Ayahs 35:29–31خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ کتاب اللہ (یعنی قرآن) کی تلاوت (مع العمل) کرتے رہتے ہیں اور (خصوصیت و اہتمام کے ساتھ) نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ (جس طرح بن پڑتا ہے) خرچ کرتے ہیں وہ (بوجہ وعدہ الٰہیہ کے) ایسی (دائم النفع) تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی (کیونکہ اس سودے کا خریدار کوئی مخلوقات میں سے نہیں ہے جو کبھی تو سودے کی قدر کرتا ہے اور کبھی نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا خریدار خود حق تعالیٰ ہوگا، جو ضرور حسب وعدہ اپنی غرض سے نہیں بلکہ محض ان کی نفع رسانی کے لئے اس کی قدر کرے گا) تاکہ ان کو ان (کے اعمال) کی اجرتیں (بھی) پوری (پوری) دیں (جس کا بیان آگے آئے گا، جنت عدن الخ) اور (علاوہ اجرت کے) ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (بھی) دیں، (مثلاً یہ کہ ایک نیکی کا ثواب دس کے برابر دیں، کما قال تعالیٰ (آیت) من جاء بالحسنة فلہ عشر امثالہا) بیشک وہ بڑا بخشنے والا بڑا قدر دان ہے (پس ان کے اعمال میں کچھ کوتاہی رہ بھی گئی تب بھی اس کی ایسی قدر کی کہ اجرت کے علاوہ انعام بھی دیا) اور (قرآن مجید پر عمل کرنے کی برکت سے جو ان کو اجر و فضل ملا سو واقعی قرآن مجید ایسی ہی چیز ہے، کیونکہ) یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے طور پر بھیجی ہے یہ بالکل ٹھیک ہے جو کہ اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی (بایں معنی) تصدیق کرتی ہے (کہ ان کو اصل کے اعتبار سے منزل من اللہ بتلاتی ہے، اگرچہ بعد میں محرف ہوگئی ہوں، غرض یہ کتاب ہر طرح کامل ہے، اور چونکہ) یقینا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی (حالت کی) پوری خبر رکھنے والا (اور ان کی مصلحتوں کو) خوب دیکھنے والا ہے (اس لئے اس وقت ایسی ہی کتاب کامل کا نازل کرنا قرین حکمت بھی تھا اور کتاب کامل کا عامل مستحق جزائے کامل ہی کا ہوگا جو کہ مجموعہ ہے اصل اجر اور مزید فضل کا پس اس اجر و فضل کے افاضہ کے لئے یہ کتاب ہم نے اول آپ پر نازل کی اور) پھر یہ کتاب ہم نے ان لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچائی جن کو ہم نے اپنے (تمام دنیا جہان کے) بندوں میں سے (با عتبار ایمان کے) پسند فرمایا، مراد اس سے اہل اسلام ہیں جو اس حیثیت ایمان سے تمام دنیا والوں میں مقبول عند اللہ ہیں گو ان میں کوئی دوسری وجہ مثل بدعملی کے موجب ملامت بھی ہو۔ مطلب یہ کہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں وہ کتاب پہنچائی) پھر (ان منتخب اور پسندیدہ لوگوں کی تین قسمیں ہیں کہ) بعضے تو ان میں (کوئی گناہ کر کے) اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں (جو نہ گناہ کرتے ہیں اور نہ طاعات میں ضروریات سے تجاوز کرتے ہیں) متوسط درجہ کے ہیں اور بعضے ان میں وہ ہیں جو خدا کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں (کہ گناہوں سے بھی بچتے ہیں اور فرائض کے ساتھ غیر فرائض کی بھی ہمت کرتے ہیں۔ غرض ہم نے تینوں قسم کے مسلمانوں کے ہاتھوں میں وہ کتاب پہنچائی اور) یہ (یعنی ایسی کتاب کامل کا پہنچا دینا خدا کا) بڑا فضل ہے (کیونکہ اس پر عمل کرنے کی بدولت کیسے اجر وثواب کے مستحق ہوگئے آگے اس اجر و فضل مذکورہ بالا کا بیان ہے کہ) وہ (اجر و فضل) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے جس میں یہ لوگ (مذکورین (آیت) ان الذین یتلون الخ) داخل ہوں گے (اور) ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے، اور پوشاک ان کی وہاں ریشم کی ہوگی اور (وہاں داخل ہو کر) کہیں گے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے (ہمیشہ کے لئے رنج و) غم دور کیا بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا بڑا قدر دان ہے جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے مقام میں لا اتارا جہاں نہ ہم کو کوئی کلفت پہنچے گی اور نہ ہم کو کوئی خستگی پہنچے گی (یہ تو عاملان کتاب اللہ و احکام کا حال ہوا) اور جو لوگ (برخلاف ان کے) کافر ہیں ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے، نہ تو ان کو موت ہی آئے گی کہ مر ہی جاویں (اور مر کر چھوٹ جاویں) اور نہ دوزخ کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا، ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں اور وہ لوگ اس (دوزخ) میں (پڑے ہوئے) چلاویں گے، کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو (یہاں سے) نکال لیجئے ہم (اب خوب) اچھے (اچھے) کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو (پہلے) کیا کرتے تھے (ارشاد ہوگا کہ) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا اور (صرف عمر ہی دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ) تمہارے پاس (ہماری طرف سے) ڈرانے والا (یعنی پیغمبر) بھی پہنچا تھا (خواہ بواسطہ یا بلاواسطہ مگر تم نے ایک نہ سنی) سو (اب اس نہ ماننے کا) مزہ چکھو کہ ایسے ظالموں کا (یہاں) کوئی مددگار نہیں (ہم تو بوجہ ناراضی کے مدد نہ کریں گے، اور دوسرے لوگ بوجہ عدم قدرت کے)۔
معارف و مسائل
