36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 36:1
Ayah 36:2

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن حکیم کی

Ayahs 36:3–5

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

کہ تم یقینا پیغمبروں میں سے ہو

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

(اور) سیدھے راستے پر ہو۔

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

(یہ قرآن) زبردست (اور) رحیم (ہستی) نے اتارا ہے

[1] یعنی تمہارے پیغمبر ہونے کا ثبوت یہ قرآن ہے جو سراسر حکمت سے لبریز ہے۔ یہ چیز خود شہادت دے رہی ہے کہ جو شخص ایسا حکیمانہ کلام پیش کر رہا ہے وہ یقینا اللہ کا رسول ہے۔ (نیز قرآنی قسموں کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو اقسام القران بر صفحہ 1262)
Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم ایک ایسی قوم (کے لوگوں) کو (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کرو جن کے باپ دادا (تم سے پہلے) خبردار نہ کئے گئے تھے۔ پس (اس وجہ سے) وہ (دین سے) غافل ہیں۔

[2] کفار مکہ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد تھے۔ ان کی طرف اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد نبی ﷺ کی بعثت تک (یعنی تقریباً دو ہزار سال تک) کوئی پیغمبر نہیں آیا۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے اس لئے وہ ایمان نہ لائیں گے۔

[3] یعنی یہ لوگ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے فیصلہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں اس لئے دعوت حق قبول کرنے والے نہیں۔
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک (اَڑ گئے) ہیں اس لئے ان کے سر اٹھے رہ گئے ہیں۔

[4] یہ طوق عادات و رسوم، حُبِّ جاہ و مال اور تقلید آباؤ اجداد کے تھے۔ جنہوں نے ان کی گردنیں سختی سے دبا رکھی تھیں اور نخوت وتکبر کے سبب ان کے سر نیچے نہیں جھکتے تھے۔
Ayah 36:9

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ایک دیوار (تو) ان کے آگے (کھڑی) کردی ہے اور ایک پیچھے اور (اوپر سے) ان کو ڈھانک دیا ہے، پس انہیں کچھ نہیں سوجھتا۔

[5] نبی کی عداوت نے ان کے اور قبول حق کے درمیان دیواریں کھڑی کردی تھیں۔ وہ جاہلانہ رسوم واطوار اور خیالات فاسدہ کے اندھیروں میں اس طرح بند تھے کہ انہیں آگا پیچھا اور نشیب و فراز کچھ نظر نہ آتا تھا۔ نہ ماضی پر نظر تھی نہ مستقبل پر۔ باقی ان افعال کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لئے کی گئی کہ خالق خیر وشر وہی ہے۔ اس ضمن میں ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93 اور سورة اعراف حاشیہ 55 صفحہ 385۔
Ayahs 36:10–11

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ان کے لئے یکساں ہے کہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، وہ ایمان نہیں لانے کے۔

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تم تو بس اسی کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت پر چلے اور بےدیکھے رحمن سے ڈرے، تو اسے (گناہوں کی) معافی اور (اعمال نیک کے بدلے میں) عزت کے اجر کی خوشخبری سنا دو ۔

[6] ان کے لئے یکساں ہے لیکن تمہارے لئے یکساں نہیں۔ بلکہ ایسی سرکش اور معاند قوم کو نصیحت کرنا اور اس کی اصلاح کے درپے ہونا عظیم درجات کے حصول کا سبب ہے۔ پھر اس ہجوم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو تمہاری نصیحت قبول کرنے والے ہیں اور تمہاری تبلیغ کا اصل مقصود اس دوسرے قسم کے لوگوں کو تلاش کرنا اور انہیں سیدھے راستے پر لگانا ہے۔ لہذا تبلیغ کئے جاؤ۔
Ayahs 36:12–17

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

(ایک روز) ہم یقینا مردوں کو زندہ کریں گے۔ اور جو (عمل زاد آخرت بنا کر لوگ اپنے) آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار (جو وہ مرنے کے بعد پیچھے چھوڑ جاتے ہیں) ہم (سب کو) لکھ رہے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے۔

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ان لوگوں سے مثال کے طور پر ایک بستی والوں کا حال بیان کرو جب کہ اس (بستی) میں پیغمبر آئے تھے۔

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب ہم نے ان کے پاس دو (پیغمبروں) کو بھیجا تو انہوں نے دونوں کو جھٹلایا، اس پر ہم نے تیسرے (پیغمبر) سے (ان کی) مدد کی پھر ان تینوں نے (مل کر ان سے) کہا کہ ہم تمہارے پاس (پیغمبر کی حیثیت سے) بھیجے گئے ہیں۔

