30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 30:1–6

الٓمّٓۚ Open ayah 30:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ میم

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

رومی مغلوب ہوگئے ہیں

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

قریب کی سرزمین میں اور وہ اس مغلوبیت کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

چند سال میں (اس سے) پہلے بھی (فتح و شکست کا) اختیار اللہ ہی کو تھا اور اس (واقعے) کے بعد بھی (اسی کو اختیار ہے) ۔ اور اس روز اہل ایمان خوش ہوں گے۔

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اللہ کی امداد پر، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

(یہ) اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔

[1] یہ اشارہ اس جنگ کی طرف ہے جو اس زمانے میں روم اور ایران کی سلطنتوں کے درمیان ہو رہی تھی۔ 614 عیسوی میں عیسائی رومیوں کو آتش پرست مجوسی ایرانیوں کے مقابلے میں زبردست شکست ہوئی۔ شام، مصر، ایشیائے کوچک وغیرہ کے سب علاقے رومیوں کے ہاتھ سے نکل گئے اور رومیوں کا دارسلطنت بھی خطرے میں پڑگیا۔ بیت المقدس سے عیسائیوں کی سب سے زیادہ مقدس صلیب بھی ایرانی فاتحین لے اڑے اور قیصر روم کا اقتدار بالکل فنا ہوگیا۔ بظاہر کوئی صورت روم کے ابھرنے اور ایران کے تسلط سے نکلنے کی باقی نہ رہی۔ ایران کا مذہب کیونکہ مشرکین عرب سے ملتا جلتا تھا اور وہ لوگ بھی نبوت و رسالت کے قائل نہ تھے اس لئے قدرتاً اہل مکہ ان کی فتح کو اپنے ہم مذہبوں کی فتح سمجھے اور بڑے خوش ہوئے اور مسلمانوں سے (جن کی ہمدردی قدرتاً رومی مسیحیوں کے ساتھ تھی کیونکہ بہرحال وہ سلسلہ وحی اور کتاب آسمانی کے قائل تھے) کہنے لگے کہ جس طرح ایرانیوں نے رومیوں کو مٹا دیا ہے کل ہم بھی تمہیں اسی طرح مٹا دیں گے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ چند سال کے اندر ('' بضع '' سے مراد تین اور دس کے درمیان اعداد ہوتے ہیں) رومی ایرانیوں پر غالب آجائیں گے۔ چناچہ نو سال کے اندر (یعنی ہجرت کا ایک سال گزرنے پر) عین جنگ بدر کے دن جب کہ مسلمان اللہ کے فضل سے مشرکین پر فتح حاصل ہونے کی خوشیاں منا رہے تھے یہ خبر سن کر زیادہ مسرور ہوئے کہ رومی اہل کتاب نے مجوسی ایرانیوں کو زبردست شکست دی اور رومی فوجیں ایران میں داخل ہوگئیں۔ قرآن کی اس عظیم الشان اور محیرالعقول پیشین گوئی کی صداقت کا مشاہدہ کر کے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ [2] یعنی اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ موثر اور فاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کے لئے کسی کام کا کرنا ہر طرح آسان ہے چاہے ظاہر اسباب موافق ہوں یا مخالف یا موجود ہی نہ ہوں۔
Ayah 30:7

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

(یہ لوگ) دنیوی زندگی کے (صرف) ظاہر (پہلو) کو جانتے ہیں اور آخرت سے (محض) بیخبر ہیں۔

[3] یعنی ان کی ساری عقل اور ساری کوشش بس اسی مادی کائنات اور اس کے آئین و قوانین تک محدود ہیں۔ اس کے آگے اور اس کے ماورا ذرا بھی اپنے ذہن کو نہیں لے جاتے۔ انھیں خبر نہیں کہ اس دنیوی زندگی کی تہہ میں ایک دوسری زندگی کا راز چھپا ہوا ہے جہاں پہنچ کر اس دنیوی زندگی کے برے بھلے نتائج سامنے آجائیں گے۔
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں نہ سوچا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان (ساری) چیزوں کو جو ان دونوں کے درمیان ہیں برحق اور ایک وقت مقررہ کے لئے پیدا کیا ہے۔ مگر اکثر لوگ (قیامت کے دن) اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔

