29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 29:1–2

الٓمّٓۚ Open ayah 29:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ میم

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض اتنا کہنے پر چھوٹ جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟

[1] یعنی ایسے امتحانات تو ضرور پیش آئیں گے جن میں ان کو طرح طرح کے مصائب سے آزمایا جائے گا۔ اس آیت میں اشارہ ہے ان مسلمانوں کی طرف جو کفار کے ظلم وستم سے گھبرا اٹھے تھے۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور ہم نے (تو) ان لوگوں کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے (ہو گزرے) ہیں۔ اللہ تو ضرور (ان لوگوں کو) معلوم کر کے رہے گا جو (اظہار ایمان میں) سچے ہیں اور وہ جھوٹوں کو بھی معلوم کر کے رہے گا۔

[2] یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ سچوں کو بھی جانتا ہے اور جھوٹوں کو بھی، پھر آزمائش کر کے اسے معلوم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ازروئے عدل و انصاف سزایا جزا کا فیصلہ برے یا اچھے فعل کے عملاً ظہور کے بعد ہی ہونا چاہئے نہ کہ محض برے اور اچھے کام کی صلاحیت اور استعداد پر۔ لہذا اللہ کے ہاں انصاف اس علم کی بناء پر نہیں ہوتا کہ فلاں شخص میں امانت دار ہونے کی صلاحیت ہے اور فلاں میں خائن ہونے کی جب تک امانت داری یا خیانت کا عملاً ظہور نہ ہوجائے۔ اسی طرح اس کی بخششیں اور انعامات بھی اس کے ہاں اس علم کی بناء پر نہیں دئیے جاتے کہ فلاں شخص اعلیٰ درجے کا مومن و مجاہد بن سکتا ہے یا بنے گا بلکہ اس علم کی بناء پر دئیے جاتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنے عمل سے مومن اور مجاہد ہونا ثابت کردیا۔
Ayahs 29:4–8

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا جو لوگ برے (برے) کام کر رہے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے ؟ (بڑا ہی) برا فیصلہ (ہے جو) وہ کر رہے ہیں۔

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص اللہ کے حضور میں حاضر ہونے کی امید رکھتا ہو تو (اس کی تیاری کرے کیونکہ) اللہ کا (ٹھہرایا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے اور اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جو شخص (اللہ کی راہ میں) مشقت اٹھاتا ہے تو وہ اپنے ہی (بھلے کے) لئے اٹھاتا ہے (ورنہ) اللہ تو دنیا جہان والوں سے بےنیاز ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے (تو) ہم ضرور ان کے گناہ ان سے دور کردیں گے اور جو (نیک) عمل وہ کرتے رہے ہیں ہم ان کو (ان کے ان اعمال کا) بہتر سے بہتر بدلہ دیں گے۔

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا اور (ساتھ ہی یہ بھی سمجھا دیا کہ) اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو کسی (ہستی) کو ہمارا شریک ٹھہرائے جس (کے شریک ہونے) کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو (اس بات میں) ان کا کہا نہ مان۔ تم (سب) کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر ہم تمہیں بتادیں گے کہ تم لوگ (دنیا میں) کیا کچھ کرتے رہے۔

[3] مکہ میں جو نوجوان ایمان لائے تھے ان کے والدین ایمان سے باز رہنے کے لئے ان پر زور ڈال رہے تھے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ گویا بتلا دیا کہ والدین کا خلاف حق پر مجبور کرنا یہ بھی ایک آزمائش ہے اور مومن کو چاہئے کہ ان کی خاطر دین کو نہ چھوڑے۔ دنیا میں ماں باپ سے زیادہ کسی کا حق نہیں لیکن اللہ کا حق ان سے زیادہ ہے۔
Ayahs 29:9–10

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ہوں گے ( تو آخرت میں) ہم ضرور ان کو نیک بندوں میں داخل کریں گے۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور کچھ لوگ (ایسے بھی ہیں جو منہ سے تو) کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے۔ پھر جب ان کو اللہ کی راہ میں ایذا پہنچتی ہے تو وہ لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھتے ہیں۔ اور (اے پیغمبر، ) اگر تمہارے رب کی مدد آپہنچے (اور مسلمانوں کی فتح ہو) تو یہی لوگ (مسلمانوں سے) کہنے لگتے ہیں کہ ہم بھی تو تمہارے ہی ساتھ تھے۔ کیا اللہ کو دنیا جہان والوں کے دلوں کی باتیں بخوبی معلوم نہیں ؟