ان آیات سے پہلی آیت میں علماء حق جو عارف باللہ ہوں ان کی ایک ایسی صفت کا ذکر تھا جن کا تعلق قلب سے ہے، یعنی خشیة اللہ۔ مذکور الصدر پہلی آیت میں انہی اولیاء اللہ کی چند ایسی صفات کا ذکر ہے جو اعضاء وجوارح سے ادا ہوتی ہیں۔ ان میں پہلی صفت تلاوت قرآن ہے، اور مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو تلاوت کتاب اللہ پر مداومت کرتے ہیں۔ یتلون بصیغہ مضارع اس کی طرف مشیر ہے۔ اور بعض حضرات نے اس جگہ یتلون اس کے لغوی معنے میں لیا ہے یعنی وہ عمل میں اتباع کرتے ہیں قرآن کا، مگر پہلی تفسیر راجح ہے۔ اگرچہ سیاق وسباق سے یہ بھی متعین ہے کہ تلاوت وہی معتبر ہے جس کے ساتھ قرآن پر عمل بھی ہو۔ مگر لفظ تلاوت اپنے معروف معنی میں ہے۔ اسی طرح حضرت مطرف بن عبداللہ ابن شخیر نے فرمایا ہے ھذہ آیة القراء یعنی یہ آیت قراء کے لئے ہے جو تلاوت قرآن کو اپنا مشغلہ زندگی بناتے ہیں۔
ان کی دوسری صفت اقامت صلوٰة اور تیسری اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ہے۔ خرچ کرنے کے ساتھ سرا وعلانیةً فرما کر اس طرف اشارہ کردیا گیا کہ اکثر عبادات میں ریاء سے بچنے کے لئے خفیہ کرنا بہتر ہوتا ہے، مگر بعض اوقات مصالح دینیہ اس کو بھی مقتضی ہوتی ہیں کہ اعلان کے ساتھ کیا جائے، جیسے نماز جماعت کہ میناروں پر اذان دے کر اور زیادہ سے زیادہ اجتماع کے ساتھ علانیہ طور پر ادا کرنے کا حکم ہے۔ اسی طرح بعض اوقات اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا اظہار بھی دوسروں کی ترغیب کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ حضرات فقہاء نے نماز اور اتفاق فی سبیل اللہ دونوں میں یہ تفصیل فرمائی ہے کہ فرض و واجب یا سنت موکدہ ہے اس کو تو علانیہ کرنا بہتر ہے اس کے سوا نفلی نماز کا خفیہ ادا کرنا بہتر ہے۔ اسی طرح جہاں مال خرچ کرنا فرض یا واجب ہے، جیسے زکوٰة فرض یا صدقة الفطر یا قربانی ان میں علانیہ خرچ کرنا بہتر اور افضل ہے، باقی صدقات نافلہ کو خفیہ خرچ کرنا افضل ہے۔
جو لوگ ان تینوں صفات کے حامل ہوں یعنی تلاوت قرآن پر مداومت اور اقامت صلوٰة اور اللہ کی راہ میں خوش دلی کے ساتھ مال خرچ کرنا کہ صرف فرض و واجب ہی کی حد تک نہ رہے بلکہ نفلی صدقات بھی کریں۔ آگے ان کی ایک صفت یہ بتلائی کہ (آیت) یرجون تجارة لن تبور، لن تبور، بوار سے مشتق ہے، جس کے معنی ضائع ہوجانے کے ہیں۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ صفات مذکورہ کے پابند مومنین ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا۔ امیدوار ہونے کے لفظ سے اس طرف اشارہ ہے کہ مومن کو دنیا میں اپنے کسی بھی نیک عمل پر یقین کرنے کی گنجائش نہیں ہے، کہ یہ ہمیں ضرور بخشوا دے گا، اور اس کا اجر ثواب ہمیں یقینی ملے گا۔ کیونکہ مکمل مغفرت اور بخشش تو کسی انسان کی بھی صرف اس کے عمل سے نہیں ہو سکتی، کیونکہ انسان کتنا بھی عمل صالح کرے مگر وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و عبادت کے حق کو پورا نہیں کرسکتا۔ اس لئے مغفرت سب کی اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ہوگی، جیسا کہ ایک حدیث میں اس مضمون کی تصریح آئی ہے۔ اس کے علاوہ ہر نیک عمل کے ساتھ آدمی کو اس خطرہ سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے کہ بہت سے نیک اعمال میں کوئی مخفی کید شیطانی یا نفسانی شامل ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مقبول نہیں ہوتا، یا بعض اوقات ایک نیک عمل کے ساتھ کوئی برا عمل ایسا ہوجاتا ہے جو نیک عمل کی مقبولیت سے بھی مانع ہوجاتا ہے۔ اس لئے آیت میں لفظ یرجون لا کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ سارے اعمال صالحہ کی پابندی کے بعد بھی کسی کو اپنی نجات اور درجات عالیہ کا یقین کرلینے کا حق نہیں، بس زیادہ سے زیادہ امید ہی کرسکتے ہیں۔ (روح)
اعمال صالحہ کی مثال تجارت سے
اس آیت میں ان اعمال صالحہ مذکورہ کو بطور تشبیہ و مثال ایک تجارت سے تعبیر کیا گیا، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کو تجارت سے تعبیر فرمایا ہے(آیت) ھل ادلکم علیٰ تجارة تنجیکم من عذاب الیم، تو منون باللہ و رسولہ وتجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم، تجارت کی مثال اس وصف میں ہے کہ تاجر اپنا سرمایہ اور وقت کسی کام میں اس وقت لگاتا ہے کہ اس سے اس کا سرمایہ بڑھ جائے گا، اور نفع پہنچے گا۔ لیکن دنیا کی ہر تجارت میں نفع کے ساتھ نقصان و خسارہ کا بھی احتمال لگا رہتا ہے۔ آیت مذکورہ میں تجارت کے ساتھ لن تبور کا لفظ بڑھا کر اشارہ کردیا کہ اس تجارت آخرت میں نقصان و خسارہ کا کوئی احتمال نہیں۔ اور اللہ کے نیک بندے جو اعمال صالحہ میں مشقت و محنت اٹھاتے ہیں وہ عام تجارتوں کی طرح تجارت نہیں کرتے، بلکہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا۔ اور ان کی امیدواری کا ذکر کرنا اشارہ خفی اس طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم الکرما ہیں، وہ امیدواروں کی امید کو قطع نہیں کریں گے بلکہ پورا کریں گے، بلکہ اگلے جملے میں یہ بھی فرما دیا کہ ان کی امید تو صرف اپنے عمل کا پورا بدلہ ملنے تک محدود ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے ان کی امیدوں سے بھی زیادہ عطا فرمائیں گے۔ (آیت) لیوفیہم اجورھم ویزیدھم من فضلہ، لفظ لیوفیہم کا تعلق لن تبور سے ہے۔ یعنی ان کی تجارت خسارے کی متحمل نہیں بلکہ ان کے اجر وثواب ان کو پورے پورے ملیں گے، اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کے مظنونہ اجر وثواب سے بھی کہیں زیادہ عطا فرمائیں گے۔
