27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

اس تخت کی صورت بدل دو تاکہ ہم دیکھیں کہ وہ سمجھ پاتی ہے یا ان لوگوں میں ہے جن کو سمجھ نہیں۔

[12] تخت کی صورت بدل دینے سے ملکہ کی عقل و فہم کو آزمانا تھا کہ ہدایت پانے کی استعداد اس میں کہاں تک موجود ہے۔
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب ملکہ حاضر ہوئی تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت ایسا ہی ہے ؟ وہ بولی ' '' یہ تو گویا وہی ہے اور ہم پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سرتسلیم خم کردیا تھا ''۔

[13] یعنی اس معجزے کی حاجت نہ تھی۔ ہم کو پہلے ہی یقین ہوچکا تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) محض بادشاہ نہیں اللہ کے مقرب بندے بھی ہیں اس لئے ہم نے اطاعت کا راستہ اختیار کیا۔
Ayahs 27:43–44

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور اس کو (ایمان لانے سے) جس چیز نے (اب تک) روک رکھا تھا وہ غیر اللہ کی عبادت تھی ' کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

(پھر) اس سے کہا گیا کہ آپ محل میں تشریف لے چلئے تو جب اس (محل میں شیشے کے فرش) کو دیکھا تو سمجھی کہ پانی (کاحوض) ہے اور (وہاں سے گزرنے کے لئے اس طرح پائنچے اٹھائے کہ) اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں۔ (یہ دیکھ کر سلیمان نے) کہا ' '' یہ (شیش) محل ہے جس (کے فرش) میں (بھی) شیشے (ہی) جڑے ہوئے ہیں۔ '' (اس پر) وہ پکار اٹھی، '' اے میرے رب ' (آج تک) میں اپنے نفس پر ظلم کرتی رہی اور (اب) سلیمان کے ساتھ ہو کر اللہ رب العالمین کے آگے سر تسلیم خم کرتی ہوں۔

[14] یعنی اب تک اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ تھی کہ غیر اللہ کی عبادت کی عادت نے اسے روک رکھا تھا اور عادت اس لئے پڑی تھی کہ آنکھ کھول کر اس نے اردگرد کفر ہی کفر دیکھا تھا۔
Ayahs 27:45–46

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور (دیکھو ' ) ہم نے (قوم) ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (پیغمبر بنا کر اور اس پیغام کے ساتھ) بھیجا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو تو یکایک وہ لوگ (مومن اور منکر) دو فریق ہوگئے جو (دین کے بارے میں) باہم جھگڑنے لگے۔

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

(صالح نے) کہا ' '' اے میری قوم (والو ' ) بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ اللہ کی جناب میں (توبہ اور) استغفار کیوں نہیں کرتے (جس سے) توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا

[15] قوم ثمود کے جھگڑنے کی قدرے تفصیل سورة اعراف آیت 73 صفحہ 350 میں گزر چکی ہے۔ ٹھیک یہی صورت حال نبی ﷺ کی بعثت پر مکہ میں ہوئی کہ قوم دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔ اس لئے یہ قصہ ان حالات پر چسپاں ہو رہا تھا جن میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
Ayahs 27:47–48

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ بولے '' ہم نے تمہیں اور ان لوگوں کو جو تمہارے ساتھ ہیں بڑا منحوس پایا ہے ''۔ (صالح نے) کہا '' تمہاری نحوست کا (سررشتہ تو) اللہ کے پاس ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کو آزمایا جا رہا ہے ''۔

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور اس شہر میں نو جتھے دار شخص تھے جو ملک میں فساد کرتے اور (کوئی) اصلاح (کا کام) نہ کرتے تھے۔

[16] یعنی تمہاری یہ نحوست کیا کم ہے کہ تمہاری وجہ سے قوم میں پھوٹ پڑگئی ہے اور آئے دن ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت نازل ہوتی رہتی ہے۔ [17] یعنی کفر کی شامت سے تم پر سختی پڑی ہے کہ دیکھیں حقیقت حال سمجھتے ہو یا نہیں۔
Ayahs 27:49–60

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا، '' اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم ضرور صالح اور اس کے گھر والوں پر شب خون مارینگے پھر (ہم سے پوچھنے کی نوبت آئے گی تو) ہم اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ صالح کے گھر والوں کے مارے جانے کے وقت ہم تو موجود (ہی) نہ تھے اور ہم بالکل سچ کہتے ہیں ''۔

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

غرض ایک چال وہ چلے اور ایک چال ہم چلے، اور (ہماری چال کی) انھیں خبر بھی نہ ہوئی۔

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

(تو اے پیغمبر) دیکھ لو ان کی چال کا کیسا (برا) انجام ہوا۔ ہم نے ان کو اور ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا۔

