34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsمعارف القرآن

Ayah 34:34

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا مگر کہنے لگے وہاں کے آسودہ لوگ جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا ہم اس کو نہیں مانتے

خلاصہ تفسیر اور (اے پیغمبر ﷺ ان لوگوں کے اقوال ضلالت و اقوال جہالت سے آپ مغموم نہ ہوں، کیونکہ یہ معاملہ انوکھا آپ ہی کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ) ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈر سنانے والا (پیغمبر) نہیں بھیجا، مگر وہاں کے خوش حال لوگوں نے (ان کفار معاصرین کی طرح) یہی کہا کہ ہم تو ان احکام کے منکر ہیں جو تم کو دے کر بھیجا گیا ہے، اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم مال اور اولاد میں تم سے زیادہ ہیں، (کما قال فی الکہف (آیت) انا اکثر منک مالاً واعز نفراً) اور (یہ دلیل ہے ہمارے مکرم و مقبول عنداللہ ہونے کی پس) ہم کو کبھی عذاب نہ ہوگا اور یہی بات کفار مکہ کہتے ہیں کما قال تعالیٰ (آیت) قال الذین کفرو اللذین امنوا ای الفریقین خیر مقاماً ، پس غم نہ کیجئے، البتہ ان کے قول کو رد کیجئے اور ان سے یوں) کہہ دیجئے کہ (وسعت رزق کا مدار قبول عنداللہ نہیں ہے، بلکہ محض مشیت ہے، چنانچہ) میرا پروردگار جس کو چاہتا ہے زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے (اور اس میں حکمتیں ہوتی ہیں) لیکن اکثر لوگ (اس سے) واقف نہیں (کہ مدار اس کا دوسری مصلحتوں پر ہے قبولیت عند اللہ پر نہیں ہے) اور (اے کفار یہ بھی سن رکھو کہ جس طرح تمہارے اموال واولاد دلیل و علامت قرب عند اللہ کے نہیں اس طرح) تمہارے اموال و اولاد ایسی چیزیں نہیں جو تم کو درجہ میں ہمارا مقرب بنا دے (یعنی موثر و علت قرب کی بھی نہیں پس نہ اموال واولاد قبولیت پر مرتب ہیں، اور نہ اموال واولاد پر قبولیت مرتب ہے) ہاں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے (یہ دونوں چیزیں البتہ سبب قرب ہیں) سو ایسے لوگوں کے لئے ان کے (نیک) عمل کا دونا صلہ ہے (یعنی عمل سے زیادہ خواہ دونے سے بھی زیادہ لقولہ تعالیٰ (آیت) من جاء بالحسنہ فلہ عشر امثالہا) اور وہ (بہشت کے) بالاخانوں میں چین سے (بیٹھے) ہوں گے اور جو لوگ (ان کے خلاف محض اموال واولاد پر مغرور ہیں اور ایمان و عمل صالح کو اختیار نہیں کرتے بلکہ وہ) ہماری آیتوں کے متعلق (ان کے ابطال کی) کوشش کر رہے ہیں (نبی کو) ہرانے کے لئے ایسے لوگ عذاب میں لائے جائیں گے۔ معارف و مسائل دنیا کی دولت وعزت کو مقبولیت عند اللہ کی دلیل سمجھنے کا قدیم شیطانی فریب ابتداء دنیا سے دنیا کی دولت اور عیش و عشرت کے نشہ میں مخمور ہونے والوں نے ہمیشہ حق کی آواز کی مخالفت اور انبیاء وصلحاء سے عداوت کا طریقہ اختیار کیا ہے، الا ماشاء اللہ، اس پر طرہ یہ کہ وہ اہل حق کے مقابلہ میں اپنی موجودہ حالت پر مگن اور مطمئن ہونے کی یہ دلیل بھی دیتے تھے کہ اگر ہمارے اعمال و عادات اللہ کو پسند نہ ہوتے تو ہمیں دنیا کی دولت، عزت، حکومت کیوں دیتے ؟ قرآن کریم نے اس کا جواب متعدد آیات میں مختلف عنوانات سے دیا ہے۔ آیات مذکورہ کا نزول بھی اسی طرح کے ایک واقعہ سے متعلق اور اس لغو دلیل کا جواب ہے۔ حدیث میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں دو شخص ایک کاروبار میں شریک تھے، پھر ان میں سے ایک یہ جگہ چھوڑ کر کسی ساحلی علاقہ میں چلا گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے، آپ کی نبوت و رسالت کا چرچا ہوا تو ساحلی ساتھی نے مکی ساتھی کو خط لکھ کر دریافت کیا کہ ان کے دعوائے نبوت کا تم لوگوں نے کیا اثر لیا ؟ اس پر مکی ساتھی نے جواب لکھا کہ قریش میں سے تو کوئی بھی ان کا تابع نہیں ہوا۔ صرف غریب مسکین بےحیثیت لوگ ان کے پیچھے لگے ہیں۔ ساحلی ساتھی وہاں کی اپنی تجارت چھوڑ کر مکہ مکرمہ آیا اور اپنے ساتھی سے کہا کہ مجھے ان کا پتہ بتلاؤ، جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ ساحلی ساتھی کچھ کتب قدیمہ تورات و انجیل وغیرہ کا مطالعہ کیا کرتا تھا، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور دریافت کیا کہ آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ؟ آپ نے اپنی دعوت اسلام کے اہم اجزاء کا ذکر فرمایا، دعوت اسلام کو آپ کی زبان مبارک سے سنتے ہی اس نے کہا اشہد انک رسول اللہ، یعنی میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا ؟ اس نے عرض کیا کہ (آپ کی دعوت کا حق ہونا تو عقل سے سمجھا اور اس کی علامت یہ دیکھی کہ) جتنے انبیاء (علیہم السلام) پہلے آئے ہیں سب کے ماننے والے ابتداء میں قوم کے غریب و فقیر دنیا میں کم حیثیت لوگ ہوئے ہیں، اس پر یہ آیت مذکورہ نازل ہوئی (آیت) ما ارسلنا فی قریة من نذیر الا قال مترفوھا (ابن کثیر ومظہری) مترف، ترف سے مشتق ہے، جس کے معنی ناز ونعمت کی فراوانی کے آتے ہیں۔ مترفین سے مراد اغنیاء اور مالدار اور قوم کے روساء ہیں۔ قرآن کریم نے مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں فرمایا ہے کہ جب کبھی ہم نے کوئی رسول بھیجا ہے تو مال و دولت کے نشہ اور ناز و نعمت میں پلے ہوئے لوگوں نے اس کا مقابلہ کفر و انکار ہی سے کیا ہے۔
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور کہنے لگے ہم زیادہ ہیں مال اور اولاد میں اور ہم پر آفت نہیں آنے والی