اس فضل و زیادتی میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی شامل ہے کہ مومن کے عمل کا اجر حق تعالیٰ چند در چند کر کے عطا فرماتے ہیں، جس کی ادنیٰ مقدار عمل کا دس گنا اور زیادہ سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے، اور دوسرے گناہگاروں کے حق میں ان کی سفارش قبول کرنا اس فضل میں شامل ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود نے رسول اللہ ﷺ سے اس فضل کی تفسیر میں یہ روایت کی ہے کہ ان لوگوں پر دنیا میں جس نے احسان کیا تھا یہ لوگ اس کی سفارش کریں گے تو باوجود سزائے جہنم کے مستحق ہونے کے ان کی سفارش سے ان کو نجات ہوجائے گی۔ (تفسیر مظہری بحوالہ ابن ابی حاتم) (اور یہ ظاہر ہے کہ شفاعت صرف اہل ایمان کے لئے ہو سکے گی، کافر کی شفاعت کی کسی کو اجازت نہ ہوگی) اسی طرح جنت میں حق تعالیٰ کا دیدار بھی اس فضل کا جزء اعظم ہے۔
Ayah 35:32ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا، حرف ثم عطف کے لئے آتا ہے، اور اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس حرف سے پہلے اور بعد کی دونوں چیزیں اصل وصف میں مشترک ہونے کے باوجود تقدیم و تاخیر رکھتی ہیں۔ پہلی چیز مقدم اور بعد کی چیز موخر ہوتی ہے، پھر یہ تقدیم و تاخیر کبھی زمانے کے اعتبار سے ہوتی ہے، کبھی رتبہ اور درجہ کے اعتبار سے۔ اس آیت میں حرف ثم عطف ہے اس سے پہلی آیت کے لفظ اوحینا پر، معنی یہ ہیں کہ ہم نے یہ کتاب یعنی قرآن جو خالص حق ہی ہے، اور تمام پہلی آسمانوں کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، پہلے بطور وحی آپ کے پاس بھیجی، اس کے بعد ہم نے اس کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنادیا جن کو ہم نے منتخب اور پسند کرلیا ہے اپنے بندوں میں سے۔ یہ اول و آخر اور مقدم و موخر ہونا رتبہ اور درجہ کے اعتبار سے تو ظاہر ہے کہ قرآن کا بذریعہ وحی آپ کے پاس بھیجنا رتبہ اور درجہ میں مقدم ہے اور امت محمدیہ کو عطا فرمانا اس سے موخر ہے۔ اور اگر امت کو وارث قرآن بنانے کا مطلب یہ لیا جائے کہ آپ نے اپنے بعد کے لئے امت کے واسطے زر و زمین کی وراثت چھوٹنے کے بجائے اللہ کی کتاب بطور وراثت چھوڑی، جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی شہادت موجود ہے کہ انبیاء درہم و دینار کی وراثت نہیں چھوڑا کرتے، وہ وراثت میں علم چھوڑتے ہیں اور ایک دوسری حدیث میں علماء کو وارث انبیاء فرمایا ہے، تو اس لحاظ سے یہ تقدیم و تاخیر زمانی بھی ہو سکتی ہے کہ ہم نے یہ کتاب آپ کو عنایت فرمائی ہے پھر آپ نے اس کو امت کے لئے بطور وارث چھوڑا۔ وارث بنانے سے مراد عطا کرنا ہے، اس عطا کو بلفظ میراث تعبیر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح وارث کو میراث کا حصہ بغیر اس کے کسی عمل اور کوشش کے مل جاتا ہے، قرآن کریم کی یہ دولت بھی ان منتخب بندوں کو اسی طرح بغیر کسی محنت و مشقت کے دے دی گئی ہے۔
امت محمدیہ خصوصاً اس کے علماء کی ایک اہم فضیلت و خصوصیت
الذین اصطفینا من عبادنا، یعنی جن کو ہم نے منتخب اور پسندیدہ قرار دے دیا اپنے بندوں میں سے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد امت محمدیہ ہے، اس کے علماء بلاواسطہ اور دوسرے لوگ بواسطہ علماء، علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ الذین اصطفینا سے مراد امت محمدیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر اس کتاب کا وارث بنایا ہے جو اس نے اتاری ہے، (یعنی قرآن سب کتب سابقہ کی تصدیق و حفاظت کرنے والی کتاب ہونے کی حیثیت سے تمام آسمانی کتابوں کے مضامین کی جامع ہے، اس کا وارث بننا گویا سب آسمانی کتابوں کا وارث بننا ہے) پھر فرمایا فظالمھم یغفرلہ ومقتصدھم یحاسب حساباً یسیراً وسابقہم یدخل الجنة بغیر حساب، یعنی اس امت کا ظالم بھی بخشا جائے گا اور میانہ روی کرنے والے سے آسان حساب لیا جائے گا، اور سابق بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا۔ (ابن کثیر)
اس آیت میں لفظ اصطفینا سے امت محمدیہ کی سب سے بڑی عظیم فضیلت ظاہر ہوئی۔ کیونکہ لفظ اصطفاء قرآن کریم میں اکثر انبیاء (علیہم السلام) کے لئے آیا ہے، اللہ یصطفی من الملئکة رسلاً ومن الناس، اور ایک آیت میں ہے (آیت) ان اللہ اصطفیٰ آدم و نوحاً وآل ابراہیم وآل عمران علیٰ العلمین، آیت مذکورہ میں حق تعالیٰ نے امت محمدیہ کو اصطفاء یعنی انتخاب میں انبیاء اور ملائکہ کے ساتھ شریک فرما دیا، اگرچہ اصطفاء کے درجات مختلف ہیں، انبیاء و ملائکہ کا اصطفاء اعلیٰ درجہ میں اور امت محمدیہ کا بعد کے درجہ میں ہے۔
امت محمدیہ کی تین قسمیں
(آیت) فمنہم ظالم لنفسہ ومنہم مقتصد ومنہم سابق بالخیرات، یہ جملہ پہلے جملے کی تفسیر و توضیح ہے۔ یعنی ہم نے اپنے بندوں کو منتخب اور پسند فرما کر ان کو قرآن کا وارث بنایا ہے، ان کی تین قسمیں ہیں، ظالم، مقتصد، سابق۔
ان تینوں قسموں کی تفسیر امام ابن کثیر نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ ظالم سے مراد وہ آدمی ہے جو بعض واجبات میں کوتاہی کرتا ہے اور بعض محرکات کو بھی ارتکاب کرلیتا ہے اور مقتصد (یعنی درمیانی چال چلنے والا) وہ شخص ہے جو تمام واجبات شرعیہ کو ادا کرتا ہے اور تمام محرمات سے بچتا ہے، مگر بعض اوقات بعض مستحبات کو چھوڑ دیتا ہے اور بعض مکروہات میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور سابق بالخیرات وہ شخص ہے جو تمام واجبات اور مستحبات کو ادا کرتا ہے، اور تمام محرمات و مکروہات سے بچتا ہے، اور بعض مباحات کو اشتغال عبادت یا شبہ حرمت کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے۔
یہ ابن کثیر کا بیان ہے۔ دوسرے مفسرین نے ان تین قسموں کی تفسیر میں بہت مختلف اقوام نقل کئے ہیں۔ روح المعانی میں بحوالہ تحریر تینتالیس اقوال کا ذکر کیا ہے، مگر غور کیا جائے تو ان میں سے اکثر کا حاصل وہی ہے جو اوپر ابن کثیر کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔
ایک شبہ اور جواب
مذکورہ تفسیر سے یہ ثابت ہوا کہ الذین اصطفینا سے مراد امت محمدیہ ہے اور اس کی یہ تین قسمیں ہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ اس کی پہلی قسم یعنی ظالم بھی الذین اصطفینا یعنی اللہ کے منتخب بندوں میں شامل ہیں، اس کو بظاہر مستبعد سمجھ کر بعض لوگوں نے کہا کہ یہ امت محمدیہ اور اصطفینا سے خارج ہے۔ مگر بہت سی احادیث صحیحہ معتبرہ سے ثابت ہے کہ یہ تینوں قسمیں امت محمدیہ کی ہیں اور اصطفینا کے وصف سے خارج نہیں۔ یہ امت محمدیہ کے مومن بندوں کی انتہائی خصوصیت اور فضیلت ہے کہ ان میں جو عملی طور پر ناقص بھی ہیں وہ بھی اس شرف میں داخل ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے اس جگہ وہ سب روایات حدیث جمع کردی ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں
حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت مذکورہ الذین اصطفینا کی تینوں قسموں کے متعلق فرمایا کہ یہ سب ایک ہی مرتبے میں ہیں اور سب جنت میں ہیں۔ (رواہ احمد، ابن کثیر) ایک مرتبہ میں ہونے سے مراد یہ ہے کہ سب کی مغفرت ہوجائے گی اور سب جنت میں جائیں گے، یہ مطلب نہیں کہ درجات کے اعتبار سے ان میں تفاضل نہ ہوگا۔
اور حضرت ابو الدرداء سے باسانید متعددہ ایک حدیث منقول ہے، ابن کثیر نے ان سب کو نقل کیا ہے۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو ابن جریر نے ابو ثابت سے نقل کی ہے کہ وہ ایک روز مسجد میں گئے تو وہاں ابو الدرداء پہلے سے بیٹھے تھے۔ ابو ثابت ان کے برابر جا کر بیٹھ گئے اور یہ دعا کرنے لگے، اللہم انس وحشتی وارحم غربتی ویسرلی جلیساً صالحاً ”یعنی یا اللہ میری قلبی وحشت و پریشانی کو دور فرما اور میری حالت مسافرت پر رحم فرما، اور مجھے کوئی جلیس (ہمنشین) صالح نصیب فرما دے“ (یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ سلف صالحین میں جلیس صالح کی طلب و تلاش کا درجہ کیا تھا کہ اس کو اہم مقصد اور سب پریشانیوں کا علاج سمجھ کر اللہ تعالیٰ سے اس کی دعائیں مانگتے تھے) ابو الدرداء نے یہ دعا سنی تو فرمایا کہ اگر آپ اپنی اس دعا و طلب میں سچے ہیں تو میں اس معاملہ میں آپ سے زیادہ خوش نصیب ہوں (مطلب یہ ہے کہ مجھے اللہ نے آپ جیسا جلیس صالح بےمانگے دے دیا) اور فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، مگر جب سے میں نے اس کو سنا ہے اب تک کسی سے بیان کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ وہ یہ ہے کہ آپ نے اس آیت کا ذکر فرمایا (آیت) ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا الآیة، پھر فرمایا کہ ان تین قسموں میں سے جو سابق بالخیرات ہیں وہ تو بےحساب جنت میں جائیں گے اور جو مقتصد یعنی درمیانے ہیں ان سے ہلکا حساب لیا جائے گا، اور ظالم یعنی جو اعمال میں کوتاہی کرنے والے اور گناہوں کی لغزش میں مبتلا ہونے والے ہیں، ان کو اس مقام میں سخت رنج وغم طاری ہوگا، پھر ان کو بھی جنت میں داخلہ کا حکم ہوجائے گا، اور سب رنج و غم دور ہوجائیں گے۔ اسی کا ذکر اگلی آیت میں آیا ہے(آیت) وقالوا الحمد اللہ الذی اذھب عنا الحزن ”یعنی وہ کہیں گے شکر ہے اللہ کا جس نے ہمارا غم دور کردیا“
اور طبرانی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وکلہم من ھذہ الامة، یعنی یہ تینوں قسمیں اسی امت محمدیہ میں سے ہوں گی۔
اور ابو داؤد طیالسی نے عقبہ ابن صہبان بنائی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ام المومنین حضرت صدیقہ عائشہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی تو انہوں نے فرمایا، بیٹا یہ تینوں قسمیں جنتی ہیں۔ ان میں سے سابق بالخیرات تو وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گزر گئے، جن کے جنتی ہونے کی شہادت خود رسول اللہ ﷺ نے دے دی اور مقتصد وہ لوگ ہیں جو ان کے نشان قدم پر چلے، اور سابقین کی اقتداء پر قائم رہے یہاں تک کہ ان کے ساتھ مل گئے، باقی رہے ظالم لنفسہ، تو ہم تم جیسے لوگ ہیں۔
یہ صدیقہ عائشہ کی تواضع تھی کہ اپنے آپ کو بھی انہوں نے تیسرے درجہ میں یعنی ظالم لنفسہ میں شمار کیا حالانکہ وہ احادیث صحیحہ کی تصریحات کے مطابق سابقین اولین میں سے ہیں۔
اور ابن جریر نے حضرت محمد بن حنفیہ سے نقل کیا، فرمایا کہ یہ امت امت مرحومہ ہے اس کا ظالم بھی مغفور ہے اور مقتصد یعنی میانہ رو جنت میں ہے، اور سابق بالخیرات اللہ کے نزدیک درجات عالیہ میں ہے۔
اور حضرت محمد بن علی باقر ؓ نے ظالم لنفسہ کی تفسیر میں فرمایا الذین خلط عملاً صالحاً واخر سیئاً ، یعنی وہ شخص جس نے نیک وبد دونوں طرح کے اعمال میں خلط ملط کیا ہو۔
علماء امت محمدیہ کی عظیم الشان فضیلت
اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ہم نے اپنی کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جو ہمارے بندوں میں منتخب اور برگزیدہ ہیں۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ کتاب اللہ اور علوم نبوت کے بلاواسطہ وارث حضرات علماء ہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ارشاد ہے العلماء ورثة الانبیاء، حاصل اس کا یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن و سنت کے علوم کا مشغلہ اخلاص کے ساتھ نصیب فرمایا یہ اس کی علامت ہے کہ وہ اللہ کے برگزیدہ اولیاء ہیں، جیسا کہ حضرت ثعلب بن الحکم نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز علماء امت سے خطاب فرما کر کہیں گے کہ میں نے تمہارے سینوں میں اپنا علم و حکمت صرف اسی لئے رکھا تھا کہ میرا ارادہ یہ تھا کہ تمہاری مغفرت کر دوں عمل تمہارے کیسے بھی ہوں (یہ اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ جس شخص میں خشیت اور خوف خدا نہیں وہ علماء کی فہرست ہی سے خارج ہے۔ اس لئے یہ خطاب انہی لوگوں کو ہوگا جو خشیتہ اللہ میں رنگے ہوئے ہوں ان سے یہ ممکن ہی نہیں ہوگا کہ بےفکری سے گناہوں میں ملوث رہیں، ہاں طبیعت بشریہ کے تقاضوں سے کبھی کبھی لغزش ان سے بھی ہوتی ہے۔ اسی کو اسی حدیث میں فرمایا کہ عمل تمہارے کیسے بھی ہوں تمہارے لئے مغفرت مقدر ہے۔
