31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 31:1

الٓمّٓۚ Open ayah 31:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ میم۔

Ayahs 31:2–5

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں ایک پر حکمت کتاب کی

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

جو ہدایت و رحمت ہے نیکوکاروں کے لئے،

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

[1] یعنی قرآن کی۔
Ayahs 31:6–11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) لوگوں میں (کوئی) ایسا بھی ہے جو واہیات (خرافات) قصے (کہانیاں) خرید کر لاتا ہے تاکہ (لوگوں کو سنا کر) بےسمجھے بوجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے اور اس (راہ) کا مذاق اڑائے۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے آخرت میں رسوا کن عذاب ہے۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو اکڑتا ہوا منہ پھیر کر چل دیتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں، گویا اس کے کانوں میں ڈاٹ (لگے ہوئے) ہیں۔ (اچھا) تو (اے پیغمبر، ) تم اسے عذاب دردناک کی خوشخبری سنا دو ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ان کے لئے نعمت بھری جنتیں ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے (یہ) اللہ کا پکا وعدہ ہے اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

(لوگو، ) اسی نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا ہے (جیسا کہ) تم ان کو دیکھ رہے ہو اور (اسی نے) زمین میں (بھاری) پہاڑ رکھ دئیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈانواں ڈول نہ ہونے لگے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دئیے اور آسمان سے پانی برسایا (اور) پھر ہم نے (اس پانی کے ذریعے سے زمین میں) ہر قسم کی عمدہ چیزیں اگائیں۔

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے کہو کہ) یہ تو ہوئی اللہ کی تخلیق، اب ذرا تم لوگ مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو (معبود تم نے بنا رکھے) ہیں انہوں نے کیا کچھ پیدا کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ یہ ظالم صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں

[2] اصل الفاظ میں '' لھوالحدیث '' یعنی ایسی چیز جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو، مثلاً فضول قصہ گوئی، واہیات مشغلے، گانا بجانا وغیرہ۔ [3] روایات میں ہے کہ نصربن حارث نے جو روسائے مکہ میں سے تھا، نبی ﷺ کی دعوت حق کو روکنے کے لئے ایران سے رستم و اسفند یار اور شاہان عجم کے قصے منگوا کر داستان گوئی کا سلسلہ شروع کیا اور ساتھ ہی گانے بجانے والی لونڈیوں کا بھی انتظام کیا تاکہ لوگ ان لغویات میں مشغول ہو کر نبی ﷺ کی بات نہ سنیں۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ( اور فرمایا تھا) کہ اللہ کا شکر کرتے رہو اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی (بھلے کے) لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو اللہ (بندوں کے شکر سے) بےنیاز (اور سب) خوبیوں والا ہے۔

[4] جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ لقمان پیغمبر نہیں تھے، ہاں ایک متقی پاکباز انسان تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجے کی عقل و فہم اور دانائی عطا فرمائی تھی۔ روایتوں میں آتا ہے کہ لقمان ایک حبشی غلام تھے۔ انہوں نے اپنی عقل کے ذریعے سے وہ باتیں کھولیں جو پیغمبروں کے احکام و ہدایات کے موافق تھیں۔ اہل عرب ان کے نام سے نامانوس نہ تھے۔ یہاں ان کے ذکر سے یہ جتلانا مقصود ہے کہ شرک و معصیت کا قبیح ہونا جس طرح فطرت انسانی کی شہادت اور انبیاء کی وحی سے ثابت ہے دنیا کے منتخب عقل مند بھی اپنی عقل سے اس کی تائید و تصدیق کرتے رہے ہیں۔
Ayahs 31:13–14

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے اس سے کہا، '' بیٹا، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بلاشبہ شرک ظلم عظیم ہے۔ ''

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے انسان کو اس کے والدین کے (حقوق کے) بارے میں تاکید فرمائی ہے۔ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑایا (اسی لحاظ سے ہم نے اس کو حکم دیا کہ) ہمارا بھی شکر گزار رہ اور اپنے والدین کا (بھی۔ آخرکار) ہماری ہی طرف (تم سب کو) لوٹ کر آنا ہے۔