[4] یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو زبان سے تو اپنے کو مومن کہتے تھے لیکن دلوں میں ایمان راسخ نہ تھا۔ ان کو جہاں اللہ کے راستے میں تکلیف پہنچی یا ایمان لانے کی وجہ سے کفار نے ستایا تو اس آزمائش کو عذاب الٰہی کی طرح سمجھنے لگے۔ جس طرح آدمی عذاب الٰہی سے گھبرا کر جان بچانا چاہتا ہے اور اپنے پہلے دعوؤں سے دستبردار ہونے لگتا ہے اور ناچار اعتراف کرتا ہے کہ میں غلطی پر تھا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جہاں دین کے معاملے میں کوئی سختی پہنچی بس گھبرا کر دعویٰ ایمان سے دستبردار ہونا شروع کردیا اور زبان یا عمل سے اقرار کرنے لگے کہ ہم اس دعوے میں غلطی پر تھے یا ایسا دعویٰ کیا ہی نہ تھا۔
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اللہ ان کو ضرور معلوم کر کے رہے گا اور منافقوں کو بھی ضرور جان کر رہے گا۔

[5] یعنی معلوم تو پہلے ہی سے اسے سب کچھ ہے لیکن اب تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ لے گا کہ کون اپنے کو سچا مومن ثابت کرتا ہے اور کون جھوٹا منافق۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور یہ کافر ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہماری راہ پر چلو، (قیامت کے دن) تمہارے گناہ ہم اٹھا لیں گے حالانکہ یہ لوگ ذرا بھی تو ان کے گناہ اٹھانے والے نہیں۔ یہ بالکل جھوٹ بک رہے ہیں۔

[6] کفار مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم اسلام چھوڑ کر ہماری راہ پر چلو تو تم تکلیفوں اور ایذاؤں سے بچ جاؤ گے۔ یہ زندگی کے بعد موت، حشر ونشر اور جزا و سزا سب فرضی باتیں ہیں اور اگر بالفرض موت کے بعد دوبارہ زندگی اور حساب و کتاب ہوا تو ساری ذمہ داری ہم اٹھا لیں گے اور تمہارے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے سر پر رکھ لیں گے۔ بقول شاعر : تومشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر۔
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

مگر ہاں (قیامت کے دن) اپنے (گناہوں کے) بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ بھی۔ اور جیسی جیسی افترا پردازیاں یہ لوگ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن ان سے ضرور بازپرس ہو کر رہے گی۔

[7] یعنی ایک تو اپنے گناہوں کا اور دوسرا بوجھ دوسروں کو گمراہ کرنے یا گمراہی پر مجبور کرنے کے گناہ کا۔
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس ان لوگوں میں رہا۔ پھر (آخرکار) ان کو طوفان نے آلیا اور وہ بڑے ظالم لوگ تھے۔

[8] یہاں سے آیت 40 تک پیغمبروں کے قصے بیان کئے گئے ہیں جن سے مقصود ان باتوں کو ذہن نشین کرانا ہے جو سورت کی ابتدائی آیتوں میں بیان کی گئی ہیں جہاں ایک طرف ایمان والوں سے یہ فرمایا گیا کہ ہم نے تم سے پہلے بھی اہل ایمان کو آزمائشوں میں ڈالا تھا اور دوسری طرف کفار سے فرمایا گیا ہے کہ تم اس غلط فہمی میں نہ رہنا کہ تم ہم سے بازی لے جاؤ گے اور ہماری پکڑ سے بچ نکلو گے۔
Ayahs 29:15–19

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے اور کشتی والوں کو (عذاب طوفان سے) نجات دی اور ہم نے اس (واقعے) کو دنیا جہان والوں کے لئے نشان (عبرت) بنادیا۔

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو (بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا) جب کہ اس نے اپنی قوم (کے لوگوں) سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس (کے عذاب) سے ڈرو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو۔

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم اللہ کو چھوڑ کر محض بتوں کو پوج رہے ہو اور جھوٹی باتیں تراشتے ہو۔ بیشک اللہ کے سوا جن کو تم پوج رہے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔ پس تم رزق اللہ ہی سے مانگو اور اسی کی عبادت کرو اور اس (کی نعمتوں) کا شکر بجا لاؤ۔ تم کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم لوگ (مجھے) جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بھی امتیں (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکی ہیں، اور پیغمبر کے ذمے تو (اللہ کا پیغام) صاف صاف پہنچا دینا ہے ( اور بس) ۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ اللہ کس طرح مخلوقات کو اول بار پیدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا رہتا ہے ؟ یہ اللہ کے نزدیک ایک سہل سی بات ہے۔

[9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نمل حاشیہ 22 صفحہ 904۔
Ayahs 29:20–25

