34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

ساری تعریف اللہ ہی کے لئے ہے کہ اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور آخرت میں (بھی) تعریف اسی کے لئے ہے۔ وہی حکمت والا (اور) باخبر ہے۔

[1] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 7 صفحہ 4۔ [2] بااعتبار ربوبیت اور عطائے انعامات کے۔
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

وہ (سب) جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے اور وہ ( اللہ) ہمیشہ رحم کرنے والا (اور بڑا ہی) بخشنے والا ہے۔

[3] مثلاً تخم نباتات، مردوں کی لاشیں اور تمام چیزیں جو زمین میں گاڑی جاتی ہیں۔ [4] مثلاً نباتات، معدنیات وغیرہ۔ [5] مثلاً پانی، ملائکہ، احکام الٰہی۔ [6] مثلاً ملائکہ، اعمال انسانی، دعائیں۔ [7] یعنی یہ سب چہل پہل اس کی رحمت اور بخشش سے ہے ورنہ بندوں کی ناشکری اور حق ناشناسی پر اگر ہاتھوں ہاتھ گرفت ہونے لگے تو ساری رونق ایک لمحہ میں ختم کردی جائے۔ یہ اس کی رحیمی کا تقاضا ہے کہ نافرمان بندوں کو ڈھیل دیتا ہے اور سنبھلنے کی مہلت عطا کرتا ہے اور جب بھی وہ باز آجائیں تو معاف کردیتا ہے۔
Ayahs 34:3–7

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

منکرین کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہ آئے گی۔ (اے پیغمبر، تم ان لوگوں سے) کہو، کیوں نہیں (آئے گی) قسم ہے میرے رب کی جو عالم الغیب ہے، وہ ضرور تم پر آ کر رہے گی۔ اس سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ (کوئی) چیز ذرے سے چھوٹی اور نہ (اس سے) بڑی مگر یہ کہ (یہ سب کچھ) ایک واضح کتاب میں (درج) ہے۔

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

(اور یہ قیامت اس لئے آئے گی) کہ اللہ صلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے۔ ایسے لوگوں کے لئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی۔

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہے (تو) ایسے لوگوں کے لئے (قیامت میں) دردناک عذاب ہے۔

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جن لوگوں کو (کتب آسمانی کا) علم دیا گیا ہے وہ اس (قرآن) کو جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے خوب سمجھتے ہیں کہ وہ (سراسر) حق ہے اور اس (خدائے) زبردست (اور) خوبیوں والے کی راہ دکھاتا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور منکرین (لوگوں سے) کہتے ہیں کہ ہم بتائیں تمہیں (ایسا) آدمی جو تمہیں (اس عجیب بات کی) خبر دے گا کہ جب تم (مرنے کے بعد) ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم ضرور نئے سرے سے پیدا کئے جاؤ گے ؟

[8] یعنی لوح محفوظ میں۔
Ayah 34:8

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

(معلوم نہیں) اس شخص نے اللہ پر جھوٹ بہتان باندھا ہے یا اسے جنون (لاحق) ہے ؟ (نہیں) بلکہ (بات یہ ہے کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہی عذاب اور پرلے درجے کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔

[9] یعنی نہ جھوٹ ہے نہ جنون۔ البتہ یہ لوگ عقل و دانش اور صدق وثواب کے راستے سے بھٹک کر بہت دور جا پڑے ہیں اور بےہودہ بکواس کر کے اپنے کو عذاب میں پھنسا رہے ہیں۔ فی الحقیقت یہ بڑا عذاب ہے کہ آدمی کا دماغ اس قدر مختل ہوجائے کہ وہ اللہ کے پیغمبر کو مفتری یا مجنوں کہنے لگے۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے آسمان اور زمین کی طرف جو (ان کو) ان کے آگے اور پیچھے (سے گھیرے ہوئے) ہیں نظر نہیں کی ؟ ہم اگر چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرا دیں۔ بلاشبہ اس میں (بڑی) نشانی ہے ہر اس بندے کے لئے جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا ہو۔

[10] یعنی یہ لوگ عقل و انصاف سے کام لے کر اللہ کی طرف رجوع کرتے اور اس سے طالب ہدایت ہوتے ہیں ان کے لئے آسمان و زمین میں بڑی بھاری نشانی موجود ہے۔ وہ اس منظم اور پُر حکمت نظام کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ ضرور ایک دن کسی اعلیٰ و اکمل نتیجے پر پہنچنے والا ہے جس کا نام '' دارالاخرۃ '' ہے۔
Ayahs 34:10–11

