35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 35:1–4

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

ساری تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو (اپنا) پیغام رساں مقرر کرنے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار بازو ہیں۔ وہ (اپنی مخلوقات کی) ساخت میں جو چیز چاہتا ہے زیادہ کردیتا ہے۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

وہ (اپنی) جس رحمت (کے دروازے) کو بھی لوگوں کے لئے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ وہ روک رکھے تو اسے اللہ کے بعد کوئی بھیجنے والا نہیں۔ وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

لوگو، یاد رکھو اللہ کے احسان جو تم پر ہیں۔ کیا اللہ کے سوا کوئی (اور بھی) پیدا کرنے والا ہے جو آسمان و زمین سے تم کو روزی دیتا ہو ؟ (پس) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم لوگ کدھر بہکے چلے جا رہے ہو ؟

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) اگر (یہ لوگ) تمہیں جھٹلا رہے ہیں تو تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے جا چکے ہیں اور (آخرکار) سارے معاملات اللہ کی طرف رجوع ہونے والے ہیں۔

[1] رسول اکرم ﷺ کو تسلی دینی مقصود ہے کہ ان لوگوں کا تم کو جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ تم سے پہلے بھی لوگوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا لیکن انہوں نے صبر کیا لہذا تم بھی صبر کرو۔ علاوہ بریں آخرکار معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ وہ جھٹلانے والوں سے سمجھ لے گا۔
Ayah 35:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

لوگو، اللہ کا وعدہئ (آخرت) یقینا برحق ہے، تو ایسا نہ ہو کہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں ڈالے رہے اور (شیطان) دغاباز اللہ کے بارے میں تمہیں دھوکہ دے۔

[2] دنیا کی زندگی کا دھوکے میں ڈالنا یہ ہے کہ آدمی اس کی لذتوں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھول جائے اور شیطان کا دھوکہ دینا یہ کہ آدمی کے دل میں یہ وسوسہ ڈالے کہ گناہوں سے مزہ اٹھا لو، اللہ غفورُ رَّحیم ہے۔
Ayah 35:6

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

بلاشبہ شیطان تمہارا (جانی) دشمن ہے اس لئے (تم بھی) اس کو اپنا دشمن (ہی) سمجھتے رہو۔ وہ تو اپنے لوگوں کو (اپنی طرف) اس لئے بلاتا ہے کہ وہ (آخرکار) دوزخیوں میں (جا شامل) ہوں۔

[3] یعنی اپنے پیروؤں کو۔
Ayahs 35:7–8

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

(یاد رکھو، ) جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ان کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

پھر کیا وہ شخص جسے اس کا عمل (اغوائے شیطانی کی وجہ سے) خوشنما کر دکھایا گیا ہو اور وہ اسے اچھا سمجھ رہا ہو (کہیں اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو باطل کو باطل سمجھتا ہو ؟ ) بات یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے۔ پس (اے پیغمبر، ) ان لوگوں (کے حال) پر افسوس کر کر کے (کہیں) تمہاری جان نہ جاتی رہے۔ (تم صبر کئے بیٹھے رہو کیونکہ) جیسے جیسے عمل یہ لوگ کر رہے ہیں اللہ ان (سب) سے بخوبی واقف ہے (اور وقت آنے پر ان سے سمجھ لے گا) ۔

[4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 1 صفحہ 596 اور سورة نحل حاشیہ 60 صفحہ 636۔
Ayahs 35:9–10

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے، پھر وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر ہم اسے ایک بنجر زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس کے ذریعے سے ہم اسی زمین کو جو مری پڑی تھی جلا اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح (قیامت میں مرے ہوئے انسانوں کا بھی) جی اٹھنا ہوگا۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو کوئی عزت کا خواہاں ہوا (اسے معلوم ہونا چاہئے) کہ ساری کی ساری عزت تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ اس کی طرف (جو کلام) چڑھتا ہے (وہ صرف) پاکیزہ قول (ہے) اور عمل صالح اس کو بلند کرتا ہے۔ اور جو لوگ (حق کے خلاف) بری بری چالیں چل رہے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر (سب) نیست و نابود ہو کر رہے گا۔

