28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 28:1–2

طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader

ط۔ سین۔ میم۔

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ (سورت بھی) اسی کتاب مبین کی (چند) آیتیں ہیں۔

[1] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة شعراء حاشیہ 1 صفحہ 882۔
Ayah 28:3

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ہم موسیٰ اور فرعون کے کچھ حالات ٹھیک ٹھیک تمہیں سناتے ہیں ان لوگوں کے (فائدے کے) لئے جو ایمان رکھتے ہیں

[2] یعنی جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو باوجود کمزوری کے فرعونیوں کے مقابلے میں کامیاب کیا اسی طرح مسلمان جو فی الحال مکہ میں قلیل و کمزور نظر آتے ہیں اپنے بیشمار طاقت ور حریفوں کے مقابلے میں کامیاب ہوں گے۔
Ayah 28:4

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

بیشک (یہ واقعہ ہے کہ) فرعون ملک (مصر) میں (بہت) بڑھ چڑھ گیا تھا اور اس نے وہاں کے باشندوں کو طبقات میں (تقسیم) کر رکھا تھا۔ ان میں سے ایک جماعت (بنی اسرائیل) کا زور گھٹا رکھا تھا (اس طرح) کہ ان کے لڑکوں کو قتل کرا دیتا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔ بلاشبہ وہ (بڑے) مفسدوں میں سے تھا۔

[3] یعنی سرزمین مصر میں اس کا تسلط تھا اور وہ ظلم و استبداد اور تکبر میں انتہا کو پہنچ گیا تھا اور بندگی کے مقام کو چھوڑ کر اِلٰہ بن بیٹھا تھا۔
Ayahs 28:5–6

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

(غرض فرعون تو یہ کچھ کر رہا تھا) اور ہمارا ارادہ یہ تھا کہ جن لوگوں کا زور گھٹایا جا رہا ہے ہم ان پر احسان کریں اور انھیں پیشوا بنادیں اور ان (ہی) کو (زمین کا) وارث بنائیں

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ان (ہی) کو زمین میں اقتدار بخشیں اور ان (کے ہاتھ) سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلا دیں جس کا ان کو خطرہ تھا۔

[4] ہامان فرعون کا وزیر تھا جو ظلم و استبداد میں اس کا شریک اور آلہ کار تھا۔
Ayahs 28:7–8

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

(ان حالات میں موسیٰ پیدا ہوا تو) ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام کیا کہ تم اسے دودھ پلاؤ پھر جب اس کے بارے میں (کسی طرح کا) خطرہ (محسوس) ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور (کچھ) خوف و رنج نہ کرنا۔ (کیونکہ) اسے ہم پھر تمہارے پاس لے آئیں گے اور (آخرکار) اسے پیغمبروں میں (شامل) کریں گے۔

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

(چنانچہ موسیٰ کی ماں نے موسیٰ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا) تو فرعون کے گھر والوں نے اسے اٹھا لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور (ان کے) غم کا سبب بنے۔ بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر (بڑے) چوکنے والے تھے۔

[5] یہ ان کا مقصد نہ تھا بلکہ یہ ان کا انجام ہونے والا تھا۔ انھیں یہ معلوم نہ تھا کہ جس بچے کو انہوں نے دریا سے نکالا ہے اسی کے ہاتھوں وہ تباہ ہونے والے ہیں۔ [6] فرعون اور اس کے وزیر ومشیر اپنے ناپاک مقصد کے اعتبار سے بہت چوکے کہ بیشمار اسرائیلی بچوں کو قتل کرنے کے باوجود موسیٰ کو زندہ رہنے دیا جو ان کی بربادی کا موجب ہوئے۔ سورة قصص کی آیت 8 میں لفظ خٰطیْن آیا ہے جس کا ترجمہ بعض مترجمین نے '' خطاکار '' کیا ہے۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ فرعون اور ہامان اور ان کے اعوان و انصار نافرمان اور گنہگار لوگ تھے، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ سزا دی کہ ان کے ہلاک کرنے والے دشمن کو انھیں سے پرورش کرائی۔ بعض دوسرے مترجمین نے خٰطیْن کا ترجمہ '' چوکنے والے '' کیا ہے۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم وہ ہوگا جو متعلقہ حاشیہ میں بیان کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 28:9–14

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے (اپنے شوہر سے) کہا، '' یہ (بچہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے نہ مارو، عجب نہیں کہ ہمیں (کوئی) فائدہ پہنچائے یا اسے اپنا بیٹا ہی بنالیں۔ '' اور انھیں (انجام کی) خبر نہ تھی۔