دوسری آیت میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ (آیت) نحن اکثر اموالاً واولاداً وما نحن بمعذبین، ”یعنی ہم تم سے مال و دولت میں بھی زیادہ اولاد میں بھی زیادہ، اس لئے ہم عذاب میں مبتلا نہیں ہو سکتے“ (بظاہر ان کے قول کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہم قابل عذاب ہوتے تو ہمیں اتنی دولت و عزت کیوں دیتا)
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

تو کہہ میرا رب ہے جو کشادہ کردیتا ہے روزی جس کو چاہے اور ماپ کردیتا ہے لیکن بہت لوگ سمجھ نہیں رکھتے

قرآن کریم نے تیسری اور چوتھی آیت میں ان کا یہ جواب دیا ہے (آیت) قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر اور ما اموالکم ولا اولادکم الآیہ، خلاصہ جواب کا یہ ہے کہ دنیا میں مال و دولت یا عزت وجاہ کی کمی بیشی اللہ کے نزدیک مقبول یا مردود ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ تکوینی مصالح کے پیش نظر دنیا میں تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے مال و دولت فراوانی کے ساتھ دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے، جس کی تکوینی حکمت کو وہی جانتا ہے، مگر مال واولاد کی بہتات کو اللہ کے نزدیک مقبولیت کی دلیل سمجھنا جہالت ہے، کیونکہ اس کے نزدیک مقبولیت کا مدار صرف ایمان اور عمل صالح پر ہے جس کو یہ حاصل نہیں مال واولاد کتنا ہی زیادہ ہو وہ اس کو اللہ کے نزدیک مقبول نہیں بنا سکتا۔ اسی مضمون کو قرآن کریم نے متعدد آیات میں بیان فرمایا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) ایجسبون انما نمدھم بہ من مال وبنین نسارع لہم فی الخیرات بل لا یشعرون، یعنی کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم جو مال اور اولاد کی بہتات سے ان کی امداد کرتے ہیں یہ کچھ ان کے لئے انجام و آخرت کے اعتبار سے خیر ہے (ہر گز نہیں) بلکہ یہ لوگ حقیقت سے بیخبر ہیں (کہ جو مال واولاد انسان کو اللہ سے غافل کرے وہ اس کے لئے وبال ہے) دوسری آیت میں فرمایا (آیت) فلا تعجبک اموالہم ولا اولادہم انما یرید اللہ لیعذبہم بہا فی الحیاة الدنیا وتزھق انفسہم وہم کفرون، ”یعنی ان کافروں کے مال واولاد سے آپ تعجب نہ کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ ان کو اسی مال واولاد کے ذریعے دنیا میں مبتلائے عذاب کر دے اور انجام کار ان کی جان اسی حالت کفر میں نکل جائے“ جس کا نتیجہ آخرت کا دائمی عذاب ہو۔ مال واولاد کے ذریعہ دنیا میں عذاب دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا میں مال و دولت کی محبت میں ایسے مبتلا ہوجائیں کہ اپنے انجام اور خدا وآخرت کی طرف کبھی التفات نہ ہو جس کا انجام دائمی عذاب ہے، اور بہت سے مال واولاد والوں کو اس دنیا میں بھی مال واولاد ہی کی خاطر بلکہ انہی کے ذریعہ ہزاروں مصائب و تکالیف جھیلنی پڑتی ہیں، ان کی سزا و عذاب تو اسی عالم سے شروع ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو اور تمہارے اموال کو نہیں دیکھتا، وہ تو تمہارے دلوں کو اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (رواہ احمد، ابن کثیر)
Ayahs 34:37–38

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد وہ نہیں کہ نزدیک کردیں ہمارے پاس تمہارا درجہ پر جو کوئی یقین لایا اور بھلا کام کیا سو ان کے لئے ہے بدلہ دونا ان کے کئے کام کا اور وہ جھروکوں میں بیٹھے ہیں دل جمعی سے

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ دوڑتے ہیں ہماری آیتوں کے ہرانے کو وہ عذاب میں پکڑے ہوئے آتے ہیں

(آیت) فاؤ لئک لہم جزاء الضعفب بما عملوا وہم فی الغرفات امنون، یہ ایمان و عمل صالح والوں کا حال بتلایا گیا ہے، کہ اللہ کے نزدیک مقبول یہی لوگ ہیں، دنیا میں کوئی ان کی قدر پہچانے یا نہ پہچانے، آخرت میں ان کو جزائے ضعف ملے گی۔ ضعف بکسر ضاد مصدر ہے جس کے معنی ایک شے کے مثل یا امثال کے آتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں دولت والے اپنی دولت کو بڑھانے میں لگے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی جزاء کو آخرت میں بڑھا دیں گے، کہ ایک عمل کی جزاء اس کے دس امثال ہوں گے اور اس میں بھی منحصر نہیں، اس کے اخلاص عمل اور دوسرے اسباب سے ایک عمل کی جزا اس کے سات سو گنا تک ملنا بھی احادیث صحیحہ میں ثابت ہے۔ اور اس میں بھی حصر نہیں، اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے اور یہ لوگ جنت کے غرفوں میں مامون اور ہمیشہ کے لئے ہر رنج و غم سے محفوظ رہیں گے۔ غرفات غرفہ کی جمع ہے، مکان کا جو حصہ دوسرے حصوں سے ممتاز اور اعلیٰ سمجھا جائے اس کو غرفہ کہتے ہیں۔ (مظہری)
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

تو کہہ میرا رب ہے جو کشادہ کردیتا ہے روزی جس کو چاہے اپنے بندوں میں اور ماپ کردیتا ہے اور جو خرچ کرتے ہو کچھ چیز وہ اس کا عوض دیتا ہے اور وہ بہتر ہے روزی دینے والا۔