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

(اور ہم نے ابراہیم سے یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں سے) کہو کہ تم ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اللہ نے کس طرح (مخلوق کو) اول بار پیدا کیا، پھر اللہ (قیامت میں) دوسری بار بھی پیدا کرے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اور تم (سب) اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم نہ تو زمین (کی تہوں) میں (اتر کر اللہ کو) عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان (کی بلندیوں) میں (پہنچ کر) اور اللہ کے سوا نہ تو کوئی تمہارا کارساز ہے اور نہ مددگار۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی آیتوں کو اور (قیامت کے دن) اس کے حضور میں حاضر ہونے کو نہیں مانتے یہی لوگ (قیامت میں) ہماری رحمت سے مایوس ہوں گے اور یہی لوگ ہیں جن کو دردناک عذاب ہوگا۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پس اس کی قوم کے پاس (اس کی باتوں کا) اس کے سوا (اور کوئی) جواب نہ تھا کہ لگے کہنے اسے مار ڈالو یا جلا دو ۔ چناچہ (انہوں نے اسے آگ میں پھینک دیا مگر) اللہ نے اسے آگ سے بچا لیا۔ بلاشبہ اس میں (بھی اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور (ابراہیم نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہ بھی) کہا تھا کہ تم نے جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو (معبود) ٹھہرا لیا ہے (تو یہ) تمہارے باہمی دنیوی تعلقات کی وجہ سے ہے۔ پھر قیامت کے دن (تمہارا یہ حال ہوگا کہ) تم ایک دوسرے کے مخالف ہوجاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور دوزخ تم سب کا آخری ٹھکانہ ہوگی اور (ان بتوں میں سے) کوئی بھی تمہارا مددگار نہ ہوگا۔

[10] مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے بڑوں کو غلط طریقے پر پایا اور ان کی محبت کی وجہ سے ان کی پیروی کی اور یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی ایک غلط طریقے پر ہوتا ہے اور باوجودیکہ اس کو اپنی غلطی معلوم ہوتی ہے لیکن قومی مروت ولحاظ اور تعلقات باہمی کے دباؤ کی وجہ سے اسی غلط طریقے پر جما رہتا ہے۔
Ayahs 29:26–31

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس اس (ابراہیم) پر لوط ایمان لایا۔ اور (ابراہیم نے) کہا کہ میں اپنے رب (کی بتلائی ہوئی جگہ) کی طرف ہجرت کرتا ہوں۔ بیشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے اسے (بیٹا) اسحاق اور (پوتا) یعقوب عنایت فرمایا اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب (کے سلسلے) کو (قائم) رکھا۔ اور ہم نے اسے دنیا میں (بھی) اس کا صلہ دیا اور آخرت میں بھی یقینا وہ ہمارے نیک بندوں میں ہوگا۔

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط (کو بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا) جب کہ اس نے اپنی قوم (کے لوگوں) سے کہا کہ تم تو ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان کے لوگوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا (تمہارا حال یہ ہے کہ عورتوں کو چھوڑ کر) تم مردوں کے پاس جاتے ہو اور رہزنی کرتے ہو اور (غضب یہ ہے کہ) اپنی مجلسوں میں ناشائستہ حرکتوں کے مرتکب ہوتے ہو ؟ پھر لوط کی قوم کے پاس اس کے سوا (کوئی) جواب نہ تھا کہ لگے کہنے کہ لے آ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تو سچا ہے۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

(اس پر لوط نے اللہ سے) دعا کی اے میرے رب (ان) مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر پہنچے تو انہوں نے اس سے کہا کہ ہم (لوط کی) اس بستی کے رہنے والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں (کیونکہ) اس کے باشندے (بڑے) بدکار ہیں۔

[11] یعنی اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام) کی ولادت کی خوشخبری۔
Ayahs 29:32–33

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

(اس پر ابراہیم نے) کہا کہ وہاں تو لوط (بھی) ہے۔ وہ بولے کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ ہم لوط اور اس کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے کہ وہ (البتہ) پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی۔

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے (بھیجے ہوئے) فرشتے لوط کے پاس آئے تو (ان کا آنا) اسے برا لگا اور ان کی وجہ سے دل تنگ ہوا۔ انہوں نے کہا، '' (کسی طرح کا) اندیشہ نہ کرو اور نہ غمگین ہو۔ ہم تمہیں اور تمہارے اہل و عیال کو بچا لیں گے ' سوائے تمہاری بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی۔ ''

[12] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود حاشیہ 42 صفحہ 522۔
Ayahs 29:34–38

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

بیشک ہم اس بستی کے (بقیہ) باشندوں پر ایک آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں ان بدکاریوں کی بدولت جو وہ کرتے رہے ہیں۔

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

(چنانچہ ہم نے اس بستی کو الٹ دیا) اور اس کو ایک صریح نشان (عبرت) بنا چھوڑا ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین (کے رہنے والوں) کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا۔ اس نے (ان سے) کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو، ) اللہ کی عبادت کرو اور آخرت (کے آنے) کی توقع رکھو اور ملک میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر انہوں نے اسے جھٹلایا تو زلزلے نے انھیں آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور (ہم نے قوم) عاد اور ثمود کو (بھی ہلاک کیا) اور یہ (ہلاکت) تم کو ان کی بستیوں سے نظر آرہی ہے۔ شیطان نے ان کے اعمال (بد) کو ان کی نظر میں خوشنما کر دکھایا تھا اور (اس تدبیر سے) ان کو راہ (راست) سے روک رکھا تھا حالانکہ وہ (بڑی) سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔

[13] یعنی ان کی آبادی کے نشان ان کے موجودہ کھنڈروں اور آثار قدیمہ سے ظاہر ہیں۔