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے داؤد کو اپنے پاس سے (بڑی) نعمت عطا کی تھی۔ (چنانچہ ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا کہ) اے پہاڑو، تسبیح و تلاوت میں اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو اور (ایسا ہی حکم) پرندوں کو (بھی دیا) ۔ اور داؤد کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا۔

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

(اور اسے ہدایت کی) کہ (اس کی) زرہیں بنا اور کڑیوں کے جوڑنے میں اندازہ (مناسب کا خیال) رکھ، اور (اے داؤد کے گھر والو، ) تم سب نیک کام کیا کرو (اور) جو کچھ (بھی) تم کرتے ہو (اس کو) ہم دیکھ رہے ہیں۔

[11] داؤد (علیہ السلام) جب کبھی جنگل میں نکلتے اور اپنی ضرب المثل خوش آوازی سے تسبیح کرتے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح کرنے لگتے اور پرندے ان کے گرد جمع ہو کر ہم آہنگی کرتے۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور (اسی طرح ہم نے) سلیمان کے لئے ہوا کو (مسخر کردیا تھا) صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ (تک) اور (اسی طرح) شام کو اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ (تک) ۔ اور ہم نے اس کے لئے (پگھلے ہوئے) تانبے کا چشمہ بہا دیا۔ اور جنوں میں بعض وہ تھے جو اس کے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے (اور ہم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ) ان میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے انحراف کرے گا ہم اس کو دوزخ (کا مزا) چکھائیں گے۔

[12] یعنی ان کی مملکت سے ایک مہینے کی راہ تک کے مقامات کا سفر بسہولت کیا جاسکتا تھا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے بہت بڑے پیمانے پر بحری تجارت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس زمانے میں بحری سفر کا سارا انحصار باد موافق کے ملنے پر تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا سلیمان (علیہ السلام) پر یہ خاص کرم تھا کہ اس نے ہوا کو ان کے تابع کردیا تھا۔
Ayahs 34:13–14

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

(تو سلیمان کو) جو کچھ (بنوانا) منظور ہوتا (یہ جن) اس کے لئے بناتے (جیسے) اونچی عمارتیں، تصویریں، حوض جیسے لگن اور (بڑی بھاری بھاری) دیگیں (چولھوں پر) جمی ہوئی۔ (اور ہم نے داؤد کے گھر والوں کو حکم دیا کہ) اے داؤد کے گھر والو، (ان نعمتوں کے بدلے میں) تم (نیک) کام کرو شکریے کے طور پر، اور ہمارے بندے کم ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے سلیمان پر موت کا حکم جاری کردیا تو جنوں کو (کسی چیز نے) اس کے مرنے کا پتہ نہ دیا مگر گھن کے کیڑے نے جو سلیمان کے عصا کو کھا رہا تھا۔ پھر جب (عصا جس کے سہارے سیلمان مرنے کے بعد کھڑا تھا کھوکھلا ہوگیا اور) سلیمان گرپڑا تب جنوں پر یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو (اس) ذلت کے عذاب میں (مبتلا) نہ رہتے۔

[13] ضروری نہیں کہ وہ تصویریں انسان یا حیوان کی ہوں کیونکہ سلیمان (علیہ السلام) شریعت موسوی کے پیرو تھے اور اس شریعت میں جاندار کی تصویریں بنانا اسی طرح حرام تھا جس طرح شریعت محمدی میں ہے۔
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

(اور دیکھو، ) سبا (والوں) کے لئے ان کے (اپنے ہی) مسکن میں (اللہ کی قدرت) البتہ ایک (بڑی) نشانی (موجود) تھی۔ دو (قطاریں تھیں) باغ (کی) دائیں اور بائیں۔ (ہم نے ان لوگوں کو حکم دیا تھا کہ) اپنے رب کی (دی ہوئی) روزی کھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ، (ایسا) عمدہ ملک اور مغفرت فرمانے والا رب !

[14] ملک سبا جو اب یمن کہلاتا ہے۔ نہایت سرسبز، شاداب اور زرخیز خطہ تھا۔ [15] یعنی دو طرفہ باغات کا سلسلہ متصل چلا گیا تھا۔
Ayahs 34:16–17

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

مگر انہوں نے (ہمارے حکم سے) بےرخی برتی تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیج دیا، اور ان کے دو رویہ باغوں کے بدلے دو اور باغ دئیے جو کڑوے کسیلے پھل، جھکاؤ اور قدرے قلیل بیری والے تھے۔

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ ہم نے ان کی ناشکری کا بدلہ دیا اور ہم ناشکروں ہی کو (ایسے) بدلے دیا کرتے ہیں۔