[4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328 [5] یعنی عالم کے تغیرات و احوال میں غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ اس کی کوئی حد اور انتہا ضرور ہے۔ لہذا ایک وعدہ مقررہ پر یہ عالم فنا ہوگا اور دوسرا عالم اس کے نتیجے میں قائم کیا جائے گا۔ اب تو سائنس کی بنیاد پر بھی قیامت کا انکار ممکن نہیں۔ چناچہ حرکیات حرارت کے دوسرے قانون (Second Law of Thermo dynamics) کی رو سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ یہ عالم مادی ہے نہ ازلی ہے نہ ابدی۔ اس کو لازماً ایک وقت ختم ہونا ہی چاہئے۔ [6] یعنی اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ کبھی اللہ کے سامنے پیش ہونا ہی نہیں جو حساب و کتاب دینا پڑے۔
Ayahs 30:9–11

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ (چلتے پھرتے) تو دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کا کیسا (برا) انجام ہوا۔ وہ لوگ ان سے قوت میں بھی کہیں بڑھ کر تھے اور انہوں نے زمینیں بھی جوتی تھیں اور زمین کو جس قدر ان لوگوں نے آباد کیا ہے اس سے بہت زیادہ ان لوگوں نے آباد کیا تھا اور ان کے پاس (بھی) ان کے پیغمبر روشن نشانیاں لے کر آئے تھے (مگر انہوں نے نہ مانا اور اپنے کئے کی سزا پائی) ۔ تو اللہ (ایسا بےانصاف) نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے مگر وہ لوگ (کفرو شرک کر کے) خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں ان کا انجام بھی برا ہی ہوا کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا تھا۔

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ ہی مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا رہتا ہے، پھر اسی کی طرف تم (سب) لوٹائے جاؤ گے۔

[7] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نمل حاشیہ 22 صفحہ 904۔
Ayahs 30:12–18

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن مجرم ناامید ہوجائیں گے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور (اس وقت یہ لوگ بھی) اپنے شریکوں کے منکر ہوجائیں گے۔

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن (مومن اور کافر ایک دوسرے سے) جدا ہوجائیں گے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے تھے تو وہ باغ (بہشت) میں ہوں گے (اور) ان کی خاطر داریاں ہو رہی ہوں گی،

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا تھا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا تو یہی لوگ عذاب میں گرفتار ہوں گے۔

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

پس تسبیح (وتقدیس) کرو اللہ کی جب تم لوگ شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں حمد اسی کے لئے ہے اور (تسبیح و تقدیس کرو اس کی) تیسرے پہر اور جب تم دوپہر کرتے ہو۔

[8] یہاں تسبیح سے مراد نماز ہے جیسا کہ اوقات کے تعین سے ظاہر ہے۔ '' تمسون '' میں مغرب کی نماز داخل ہے۔ '' تصبحون '' میں صبح کی نماز۔ '' عَشیاً '' میں عصر اور '' تظہرون '' میں ظہر کی نماز۔ عشاء کی نماز کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود آیت 114 صفحہ 514۔
Ayah 30:19

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

(وہی) زندے کو مردے سے نکالتا ہے اور (وہی) مردے کو زندے سے نکالتا ہے اور (وہی) زمین کو اس کے بنجر ہوجانے کے بعد زندہ (وشاداب) کرتا ہے اور اسی طرح تم لوگ (بھی مرنے کے بعد زمین سے) نکالے جاؤ گے۔

[9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة آل عمران حواشی 11, 10 صفحہ 164 اور سورة انعام حواشی 34, 33 صفحہ 329۔
Ayahs 30:20–23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اسی ( اللہ) کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے (ایک یہ بھی) ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم انسان ہو (کہ روئے زمین پر) پھیلتے جا رہے ہو۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے (ایک یہ بھی) ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے (میاں بیوی کے) درمیان محبت و ہمدردی پیدا کردی۔ بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور وفکر سے کام لیتے ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے آسمان و زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا مختلف ہونا (بھی) ہے۔ بلاشبہ ان (باتوں) میں اللہ کی قدرت کی بہت سی) نشانیاں ہیں سمجھنے والوں کے لئے۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا (بھی) ہے۔ بلاشبہ ان (باتوں) میں (اس کی قدرت کی) بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو (گوشِ دل سے) سنتے ہیں۔