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ لوگ بولے کہ تم تو بس ہماری ہی طرح کے آدمی ہو اور رحمن نے تو کچھ بھی نہیں اتارا ہے، تم محض جھوٹ بولتے ہو۔

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

(پیغمبروں نے) کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقینا تمہاری طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجے گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمے تو بس (اللہ کا پیغام) صاف صاف پہنچا دینا ہے۔

[7] یعنی نیک و بداعمال جو آگے بھیج چکے۔ [8] یعنی وہ اعمال جن کے اچھے یا برے اثرات یا نشان پیچھے چھوڑے۔ [9] یعنی لوح محفوظ میں۔ اصل میں لفظ '' امام '' استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی پیشوا اور شارع عام کے ہیں اور لوح محفوظ پر دونوں باتیں صادق آتی ہیں کہ تمام واقعات گزشتہ اور آئندہ اسی کے مطابق ہوئے اور ہوں گے۔ گویا تمام دنیا ومافیہا اسی پر چل رہی ہے۔ اور اس کو واضح اس لئے فرمایا کہ اس میں تمام باتیں وضاحت سے لکھی ہوئی ہیں۔
Ayahs 36:18–26

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم نے تم کو (بڑا ہی) منحوس پایا ہے۔ اگر تم (اپنے وعظ و نصیحت سے) باز نہ آئے تو ہم ضرور تم کو سنگسار کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت آزار پہنچے گا۔

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

(پیغمبروں نے) کہا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ (چپکی ہوئی) ہے۔ کیا یہ (نحوست) ہے کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو۔

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور (اتنے میں) ایک شخص شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا ( اور) بولا، '' اے میری قوم (والو، ان) پیغمبروں کی پیروی (اختیار) کرلو۔

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے (کوئی) معاوضہ طلب نہیں کرتے اور خود راہ راست پر ہیں۔

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور میرے پاس کون سا عذر ہے کہ میں اس (ہستی) کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور جس کی طرف تم (سب) کو لوٹنا ہے ؟

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اسے چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنا لوں کہ اگر رحمان مجھے (کوئی) نقصان پہنچانا چاہے تو ان (معبودوں) کی سفارش میرے کچھ بھی کام نہ آئے اور نہ وہ مجھے (اس مصیبت سے) چھڑا سکیں ؟

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

(اگر) ایسا کروں تو (بس) میں صریح گمراہی میں (مبتلا) ہوجاؤں گا۔

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

بیشک میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا سو تم میری (نصیحت) سن لو۔ ''

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

(تاہم لوگوں پر کچھ اثر نہ ہوا اور انہوں نے اسے قتل کردیا تو اللہ کی طرف سے اس کو) ارشاد ہوا، '' داخل ہوجا جنت میں ''۔ اس نے کہا، '' کاش میری قوم کو (یہ) معلوم ہوجاتا

[10] یعنی جب سے تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف باتیں کرنی شروع کی ہیں وہ ہم سے ناراض ہوگئے ہیں۔ اب جو مصیبت بھی ہم پر آتی ہے وہ تمہاری بدولت ہے۔
Ayahs 36:27–28

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مجھے معززین میں (لاشامل) کیا ''۔

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے ( مرنے کے) بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر آسمان سے نہیں اتارا اور نہ ہمیں اتارنے کی ضرورت تھی۔

[11] قوم نے اسے مار ڈالا لیکن بہشت میں پہنچ کر بھی اسے اپنی قوم کی خیرخواہی کا خیال رہا اور حسرت کے لہجے میں بولا کہ کاش میرا حال اور جو انعام و اکرام اللہ نے مجھ پر کیا ہے میری قوم کے لوگوں کو معلوم ہوگیا ہوتا اور وہ سب بھی ایمان لے آئے ہوتے۔ اس واقعے کو بیاں کرنے سے مقصود کفار مکہ کو یہ بتلانا ہے کہ جس طرح وہ مرد مومن اپنی قوم کا خیر خواہ تھا اسی طرح محمد ﷺ اور ان کے ساتھی اہل ایمان بھی تمہارے سچے خیر خواہ ہیں اور ان کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ تم راہ راست پر آجاؤ۔
Ayahs 36:29–31

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ تو بس ایک چنگھاڑ تھی اور وہ سب اسی دم بجھ کر رہ گئے۔

