34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsمعارف القرآن

Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب مقرر کیا ہم نے اس پر موت کو نہ جتلایا ان کو اس کا مرنا مگر کیڑے نے گھن کے کھاتے رہا اس کا عصاء پھر جب وہ گر پڑا معلوم کیا جنوں نے کہ اگر خبر رکھتے ہوتے غیب کی نہ رہتے ذلت کی تکلیف میں۔

فلما قضینا علیہ الموت الآیة، آیت میں لفظ منساة عصاء اور لاٹھی کے معنی میں ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے، بمعنی عصاء اور بعض نے فرمایا کہ عربی لفظ ہے۔ نساء کے معنی ہٹانے اور موخر کرنے کے ہیں، لاٹھی کے ذریعے انسان مضر چیزوں کو ہٹاتا ہے، اس لئے اس کو منساة کہا گیا، یعنی ہٹانے کا آلہ۔ اس آیت میں حضرت سلیمان ؑ کی موت کا واقعہ عجیبہ بیان فرما کر بہت سی عبرتوں اور ہدایتوں کا دروازہ کھول دیا۔ حضرت سلیمان ؑ کی موت کا عجیب واقعہ اس واقعہ میں بہت سی ہدایات ہیں، مثلاً یہ کہ حضرت سلیمان ؑ جن کو ایسی بےمثل حکومت و سلطنت حاصل تھی کہ صرف ساری دنیا پر ہی نہیں بلکہ جنات اور طیور اور ہوا پر بھی ان کی حکومت تھی، مگر ان سب سامانوں کے باوجود موت سے ان کو بھی نجات نہ تھی۔ اور یہ کہ موت تو مقررہ وقت پر آنی تھی، بیت المقدس کی تعمیر جو حضرت داؤد ؑ نے شروع کی، پھر حضرت سلیمان ؑ نے اس کی تکمیل فرمائی، اس میں کچھ کام تعمیر کا باقی تھا، اور یہ تعمیر کا کام جنات کے سپرد تھا جن کی طبیعت میں سرکشی غالب تھی، حضرت سلیمان ؑ کے خوف سے کام کرتے تھے، ان کی وفات کا جنات کو علم ہوجائے تو فوراً کام چھوڑ بیٹھیں، اور تعمیر رہ جائے۔ اس کا انتظام حضرت سلیمان ؑ نے باذن ربانی یہ کیا کہ جب موت کا وقت آیا تو موت کی تیاری کر کے اپنے محراب میں داخل ہوگئے، جو شفاف شیشے سے بنی ہوئی تھی، باہر سے اندر کی سب چیزیں نظر آتی تھیں، اور اپنے معمول کے مطابق عبادت کے لئے ایک سہارا لے کر کھڑے ہوگئے کہ روح پرواز کرنے کے بعد بھی جسم اس عصا کے سہارے اپنی جگہ جما رہے۔ سلیمان ؑ کی روح وقت مقرر پر قبض کرلی گئی مگر وہ اپنے عصا کے سہارے اپنی جگہ جمے ہوئے باہر سے ایسے نظر آتے تھے کہ عبادت میں مشغول ہیں، جنات کی یہ مجال نہ تھی کہ پاس آ کر دیکھ سکتے۔ حضرت سلیمان ؑ کو زندہ سمجھ کر کام میں مشغول رہے، یہاں تک کہ سال بھر گزر گیا، اور تعمیر بیت المقدس کا بقیہ کام پورا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے گھن کے کیڑے کو جس کو فارسی میں دیوک اور اردو میں دیمک کہا جاتا ہے، اور قرآن کریم نے اس کو دابة الارض کے نام سے موسوم کیا ہے، عصائے سلیمانی پر مسلط کردیا۔ دیمک نے عصاء کی لکڑی کو اندر سے کھا کر کمزور کردیا، عصاء کا سہارا ختم ہوا تو سلیمان ؑ گر گئے، اس وقت جناب کو ان کی موت کی خبر ہوئی۔ جنات کو اللہ تعالیٰ نے دور دراز کی مسافت چند لمحوں میں قطع کرلینے کی قوت عطا فرمائی ہے وہ بہت سے ایسے حالات و واقعات سے واقف ہوتے تھے، جن کو انسان نہیں جانتے، جب وہ انسانوں کو ان واقعات کی خبر دیتے تو انسان یہ سمجھتے تھے کہ یہ غیب کی خبر ہے اور جنات کو بھی علم غیب حاصل ہے، خود جنات کو بھی علم غیب کا دعویٰ ہو تو بعید نہیں، موت کے اس عجیب واقعہ نے اس کی بھی حقیقت کھول دی۔ خود جنات کو بھی پتہ چل گیا اور سب انسانوں کو بھی کہ جنات عالم الغیب نہیں ہیں، کیونکہ ان کو غیب کا علم ہوتا تو حضرت سلیمان ؑ کی موت سے ایک سال پہلے ہی باخبر ہوجاتے۔ اور یہ سال بھر کی محنت و مشقت جو ان کو زندہ سمجھ کر برداشت کرتے رہے اس سے بچ جاتے۔ آیت کے آخری جملے میں اسی کا بیان ہے (آیت) فلما خر تبینت الجن ان لو کانوا یعلمون الغیب مالبثوا فی العداب المھین، اس میں عذاب مہین سے مراد وہ محنت مشقت کا کام ہے جس پر تعمیر بیت المقدس کی تکمیل کے لئے ان کو حضرت سلیمان ؑ نے لگا دیا تھا۔ سلیمان ؑ کی موت کا یہ عجیب واقعہ کچھ تو خود قرآن کی اس آیت میں مذکور ہے، باقی تفصیل حضرت ابن عباس وغیرہ ائمہ تفسیر سے منقول ہے جو ابن کثیر وغیرہ سب تفاسیر میں نقل کی گئی ہے۔ اس عجیب واقعہ سے یہ عبرت بھی حاصل ہوئی کہ موت سے کسی کا چھٹکارا نہیں، اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کو جو کام لینا ہوتا ہے اس کا جس طرح چاہیں انتظام کرسکتے ہیں، جیسا اس واقعہ میں ہوا کہ موت کے باوجود سلیمان ؑ کو سال بھر تک اپنی جگہ قائم رکھ کر جنات سے کام پورا کرا لیا۔ اور یہ بھی کہ دنیا کے سارے اسباب وآلات اسی وقت تک اپنا کام کرتے ہیں جب تک منظور حق ہوتا ہے، جب منظور نہیں ہوتا تو آلات و اسباب جواب دے دیتے ہیں، جیسے یہاں عصا کا سہارا دیمک کے ذریعہ ختم کردیا گیا۔ اور یہ بھی کہ سلیمان ؑ کی وفات کے بعد خطرہ تھا کہ لوگ جنات کے حیرت انگیز عمل اور کارناموں اور بظاہر غیب کی چیزوں سے ان کے باخبر ہونے وغیرہ کے اعمال عجیبہ کو دیکھ کر کہیں انہی کو اپنا معبود نہ بنا بیٹھیں، اس خطرہ کو بھی اس واقعہ موت نے ختم کردیا، سب کو جنات کی بیخبر ی اور بےبسی معلوم ہوگئی۔ تقریر مذکور سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سلیمان ؑ نے موت کے وقت اس خاص طریقہ کو دو وجہ سے اختیار کیا تھا، اول یہ کہ تعمیر بیت المقدس کا باقی ماندہ کام پورا ہوجائے، دوسرے یہ کہ ان لوگوں پر جنات کی بیخبر ی اور بےبسی واضح ہوجائے تاکہ ان کی عبادت کا خطرہ نہ رہے۔ (قرطبی) امام نسائی نے باسناد صحیح حضرت عبداللہ بن عمرو سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب حضرت سلیمان ؑ بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ سے چند دعائیں کیں، جو مقبول ہوئیں۔ ان میں ایک دعا یہ ہے کہ جو شخص اس مسجد میں صرف نماز کی نیت سے داخل ہو (اور کوئی دنیاوی غرض نہ ہو) اس مسجد سے نکلنے سے پہلے اس کو تمام گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسا کہ اس وقت پاک تھا جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ اور سدی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہونے پر حضرت سلیمان ؑ نے بطور شکرانہ کے بارہ ہزار گائے بیل اور بیس ہزار بکریوں کی قربانی کر کے لوگوں کو دعوت عام دی اور اس دن کی خوشی منائی، اور صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں مانگیں کہ ”یا اللہ آپ نے ہی مجھے یہ قوت اور وسائل عطا فرمائے، جن سے تعمیر بیت المقدس مکمل ہوئی تو یا اللہ مجھے اس کی بھی توفیق دیجئے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں اور مجھے اپنے دین پر وفات دیجئے اور ہدایت کے بعد میرے قلب میں کوئی زیغ اور کجی نہ ڈالئے۔ اور عرض کیا کہ اے میرے پروردگار جو شخص اس مسجد میں داخل ہو میں اس کے لئے آپ سے پانچ چیزیں مانگتا ہوں۔ ایک یہ کہ جو گناہگار توبہ کرنے کے لئے اس مسجد میں داخل ہو تو آپ اس کی توبہ قبول فرما لیں اور اس کے گناہوں کو معاف فرما دیں۔ دوسرے یہ کہ جو آدمی کسی خوف و خطرہ سے بچنے کے لئے اس مسجد میں داخل ہو تو آپ اس کو امن دے دیں، اور خطرات سے نجات عطا فرما دیں۔ تیسرے یہ کہ جو بیمار آدمی اس میں داخل ہو اس کو شفا عطا فرما دیں۔ چوتھے یہ کہ جو فقیر آدمی اس میں داخل ہو اس کو غنی کردیں۔ پانچویں یہ کہ جو شخص اس میں داخل ہو جب تک وہ اس میں رہے آپ اپنی نظر عنایت و رحمت اس پر رکھیں۔ بجز اس شخص کے جو کسی ظلم یا بےدینی کے کام میں مشغول ہو۔ (قرطبی) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت المقدس کی تعمیر کا کام حضرت سلیمان ؑ کی حیات میں مکمل ہوچکا تھا، مگر جو واقعہ اوپر مذکور ہوا ہے وہ کچھ اس کے منافی نہیں کہ اصل تعمیر مکمل ہونے کے بعد بڑی تعمیرات میں کچھ کام رہا کرتے ہیں وہ باقی ہوں ان کے لئے حضرت سلیمان ؑ نے مذکورہ تدبیر اختیار کی ہو۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی منقول ہے کہ موت کے بعد عصا کے سہارے حضرت سلیمان ؑ ایک سال کھڑے رہے۔ (قرطبی) اور بعض روایات میں ہے کہ جب جنات کو یہ معلوم ہوا کہ سلیمان ؑ کی موت کو عرصہ ہوگیا ہم بیخبر رہے تو مدت موت معلوم کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ایک لکڑی پر دیمک چھوڑ دی، ایک دن رات میں جتنی لکڑی دیمک نے کھائی اس سے حساب لگا لیا کہ عصائے سلیمانی پر ایک سال اس طرح گزرا ہے۔ فائدہ بغوی نے علماء تاریخ کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کی عمر کل تریپن سال کی ہوئی، اور ان کی سلطنت و حکومت چالیس سال رہی، تیرہ سال کی عمر میں سلطنت کا کام سنبھال لیا تھا، اور بیت المقدس کی تعمیر اپنی سلطنت کے چوتھے سال میں شروع کی تھی۔ (مظہری، قرطبی)
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

