36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 36:41–44

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے (سمجھنے کے) لئے (ہماری قدرت کی) ایک نشانی (یہ بھی) ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کردیا۔

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ان کے لئے بھی ویسی ہی کشتیاں اور پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور ہم چاہیں تو ان کو ڈبو دیں، پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو اور نہ یہ (کسی طرح ڈوبنے سے) بچائے جاسکیں۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر (یہ) ہماری رحمت ہی ہے کہ ان کو (پار لگاتی اور) ایک وقت خاص تک (دنیوی) فائدے (اٹھانے کا موقع) دیتی ہے۔

[15] اشارہ ہے کشتی نوح (علیہ السلام) کی طرف۔ جب طوفان آیا تو سارے انسان غرق ہوگئے سوائے ان چند افراد کے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار تھے۔ بعد کی انسانی نسل انہی کشتی والوں سے چلی۔ یعنی بظاہر تو چند افراد کشتی میں تھے لیکن درحقیقت قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان کشتی پر سوار تھے۔
Ayahs 36:45–46

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو اس (عذاب) سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ اس کی مطلق پروا نہیں کرتے) ۔

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی ان کے سامنے آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

[16] اس دنیا کا عذاب۔ [17] یعنی وہ عذاب جو آخرت میں پیش آئے گا۔
Ayahs 36:47–49

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (کچھ اس کی راہ میں غرباء پر بھی) خرچ کرتے رہا کرو تو یہ کافر ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم ایسے لوگوں کو کھلائیں جنہیں اللہ چاہے تو آپ (بہت کچھ) کھلا سکتا ہے ؟ تم لوگ تو بس صریح گمراہی میں (پڑے ہوئے) ہو۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور یہ (کافر) کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتاؤ) یہ (قیامت کا) وعدہ (آخر) کب (پورا) ہوگا ؟

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ تو بس ایک چنگھاڑ ہوگی جو ان کو (ایک دم سے) آن پکڑے گی جب یہ (اپنے دنیوی معاملات میں باہم) لڑ جھگڑ رہے ہوں گے۔

[18] منکرین بطور تمسخر کہتے کہ وہ اللہ کی مشیت کے خلاف کرنا نہیں چاہتے۔ اگر اس کی مشیت ہوتی تو ان کو فقیر و محتاج اور ہمیں غنی و تونگر نہ بناتا۔ پھر ہم انہیں کیوں کھلائیں جنہیں اللہ نے کھانے کو نہیں دیا۔ ان کا یہ طنز نہایت مہمل تھا کیونکہ اللہ کی رزاقی بھی تو اس کی ہر صفت کی طرح اس عالم اسباب میں انسانوں ہی کے واسطے سے ظہور کرتی ہے۔ مسلمانوں نے یہ دعویٰ کب کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں رزاق بلاواسطہ ہے۔ علاوہ ازیں یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ فقیری اور امیری دونوں آزمائشیں ہیں۔ فقیر کی آزمائش صبر سے اور غنی کی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے۔ [19] یعنی تم مسلمان خود صریح گمراہی میں پڑے ہو کہ ایسے لوگوں کا پیٹ بھرنا چاہتے ہو جن کا اللہ پیٹ بھرنا نہیں چاہتا۔
Ayahs 36:50–59

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ تو یہ وصیت ہی کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں میں واپس جاسکیں گے۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

پھر (جب دوبارہ) صور پھونکا جائے گا تو ایک دم سے (سب کے سب) قبروں سے (نکل نکل کر) اپنے رب کی طرف چل کھڑے ہوں گے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

(اور حیران ہو کر ایک دوسرے سے) پوچھیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے (جگا) اٹھایا ؟ (فرشتے جواب دیں گے کہ) یہ وہی (قیامت) ہے جس کا وعدہ ( اللہ) رحمان نے کر رکھا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا (کہ وعدہئ قیامت برحق ہے)

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

نہیں ہوگی یہ مگر ایک زور کی آواز (اور) ایک دم سب لوگ ہمارے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے۔

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

پھر اس دن کسی شخص پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا اور تم لوگوں کو اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم (دنیا میں) کرتے رہے۔

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

اس دن بیشک اہل جنت مزے کرنے میں مشغول ہوں گے

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں چھاؤں میں تختوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے۔

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

وہاں ان کے لئے میوے (موجود) ہوں گے اور جو کچھ وہ طلب کریں گے وہ ان کے لئے (حاضر)

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

(اور) ہمیشہ رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا۔

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور (اس دن ہم گنہگاروں سے کہیں گے کہ) اے مجرمو، آج تم (اہل ایمان سے) الگ ہوجاؤ۔

[20] یعنی قیامت ناگہاں آن پڑے گی اور لوگ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلے صور کی چنگھاڑ بلند ہوگی تمام انسان مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ ان کو اتنی بھی فرصت نہ ملے گی کہ مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں، یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔
Ayahs 36:60–64

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے اولاد آدم، کیا ہم نے نہ کہہ رکھا تھا تم کو کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ؟

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ ہماری ہی عبادت کرنا کہ یہی (دین کا) سیدھا راستہ ہے ؟

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور البتہ اس نے تم میں ایک کثیر مخلوق کو گمراہ کردیا۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے ؟

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

(تو اب) یہ جہنم ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

گھس جاؤ آج اس میں کہ یہ بدلہ ہے اس کفر کا جو تم (دنیا میں) کرتے رہے۔

[21] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة مریم حاشیہ 19 صفحہ 715۔
Ayahs 36:65–67