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور (ادھر) موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا (اور) قریب تھا کہ وہ اس (راز) کو فاش کر بیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس بندھائے نہ رکھتے تاکہ (ہمارے وعدے پر) یقین کئے بیٹھی رہے

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور اس نے موسیٰ کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔ چناچہ وہ اس کو (دور ہی) دور سے (اس طرح) دیکھتی رہی کہ (فرعون کے) لوگوں کو (اس کی) مطلق خبر نہ ہوئی۔

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ پر پہلے ہی (دائیوں کے) دودھ بند کر رکھے تھے (کہ وہ کسی کی چھاتی منہ میں لیتا ہی نہ تھا) ۔ اس پر (موسیٰ کی بہن نے فرعون کے گھر والوں سے) کہا، '' کیا میں تم کو ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس (بچے) کی پرورش کریں اور ساتھ ہی اس کے خیر خواہ بھی ہوں ؟ ''

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

غرض ہم نے موسیٰ کو پھر اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ رہے اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے مگر اکثر لوگ (اس بات کو) نہیں جانتے۔

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا اور نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

[7] حکم سے مراد حکمت اور دانائی اور علم سے مراد دینی و دنیوی علوم۔
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور (اتفاق سے ایک دن) موسیٰ ایسے وقت شہر میں داخل ہوا جب کہ (وہاں سناٹا چھایا ہوا تھا اور) لوگ بیخبر (گھروں میں پڑے سو رہے) تھے تو کیا دیکھتا ہے کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم (بنی اسرائیل) کا اور دوسرا اس کی دشمن قوم (فرعونیوں) سے (تعلق رکھتا تھا) ۔ تو جو موسیٰ کی قوم کا تھا اس نے اس شخص کے مقابلے میں جو اس کی دشمن قوم سے تھا موسیٰ سے مدد مانگی۔ پس موسیٰ نے اس (دشمن) کو ایک مکا مارا اور (وہیں) اس کا کام تمام کردیا۔ موسیٰ بولا، '' یہ تو شیطانی حرکت ہوگئی۔ بلاشبہ شیطان (آدمی کا) کھلا دشمن (اور) گمراہ کرنے والا ہے۔ ''

[8] غالباً رات کا وقت ہوگا یا گرمی میں دوپہر کا وقت۔
Ayahs 28:16–17

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

(اس وقت موسیٰ نے) دعا کی، '' اے میرے رب (یہ تو) میں نے اپنے اوپر (بڑا ہی) ظلم کیا، تو میری مغفرت فرما۔ '' چناچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی، بیشک وہی بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

(پھر موسیٰ نے) کہا، '' اے میرے رب، جیسا تو نے مجھ پر یہ احسان کیا ہے میں بھی (آئندہ) کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔ ''

[9] یعنی معاف کرنے کا احسان۔ غالباً اس معافی کا علم موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ الہام ہوا ہوگا۔ آخر پیغمبر لوگ نبوت سے پہلے ولی تو ہوتے ہیں۔
Ayahs 28:18–19

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پس (دوسرے دن) صبح کے وقت وہ خوف و اندیشہ کی حالت میں شہر میں چلا جا رہا تھا تو اچانک وہی شخص جس نے کل اس سے مدد مانگی تھی (آج پھر) اسے پکار رہا ہے۔ موسیٰ نے اس سے کہا، '' تُو تو بڑا ہی گمراہ (آدمی) ہے (کہ آئے دن لوگوں سے لڑتا رہتا ہے) ''۔

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ نے اس (شخص) کو جو (موسیٰ اور فریاد کرنے والے) دونوں کا دشمن تھا پکڑنا چاہا تو (اسرائیلی سمجھا کہ موسیٰ مجھے پکڑنا چاہتا ہے اور وہ) چلا اٹھا، '' موسیٰ ، کیا (آج) تو مجھے (اسی طرح) مار ڈالنا چاہتا ہے جس طرح تو نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا ؟ بس تو ملک میں سخت گیر بن کر رہنا چاہتا ہے اور اصلاح کرنا نہیں چاہتا ''۔

[10] یعنی فرعونی۔ [11] فرعونی نے یہ بات سنی اور جاکر مخبری کردی کہ کل کے مقتول کا قاتل موسیٰ ہے۔
Ayahs 28:20–23

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور (تھوڑی دیر بعد) ایک شخص شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا، '' موسیٰ ، اہل دربار تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کر ڈالیں، لہذا تم (شہر سے فوراً ) نکل جاؤ، میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ ''

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

چناچہ موسیٰ خوف و اندیشہ کے ساتھ وہاں سے نکل کھڑا ہوا (اور اس نے) دعا کی کہ '' اے میرے رب، مجھے ظالموں سے بچا ''۔

