کی کہ ساری دنیا اور سب بنی آدم مجھے برا کہیں گے اور جب میرا ذکر آئے گا برائی سے کریں گے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اس کا تدارک اس طرح کردیا ہے کہ دنیا میں موت کے کچھ ظاہری اسباب اور امراض رکھ دیئے ہیں جن کے سبب سب لوگ موت کو ان اسباب وامراض کی طرف منسوب کریں گے آپ ان کی بدگوئی سے محفوظ رہیں گے۔ (قرطبی فی التفیر والتذکرہ) اور امام بغوی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جتنے امراض اور درد اور زخم وغیرہ ہیں وہ سب موت کے قاصد ہیں، انسان کو اس کی موت یاد دلاتے ہیں، پھر جب موت کا وقت آجاتا ہے تو ملک الموت مرنے والے کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اے بندہ خدا میں نے اپنے آنے سے پہلے کتنی خبریں، کتنے قاصد یکے بعد دیگرے تجھے خبردار کرنے اور موت کی تیاری کرنے کے لئے بصورت امراض و حوادث بھیجے ہیں۔ اب میں آپہنچا۔ جس کے بعد کوئی اور خبر دینے والا یا کوئی قاصد نہیں آئے گا اب تم اپنے رب کے حکم کو لامحالہ مانو گے خواہ خوشی سے یا مجبوری سے۔ (مظہری) مسئلہ ملک الموت کسی کی موت کا وقت پہلے سے نہیں جانتا، جب تک کہ اس کو حکم نہ دیا جائے کہ فلاں کی روح قبض کرلو۔ (اخرجہ احمد وابن ابی الدنیا عن معمر، مظہری)
Ayahs 32:16–20

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

جدا رہتی ہیں ان کی کروٹیں اپنے سونے کی جگہ سے پکارتے ہیں اپنے رب کو ڈر سے اور لالچ سے اور ہمارا دیا ہوا کچھ خرچ کرتے ہیں

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

سو کسی جی کو معلوم نہیں جو چھپا دھری ہے ان کے واسطے آنکھوں کی ٹھنڈک بدلہ اس کا جو کرتے تھے

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا ایک جو ہے ایمان پر کیا برابر ہے اس کے جو نافرمان ہے ؟ نہیں برابر ہوتے

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

سو وہ لوگ جو یقین لائے اور کئے کام بھلے تو ان کے لئے باغ ہیں رہنے کے مہمانی ان کاموں کی وجہ سے جو کرتے تھے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو نافرمان ہوئے سو ان کا گھر ہے آگ جب چاہیں کہ نکل پڑیں اس میں سے الٹا دیئے جائیں پھر اسی میں اور کہیں ان کو چکھو آگ کا عذاب جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