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے (اب یہ بات نہیں کر پائیں گے) اور ان کے ہاتھ ہمیں بتائیں گے اور ان کے پاؤں بھی گواہی دیں گے کہ یہ لوگ (دنیا میں) کیا کچھ کرتے رہے۔

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھوں کو بےنور کردیتے پھر یہ راستے کی طرف دوڑتے پھرتے تو کہاں سے دیکھ پاتے ؟

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور (اس سے بڑھ کر) اگر ہم چاہتے تو (ان کے کفر کی پاداش میں) ان کی جگہ ہی پر ان کو مسخ کر (کے بالکل اپاہج بنا) دیتے، پھر یہ نہ آگے ہی چل سکتے نہ پیچھے ہی لوٹ سکتے۔

[22] قیامت کے دن بعض ہیکڑ قسم کے مشرکین قسمیں کھا کر اپنے شرک و کفر سے مکر جائیں گے اور بعض یہ کہیں گے کہ فرشتوں نے ہمارے نامہء اعمال میں جو کچھ لکھ دیا ہے ہم اس سے بری ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے منہ پر مہریں لگ جائیں گی اور وہ بول نہ سکیں گے اور خود انہی کے ہاتھ پاؤں کو سرکاری گواہ بنا کر انہیں بولنے کی صلاحیت دی جائے گی جو ان کے کرتوتوں کی روداد بیان کریں گے۔ اس آیت میں تو صرف ہاتھ پاؤں کے بولنے کا ذکر ہے لیکن دوسرے مقامات پر انسان کے کان، آنکھ، کھال اور زبان کے بولنے کا بھی بیان ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة نور آیت 24 ) ۔ زبانوں کا گواہی دینا اس کے منافی نہیں کہ ان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی، کیونکہ مہر لگانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار سے کچھ نہ بول سکیں گے۔ ان کی زبان ان کی مرضی کے خلاف چلے گی اور شہادت دے گی کہ دنیا میں انہوں نے کیسے کیسے کفر بکے تھے اور کیا کیا جھوٹ بولے تھے۔
Ayahs 36:68–69

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں (تو) اس کو طبعی حالت میں الٹا کردیتے ہیں۔ کیا یہ لوگ (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے ؟

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے اس (پیغمبر، ) کو شاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ اس کے شایان ہے۔ یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے پڑھنے کے لائق (اور) عام فہم ہے

[23] یعنی آنکھیں چھین لینا یا مسخ کر کے اپاہج بنادینا ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں کہ ایک توانا و تندرست آدمی بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی سب ہی چیزوں میں کمی ہوجاتی ہے، دماغی قوتوں میں، جسمانی توانائی میں، تن و توش میں، غرض وہ اس کمزوری کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جو بچپن میں تھی۔ پس جو اللہ بڑھاپے میں قوتیں سلب کرلیتا ہے، کیا جوانی میں نہیں کرسکتا ؟
Ayahs 36:70–74

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ یہ ہر اس شخص کو جو زندہ ہو (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کر دے اور منکرین پر حجت (الٰہی) قائم ہوجائے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ ہم نے ان کے (نفع) کے لئے اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی چیزوں میں سے مویشی پیدا کئے اور (اب) یہ ان کے مالک (بنے بیٹھے) ہیں۔

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

ہم نے ان (مویشیوں) کو ان کے بس میں کردیا ہے کہ ان میں بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض (کا گوشت) یہ کھاتے ہیں۔

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان کے اندر ان کے لئے (اور بھی بہتیرے) فائدے ہیں اور مشروبات بھی۔ پھر کیا (بات ہے کہ) یہ لوگ (ان نعمتوں کا) شکر ادا نہیں کرتے ؟

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور (یہ سب کچھ ہوتے ہوئے) انہوں نے اللہ کے سوا (دوسرے) معبود بنا لئے ہیں تاکہ (ان سے) مدد ملے۔

[24] زندہ سے مراد سوچنے سمجھنے والا انسان ہے جس کی حالت پتھر کی سی نہ ہو کہ جس کو کتنی ہی دردمندی کے ساتھ نصیحت کی جائے وہ نہ کچھ سنے نہ سمجھے اور نہ اپنی جگہ سے سرکے۔
Ayahs 36:75–79

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

(حالانکہ) وہ ان کی (کچھ بھی) مدد نہیں کرسکتے بلکہ یہ لوگ الٹے ان کے لئے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں۔

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر، ) ان لوگوں کی باتیں تمہیں رنجیدہ نہ کریں۔ بیشک ہم جانتے ہیں جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ ہم نے اس کو ایک قطرے سے پیدا کیا بایں ہمہ وہ کھلم کھلا جھگڑالو بن (کر کھڑا ہو) گیا

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور لگا ہماری نسبت باتیں بنانے اور اپنی اصلیّت کو بھول گیا ؟ کہتا (کیا) ہے کہ کون (آدمی کی) ہڈیوں کو زندہ کرے گا جب کہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہیں۔

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم اس گستاخ سے) کہو کہ جس نے ان کو اول بار پیدا کیا تھا وہی ان کو زندہ کرے گا اور وہ سب (طرح کا) پیدا کرنا جانتا ہے۔

[25] یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود اس لئے بنائے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں مگر ہو یہ رہا ہے کہ وہ تو ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں خود یہی لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے حاضر باش خدام اور سپاہی بنے ہوئے ہیں اور ان کی حمایت میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور لوگوں کو ان کا گرویدہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