30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 30:40–41

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

(لوگو ' ) اللہ ہی وہ (قادر مطلق) ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم کو روزی دی، پھر (وہی) تم کو موت دیتا ہے، پھر (وہی) تم کو زندہ کرے۔ (بھلا) تمہارے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں میں کوئی ہے جو ان (کاموں) میں سے کچھ بھی کرسکے ؟ پاک اور بالاتر ہے اللہ (کی ذات) اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

فساد پھیل گیا خشکی اور تری میں لوگوں کے کرتوتوں سے (اور اس کا ضروری نتیجہ یہ ہے) کہ مزا چکھائے ( اللہ) ان کو ان کے بعض اعمال کا تاکہ وہ (ایسی حرکتوں سے) باز آجائیں۔

[21] یعنی لوگ دین فطرت پر قائم نہ رہے اور شرک و معصیت میں مبتلا ہوگئے جس کی وجہ سے تمام دنیا میں خرابی پھیل گئی، نہ خشکی میں امن و سکون رہا نہ تری میں۔ روئے زمین کو فتنہ و فساد نے گھیر لیا۔ بحری لڑائیوں اور جہازوں کی لوٹ مار سے سمندروں میں طوفان بپا ہوگیا۔ یہ سب اس لئے کہ اللہ نے چاہا کہ لوگوں کی بداعمالیوں کا تھوڑا سا مزا دنیا میں بھی چکھا دیا جائے۔ پوری سزا تو آخرت میں ملے گی مگر کچھ نمونہ یہاں بھی دکھا دیا جائے تاکہ کچھ لوگ ڈر کر راہ راست پر آجائیں۔ واضح رہے کہ لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں خرابی کا پھیلنا تو ہمیشہ ہوتا رہا اور ہوتا رہے گا لیکن نزول قرآن سے پہلے پوری دنیا پر شرک و معصیت کی جو تاریک گھٹا چھائی ہوئی تھی دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ اس کا اعتراف غیر مسلم مورخین نے بھی کیا ہے۔
Ayahs 30:42–43

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہو گزرے ہیں ان کا کیسا (برا) انجام ہوا۔ ان میں سے اکثر مشرک تھے۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) تم اپنا رخ دین راست کی طرف کئے رہو قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کا ٹل جانا اللہ کی طرف سے نہ ہوگا۔ اس دن (مومن اور کافر ایک دوسرے سے) جدا ہوجائیں گے۔

[22] یعنی روز قیامت جس کا اللہ کی طرف سے آنا اٹل ہے اور کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتا۔ [23] یعنی حساب و کتاب کے بعد نیک جنت میں اور بد دوزخ میں بھیج دئیے جائیں گے۔
Ayahs 30:44–46

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس نے کفر کیا ہے اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور جس نے نیک عمل کیا ہے تو ایسے ہی لوگ اپنے لئے (دائمی آرام و راحت کا) سامان کر رہے ہیں

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

(جس کا حاصل یہ ہوگا) کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ان کو اللہ اپنے فضل (وکرم) سے (ان کے کئے کا) بدلہ دے گا۔ بلاشبہ وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے (ایک یہ بھی) ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے (بارش کی) خوشخبری پہنچانے کے لئے اور تمہیں اپنی رحمت (کی لذت) چکھانے کے لئے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تم (بحری تجارت کے ذریعے سے) اس کا فضل تلاش کرو اور (اس کا) شکر ادا کرو۔

[24] یعنی معاش۔
Ayahs 30:47–50

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تم سے پہلے (اور) پیغمبر (بھی) ان قوموں کی طرف بھیجے تھے اور وہ ان کے پاس معجزے لے کر آئے تھے (مگر انہوں نے ان کو جھٹلایا) تو جو لوگ (جھٹلانے کے) جرم کے مرتکب ہوئے ان سے ہم نے انتقام لیا اور ایمان والوں کو مدد دینا ہم پر لازم تھا۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اور (دیکھو، وہ) اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادلوں کو اٹھائے پھرتی ہیں، پھر وہ جس طرح چاہتا ہے (کبھی) ان کو آسمان میں پھیلاتا اور (کبھی) ان کے ٹکڑے (ٹکڑے) کردیتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل کے بیچ میں سے بارش نکلی چلی آتی ہے۔ پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اس (بارش) کو برساتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

حالانکہ اس کے نزول سے پہلے یہ لوگ (بارش کی طرف سے) ناامید تھے۔

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

تو دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ وہ کس طرح بنجر زمین کو زندہ (وشاداب) کردیتا ہے۔ یقینا وہی (اللہ قیامت کے دن) مردوں کا (بھی) زندہ کرنے والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

