27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 27:1–4

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طاسین۔ یہ آیات ہیں قرآن اور ( اس) کتاب مبین کی۔

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

(جو) ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور (روز) آخرت پر (بھی) یقین رکھتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال کو (ان کی نظر میں) خوشنما بنادیا ہے اس لئے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں۔

[1] یعنی اس کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنی تعلیمات اور اپنے احکام و ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کرتی ہے۔
Ayahs 27:5–6

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے سخت عذاب ہے اور آخرت میں بھی یہی لوگ سب سے زیادہ خسارے میں رہیں گے۔

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ' ) بلاشبہ یہ قرآن تمہیں حکمت والے، علم والے کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔

[2] یہ عذاب دنیا میں بھی بیشمار مختلف طریقوں سے ملتا ہے اور مرتے وقت بھی اور مرنے کے بعد عالم برزخ میں بھی۔
Ayahs 27:7–11

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

(لہٰذا تم ان لوگوں کے انکار سے غمگین نہ ہو اور انھیں اس وقت کا قصہ سناؤ) جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ (ذرا ٹھہرو کہ میں) ابھی یا تو وہاں سے تمہارے پاس (راستے کی) کوئی خبر لے آؤں یا تمہارے لئے کوئی سلگتا ہوا انگارا لے آؤں تاکہ تم لوگ (آگ) تاپ سکو۔

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ (اس) آگ کے پاس پہنچا تو ندا آئی ' '' مبارک ہے وہ (نور) جو اس آگ میں ہے اور (مبارک ہیں) وہ جو اس آگ کے اردگرد ہیں۔ پاک ہے اللہ سارے جہانوں کا پروردگار۔

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

موسیٰ ، یہ تو ہم اللہ ہیں ' زبردست (اور) حکمت والے '۔

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور (ہاں ذرا) تم اپنا عصا (زمین پر تو) ڈال دو '' (چنانچہ موسیٰ نے ایسا ہی کیا اور) جب اس نے دیکھا کہ عصا (اس طرح) بل کھا رہا ہے کہ گویا (زندہ) سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مڑ کر (بھی) نہ دیکھا۔ (ارشاد ہوا) '' موسیٰ ڈرو نہیں ' ہمارے حضور رسول ڈرا نہیں کرتے۔

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

مگر (ہاں) جس سے کوئی قصور ہوجائے پھر قصور کے بعد اس کے بدلے نیک کام کرے تو بیشک ہم بخشنے والے (اور) ہمیشہ رحم کرنے والے ہیں۔

[3] اس قصے کی تفصیلات سورة طہٰ آیت 9 صفحہ 718 میں گزر چکی ہیں۔
Ayahs 27:12–14

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور (ذرا) اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو (اور پھر نکالو ' ) وہ بلا کسی عیب کے چمکتا ہوا نکلے گا۔ یہ (دو معجزے) ہیں ان نو معجزوں میں سے ( جن کے ساتھ تُو) فرعون اور اس کی قوم کی طرف (جا) کیونکہ وہ لوگ (بڑے) نافرمان ہیں۔

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان لوگوں کے پاس ہمارے معجزے آئے (جو) آنکھیں کھول دینے والے (تھے) تو وہ لگے کہنے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

انہوں نے ظلم اور تکبر کے مارے ان کا انکار کیا حالانکہ ان کے دل ان (معجزات) کے قائل ہوچکے تھے۔ تو (اے پیغمبر ' ) دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا کیسا (برا) انجام ہوا۔

[4] سورة اعراف میں ان نو معجزوں کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے : (1) لاٹھی جو اژدھا بن جاتی تھی۔ (2) ہاتھ بغل سے سورج کی طرح چمکتا ہوا نکلتا تھا۔ (3) جادوگروں کو برسر عام شکست دینا۔ (4) موسیٰ (علیہ السلام) کے پیشگی اعلان کے مطابق سارے ملک میں قحط سالی۔ (5) طوفان۔ (6) ٹڈی دل۔ (7) تمام غلے کے ذخیروں میں سرسریاں اور انسان و حیوان میں جوئیں۔ (8) مینڈکوں کا طوفان۔ (9) پانی کا لہو ہوجانا۔
Ayah 27:15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور (دیکھو ' ) ہم نے داؤد اور سلیمان کو (دین و دنیا کا) علم عطا کیا اور انہوں نے کہا کہ شکر ہے اللہ کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت دی۔