[16] قوم سبا ایک متمدن قوم تھی۔ اس نے پہاڑوں سے نکلنے والے پانی کے ذخیرہ کے لئے ایک بہت بڑا بند تعمیر کیا تھا جو انجینئرنگ کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ جب اہل سبا نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کی نعمتوں کا کفران کیا تو اللہ کے حکم سے وہ بند ٹوٹ گیا اور تمام باغات اور زمینیں غرقاب ہوگئیں۔ یہ بند ظہور اسلام سے کچھ قبل ٹوٹا تھا اور اس کی تباہ کاریوں کے آثار صدیوں تک قائم رہے۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان ( سبا والوں) کے اور ان بستیوں کے درمیان جہاں ہم نے برکت رکھی تھی بستیاں (آباد کر) رکھی تھیں (دور سے) نظر آنے والی، اور ان (بستیوں) میں ہم نے سفر کی منزلیں مقرر کردی تھیں کہ بےکھٹکے سفر کرو ان میں رات اور دن

[17] مراد سر زمین شام و فلسطین ہے۔ [18] یعنی ان کے ملک سے لے کر شام تک سڑک کے کنارے کنارے دیہات کا سلسلہ ایسے اندازے اور تناسب سے چلا گیا تھا کہ مسافر کو ہر منزل پر کھانا پانی اور آرام کا موقع ملتا تھا۔
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

مگر انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب، ہمارے سفروں (کی منزلوں) کو دور دور کر دے۔ غرض ان لوگوں نے (کفران نعمت کر کے) اپنے آپ پر ظلم کیا تو ہم نے بھی انھیں داستان (پارینہ) بنا کر رکھ دیا اور انھیں تتر بتر کردیا۔ بلاشبہ اس (واقعے) میں ہر صابر و شاکر (انسان) کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیں۔

[19] زبان حال سے اور ممکن ہے کہ زبان قال سے بھی کہا ہو کہ اے اللہ اس طرح سفر کا لطف نہیں آتا۔ منزلیں دور ہوں، آس پاس آبادیاں نہ ملیں اور بھوک پیاس ستائے تب سفر کا مزہ ہے۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور واقعی ابلیس نے اپنا گمان ان لوگوں کے بارے میں صحیح پایا۔ چناچہ انہوں نے اس کی پیروی کی بجز ایمان والوں کے ایک گروہ کے (کہ وہ اس کے بہکانے میں نہ آیا) ۔

[20] یعنی اس کا یہ گمان کہ میں بنی آدم میں سے زیادہ کو گمراہ کر ڈالوں گا۔ (ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت 17 صفحہ 336 اور سورة بنی اسرائیل آیت 62 صفحہ 652)
Ayahs 34:21–22

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور اس (ابلیس) کا ان پر کچھ زور تو تھا ہی نہیں مگر (جو کچھ ہوا وہ) اس لئے کہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لانے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے۔ اور (اے پیغمبر، ) تمہارا رب ہر چیز پر نگراں ہے۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان مشرکین سے) کہو کہ پکارو ان (فرشتوں) کو جنہیں تم اللہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو (اور تحقیق کرو تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ) وہ نہ تو آسمانوں ہی میں ذرہ بھر اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں اور نہ آسمان و زمین (کے بنانے) میں ان کا کچھ حصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔

[21] مشرکین مکہ کی تنبیہہ کے لئے پچھلے دو رکوع میں تاریخ سے دو مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ پہلی مثال داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کی ہے جنہیں اللہ نے عظیم بادشاہی، علم و حکمت اور بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا مگر وہ ان نعمتوں کو پاکر سرکشی اور نافرمانی میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ برابر اپنے رب کے شکرگزار اور فرماں بردار بنے رہے۔ اس کا صلہ اللہ نے انھیں یہ دیا کہ ان کے لئے نعمتوں میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔ دوسری مثال اہل سبا کی ہے۔ ان کو بھی اللہ نے ایک نہایت آباد اور زرخیز ملک کی حکومت دی تھی لیکن وہ اس کو پاکر سرکشی اور نافرمانی میں مبتلا ہوگئے۔ بالآخر اللہ نے ان پر سیلاب کا عذاب بھیج کر اس طرح ان کو تباہ کردیا کہ وہ محض ایک داستان پارینہ بن کر رہ گئے۔ مشرکین مکہ ان دو مثالوں کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں کہ فرما برداری اور شکرنعمت کے جذبے سے جو زندگی بنتی ہے وہ بہتر ہے یا وہ زندگی جو نافرمانی اور کفران نعمت کی بنیاد پر بنتی ہے۔
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور اللہ کے حضور (کسی کی) سفارش بھی (کسی کے کچھ) کام نہیں آسکتی مگر (ہاں) اس کے لئے جس کے حق میں اللہ (شافع کو) اجازت دے۔ (ان فرشتوں کا تو یہ حال ہے کہ جب کوئی حکم اللہ کے ہاں سے نازل ہوتا ہے تو مارے ہیبت کے گھبرا اٹھتے ہیں) یہاں تک کہ جب گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو ( ایک دوسرے سے) پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا حکم فرمایا ؟ (اس پر جو زیادہ مقرب ہیں) وہ جواب دیتے ہیں کہ حق (بات کا حکم) فرمایا اور (واقعی) وہ نہایت عالی مقام اور سب سے بڑا ہے۔

