33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 33:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے پیغمبر، اللہ سے ڈرتے رہو اور کافروں اور منافقوں (سے ڈر کر ان) کے کہنے میں نہ آجانا۔ بلاشبہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا تو اللہ ہی ہے۔

Ayah 33:2

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور تمہارے رب (کی طرف) سے جو کچھ تم پر وحی کیا جاتا ہے اس کی پیروی کرو۔ یقینا اللہ اس سے خوب باخبر ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔

Ayah 33:3

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اللہ پر بھروسہ رکھو کہ کارسازی کے لئے وہی کافی ہے۔

Ayah 33:4

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

(لوگو، ) اللہ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے اور نہ اس نے تم لوگوں کی بیویوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری ماں بنادیا اور نہ تمہارے لے پالک بیٹوں کو تمہارے (سچ مچ) بیٹے بنادیا۔ یہ تو صرف تمہارے منہ سے کہنے کی باتیں ہیں اور حق بات تو اللہ کہتا ہے اور وہی (لوگوں کو سیدھا) راستہ دکھاتا ہے۔

[1] ظہار سے مراد ہے بیوی کو ماں سے تشبیہ دینا۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ بیوی سے لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے کبھی یہ بات کہہ بیٹھتے تھے کہ تیری پیٹھ ایسی ہے جیسی میری ماں کی پیٹھ۔ اور یہ ظہار طلاق سمجھی جاتی تھی۔ [2] یعنی تمہارا بیوی کو ماں کہنا اور لے پالک کو بیٹا کہنا بےحقیقت باتیں ہیں۔ جس طرح ایک آدمی کے دو دل نہیں اسی طرح ایک شخص کی حقیقتاً دو مائیں یا بیٹے کے دو باپ نہیں۔
Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

(لوگو، ) لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے پکارا کرو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ اور تم سے اس بارے میں بھول چوک ہوجائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں مگر ہاں دل سے ارادہ کر کے ایسا کرو (تو البتہ گناہ کی بات ہے) اور اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[3] لہذا ان کے مناسب حال الفاظ سے انھیں پکارو۔ [4] اس لئے اگر ایسی بات قصداً کہہ ڈالنے کے بعد بھی استغفار کرو تو اللہ معاف کر دے گا۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

نبی مومنین پر خود ان کے نفس سے زیادہ شفقت کرنے والا ہے اور نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں مگر کتاب اللہ کی رو سے رشتے دار (تمام) مومنوں اور مہاجروں سے بڑھ کر ایک دوسرے کے حق دار ہیں، البتہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ سلوک کرنا (چاہو تو کرسکتے ہو) ۔ یہ بات کتاب (الٰہی) میں لکھی ہوئی ہے۔

[5] یعنی نبی ﷺ مسلمانوں کے لئے ان کے اپنے نفس اور ذات سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں۔ کیونکہ انسان کا نفس اس کو کبھی نفع پہنچاتا ہے اور کبھی نقصان، لیکن نبی ﷺ کی تعلیم نفع ہی نفع ہے اور خیر ہی خیر ہے۔ اگر اپنا نفس اچھا ہو اور نیکی کی طرف چلتا ہو پھر بھی اس کا نفع نبی ﷺ کے نفع کے برابر نہیں ہوسکتا اور جب نفع رسانی میں رسول اکرم ﷺ ہمارے نفس سے بھی زیادہ ہیں تو ان کا حق ہم پر ہماری جان سے بھی زیادہ ہے اور وہ حق یہ ہے کہ ہم ہر کام میں آپ ﷺ کی اطاعت کریں۔ اور آپ ﷺ کی تعظیم و تکریم تمام مخلوقات سے زیادہ کریں۔ [6] یعنی دینی مائیں ہیں تعظیم اور احترام اور تعظیم کی ایک نوع تحریم بھی ہے اس لئے ان سے نکاح حرام ہوا۔ [7] یعنی شریعت الٰہی کی رو سے۔ [8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انفال حاشیہ 29 صفحہ 412 [9] یعنی لوح محفوظ میں۔
Ayah 33:7

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، وہ وقت یاد کرو) جب کہ ہم نے تمام پیغمبروں سے (اپنے احکام کے اتباع و تبلیغ کا) عہدلیا تھا، تم سے (بھی) اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے (بھی) اور ان سب سے ہم نے پکا عہد لیا تھا۔