تحقیق قوم سبا کو تھی ان کی بستی میں نشانی دو باغ داہنے اور بائیں کھاؤ روزی اپنے رب کی اور اس کا شکر کرو شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے گناہ بخشنے والا

خلاصہ تفسیر سبا (کے لوگوں) کے لئے (خود) ان کے وطن (کی مجموعی حالت) میں (وجوب اطاعت خداوندی کی) نشانیاں موجود تھیں (ان میں سے ایک نشانی) دو قطاریں تھیں باغ کی (ان کی سڑک کے) داہنے اور بائیں (یعنی ان کے تمام علاقہ میں دو طرفہ متصل باغات چلے گئے تھے کہ جس میں آمدنی بھی وافر پھل بھی اس قدر کہ ختم کئے ختم نہ ہوں، سایہ بھی رونق بھی۔ ہم نے انبیاء (علیہم السلام) و ناصحین کی معرفت ان کو حکم دیا کہ) اپنے رب کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (کھا کر) اس کا شکر کرو (یعنی اطاعت کرو کہ دو قسم کی نعمتیں مقتضی اطاعت ہیں، ایک دنیوی کہ رہنے کو) عمدہ شہر اور (ایک اخروی کہ در صورت ایمان و اطاعت کے اگر کچھ کوتاہی ہوجائے تو گناہ بخشنے کو) بخشنے والا پروردگار ہے (پس ایسے مقتضی پر مقتضا کا ترتب ضرور ہونا چاہئے) سو (اس پر بھی) انہوں نے (اس حکم سے) سرتابی کی (شاید یہ لوگ آفتاب پرست بھی ہوں جیسے بعض کی نسبت سورة نمل میں ہے (آیت) وجدتہا وقومہا یسجدون للشمس) تو ہم نے (ان پر اپنا قہر اس طرح نازل کیا کہ ان پر بند کا سیلاب چھوڑ دیا (یعنی جو سیلاب بند سے رکا رہتا تھا بند ٹوٹ کر اس سیلاب کا پانی چڑھ آیا جس سے ان کے وہ دو رویہ باغات سب غارت ہوگئے) اور ہم نے ان کے ان دو رویہ باغوں کے بدلے اور دو باغ دے دیئے جن میں یہ چیزیں رہ گئیں، بدمزہ پھل اور جھاؤ اور قدرے قلیل بیری (اور وہ بھی شہری نہیں جنگلی خودرو جس میں کانٹے بہت اور پھل میں لطافت ندارد) ان کو یہ سزا ہم نے ان کی ناسپاسی کے سبب دی اور ہم ایسی سزا بڑے ناسپاس ہی کو دیا کرتے ہیں (ورنہ معمولی خطاؤں پر تو ہم درگزر ہی کرتے رہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ کفر سے بڑھ کر کیا ناسپاسی ہوگی جس میں وہ مبتلا تھے) اور (اس نعمت مذکورہ عامہ للمساکن کے علاوہ ایک اور نعمت خاص متعلق سفر کے تھی وہ یہ کہ) ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان میں جہاں ہم نے (باعتبار پیداوار وغیرہ کے) برکت کر رکھی ہے بہت سے گاؤں آباد کر رکھے تھے (جو سڑک پر سے) نظر آتے تھے (کہ مسافر کو سفر میں بھی وحشت نہ ہو اور کہیں ٹھہرنا چاہے تو وہاں جانے میں تکلف و تردد بھی نہ ہو) اور ہم نے ان دیہات کے درمیان ان کے چلنے کا ایک خاص اندازہ رکھا تھا (یعنی ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک چال کے حساب سے ایسا مناسب فاصلہ رکھا تھا کہ دوران سفر میں عادت کے مطابق آرام کرلے، وقت پر کوئی نہ کوئی گاؤں مل جاتا جہاں کھا پی سکے آرام کرسکے) کہ بےخوف و خطر ان میں (چاہو) راتوں کو اور (چاہو) دنوں کو چلو (یعنی نہ خطرہ رہزن کا کہ پاس پاس گاؤں تھے نہ خطرہ آب و دانہ و زاد راہ کے میسر نہ ہونے کا کہ ہر جگہ ہر سامان ملتا تھا) سو (ان نعموں کی انہوں نے جیسے اصلی شکر گزاری یعنی اطاعت آلٰہیہ نہیں کی، ایسے ہی ظاہری شکرگزاری یعنی نعمت آلٰہیہ کو غنیمت سمجھنا اور اس کی قدر کرنا ہے وہ بھی نہیں کی چنانچہ) وہ کہنے لگے اے ہمارے پروردگار (ایسے پاس پاس دیہات ہونے سے سفر کا لطف نہیں آتا، لطف تو اسی میں ہے کہ کہیں زاد راہ ختم ہوگیا کہیں پیاس ہے اور پانی نہیں ملتا، اشتیاق ہے انتظار ہے، کہیں چوروں کا اندیشہ ہے، نوکر پہرہ دے رہے ہیں، ہتھیار بندھے ہوئے ہیں، جیسے بنی اسرائیل من وسلویٰ سے اکتا گئے تھے اور بقل و قثاء (سرکاری اور ککڑی کھیرے) کی درخواست کی تھی و نیز اس حالت موجودہ میں ہم کو اپنی امارت کے اظہار کا موقع بھی نہیں ملتا، امیر غریب سب یکساں سفر کرتے ہیں، اسی لئے یوں جی چاہتا ہے کہ) ہمارے سفروں میں درازی (اور فاصلہ) کر دے (یعنی بیچ کے دیہات اجاڑ دے کہ منزلوں میں خوب فاصلہ ہوجائے) اور (علاوہ اس ناشکری کے) انہوں نے (اور بھی نافرمانیاں کر کے) اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے ان کو افسانہ بنادیا اور ان کو بالکل تتر بتر کردیا (یا تو اس طرح کہ بعض کو ہلاک کردیا کہ ان کے قصے ہی رہ گئے اور بعض کو پریشان کردیا اور یا بحیثیت اس حالت تنعم کے سب ہی افسانہ ہوگئے، یعنی وہ سامان تنعم سب کا جاتا رہا اور یا بایں معنی کہ ان کی حالت کو عبرت بنادیا ای جعلناھم ذات حکایات یعتبربہا غرض خود ان کے مساکن و باغات بھی اور ان کی وہ متصل بستیاں بھی سب ویران ہوگئے) بیشک اس (قصہ) میں ہر صابر شاکر یعنی مومن کے لئے بڑی بڑی عبرتیں ہیں۔ معارف و مسائل منکرین نبوت و رسالت اور منکرین قیامت کو حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر متنبہ کرنے اور انبیاء سابقین کے ہاتھوں فوق القیاس حیرت انگیز واقعات و معجزات کے صدور کے سلسلے میں پہلے حضرت داؤد سلیمان (علیہما السلام) کے واقعات کا ذکر فرمایا، اب اسی سلسلہ میں قوم سبا پر اللہ کے بےحساب انعامات کا پھر ان کی ناشکری کی وجہ سے ان پر عذاب آنے کا ذکر آیات مذکورہ میں کیا گیا۔ قوم سبا اور ان پر اللہ تعالیٰ کے خاص انعامات ابن کثیر نے فرمایا کہ سبا یمن کے بادشاہوں اور اس ملک کے باشندوں کا لقب ہے۔ تبابعہ جو اس ملک کے مقتداء و پیشوا تھے وہ بھی اسی قوم سبا میں سے تھے، اور ملکہ بلقیس جن کا واقعہ حضرت سلیمان ؑ کے ساتھ سورة نمل میں گزر چکا ہے وہ بھی اسی قوم میں سے تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رزق کے دروازے کھول دیئے تھے، اور ان کے شہر میں آرام وعیش کے تمام اسباب مہیا کردیئے تھے، اور اپنے انبیاء کے ذریعے ان کو اللہ کی توحید اور اس کے حکام کی اطاعت کے ذریعہ نعمتوں کے شکر کا حکم دیا گیا تھا۔ ایک مدت تک یہ لوگ اس حال پر قائم اور ہر طرح کی راحت وعیش سے مالا مال رہے، پھر ان میں عیش و عشرت میں انہماک سے خدا تعالیٰ سے غفلت بلکہ انکار تک نوبت پہنچ گئی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تنبیہ کے لئے اپنے تیرہ انبیاء بھیجے جنہوں نے ان کی فہمائش اور راہ راست پر لانے کی پوری کوشش کی، مگر یہ لوگ اپنی غفلت و بےہوشی سے باز نہ آئے تو ان پر ایک سیلاب کا عذاب بھیجا گیا، جس نے ان کے شہر اور باغات سب کو ویران و برباد کردیا (رواہ محمد بن اسحاق، ابن کثیر) امام احمد حضرت ابن عباس سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ سبا جس کا ذکر قرآن میں ہے یہ کسی مرد یا عورت کا نام ہے یا زمین کے کسی حصہ کا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک مرد کا نام ہے، جس کی اولاد میں دس لڑکے ہوئے، جن میں چھ یمن میں آباد رہے اور چار شام میں چلے گئے۔ یمن میں رہنے والوں کے نام یہ ہیںمدجج، کندہ، ازد، اشعری، انمار، خمیر، (ان چھ لڑکوں سے چھ قبیلے پیدا ہوئے) جو انہی مذکورہ ناموں سے معروف ہیں۔ اور شام میں بسنے والوں کے نام یہ ہیں لخم، جذام، عاملہ، غسان، (ان کی نسل کے قبائل انہی ناموں سے مشہور ہوئے)۔ یہ روایت حافظ امام ابن عبدالبر نے بھی اپنی کتاب (القصد والامم بمعرفة انساب العرب والعجم) میں نقل کی ہے۔ ابن کثیر کی تحقیق بحوالہ علماء نسب یہ ہے کہ یہ دس لڑکے سبا کے صلبی اور بلاواسطہ بیٹے نہیں تھے، بلکہ سبا کی دوسری تیسری یا چوتھی نسل میں یہ لوگ ہوئے ہیں پھر ان کے قبیلے شام و یمن میں پھیلے اور انہی کے ناموں سے موسوم ہوئے۔ اور سباء کا اصل نام عبد شمس تھا، سبا عبد شمس بن یشحب بن یعرب بن قحطان سے ان کا نسب نامہ واضح ہوجاتا ہے۔ اور اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ سبا عبد شمس نے اپنے زمانے میں نبی آخر الزمان محمد ﷺ کی بشارت سنائی تھی، ممکن ہے کہ ان کو اس کا علم کتب قدیمہ تورات و انجیل سے ہوا ہو یا نجومیوں کاہنوں کے ذریعہ۔ رسول اللہ ﷺ کی شان میں اس نے چند عربی اشعار بھی کہے ہیں جن میں آپ کی بعثت کا ذکر کر کے یہ تمنا کی ہے کہ کاش میں ان کے زمانے میں ہوتا تو میں ان کی مدد کرتا، اور اپنی قوم کو ان پر ایمان لانے اور مدد کرنے کی تلقین کی ہے۔ اور حدیث مذکور میں جو یہ مذکور ہے کہ سبا کے دس لڑکوں میں سے چھ یمن میں آباد ہوئے، چار شام میں چلے گئے، یہ واقعہ ان پر سیلاب کا عذاب آنے کے بعد کا ہے، کہ سیلاب آنے کے وقت یہ لوگ مختلف سمتوں اور شہروں میں منتشر ہوگئے (ابن کثیر) قرطبی نے بحوال قشیری قوم سبا کا زمانہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے زمانہ فترت نقل کیا ہے۔
Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