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور (مصر سے نکل کر) جب موسیٰ نے مدین کا رخ کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے رب سے امید ہے کہ وہ مجھے سیدھے راستے پر ڈال دے گا (تاکہ میں بخیریت مدین پہنچ جاؤں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا)

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب وہ مدین کے کنوئیں پر پہنچا تو دیکھا (کہ کنوئیں پر) لوگوں کی ایک بھیڑ (لگی) ہے (اور) وہ (اپنے جانوروں کو) پانی پلا رہے ہیں اور ان سے الگ دو عورتوں کو دیکھا کہ وہ (اپنے جانور) روکے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے ان سے پوچھا، '' تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ '' وہ بولیں، '' ہم (اپنے جانوروں کو پانی) نہیں پلا سکتیں جب تک یہ چرواہے (اپنے جانوروں کو پانی پلا کر) ہٹا نہ لے جائیں، اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں ''۔

[12] یعنی اگر ہمارے والد جوان اور توانا ہوتے تو ہمیں نہ آنا پڑتا۔
Ayahs 28:24–25

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

(یہ سن کر موسیٰ نے) ان کی خاطر (کنوئیں سے پانی کھینچ کر ان کے جانوروں کو) پلا دیا پھر (وہاں سے) ہٹ کر (ایک جگہ) سائے میں جا بیٹھا اور (جناب باری میں) دعا کی کہ '' اے میرے رب، تو (اپنے خوان کرم سے) جو نعمت بھی مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں ''۔

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ موسیٰ کیا دیکھتا ہے کہ) ان دو عورتوں میں سے ایک اس کی طرف شرماتی چلی آرہی ہے۔ اس نے (آکر موسیٰ سے) کہا، '' میرے والد تم کو بلا رہے ہیں کہ وہ جو تم نے ہماری خاطر (ہمارے جانوروں کو پانی) پلایا تھا اس کا صلہ تمہیں دیں ''۔ پھر جب موسیٰ اس کے پاس پہنچا اور اس سے (اپنا) حال بیان کیا تو اس نے کہا، '' (کچھ) خوف نہ کرو، (اب) تم ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہو ''۔

[13] لڑکیاں خلاف معمول سویرے گھر واپس آگئیں تو ان کے باپ نے جلد آنے کا سبب دریافت کیا۔ لڑکیوں نے اصل ماجرا سنا دیا۔ باپ کی شرافت کب اسے گوارا کرسکتی تھی کہ ایسے محسن کو یوں ہی چلا جانے دیا جائے۔ لڑکی کو بھیج کر اپنے گھر بلوایا کہ کچھ تو حق میزبانی ادا کریں۔
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ان (دو عورتوں) میں سے ایک نے (اپنے باپ سے) کہا ،'' ابا جان، اس شخص کو نوکر رکھ لیجئے۔ بہترین نوکر جسے آپ رکھنا چاہیں وہ ہے جو قوی اور امانت دار ہو (اور اس شخص میں ظاہراً دونوں صفتیں پائی جاتی ہیں) ۔

[14] ضروری نہیں کہ لڑکی نے وہ بات جو آگے آرہی ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی پہلی ملاقات کے وقت ہی کہی ہو۔ قیاس کہتا ہے کہ لڑکیوں کے والد نے ایک دو روز کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے پاس ٹھہرا لیا ہوگا۔ اس دوران بیٹی نے کسی وقت باپ سے کہا ہوگا۔ [15] موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت تو ان کے کنوئیں سے پانی کھینچنے سے پہچانی گئی اور امانت داری ان کے برتاؤ سے معلوم ہوئی۔
Ayahs 28:27–29

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

(اس پر لڑکیوں کے باپ نے موسیٰ سے) کہا، '' میں چاہتا ہوں کہ اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ برس تک میرے ہاں ملازمت کرو اور اگر تم دس (برس) پورے کردو تو یہ تمہاری مرضی ہے۔ میں تم پر سختی کرنا نہیں چاہتا۔ انشاء اللہ تم مجھے (خوش معاملہ اور) بھلا آدمی پاؤ گے ''۔

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

(موسٰی نے) کہا، '' (بس تو) یہ بات میرے اور آپ کے درمیان (پکی) ہوگئی۔ (مجھے اختیار ہے) دونوں مدتوں میں سے جو بھی (مدت چاہوں) پوری کر دوں۔ پھر (اس کے بعد کسی طرح کی) زیادتی مجھ پر نہ ہو اور ہمارے اس قول وقرار پر اللہ نگہبان ہے ''۔