[5] بہت سے مسلمان کافروں سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے کہ اس سے ان کی عزت بنی رہے گی۔ اس قسم کے لوگوں کو بتلایا کہ جو شخص دنیوی عزت چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اللہ سے طلب کرے۔ اس کی فرماں برداری سے اصلی عزت میسر آتی ہے۔ تمام عزتوں کا مالک وہی ہے جس کسی کو عزت ملی یا ملے گی اسی کے خزانے سے ملی ہے یا ملے گی۔ [6] یعنی اللہ کا ذکر، دعا، تلاوت قرآن، علم و نصیحت کی باتیں وغیرہ۔ [7] یعنی جو چیز پاکیزہ قول کو عروج کی طرف لے جاتی ہے وہ قول کے مطابق عمل ہے۔ پاکیزہ قول اس حالت میں اللہ کے ہاں مقبول ہے جب اس کی پشت پر عمل صالح بھی ہو۔
Ayahs 35:11–12

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور (لوگو، ) اللہ ہی نے تمہیں (پہلے) مٹی سے پیدا کیا، پھر پانی کی بوند سے، پھر (مرد عورت بنا کر) تمہیں جوڑے جوڑے بنایا۔ اور (دیکھو، ) کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ (وہ بچہ) جنتی ہے مگر (یہ سب کچھ) اللہ کے علم میں (ہوتا) ہے۔ اور نہ کسی کی عمر زیادہ کی جاتی ہے اور نہ کم مگر یہ (سب) کتاب (لوح محفوظ) میں (لکھا ہوا موجود) ہے۔ بلاشبہ یہ (سب) اللہ کے لئے آسان ہے۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) دو دریا برابر نہیں ہیں، ایک شیریں، پیاس بجھانے والا، پینے میں خوشگوار اور ایک کھاری، کڑوا، اور (باوجود اس اختلاف کے) تم لوگ دونوں دریاؤں سے (مچھلیاں شکار کر کے ان کا ترو) تازہ گوشت کھاتے ہو اور پہننے کے لئے زیور (یعنی موتی مونگا) نکالتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ اسی (پانی) میں (میٹھا ہو یا کھارا) کشتیاں اس کو پھاڑتی ہوئی چلی جا رہی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور (اس کے) شکرگزار بنو۔

[8] یعنی روزی۔
Ayah 35:13

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ (اللہ ہی ہے جو) رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک وقت معین تک چلتا رہے گا۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے، بادشاہی اسی کی ہے اور اس کے علاوہ جن (معبودوں) کو تم پکارتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔

[9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 18 صفحہ 585 اور سورة لقمان حاشیہ 11 صفحہ 977۔
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو (اول) تو وہ تمہاری دعا کو سنیں گے نہیں اور (بالفرض) سنیں بھی تو تمہاری فریاد رسی نہ کریں گے اور (تم جو ان کو اللہ کا شریک بنا رہے ہو) قیامت کے دن وہ (خود) تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔ اور تجھ کو خبر دینے والے ( اللہ) کی مانند (کوئی) خبر نہ دے گا۔

[10] یعنی وہ صاف کہہ دیں گے کہ ہم نے ان سے کبھی یہ نہ کہا تھا کہ ہم اللہ کے شریک ہیں اور تم ہماری عبادت کیا کرو۔ یہ گزرے ہوئے صالحین، انبیاء، اولیا یا فرشتے ہوں گے جن کی دنیا میں پرستش کی جاتی تھی جو قیامت کے دن صاف الفاظ میں اعلان برأت کریں گے۔ رہے بت تو ان کے سننے اور بولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayahs 35:15–22

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگو، تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو بےنیاز (اور) خوبیوں والا ہے۔

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

وہ چاہے تو تم (سب) کو (روئے زمین پر سے اٹھا) لے جائے اور نئی خلقت لا بسائے،

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ (بات) اللہ کے لئے (کچھ بھی) دشوار نہیں۔

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور (جان لو کہ قیامت کے دن) کوئی شخص کسی دوسرے کا بارِ (گناہ) اپنے اوپر نہیں لے گا اور اگر کسی پر (گناہوں کا بڑا) بھاری بوجھ ہو اور وہ اپنا بوجھ ہٹانے کے لئے (کسی کو) پکارے گا تو اس کا ذرا سا بھی بوجھ نہیں ہٹایا جائے گا اگرچہ وہ (جس کو اس نے پکارا ہے) اس کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ (اے پیغمبر، ) تم تو بس انہیں لوگوں کو (انکارو بدعملی کے نتائج سے) خبردار کرسکتے ہو جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور جو شخص سدھرتا ہے تو اپنے ہی (بھلے کے) لئے سدھرتا ہے۔ اور (بالآخر سب کو) اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور (دیکھو، جس طرح) اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں (ہے)

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ تاریکی و روشنی (یکساں ہیں)