(آیت) تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفاً وطمعاً ، سابقہ آیات میں کفار و مشرکین و منکرین قیامت کو تنبہات تھیں۔ اس کے بعد (انما یومن بایتنا) سے مومنین مخلصین کی خاص صفات اور ان کے لئے درجات عظیمہ کا ذکر ہے۔ ان مومنین کی ایک صفت آیت مذکورہ میں یہ بتلائی گئی ہے کہ ان کے پہلو اپنے بستروں سے الگ ہوجاتے ہیں، اور بستروں سے اٹھ کر اللہ کے ذکر اور دعا میں مشغول ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اللہ کی ناراضی اور عذاب سے ڈرتے ہیں، اور اس کی رحمت اور ثواب کے امیدوار رہتے ہیں۔ یہی امید وبیم کی ملی جلی حالت ان کو ذکر و دعاء کیلئے مضطرب رکھتی ہے۔ نماز تہجد بستروں سے اٹھ کر دعاء میں مشغول ہوجانے سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک نماز تہجد اور نوافل ہیں جو سو کر اٹھنے کے بعد پڑھی جاتی ہیں (ہو قول الحسن و مجد ومالک وزاعی) اور روایات حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ مسند احمد، ترمذی، نسائی وغیرہ میں حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھا۔ ایک روز میں دوران سفر میں صبح کے وقت آپ کے قریب ہوا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتلا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرے اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے ایک بڑی چیز کا سوال کیا مگر جس کے لئے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اس کو وہ آسان ہوجاتی ہے۔ اور فرمایا کہ وہ عمل یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ اور پھر فرمایا کہ لو اب میں تمہیں خیر یعنی نیکی کے ابواب بتلا دیتا ہوں (وہ یہ ہیں کہ) روزہ ڈھال ہے (جو عذاب سے بچاتا ہے) اور صدقہ آدمی کے گناہوں کی آگ بجھا دیتا ہے، اسی طرح آدمی کی نماز درمیان شب میں۔ اور یہ فرما کر قرآن مجید کی آیت مذکورہ تلاوت فرمائی۔ (آیت) تتجافی جنوبہم عن المضاجع۔ حضر ابو الدرداء اور قتادہ اور ضحاک نے فرمایا کہ پہلوؤں کے بستروں سے الگ ہوجانے کی یہ صفت ان لوگوں پر بھی صادق ہے جو عشاء کی نماز جماعت سے ادا کریں پھر صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھیں۔ اور ترمذی میں بسند صحیح حضرت انس سے روایت ہے کہ یہ تتجافی جنوبہم عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور جماعت عشاء کا انتظار کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت ان لوگوں سے متعلق ہے جو مغرب اور عشاء کے درمیان نوافل پڑھتے ہیں۔ (رواہ محمد بن نصر) اور حضرت ابن عباس نے اس آیت کے متعلق فرمایا کہ جو لوگ جب آنکھ کھلے اللہ کا ذکر کریں لیٹے، بیٹھے اور کروٹ پر بھی وہ اس میں داخل ہیں۔ ابن کثیر اور دوسرے ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ ان سب اقوال میں کوئی تضاد نہیں، صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ان سب کو شامل ہے۔ اور آخر شب کی نماز ان سب میں اعلیٰ و افضل ہے۔ بیان القرآن میں بھی اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ اور حضرت اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو قیامت کے روز جمع فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک منادی کھڑا ہوگا جس کی آواز تمام مخلوقات سنیں گی وہ ندا دے گا کہ اہل محشر آج جان لیں گے کہ اللہ کے نزدیک کون لوگ عزت و اکرام کے مستحق ہیں۔ پھر وہ فرشتہ ندا دے گا کہ اہل محشر میں سے وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوں جن کی صفت یہ تھی (آیت) تتجافی جنوبہم عن المضاجع یعنی ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوجاتے ہیں، اس آواز پر یہ لوگ کھڑے ہوں گے جن کی تعداد قلیل ہوگی (ابن کثیر) اور اسی روایت کے بعض الفاظ میں ہے کہ یہ لوگ بغیر حساب کے جنت میں بھیج دیئے جائیں گے۔ اس کے بعد اور تمام لوگ کھڑے ہوں گے، ان سے حساب لیا جائے گا۔ (مظہری)
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور البتہ چکھائیں گے ہم ان کو تھوڑا عذاب ورے اس بڑے عذاب کے تاکہ وہ پھر آئیں

(آیت) ولنذ یقنہم من العذاب الادنیٰ دون العذاب الاکبر، لعلہم یرجون، ادنیٰ بمعنی اقرب ہے، اور عذاب ادنیٰ سے مراد دنیا کے مصائب و آفات اور امراض وغیرہ ہیں، اور عذاب اکبر سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ دنیا کے مصائب ان لوگوں کے لئے رحمت ہیں جو اللہ کی طرف رجوع کریں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو ان کے گناہوں پر متنبہ کرنے کے لئے دنیا میں ان پر امراض اور مصائب و آفات مسلط کردیتے ہیں، تاکہ یہ متنبہ ہو کر اپنے گناہوں سے باز آجائیں اور آخرت کے عذاب اکبر سے نجات پائیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ گنہگاروں کے لئے دنیا کے مصائب و آفات اور امراض و تکالیف بھی ایک قسم کی رحمت ہی ہیں کہ غفلت سے باز آ کر عذاب آخرت سے بچ جائیں۔ البتہ جو لوگ آفات پر بھی اللہ کی طرف رجوع نہ ہوں ان کے لئے یہ دوہرا عذاب ہوجاتا ہے، ایک اسی دنیا میں نقد اور دوسرا آخرت کا عذاب اکبر۔ اور انبیاء و اولیاء اللہ پر جو آفات و مصائب آتے ہیں ان کا معاملہ ان سب سے الگ ہے، وہ ان کے امتحان اور امتحان کے ذریعہ رفع درجات کے لئے ہوتے ہیں، اور پہچان اس کی یہ ہے کہ ان لوگوں کو امراض و آفات کے وقت بھی ایک قسم کا قلبی سکون و اطمینان اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور کون بےانصاف زیادہ اس سے جو سمجھایا گیا اس کے رب کی باتوں سے پھر ان سے منہ موڑ گیا مقرر ہم کو ان گنہگاروں سے بدلہ لینا ہے۔