یہ سب روایات تفسیر ابن کثیر سے لی گئی ہیں، اور آخری حدیث میں جو حضرت ثعلبہ سے روایت کی گئی ہے اس کو طبرانی نے بھی روایت کیا ہے، جس کی سند کے سب رجال ثقاة ہیں۔ (تفسیر مظری) اور تفسیر مظہری میں بحوالہ ابن عساکر حدیث مذکور کا یہی مضمون ابوعمر صنعانی سے بھی روایت کیا ہے، اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ محشر میں اللہ اپنے سب بندوں کو جمع فرما دیں گے پھر ان میں سے علماء کو ایک ممتاز مقام پر جمع کر کے فرما دیں گے
”یعنی میں نے اپنا علم تمہارے قلوب میں اسی لئے رکھا تھا کہ میں تم سے واقف تھا (کہ تم اس امانت علم کا حق ادا کرو گے) میں نے اپنا علم تمہارے سینوں میں اس لئے نہیں رکھا تھا کہ تمہیں عذاب دوں جاؤ میں نے تمہاری مغفرت کردی“۔ (مظہری)
فائدہ
اس آیت میں سب سے پہلے ظالم کو پھر مقتصد کو آخر میں سابق بالخیرات کو ذکر فرمایا ہے۔ اس ترتیب کا سبب شاید یہ ہو کہ تعداد کے اعتبار سے ظالم لنفسہ سب سے زیادہ ہیں ان سے کم مقتصد اور ان سے کم سابق بالخیرات ہیں، جن کی تعداد زیادہ تھی ان کو مقدم کیا گیا۔
Ayah 35:33(آیت) ذلک ہوالفضل الکبیر جنت عدن یدخلو نہا یحلون فیہا من اساور من ذھب ولولوءا ولباسہم فیہا حریر، شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ منتخب لوگوں کی تین قسمیں بتلائی ہیں، پھر فرمایا ذلک ہو الفضل الکبیر، یعنی ان تینوں کو برگزیدہ بندوں میں شمار کرنا یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔ آگے ان کی جزاء کا بیان ہے کہ یہ جنت میں جائیں گے، ان کو سونے کے کنگن اور موتیوں کے زیور پہنائے جائیں گے، اور لباس ان کا ریشمی ہوگا۔
دنیا میں مردوں کے لئے سونے کا زیور پہننا بھی حرام ہے اور ریشمی لباس بھی، اس کے عوض میں ان کو جنت میں یہ سب چیزیں دی جائیں گی۔ اور اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ زیور پہننا تو عورتوں کا کام ہے، مردوں کے شایان شان نہیں، کیونکہ آخرت اور جنت کے حالات کو دنیا کے حالات پر قیاس کرنا بےعقلی ہے۔
حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کے سروں پر تاج موتیوں سے مرصع ہوں گے۔ ان کے ادنیٰ موتی کی روشنی ایسی ہوگی کہ مشرق سے مغرب تک پورے عالم کو روشن کر دے گی۔ رواہ الترمذی والحاکم وصحیحہ والبیہقی از مظہری)۔
امام قرطبی نے فرمایا کہ حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ ہر جنتی کے ہاتھ میں کنگن پہنائے جائیں گے، ایک سونے کا ایک چاندی کا ایک موتیوں کا۔ جنتی کنگن کے متعلق ایک آیت میں چاندی کے اور دوسری میں سونے کے مذکور ہیں۔ اس تفسیر سے ان دونوں آیتوں میں تطبیق بھی ہوگئی۔
Ayah 35:34جو شخص دنیا میں سونے چاندی کے برتن اور ریشمی لباس استعمال کرے گا جنت میں ان سے محروم ہوگا
حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ریشمی لباس نہ پہنو، اور سونے چاندی کے برتنوں میں پانی نہ پیو، اور نہ ان کی پلیٹ کھانے میں استعمال کرو، کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کفار کے لئے ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں (بخاری ومسلم)
اور حضرت عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس مرد نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا وہ آخرت میں نہ پہن سکے گا۔ (بخاری ومسلم) اور حضرت ابو سعید خدری کی ایک روایت میں ہے کہ دنیا میں ریشمی لباس پہننے والا مرد آخرت میں اس سے محروم رہے گا، اگرچہ جنت میں چلا بھی جائے۔ (مظہری)
(آیت) وقالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن، یعی اہل جنت جنت میں داخل ہونے کے وقت کہیں گے، شکر ہے اللہ کا جس نے ہمارا غم دور کردیا۔ اس غم سے کیا مراد اس میں ائمہ تفسیر کے مختلف اقوال ہیں۔ اور صحیح یہ ہے کہ سارے ہی رنج وغم اس میں داخل ہیں۔ دنیا میں انسان کتنا ہی بڑا بادشاہ بن جائے یا نبی و ولی رنج و غم سے کسی کو چھٹکارا نہیں
دریں دنیا کسے بےغم نباشد
وگر باشد بنی آدم نباشد
اس دنیا میں غموں اور فکروں سے کسی نیک یا بد کو نجات نہیں، اسی لئے اہل دانش دنیا کو دارالحزان کہتے ہیں۔ اس آیت میں جس غم کے دور کرنے کا ذکر ہے اس میں یہ دنیا کے غم بھی سب کے سب داخل ہیں، دوسرا غم وفکر قیامت اور حشر ونشر کا، تیسرا حساب و کتاب کا، چوتھا جہنم کے عذاب کا، اہل جنت سے اللہ تعالیٰ یہ سب غم دور فرما دیں گے۔
حضرت عبداللہ ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کلمہ لا الہ الا اللہ والوں میں نہ موت کے وقت کوئی وحشت ہوتی ہے، نہ قبر میں اور نہ محشر میں۔ گویا کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ جس وقت یہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو یہ کہتے ہوں گے الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن، (رواہ الطبرانی، مظہری)