سو دھیان میں نہ لائے پھر چھوڑ دیا ہم نے ان پر ایک نالا زور کا اور دیئے ہم نے ان کو بدلے ان دو باغوں کے دو اور باغ جن میں کچھ میوہ کیلا تھا اور جھاؤ اور کچھ بیر تھوڑے سے یہ بدلہ دیا ہم نے ان کو اس پر کہ ناشکری کی

سیل عرم اور سدمآرب (آیت) فارسلنا علیہم سیل العرم، لفظ عرم کے عربی لغت کے اعتبار سے کئی معنی معروف ہیں اور علماء تفسیر نے ہر معنی کے اعتبار سے اس آیت کی تفسیر فرمائی ہے، مگر ان میں سیاق قرآن کے مناسب وہ معنی ہیں جو قاموس اور صحاح جوہری وغیرہ کتب لغت میں ہیں کہ عرم کے معنی سد یعنی بند کے ہیں جو پانی روکنے کے لئے بنایا جاتا ہے جو آج کل ڈیم کے نام سے معروف ہے، حضرت ابن عباس نے بھی عرم کے معنی سد یعنی بند کے بیان فرمائے ہیں۔ (قرطبی) واقعہ اس بند (ڈیم) کا حسب بیان ابن کثیر یہ ہے کہ ملک یمن میں اس کے دارالحکومت صنعاء سے تین منزل کے فاصلہ پر ایک شہر مآرب تھا، جس میں قوم سبا آباد تھی۔ دو پہاڑوں کے درمیان وادی میں شہر آباد تھا، دونوں پہاڑوں کے درمیان سے اور پہاڑوں کے اوپر سے بارش کا سیلاب آتا تھا، یہ شہر ہمیشہ ان سیلابوں کی زد میں رہتا تھا۔ ایک شہر کے بادشاہوں نے (جن میں ملکہ بلقیس کا نام خصوصیت سے ذکر کیا جاتا ہے) ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک بند (ڈیم) نہایت مستحکم مضبوط تعمیر کیا جس میں پانی اتر نہ سکے۔ اس بند نے پہاڑوں کے درمیان سے آنے والے سیلابوں کو روک کر پانی کا ایک عظیم الشان ذخیرہ بنادیا، پہاڑوں کی بارش کا پانی بھی اس میں جمع ہونے لگا، اس بند کے اندر اوپر نیچے پانی نکالنے کے لئے تین دروازے رکھے گئے تاکہ پانی کا یہ ذخیرہ انتظام کے ساتھ شہر کے لوگوں کے اور ان کی زمین و باغ کی آب پاشی کے کام آوے۔ پہلے اوپر کا دروازہ کھول کر اس سے پانی لیا جاتا تھا، جب اوپر کا پانی ختم ہوجاتا تو اس سے نیچے کا اور اس کے بعد سب سے نیچے کا تیسرا دروازہ کھولا جاتا تھا، یہاں تک کہ دوسرے سال کی بارشوں کا زمانہ آ کر پھر پانی اوپر تک بھر جاتا۔ بند کے نیچے ایک بہت بڑا تالاب تعمیر کیا گیا تھا، جس میں پانی کے بارہ راستے بنا کر بارہ نہریں شہر کے مختلف اطراف میں پہنچائی گئی تھیں، اور سب نہروں میں پانی یکساں انداز میں چلتا اور شہر کی ضرورتوں میں کام آتا تھا۔ (مظہری) شہر کے داہنے بائیں جو دو پہاڑ تھے ان کے کناروں پر باغات لگائے گئے تھے جن میں پانی کی نہریں جاری تھیں، یہ باغات ایک دوسرے کے متصل مسلسل دو رویہ پہاڑوں کے کناروں پر تھے، یہ باغات اگرچہ تعداد میں بہت تھے، مگر قرآن کریم نے ان کو جنتان یعنی دو باغ کے لفظ سے اس لئے تعبیر فرمایا کہ ایک رخ کے تمام باغوں کو بوجہ اتصال کے ایک باغ اور دوسرے رخ کے تمام باغوں کو دوسرا باغ قرار دیا ہے۔ ان باغوں میں ہر طرح کے درخت اور ہر قسم کے پھل اس کثرت سے پیدا ہوتے تھے کہ ائمہ سلف قتادہ وغیرہ کے بیان کے مطابق ان باغوں میں ایک عورت اپنے سر پر خالی ٹوکری لے کر چلتی تو درختوں سے ٹوٹ کر گرنے والے پھلوں سے خود بخود بھر جاتی تھی، اس کو ہاتھ بھی لگانا نہ پڑتا تھا۔ (ابن کثیر) (آیت) کلوا من رزق ربکم واشکروالہ بلدة طیبة ورب غفور، حق تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعہ ان کو یہ حکم دیا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اس رزق وسیع کو استعمال کرو اور اس کی شکر گزاری اعمال صالحہ اور اطاعت احکام آلٰہیہ کے ساتھ کرتے رہو، کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس شہر کو بلدہ طیبہ بنایا ہے، جس میں سردی گرمی کا بھی اعتدال تھا اور آب وہوا ایسی صحت بخش نظیف ولطیف تھی کہ ان کے پورے شہر میں مچھر، مکھی، پسو اور سانپ بچھو جیسے موذی جانوروں کا نام ونشان نہ تھا، بلکہ باہر سے آنے والے مسافر جب اس شہر میں پہنچتے تو اگر ان کے کپڑوں میں جوئیں یا دوسرے موذی حشرات ہوتے تھے وہ یہاں پہنچ کر خود بخود مر جاتے تھے۔ (ابن کثیر) بلدة طیبة کے ساتھ رب غفور، فرما کر اپنی نعمت کو اس طرح مکمل کردیا کہ یہ عیش و راحت صرف دنیا کی زندگی تک نہیں، بلکہ اگر تم شکر گزاری پر قائم رہے تو آخرت میں اس سے بڑی اور دائمی نعمتوں کا بھی وعدہ ہے، کیونکہ ان تمام نعمتوں کا خالق ومالک اور تمہیں پالنے والا غفور ہے، کہ اگر کبھی اتفاقی طور پر شکرگزاری میں کمی یا غفلت و کوتاہی بھی ہوگئی تو اس کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ (آیت) فاعر ضوافارسلنا علیہم سیل العرم، یعنی اللہ تعالیٰ کی ایسی وسیع نعمتوں اور انبیاء (علیہم السلام) کی تنبیہات کے باوجو جب قوم سبا کے لوگوں نے اللہ کے احکام سے سرکشی اور روگردانی کی تو ہم نے ان پر سیل عرم چھوڑ دیا۔ عرم کے معنی اوپر گزر چکے ہیں کہ بند کے ہیں۔ اس سیلاب کو عرم کی طرف اس لئے منسوب کیا کہ جو عرم ان کی حفاظت اور خوش حالی کا ذریعہ تھا اسی کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آفت و مصیبت بنادیا۔ واقعہ اس کا حضرت ابن عباس، وہب بن منبہ، قتادہ، ضحاک وغیرہ ائمہ تفسیر نے یہ بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو سزا دینے کے لئے سد مآرب یعنی عرم کو توڑ کر سیلاب سے تباہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس پانی کے عظیم الشان بند پر اندھے چوہے مسلط کردیئے جنہوں نے اس کی بنیاد کو کھوکھلا اور کمزور کردیا۔ جب بارش اور سیلاب کا وقت آیا تو پانی کے دباؤ نے اس کمزور بنیاد کو توڑ کر رخنے پیدا کردیئے، اور بالآخر اس بند کے پیچھے جمع شدہ پانی اس پوری وادی میں پھیل گیا جس میں یہ شہر مآرب واقع تھا۔ تمام مکانات منہدم اور درخت تباہ ہوگئے، اور دو طرف پہاڑوں پر جو باغات تھے ان کا پانی خشک ہوگیا۔ وہب بن منبہ کی روایت میں ہے کہ ان لوگوں کی کتابوں میں یہ بات لکھی چلی جاتی تھی کہ اس بند کی خرابی و تباہی چوہوں کے ذریعہ ہوگی، جب لوگوں نے اس بند کے قریب چوہوں کو دیکھا تو خطرہ پیدا ہوگیا۔ اس کی تدبیر یہ کی گئی کہ بند کے نیچے بہت سی بلیاں پالی گئیں جو چوہوں کو بند کے قریب نہ آنے دیں مگر جب تقدیر الٰہی نافذ ہوئی تو یہ چوہے بلیوں پر غالب آگئے اور بند کی بنیاد میں داخل ہوگئے۔ (ابن کثیر) اور تاریخی روایات میں یہ بھی ہے کہ کچھ ہوشیار دور اندیش لوگوں نے چوہوں کو دیکھتے ہی یہ جگہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کا قصد کرلیا اور تدریجاً انتظام کر کے نکل گئے، باقی لوگ وہاں رہے، مگر جب سیلاب شروع ہوا، اس وقت منتقل ہوگئے، اور بہت سے وہیں سیلاب کی نذر ہوگئے۔ غرض یہ پورا شہر تباہ و برباد ہوگیا، شہر کے کچھ باشندے جو دوسرے ملکوں میں شہروں کی طرف چلے گئے، ان کی کچھ تفصیل مسند احمد کی حدیث میں جو اوپر گزر چکی ہے مذکور ہے۔ چھ قبیلے ان کے یمن میں پھیلے اور چار شام میں، مدینہ طیبہ کی آبادی بھی انہی قبائل میں سے بعض سے شروع ہوئی، جس کی تفصیل کتب تاریخ میں مذکور ہے۔ سیلاب آنے اور شہر تباہ ہونے کے بعد دو رویہ باغات کا جو حال ہوا وہ آگے اس طرح ذکر فرمایا کہ (آیت) وبدلنہم بجنتیہم جنتین ذواتی اکل خمط واثل وشئی من سدر قلیل، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے قیمتی پھلوں اور میووں کے درختوں کے بدلے اس میں ایسے درخت اگا دیئے، جن کے پھل بدمزہ خراب تھے۔ لفظ خمط کے معنی اکثر حضرات مفسرین درخت اراک کے کئے ہیں، اور جوہری لغوی نے لکھا ہے کہ درخت اراک کی ایک قسم ایسی بھی ہے جس پر کچھ پھل ہوتا ہے اور کھایا جاتا ہے، مگر اس درخت کے پھل بھی بدمزہ تھے۔ اور ابو عبیدہ نے فرمایا کہ خمط ہر ایسے درخت کو کہا جاتا ہے جو خاردار بھی ہو کڑوا بھی اور لفظ اثل جمہور مفسرین کے نزدیک ایک قسم طرفاء کی ہے، جس کو اردو میں جھاؤ کہا جاتا ہے۔ اس پر کوئی پھل کھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ اور بعض حضرات نے کہا کہ اثل بمعنی سمر یعنی ببول اور کیکر کا درخت جو خاردار ہوتا ہے جس کا پھل بکریوں کو کھلایا جاتا ہے۔ سدر کے معنی بیری کے ہیں۔ یہ دو قسم کی ہوتی ہے، ایک وہ جو باغات میں اہتمام سے لگائی جاتی ہے، اس کا پھل شیریں خوش ذائقہ ہوتا ہے، اس کے درخت میں کانٹے کم اور پھل زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری قسم جنگلی بیری کی ہے جو جنگلوں میں خودرو اور خاردار جھاڑیاں ہوتی ہیں ان میں کانٹے زیادہ اور پھل کم ہوتا ہے، اور پھل بھی ترش ہوتا ہے۔ آیت مذکورہ میں سدر کے ساتھ قلیل کے لفظ سے غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ بیری بھی جنگلی خودرو تھی جس پر پھل کم اور ترش ہوتا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