خلاصہ تفسیر آپ (مومنین سے) یہ فرما دیجئے کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہے تنگی دیتا ہے اور (خرچ میں امساک اور بخل سے رزق بڑھ نہیں سکتا، اور شریعت کے مطابق خرچ کرنے سے گھٹ نہیں سکتا، اس لئے تم مال سے دل نہ لگاؤ بلکہ جہاں جہاں اللہ کے حقوق اور اپنے عیال کے حقوق اور فقراء و مساکین وغیرہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے بےدھڑک خرچ کرتے رہو، کہ اس سے رزق مقسوم ومقدر میں تو کسی کمی کا ضرر نہ ہوگا اور آخرت میں اس سے نفع حاصل ہوگا، کیونکہ) جو چیز تم (حکم خداوندی کے مواقع میں) خرچ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کا (آخرت میں تو ضرور اور اکثر دنیا میں بھی) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ معارف و مسائل یہ آیت تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ اوپر گزری ہے (قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر) یہاں بظاہر یہی مضمون مکرر آیا ہے مگر ایک فرق کے ساتھ کہ اس جگہ من یشاء کے بعد من عبادہ اور یقدر کے بعد لہ کا اضافہ ہے۔ من عبادہ کے لفظ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ حکم اپنے مخصوص بندوں یعنی مومنین کے لئے ارشاد ہوا ہے، اور مقصود اس سے یہ ہے کہ ایمان والے مال کی محبت میں ایسے نہ لگیں کہ اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے حقوق و مواقع میں خرچ کرنے سے دل تنگ ہونے لگیں، اور اس سے پہلی جو آیت اسی مضمون کی آئی ہے اس کا خطاب کفار و مشرکین کو تھا جو دنیا کے مال واولاد پر فخر کرتے اور ان کو اپنی آخرت کی فلاح کی دلیل بناتے تھے۔ اس طرح مخاطب اور مقصود کلام کے اعتبار سے تکرار نہ رہا، خلاصہ تفسیر میں جو شروع آیت کی تفسیر میں مومنین کا لفظ بڑھایا ہے یہ اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے۔ اور بعض حضرات نے ان دونوں آیتوں میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ پہلی آیت میں تو مختلف انسانوں میں تقسیم رزق کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مصالح عالم کے پیش نظر کسی کو مال زیادہ کسی کو کم دیتے ہیں، اور اس آیت میں ایک ہی شخص کے مختلف احوال کا ذکر ہے کہ ایک شخص کو کبھی مال کی فراخی اور وسعت عطا ہوتی ہے، کبھی اس کو تنگی اور تنگ دستی بھی پیش آتی ہے۔ لفظ لہ، جو آیت میں یقدر کے بعد آیا ہے اس میں اس طرح اشارہ نکلتا ہے اس تقریر کے مطابق بھی تکرار نہ رہا بلکہ پہلی آیت مختلف افراد کے متعلق اور یہ آیت ایک ہی فرد کے مختلف احوال کے متعلق ہوگئی۔ وماانفقتم من شئی فہو یخلفہ۔ اس آیت کے لفظی معنی یہ ہیں کہ تم جو چیز بھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اپنے خزانہ غیب سے تمہیں اس کا بدل دے دیتے ہیں، کبھی دنیا میں اور کبھی آخرت میں اور کبھی دونوں میں۔ کائنات عالم کی تمام چیزوں میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے انسان اور جانور اس کو بےدھڑک خرچ کرتے رہتے ہیں، کھیتوں اور درختوں کو سیراب کرتے ہیں وہ پانی ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا اس کی جگہ اور نازل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح زمین سے کنواں کھود کر جو پانی نکالا جاتا ہے اس کو جتنا نکال کر خرچ کرتے ہیں اس کی جگہ دوسرا پانی قدرت کی طرف سے جمع ہوجاتا ہے، انسان غذا کھا کر بظاہر ختم کرلیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسری غذا مہیا کردیتے ہیں، بدل کی نقل و حرکت اور محنت سے جو اجزاء تحلیل ہوجاتے ہیں ان کی جگہ دوسرے اجزاء بدل ما یتحلل بن جاتے ہیں۔ غرض انسان دنیا میں جو چیز خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی عام عادت یہ ہے کہ اس کے قائم مقام اس جیسی دوسری چیز دے دیتے ہیں، کبھی کسی کو سزا دینے کے لئے یا کسی دوسری تکوینی مصلحت سے اس کے خلاف ہوجانا اس ضابطہ آلہیہ کے منافی نہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر روز جب لوگ صبح میں داخل ہوتے ہیں، دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں اللہم اعط منفقا خلفا واعط ممسکاً تلفا، ”یعنی یا اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما اور بخل کرنے والے کا مال ضائع کر دے“ اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ارشاد فرمایا ہے کہ آپ لوگوں پر خرچ کریں میں آپ پر خرچ کروں گا۔ جو خرچ شریعت کے مطابق نہ ہو اس کے بدل کا وعدہ نہیں حضرت جابر ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نیک کام صدقہ ہے، اور کوئی آدمی جو اپنے نفس یا اپنے عیال پر خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ کے حکم میں ہے موجب ثواب ہے، اور جو شخص کچھ خرچ کر کے اپنی آبرو بچائے وہ بھی صدقہ ہے اور جو شخص اللہ کے حکم کے مطابق کچھ خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ اس کا بدل اس کو دے گا، مگر وہ خرچ جو (فضول زائد از ضرورت) تعمیر میں یا کسی گناہ کے کام میں کیا ہو اس کے بدل کا وعدہ نہیں۔ حضرت جابر کے شاگرد ابن المنکدر نے یہ حدیث سن کر ان سے پوچھا کہ آبرو بچانے کے لئے خرچ کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس شخص کے متعلق یہ خیال ہو کہ نہیں دیں گے تو عیب جوئی کرے گا، برا کہتا پھرے گا یا بدگوئی کرے گا اس کو اپنی آبرو بچانے کے لئے دینا مراد ہے۔ (رواہ الدار قطنی، قرطبی) جس چیز کا خرچ گھٹ جاتا ہے اس کی پیداوار بھی گھٹ جاتی ہے اس آیت کے اشارہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو اشیائے صرف انسان اور حیوانات کے لئے پیدا فرمائی ہیں، جب تک وہ خرچ ہوتی رہتی ہیں ان کا بدل منجانب اللہ پیدا ہوتا رہتا ہے، جس چیز کا خرچ زیادہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی پیداوار بھی بڑھا دیتے ہیں۔ جانوروں میں بکرے اور گائے کا سب سے زیادہ خرچ ہے کہ ان کو ذبح کر کے گوشت کھایا جاتا ہے، اور شرعی قربانیوں اور کفارات وجنایات میں ان کو ذبح کیا جاتا ہے، وہ جتنے زیادہ کام آتے ہیں اللہ تعالیٰ اتنی ہی زیادہ اس کی پیداوار بڑھا دیتے ہیں جس کا ہر جگہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ بکروں کی تعداد ہر وقت چھری کے نیچے رہنے کے باوجود دنیا میں زیادہ ہے، کتے بلی کی تعداد اتنی نہیں، حالانکہ کتے بلی کی نسل بظاہر زیادہ ہونی چاہئے کہ وہ ایک ہی پیٹ سے چار پانچ بچے تک پیدا کرتے ہیں، گائے بکری زیادہ سے زیادہ دو بچے دیتی ہے، گائے بکری ہر وقت ذبح ہوتی رہتی ہے، کتے، بلی کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، مگر پھر یہ مشاہدہ ناقابل انکار ہے کہ دنیا میں گائے اور بکروں کی تعداد بہ نسبت کتے بلی کے زیادہ ہے۔ جب سے ہندوستان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگی ہے اس وقت سے وہاں گائے کی پیداوار اسی نسبت سے گھٹ گئی ہے، ورنہ ہر بستی اور ہر گھر گایوں سے بھرا ہوا ہوتا جو ذبح نہ ہونے کے سبب بچی رہیں۔ عرب نے جب سے سواری اور باربرادری میں اونٹوں سے کام لینا کم کردیا وہاں اونٹوں کی پیداوار بھی گھٹ گئی، اس سے اس ملحدانہ شب کا ازالہ ہوگیا جو احکام قربانی کے مقابلہ میں اقتصادی اور معاشی تنگی کا اندیشہ پیش کر کے کیا جاتا ہے۔
Ayahs 34:40–42