اور حضرت ابو الدردا کی حدیث جو اوپر گزری ہے اس میں جو یہ فرمایا ہے کہ یہ قول ان لوگوں کا ہوگا جو ظالم لنفسہ ہیں۔ کیونکہ محشر میں ان کو ابتداء سخت رنج وغم اور اضطراب پیش آئے گا۔ آخر میں دخول جنت کا حکم مل کر یہ رنج وغم دور ہوجائے گا۔ اس حدیث ابن عمر کے منافی نہیں، کیونکہ ظالم لنفسہ کو دوسروں کے غموں سے زیادہ ایک غم محشر میں بھی پیش آئے گا جو دخول جنت کے وقت دور ہوجائے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ قول تو سبھی اہل جنت کہیں گے، خواہ سابقین میں سے ہوں یا مقتصدین میں سے یا ظالم لنفسہ، لیکن ہر ایک کے غموں کی فہرست الگ الگ ہونا کچھ مستبعد نہیں۔
امام جصاص نے فرمایا کہ مومن کی شان یہی ہے کہ دنیا میں فکر وغم سے خالی نہ رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور اکابر صحابہ کے حالات میں ہے کہ یہ حضرات اکثر محزون و مغموم نظر آتے تھے۔
Ayahs 35:35–36الذی احلنا دارالمقامة من فضلہ لا یمسنا فیہا نصب ولا یمسنا فیہا لغوب، اس آیت میں جنت کی چند خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔ اول یہ کہ وہ دارالمقامة ہے، اس کے زوال یا وہاں سے نکالے جانے کا کسی وقت خطرہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ وہاں کسی کو کوئی غم پیش نہ آئے گا، تیسرے یہ کہ وہاں کسی کو تھکان بھی محسوس نہیں ہوگا جیسے دنیا میں آدمی کو تھکان ہوتا ہے، کام چھوڑ کر نیند کی ضرورت محسوس کرتا ہے، جنت اس سے بھی پاک ہوگی۔ بعض روایات حدیث میں بھی یہ مضمون مذکور ہے۔ (مظہری)
Ayah 35:37(آیت) اولم نعمرکم ما یذکر فیہ من تذکر و جاء کم النذیر، یعنی جب جہنم میں یہ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار آپ ہمیں اس عذاب سے نکال دیجئے اب ہم نیک عمل کریں گے اور پچھلی بد اعمالیوں کو چھوڑ دیں گے۔ اس وقت یہ جواب دیا جائے گا کہ کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر کی مہلت نہیں دی تھی جس میں غور کرنے والا غور کر کے صحیح راستہ پر آجائے۔ حضرت علی ابن حسین زین العابدین ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد سترہ سال کی عمر ہے۔ اور حضرت قتادہ نے اٹھارہ سال کی عمر بتلائی اور مراد اس سے عمر بلوغ ہے، اور سترہ اٹھارہ کا فرق بلوغ میں ہوسکتا ہے کہ کوئی سترہ سال میں بالغ ہو کوئی اٹھارہ سال میں۔ عمر بلوغ شریعت میں پہلی حد ہے، جس میں داخل ہو کر انسان کو منجانب اللہ اتنی عقل دے دی جاتی ہے کہ اپنے بھلے برے کو سمجھنے لگے۔ اس لئے یہ خطاب عام کفار سے ہوگا، خواہ طویل العمر ہوں یا قصیر العمر۔ البتہ جس کو عمر طویل ملی اور پھر بھی اس نے ہوش نہ سنبھالا، اور دلائل قدرت کو دیکھ کر اور انبیاء کی باتیں سن کر حق کو نہ پہچانا وہ زیادہ مستحق ملامت ہوگا۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو صرف عمر بلوغ ملی اس کو بھی قدرت نے اتنا سامان دے دیا تھا کہ حق و باطل میں امتیاز کرسکے، جب نہ کیا تو وہ بھی مستحق ملامت و عذاب کا ہے، لیکن جس کو زیادہ عمر طویل ملی اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت اور زیادہ پوری ہوگئی وہ اگر اپنے کفر و معصیت سے باز نہ آیا وہ زیادہ مستحق عذاب و ملامت ہے۔
حضرت علی مرتضیٰ نے فرمایا وہ عمر جس پر اللہ تعالیٰ نے گناہگار بندوں کو عار دلائی ساٹھ سال ہے۔ اور حضرت ابن عباس نے ایک روایت میں چالیس اور دوسری میں ساٹھ سال کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ وہ عمر ہے جس میں انسان پر اللہ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور انسان کو کوئی عذر کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ ابن کثیر نے حضرت ابن عباس کی اس دوسری حدیث کو ترجیح دی ہے۔
تقریر مذکور سے واضح ہوچکا ہے کہ سترہ اٹھارہ سال کی روایات اور ساٹھ سال کی روایات میں کوئی تعارض نہیں۔ اگرچہ انسان سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں اس قابل ہوتا ہے کہ غور وفکر کر کے حق و باطل میں تمیز کرے، اسی لئے اسی عمر بلوغ سے اس کو احکام شرعیہ کا مکلف قرار دیا گیا ہے، مگر ساٹھ سال ایسی عمر طویل ہے کہ اگر اس میں بھی کسی نے حق کو نہ پہچانا تو اسے کسی عذر کی گنجائش نہیں رہی، اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری تمام ہوچکی۔ اسی لئے امت مرحومہ کی عام عمریں ساٹھ سال سے ستر سال تک مقدر ہیں، جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے
”یعنی میری امت کے عمریں ساٹھ سے ستر سال تک ہوں گی، کم لوگ ہوں گے جو اس سے تجاوز کریں گے“
آخر آیت میں فرمایا (آیت) وجاء کم النذیر، اس میں اشارہ ہے کہ انسان کو عمر بلوغ کے وقت سے اتنی عقل وتمیز منجانب اللہ عطا ہوجاتی ہے کہ کم از کم اپنے خالق ومالک کو پہچانے اور اس کی رضا جوئی کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے۔ اتنے کام کے لئے خود انسانی عقل بھی کافی تھی، مگر اللہ جل شانہ، نے صرف اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اس عقل کی امداد کے لئے نذیر بھی بھیجے، نذیر کے معنی اردو میں ڈرانے والے کے کئے جاتے ہیں، درحقیقت نذیر وہ شخص ہے جو اپنی رحمت و شفقت کے سبب اپنے لوگوں کو ایسی چیزوں سے بچنے کی ہدایت کرے جو اس کو ہلاکت یا مضرت میں ڈالنے والی ہیں، اور ان چیزوں سے لوگوں کو ڈرائے۔ مراد اس سے معروف معنی کے اعتبار سے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے نائب علماء ہیں۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ ہم نے حق و باطل کو پہچاننے کے لئے عقل بھی دی، اس کے ساتھ اپنے پیغمبر بھی بھیجے جو حق کی طرف ہدایت کریں باطل سے بچائیں۔