اور ہم یہ بدلہ اسی کو دیتے ہیں جو ناشکر ہو

(آیت) ذلک جزیناھم بما کفروا، یعنی یہ سزا ہم نے ان کو اس لئے دی کہ انہوں نے کفر کیا۔ کفر کے معنی ناشکری کے بھی آتے ہیں اور دین حق سے انکار کے بھی آتے ہیں۔ یہاں دونوں معنی ہو سکتے ہیں، کیونکہ انہوں نے ناشکری بھی کی اور جو تیرہ انبیاء ان کی طرف بھیجے گئے تھے ان کی تکذیب بھی کی۔ فائدہ اس واقعہ میں جو یہ بیان ہوا ہے کہ سبا کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے تیرہ پیغمبر بھیجے تھے، اور اس کے ساتھ یہ بھی اوپر گزر گیا ہے کہ اس قوم اور سیل عرم کا واقعہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد آنحضرت محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے درمیانی زمانے میں تھا جس کو زمانہ فترت کہا جاتا ہے۔ اور جمہور علماء کے نزدیک اس زمانے میں کوئی نبی و پیغمبر مبعوث ہی نہیں ہوا، اسی لئے اس کو فترت کے زمانے سے تعبیر کرتے ہیں، تو یہ تیرہ انبیاء کی بعثت کیسے صحیح ہو سکتی ہے ؟ روح المعانی میں اس کا جواب یہ دیا ہے کہ واقعہ سیل عرم کا فترت کے زمانے میں ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ انبیاء بھی اسی زمانے میں آئے ہوں، ہوسکتا ہے کہ انبیاء کی بعثت اس قوم کی طرف زمانہ فترت سے پہلے ہو اور ان کی سرکشی اور کفر زمانہ فترت میں بڑھی ہو جس پر سیل عرم کا عذاب فترت میں ان پر بھیجا گیا ہو واللہ اعلم۔ (آیت) وھل نجزی الا الکفور، کفور، کافر کا صیغہ مبالغہ ہے، جس کے معنی ہیں بہت کفر کرنے والا اور آیت کے معنی یہ ہوئے کہ ”ہم بہت کفر کرنے والے کے سوا کسی کو سزا نہیں دیتے“ یہ بظاہر ان تمام آیات قرآن اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے جن سے ثابت ہے کہ مسلمان گناہ گاروں کو بھی جہنم کی سزا ان کے عمل کے مطابق دی جائے گی، اگرچہ آخر کار سزا بھگتنے کے بعد وہ ایمان کی وجہ سے جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔ اس اشکال کے جواب میں بعض حضرات نے فرمایا کہ مراد یہاں مطلق عذاب نہیں، بلکہ ایسا عذاب عام جیسا کہ قوم سبا پر بھیجا گیا یہ کافروں کے ساتھ مخصوص ہے، مسلمان گناہ گاروں پر ایسا عذاب نہیں آتا۔ (روح) اس کی تائید ایک تابعی ابن خیرہ کے قول سے بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا جزاء المعصیة الوھن فی العباة واضیق فی المحیشة والتعسر فی اللذة قال لا یصادف لذة حلالاً الا جاءہ من ینغصہ ایاھا، ”یعنی معصیت کی سزا یہ ہے کہ عبادت میں سستی پیدا ہوجائے، معیشت میں تنگی پیدا ہوجائے اور لذت میں تعسر یعنی دشواری پیدا ہوجائے۔ جس کا مطلب ابن خیرہ نے یہ بیان فرمایا کہ جب اس کو کوئی حلال لذت نصیب ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا سبب پیدا ہوجاتا ہے جو اس لذت کو مکدر کردیتا ہے“ (ابن کثیر) معلوم ہوا کہ مومن گناہ گار کی سزائیں دنیا میں اس قسم کی ہوتی ہیں، اس پر آسمان سے یا زمین سے کوئی کھلا عذاب نہیں آتا، یہ کفار ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور حضرت حسن بصری نے فرمایاصدق اللہ العظیم لایعاقب بمثل فعلہ الا الکفور، یعنی اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا کہ برے عمل کی سزا اس کے برابر بجز کفور کے کسی کو نہیں دی جاتی۔ (ابن کثیر) کیونکہ غیر کفور یعنی مومن کو اس کے گناہوں میں بھی کچھ چھوٹ دی جاتی ہے۔ اور روح المعانی میں بحوالہ کشف اس آیت کے مفہوم کی توجیہ یہ کی ہے کہ کلام اپنی حقیقت پر ہے کہ سزا بطور سزا کے تو صرف کافر کو دی جاتی ہے اور مومن گناہگار کو جو تکلیف آگ وغیرہ کی دی جاتی ہے وہ صرف صورت سزا کی ہوتی ہے، درحقیقت اس کو گناہ سے پاک کرنا مقصود ہوتا ہے، جیسے سونے کو بھٹی میں ڈال کر تپانے سے اس کا میل دور کرنا مقصود ہوتا ہے اسی طرح مومن کو بھی اگر کسی گناہ کی پاداش میں جہنم میں ڈالا گیا تو اس لئے کہ اس کے بدن کے وہ اجزاء جل جائیں جو حرام سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور جب یہ ہو چکتا ہے تو وہ جنت میں جانے کے قابل ہوجاتا ہے، اس وقت جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جاتا ہے۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور رکھی تھیں ہم نے ان میں اور ان بستیوں میں جہاں ہم نے برکت رکھی ہے ایسی بستیاں جو راہ پر نظر آتی تھیں اور منزلیں مقرر کردیں ہم نے ان میں آنے جانے کی پھرو ان میں راتوں کو اور دنوں کو امن سے

اور رکھی تھیں ہم نے ان میں اور ان بستیوں میں جہاں ہم نے برکت رکھی ہے ایسی بستیاں جو راہ پر نظر آتی تھیں اور منزلیں مقرر کردیں ہم نے ان میں آنے جانے کی پھرو ان میں راتوں کو اور دنوں کو امن سے
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

پھر کہنے لگے اے رب دراز کر دے ہمارے سفروں کو اور آپ اپنا برا کیا پھر کر ڈالا ہم نے ان کو کہانیاں اور کر ڈالا چیر کر ٹکڑے ٹکڑے اس میں پتے کی باتیں ہیں ہر صبر کرنے والے شکر گزار کو۔

(آیت) فقا لواربنا بعد بین اسفارنا وظلموا انفسھم فجعلنہم احادیث ومزقنہم کل ممزق، ”یعنی ان ظالموں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی کہ سفر کی تکلیف ہی نہ رہے ناقدری اور ناشکری کر کے خود یہ دعا مانگی کہ ہمارے سفر میں بعد پیدا کر دے، قریب قریب کے گاؤں نہ رہیں، جنگل بیابان آئے، جس میں کچھ محنت مشقت بھی اٹھانی پڑے۔ ان کی مثال وہی ہے جو بنی اسرائیل کی تھی کہ بےمحنت بہترین رزق من وسلویٰ ان کو ملتا تھا، اس سے اکتا کر اللہ سے یہ مانگا کہ اس کے بجائے ہمیں سبزی ترکاری دے دیجئے، حق تعالیٰ نے ان کی ناشکری اور نعمت کی بےقدری پر وہ سزا جاری فرمائی جو اوپر سیل عرم کے عنوان سے مذکور ہوئی ہے۔ اسی کا آخری نتیجہ اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ان کو ایسا تباہ و برباد کیا کہ دنیا میں ان کی عیش و عشرت اور دولت و نعمت کے قصے ہی رہ گئے، اور یہ لوگ افسانہ بن گئے۔ مزقنہم، تمزیق سے مشق ہے، جس کے معنی ٹکڑے ٹکڑے اور پارہ پارہ کرنے کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اس مقام شہر مآرب کے بسنے والے کچھ ہلاک ہوگئے، کچھ ایسے منتشر ہوگئے کہ ان کے ٹکڑے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ عرب میں قوم سبا کی تباہی اور منتشر ہونا ایک ضرب المثل بن گیا، ایسے مواقع میں عرب کا محاورہ ہے تفرقوا ایادی سباء، یعنی یہ لوگ ایسے منتشر ہوئے جیسے قوم سبا کے نعمت پروردہ لوگ منتشر ہوگئے تھے۔ ابن کثیر وغیرہ مفسرین نے اس جگہ طویل قصہ ایک کاہن کا نقل کیا ہے، کہ سیلاب کا عذاب آنے سے کچھ پہلے اس کاہن کو اس کا علم ہوگیا تھا۔ اس نے ایک عجیب تدبیر کے ذریعہ پہلے تو اپنی زمین جائیداد مکان وغیرہ سب فروخت کردیا، جب رقم اس کے ہاتھ آگئی تو اس نے اپنی قوم کو آنے والے سیلاب و عذاب سے باخبر کیا اور کہا کہ جس کو اپنی جان سلامت رکھنا ہے وہ فوراً یہاں سے نکل جائے۔ اس نے لوگوں کو یہ بھی بتلایا کہ تم میں جو لوگ سفر بعید اختیار کر کے محفوظ مقام کا ارادہ کریں، وہ عمان چلے جائیں اور جو لوگ شراب اور خمیری روٹی اور پھل وغیرہ چاہیں وہ ملک شام کے مقام بصریٰ میں چلے جائیں، اور جو لوگ ایسی سواریاں چاہیں جو کیچڑ میں ثابت قدم رہیں، اور قحط کے زمانے میں کام آئیں اور جلدی سفر کی ضرورت کے وقت ساتھ دیں تو وہ یثرب (مدینہ منورہ) چلے جائیں جس میں کھجور کثرت سے ہے۔ اس کی قوم نے اس کے مشورے پر عمل کیا۔ قبیلہ ازدعمان کی طرف چلے گئے اور غسان بصریٰ ملک شام کی طرف اور اوس و خزرج اور بنو عثمان یثرب ذات النخل کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ بطن مر کے مقام پر پہنچ کر بنوعثمان نے تو اسی جگہ کو پسند کرلیا اور یہیں رہ پڑے، اور اسی انقطاع کی وجہ سے بنوعثمان کا لقب خزاعہ ہوگیا۔ یہ بطن مرہ میں جو مکہ مکرمہ کے قریب ہی رہ پڑے اور اوس و خزرج یثرب پہنچ کر مقیم ہوگئے۔ ابن کثیر میں طویل قصہ کے بعد لوگوں کے متفرق مقامات میں منتشر ہوجانے کی یہی تفصیل بسند سعید عن قتادہ عن الشعبی نقل کر کے فرمایا کہ اس طرح یہ قوم سبا ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی، جس کا ذکر مزقنا ھم کل ممزق میں آیا ہے۔ (آیت) ان فی ذلک لایات لکل صبار شکور، یعنی قوم سبا کے عروج و نزول اور ان کے احوال کے انقلاب میں بڑی نشانی اور عبرت ہے، اس شخص کے لئے جو بہت صبر کرنے والا اور بہت شکر کرنے والا ہو۔ یعنی کوئی مصیبت و تکلیف پیش آئے تو اس پر صبر کرے اور کوئی نعمت و راحت حاصل ہو تو اس پر اللہ کا شکر کرے، اس طرح وہ زندگی کے ہر حال میں نفع ہی نفع کماتا ہے۔ جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن کا حال عجیب ہے، کہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی تقدیری حکم نافذ فرماتے ہیں سب خیر ہی خیر اور نفع ہی نفع ہوتا ہے، کہ اگر اس کو کوئی نعمت راحت اور اس کی خوشی کی چیز حاصل ہوتی ہے تو یہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ اس کی آخرت کے لئے خیر اور نفع بن جاتا ہے اور اگر کوئی تکلیف و مصیبت پیش آجائے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے جس کا اس کو بہت بڑا اجر وثواب ملتا ہے، اس طرح یہ مصیبت بھی اس کے لئے خیر اور نفع بن جاتی ہے۔ (از ابن کثیر) اور بعض حضرات مفسرین نے لفظ صبار کو صبر کے عام معنی میں لیا ہے، جس میں طاعات پر ثابت قدم رہنا اور معاصی سے پرہیز کرنا بھی داخل ہے، اس تفسیر پر مومن ہر حال میں صبر و شکر کا جامع رہتا ہے اور ہر صبر شکر ہے اور ہر شکر صبر بھی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 34:20–21