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو پھر کہے گا فرشتوں کو کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ کہیں گے پاک ذات ہے تیری ہم تیری طرف میں ہیں ان کی طرف میں نہیں پر پوجتے تھے جنوں کو یہ اکثر انہیں پر اعتقاد رکھتے تھے

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

سو آج تم مالک نہیں ایک دوسرے کے بھلے کے نہ برے کے اور کہیں گے ہم ان گنہگاروں کو چکھو تکلیف اس آگ کی جس کو تم جھوٹ بتلاتے تھے۔

خلاصہ تفسیر اور (وہ دن قابل ذکر ہے) جس روز اللہ تعالیٰ ان سب کو (میدان قیامت میں) جمع فرمائے گا، پھر فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے (ملائکہ سے یہ سوال مشرکین کو لاجواب کرنے کے لئے ہوگا، جو ملائکہ اور غیر الملائکہ کو اس خیال سے پوجتے تھے کہ یہ راضی ہو کر ہماری شفاعت کریں گے، جیسے ایک آیت میں اس طرح کا سوال حضرت عیسیٰ ؑ سے کیا گیا ہے، (آیت) أانت قلت للناس۔ مطلب سوال کا یہ ہے کہ کیا تمہاری رضا سے تمہاری عبادت کیا کرتے تھے، ونیز جواب میں بھی اسی قید کا قرینہ ہے جیسا ترجمہ جواب سے معلوم ہوگا) وہ (اول حق تعالیٰ کا شریک سے بالاتر اور پاک ہونا ظاہر کرنے کے لئے) عرض کریں گے کہ آپ (شریک سے) پاک ہیں (یہ جواب سے پہلے اس لئے کہا گیا کہ ان کی طرف جو نسبت الیٰ الشریک کی حکایت کی گئی ہے اس سے گھبرا کر پہلے یہ جملے عرض کئے پھر آگے اس سوال کا جواب یہ دیں گے کہ) ہمارا تو (محض) آپ سے تعلق ہے نہ کہ ان سے (اس سے رضا اور امر دونوں کی نفی ہوگئی۔ یعنی نہ ہم نے ان سے کہا نہ ہم ان کے فعل سے راضی ہم تو آپ کے مطیع ہیں جو چیز آپ کو ناپسند ہے مثل شرک وغیرہ اس سے ہم بھی ناخوش ہیں، جب اس شرک میں نہ ہمارا امر ہے نہ رضا تو فی الواقع یہ ہماری عبادت نہ کرتے تھے) بلکہ یہ لوگ شیاطین کو پوجا کرتے تھے (کیونکہ شیاطین ہی اس کی ترغیب بھی دیتے تھے اور اس سے راضی بھی تھے اس لئے وہی ان کے معبود ہوئے۔ کیونکہ عبادت مستلزم ہے اطاعت مطلقہ کو کہ اس کے سامنے اور کسی کی اطاعت نہ کرے، اسی طرح ایسی اطاعت مطلقہ مستلزم ہے عبادت کو پس جب ہماری طرف سے امر و رضا متحقق نہیں تو ہماری اطاعت نہ ہوئی، اور جب شیاطین کی اطاعت مطلقہ کی تو عبادت بھی درحقیقت انہی کی ہوئی، گو یہ لوگ اس کا نام کچھ ہی رکھیں، عبادت ملائکہ کہیں یا بتوں کی عبادت مگر واقع میں وہ عبادت شیاطین ہی کی ہے اور جیسا تقریر مذکور سے ان لوگوں کا عابد شیاطین ہونا لازم آیا اسی طرح ان میں اکثر لوگ (التزاماً بھی) انہی (شیاطین) کے معتقد تھے (یعنی قصداً بھی بہت سے ان کو پوجتے تھے، جیسے سورة جن کی آیت میں ہے (آیت) وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن وغیر ذلک من الآیات) سو (کافروں سے کہا جائے گا کہ جن سے تم امیدیں رکھتے تھے) آج (خود ان کی اس برات سے بھی اور ان کے عجز وبے بسی سے بھی تمہارے گمان کے خلاف یہ حالت ظاہر ہوئی کہ) تم (مجموع عابدین و معبودین) میں سے نہ کوئی کسی کو نفع پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے اور نہ نقصان پہنچانے کا (مطلب تو یہ ہے کہ یہ معبودین تم کو نفع نہیں پہنچا سکتے، مگر مبالغہ کے لئے بعضکم لبعض سے تعبیر فرمایا تاکہ اس ابہام سے دونوں کی برابری اس امر میں ثابت ہوجائے کہ جیسے تم عاجز ہو وہ بھی عاجز ہیں اور ضرر کا ذکر تعمیم عجز کے لئے ہے اس سے کلام اور بھی موکد ہوگیا) اور (اس وقت) ہم ظالموں (یعنی کافروں) سے کہیں گے کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھٹلایا کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو۔
Ayahs 34:43–44

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب پڑھی جائیں ان کے پاس ہماری آیتیں کھلی کھلی کہیں اور کچھ نہیں مگر یہ ایک مرد ہے چاہتا ہے کہ روک دے تم کو ان سے جن کو پوجتے رہے تمہارے باپ دادے اور کہیں اور کچھ نہیں یہ جھوٹ ہے باندھا ہوا اور کہتے ہیں منکر حق بات کو جب پہنچے ان تک اور کچھ نہیں یہ ایک جادو ہے صریح

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے دی نہیں ان کو کچھ کتابیں کہ جن کو وہ پڑھتے ہوں اور بھیجا نہیں ان کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا

خلاصہ تفسیر اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں جو (حق اور ہادی ہونے کی صفت میں) صاف صاف ہیں پڑھی جاتی ہیں تو یہ لوگ (پڑھنے والے یعنی نبی ﷺ کی نسبت) کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) یہ محض ایک ایسا شخص ہے جو یوں چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں (کی عبادت) سے باز رکھے جن کو (قدیم سے) تمہارے بڑے پوجتے (آ رہے) تھے (اور ان سے باز رکھ کر اپنا تابع بنانا چاہتا ہے۔ مطلب ان کم بختوں کا یہ تھا کہ یہ نبی نہیں اور ان کی دعوت منجانب اللہ نہیں بلکہ اس میں خود ان کی ذاتی غرض اپنی ریاست کی ہے) اور (قرآن کی نسبت) کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) یہ محض ایک تراشا ہوا جھوٹ ہے (یعنی خدا کی طرف اس کی نسبت کرنا محض تراشی ہوئی بات ہے) اور یہ کافر اس امر حق (یعنی قرآن) کی نسبت جبکہ وہ ان کے پاس پہنچا (اس اعتراض کے جواب کے لئے کہ اگر یہ تراشا ہوا جھوٹ ہے تو پھر بہت سے عاقل اس کا اتباع کیوں کرتے ہیں اور یہ ایسا موثر کیوں ہے) یوں کہتے ہیں کہ یہ محض ایک صریح جادو ہے (بس اس کو سن کر لوگ مغلوب العقل اور فریفتہ ہوجاتے ہیں) اور (ان کو تو قرآن کی اور نبی کی بڑی قدر کرنا چاہئے تھی، کیونکہ ان کے لئے تو یہ محض غیر مترقبہ نعمتیں تھیں اس سبب سے کہ) ہم نے (اس قرآن سے پہلے) ان کو (کبھی آسمانی) کتابیں نہیں دی تھیں کہ ان کو پڑھتے پڑھاتے ہوں (جیسے بنی اسرائیل کے پاس کتابیں تھیں تو ان کے حق میں تو قرآن بالکل ایک نئی چیز تھی، اس لئے اس کی قدر کرنا چاہئے تھا) اور (اسی طرح) ہم نے آپ سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا (یعنی پیغمبر) نہیں بھیجا تھا (تو ان کے حق میں نبی بھی ایک نئی دولت تھی، اس لئے ان کی بھی قدر کرنا چاہئے تھی۔ خصوصاً جبکہ علاوہ نعمت جدیدہ ہونے کے خود ان کی تمنا بھی تھی کہ ان کے پاس کوئی نبی آئے تو یہ اس کا اتباع کریں جیسا اس آیت میں ہے (آیت) واقسموا باللہ جہد ایمانہم لئن جاءھم نذیر لیکونن اھدیٰ من احدی الامم، مگر ان لوگوں نے پھر بھی قدر نہ کی، کماقال تعالیٰ فلما جاءھم نذیر مازادہم الا نفوراً الخ بلکہ تکذیب کی) اور (یہ لوگ تکذیب کر کے بےفکر نہ ہو بیٹھیں کیونکہ تکذیب کا وبال بڑا سخت ہے، چنانچہ) ان سے پہلے جو (کافر) لوگ تھے انہوں نے (بھی انبیاء اور وحی کی) تکذیب کی تھی اور یہ (مشرکین عرب) تو اس سامان کے جو ہم نے ان کو دے رکھا تھا دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچتے (یعنی ان کی سی قوت ان کی سی عمریں ان کی سی ثروت ان کو نہیں ملی جو کہ سرمایہ غرور اور سبب افتخار ہوتا ہے۔ کما قال تعالیٰ کانوا اشد منکم قوة و اکثر امولاً واولاداً) غرض انہوں نے میرے رسول کی تکذیب کی سو (دیکھو) میرا (ان پر) کیسا عذاب ہوا (سو یہ بیچارے تو کیا چیز ہیں کہ ان کے پاس تو اتنا سامان بھی نہیں جب اس قدر ثروت و دولت کام نہ آئی تو یہ کس دھوکہ میں ہیں۔ ونیز جب ان کے پاس سامان کم ہے جو سبب غرور ہوتا ہے، تو ان کا جرم بھی اشد ہے، پھر یہ کیسے بچ جائیں گے۔ یہاں تک انکار نبوت پر کفار کو تہدید فرما کر آگے ان کو تصدیق نبوت کا ایک طریقہ بتلاتے ہیں کہ اے محمد ﷺ آپ (ان سے) یہ کہئے کہ میں تم کو صرف ایک بات (مختصر سی) سمجھاتا ہوں (اس سے واضح ہوجائے گا بس اس کو کرلو) وہ یہ کہ تم (محض) خدا کے واسطے (کہ اس میں نفسانیت وتعصب نہ ہو) کھڑے (یعنی مستعد) ہوجاؤ (کسی موقع پر) دو دو اور (کسی موقع پر) ایک ایک (یعنی چونکہ مقصود غور و فکر ہے جیسا آگے آتا ہے، اور فکر کا قاعدہ ہے کہ بعض اوقات اور بعض طباع کے اعتبار سے دو کے اعتبار سے اکیلے خوب فکر کی دوسرے سے تقویت ملتی ہے، اور بہت زیادہ مجمع میں اکثر قوت فکریہ مشوش ہوجاتی ہے، اسی لئے اسی پر اکتفا فرمایا، غرض اس طرح مستعد ہوجاؤ) پھر (خوب) سوچو (کہ جیسے دعوے میں کرتا ہوں مثلاً یہ کہ قرآن کا مماثل ممکن نہیں جیسے کئی مکی سورتوں میں یہ مضمون ہے ایسے دعوے دو ہی شخص کرسکتے ہیں یا تو وہ جس کے دماغ میں خلل ہو کہ انجام کی خبر نہ ہو اور یا وہ کہ جو نبی ہو جس کو پورا اعتماد اس دعوے کے صدق ومن اللہ ہونے کا ہو ورنہ اگر نبی نہ ہو اور عاقل بھی ہو تو وہ ایسے دعوے کے وقت میں رسوائی سے اندیشہ کرے گا، اگر اس کا مماثل بنا لائے گا تو میری کیا رہ جائے گی۔ اس تردید حاضر کے بعد میرے مجموعی احوال میں غور کر کے یہ سوچو کہ آیا مجھ کو جنون ہے یا نہیں، سو یہ امر مشاہدہ سے معلوم ہوجائے گا) کہ تمہارے اس ساتھی کو (جو ہر وقت تمہارے سامنے رہتا ہے اور جس کے تمام حالات تم مشاہدہ کیا کرتے ہو یعنی مجھ کو) جنون (تو) نہیں ہے (جب حصر کی دو شقوں میں سے ایک شق باطل ہوگئی تو دوسری شق متعین ہوگئی کہ) وہ (تمہارا ساتھی پیغمبر ہے اور بحیثیت پیغمبر ہی تم کو ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے (پس اس طریق سے نبوت کا ثبوت اور اس کی تصدیق بہت آسان ہے۔ اور دوسری جگہ بھی اس کے قریب قریب مضمون ہے کماقال ام لم یعرفوا رسولہم، الخ، اب آگے اثبات نبوت کے بعد کفار کے اس شبہ کا جواب ہے کہ یہ رسول نہیں بلکہ اپنی ریاست و اقتدار کے طالب ہیں، فرماتے ہیں اے محمد ﷺ آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ میں نے تم سے (اس تبلیغ پر) کچھ معاوضہ مانگا ہو تو وہ تمہارا ہی رہا (یعنی تم اپنے ہی پاس رکھو یہ محاورہ نفی ہے طلب اجر کی بطریق مبالغہ) میرا معاوضہ تو بس (حسب وعدہ فضل) اللہ ہی کے ذمہ ہے اور وہی ہر چیز پر اطلاع رکھنے والا ہے (پس وہ آپ ہی میرے حال کے لائق مجھ کو اجر دے دیں گے معاوضہ میں مال اور جاہ یعنی ریاست سب آ گیا۔ کیونکہ اعیان و اعراض دونوں میں اجر بننے کی صلاحیت ہے، مطلب یہ کہ میں تم سے کسی غرض کا طالب نہیں ہوں جو شبہ ریاست کا کیا جائے۔ رہا یہ معاملہ کہ میں لوگوں کے معاملات اور حالات کی اصلاح کرتا ہوں مجرم کو سزا دیتا ہوں، باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کرتا ہوں تو یہ موجب شبہ اس لئے نہیں ہوسکتا کہ اس میں میری کوئی غرض نہیں۔ چناچہ آپ کے طرز معاشرت اور معیشت سے صاف ظاہر ہے کہ ان چیزوں سے آپ نے کوئی ذاتی منفعت حاصل نہیں کی بلکہ خود قوم ہی کا نفع تھا کہ ان کے جان، مال، آبرو محفوظ رہتے تھے۔ باپ جو اپنے چھوٹے بچوں کی حفاظت اور ان کی تادیب محض خیر خواہی سے کرتا ہے اس کو خود غرضی اور طلب ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا، جب نبوت بھی ثابت ہوچکی اور شبہ مقامیہ بھی دفع ہوگیا آگے اس کی نقیض کو ابطال کو اس کے اثبات پر متفرع فرماتے ہیں کہ اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق بات کو (یعنی ایمان اور ثبوت ایمانیات کو باطل یعنی کفر اور انکار ایمانیات پر) غالب کر رہا ہے (محاجہ ومکالمہ سے بھی) چناچہ ابھی دیکھا اور مقاتلہ اور مصارہ کا بھی سامان کرنے والا ہے، غرض ہر طرح حق غالب ہے اور) وہ علام الغیوب ہے (اس کو پہلے ہی سے معلوم تھا کہ حق غالب ہوگا اوروں کو تو اب وقوع کے بعد معلوم ہوا اور اسی طرح اس کو معلوم ہے کہ آئندہ غلبہ بڑھے گا۔ چناچہ فتح مکہ میں حضور ﷺ کا اگلی آیت کو پڑھنا کما رواہ ابن کثیر عن الشیخین وغیرہما قرینہ ہے کہ اس مضمون میں جو غلبہ کی خبر دی گئی ہے اس میں غلبہ بالسیف بھی داخل ہے۔ آگے اسی مضمون کی زیادہ توضیح کے لئے ارشاد ہے اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ (دین) حق آ گیا اور (دین) باطل نہ کرنے کا رہا نہ دھرنے کا (یعنی محض گیا گزرا ہوا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اہل باطل کو کبھی شوکت وقوت حاصل نہ ہوگی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جیسے اس دین حق کے آنے سے پہلے کبھی باطل پر شبہ حق ہونے کا ہوجایا کرتا تھا اب باطل اس صفت کی حیثیت سے بالکل نیست ونابود ہوگیا۔ یعنی اس کا بطلان خوب ظاہر ہوگیا، اور ہمیشہ قرب قیامت تک یوں ہی ظاہر رہے گا، آگے حق بات کے ثابت اور واضح ہوجانے کے بعد نجات کا اس کے اتباع میں منحصر ہونا بیان فرماتے ہیں کہ اے محمد ﷺ آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (جب اس دین کا حق ہونا ثابت ہوگیا تو اس سے یہ بھی لازم آ گیا کہ) اگر (بالفرض) میں (اس حق کو چھوڑ کر) گمراہ ہوجاؤں تو میری گمراہی مجھ ہی پر وبال ہوگی (دوسروں کا کیا ضرر ہے) اور اگر میں (اس حق کا اتباع کر کے) راہ (راست) پر رہوں تو یہ بدولت اس قرآن (اور دین) کے ہے جس کو میرا رب میرے پاس بھیج رہا ہے (اصل مقصود مخاطبین کو سنانا ہے کہ باوجود وضوح کے اگر تم نے حق کا اتباع نہ کیا تو تم بھگتو گے میرا کیا بگڑے گا اور اگر راہ پر آگئے تو یہ راہ پر آنا اسی دین حق کے اتباع کی بدولت ہوگا پس تم کو چاہئے کہ راہ راست پر آنے کے لئے اس دین کو اختیار کرو اور گمراہ ہونا کسی کا یا راہ پر آنا خالی نہ جائے گا کہ بےفکری کی گنجائش ہو، بلکہ ہر ایک کا حال اللہ کو معلوم ہے کیونکہ) وہ سب کچھ سنتا (اور) بہت نزدیک ہے (وہ ہر ایک کو اس کے مناسب جزا دے گا)۔
Ayah 34:45