[5] داؤد و سلیمان (علیہما السلام) پر حاشیے سورة بقرہ میں گزر چکے ہیں۔
Ayahs 27:16–21

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور داؤد کا جانشین سلیمان ہوا۔ اور اس نے کہا ' لوگو ' ہم کو (اللہ کی طرف سے) پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہم کو ہر طرح کی چیزیں عطا ہوئی ہیں۔ بلاشبہ یہ (اللہ کا) نمایاں فضل ہے۔

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور (دیکھو ' ) سلیمان کے لئے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے تھے۔ اور وہ پورے نظم و ضبط میں رکھے جاتے تھے۔

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

(ایک مرتبہ وہ ان کے ساتھ کوچ کر رہا تھا) یہاں تک کہ جب یہ چیونٹیوں کی (ایک) وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا ' چیونٹیو ' اپنے (اپنے) بلوں میں گھس جاؤ ' ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور انھیں (اس کی) خبر بھی نہ ہو۔

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

اس کی (اس) بات پر سلیمان مسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور دعا کی۔ '' اے میرے رب ' مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کیا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں اور (زندگی بھر) ایسے نیک عمل کرتا رہوں جن کو تو پسند فرمائے اور (مرنے کے بعد) تو اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل کر۔

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

(ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ) سلیمان نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا ' '' کیا بات ہے کہ ہم (فلاں) ہدہد کو نہیں دیکھتے ؟ کیا وہ غیرحاضر ہے۔

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

ہم اس کو ضرور سخت سزا دیں گے یا اسے ذبح ہی کر ڈالیں گے ' یا وہ ہمارے حضور میں (اپنی غیرحاضری کا) کوئی معقول عذر پیش کرے۔

[6] یہاں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کے ذکر سے جہالت اور علم کا فرق بتانا مقصود ہے۔ بادشاہی فرعون کو بھی ملی تھی اور داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو بھی لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان عظیم الشان فرق پیدا کردیا۔
Ayahs 27:22–23

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

کچھ دیر نہ گزری تھی کہ (ہدہد) آ حاضر ہوا اور بولا ' '' میں ایسی بات معلوم کر کے آیا ہوں جو آپ کو معلوم نہیں۔ میں آپ کے پاس (قوم) سبا کے بارے میں ایک یقینی خبر لے کر حاضر ہوا ہوں۔

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

بیشک میں نے (وہاں) ایک عورت کو دیکھا جو ان پر حکمرانی کرتی ہے اور ہر طرح کے سازوسامان اس کو میسر ہیں اور اس کے پاس ایک بڑا تخت (بھی) ہے۔

[7] سلیمان (علیہ السلام) کو اس قوم کا مفصل حال معلوم نہ تھا اب معلوم ہوا۔ ہدہد کے بیان کا یہ مطلب نہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) سبا سے ناواقف تھے۔ قوم سبا عرب کے جنوبی حصے میں آباد تھی جس کو آج کل یمن کہتے ہیں۔
Ayahs 27:24–37

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے اس کو اور اس قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں۔ '' (دراصل) شیطان نے ان کے اعمال ان کی نظر میں خوشنما بنا دئیے اور ان کو راہ (راست) سے روک دیا۔ چناچہ وہ (راہ) ہدایت نہیں پاتے

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

کہ اس اللہ کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو نکالتا ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب کو جانتا ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

(یہ ہے وہ) اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ' جو عرش عظیم کا مالک ہے۔

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

(سلیمان نے) کہا ' '' (اچھا) ہم ابھی دیکھے لیتے ہیں کہ تو سچ کہتا ہے یا جھوٹا ہے۔

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

یہ ہمارا خط لے جا اور ان لوگوں کی طرف ڈال دے پھر ان سے (الگ) ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

(غرض ہدہد نے سلیمان کا خط ملکہ کو پہنچا دیا) ۔ وہ (اسے دیکھ کر) بولی ' '' اے اہل دربار ' ہماری طرف ایک بڑا اہم خط ڈالا گیا ہے۔

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

بیشک وہ سلیمان (کی طرف) سے ہے اور بیشک اس میں یہ (مضمون) ہے ' (اوّل) اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