[10] فضل تلاش کرنے سے مراد معاش کے لئے دوڑ دھوپ کرنا ہے۔
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے (ایک یہ بھی) ہے کہ وہ تمہیں بجلی (کی چمک) دکھاتا ہے خوف اور امید (کی راہ) سے۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر زمین کو اس کے بنجر ہونے کے بعد زندہ (وشاداب) کردیتا ہے۔ ان (باتوں) میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں بھی ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل (سلیم) رکھتے ہیں۔

[11] بجلی ڈرنے کی بھی چیز ہے کیونکہ جہاں گرتی ہے اس کو جلا کر بھسم کردیتی ہے اور یہ امید کی بھی چیز ہے کہ جوں جوں کو ندے گی باران رحمت برسے گا۔
Ayahs 30:25–26

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے (ایک یہ بھی) ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ (اور تم ایک خاص وقت تک زندگی گزارنے کے بعد زمین میں گاڑے جاتے ہو) پھر (قیامت کے دن) جب وہ ایک آواز دے کر زمین میں سے تمہیں بلائے گا تو بس (آواز کے سنتے ہی) تم (سب کے سب) نکل پڑو گے۔

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب ( اسی کے بندے اور) اسی کے (حکم کے) تابع ہیں۔

[12] یعنی فرشتے اور جن و انس وغیرہ جتنی بھی صاحب حیات اور صاحب ارادہ مخلوق ہے سب اضطراراً قانون الٰہی کی پابند ہے۔ کسی کے لئے ممکن نہیں کہ اس کے قوانین تکوینی کو توڑ کر باہر جاسکے۔
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

وہی ہے جو مخلوقات کو اول بار پیدا کرتا ہے پھر (قیامت کے دن) ان کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی شان (سب سے) اعلیٰ ہے اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[13] آیت 21 سے یہاں تک جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں ان کے اندر توحید کے دلائل بھی ہیں اور وہی دلائل یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آخرت کا آنا غیر ممکن نہیں ہے۔ اب آگے خالص توحید کا بیان ہے۔
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

(لوگو، ) وہ تمہارے (سمجھنے کے) لئے تم ہی میں سے ایک مثال بیان فرماتا ہے۔ کیا تمہارے ان (غلاموں) میں سے جن کے تم مالک ہو کچھ (غلام ایسے بھی) ہیں جو اس (روزی) میں شریک ہیں جو ہم نے تمہیں دے رکھی ہے کہ تم (اور وہ) اس میں برابر ہوجاؤ اور تم ان سے (ایسے ہی) ڈرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو ؟ اس طرح ہم دلائل صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

[14] اس سے ملتا جلتا مضمون سورة نحل کی آیت 71 صفحہ 612 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے مال و متاع میں اپنے غلاموں کو برابر کا شریک نہیں کرتے تو پھر یہ کیسے سمجھ بیٹھے ہو کہ اللہ اپنی واحدانیت میں اپنے بندوں کو شریک کرے گا۔
Ayahs 30:29–30

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ ظالموں نے بےجانے بوجھے اپنی (نفسانی) خواہشات کا اتباع کر رکھا ہے۔ تو جس کو اللہ گمراہ کرے اسے کون راہ راست پرلا سکتا ہے ؟ ایسے لوگوں کا تو کوئی مددگار نہیں۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) تم یک سو ہو کر دین (حق) کی طرف اپنا رخ رکھو (اور قائم رہو) اللہ کی اس فطرت پر جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں تبدیلی نہ کی جائے۔ یہی ہے راست دین مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