بعض جرائم کی سزا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ملتی ہے انا من المجرمین منتقمون، بظاہر لفظ مجرمین میں ہر قسم کے مجرم شامل ہیں اور انتقام بھی عام ہے خواہ دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں میں۔ مگر بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تین گناہ ایسے ہیں کہ ان کی سزا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ملی ہے۔ ایک حق کے خلاف جھنڈوں اور نعروں کے ساتھ اعلاناً کوشش کرنا، دوسرے والدین کی نافرمانی، تیسرے ظالم کی امداد۔ (رواہ ابن جریر عن معاذ بن جبل)
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے دی ہے موسیٰ کو کتاب سو تو مت رہ دھوکے میں اس کے ملنے سے اور کیا ہم نے اس کو ہدایت بنی اسرائیل کے واسطے

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ ؑ کو (آپ ہی کی طرح) کتاب دی تھی (جس کی اشاعت میں ان کو تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں، اسی طرح آپ کو بھی برداشت کرنا چاہئے، ایک تسلی تو یہ ہوئی، پھر اسی طرح آپ کو بھی کتاب دی) سو آپ (اپنی) اس (کتاب) کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجئے۔ (کقولہ تعالیٰ (آیت) وانک لتلقی القرآن، مطلب یہ کہ آپ صاحب کتاب صاحب خطاب ہیں پس جب آپ اللہ کے نزدیک ایسے مقبول ہیں تو اگر مشتے چند احمق آپ کو قبول نہ کریں تو کوئی غم کی بات نہیں، ایک تسلی کی بات یہ ہوئی) اور ہم نے اس (کتاب موسیٰ) کو بنی اسرائیل کے لئے موجب ہدایت بنایا تھا (اسی طرح آپ کی کتاب سے بہتوں کو ہدایت ہوگی، آپ خوش رہئے، ایک تسلی یہ ہوئی) اور ہم نے ان (بنی اسرائیل) میں بہت سے (دین کے) پیشوا بنا دیئے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے، جبکہ وہ لوگ (تکلیف پر) صبر کئے رہے، اور ہماری آیتوں کا یقین رکھتے تھے (اس لئے ان کی اشاعت اور خلق کی ہدایت میں مشقت گوارا کرتے تھے، یہ تسلی ہے مومنین کو کہ تم لوگ صبر کرو، اور جب تم صاحب یقین ہو اور یقین کا مقتضا صبر کرنا ہے تو تم کو صبر ضروری ہے، اس وقت ہم تم کو بھی ائمہ دین بنادیں گے یہ تو تسلی دنیا کے اعتبار سے ہے اور ایک تسلی آخرت کے اعتبار سے تم کو رکھنا چاہئے اور وہ امر موجب تسلی یہ ہے کہ) آپ کا رب قیام کے روز ان سب کے آپس میں (عملی) فیصلہ ان امور میں کر دے گا جن میں یہ باہم اختلاف کرتے تھے (یعنی مومن کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں ڈال دے گا اور قیامت بھی کچھ دور نہیں، اس سے بھی تسلی حاصل کرنا چاہئے اور اس مضمون کو سن کر کفار دو شبہ کرسکتے تھے، ایک یہ کہ ہم اس کو نہیں مانتے کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارا کفر پسند ہے جیسا یفصل سے مفہوم ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم قیامت ہی کو ناممکن سمجھتے ہیں، آگے دونوں کے دفع کے لئے دو مضمون ہیں، اول یہ کہ ان کو جو کفر کے مبغوض ہونے میں شبہ ہے تو) کیا ان کو یہ امر موجب رہنمائی نہیں ہوا کہ ہم ان سے پہلے (ان کے کفر و شرک ہی کے سبب) کتنی امتیں ہلاک کرچکے ہیں (کہ ان کے طریق ہلاکت سے وہ نیز نبی کی پیشن گوئی کے بعد بطور خرق عادت کے واقع ہونے سے خدا کا غضب ٹپکتا