[5] لقمان کی اس خاص نصیحت کا ذکر دو مناسبتوں کی بناء پر یہاں کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ انہوں نے یہ نصیحت اپنے بیٹے کو کی تھی اور ظاہر بات ہے کہ کوئی شخص بھی اپنے بیٹے کو غلط اور جھوٹی بات نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے ان کا اپنے بیٹے کو یہ نصیحت کرنا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ان کے نزدیک شرک واقعی ایک بدترین فعل تھا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے بہت سے ماں باپ اس وقت اپنی اولاد کو دین شرک پر قائم رہنے اور نبی ﷺ کی دعوت توحید سے منہ موڑ لینے پر مجبور کر رہے تھے جیسا کہ آگے کی آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے ان کو بتایا جارہا ہے کہ تمہارے ہاں کے ایک مشہور دانشمند نے تو اپنی اولاد کی خیر خواہی کرتے ہوئے اسے شرک سے پرہیز کرنے کی نصیحت کی لیکن تم ہو کہ اپنی اولاد کو اسی شرک پر مجبور کر رہے ہو۔ یہ ان کے ساتھ خیر خواہی ہے یا بدخواہی ؟ [6] ظلم کے معنی ہیں کسی کی حق تلفی کرنا اور انصاف کے خلاف کام کرنا۔ سب سے بڑی حق تلفی یہ ہے کہ آدمی اللہ کے ساتھ اس کی بندگی اور رزاقی میں کسی دوسری ہستی کو شریک کرے اس لئے شرک کو ظلم عظیم کہا گیا۔ دوسری حق تلفی انسان کے اپنے اعضاء کی ہے جنہیں وہ غیر اللہ کی بندگی میں استعمال کرتا ہے حالانکہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی بندگی میں ان کے استعمال کرنے کا حق اسے نہیں پہنچتا۔ تیسری حق تلفی آدمی کے اپنے نفس کی ہے کہ شرک کا مرتکب ہو کر اپنے نفس کو عذاب کا مستحق بناتا ہے حالانکہ اس کے نفس کا حق اس پر یہ ہے کہ وہ اسے ذلت و عذاب میں مبتلا نہ کرے۔
Ayahs 31:15–16

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ دونوں تجھے (اس بات پر) مجبور کریں کہ تو ہمارے ساتھ (کسی ایسے کو) شریک کرے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو ان کا کہا نہ مان (مگر ہاں، ) دنیا میں ان کی رفاقت کر دستور کے مطابق لیکن چل اس شخص کے طریقے پر جو ہماری طرف رجوع کئے ہوئے ہو۔ پھر تم سب کو لوٹنا ہماری طرف ہے۔ (اس وقت) ہم تم کو بتادیں گے کہ جو کچھ تم (دنیا میں) کرتے رہے۔

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

(اور لقمان نے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ) '' بیٹا، اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر (بھی) ہو، پھر وہ ہو کسی پتھر میں، یا آسمانوں میں (ہو) یا زمین میں (تو) اللہ اس کو (بھی قیامت کے دن عملوں کا حساب لیتے وقت) لاحاضر کرے گا۔ بلاشبہ وہ باریک بیں (اور) باخبر ہے۔

[7] یعنی انبیاء و صالحین کی راہ پر چل۔ [8] اس پیراگراف کی پوری عبارت ایک جملہ معترضہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جس میں لقمان کے قول کیمزید تشریح ہے۔ آگے پھر لقمان کی نصیحت کا سلسلہ ہے۔
Ayahs 31:17–18

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا، نماز قائم کر اور (لوگوں کو) اچھے کاموں (کے کرنے) کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کیا کر۔ بیشک یہ (بڑی) ہمت کے کام ہیں۔

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور لوگوں سے بےرخی نہ کر اور زمین پر اترا کر نہ چل (کیونکہ) اللہ کسی اترانے والے (اور) شیخی خورے کو پسند نہیں کرتا۔

