32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 32:1–3

الٓمّٓۚ Open ayah 32:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ میم۔

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا بلاشبہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا (یہ لوگ) کہتے ہیں کہ اس (کتاب) کو اس شخص نے گھڑ لیا ہے ؟ (نہیں اے پیغمبر، ان کا کہنا سراسر غلط ہے) بلکہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے تاکہ تم (انکاروبدعملی کے نتائج سے) خبردار کردو اس قوم کو جس کے پاس تم سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تاکہ وہ لوگ راہ پر آجائیں۔

[1] یعنی محمد ﷺ نے۔ [2] ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کے بعد تقریباً ڈھائی ہزار سال تک عرب میں کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوا تھا۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

(وہ) اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور (ان ساری چیزوں کو) جو ان کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش (بریں) پر متمکن ہوگیا۔ اس کے سوا تمہارا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ سفارشی، پھر کیا تم لوگ (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے ؟

[3] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حواشی 26, 25 صفحہ 382۔
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

آسمان سے (لے کر) زمین تک (وہی ہر) کام کا انتظام کرتا ہے، پھر انتظام (کا نتیجہ) اوپر اس کے حضور جاتا ہے ایک دن میں جس کی مدت تم لوگوں کی گنتی کے مطابق ہزار سال ہے۔

[4] یعنی اللہ تعالیٰ ہزار سال کے انتظامات و تدابیر فرشتوں کو القا کرتا ہے اور یہ اس کے ہاں ایک دن ہے۔ پھر فرشتے جب انھیں انجام دے کر فارغ ہوجاتے ہیں تو آئندہ ہزار سال کے انتظامات انھیں القاء فرما دیتا ہے۔ اسی طرح یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
Ayahs 32:6–7

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہی ( اللہ) ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، زبردست (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا،

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

اس نے جو چیز بھی بنائی خوب ہی بنائی۔ اور اس نے انسان کی پیدائش مٹی سے شروع کی۔

[5] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حواشی 10 تا 13 صفحہ 597۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل نچڑے ہوئے حقیر پانی سے چلائی۔

[6] یعنی نطفہ سے جو بہت سی غذاؤں کا نچوڑ ہے۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس (کے پتلے) کو (نِک سک سے) درست کیا، پھر اس میں اپنی روح سے (کچھ) پھونکا اور تم لوگوں کو کان، آنکھ اور دل دئیے۔ (اس پر بھی) تم لوگ کم ہی (اس کا) شکر کرتے ہو۔

[7] یعنی شکل، صورت، اعضاء موزوں و متناسب رکھے۔ [8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 14 صفحہ 598۔ [9] روح پھونکنے تک انسان کا ذکر صیغہ غائب میں کیا جاتا رہا اس لئے کہ وہ خطاب کے لائق نہ تھا۔ روح پھونکنے کے بعد جب وہ اس قابل ہوا کہ اس سے خطاب کیا جائے تو اس سے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے تم کو کان، آنکھیں اور دل دئیے۔ یہ ایک لطیف انداز بیان ہے۔ کان اور آنکھوں سے مراد وہ ذرائع ہیں جن سے انسان علم حاصل کرتا ہے اگرچہ حصول علم کے ذرائع لامسہ اور شامہ بھی ہیں لیکن سماعت اور بینائی تمام دوسرے حواس سے زیادہ بڑے اور اہم ذرائع ہیں۔ '' دل '' سے مراد وہ ذہن ہے جو حواس کے ذریعے سے حاصل شدہ معلومات کو مرتب کر کے ان سے نتائج نکالتا ہے اور عمل کی مختلف امکانی راہوں میں سے کوئی ایک راہ منتخب کر کے اس پر چلنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور (یہ منکرین) کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی میں رل مل جائیں گے تو کیا ہم (پھر) نئے جنم میں آئیں گے ؟ (نہیں) بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) یہ لوگ اپنے رب سے ملنے ہی کے منکر ہیں۔

[10] یعنی منکرین اصل میں اعمال کی جواب دہی سے گھبراتے ہیں اور اسی سبب سے قیامت کو نہیں مانتے۔ اگر اعمال کی جواب دہی کا ڈر ہوتا تو یہ ایسے شدومد کے ساتھ قیامت کا انکار نہ کرتے۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم ان لوگوں سے) کہو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے وہ تم کو قبض کرے گا، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

[11] یعنی تمہاری روح قبض کرے گا۔ [12] یعنی تم محض جسم نہیں ہو کہ مرنے کے بعد خاک میں رل مل کر برابر ہوجاؤ گے، بلکہ تمہارے اندر ایک روح ہے جو معدوم ہونے والی نہیں اور جسے موت کا فرشتہ تمہارے مرنے کے بعد اپنے قبضے میں لے لے گا اور روز قیامت اس روح کو نیا جسم دیا جائے گا، پھر اس سے حساب لیا جائے گا۔
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) کاش تم (وہ وقت) دیکھو جب یہ مجرم (قیامت کے دن) اپنے رب کے روبرو سر جھکائے کھڑے ہوں گے (اور عرض کر رہے ہوں گے) کہ اے ہمارے رب، ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔ اب ہمیں (ایک بار) پھر (دنیا میں) بھیج دے کہ ہم نیک عمل کریں، (اب) ہم کو (عاقبت کا) یقین آگیا ہے۔