اور حضرت ابن عباس، عکرمہ اور امام جعفر باقر سے منقول ہے کہ نذیر سے مراد بڑھاپے کے سفید بال ہیں، کہ جب وہ ظاہر ہوجائیں تو وہ انسان کو اس کی ہدایت کرتے ہیں کہ اب رخصت کا وقت قریب آ گیا ہے۔ یہ قول بھی پہلے قول سے متعارض نہیں کہ سفید بال بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نذیر ہوں اور انبیاء و علماء بھی۔
اور حقیقت یہ ہے کہ انسان کو بالغ ہونے کے بعد سے جتنے حالات پیش آتے ہیں اس کے اپنے وجود اور گردو پیش میں جو تغیرات و انقلابات آتے ہیں، وہ سب ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نذیر اور انسان کو متنبہ کرنے والے ہیں۔
Ayah 35:38خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ (وہی) جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا بیشک وہی جاننے والا ہے دل کی باتوں کا (پس کمال علمی تو اس کا ایسا ہے، اور کمال عملی جو کہ قدرت اور نعمت دونوں پر دلالت کرتا ہے یہ ہے کہ) وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا (اور ان دلائل احسانات کا مقتضا یہ تھا کہ استدلا لاً وشکراً توحید و اطاعت اختیار کرلیتے، مگر بعضے اس کے خلاف کفر و عداوت پر مصر ہیں) سو (کسی دوسرے کا کیا بگڑتا ہے، بلکہ) جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور (اس وبال کی تفصیل یہ ہے کہ) کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضگی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے (جو دنیا ہی میں متحقق ہوجاتی ہے) اور (نیز) کافروں کے لئے ان کا کفر (آخرت میں) خسارہ بڑھنے کا باعث ہوتا ہے (کہ وہ حرمان ہے۔ جنت سے اور کندہ بنتا ہے جہنم کا اور یہ جو کفر و شرک پر مصر ہیں) آپ (ان سے ذرا یہ تو) کہتے کہ تم اپنے قرار دادہ شریکوں کا حال تو بتلاؤ جن کو تم خدا کے سوا پوجا کرتے ہو، یعنی مجھ کو یہ بتلاؤ کہ انہوں نے زمین کا کونسا حصہ بنایا ہے یا ان کا آسمان (بنانے) میں کچھ ساجھا ہے، (تا کہ دلیل عقلی سے ان کا استحقاق عبادت ثابت ہو) یا ہم نے ان (کافروں) کو کوئی کتاب دی ہے (جس میں شرک کے اعتقاد کو درست لکھا ہو) کہ یہ اس کی دلیل پر قائم ہوں (اور اس دلیل نقلی سے اپنے دعوے کو ثابت کردیں۔ اصل یہ ہے کہ نہ دلیل عقلی ہے نہ دلیل نقلی ہے) بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے نری دھوکہ کی باتوں کا وعدہ کرتے آئے ہیں (کہ ان کے بڑوں نے ان کو بےسند غلط بات بتلا دی کہ (لہولاء شفعاؤنا عند اللہ) حالانکہ واقع میں وہ محض بےاختیار ہیں، پس وہ مستحق عبادت نہیں ہو سکتے۔ البتہ مختار مطلق حق تعالیٰ ہے تو وہی قابل عبادت ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے مختار اور دوسروں کے غیر مختار ہونے کے دلائل میں سے نمونہ کے طور پر ایک مختصر سی بات بیان کرتے ہیں کہ دیکھو یہ تو) یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو (اپنی قدرت سے) تھامے ہوئے ہے کہ وہ موجودہ حالات کو چھوڑ نہ دیں اور اگر (بالفرض) وہ موجودہ حالت کو چھوڑ بھی دیں تو پھر خدا کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا۔ (جب ان سے پیدا شدہ عالم کی حفاظت بھی نہیں ہو سکتی تو عالم کو وجود میں لانے اور ایجاد کرنے کی ان سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے، پھر استحقاق عبادت کیسا اور باوجود بطلان کے شرک کرنا مقتضی اس کو تھا کہ ان کو ابھی سزا دی جاوے مگر چونکہ) وہ حلیم (ہے اس لئے مہلت دے رکھی ہے اور اگر اس مہلت میں یہ لوگ حق کی طرف آ جاویں تو چونکہ وہ) غفور (بھی) ہے، اس لئے سب گزشتہ شرارتیں ان کی معاف کردی جاویں)۔
Ayahs 35:39–40معارف و مسائل
(آیت) ہوالذی جعلکم خلئف فی الارض، خلائف خلیفہ کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں نائب اور قائم مقام۔ مراد یہ ہے کہ ہم نے انسانوں کو یکے بعد دیگرے زمین و مکان وغیرہ کا مالک بنایا ہے ایک جاتا ہے تو دوسرے کو اس کی جگہ ملتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے لئے بڑی عبرت ہے۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ خطاب امت محمدیہ کو ہو کہ ہم نے پچھلی قوموں کے بعد ان کے خلیفہ کی حیثیت سے تم کو مالک و متصرف بنایا ہے، لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ اپنے سے پہلے لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل کرو، عمر کے قیمتی لمحات کو غفلت میں نہ گزارو۔
Ayah 35:41ان اللہ یمسک السموٰت، آسمانوں کو روکنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی حرکت بند کردی بلکہ مراد اپنی جگہ سے ہٹ جانا اور ٹل جانا ہے، جیسا کہ لفظ ان تزولا اس پر شاہد ہے اس لئے اس آیت میں آسمان کے متحرک یا ساکن ہونے میں سے کسی جانب پر کوئی دلیل نہیں۔
Ayah 35:42خلاصہ تفسیر