[9] یعنی جو شخص بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا کام کرے گا، اس پر مصائب کا نزول ناگزیر ہے، دنیا ایسے شخص کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتی ہے اور اسے ہر قسم کی اذیتوں سے سابقہ پیش آ کر رہتا ہے اس کے لئے بہترین نسخہ صبر اور نماز ہے۔ ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 38 صفحہ 97۔
Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست رکھ (کیونکہ) سب آوازوں میں بری سے بری (آواز) گدھوں کی آواز ہے۔

[10] یعنی آدمی ہو کر گدھے کی طرح چیخنا چلانا مناسب نہیں۔
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم لوگوں نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اللہ نے تمہارے لئے مسخر کر رکھا ہے۔ اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں ؟ (مگر حال یہ ہے کہ) انسانوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر علم و دلیل اور بغیر کسی روشنی دکھانے والی کتاب کے بحث کیا کرتے ہیں

[11] یعنی انسان کا مطیع و فرماں بردار کر رکھا ہے۔ یہ اطاعت و فرماں برداری دو معنوں میں ہے، بلاواسطہ اور بالواسطہ۔ بعض چیزیں براہ راست انسان کے اختیار میں دے دی گئی ہیں کہ جس طرح چاہے ان سے کام لے مثلاً آگ، پانی، ہوا، مٹی، معدنیات، مویشی وغیرہ۔ یہ اطاعت پہلے معنی میں ہے۔ بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے ضوابط کا پابند کردیا ہے جس کی بدولت وہ انسان کے لئے نافع ہیں اگرچہ وہ انسان کے بس میں نہیں ہیں۔ مثلاً چاند، سورج، ستارے وغیرہ۔ ان چیزوں کی اطاعت دوسرے معنی میں ہے۔ [21] یعنی اللہ کی ذات وصفات اور اس کے مخلوق سے تعلقات کے بارے میں۔
Ayahs 31:21–24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ بھلا اگر شیطان ان (کے باپ دادوں) کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو (تو کیا پھر بھی یہ انہی کی پیروی کئے جائیں گے) ؟

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کے آگے اپنا سر (تسلیم) خم کر دے اور وہ نیکوکار (بھی) ہو تو اس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا، اور تمام معاملات کا آخری فیصلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جو شخص کفر کرتا ہے تو اس کا کفر تمہیں غمگین نہ کرے۔ انھیں لوٹ کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے پھر ہم انھیں بتادیں گے جو کچھ (دنیا میں) کرتے رہے۔ بلاشبہ اللہ دلوں کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم انھیں تھوڑی مدت (دنیوی) فائدے پہنچاتے رہیں گے پھر انھیں سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے۔

[13] یعنی قرآن۔
Ayahs 31:25–26

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ (اس پر تم ان سے) کہو کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں مگر ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے۔

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ بلاشبہ وہ بےنیاز (اور) سب خوبیوں والا ہے۔

[14] یعنی اکثر لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ کو خالق ارض و سما ماننے کے لازمی نتائج اور تقاضے کیا ہیں۔ جب ایک شخص اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات تسلیم کرتا ہے تو لازماً اسے یہ بھی ماننا چاہئے کہ معبود بھی وہی ہے لہذا بندگی بھی اسی کی کرنی چاہئے اور دعائیں بھی اسی سے مانگنی چاہئیں۔ حاکمیت اور قانون سازی کا حق بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔ خالق اللہ کو ماننا اور حاجت روا اور مشکل کشا دوسری ہستیوں کو ٹھہرانا اور ان کے آگے سر نیاز جھکانا یہ بالکل عقل کے خلاف اور متضاد بات ہے۔
Ayahs 31:27–30

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور زمین میں جتنے درخت ہیں اگر (ان سب کے) قلم (بن جائیں) اور سمندر روشنائی، (اور وہ بھی اس طرح پر) کہ اس کے (ختم ہونے کے) بعد (ویسے ہی) سات سمندر (اور اس کی مدد کریں) تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں۔ بلاشبہ اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