[13] یعنی پیغمبر جو باتیں کہا کرتے تھے ان کا یقین آگیا بلکہ آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا کہ ایمان و عمل صالح ہی اللہ کے ہاں کام دیتے ہیں۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

(اللہ فرمائے گا کہ) اگر ہم چاہتے تو (دنیا ہی میں) ہر شخص کو اس کی ہدایت عطا کردیتے۔ لیکن ہماری (وہ) بات (جو ہم روز ازل میں فرما چکے تھے پوری ہونی تھی اور) پوری ہو کر رہی کہ ہم دوزخ کو جن و انس دونوں سے بھر دیں گے۔

[41] یعنی ہم چاہتے تو دنیا میں ہر شخص کو جبراً ہدایت پر قائم رکھتے اور وہ کوئی گناہ نہ کرتا۔ لیکن اس طرح کی جبری ہدایت ہماری اسکیم میں نہ تھی۔ ہم نے تو تمہیں پیدا ہی امتحان کے لئے کیا تھا کہ حقیقت کا مشاہدہ کئے بغیر کائنات میں اور خود اپنے نفس میں اس کی علامات دیکھ کر اپنی عقل سے اسے پہچانتے ہو یا نہیں اور انبیاء اور کتب الٰہی کے ذریعے سے جو اس حقیقت شناسی میں تمہاری مدد کرتے ہیں فائدہ اٹھاتے ہو یا نہیں۔ اس امتحان میں تم ناکام ہوچکے ہو۔ اب اگر دوبارہ امتحان کے لئے تمہیں دنیا میں بھیجا جائے اور تمہیں وہ سب کچھ یاد ہو جو تم نے یہاں دیکھا اور سنا ہے تو یہ کوئی امتحان نہ ہوگا۔ اور اگر تمہیں خالی الذہن کر کے دنیا میں بھیجا جائے اور پہلے کی طرح امتحان لیا جائے تو تم پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلی زندگی میں کیا تھا۔ [51] اشارہ ہے اس بات کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے اس دعوے کے جواب میں کہ '' میں تیرے بندوں کو بہکا کر رہوں گا۔ '' فرمایا تھا کہ '' میں جہنم کو تم سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو ان انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے۔ ( سورة ص آیت 85 صفحہ 1092) ۔
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

پس چکھو مزا اس کا کہ جیسے تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا (آج) ہم نے بھی تم کو بھلا دیا ہے۔ (اب) چکھو اپنے کرتوتوں کی پاداش میں ابدی عذاب کا مزا۔

[16] یعنی تمہیں اپنی رحمت سے محروم کردیا۔
Ayahs 32:15–16

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر بس وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان آیات (کے ذریعے) سے نصیحت کی جاتی ہے (تو) وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد (وثنا) کے ساتھ اس کی تسبیح (و تقدیس) کرنے لگتے ہیں اور (کسی طرح کا) تکبر نہیں کرتے۔

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو (رات کے وقت) بستروں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ (عذاب کے) خوف اور (رحمت کی) امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں اور جو کچھ (بھی) ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔

[17] یعنی رات کا ایک حصہ اللہ کی عبادت میں گزارتے ہیں۔ مراد تہجد کی نماز ہے جیسا کہ حدیث صحیح میں مذکور ہے۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

تو کسی کو علم نہیں کہ کیسا کیسا آنکھوں کی ٹھنڈک (کا سامان) ان کے لئے (خزانہ غیب میں) مخفی ہے۔ یہ ہے صلہ ان کے (نیک) اعمال کا۔

[18] یعنی جس طرح رات کی تاریکی میں بھی لوگوں سے چھپ کر انہوں نے بےریا عبادت کی اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں چھپا رکھی ہیں ان کی کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔
Ayahs 32:18–21

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا (کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ) جو شخص مومن ہو وہ اس شخص کے برابر ہوجائے جو نافرمان ہو ؟ (نہیں، یہ دونوں ہرگز) برابر نہیں ہوسکتے

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

(تو) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ان کے لئے رہنے کو باغ ہوں گے۔ (یہ) مہمان داری ان کے (نیک) عملوں کا بدلہ (ہوگا) جو وہ (دنیا میں) کرتے رہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جو لوگ نافرمانی کرتے رہے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔ جب بھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو عذاب دوزخ (کامزا) جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم ان کو قریب کے عذاب (کامزا) بھی علاوہ اس بڑے عذاب کے چکھا کر رہیں گے شاید کہ یہ (ہماری طرف) رجوع کریں۔