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور جھٹلایا ہے ان سے اگلوں نے اور یہ نہیں پہنچے دسویں حصہ کو اس کے جو ہم نے ان کو دیا تھا پھر جھٹلایا انہوں نے میرے بھیجے ہوؤں کو تو کیسا ہوا انکار میرا

معارف و مسائل (آیت) ومابلغوا معشار ما اتینہم، لفظ معشار بعض نے بمعنی عشر کہا ہے۔ یعنی دسواں حصہ اور بعض علماء نے عشرالعشر یعنی سوواں حصہ اور بعض نے عشرالعشیر یعنی ہزارویں حصہ کو معشار کہا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اس لفظ میں بہ نسبت عشر کے مبالغہ ہے، معنی آیت کے یہ ہیں کہ دنیا کی ثروت و دولت و حکومت اور عمر طویل اور صحت قوت وغیرہ، جو پچھلی امتوں کو دی گئی تھی اہل مکہ کو اس کا دسواں بلکہ ہزارواں حصہ بھی حاصل نہیں، اسی لئے ان کو چاہئے کہ ان پچھلی اقوام کے حالات اور انجام بد سے عبرت حاصل کریں کہ وہ لوگ رسولوں کی تکذیب کر کے خدا تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئے اور وہ عذاب آ گیا تو ان کی قوت و شجاعت اور مال و دولت اور محفوظ قلعے کچھ کام نہ آسکے۔
Ayahs 34:46–47

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

تو کہہ میں تو ایک ہی نصیحت کرتا ہوں تم کو کہ اٹھ کھڑے ہو اللہ کے نام پر دو دو ایک ایک پھر دھیان کرو کہ اس تمہارے رفیق کو کچھ سودا نہیں یہ تو ایک ڈرانے والا ہے تم کو ایک بڑی آفت کے آنے سے

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

تو کہہ جو میں نے تم سے مانگا ہو کچھ بدلہ سو وہ تم ہی رکھو میرا بدلہ ہے اسی اللہ پر اور اس کے سامنے ہے ہر چیز