تھا جس سے مبغوض ہونا کفر کا صاف واضح ہوتا ہے) جن کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ (اثنائے سفر شام میں) آتے جاتے (گزرتے) ہیں اس (امر) میں (تو) صاف نشانیاں (مبغوضیت کفر کی موجود) ہیں کیا یہ لوگ (ان گزشتہ امم کے قصص) سنتے نہیں ہیں (کہ مشہور ہیں اور زبانوں پر مذکور ہیں دوسرا مضمون یہ کہ ان کو جو قیامت میں شبہ عدم امکان کا ہے تو) کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم (بادلوں یا نہروں وغیرہ کے ذریعہ سے) خشک زمین کی طرف پانی پہنچاتے ہیں پھر اس کے ذریعہ سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس سے ان کے مواشی اور وہ خود بھی کھاتے ہیں تو کیا (اس بات کو شب وروز) دیکھتے نہیں ہیں (یہ صاف نمونہ ہے مر کز زندہ ہونے کا، جیسا کئی جگہ اس کی تقریر گزری ہے، پس دونوں شبہ رفع ہوگئے) اور یہ لوگ (قیامت اور فیصلہ کا ذکر سن کر بطور استعجال و استہزا کے یوں) کہتے ہیں کہ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو تو (بتلاؤ) یہ فیصلہ کب ہوگا، آپ فرما دیجئے کہ (تم عبث اس کا تقاضا کرتے ہو تمہارے لئے تو وہ پوری مصیبت کا دن ہے کیونکہ) اس فیصلہ کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا (بالکل) نفع نہ دے گا (اور یہی ایک صورت ان کے بچاؤ کی تھی اور وہی مفقود ہے) اور (نفع نجات تو کیا ہوتا) ان کو مہلت بھی (تو) نہ ملے گی سو (اے پیغمبر ﷺ ان کی باتوں کا خیال نہ کیجئے (جن کے خیال سے غم ہوتا ہے) اور آپ (فیصلہ موعود کے) منتظر رہئے یہ بھی (اپنے زعم میں آپ کے ضرر کے) منتظر ہیں (کقولہم (آیت) نتربص بہ ریب المنون، مگر معلوم ہوجائے گا کس کا انتظار مطابق واقع کے ہے اور کس کا نہیں، کقولہ تعالیٰ فی جوابہم (آیت) قل تربصوا فانی معکم من المتربصین۔ معارف و مسائل (آیت) فلاتکن فی مریة من لقاہ، لقاء کے معنی ملاقات کے ہیں، اس آیت میں کس کی ملاقات کس سے مراد ہے ؟ اس میں اہل تفسیر کے اقوال مختلف ہیں، ان میں ایک وہ ہے جس کو خلاصہ تفسیر میں اختیار کیا گیا ہے، کہ لقاہ کی ضمیر کتاب یعنی قرآن کی طرف راجع قرار دے کر مطلب یہ لیا گیا کہ جس طرح موسیٰ ؑ کو اللہ نے کتاب دی آپ بھی اپنی کتاب کے آنے میں کوئی شک نہ کریں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں قرآن کے متعلق ایسے الفاظ آئے ہیں (آیت) و انک لتلقی القرآن۔ اور حضرت ابن عباس اور قتادہ سے اس کی تفسیر اس طرح منقول ہے کہ لقاہ کی ضمیر حضرت موسیٰ ؑ کی طرف راجع ہے، اور اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات موسیٰ ؑ کے ساتھ ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ اور فرمایا ہے کہ آپ اس میں شک نہ کریں کہ آپ کی ملاقات موسیٰ ؑ سے ہوگی۔ چناچہ ایک ملاقات شب معراج میں ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، پھر قیامت میں ملاقات ہونا بھی ثابت ہے۔ اور حضرت حسن بصری نے اس کی یہ تفسیر فرمائی ہے کہ جس طرح موسیٰ ؑ کو کتاب دی گئی اور لوگوں نے اس کی تکذیب کی اور ان کو ستایا۔ آپ بھی یقین رکھیں کہ یہ سب چیزیں آپ کو بھی پیش آئیں گی۔ اس لئے آپ کفار کی ایذاؤں سے دلگیر نہ ہوں بلکہ اس کو سنت انبیاء سمجھ کر برداشت کریں۔
Ayahs 32:24–26