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

افسوس (ایسے) بندوں (کے حال) پر، کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو۔

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی قوموں کو ہلاک کر مارا اور وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں ؟

[12] یعنی اس شخص کے مرنے کے بعد اس کی قوم کفر اور رسولوں کے جھٹلانے کے جرم میں ہلاک کردی گئی اور ان کی ہلاکت کے لئے اللہ کو کوئی مزید اہتمام نہیں کرنا پڑا کہ آسمان سے فرشتوں کی فوج بھیجی جاتی۔ بس ایک چنگھاڑ نے ان کا کام تمام کردیا۔
Ayahs 36:32–37

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور ان سب کو (ایک دن) ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے۔

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ان (لوگوں) کے (سمجھنے کے) لئے ہماری (قدرت کی) ایک نشانی مردہ زمین ہے کہ اس کو ہم نے (پانی برسا کر) زندہ کردیا اور اس سے غلہ نکالا، پس وہ اسی میں سے (اپنی قسمت کا) کھاتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگائے اور اس میں چشمے جاری کر دئیے

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں۔ اور یہ (سب کچھ) ان کے ہاتھوں نے (پیدا) نہیں کیا، پھر کیا (بات ہے کہ) یہ لوگ (ان نعمتوں کا) شکر ادا نہیں کرتے ؟

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ہے وہ (ذات) جس نے سب چیز کے جوڑے پیدا کئے (خواہ) وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا (خود) ان کی اپنی جنس (یعنی انسان) میں سے یا ان (مخلوقات) میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں۔

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ان کے (سمجھنے کے) لئے ہماری (قدرت کی) ایک (اور) نشانی رات ہے۔ ہم اس پر سے دن کو اتار لیتے ہیں تو بس یہ لوگ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔

[13] یعنی وہ تو دنیا کا عذاب تھا اور آخرت کی سزا الگ رہی۔ یہ نہ سمجھو کہ ہلاک ہو کر پھر ادھر واپس نہیں آتے تو بس قصہ ختم ہوا۔ نہیں، سب کو ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں سب مجرم پکڑے ہوئے آئیں گے۔
Ayahs 36:38–40

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج (ہے کہ) اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے۔ یہ اندازہ ٹھہرایا ہوا ہے اس زبردست و باخبر (ہستی) کا،

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کے لئے ہم نے منزلیں ٹھہرا دی ہیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے ایسا ٹیڑھا اور پتلا) رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی۔

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج ہی کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور (کیا چاند اور کیا سورج، ) سب (اپنے اپنے) مدار میں تیر رہے ہیں۔

[14] یہ آیت منجملہ ان آیات میں سے ہے جن سے قرآن مجید کا منجانب اللہ ہونا ثابت ہے۔ پندرہویں صدی میں مشہور منجم نکولس کا پر نیکس ( Nicholas Copernicus 1473-1543 AD) نے یہ اعلان کر کے کہ سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے دنیائے علم میں ایک زلزلہ سا ڈال دیا تھا۔ اس کی تائید جرمنی کے مشہور ہیئت دان کیپلر (Kepler 1571-1630 AD) نے بھی کی تو دنیا نے کا پر نیکس کے '' انکشاف '' کو ایک حقیقت سمجھ لیا۔ اور کیونکہ اس آیت کی رو سے سورج متحرک ہے اس لئے دنیائے اسلام میں اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی کیونکہ اس وقت مسلمانوں کے پاس نہ علم تھا نہ رصدگاہیں اور نہ فلک بین دوربینیں تھیں، اس لئے وہ اس '' انکشاف '' کی تردید نہ کرسکے۔ آخر قرآن کی حفاظت کرنے والے رب العزت نے قرآن کی تائید کا انتظام خود ہی کیا اور یورپ میں ایسے منجم پیدا کر دئیے جنہوں نے سالہا سال کے مشاہدے اور مطالعے کے بعد پورے وثوق سے اعلان کیا کہ سورج کسی نامعلوم منزل کی طرف جا رہا ہے ان میں سرفہرست سر ولیم ہر شل ( 1738-1822 AD Herschel) تھا۔ اس کا قول ہے : The Sun is travelling through space. (سورج خلا میں سفر کر رہا ہے) ۔ سورج کی منزل کون سی ہے اس کی وضاحت نہ قرآن نے کی ہے نہ ہر شل نے۔ لیکن قرآن نے چودہ سو سال پہلے جو دعویٰ کیا تھا وہ دانایان مغرب کو آخرکار تسلیم کرنا پڑا۔