[19] قریب کے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے۔ [20] مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گناہوں پر متنبہ کرنے کے لئے دنیا میں کم درجے کا عذاب بھیجتا ہے مثلاً بیماریاں، قحط، سیلاب وغیرہ تاکہ وہ اپنے گناہوں سے باز آجائیں اور آخرت کے بڑے عذاب سے نجات پائیں۔ انبیائ، اولیا اور مومنین پر جو آفات و مصائب آتے ہیں تو وہ ان کے امتحان اور امتحان کے ذریعے رفع درجات کے لئے ہوتے ہیں اور پہچان اس کی یہ ہے کہ ان لوگوں کو امراض و آفات کے وقت بھی ایک قسم کا قلبی سکون اور اطمینان میسر ہوتا ہے۔
Ayahs 32:22–23

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا کہ اسے اس کے رب کی آیتوں (کے ذریعے) سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ اس سے منہ پھیر لے۔ ہم (ایسے) مجرموں سے بدلہ لے کر رہیں گے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی لہذا تم اس (قرآن) کے ملنے پر شک میں نہ رہو۔ اور ہم نے اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے (ذریعہئ) ہدایت بنایا تھا،

[21] یعنی تورات۔ [22] خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر دراصل مخاطب وہ لوگ ہیں جو قرآن کے کلام الہٰی ہونے میں شک کر رہے تھے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل ہوئی اسی طرح محمد ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا۔ [23] مطلب یہ ہے کہ جس طرح تورات بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کا ذریعہ تھی اسی طرح یہ قرآن تمہارے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔
Ayahs 32:24–25

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ان میں سے (دین کے) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے (لوگوں کی) راہنمائی کرتے تھے (اور یہ منصب امامت ان کو اس وقت عطا کیا گیا) جب کہ انہوں نے (کافروں کی ایذاؤں پر) صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین لاتے رہے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یقینا تمہارا رب قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں (بنی اسرائیل) آپس میں اختلاف کرتے رہے ہیں۔

[24] یعنی بنی اسرائیل اپنے ائمہ کی پیروی چھوڑنے اور دین سے منحرف ہوجانے کے بعد جن اختلافات اور فرقہ بندیوں میں مبتلا ہوئے اس کا عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا (تمہاری قوم کے) لوگوں کو (اس بات سے) ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ آتے جاتے ہیں ؟ بلاشبہ اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔ تو کیا (یہ لوگ) سنتے (سمجھتے) نہیں۔

[25] یعنی عاد، ثمود وغیرہ کی بستیاں۔ [26] یعنی مشرکین مکہ بسلسلہ تجارت شام و یمن کے سفر میں ان مغضوب قوموں کے عبرت انگیز کھنڈرات سے گزرتے ہیں اور پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے (اس بات پر) نظر نہیں کی ہم پانی (سے لدے ہوئے بادلوں) کو بنجر زمین کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر پانی کے ذریعے سے فصل اگاتے ہیں جس میں سے ان کے مویشی بھی کھاتے ہیں اور یہ خود بھی ؟ تو کیا (یہ لوگ اس قدرت کے کرشمے کو) نہیں دیکھتے ؟

[27] یعنی ان نشانات کو دیکھ کر چاہئے تھا کہ اللہ کی قدرت کے قائل ہوتے اور سمجھتے کہ اسی طرح مرنے کے بعد انسان کا زندہ اٹھانا اللہ کے لئے کچھ دشوار نہیں۔
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور (یہ لوگ مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو یہ فیصلہ (جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو) کب ہوگا ؟

[28] مسلمان مشرکین سے کہا کرتے تھے کہ اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور فرمانبرداروں اور نافرمانوں کو ان کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا۔ اس پر کفار بطور تمسخر و استہزا کہتے تھے کہ وہ فیصلے کا وقت کب آئے گا ؟۔
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم ان سے) کہو کہ جو لوگ (دنیا میں) کفر کرتے رہے فیصلے کے دن ان کا ایمان (لانا ان کے) کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کو (کوئی) مہلت دی جائے گی۔

[29] یعنی روز قیامت۔ [30] یعنی توبہ کرنے یا دنیا میں انھیں واپس بھیج کر نیک عمل کرنے کی مہلت نہ دی جائے گی۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر، ) تم ان لوگوں کی (باتوں کی) کچھ پروا نہ کرو اور انتظار کرو، یہ بھی منتظر ہیں۔

[31] یعنی فیصلہ مؤعود کا انتظار کرو جب کہ یہ لوگ اپنے زعم میں تمہاری تباہی کے منتظر ہیں مگر معلوم ہوجائے گا کہ کس کا انتظار مطابق واقع کے ہے اور کس کا نہیں۔