[22] مشرکین فرشتوں کو اللہ کی چہیتی بیٹیاں کہتے تھے اور ان کے بارے میں گمان رکھتے تھے کہ (معاذ اللہ) وہ اپنے باپ سے جو بات چاہیں منوا سکتی ہیں۔ لیکن ان فرشتوں کا حال یہ ہے کہ جب اوپر سے اللہ کا حکم آتا تو وہ مارے ہیبت کے تھرا اٹھتے ہیں۔ جب یہ حالت رفع ہوتی ہے اور کچھ تسکین ہوتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیا حکم ہوا۔ اوپر والے فرشتے نیچے والوں کو درجہ بدرجہ بتلاتے ہیں کہ بجاحکم صادر ہوا ہے۔ پھر جس اللہ کی عظمت کی یہ کیفیت ہو کہ مقربین کا مارے ہیبت کے یہ حال ہوجائے تو وہ کون لوگ ہیں جن کی سفارش پر مشرکین تکیہ کئے ہوئے ہیں۔
Ayahs 34:24–27

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ بھلا تم کو آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے ؟ (یہ تو اس کا کیا جواب دیں گے تم ہی ان سے) کہو کہ اللہ۔ اب لامحالہ ہم یا تم یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں۔

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ نہ تو ہمارے گناہوں کی تم سے بازپرس ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے جواب طلبی کی جائے گی۔

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

(اور ان سے یہ بھی) کہہ دو کہ ہمارا رب (قیامت کے دن) ہم (دونوں فریقوں) کو جمع کرے گا پھر وہ ہمارے (تمہارے) درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا اور وہ بڑا (ٹھیک) فیصلہ کرنے والا (اور) بڑا علم والا ہے۔

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ جن کو تم نے شریک بنا کر اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے (ذرا ایک نظر) انھیں مجھے (بھی تو) دکھاؤ۔ ہرگز (اس کا کوئی شریک) نہیں، بلکہ زبردست (اور) حکمت والا تو بس وہی (ایک) اللہ ہے۔

[23] مطلب یہ ہے کہ ہم تو تم کو ایک معقول بات سمجھاتے ہیں اور تم سے اس کا کوئی جواب دیتے بن نہیں پڑتا۔ پھر تم خود ہی سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں کون فریق راہ راست پر ہے۔ اس طریق خطاب میں تعلیم ہے مجادلہ کے ساتھ لب و لہجے میں نرمی کی جس سے مخالف کو اپنے نفس میں غور کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
Ayahs 34:28–29

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لئے (ایمان و نیک عمل کے نتائج کی) خوشخبری سنانے والا اور (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور (یہ منکریں) پوچھتے ہیں کہ (بھلا) اگر تم سچے ہو تو (بتلاؤ کہ) یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟

[24] اتنی صراحت کے ساتھ کہ اپنے پیام و ہدایت کی عالم گیری کا دعویٰ دنیا کے کسی دین نے نہیں کیا ہے۔ یہ خصوصیت آسمانی کتابوں میں صرف قرآن کی ہے۔ قرآن ہی اعلان کرتا ہے کہ پیام محمدی ہر ملک، ہر قوم، ہر طبقہ انسانیت اور ہر زمانے کی ہدایت کے لئے ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت 158 صفحہ 368، سورة انبیاء آیت 107 صفحہ 758، سورة فرقان آیت 1 صفحہ 842۔
Ayahs 34:30–34

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ تمہارے ساتھ جس دن کا وعدہ ہے تم اس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکو گے اور نہ آگے بڑھ سکو گے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور یہ کفار (مکہ) کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس قرآن پر ایمان نہ لائیں گے اور نہ ان پہلی (کتابوں) پر جو اس سے پہلے تھیں۔ (اے پیغمبر، ) کاش تم دیکھو (ان کا حال) جب (قیامت کے دن یہ) ظالم اپنے رب کے حضور میں کھڑے کئے جائیں گے (اور اس وقت) وہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے۔ جو لوگ (دنیا میں) دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوتے۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