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور سچ کر دکھلائی ان پر ابلیس نے اپنی اٹکل پھر اس کی راہ چلے مگر تھوڑے سے ایمان دار

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر اتنے واسطے کہ معلوم کرلیں ہم اس کو جو یقین لاتا ہے آخرت پر جدا کر کے اس سے جو رہتا ہے آخرت کی طرف سے دھوکہ میں اور تیرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔

خلاصہ تفسیر اور واقعی ابلیس نے اپنا گمان ان لوگوں کے بارے میں (یعنی بنی آدم کے بارے میں) صحیح پایا (یعنی اس کو جو یہ گمان تھا کہ میں آدم کی اکثر ذریت کو گمراہ کر دوں گا، کیونکہ یہ مٹی سے اور میں آگ سے پیدا ہوا ہوں (درمنثور) اس کا یہ گمان صحیح نکلا) کہ یہ سب اسی راہ پر ہو لئے مگر ایمان والوں کا گروہ (کہ ان میں ایمان کامل والے تو بالکل محفوظ رہے، اور ضعیف الایمان گو گناہوں میں مبتلا ہوگئے، مگر شرک و کفر سے وہ بھی محفوظ رہے) اور ابلیس کا ان لوگوں پر (جو) تسلط (بطور اغوا کے ہے وہ) بجز اس کے اور کسی وجہ سے نہیں کہ ہم کو (ظاہری طور پر) ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے (الگ کر کے) معلوم کرنا ہے جو اس کی طرف سے شک میں ہیں (یعنی مقصود امتحان ہے کہ مومن و کافر میں امتیاز ہوجائے، تاکہ بمقتضائے عدل و حکمت ثواب و عذاب کے احکام جاری ہوں) اور (چونکہ) آپ کا رب ہر چیز کا نگراں ہے (جس میں لوگوں کا ایمان و کفر بھی داخل ہے) اس لئے ہر ایک کو مناسب جزاء و سزا ملے گی)
Ayahs 34:22–23

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

تو کہہ پکارو ان کو جن کو گمان کرتے ہو سوائے اللہ کے وہ مالک نہیں ایک ذرہ بھر کے آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ ساجھا ہے اور نہ ان میں کوئی اس کا مددگار

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور کام نہیں آتی سفارش اس کے پاس مگر اس کو کہ جس کے واسطے حکم کر دے یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور ہوجائے ان کے دل سے کہیں کیا فرمایا تمہارے رب نے ؟ وہ کہیں فرمایا جو واجبی ہے اور وہی ہے سب سے اوپر بڑا