(اور اس کے بعد یہ کہ) ہم سے سرکشی نہ کرو اور فرماں بردار بن کر ہمارے پاس حاضر ہوجاؤ۔

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

(خط سنانے کے بعد ملکہ) بولی ' '' اے اہل دربار ' ہمارے (اس) معاملے میں ہمیں مشورہ دو ۔ (ہمارا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ) کسی معاملے میں قطعی حکم ہم تمہارے مشورے کے بغیر نہیں دیا کرتے۔

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے ' '' ہم (بڑے) طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں۔ (آگے) آپ کو اختیار ہے۔ آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے۔

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

(ملکہ نے) کہا '' بادشاہ جب کسی بستی میں (فاتحانہ) داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ اور وہاں کے عزت دار لوگوں کو ذلیل کردیا کرتے ہیں اور اسی طرح (یہ لوگ بھی) کریں گے۔

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

ہم (ایلچیوں کے ہاتھ) ان لوگوں کی طرف تحفے (تحائف) بھیجتے ہیں ' پھر دیکھتے ہیں کہ ایلچی کیا (جواب) لے کر آتے ہیں۔

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

پھر جب (ایلچیوں کا سربراہ) سلیمان کے پاس (تحفے تحائف) لے کر پہنچا تو (سلیمان نے) کہا ' '' کیا تم لوگ مال سے ہماری امداد کرنا چاہتے ہو ؟ تو (جان لو کہ) اللہ نے جو کچھ ہمیں دے رکھا ہے وہ اس سے (کہیں) بہتر ہے جو اس نے تم کو دیا ہے۔ بلکہ تم ہی اپنے تحفوں سے خوش ہوتے ہو گے۔

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

تم (ان کو لے کر) ان (ہی) کے پاس لوٹ جاؤ (جنہوں نے تم کو بھیجا ہے) اور (اب) ہم ایسے لشکر لے کر ان پر چڑھائی کریں گے جن کا وہ مقابلہ نہ کرسکیں گے اور ہم ان کو وہاں سے ذلیل و خوار (کرکے) نکال باہر کریں گے۔

[8] یہاں سے لے کر آیت 26 کے آخر تک ہدہد کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے جیسا کہ انداز کلام سے صاف ظاہر ہے۔ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
Ayah 27:38

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

(پھر سلیمان نے اپنے درباریوں سے) کہا ' '' اے اہل دربار تم میں سے کون ملکہ کا تخت ہمارے پاس لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر ہمارے پاس حاضر ہوں ؟ ''

[9] بیچ میں یہ قصہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ ایلچی واپس پہنچتے ہی حالات دربار سلیمانی ملکہ سے بیان کرتے ہیں۔ ملکہ نے حالات سن کر یہ مناسب سمجھا کہ خود سلیمان (علیہ السلام) سے ملاقات اور آپ سے بالمشافہ گفتگو کرے چناچہ وہ سبا سے روانہ ہوئی اور اپنی روانگی کی اطلاع سلیمان (علیہ السلام) کو بھیج دی۔ جب سلیمان (علیہ السلام) کو یہ اطلاع ملتی ہے اس وقت وہ یہ گفتگو اپنے اہل دربار سے کرتے ہیں۔
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

(اس پر) ایک قوی ہیکل جن بولا ' '' میں اس کو آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں اور میں (اس مہم کے سر کرنے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار (بھی) ہوں ''۔

[10] یعنی وہ تخت ہزار قیمتی اور مرصع سہی میں کسی طرح کی خیانت نہ کروں گا۔
Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

ایک شخص جس کو کتاب کا علم حاصل تھا بولا ' '' میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں ''۔ پھر جب آپ نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو بول اٹھے ''' یہ بھی میرے رب کا احسان ہے تاکہ مجھ کو آزمائے کہ میں (اس کا) شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اور جو کوئی (اللہ کا) شکر کرتا ہے تو وہ اپنے (بھلے کے) لیے شکر کرتا ہے اور جو کوئی ناشکری کرے تو میرا رب (اس کے شکر سے) بےنیاز اور (بڑا) کرم والا ہے

[11] یہ شخص کون تھا اور وہ کون سی کتاب تھی جس کا علم اس کے پاس تھا۔ ان امور کی وضاحت نہ قرآن میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں۔