(اس پر) بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں سے کہیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت ( پر عمل کرنے) سے (زبردستی) روک دیا تھا بعد اس کے کہ وہ تم تک پہنچ چکی تھی ؟ ( نہیں) بلکہ تم (خود) مجرم تھے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے (زبردستی تو نہیں) مگر (ہاں تمہاری) رات دن کی مکاریوں نے (روکا تھا) جب تم ہم کو حکم دیا کرتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرائیں۔ اور جب یہ (سب) لوگ عذاب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں گے اور ہم ان کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ نہیں، وہ (اُسی کی) سزا پائیں گے جو وہ کرتے رہے تھے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور (دیکھو، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ) ہم نے کسی بستی میں (کوئی پیغمبر انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کرنے والا نہ بھیجا ہو اور وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہ نہ کہا ہو کہ (تمہارے زعم میں) جو (پیغام) تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے اس کو ہم نہیں مانتے۔

[25] ظاہر میں تو یہ لوگ قیامت کا وقت پوچھتے تھے اور مقصود ان کا یہ تھا کہ قیامت نہیں ہوگی۔ تو جواب میں اللہ نے وقت تو نہیں بتایا مگر ان کے اصل مقصود یعنی انکار کی تردید کردی کہ وقت کا بتانا منظور نہیں مگر قیامت اپنے وقت پر آ کر رہے گی۔
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور انہوں نے (یہ بھی) کہا کہ ہم مال اور اولاد (تم سے) زیادہ رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب ہونا نہیں۔

[26] یعنی معلوم ہوا کہ اللہ ہم سے خوش اور راضی ہے ورنہ اتنا مال و اولاد کیوں دیتا۔ جب وہ خوش ہے تو ہم کو کسی آفت کا اندیشہ نہیں۔ تم فضول عذاب کی دھمکیاں دیتے ہو۔ یہ رسول اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ رؤسائے مکہ کے انحراف و سرکشی سے غمگین نہ ہوں۔ ہر زمانے میں پیغمبروں کا مقابلہ ایسے ہی بدبخت رئیسوں نے کیا ہے۔
Ayahs 34:36–39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ میرا رب جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی چاہتا ہے) نپی تلی (بھی) کردیتا ہے مگر اکثر لوگ (تقسیم رزق کی مصلحتوں کو) نہیں سمجھتے۔

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

(لوگو، ) تمہارے مال اور تمہاری اولاد (ہمارے ہاں) ایسی (وقعت) نہیں (رکھتے) کہ تم کو ہمارا مقرب بنادیں۔ (ہاں) مگر جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل (بھی) کئے تو (آخرت میں) ایسے لوگوں کے لئے دوہرا صلہ ہے اور وہ (بہشت کے) بالاخانوں میں اطمینان سے رہیں گے۔

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہے ایسے لوگ عذاب میں رکھے جائیں گے۔

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ میرا رب جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی چاہتا ہے) نپی تلی (بھی) کردیتا ہے اور جو کچھ تم (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو گے وہ اس کا عوض دے گا اور وہ سب (روزی دینے والوں) سے بہتر روزی دینے والا ہے۔

[27] یعنی روزی کی فراخی اور تنگی اللہ کے خوش یا ناخوش ہونے کی دلیل نہیں۔ دنیا میں کتنے ہی بدمعاش، ظالم، بےایمان پھلتے پھولتے اور مزے اڑاتے نظر آتے ہیں اور بہت سے توحید پرست، پرہیزگار اور نیک بندے تنگ دستی اور مصیبت میں مبتلا رہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ دولت و افلاس یا فراخی و تنگی اللہ کی نظر میں کسی کے محبوب یا مغضوب ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ معاملات تو دوسرے مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہیں جن کو اللہ ہی جانتا ہے مگر بہت سے لوگ اس نکتے کو نہیں سمجھتے۔
Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور (لوگو، اس دن کو پیش نظر رکھو) جس دن اللہ تمام انسانوں کو (میدان حشر میں) جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا، '' کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے ؟ ''

[28] یہ سوال فرشتوں کے حق میں الزام نہیں بلکہ مشرکین ہی کی مزید رسوائی و فضیحت کے لئے ہوگا کیونکہ مشرکین دنیا میں فرشتوں کو بھی معبود قرار دیتے تھے اور ان کی پرستش کرتے تھے۔