[10] یہ اس عہد یا میثاق کا ذکر ہے جو سورة آل عمران آیت 187 اور سورة شوری آیت 13 میں بیان ہوا ہے۔
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ (قیامت کے دن) ان سچے لوگوں سے (ان کا رب) ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے، اور کافروں کے لئے تو اس نے عذاب دردناک تیار کر ہی رکھا ہے۔

[11] یعنی تبلیغ رسالت کے بارے میں تاکہ سچوں کی سچائی پر قائم رہنا ظاہر ہو اور منکروں کو سچائی سے انکار کرنے پر سزا دی جائے۔
Ayah 33:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں جو تم کو دکھائی نہیں دیتی تھیں۔ اور جو کچھ تم (اس وقت) کر رہے تھے اللہ (اسے) دیکھ رہا تھا۔

[12] یہاں سے آیت 25 تک غزوہ احزاب کا بیان ہے۔ احزاب جمع ہے حزب کی جس کے معنی جماعت یا پارٹی کے ہیں۔ [13] یعنی قریش مکہ کا لشکر قبیلہ بنی غطفان کا لشکر اور یہود کا لشکر۔ ان تین لشکروں کی مجموعی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی۔ [14] شوال 5 ھ میں ان دشمنان اسلام نے ایکا کر کے مدینہ پر دھاوا بول دیا۔ عرب نے اتنی بڑی فوج کشی کی مثال اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی جمعیت کل تین ہزار تھی۔ سلمان فارسی ؓ کے مشورے پر نبی ﷺ نے شہر کے شمال اور غربی رخ ایک خندق کھدوائی جو تقریباً ساڑھے تین میل لمبی تھی۔ اسی لئے اس غزوے کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے۔ خندق کی وجہ سے دشمن مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ عرب کے لئے یہ ایک نئی حکمت جنگ تھی اور قریش اس پر دنگ رہ گئے۔ محاصرے کو ایک ماہ گزر گیا۔ اس درمیان میں پیغمبر اسلام کے حسن تدبیر سے دشمن اور حلیفوں کی آپس میں بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پھیل گئیں۔ دشمنوں کی فوج کا سردار ابو سفیان بددل ہو ہی چلا تھا کہ حکم الٰہی سے ایک روز زبردست آندھی زور کی بارش کے ساتھ آئی اور اس کی پوری زد کفار کے لشکر پر پڑی۔ خیمے اکھڑ گئے، کھانے کی ہنڈیاں الٹ گئیں اور روشنیاں بجھ گئیں۔ غرض ابتری ہر طرح پھیل گئی۔ دشمنان اسلام قدرت الٰہی کا یہ کاری وار نہ سہہ سکے اور راتوں رات بھاگ کھڑے ہوئے۔ صبح ہوئی تو میدان میں ایک دشمن بھی موجود نہ تھا۔ نبی ﷺ نے میدان کو دشمنوں سے خالی دیکھ کر فرمایا کہ اب آئندہ ہم کفار پر چڑھائی کریں گے، وہ ہم پر چڑھ کر نہ آسکیں گے۔ چناچہ یہی ہوا۔ [15] یعنی فرشتوں کی فوجیں جو کفار کے دلوں میں رعب ڈال رہی تھیں۔
Ayahs 33:10–12

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب (دشمن) تمہارے اوپر کی طرف سے اور تمہارے نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب (مارے خوف کے تمہاری) آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور اللہ کے بارے میں تم لوگ (طرح طرح کے) گمان کرنے لگے۔

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

اس موقع پر ایمان والے (خوب) آزمائے گئے اور بری طرح جھنجھوڑے گئے۔

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافقین نے اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہنا شروع کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا وہ نرا دھوکا (ہی دھوکا) تھا۔

[16] یعنی مدینہ کی شرقی جانب سے جو اونچی ہے اور غربی جانب سے جو نیچی ہے۔
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور (یہ اس وقت ہوا) جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے یثرب کے لوگو، تمہارے لئے (دشمن کے مقابلے میں اب) ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے، پس (اپنے گھروں کو) واپس جاؤ۔ اور ان میں سے ایک فریق نبی سے یہ کہہ کر رخصت مانگ رہا تھا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ (ذرا بھی) غیر محفوظ نہ تھے۔ (دراصل) وہ (محاذ جنگ سے) بھاگنا چاہتے تھے۔