[15] فطرت سے مراد دین اسلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایمان پر پیدا کیا۔ جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے یعنی اس عہد الست پر (اعراف آیت 172) جو اللہ نے روز اول میں لیا تھا۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو عیسائی، یہودی یا مجوسی وغیرہ بنا لیتے ہیں۔ چناچہ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ دین الٰہی پر قائم رہو جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ [16] یعنی اللہ نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اس کو تم اپنے اختیار سے بدل کر خراب نہ کرو۔ مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ 78 صفحہ 234۔
Ayahs 30:31–33

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

(لوگو، ) اس (ایک اللہ) کی طرف رجوع ہو کر (دین اسلام پر قائم ہوجاؤ) اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ۔

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے (اصل پیدائشی) دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے اور (اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا کر بہت سے) فرقے فرقے ہوگئے۔ ہر فرقے کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی میں مگن ہے۔

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

لوگوں (کا حال یہ ہے کہ ان) کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرکے اسے پکارنے لگتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت (کی لذت) چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔

[17] یعنی جب اللہ کی مہربانی سے مصیبت دور ہوئی تو بجائے اس کا شکر ادا کرنے کے کوئی جھوٹے دیوی دیوتاؤں کے بھجن گانے لگتا ہے اور کوئی کسی گزرے ہوئے پیر یا ولی کی نذر و نیاز چڑھاتا ہے۔ گویا مصیبت دور کرنے والے یہی ہیں۔
Ayah 30:34

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ جو نعمتیں ہم نے ان کو دی ہیں ان کی ناشکری کریں۔ (اچھا) تو (چند روز) مزے اڑالو پھر عنقریب (اپنے کئے کی حقیقت) جان لو گے۔

[18] یعنی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو دوسروں کی دی ہوئی سمجھنا اللہ کی ناشکری کرنا ہے اور ناشکری بھی بڑے درجے کی۔
Ayahs 30:35–38

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے کوئی سند ان لوگوں پر نازل کی ہے کہ جو شرک یہ اللہ کے ساتھ کر رہے ہیں وہ (سند ان کو شرک کرنا) بتارہی ہے ؟

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو (اپنی) رحمت (کا ذائقہ) چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے ان (کے اعمال بد) کے بدلے میں جو پہلے اپنے ہاتھوں کرچکے ہیں تو بس وہ آس توڑ بیٹھتے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ اللہ جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کرتا ہے اور (جس کی چاہتا ہے) نپی تلی کردیتا ہے ؟ بلاشبہ اس میں (بھی قدرت کی بہت سی) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں۔

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

پس (اے مومن، ) قرابت دار کو اس کا حق دے اور محتاج اور مسافر کو (ان کا حق) ۔ یہ ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور یہی لوگ (آخرت میں) فلاح پانے والے ہیں۔

[19] ہر صاحب جائیداد کے مال میں ان سب کے حق مقرر کئے گئے ہیں۔ سود کی حرمت کے احکام سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ رشتہ دار، مسکین اور مسافر کو خیرات دو ۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ ان لوگوں کا حق ہے جو ان کو دینا چاہئے۔ ان کو دیتے رہو۔ یہ خیال دل میں ہرگز نہ آنے پائے کہ یہ کوئی احسان ہے جو ان لوگوں پر کیا جا رہا ہے بلکہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ مال کے مالک حقیقی نے اگر تمہیں زیادہ دیا ہے اور دوسرے بندوں کو کم تو یہ زائد مال ان دوسروں کا حق ہے جو تمہاری آزمائش کے لئے تمہیں دیا گیا ہے کہ اصل مالک کو ان کا حق پہنچاتے ہو یا نہیں۔
Ayah 30:39

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو (مال) تم دیتے ہو سود پر تاکہ لوگوں کے اموال میں (شامل ہو کر) بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو زکوٰۃ تم (محض) اللہ کی رضاجوئی کے ارادے سے دیتے ہو تو ایسے ہی لوگ (اپنے دئیے کو اللہ کے ہاں) بڑھا رہے ہیں۔

[20] سود کے بارے میں یہ پہلی آیت ہے جس میں صرف سود کی مذمت کی گئی ہے۔