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ (ٹھنڈی) چھاؤں اور (چلچلاتی) دھوپ (ایک جیسی ہیں)

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندے اور مردے برابر ہیں، (اسی طرح کافر و مومن بھی برابر نہیں ہوسکتے) ۔ بے شک اللہ جسے چاہتا ہے سنوا دیتا ہے، اور (اے پیغمبر، ) جو لوگ قبروں میں مدفون ہیں تم ان کو (اپنی باتیں) سنا نہیں سکتے۔

[11] یعنی جس کی ہدایت منظور ہو۔ اور اللہ کو ہدایت اسی کی منظور ہے جو طالب ہدایت ہو۔ اس کو قبول ہدایت کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ [12] یعنی جن لوگوں کے سینے ضمیر کا مدفن بن چکے ہیں۔
Ayahs 35:23–28

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تم تو بس ایک خبردار کرنے والے ہو۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا ہے (ایمان و نیک عمل کے نتائج کی) خوشخبری سنانے والا اور (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کرنے والا (بناکر) ۔ اور کوئی امت ایسی نہیں (ہوئی) جس میں کوئی خبردار کرنے والا نہ گزرا ہو۔

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور (اب یہ کفار) اگر تمہیں جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے (گزرے ہوئے) لوگ بھی (اپنے وقت کے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں۔ (باوجودیکہ) ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلے دلائل اور صحیفے اور روشن (ہدایات دینے والی) کتاب لے کر آئے تھے۔

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے (دین حق قبول کرنے سے) انکار کیا (تو) ہم نے (بھی) ان کو دھر پکڑا۔ پھر (دیکھ لو) ہمارا عذاب کیسا (سخت) تھا۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

(اے انسان، ) کیا تو نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ اللہ ہی نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس (پانی) کے ذریعے سے ہم نے مختلف رنگتوں کے پھل نکالے اور (اسی طرح) پہاڑوں میں مختلف رنگتوں کی گھاٹیاں ہیں، (بعض) سفید (بعض) سرخ، اور (بعض) بہت گہری سیاہ،

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے تو اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ بلاشبہ اللہ زبردست (اور) مغفرت والا ہے۔

[13] یعنی جس طرح نباتات، جمادات اور حیوانات میں رنگ برنگ کی مخلوق ہے اس طرح انسانوں میں بھی ہر ایک کی طرح جدا ہے۔ یہ کب ہوسکتا ہے کہ سب انسان ایک طرح کے ہوجائیں اور مومن و کافر سب یکساں ہوجائیں۔ اس آیت میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ لوگوں کے اختلاف سے غمگین نہ ہوں۔ [14] یہاں علم سے مراد دنیوی علوم نہیں بلکہ اللہ کی عظمت اور اس کی صفات کا علم ہے جس شخص کو اللہ کی عظمت وصفات کی جتنی معرفت ہوگی اتنا ہی وہ اس کی نافرمانی سے ڈرے گا۔ نیز اس آیت میں '' علمائ '' سے وہ اصطلاحی علماء مراد نہیں ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ کا علم رکھنے کی بناء پر علمائے دین کہے جاتے ہیں۔ وہ اس آیت کے مصداق صرف اسی صورت میں ہوں گے جب ان کے اندر اللہ کا ڈر بھی موجود ہوگا۔
Ayahs 35:29–32

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے رہتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کی آس لگائے ہوئے ہیں جس میں ہرگز گھاٹا نہ ہوگا۔

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

کیونکہ اللہ ان کو ان کے اجر پورے پورے دے گا اور مزید اپنے فضل سے عطا فرمائے گا۔ بلاشبہ وہ مغفرت والا (اور) قدردان ہے۔

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جو کتاب ہم نے تمہاری طرف وحی کی ہے وہی حق ہے (اور) جو (کتابیں) اس سے پہلے کی ہیں (وہ ان کی) تصدیق (بھی) کرتی ہے۔ بیشک اللہ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا ہے اور (ان کے اعمال کا) خوب دیکھنے والا ہے۔

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو ہم نے (اہل سمجھ کر اس کی خدمت کے لئے) منتخب فرمایا۔ پھر ان میں سے بعض تو اپنے نفس پر ظلم کر رہے ہیں اور (بعض) ان میں سے میانہ رو ہیں اور بعض ان میں سے (ایسے بھی ہیں جو) اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں۔ یہی تو (اللہ کا) بڑا فضل ہے۔