خلاصہ تفسیر آپ (ان لوگوں سے) فرمائیے کہ جن (معبودوں) کو تم خدا کے سوا (دخیل خدائی) سمجھ رہے ہو، ان کو (اپنی حاجتوں کے لئے) پکارو (تو سہی معلوم ہوجائے گا کہ کتنی قدرت اور اختیار رکھتے ہیں ان کی حالت واقعیہ تو یہ ہے کہ) وہ ذرہ برابر (کسی چیز کا) اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں کی (کائنات) میں اور نہ زمین (کی کائنات) میں اور نہ ان کی ان دونوں (کے پیدا کرنے) میں کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا (کسی کام میں) مددگار ہے، اور خدا کے سامنے (کسی کی) سفارش کسی کے لئے کام نہیں آتی (بلکہ سفارش ہی نہیں ہو سکتی) مگر اس کے لئے جس کی نسبت وہ (کسی سفارش کرنے والے کو) اجازت دے دے، (کفار و مشرکین میں کچھ جاہل تھے تو ایسے تھے جو پتھر کے خود تراشیدہ بتوں ہی کو حاجت روا اور کار فرما اور خدائی کا شریک سمجھتے تھے، ان کے رد کے لئے تو آیت کے پہلے جملے آئے، (آیت) (لا یملکون مثقال ذرة ومالہم فیہما من شرک) اور بعض لوگ اتنا قادر تو نہیں کہتے تھے مگر یہ عقیدہ رکھتے کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کے رد کے لئے یہ فرمایا (آیت) (مالہ منہم من ظہیر) اور کچھ ایسے سمجھدار تھے کہ ان بےجان بتوں کو کسی چیز کا خالق یا خالق کا مددگار تو نہیں مانتے تھے، مگر یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کے نزدیک مقبول ہیں کہ جس کی سفارش کردیں اس کا کام بن جاتا ہے، جیسا کہ وہ کہا کرتے تھے (ھولاء شفعاؤنا عنداللہ) ان کے رد کے لئے فرمایا (ولا تنفع الشفاعة عندہ) جس کا حاصل یہ ہے کہ ان بتوں میں کسی قابلیت کے تو تم بھی قائل نہیں مگر تم اس دھوکہ میں ہو کہ ان کو اللہ کے نزدیک مقبولیت حاصل ہے۔ یہ محض تمہارا خیال بےبنیاد ہے، نہ ان میں کوئی قابلیت اور نہ اللہ کے نزدیک مقبولیت۔ آگے یہ ارشاد فرمایا کہ ان میں تو نہ کوئی قابلیت ہے نہ مقبولیت، جن میں قابلیت بھی موجود ہو اور مقبولیت بھی جیسے اللہ کے فرشتے وہ بھی کسی کی سفارش کرنے میں خود مختار نہیں، بلکہ ان کے لئے شفاعت کا قانون یہ ہے کہ جس شخص کے لئے سفارش کرنے کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جائے صرف اس کی سفارش کرسکتے ہیں اور وہ بھی بڑی مشکل سے۔ کیونکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کی ہیبت و جلال سے مغلوب ہیں، جب ان کو کوئی عام حکم دیا جاتا ہے یا کسی کے لئے سفارش ہی کا حکم ملتا ہے تو وہ حکم سننے کے وقت ہیبت سے مدہوش ہوجاتے ہیں۔ جب یہ ہیبت کی کیفیت رفع ہوجاتی ہے اس وقت حکم پر غور کرتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ کر تحقیق کرلیتے ہیں کہ ہم نے جو حکم سنا ہے وہ کیا ہے، اس تحقیق کے بعد وہ حکم کی تعمیل کرتے ہیں جس میں کسی کی سفارش کا حکم بھی داخل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ کے فرشتے جو قابلیت بھی رکھتے ہیں، مقبولیت عند اللہ بھی، وہ بھی کسی کی سفارش از خود بلا اجازت نہیں کرسکتے، اور جب کسی کے لئے اجازت ملتی بھی ہے تو خود ہیبت سے مدہوش جیسے ہوجاتے ہیں، اس کے بعد جب ہوش درست ہوتا ہے تو سفارش کرتے ہیں، تو یہ پتھروں کے خود تراشیدہ بت جن میں نہ کسی طرح کی قابلیت ہے نہ مقبولیت، وہ کیسے کسی کی سفارش کرسکتے ہیں ؟ فرشتوں کے مدہوش ہوجانے وغیرہ کا ذکر آگے آیت میں اس طرح آیا ہے کہ) یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ (جو حکم سننے کے وقت طاری ہوئی تھی) دور ہوجاتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا حکم فرمایا وہ کہتے ہیں کہ (فلاں) حق بات کا حکم فرمایا (جیسے طالب علم سبق پڑھنے کے بعد استاد کی تقریر کو صحیح کرنے اور یاد کرنے کے لئے باہم اس کا اعادہ کیا کرتے ہیں، یہ فرشتے بھی اپنے سنے ہوئے حکم کی باہم ایک دوسرے سے تحقیق و تصدیق کرتے ہیں۔ اس کے بعد حکم کی تعمیل کرتے ہیں) اور (اس کے روبرو فرشتوں کا ایسا حال ہوجانا کیا بعید ہے) وہ عالی شان سب سے بڑا ہے۔ اور آپ (ان سے تحقیق توحید کے لئے یہ بھی) پوچھئے کہ تم کو آسمان و زمین سے (پانی برسا کر اور نباتات نکال کر) کون روزی دیتا ہے (چونکہ اس کا جواب ان کے نزدیک ہی متعین ہے، اس لئے) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ (روزی دیتا ہے) اور (یہ بھی کہئے کہ اس مسئلہ توحید میں) بیشک ہم یا تم ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی میں (یعنی یہ تو ہو نہیں سکتا کہ دو متضاد چیزیں توحید اور شرک دونوں صحیح اور حق ہوں، اور دونوں طرح کے عقیدے رکھنے والے اہل حق ہوں بلکہ ضروری ہے کہ ان دونوں عقیدوں میں سے ایک صحیح دوسرا غلط ہو۔ صحیح عقیدے کے رکھنے والے ہدایت پر اور غلط کا عقیدہ رکھنے والے گمراہی پر ہوں گے۔ اب تم غور کرلو کہ ان میں کون سا عقیدہ صحیح ہے اور کون حق و ہدایت پر ہے کون گمراہی پر) آپ (ان سے اس بحث و مناظرہ میں یہ بھی) فرما دیجئے (کہ ہم نے کھول کر حق و باطل کو واضح طور پر بیان کردیا ہے، اب تم اور ہم ہر ایک اپنے عمل کا ذمہ دار ہے) تم سے ہمارے جرائم کی باز پرس نہ ہوگی اور ہم سے تمہارے اعمال کی باز پرس نہ ہوگی اور (آپ ان سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (ایک وقت ضرور آنے والا ہے جس میں) ہمارا رب سب کو (ایک جگہ) جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ (عملی) کر دے گا اور وہ بڑا فیصلہ کرنے والا اور (سب کا حال) جاننے والا ہے، آپ (یہ بھی) کہئے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی شان عالی اور قدرت کاملہ کے دلائل سن لئے اور اپنے بتوں کی بےبسی بھی دیکھ لی) مجھ کو ذرا وہ تو دکھلاؤ جن کو تم نے شریک بنا کر (استحقاق عبادت میں) خدا کے ساتھ ملا رکھا ہے، ہرگز (اس کا کوئی شریک) نہیں بلکہ (واقع میں) وہی ہے اللہ (یعنی معبود برحق) زبردست حکمت والا۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں حکم ربانی کے نزول کے وقت جو فرشتوں کا مدہوش ہوجانا پھر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ پاچھ کرنے کا ذکر ہے، اس کا بیان صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس طرح آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی حکم نافذ فرماتے ہیں تو سب فرشتے خشوع و خضوع سے اپنے پر مارنے لگتے ہیں (اور مدہوش جیسے ہوجاتے ہیں) جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ اور ہیبت و جلال کا وہ اثر دور ہوجاتا ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے کہتے ہیں کہ فلاں حکم حق ارشاد فرمایا ہے۔ الحدیث۔ اور صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابن عباس کسی صحابی سے یہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک اسمہ جب کوئی حکم دیتا ہے تو عرش کے اٹھانے والے فرشتے تسیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح کو سن کر ان کے قریب والے آسمان کے فرشتے تسبیح پڑھنے لگتے ہیں، پھر ان کی تسبیح کو سن کر اس سے نیچے والے آسمان کے فرشتے تسبیح پڑھنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ یہ نوبت سماء دنیا (نیچے کے آسمان) تک پہنچ جاتی ہے (اور سب آسمانوں کے فرشتے تسبیح میں مشغول ہوجاتے ہیں) پھر وہ فرشتے جو حملہ عرش کے قریب ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے رب نے کیا فرمایا وہ بتلا دیتے ہیں، پھر اسی طرح ان سے نیچے کے آسمان والے اوپر والوں سے یہی سوال کرتے ہیں، یہاں تک کہ سوال و جواب کا یہ سلسلہ سماء دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔ الحدیث (مظہری)
Ayahs 34:24–27

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

تو کہہ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے بتلا دے کہ اللہ اور یا ہم یا تم بیشک ہدایت پر ہیں یا پڑے ہیں گمراہی میں صریح

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

تو کہہ تم سے پوچھ نہ ہوگی اس کی جو ہم نے گناہ کیا اور ہم سے پوچھ نہ ہوگی اس کی جو تم کرتے ہو

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

تو کہہ جمع کرے گا ہم سب کو رب ہمارا پھر فیصلہ کرے گا ہم میں انصاف کا اور وہی قصہ چکانے والا سب کچھ جاننے والا ہے

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

تو کہہ مجھ کو دکھلاؤ تو سہی جن کو اس سے ملاتے ہو ساجھی قرار دیکر کوئی نہیں وہی اللہ ہے زبردست حکمتوں والا۔

بحث و مناظرہ میں مخاطب کے نفسیات کی رعایت اور اشتعال انگیزی سے پرہیز (آیت) وانا او ایاکم لعلی ھدی او فی ضلال مبین، یہ مشرکین و کفار کے ساتھ خطاب ہے۔ دلائل واضحہ سے اللہ تعالیٰ کا خالق ومالک ہونا اور قادر و مطلق ہونا واضح کردیا گیا، بتوں اور غیر اللہ کی بےبسی اور کمزوری کا مشاہدہ کرا دیا گیا، ان سب باتوں کے بعد موقع اس کا تھا کہ مشرکین کو خطاب کر کے کہا جاتا کہ تم جاہل اور گمراہ ہو کہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور شیاطین کی پرستش کرتے ہو۔ مگر قرآن حکیم نے اس جگہ جو حکیمانہ عنوان اختیار فرمایا وہ دعوت و تبلیغ اور مخالفین اسلام اور اہل باطل سے بحث و مناظرہ کرنے والوں کے لئے ایک اہم ہدایت نامہ ہے کہ اس آیت میں ان کو کافر گمراہ کہنے کی بجائے عنوان یہ رکھا کہ ان دلائل واضحہ کی روشنی میں یہ تو کوئی سمجھدار آدمی کہہ نہیں سکتا کہ توحید و شرک دونوں باتیں حق ہیں اور اہل توحید اور مشرک دونوں حق پرست ہیں، بلکہ یقینی ہے کہ ان دونوں میں سے ایک حق پر دوسرا گمراہی پر ہے۔ اب تم خود سوچ لو اور فیصلہ کرلو کہ ہم حق پر ہیں یا تم۔ مخاطب کو خود کافر گمراہ کہنے سے اس کو اشتعال ہوتا، اس سے گریز کیا گیا، اور ایسا مشفقانہ عنوان اختیار کیا کہ سنگدل مخالف بھی غور کرنے پر مجبور ہوجائے۔ (از قرطبی وبیان القرآن) یہ پیغمبرانہ دعوت و موعظمت اور مجادلہ بالتی ھی احسن کا طریقہ جو علماء کو وقت پیش نظر رکھنا چاہئے، اس کے نظر انداز ہونے ہی سے دعوت و تبلیغ اور بحث و مناظرہ بےاثر بلکہ مضر ہو کر رہ جاتا ہے۔ مخالفین ضد پر آجاتے ہیں ان کی گمراہی اور پختہ ہوجاتی ہے۔
Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو سارے لوگوں کے واسطے خوشی اور ڈر سنانے کو لیکن بہت لوگ نہیں سمجھتے۔