[25] یعنی جو اللہ مردہ زمین کو زندہ کرسکتا ہے وہ یقینا مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
Ayah 30:51

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم (ایسی) ہوا بھیج دیں (جو رطوبت کو خشک کر دے) اور (جس کے اثر سے) یہ لوگ (اپنی) کھیتی کو زرد پائیں تو ضرور یہ اس کے بعد (ہماری پہلی نعمتوں کی) ناشکری کرنے لگیں۔

[26] یعنی پہلے ناامید تھے، بارش آئی زمین جی اٹھی اور خوشیاں منانے لگے۔ اب اگر اس کے بعد ہم ایک ہوا چلا دیں جس سے کھیتیاں خشک ہو کر زرد پڑجائیں تو یہ لوگ پھر بدل جائیں اور اللہ کی ساری نعمتوں کو بھول بھال کر ناشکری شروع کردیں۔
Ayahs 30:52–53

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) نہ تم مردوں کو سنا سکتے ہو اور نہ ان بہروں ہی کو (اپنی) پکار سنا سکتے ہو جو (تمہیں دیکھتے ہی) پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے (نکال کر) راہ راست پر لاسکتے ہو۔ تم تو بس انہی کو (اپنی باتیں) سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں (اور) پھر سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔

[27] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نمل حاشیہ 27 صفحہ 905۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اور (دیکھو وہ) اللہ ہی ہے جس نے تم کو (تمہاری) ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد توانائی عطا کی، پھر توانائی کے بعد ناتوانی اور ضعیفی دی۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ (سب کچھ) جاننے والا (اور ہر چیز پر) قدرت رکھنے والا ہے۔

[28] یعنی آدمی پیدائش سے پہلے ماں کے پیٹ میں جنین تھا، پھر بچہ بن کر پیدا ہوا اور شیرخوار رہا۔ یہ احوال ضعف کے ہیں۔
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی (تو) مجرم قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے اسی طرح یہ لوگ (دنیا میں بھی) بہکے رہے۔

[29] یعنی دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہ رہنے کو بطورعذر پیش کریں گے کہ ہم کو مہلت ہی کب ملی کہ نیک عمل کرتے۔ ایسے ہی غلط اندازے وہ دنیا میں بھی لگاتے تھے۔ وہاں بھی یہ حقیقت کے ادراک سے محروم تھے اور اسی وجہ سے قیامت اور جزا و سزا کا انکار کیا کرتے تھے۔
Ayahs 30:56–57

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

مگر جن لوگوں کو علم اور ایمان عطا ہوا تھا وہ (ان کو) جواب دیں گے کہ (نہیں، ) تم تو نوشتہ الٰہی کے مطابق قیامت کے دن تک پڑے رہے ہو اور (آج) یہ روز قیامت ہی ہے لیکن تم (اس کا) یقین نہ کرتے تھے۔

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

پس اس دن نہ تو ظالموں کو ان کی معذرت (کچھ) نفع دے گی اور نہ ان سے (اللہ کی خفگی کا) تدارک چاہا جائے گا۔

[30] یعنی ان کو موقع نہ دیا جائے گا کہ اس دن توبہ کر کرا کے اللہ کو راضی کرلیں۔
Ayahs 30:58–60

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کردی ہیں اور اگر تم ان (لوگوں) کو خواہ کوئی معجزہ بھی دکھاؤ تب بھی جو منکر ہیں وہ یہی کہیں گے کہ تم (مسلمان) باطل پر ہو۔

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اس طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو (صحیح) علم (کی طلب) نہیں رکھتے۔

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) تم صبر کرو، بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور ایسا نہ ہو کہ تمہیں ہلکا پائیں وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے۔

[31] اشارہ ہے اس وعدہ نصرت کی طرف جس کا ذکر سورت کی آیت 47 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ کہ تم ان بدبختوں کے ضد وعناد سے رنجیدہ نہ ہو اور صبرواستقلال کے ساتھ اپنے دعوۃ و اصلاح کے کام میں لگے رہو۔ اللہ نے تم سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور اسے پورا کرے گا۔ [32] یعنی ان بدعقیدہ اور بےیقین لوگوں کی طرف سے خواہ کیسی بات پیش آئے مگر ایسا نہ ہو کہ تم برداشت نہ کرسکو اور ان سے دب جاؤ یا مرعوب ہوجاؤ۔