کفار مکہ کو دعوت (آیت) انما اعظکم بواحدة، اس میں اہل مکہ پر حجت تمام کرنے کے لئے ان کو تحقیق حق کا ایک مختصر راستہ بتلایا گیا ہے کہ صرف ایک کام کرلو کہ اللہ کے لئے کھڑے ہوجاؤ، دو دو اور ایک ایک، اللہ کے لئے کھڑے ہونے سے مراد حسی کھڑا ہونا نہیں کہ بیٹھے یا لیٹے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہوجائے، بلکہ اس سے مراد محاورہ کے مطابق کام کا پورا اہتمام کرنا ہے۔ اور یہاں قیام کے ساتھ لفظ للہ بڑھا کر یہ بتلانا منظور ہے کہ خالص اللہ کے راضی کرنے کے لئے پچھلے خیالات و عقائد سے خالی الذہن ہو کر حق کی تلاش میں لگو تاکہ پچھلے خیالات اور اعمال قبول حق کی راہ میں حائل نہ ہوں۔ اور دو دو یا ایک ایک میں کوئی عدد خاص مقصود نہیں، مطلب یہ ہے کہ غور کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں، ایک خلوت و تنہائی میں خود غور کرنا، دوسرا اپنے احباب و اکابر سے مشورہ اور باہم بحث و تمحیص کے بعد کسی نتیجہ پر پہنچنا۔ ان دونوں طریقوں کو یا ان میں سے جو پسند ہو اس کو اختیار کرو۔ (آیت) ثم تفکروا، اس جملہ کا عطف ان تقوموا پر ہے جس میں قیام کے مقصد کو واضح کیا گیا ہے کہ سب خیالات سے خالی الذہن ہو کر خالص اللہ کے لئے اس کام کے واسطے تیار ہوجاؤ کہ محمد ﷺ کی دعوت میں غور و فکر سے کام لو کہ حق ہے یا نہیں خواہ یہ غور و فکر تنہا تنہا کرو یا دوسروں کے ساتھ مشورہ اور بحث وتمحیص کے ساتھ۔ آگے اس غور و فکر کی ایک واضح راہ بتلائی گئی۔ وہ یہ کہ ایک اکیلا آدمی جس کے ساتھ نہ کوئی طاقتور جتھا اور جماعت ہے نہ مال و دولت کی بہتات وہ اپنی پوری قوم بلکہ پوری دنیا کے خلاف کسی ایسے عقیدہ کا اعلان کرے جو صدیوں سے ان میں راسخ ہوچکا ہے اور وہ سب اس پر متفق ہیں، ایسا اعلان صرف دو صورتوں میں ہوسکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ کہنے والا بالکل مجنوں و دیوانہ ہو جو اپنے نفع نقصان کو نہ سوچے اور پوری قوم کو اپنا دشمن بنا کر مصائب کو دعوت دے، دوسرے یہ کہ اس کی وہ بات سچی ہو کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہے، اس کے حکم کی تعمیل میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ اب تم خالی الذہن ہو کر اس میں غور کرو کہ ان دونوں باتوں میں کون سی بات واقع میں ہے۔ اس طریقے سے غور کرو گے تو تمہیں اس یقین کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا کہ یہ دیوانے اور مجنوں نہیں ہو سکتے، ان کی عقل و دانش اور کردار و عمل سے سارا مکہ اور سب قریش واقف ہیں۔ ان کی عمر کے چالیس سال اپنی قوم کے درمیان گزرے، بچپن سے جوانی تک کے سارے حالات ان کے سامنے ہیں، کبھی کسی نے ان کے کسی قول و فعل کو عقل و دانش اور سنجیدگی و شرافت کے خلاف نہیں پایا، اور صرف ایک کلمہ لا الہ الا اللہ جس کی یہ دعوت دیتے ہیں اس کے سوا آج بھی کسی کو ان کے کسی قول و فعل پر یہ گمان نہیں ہو سکتا، کہ یہ عقل و دانش کے خلاف ہے۔ ان حالات میں یہ تو ظاہر ہوگیا کہ یہ مجنوں نہیں ہو سکتے، اسی کا اظہار آیت کے اگلے جملے میں اس طرح فرمایا(آیت) ما بصاحبکم من جنہ، اس میں لفظ صاحبکم سے اس طرف اشارہ ہے کہ کوئی اجنبی مسافر باہر سے آجائے جس کے حالات معلوم نہ ہوں، اس کی کوئی بات پوری قوم کے خلاف سنیں تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ دیوانہ ہے، جن کی کوئی حالت و کیفیت تم سے مخفی نہیں، اور تم نے بھی کبھی اس سے پہلے ان پر اس طرح کا کوئی شبہ نہیں کیا۔ اور جب پہلی صورت کا نہ ہونا واضح ہوگیا تو دوسری صورت متعین ہوگئی، جس کا ذکر آیت میں اس طرح بیان فرمایا ہے، ان ہوا الا نذیر لکم بین یدی عذاب شدید یعنی آپ کا حال اس کے سوا نہیں کہ وہ لوگوں کو قیامت کے آنے والے عذاب شدید سے بچانے کے لئے اس سے ڈرانے والے ہیں۔
Ayahs 34:48–50

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

تو کہہ میرا رب پھینک رہا ہے سچا دین اور وہ جانتا ہے چھپی چیزیں

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

تو کہہ آیا دین سچا اور جھوٹ تو کسی چیز کو نہ پیدا کرے اور نہ پھیر کر لائے

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

تو کہہ اگر میں بہکا ہوا ہوں تو بہکوں گا اپنے ہی نقصان کو اور اگر ہوں سیدھے راستہ پر تو اس سبب سے کہ وحی بھیجتا ہے مجھ کو میرا رب بیشک وہ سب کچھ سنتا ہے نزدیک ہے۔

(آیت) ان ربی یقذف بالحق علام الغیوب، یعنی میرا پروردگار جو علام الغیوب ہے وہ حق کو باطل پر دے مارتا ہے (جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ باطل پاش پاش ہوجاتا ہے، کما قال تعالیٰ فاذا ہو زاھق، لفظ قذف کے لغوی معنی پھینک مارنے کے ہیں، یہاں باطل کے مقابلہ میں حق کو پیش کرنا مراد ہے، اور لفظ یقذف سے تعبیر کرنے میں شاید یہ حکمت ہو کہ باطل پر حق کی زد پڑنے کا اثر بتلانا مقصود ہو۔ یہ ایک تمثیل ہے کہ جس طرح کوئی بھاری چیز کسی نازک چیز پر پھینک دی جائے تو وہ چیز پاش پاش ہوجاتی ہے، اسی طرح حق کے مقابلہ میں باطل پاش پاش ہوجاتا ہے۔ اسی لئے آگے فرمایا (آیت) و ما یبدی الباطل ومایعید، یعنی حق کے مقابلہ میں باطل ایسا پست وناکارہ ہو کر رہ جاتا ہے کہ وہ کسی چیز کی ابتداء کرنے کے قابل نہیں رہتا نہ دوبارہ لوٹانے کے۔
Ayah 34:51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور کبھی تو دیکھے جب یہ گھبرائیں پھر نہ بچیں بھاگ کر اور پکڑے ہوئے آئیں نزدیک جگہ سے