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور کئے ہم نے ان میں پیشوا جو راہ چلاتے تھے ہمارے حکم سے جب وہ صبر کرتے رہے اور رہے ہماری باتوں پر یقین کرتے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

تیرا رب جو ہے وہی فیصلہ کرے گا ان میں دن قیامت کے جس بات میں کہ وہ اختلاف کرتے تھے

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کو راہ نہ سوجھی اس بات سے کہ کتنی غارت کر ڈالیں ہم نے ان سے پہلے جماعتیں کہ پھرتے ہیں یہ ان کے گھروں میں اس میں بہت نشانیاں ہیں کیا وہ سنتے نہیں ؟

کسی قوم کا مقتداء و امام بننے کے لئے دو شرطیں (آیت) وجعلنا منہم ائمة تہدون بامرنا لما صبروا اوکانوا بایتنا یوقنون، ”یعنی ہم نے بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگوں کو امام اور پیشوا و مقتداء بنادیا جو اپنے پیغمبر کے نائب ہونے کی حیثیت سے باذن ربانی لوگوں کو ہدایت کیا کرتے تھے، جبکہ انہوں نے صبر کیا اور جبکہ وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے ہیں۔“ اس آیت میں علماء بنی اسرائیل میں سے بعض کو امامت و پیشوائی کا درجہ عطا فرمانے کے دو سبب ذکر فرمائے ہیں، اول صبر کرنا، دوسرے آیات الہیہ پر یقین کرنا۔ صبر کرنے کا مفہوم عربی زبان کے اعتبار سے بہت وسیع اور عام ہے۔ اس کے لفظی معنی باندھنے اور ثابت رہنے کے ہیں۔ اس جگہ صبر سے مراد احکام آلہیہ کی پابندی پر ثابت قدم رہنا اور جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام یا مکروہ قرار دیا ہے ان سے اپنے نفس کو روکنا ہے جس میں تمام احکام شریعت کی پابندی آجاتی ہے اور یہ بہت بڑا عملی کمال ہے۔ دوسرا سبب ان کا آیات آلہیہ پر یقین رکھنا ہے۔ اس میں آیات کے مفہوم کو سمجھنا پھر سمجھ کر اس پر یقین کرنا دونوں داخل ہیں، یہ بہت بڑا کمال علمی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ امامت و پیشوائی کے لائق اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہ لوگ ہیں جو عمل میں بھی کامل ہوں اور علم میں بھی، اور یہاں عملی کمال کو علمی کمال سے مقدم بیان فرمایا ہے کہ ترتیب طبعی میں علم عمل سے مقدم ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ علم قابل اعتبار ہی نہیں جس کے ساتھ عمل نہ ہو۔ ابن کثیر نے بعض علماء کا قول اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ بالصبر والیقین تنال الامامہ فی الین، ”یعنی صبر اور یقین ہی کے ذریعہ دین میں کسی کی امامت کا درجہ مل سکتا ہے۔“
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا دیکھا نہیں انہوں نے کہ ہم ہانک دیتے ہیں پانی کو ایک زمین چٹیل کی طرف پھر ہم نکالتے ہیں اس سے کھیتی کہ کھاتے ہیں ان میں سے ان کے چوپائے اور خود وہ بھی پھر کیا دیکھتے نہیں ؟