[17] یثرب مدینہ کا پرانا نام ہے۔ ہجرت نبوی کے بعد مدینتہ النبی نام پڑا۔
Ayahs 33:14–15

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر (دشمن) شہر کے اطراف (وجوانب) سے گھس آئے ہوتے اور ان سے فساد (برپا کرنے) کو کہا جاتا تو (یہ بےتامل) اسے مان لیتے اور اس میں ذرا بھی دیر نہ کرتے۔

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ (یہ لوگ اس سے) پہلے اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ (ہم دشمن کے مقابلے میں) پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے (کئے ہوئے) عہد کی بازپرس تو ہو کر رہے گی۔

[18] مطلب یہ ہے کہ اگر کہیں کافروں کا لشکر مدینہ میں داخل ہوجاتا اور ان منافقوں سے کہتا کہ مسلمانوں سے لڑو اور فساد برپا کرو تو بلاتامل اس کے لئے آمادہ ہوجاتے اور ذرا دیر نہ کرتے۔
Ayahs 33:16–17

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ اگر تم موت یا قتل (کے خوف) سے بھاگتے ہو تو (یہ) بھاگنا تمہیں (کچھ بھی) فائدہ نہ دے گا۔ اگر بھاگ کر بچ بھی گئے تو (زندگی کے) مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں مل سکے گا۔

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ کون ہے جو تمہیں اللہ (کی پکڑ) سے بچا سکتا ہے اگر وہ تمہارے ساتھ برائی کرنا چاہے، یا تم پر اپنا فضل کرنا چاہے (تو کون اس کو روک سکتا ہے) اور اللہ کے سوا یہ لوگ نہ تو کسی کو (اپنا) حمایتی پائیں گے اور نہ مددگار۔

[19] یعنی بھاگ کر عمر نہیں بڑھ سکتی کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے۔ اور اگر نہ بھاگتے تو وقت سے پہلے مر نہیں سکتے۔ لہذا بھاگنا محض بےعقلی ہے۔
Ayah 33:18

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

(مسلمانو، ) اللہ تم میں سے ان (منافقوں) کو خوب جانتا ہے جو (دوسروں کو جنگ میں شریک ہونے سے) روکتے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ۔ اور یہ لڑائی میں حصہ بھی لیتے ہیں تو برائے نام

[20] تو تمہاری جان بچ جائے گی اور تم چین سے زندگی بسر کرو گے۔
Ayahs 33:19–20

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

(اور) تمہارے حق میں بخیل ہیں۔ پھر جب کوئی خطرہ پیش آتا ہے تو تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمہاری طرف دیدے پھرا پھرا کر اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی (مرنے والے) پر موت کی غشی طاری ہو، پھر جب خطرہ دور ہوجاتا ہے (اور مسلمانوں کو فتح ہوجاتی ہے) تو یہی لوگ مال (غنیمت) کے حریص بن کر (اپنی) تیز زبانوں سے تم پر طعنے مارتے ہیں۔ (دراصل) یہ لوگ (شروع سے) ایمان لائے ہی نہیں، چناچہ اللہ نے ان کے (سارے) اعمال ضائع کر دئیے۔ اور یہ بات اللہ کے لئے (بہت) آسان ہے۔

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

(باوجودیکہ محاصرہ کرنے والے لشکر محاصرہ اٹھا کر چل بھی دئیے ہیں مگر) یہ لوگ (ابھی تک یہی) خیال کر رہے ہیں کہ (یہ) لشکر (ابھی) نہیں گئے۔ اور اگر (دشمنوں کے) لشکر (پھر) آموجود ہوں تو یہ چاہیں گے کہ کاش ہم صحرا میں بدوؤں کے درمیان جا رہتے اور (وہیں سے) تمہارے حالات دریافت کرتے رہتے۔ اور اگر (کسی مجبوری سے) یہ تم میں رہتے تب بھی نہ لڑتے مگر برائے نام۔

[21] یعنی تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں اور اپنی محنتیں، اپنی توانائیاں اور اپنا مال غرض کوئی چیز بھی وہ اس راہ میں بخوشی صرف کرنے کو تیار نہیں۔ [22] یعنی مال غنیمت لینے کی خاطر مسلمانوں سے دلخراش باتیں کرتے ہیں، مثلاً یہ کہ تم نے ایسا کون سا کارنمایاں کیا جو ہم نے نہیں کیا۔ ہم نہ ہوتے تو تم فتح پاسکتے تھے ؟ آیت میں منافقوں کی بزدلی اور حرص دونوں کا پورا بیان آگیا۔
Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تمہارے (یعنی) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ (سے ملنے) اور روز آخرت (کا ثواب حاصل کرنے) کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے، اللہ کے رسول میں ایک عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔

[23] یعنی جب نبی ﷺ بہ نفس نفیس لڑائی میں شریک تھے اور سب سے پیش پیش تھے اور محنت و مقشت میں آپ نے دوسروں سے بڑھ کر حصہ لیا اور کوئی تکلیف ایسی نہ تھی جو دوسروں نے اٹھائی ہو اور آپ نے نہ اٹھائی ہو تو مسلمانوں کو ہچر مچر کرنا کیا مناسب تھا ؟ انھیں چاہئے تھا کہ بےچون و چرا رسول کا ساتھ دیتے۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب (سچے) اہل ایمان نے (دشمنوں کے) لشکروں کو دیکھا تو بول اٹھے کہ یہ (وہی چیز) ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا۔ اور (اس واقعہ سے) ان کا ایمان اور (شیوہ) فرماں برداری اور بھی زیادہ ہوگیا۔

[24] یعنی پکے مسلمانوں نے جب دیکھا کہ کفر کی فوجیں اکٹھی ہو کر چاروں طرف سے ٹوٹ پڑی ہیں تو بجائے مذبذب یا پریشان ہونے کے ان کا جذبہ اطاعت اور یقین اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر اور زیادہ ہوگیا اور وہ کہنے لگے کہ یہ تو وہی منظر ہے جس کی خبر اللہ اور اس کے رسول نے پہلے سے دے رکھی تھی جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا۔ '' کیا تم (لوگوں) نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ (محض ایمان کا زبانی دعویٰ کر کے) تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تک تم کو ان لوگوں کی سی حالت پیش نہیں آئی جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں اور وہ جھنجھوڑے گئے، جہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد (آخر) کب آئے گی ؟ (اس وقت انھیں بشارت دی گئی کہ) ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔ '' (آیت 214 صفحہ 62) ۔
Ayahs 33:23–26

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

ایمان لانے والوں میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ (جان نثاری کا) جو عہد کیا تھا اس میں سچے اترے۔ ان میں بعض تو اپنی نذر پوری کر گئے اور بعض ان میں سے (وقت آنے کے) منتظر ہیں۔ انہوں نے (اپنے روئیے میں) ذرا بھی تبدیلی نہیں کی۔

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

(الغرض یہ لڑائی اس لئے پیش آئی) کہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا صلہ دے اور منافقوں کو چاہے سزا دے یا (چاہے تو) ان کی توبہ قبول کرے۔ بلاشبہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ نے (اپنی قدرت سے) کافروں کو (مدینے سے) ہٹا دیا، (وہ) غصے میں (بھرے ہوئے یونہی پلٹ گئے، ) ان کو (اس مہم سے) کچھ بھی فائدہ نہ پہنچا اور جنگ میں اللہ آپ ہی مومنوں کے لئے کافی ہوگیا، اور (اللہ بڑی) قوت والا (اور) زبردست ہے۔

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان (حملہ آوروں) کی مدد کی تھی اللہ ان کو ان کے قلعوں سے نیچے اتار لایا۔ اور ان کے دلوں میں (تم مسلمانوں کا ایسا) رعب بٹھا دیا (کہ آج) تم (ان میں سے) ایک گروہ کو قتل کر رہے ہو اور ایک گروہ کو قید کر رہے ہو۔

[25] یعنی جہاد پر ثابت قدم رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ [26] یعنی شہادت کا انتظار کر رہے ہیں۔
Ayah 33:27

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور اس نے تمہیں ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنادیا۔ اور اس زمین کا (بھی) جس میں تم نے (اب تک) قدم نہیں رکھا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