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ اگر آپ وہ وقت ملاحظہ کریں (تو آپ کو حیرت ہو) جب یہ کفار (قیامت کے ہول وہیبت سے) گھبرائے پھریں گے پھر نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور پاس کے پاس ہی سے (یعنی فوراً) پکڑ لئے جاویں گے اور (اس وقت) کہیں گے کہ ہم اس حق پر ایمان لے آئے (اور جتنے امور اس میں بتلائے گئے ہیں سب کو مان لیا اس لئے ہماری توبہ قبول کرلیجئے، خواہ دوبارہ دنیا میں بھیج کر یا بغیر بھیجے ہوئے اور اتنی دور جگہ سے (ایمان کا) ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے (یعنی ایمان لانے کی جگہ بوجہ دارالعمل ہونے کے دنیا تھی جو بڑی دور ہوگئی، اب آخرت کا عالم ہے جو دارالعمل نہیں دارالجزاء ہے، اس میں ایمان مقبول نہیں کیونکہ اب جو ایمان ہوگا وہ ایمان بالغیب نہیں بلکہ مشاہدہ کے بعد ہے، مشاہدہ کے بعد کسی چیز کا اقرار کرنا تو طبعی امر ہے، اس میں اطاعت حکم کا کوئی پہلو نہیں) حالانکہ پہلے سے (دنیا میں) یہ لوگ اس حق کا انکار کرتے رہے اور (ان کا انکار بھی ایسا جس کا کوئی صحیح منشاء نہ تھا بلکہ) بےتحقیق باتیں دور ہی دور سے ہانکا کرتے تھے، (دور کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تحقیق سے دور تھے، یعنی دنیا میں تو کفر کرتے رہے اب ایمان سوجھا ہے، اور اس کے مقبول ہونے کی آرزو ہے) اور (چونکہ آخرت دارالعمل نہیں ہے اس لئے) ان میں اور ان کے (قبول ایمان) کی آرزو میں ایک آڑ کردی جائے گی (یعنی ان کی آرزو پوری نہ ہوگی) جیسا کہ ان کے ہم مشربوں کے ساتھ (بھی) یہی (برتاؤ) کیا جائے گا جو ان سے پہلے (کفر کرچکے) تھے، یہ سب بڑے شک میں تھے جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا تھا۔ معارف و مسائل (آیت) واخذوا من مکان قریب، اکثر مفسرین کے نزدیک ہی حال روز حشر کا ہے کہ کفار و فجار گھبرا کر بھاگنا چاہیں گے تو چھوٹ نہ سکیں گے۔ اور یہ بھی نہ ہوگا جیسے دنیا میں کوئی مجرم بھاگ جائے تو اس کو تلاش کرنا پڑتا ہے، بلکہ سب کے سب اپنی ہی جگہ میں گرفتار کر لئے جاویں گے، کسی کو بھاگ نکلنے کا موقع نہ ملے گا۔ بعض حضرات نے اس کو وقت نزع اور موت کا حال قرار دیا ہے، کہ جب موت کا وقت آجائے گا اور ان پر گھبراہٹ طاری ہوگی تو فرشتوں کے ہاتھ سے چھوٹ نہ سکیں گے اور وہیں اپنی جگہ سے روح قبض کر کے پکڑ لئے جائیں گے۔
Ayah 34:52

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہنے لگیں ہم نے اس کو یقین مان لیا اور اب کہاں ان کا ہاتھ پہنچ سکتا ہے بعید جگہ سے

(آیت) وقالوا امنابہ وانی لہم التناوش من مکان بعید، تناوش کے معنی ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو اٹھا لینے کے ہیں، اور یہ ظاہر ہے کہ ہاتھ بڑھا کر وہی چیز اٹھائی جاسکتی ہے جو بہت دور نہ ہو ہاتھ وہاں تک پہنچ سکے۔ مضمون آیت کا یہ ہے کہ کفار و منکرین قیامت کے روز حقیقت سامنے آجانے کے بعد کہیں گے ہم قرآن پر یا رسول اللہ پر ایمان لے آئے، مگر ان کو معلوم نہیں کہ ایمان کا مقام ان سے بہت دور ہوچکا ہے کیونکہ ایمان صرف دنیا کی زندگی کا مقبول ہے، آخرت دارالعمل نہیں وہاں کا کوئی عمل حساب میں نہیں آسکتا۔ اس لئے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ دولت ایمان کو ہاتھ بڑھا کر اٹھا لیں۔
Ayah 34:53

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

اور اس سے منکر رہے پہلے سے اور پھینکتے رہے بن دیکھے نشانے پر دور کی جگہ سے

(آیت) وقد کفروا بہ من قبل ویقذنون بالغیب من مکان بعید، قذف کے معنی کوئی چیز پھینک کر مارنے کے آتے ہیں۔ عرب کا محاورہ ہے کہ جو شخص بلا دلیل محض اپنے خیال سے باتیں کرتا ہے اس کو رجم بالغیب اور قذف بالغیب کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں، کہ یہ اندھیرے میں تیر چلاتے ہیں جس کا کوئی نشانہ نہیں ہوتا، اور یہاں من مکان بعید کے الفاظ سے مراد یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں ان کے دلوں سے دور ہوتا ہے دل میں اس کا عقیدہ نہیں رکھتے۔
Ayah 34:54

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور رکاوٹ پڑگئی ان میں اور ان کی آرزو میں جیسا کہ کیا گیا ہے ان کے طریقہ والوں کے ساتھ اس سے پہلے وہ لوگ تھے ایسے تردر میں جو چین نہ لینے دے۔

(آیت) وحیل بینہم وبین ما یشتھون، یعنی ان لوگوں کو جو چیز محبوب اور مقصود تھی ان کے اور اس چیز کے درمیان پردہ حائل کر کے ان کو محروم کردیا گیا۔ یہ مضمون قیامت کے حال پر بھی صادق ہے کہ قیامت میں یہ لوگ نجات اور جنت کے طالب ہوں گے وہاں تک نہ پہنچ سکیں گے اور دنیا میں وقت موت پر بھی صادق ہے کہ دنیا میں ان کو یہاں کی دولت و سامان مقصود تھا موت نے ان کے اس مطلوب کے درمیان حائل ہو کر ان کو اس سے جدا کردیا۔ کما فعل باشیاء عہم، اشیاع شیعہ کی جمع ہے، کسی شخص کے تابع اور ہم خیال کو اس کا شیعہ کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو عذاب ان کو دیا گیا کہ اپنے مطلوب و محبوب سے محروم کردیئے گئے۔ یہی عذاب اس سے پہلے انہی جیسے اعمال کفر کرنے والوں کو دیا جا چکا ہے۔ کیونکہ یہ سب لوگ شک میں پڑے ہوئے تھے، یعنی رسول کریم ﷺ کی نبوت اور قرآن کے کلام آلہی ہونے پر ان کو یقین و ایمان نہیں تھا۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ تمت سورة سبا بحمد اللہ لاخریوم من المحرم الحرام 1392 ھ