[15] یعنی امت مسلمہ۔ [16] مسلمانوں کی یہاں تین قسمیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی قسم اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں یعنی ہیں تو مسلمان مگر گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ اور عملاً کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی پیروی کا حق ادا نہیں کر رہے، مسلمان ہیں مگر گنہگار، دوسری قسم متوسط درجے والے، یعنی وہ جو نہ گناہوں میں منہمک ہیں اور نہ بڑے بزرگ ولی ہیں، فرمانبردار بھی ہیں اور خطاکار بھی۔ تیسری قسم نیکیوں میں سبقت کرنے والے۔ یہ صف اول کے لوگ ہیں جن کی رگ رگ میں اسلام رچا ہوا ہے اور جو کتاب و سنت کے اتباع میں پیش پیش ہیں۔ یہ گناہوں سے بچتے بھی ہیں اور طاعت میں فرائض کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کئے رہتے ہیں۔ اور ہر کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

(اور اس کا صلہ ہے) ہمیشگی کے باغ جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے۔ جہاں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کا لباس ریشمی ہوگا

[17] یعنی مسلمانوں کے یہ تینوں طبقے جنت میں جائیں گے۔ گنہگار بھی اگر مومن ہے تو بہرحال کسی نہ کسی وقت جنت میں ضرور جائے گا۔ لیکن قرآن میں ایسے گناہوں کا بھی ذکر ہے جن کے مرتکب کو ان کا ایمان بھی جہنم میں جانے سے نہیں بچا سکتا، مثلاً دانستہ قتل مومن، اللہ کے قائم کردہ قانون وراثت کی حدود کو توڑنا اور سودخوری۔ علاوہ بریں احادیث صحیحہ میں ایسے گناہوں کا بھی ذکر ہے جن کے مرتکب جہنم میں جائیں گے۔
Ayahs 35:34–40

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور (یہ لوگ نعمتیں پاکر) کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے (ہر طرح کا رنج و) غم ہم سے دور کردیا۔ بیشک ہمارا رب مغفرت والا (اور) قدردان ہے۔

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

کہ اس نے ہمیں اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے مقام کی جگہ لا اتارا ہے جہاں ہمیں نہ مشقت پیش آئے گی اور نہ تھکان لاحق ہوگی۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے ان کے لئے دوزخ کی آگ (تیار) ہے۔ نہ تو ان کو قضا ہی آئے گی کہ مرجائیں اور نہ ان سے دوزخ کا عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا۔ اس طرح ہم ہر کافر کو بدلہ دیتے ہیں۔

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ دوزخ میں (پڑے) چِلائیں گے کہ اے رب ہمارے، ہمیں یہاں سے نکال (اب) ہم نیک عمل کریں گے برخلاف ان اعمال کے جو ہم (پہلے) کرتے رہے تھے۔ (ارشاد ہوگا) '' کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں کسی کو سوچنا سمجھنا ہوتا وہ (اچھی طرح) سوچ سمجھ لیتا اور (اس کے علاوہ) تمہارے پاس (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کرنے والا بھی آچکا تھا۔ تو (اب اپنے کئے کا) مزا چکھو کہ ظالموں کا (یہاں) کوئی مددگار نہیں۔ ''

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے۔ وہ تو (لوگوں کے) دلی خیالات (تک) سے واقف ہے۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا پھر اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اسی پر (پڑے گا) اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے رب کی ناراضگی ہی بڑھانے کا باعث ہوتا ہے اور کافروں کیلئے ان کا کفر خسارے میں اضافہ ہی کرتا ہے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو، کیا تم نے اپنے (ان) شریکوں کو دیکھا بھی ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہو ؟ (ذرا ایک نظر) مجھ کو (بھی تو) دکھاؤ، انہوں نے زمین میں سے کیا کچھ پیدا کیا ہے یا آسمانوں (کے بنانے) میں ان کا کیا کچھ ساجھا ہے ؟ یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ (اپنے اس شرک کے لئے) یہ اس کی سند رکھتے ہوں ؟ (ان میں سے کوئی بات بھی نہیں) ، بلکہ یہ ظالم جو ایک دوسرے سے وعدے کرتے ہیں وہ بس (نری) دھوکے (کی ٹٹیاں) ہیں۔

[18] یعنی کوئی عقلی دلیل ان کے پاس نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ان میں سے بڑے چھوٹوں کو اور اگلے پچھلوں کو شیطان کے ورغلانے پر یہ جھوٹی امیدیں دیتے چلے آئے ہیں کہ یہ بت وغیرہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع بنیں گے اور اس کا قرب عطا کریں گے حالانکہ یہ خالص دھوکا اور فریب ہے۔