(لوگو، ) تم سب کا پیدا کرنا اور (مرنے کے بعد) زندہ اٹھانا (اللہ کے لئے) تو بس ایسا ہے جیسے ایک شخص کا (پیدا کرنا اور زندہ اٹھانا) بلاشبہ اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ؟ اور اسی نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے کہ ہر ایک (قیامت کے) وقت مقرر تک (اسی طرح) چلتا رہے گا۔ اور (کیا تم نہیں جانتے) کہ جو کچھ بھی تم لوگ کر رہے ہو اللہ کو اس کی (سب) خبر ہے ؟

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ (سب تصرفات) اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ ہی (کی ہستی) حقیقی ہے اور اس کے سوا جن (معبودوں) کو یہ لوگ پکارتے ہیں (وہ سب) ہیچ ہیں اور اللہ ہی (سب پر) بالا (اور) بڑائی والا ہے۔

[15] یہ مضمون سورة کہف آیت 109 صفحہ 690 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 31:31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ اللہ ہی کے فضل سے کشتی سمندر میں چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی (قدرت کی) بعض نشانیاں دکھائے۔ بلاشبہ اس میں ہر صابر وشاکر کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

[16] یعنی ایسی نشانیاں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اختیارات صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان خواہ کیسے ہی مضبوط اور موزوں جہاز بنائے اور جہاز رانی سے متعلق کتنا ہی علم حاصل کرے لیکن جب سمندر کی ہولناک طاقتوں سے اس کا سابقہ پڑتا ہے تو ان کے مقابلے میں صرف اپنی فنی معلومات اور تدابیر پر بخریت سفر نہیں کرسکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم شامل حال نہ ہو۔ [17] یعنی بحری سفر کے احوال و حوادث میں غور کرنا انسان کو صبروشکر کے مواقع بہم پہنچاتا ہے۔ جب طوفان اٹھ رہے ہوں اور جہاز سمندر کے تھپیڑوں میں گھرا ہوا ہو اس وقت بڑے صبر و تحمل کا کام ہے۔ اور اگر اللہ نے اس کشمکش موت وحیات سے صحیح وسالم نکال دیا تو آدمی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا احسان مانے۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب (سمندر کی) موجیں (بلند ہو کر) ان (لوگوں پر) سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو یہ اللہ کو پکارنے لگتے ہیں خالص اسی پر اعتقاد کرتے ہوئے۔ پھر جب وہ انھیں بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ اعتدال پر رہتے ہیں، اور ہماری (قدرت کی) نشانیوں سے تو وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بدعہد اور ناشکرے ہیں۔

[18] یعنی ایمان و اخلاص پر قائم رہتے ہوئے کفر کی طرف نہیں لوٹتے ورنہ تو اکثر نجات پاتے ہی شرارتیں شروع کردیتے ہیں۔
Ayahs 31:33–34

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

لوگو، اپنے رب (کے عذاب) سے ڈرو اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے بدلہ دینے والا ہوگا۔ بلاشبہ اللہ کا وعدہ (قیامت) سچا ہے۔ تو (لوگو، ) یہ دنیا کی زندگی تمہیں (کہیں) دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ وہ دھوکہ باز (شیطان) اللہ کے معاملے میں تمہیں دھوکہ دینے پائے۔

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ ہی کو قیامت (کے آنے) کا علم ہے اور وہی (ایک وقت مقرر پر جس کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ) بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے جو کچھ (ماؤں کے) پیٹوں میں پرورش پا رہا ہے، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ (وہ خود) کل کیا کرے گا اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بلاشبہ اللہ ہی (سب کچھ) جاننے والا (اور) باخبر ہے۔

[19] یعنی قیامت میں نفسی نفسی کا وہ عالم ہوگا کہ اولاد اور والدین میں سے کوئی ایثار کر کے دوسرے کی مصیبت اپنے سر پر لینے کو تیار نہ ہوگا۔