خلاصہ تفسیر اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کے واسطے (خواہ جن ہوں یا انسان، عرب ہوں یا عجم موجود ہوں یا آئندہ ہونے والے ہوں سب کے لئے) پیغمبر بنا کر بھیجا ہے (ایمان لانے پر ان کو ہماری رضا وثواب کی) خوش خبری سنانے والا اور (ایمان نہ لانے پر ان کو ہمارے غضب و عذاب سے) ڈرانے والا، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے (جہالت یا عناد کی وجہ سے انکار و تکذیب میں لگ جاتے ہیں)۔ معارف و مسائل سابقہ آیات میں توحید اور حق تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے کا بیان تھا، اس آیت میں رسالت کا اور بالخصوص ہمارے نبی ﷺ کی بعثت کا تمام اقوام عالم موجودہ و آئندہ کے لئے عام ہونا بیان کیا گیا ہے۔ کافة للناس لفظ کا فہ، عربی محاورہ میں کسی چیز کے سب کو عام و شامل ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، جس میں کوئی مستثنیٰ نہ ہو۔ اصل عبارت ترکیبی کا تقاضا یہ تھا کہ للناس کافة کہا جاتا، کیونکہ لفظ کافہ حال ہے، ناس کا، مگر عموم بعثت بیان کرنے کا اہتمام واضح کرنے کے لئے لفظ کافہ کو مقدم کردیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء مبعوث ہوئے ہیں، ان کی رسالت و نبوت کسی خاص قوم اور خاص خطہ زمین کے لئے تھی۔ یہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کی خصوصی فضیلت ہے کہ آپ کی نبوت ساری دنیا کے لئے عام ہے۔ اور صرف انسان ہی نہیں جنات کے لئے بھی ہے اور صرف ان لوگوں کے لئے نہیں جو آپ کے زمانہ میں موجود تھے بلکہ قیامت تک آنے والی انسانی نسلوں کے لئے عام ہے۔ اور آپ کی نبوت و رسالت کا تا قیامت باقی اور مسلسل رہنا ہی اس کا مقتضی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہوں آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو، کیونکہ دوسرا نبی اس وقت مبعوث ہوتا ہے جب پہلے کی شریعت اور تعلیمات مسخ و محرف ہوجائیں، تو دوسرا نبی اصلاح خلق کے مقصد کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ حق تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی شریعت اور اپنی کتاب قرآن کی حفاظت کا تا قیامت خود ذمہ لے لیا ہے، اس لئے وہ قیامت تک اپنی اصلی حالت میں قائم رہے گی اور کسی اور نبی کے مبعوث ہونے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں ملیں۔ ایک یہ کہ میری مدد اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا رعب دے کر فرمائی کہ ایک مہینہ کی مسافت تک لوگوں پر میرا رعب چھا جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ میرے لئے پوری زمین کو مسجد اور طہور قرار دے دیا گیا ہے۔ (پچھلے انبیاء کی شریعتوں میں ان کی عبادت خالص عبادت گاہوں ہی میں ہوتی تھی، ان کی مساجد سے باہر میدان یا گھر میں عبادت نہ ہوتی تھی، اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے لئے پوری زمین کو اس معنی میں مسجد بنادیا کہ ہر جگہ نماز ادا ہو سکتی ہے۔ اور زمین کی مٹی کو پانی نہ ملنے یا پانی کا استعمال مضر ہونے کی صورت میں طہور یعنی پاک کرنے والا بنادیا کہ اس سے تیمم کرلیا جائے تو وضو کے قائم مقام ہوجاتا ہے۔ تیسرے یہ کہ میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا، مجھ سے پہلے کسی امت کے لئے یہ مال حلال نہیں تھا (بلکہ یہ حکم تھا کہ جنگ میں جو مال کفار کا ہاتھ آتا اس کو جمع کر کے ایک جگہ رکھ دیں، وہاں ایک آسمانی آگ بجلی وغیرہ آ کر اس کو جلا دے گی، اور یہ جلا دینا ہی اس جہاد کی مقبولیت کی علامت ہوگی۔ امت محمدیہ کے لئے مال غنیمت کو قرآن کے بتلائے ہوئے اصول کے مطابق تقسیم کرلینا اور اپنی ضروریات میں صرف کرنا جائز کردیا گیا) چوتھے یہ کہ مجھے شفاعت کبریٰ کا مقام دیا گیا (یعنی حشر کے میدان میں جس وقت کوئی پیغمبر شفاعت کی ہمت نہ کرے گا، مجھے اس وقت شفاعت کا موقع دیا جائے گا) پانچویں یہ کہ مجھ سے پہلے ہر نبی اپنی مخصوص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، مجھے تمام اقوام عالم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 34:29–33

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہے یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

تو کہہ تمہارے لئے وعدہ ہے ایک دن کا نہ دیر کرو گے اس سے ایک گھڑی نہ جلدی اور کہنے لگے منکر ہم ہرگز نہ مانیں گے اس قرآن کو اور نہ اس سے اگلے کو

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور کبھی تو دیکھے جب کہ گنہگار کھڑے کئے جائیں اپنے رب کے پاس ایک دوسرے پر ڈالتا ہے بات کو کہتے ہیں وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے بڑائی کرنے والوں کو اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان دار ہوتے

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

کہنے لگے بڑائی کرنے والے ان سے جو کہ کمزور ہوگئے تھے کیا ہم نے روکا تم کو حق بات سے تمہارے پاس پہنچ چکنے کے بعد کوئی نہیں تم ہی تھے گنہگار

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کہنے لگے وہ لوگ جو کمزور گنے گئے تھے بڑائی کرنے والوں کو کوئی نہیں پر فریب سے رات دن کے جب تم ہم کو حکم کیا کرتے کہ ہم نہ مانیں اللہ کو اور ٹھہرائیں اس کے ساتھ برابر کے ساجھی اور چھپے چھپے پچھتانے لگے جب دیکھ لیا عذاب اور ہم نے ڈالے ہیں طوق گردنوں میں منکروں کے وہی بدلہ پاتے ہیں جو عمل کرتے تھے۔

خلاصہ تفسیر اور یہ لوگ (قیامت کے متعلق مضامین (آیت) یجمع بیننا ربنا ثم یفتح الخ سن کر) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب (واقع) ہوگا اگر تم (یعنی نبی اور آپ کے متبعین) سچے ہو (تو بتلاؤ) آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے واسطے ایک خاص دن کا وعدہ (مقرر) ہے اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو (یعنی ہم وقت نہ بتائیں گے جو تم پوچھ رہے ہو مگر آئے گی ضرور جس کا اس پوچھنے سے انکار کرنا تمہارا مقصود ہے) اور یہ کفار (دنیا میں تو خوب خوب باتیں بناتے ہیں اور) کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر اور (قیامت میں یہ ساری لمبی چوڑی باتیں ختم ہوجائیں گی، چنانچہ) اگر آپ (ان کی) اس وقت کی حالت دیکھیں (تو ایک ہولناک منظر نظر آئے) جبکہ یہ ظالم اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے ایک دوسرے پر بات ڈالتا ہوگا (جیسا کوئی کام بگڑ جانے کے وقت عادت ہوتی ہے، چنانچہ) ادنیٰ درجہ کے لوگ (یعنی متبعین) بڑے لوگوں سے (یعنی اپنے مقتداؤں سے) کہیں گے کہ (ہم تو تمہارے سبب برباد ہوئے) اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آئے ہوتے (اس پر) یہ بڑے لوگ ان ادنیٰ درجہ کے لوگوں سے کہیں گے کہ کیا ہم نے تم کو ہدایت (پر عمل کرنے) سے (زبردستی) روکا تھا بعد اس کے کہ وہ (ہدایت) تم کو پہنچ چکی تھی، نہیں بلکہ تم ہی قصور وار ہو (کہ حق کے ظاہر ہونے کے بعد بھی اس کو قبول نہ کیا، اب ہمارے سر دھرتے ہو) اور (اس کے جواب میں) یہ کم درجہ کے لوگ ان بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ (ہم یہ نہیں کہتے کہ تم نے زبردستی کی تھی) نہیں، بلکہ تمہاری رات دن کی تدبیروں نے روکا تھا جب تم ہم سے فرمائش کرتے رہتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے لئے شریک قرار دیں (تدبیروں سے مراد ترغیب و ترہیب ہے، یعنی رات دن کی ان تعلیمات اور ان تدبیرات کا اثر ہوگیا، اور تباہ و برباد ہوئے۔ بس ہم کو تم ہی نے خراب کیا) اور (اس گفتگو میں تو ہر شخص دوسرے پر الزام دے گا، مگر دل میں اپنا اپنا قصور بھی سمجھیں گے۔ مضلین سمجھیں گے کہ واقعی ہم نے ایسا کیا تو تھا اور ضالین سمجھیں گے کہ گو انہوں نے ہم کو غلط راستہ بتلایا تھا، لیکن آخر ہم بھی تو اپنا نفع نقصان سمجھ سکتے تھے، ضرور ہمارا بھی بلکہ زیادہ ہمارا ہی قصور ہے لیکن) وہ لوگ (اپنی اس) پشیمانی کو (ایک دوسرے سے) مخفی رکھیں گے جبکہ (اپنے اپنے عمل پر) عذاب (ہوتا ہوا) دیکھیں گے (تا کہ نقصان مایہ کے ساتھ شماتت ہمسایہ نہ ہو، لیکن آخر میں شدت عذاب سے وہ تحمل جاتا رہے گا) اور (ان سب کو مشترک یہ عذاب دیا جائے گا کہ) ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے (اور ہاتھ پاؤں میں زنجیر پھر مشکیں کسا ہوا جہنم میں جھونک دیا جائے گا) جیسا کرتے تھے ویسا ہی تو بھرا۔