اور ان کفار (قریش) نے (قبل بعثت رسول اکرم ﷺ ، بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے (یعنی ہمارے) پاس کوئی ڈرانے والا (یعنی پیغمبر) آئے تو وہ (یعنی ہم) ہر ہر امت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں (یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ کی طرح ہم تکذیب نہ کریں گے سو پہلے سے تو یہ قسمیں کھایا کرتے تھے) پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر (یعنی رسول اللہ ﷺ آپہنچے تو اب ان کی نفرت ہی کو ترقی ہوئی دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے اور (صرف نصرت ہی پر اکتفا نہیں ہوا بلکہ) ان کی بری تدبیروں کو (بھی ترقی ہوئی، یعنی تکبر کی وجہ سے آپ کے اتباع سے عار تو ہوئی ہی تھی، مگر یہ بھی نہ کیا کہ نہ اتباع ہوتا اور نہ درپے آزار ہوتے، بلکہ آپ کی ایذاء رسانی کی فکر میں لگ گئے۔ چناچہ ہر وقت ان کا اسی میں لگا رہنا معلوم و مشہور ہے) اور (یہ جو کچھ ہمارے رسول کے لئے بری بری تدبیریں کر رہے ہیں خود اپنا ہی ضرر کر رہے ہیں، کیونکہ) بری تدبیروں کا وبال (حقیقی) ان تدبیر والوں پر ہی پڑتا ہے (گو ظاہر میں کبھی اس شخص کو بھی ضرر پہنچ جائے جس کو ضرر پہنچانا چاہا ہے، لیکن وہ ضرر دنیوی ہے بخلاف ظالم ضرر رساں کے اس پر اخروی ضرر و وبال پڑے گا اور دنیوی ضرر اخروی ضرر کے سامنے لا شے ہے۔ پس اس ضرر حقیقی کے اعتبار سے حصر بالکل واقعی ہے) سو (یہ جو آپ کی عداوت اور ضرر رسانی پر مصر ہیں تو) کیا یہ (اپنے ساتھ بھی حق تعالیٰ کے) اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے (کافر) لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے (یعنی عذاب و ہلاکت) سو (واقعی ان کے لئے بھی یہی ہونا ہے کیونکہ) آپ خدا کے (اس) دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے (کہ ان پر بجائے عذاب کے عنایت ہونے لگے) اور (اسی طرح) آپ خدا کے (اس) دستور کو بھی منتقل ہوتا ہوا نہ پاویں گے (کہ ان کی جگہ دوسروں کو جو ایسے نہ ہوں عذاب ہونے لگے مطلب یہ کہ حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ کافروں کو عذاب ہوگا، خواہ دنیا میں بھی خواہ صرف آخرت میں، اور حق تعالیٰ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ پس نہ یہ احتمال ہے کہ ان کو عذاب نہ ہو اور نہ یہ احتمال کہ دوسرے بےگناہوں کو عذاب ہونے لگے۔ مقصود اس تکریر سے تاکید ہے وقوع عذاب کی) اور (یہ جو سمجھتے ہیں کہ کفر موجب تعذیب نہیں ہے تو ان کی بڑی غلطی ہے) کیا یہ لوگ زمین میں (مثلاً شام اور یمن کے سفروں میں عاد وثمود قوم لوط ؑ کی بستیوں میں) چلے پھرے نہیں جس میں دیکھتے بھالتے کہ جو (منکر) لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا (آخری) انجام (اسی تکذیب کے سبب) کیا ہوا (کہ معذب ہوئے) حالانکہ وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے اور (کسی میں خواہ کیسی ہی قوت ہو لیکن) خدا ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز (قوت والی) اس کو ہرا دے نہ آسمان میں اور نہ زمین میں (کیونکہ) وہ بڑے علم والا (اور) بڑی قدرت والا ہے (پس علم سے اپنے ہر ارادہ کے نافذ کرنے کا طریقہ جانتا ہے، اور اپنی قدرت سے اس کو نافذ کرسکتا ہے، اور دوسرا کوئی ایسا ہے نہیں۔ پھر اس کو کون چیز ہرا سکتی ہے) اور (اگر یہ اس دھوکہ میں ہوں کہ اگر ہم کو عذاب ہونا ہوتا تو ہو چکتا، اور اس سے اپنے شرک و کفر کے اچھے ہونے پر استدلال کریں تو یہ بھی ان کی غلطی ہے، کیونکہ بمقتضائے حکمت ان کے لئے فوری عذاب تجویز نہیں کیا گیا ورنہ) اگر اللہ تعالیٰ (ان) لوگوں پر ان کے اعمال (کفریہ) کے سبب (فوراً) داردگیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک متنفس کو نہ چھوڑتا، (کیونکہ کفار تو کفر سے ہلاک ہوجاتے اور اہل ایمان بوجہ قلت کے دنیا میں نہ رکھے جاتے۔ کیونکہ نظام عالم بمقتضائے حکمت مجموعہ کے ساتھ وابستہ ہے اور یہ ضروری نہیں کہ وہ اسی عذاب سے ہلاک ہوتے۔ اور دوسری مخلوقات اس لئے کہ مقصود ان کی تخلیق کا انتفاع بنی آدم ہے، جب یہ نہ ہوتے تو وہ بھی نہ رہتے) لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ایک میعاد معین (یعنی قیامت) تک مہلت دے رہا ہے، سو جب ان کی وہ میعاد آپہنچے گی (اس وقت) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا (یعنی ان میں جو کفار ہوں گے ان کو سزا دے لے گا)۔
Ayahs 35:43–45معارف و مسائل
(آیت) ولا یحیق المکر السیی الا باھلہ، لا یحیق کے معنی لا یحیط یا لا یصیب کے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ بری تدبیر کا وبال اور کسی پر نہیں پڑتا، بلکہ خود ایسی تدبیر کرنے والے پر ہی پڑتا ہے۔ یعنی جو شخص دوسروں کا برا چاہتا ہے وہ خود برائی کا شکار ہوجاتا ہے۔
اس پر جو یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ دنیا میں تو بہت مرتبہ یہ بھی مشاہدہ ہوتا ہے کہ بری تدبیر کرنے والے کی تدبیر چل جاتی ہے اور جس کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے اس کو نقصان پہنچ جاتا ہے اس کا ایک جواب تو خلاصہ تفسیر میں آ گیا ہے کہ اس کو جو تکلیف یا نقصان پہنچا وہ تو دنیا کا نقصان ہے، اور ایسی بری تدبیر کرنے والے کا نقصان آخرت کا عذاب ہے، جو اشد بھی ہے اور دائمی بھی، اس کے مقابلہ میں اس کا دنیوی نقصان کالعدم ہے۔
دوسرا جواب بعض حضرات نے یہ بھی دیا ہے کہ کسی بےگناہ کے خلاف تدبیر کرنے اور اس پر ظلم کرنے کا وبال ظالم پر اکثر دنیا میں بھی پڑجاتا ہے۔ محمد بن کعب قرظی نے فرمایا کہ تین کام ایسے ہیں جن کا کرنے والا دنیا میں بھی وبال عذاب سے نہیں بچتا، ایک کسی بےگناہ کے حق میں بری تدبیر کر کے اس کو ایذا پہنچانا، دوسرے عام ظلم، تیسرے عہد شکنی (ابن کثیر) خصوصاً جو کسی ایسے شخص پر کیا جائے جو بےکس بےبس ہو، انتقام پر قدرت نہ رکھتا ہو یا باوجود قدرت انتقام کے صبر کرے، اس پر ظلم کے وبال سے دنیا میں بھی کسی کو بچتے نہیں دیکھا۔
بس تجربہ کردیم دریں دیر مکافات
بادر دکشاں ہر کہ در افتاد برافتاد
اس کا حاصل یہ ہوگا کہ آیت میں جو حصر یہاں کیا گیا ہے وہ اکثری قاعدہ کے اعتبار سے ہے کلی نہیں۔ واللہ اعلم