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ نے (اپنی) مدت (ملازمت) پوری کردی اور اپنے اہل و عیال کو لے کر روانہ ہوا تو اس نے (کوہ) طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی۔ (اس نے) اپنے گھر والوں سے کہا، '' تم لوگ (اسی جگہ) ٹھہرو۔ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید میں وہاں سے (راستے کی) کوئی خبر لے آؤں یا (ہو سکے تو) اسی آگ سے کوئی انگارا ہی لے آؤں تاکہ تم (آگ) تاپ سکو ''۔

[16] یعنی دس سال۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دو مدتوں میں سے وہ مدت پوری کی جو زیادہ کامل اور ان کے خسر کے لئے خوشگوار تھی۔ (یعنی دس سال، بروایت ابن عباس ؓ ۔ [17] موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اہل و عیال کو لے کر مصر جانا چاہتے ہوں گے، غالباً انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ دس سال گزر چکے ہیں۔ وہ فرعون مرچکا ہوگا جس کے زمانے میں وہ مصر سے نکلے تھے۔ اب اگر وہاں چلا جاؤں اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ وہاں رہوں تو شاید کسی کو میرا پتہ بھی نہ لگے۔
Ayahs 28:30–32

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ اس (آگ) کے پاس پہنچا تو میدان کے داہنے کنارے پر مبارک مقام میں ایک درخت سے ندا کی گئی۔ '' موسیٰ ، (یہ تو) ہم اللہ ہیں تمام جہانوں کے پروردگار ''۔

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور (حکم ہوا) '' تم اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دو ''۔ تو جب (موسیٰ نے) لاٹھی کو (ڈالا اور اس کو اس طرح) بل کھاتے ہوئے دیکھا کہ گویا وہ (زندہ) سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے (مڑ کر بھی) نہ دیکھا۔ (حکم ہوا) '' موسیٰ ، آگے آؤ اور ڈرو مت، تم بالکل محفوظ ہو۔

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو (اور پھر نکالو تو) وہ بلاکسی عیب کے چمکتا ہوا نکلے گا اور رفع خوف کے لئے اپنا بازو اپنی طرف سکیڑ لو۔ پس یہ (تمہاری نبوت کی) دو سندیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کے (سامنے پیش کرنے کے) لئے کیونکہ وہ (بڑے) نافرمان لوگ ہیں۔

[18] یعنی جب کبھی تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو پہلو سے ملا لینا۔ اس سے خوف دور ہوجائے گا۔
Ayahs 28:33–38

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

(موسیٰ نے) عرض کیا، '' اے میرے رب، میں تو ان کے ایک آدمی کا خون کرچکا ہوں اس لئے ڈرتا ہوں کہ (کہیں) وہ مجھے مار (نہ) ڈالیں،

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ خوش بیان ہے پس اسے مددگار کے طور پر میرے ساتھ بھیج کہ وہ میری تصدیق کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے ''۔

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

فرمایا، '' (اچھا) ہم تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائیں گے اور تم دونوں کو ایسا غلبہ دیں گے کہ انھیں تم پر دسترس نہ ہوگی۔ ہماری نشانیوں کے سبب تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہیں گے ''۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ ہمارے کھلے ہوئے معجزے لے کر ان کے پاس آیا تو وہ بولے کہ یہ تو بس ایک گھڑا ہوا جادو ہے (جسے ناحق اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے) اور ہم نے اپنے اگلے باپ دادوں (کے زمانے) میں ایسی باتیں سنی نہیں۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا، '' میرے رب کو اس شخص کا حال خوب معلوم ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور (آخرکار) جس کا انجام بخیر ہونا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے ''۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا، '' اے اہل دربار، میں تو اپنے سوا تمہارے لئے کسی کو اِلَہ نہیں مانتے ''۔ (اور اپنے وزیر ہامان کی طرف خطاب کر کے کہا، ) ہامان، میرے لئے مٹی (کی اینٹیں) آگ میں پکوا، پھر (ان سے) میرے لئے ایک اونچی عمارت بنوا تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) موسیٰ کے اِلَہ کو جھانکو اور میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں ''۔

[19] یہاں فرعون نے اپنے لئے اِلٰہ کا لفظ یعنی خالق و معبود نہیں بلکہ حاکم مطلق استعمال کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سرزمین مصر کا مالک میں ہوں اور یہاں میرا حکم چلے گا۔ یہ موسیٰ کون ہے جو اس طرح کے احکام سنا رہا ہے کہ گویا اصل حاکم وہ ہے۔ یہ واضح رہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتاؤں کا پرستار تھا جیسا کہ سورة اعراف کی آیت 127 سے ظاہر ہے۔ لہذا اِلَہ کا مفہوم اس کے نزدیک وہی تھا جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