(آیت) اولم یرو انا نسوق الماء الی الارض الجرز فنخرج بہ زرعاً ، ”یعنی کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم خشک زمین کی طرف پانی کو (بعض مواقع میں) زمین پر چلا کرلے جاتے ہیں، جس سے ان کی کھیتیاں اگتی ہیں“ جرز خشک زمین کو کہتے ہیں جس میں درخت نہیں اگتے۔ زمین کی آب پاشی کا ایک خاص حکیمانہ نظام خشک زمین کو سیراب کرنے اور اس میں نباتات اگانے کا ذکر قرآن کریم میں جا بجا اس طرح آیا ہے کہ اس زمین پر بارش برستی ہے، اس سے زمین تروتازہ ہو کر اگانے کے قابل ہوجاتی ہے۔ مگر اس آیت میں بارش کے بجائے پانی کو زمین پر چلا کر خشک زمین کی طرف لے جانے اور اس سے درخت اگانے کا ذکر فرمایا ہے۔ یعنی بارش کسی دوسری زمین پر نازل کی جاتی ہے وہاں سے ندی نالوں کے ذریعہ زمین پر چلا کر پانی کو خشک زمین کی طرف لے جایا جاتا ہے جہاں بارش نہیں ہوتی۔ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ بعض زمینیں ایسی خام اور نرم ہوتی ہیں جو بارش کی متحمل نہیں ہوتیں، اگر وہاں پوری بارش برسائی جائے تو عمارتیں منہدم ہوجائیں، درخت اکھڑ جائیں۔ اس لئے قدرت نے ایسی زمینوں کے لئے یہ نظام بنایا ہے کہ بارش تو اس زمین پر نازل کی جاتی ہے جو اس کی متحمل ہے، پھر یہاں سے پانی بہا کر ایسی زمینوں کی طرف لے جایا جاتا ہے جو بارش کی متحمل نہیں، جیسے مصر کی زمین ہے۔ اور بعض مفسرین نے یمن اور شام کی بعض زمینوں کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ (کما روی عن ابن عباس و الحسن) اور صحیح یہ ہے کہ یہ مضمون ایسی تمام زمینوں کو شامل ہے، اور مصر کی زمین خصوصیت سے اس میں شامل ہے، جہاں بارش بہت کم ہوتی ہے۔ مگر بلاد حبشہ افریقہ کی بارشوں کا پانی دریائے نیل کے ذریعہ مصر میں آتا ہے اور وہاں کی سرخ مٹی ساتھ لاتا ہے جس میں انبات کا مادہ زیادہ ہے۔ اس لئے مصر کے لوگ اپنے ملک میں بارش نہ ہونے کے باوجود ہر سال نئے پانی اور نئی مٹی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ فیصلہ اگر تم سچے ہو

(آیت) ویقولون متیٰ ھذا الفتح، ”یعنی کفار یہ کہتے ہیں کہ وہ فتح کب ہو گی“ جس کا آپ ذکر کرتے ہیں کہ مومنین کو کفار پر غلبہ ہوگا، ہمیں تو کہیں اس کے آثار نظر نہیں آتے، ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ مسلمان خائف ہیں، چھپتے پھرتے ہیں۔
Ayahs 32:29–30

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

تو کہہ کہ فیصلہ کے دن کام نہ آئے گا منکروں کو ان کا ایمان لانا اور نہ ان کو ڈھیل ملے گی

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو تو خیال چھوڑ ان کا اور منتظر رہ وہ بھی منتظر ہیں۔

اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا(آیت) قل یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ایمانہم، ”یعنی آپ ان کے جواب میں یہ کہہ دیجئے تم ہماری فتح کا دن ہم سے کیا پوچھتے ہو وہ دن تو تمہاری مصیبت کا ہوگا کیونکہ جس وقت ہماری فتح ہوگی تو اس وقت تم عذاب میں گرفتار ہوچکے ہو گے، خواہ دنیا میں جیسے غزوہ بدر میں ہوا یا آخرت میں۔ اور جب اللہ کا عذاب کسی کو پکڑ لیتا ہے پھر اس کا ایمان قبول نہیں ہوتا۔ کذا ذکرہ ابن کثیر۔ اور بعض حضرات نے اس جگہ متیٰ ھذا الفتح کے معنی روز قیامت کے کئے ہیں۔ اوپر خلاصہ تفسیر میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