[27] یہ یہودیوں کا قبیلہ بنی قریظہ تھا جو مدینہ کے جنوب مشرقی جانب رہتا تھا اور جنگ احزاب سے پہلے اس کا مسلمانوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ تھا۔ جنگ احزاب کے موقع پر یہ لوگ معاہدے کو بالائے طاق رکھ کر حملہ آوروں کی مدد پر کھڑے ہوگئے۔ جب مدینہ کا محاصرہ ختم ہوا تو مسلمانوں نے فوراً ان پر چڑھائی کی اور ان کے قلعوں کا محاصرہ کرلیا۔ یہ محاصرہ تین ہفتے جاری رہا۔ آخر محصورین تاب نہ لاسکے اور پیغام بھیجا کہ سعد بن معاذ کو (جو ان کے حلیف اور قبیلہ اوس کے سردار تھے) ہم حکم ٹھہراتے ہیں۔ جو فیصلہ وہ کریں گے ہمیں منظور ہوگا۔ نبی ﷺ نے ان کی تجویز منظور فرمالی۔ سعد نے یہ فیصلہ کیا کہ بنی قریظہ کے تمام جوان قتل کئے جائیں اور ان کے بچوں اور عورتوں کو غلام بنا لیا جائے۔ یہ فیصلہ ٹھیک ٹھیک ان کی کتاب تورات کے مطابق تھا۔ چناچہ اس پر عمل کیا گیا۔ [28] مراد خیبر کی زمین ہے جو دو برس بعد مسلمانوں کے ہاتھ لگی۔
Ayahs 33:28–32

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے پیغمبر ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں (کچھ) دے دلا کر خوش اسلوبی سے رخصت کر دوں۔

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی خواہاں ہو تو (جان لو کہ) تم میں سے جو نیکوکار ہیں ان کے لئے اللہ نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی صریح فحش حرکت کی مرتکب ہوگی اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اور یہ اللہ کے لئے (بہت) آسان ہے۔

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم اس کا اجر (بھی) دوہرا دیں گے اور ہم نے (آخرت میں) اس کے لئے عزت کی روزی مہیا کر رکھی ہے۔

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تقویٰ رکھتی ہو تو (نامحرم مرد سے) بولنے میں نزاکت مت کرو۔ (ایسا کروگی) تو جس کے دل میں (کسی طرح کا) کھوٹ ہے وہ (اللہ جانے) تم سے (کس طرح کی) توقعات پیدا کرلے گا۔ اور (ہاں) قاعدے کے موافق بات کرو۔

[29] فتح خبیر کے بعد جب مسلمانوں کی مالی وسعت اچھی خاصی ہوگئی تو ازواج مطہرات کو قدرتاً یہ خیال گزرا کہ اب ہمارے نفقہ میں بھی معقول اضافہ ہونا چاہئے۔ اس خواہش کا اظہار انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ کے قلب مبارک کی اذیت کے لئے دنیا طلبی کی اتنی جھلک بھی بہت تھی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ تمام ازواج النبی ﷺ کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو آپ ﷺ کی موجودہ حالت یعنی معاشی عسرت و تنگی کے ساتھ آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کریں یا پھر آپ ﷺ سے طلاق لے کر آزاد ہوجائیں اور جہاں چاہیں جا کر دنیا حاصل کریں۔ تمام ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کیا اور دنیا کے عیش و آرام پر آپ ﷺ کے ساتھ وابستہ رہنے کو ترجیح دی۔
Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کی (سی) سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اے پیغمبر کی گھر والیو ! اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) گندگی کو دور کرے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔

[30] یعنی بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلو۔ [31] جاہلیت کی تشریح سورة آل عمران حاشیہ 58 صفحہ 170 میں گزر چکی ہے۔
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیتیں اور حکمت کی باتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ بلاشبہ اللہ باریک بین اور (سب کے حال سے) باخبر ہے۔

[32] ان آیات میں اگرچہ خطاب ازواج مطہرات سے ہے مگر مقصود تمام مسلمان عورتوں کو سنانا ہے۔ اور اس سے غرض یہ ہے کہ جب ازواج مطہرات ان احکام کی پیروی کریں گی تو تمام مسلمان عورتیں ان کی تقلید کریں گی کیونکہ پیغمبر کا گھر ان کے لئے نمونہ تھا۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں، راست گو مرد اور راست گو عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں، بیشک ان (سب) کے لئے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے۔

[33] یعنی وہ مرد اور عورت جو اسلام کے ظاہری اعمال، نماز، روزہ وغیرہ پر قائم ہوں۔ [34] یعنی وہ مرد اور عورتیں جو عقائد صحیح کے پابند ہیں۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ سزاوار نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول (ان کے بارے میں) کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو (وہ اپنی رائے کو دخل دیں اور) اس معاملے میں ان کا (اپنا) اختیار (باقی) رہے۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔

[35] حکم کا اطلاق عمومی ظاہر ہے۔ اس اعلان عام کے علاوہ اشارہ ایک خاص واقعہ کی جانب بھی ہے۔ زینب بنت جحش رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ آپ ﷺ نے ان کا نکاح زید بن حارثہ ؓ سے کرنا چاہا جو آپ کے صحابی اور منہ بولے بیٹے تھے اور مدتوں عوام میں زید بن محمد ﷺ نام سے مشہور رہے لیکن ایک زمانے میں وہ غلام رہ چکے تھے۔ زینب اور ان کے بھائی کو اپنے حسب و نسب کی بناء پر آزاد شدہ غلام سے نکاح پسند نہ تھا لہذا تامل کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت اتری۔
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، وہ وقت یاد کرو) جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے احسان کیا تھا اور تم بھی اس پر احسان کرتے رہے کہ اپنی بیوی کو (اپنی زوجیت میں) رہنے دے اور اللہ سے ڈر۔ اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے (آخرکار) اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تم (اس معاملے میں) لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید اس (عورت) سے اپنی غرض پوری کرچکا تو ہم نے تمہارے ساتھ اس (عورت) کا نکاح کردیا تاکہ اہل ایمان پر اپنے لے پالک بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں (کسی طرح کی) تنگی نہ رہے جب وہ ان سے اپنی غرض پوری کرلیں۔ اور اللہ کا حکم تو ہو کر ہی رہتا ہے۔

[36] یعنی زید ؓ بن حارثہ سے۔ [37] یعنی اسلام کی توفیق دی اور غلامی سے نجات دلائی۔ [38] یعنی پالا پوسا، امور دین کی تعلیم فرمائی اور اپنی پھوپھی زاد بہن سے نکاح کردیا۔ [39] زید ؓ اور زینب ؓ کے مزاجوں میں ناموافقت کی وجہ سے زیدؓ نے طلاق دینا چاہی اور رسول اکرم ﷺ سے مشورہ کیا۔ آپ ﷺ نے فہمائش کی کہ طلاق مت دو کیونکہ زینب ؓ نے میری خاطر اللہ اور رسول ﷺ کے حکم سے تجھے اپنی منشاء کے خلاف قبول کیا اب چھوڑ دینے کو وہ اور اس کے عزیز دوسری ذلت سمجھیں گے۔ مگر جب کسی طرح موافقت نہ ہوئی تو زید ؓ نے طلاق دینے کا عزم کیا۔ اس وقت رسول اکرم ﷺ کو وحی کے ذریعے معلوم ہوا کہ زید ؓ ضرور طلاق دیں گے اور زینب ؓ کا نکاح آپ ﷺ سے ہوگا۔ زینب ؓ کی دل شکنی کا تدارک جس سے ان کی اشک شوئی ہوسکتی تھی اس سے بہتر کوئی نہ تھا کہ آپ ﷺ ان سے نکاح کر کے دلجوئی اور قدر افزائی فرمائیں۔ ساتھ ہی یہ خیال بھی تھا کہ قوم عرب جو منہ بولے بیٹے کی زوجہ سے نکاح کو معیوب سمجھتی ہے وہ کیا کہے گی یہی وہ خیال تھا جسے آپ ﷺ دل میں چھپائے ہوئے تھے۔ [40] یعنی جب زیدؓ نے زینب ؓ کو طلاق دے دی اور عدت بھی پوری ہوگئی اور زینب ؓ سے کوئی مطلب نہ رہا۔ [41] یعنی منہ بولے بیٹے۔ [42] یعنی زینب ؓ کو آپ ﷺ کے نکاح میں دینے کی غرض یہ تھی کہ منہ بولے بیٹوں کے بارے میں جو جاہلانہ خیالات رائج تھے ان کا بالکل قلع قمع کردیا جائے اور کوئی تنگی یا رکاوٹ آئندہ اس معاملے میں باقی نہ رہنے پائے۔
Ayahs 33:38–39

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

اللہ نے پیغمبر کے لئے جو بات ٹھہرا دی ہو اس (کے کرنے) میں پیغمبر پر کوئی الزام نہیں۔ اللہ کا یہی دستور (رہا) ہے ان (سب پیغمبروں) کے بارے میں جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم تو ( روز ازل سے) تجویز کیا ہوا ہوتا ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

(یہ وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ اور حساب (اعمال) کے لئے اللہ کافی ہے۔

[43] مراد اسی نکاح زینب ؓ سے ہے۔