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

اب یہ ان کے گھر ہیں کہ ان کے ظلم کی وجہ سے ویران پڑے ہیں۔ بلاشبہ اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے دانش مندوں کے لئے۔

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے تھے اور متقی تھے ان کو ہم نے بچا لیا۔

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ان لوگوں کو) لوط (کا واقعہ بھی یاد دلاؤ) جب اس نے اپنی قوم سے کہا، '' کیا تم بدکاری کرتے ہو اور (غضب یہ ہے کہ چھپاتے تک نہیں بلکہ ایک دوسرے کو) دیکھتے (بھی جاتے) ہو ؟

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لئے جاتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت میں (مبتلا) ہو ''۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

مگر لوط کی قوم کا اس کے سوا اور کچھ جواب نہ تھا کہ (وہ آپس میں کہنے لگے) '' نکال باہر کرو لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی ہے۔ بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ لوگ ''

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

آخرکار ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا۔ بجز اس کی بیوی کے جس کو ہم نے پیچھے رہ جانے والوں میں مقدر کردیا تھا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور برسائی ان لوگوں پر (جو پیچھے رہ گئے تھے) ایک بارش اور (کیا ہی) بری تھی وہ بارش جو ان ڈرائے جانے والوں پر برسی !

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) کہو، ساری تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے بندوں پر سلام ہو جن کو اس نے برگزیدہ کیا۔ (ان سے پوچھو) بھلا (قدرت اور قدردانی کے اعتبار سے) اللہ بہتر ہے یا وہ (ہستیاں) جن کو یہ لوگ (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیں ؟

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور آسمان سے تم لوگوں کے لئے (کس نے) پانی اتارا اور اس کے ذریعے سے خوشنما باغ اگائے ؟ (لوگو ' ) تمہارے بس میں تو نہ تھا کہ تم ان (باغوں) کے درختوں کو اگا سکو۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود (بھی ان کاموں میں شریک) ہے ؟ (نہیں، ) مگر یہ لوگ (راہ) حق سے کتراتے ہیں۔

[18] یہ اسی طرح کی سازش تھی جو سرداران قریش نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے ہجرت کے موقع پر کی تھی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو (انسانوں اور جانوروں کے) ٹھہرنے کی جگہ بنایا اور اس کے بیچ بیچ میں نہریں رواں کیں اور اس (زمین کے ٹھہرانے) کے لئے پہاڑبنائے اور (میٹھے اور کھاری) دو دریاؤں میں حد فاصل رکھی ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود (بھی ان کاموں میں شریک) ہے ؟ (نہیں، ) مگر لوگوں میں سے اکثر (اتنی موٹی بات بھی) نہیں جانتے۔

[19] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فرقان حاشیہ 33 صفحہ 859۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون ہے کہ جب کوئی (شخص بےقرار ہو کر) اس کو پکارتا ہے وہ اس بےقرار کی (فریاد) سنتا ہے اور (اس کی) مصیبت کو دور کردیتا ہے ؟ اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود (بھی ان کاموں میں شریک) ہے ؟ (نہیں، ) مگر تم لوگ کم ہی غور (وفکر) کرتے ہو۔

[20] یعنی ایک قوم یا نسل کو اٹھا لیتا ہے اور اس کی جگہ دوسری کو آباد کرتا ہے۔ یہ مطلب بھی ہے کہ تم کو زمین میں مالکانہ تصرف اور حکومت کے اختیارات عطا کرتا ہے۔
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون ہے (جو) تمہیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راہ دکھاتا ہے اور کون (ہے جو) اپنی رحمت کے آگے (آگے) ہواؤں کو خوشخبری دینے کے لئے بھیجتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی ( اور) معبود (بھی ان کاموں میں شریک) ہے ؟ (ہرگز نہیں ! ) بہت برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

[21] یعنی بارش۔
Ayahs 27:64–74

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون ہے ( جو) مخلوقات کو اول بار پیدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا رہتا ہے ؟ اور کون ہے ( جو) تمہیں آسمان و زمین سے روزی دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی ( اور) معبود (بھی ان کاموں میں شریک) ہے ؟ (نہیں، اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ اگر (شرک کے دعوے میں) سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ آسمانوں اور زمین میں جتنی (مخلوق موجود) ہے کوئی بھی غیب (کی بات) نہیں جانتا بجز اللہ کے اور (اسی وجہ سے) ان (مخلوقات) کو یہ خبر نہیں کہ وہ کب (دوبارہ) اٹھا کھڑے کئے جائیں گے۔

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ (یا تو) آخرت کے بارے میں ان (لوگوں) کے علم کا خاتمہ ہی ہوگیا ہے، (یا یہ) نہیں (تو) اس کے بارے میں ان کو شک ہے، (یا یہ) نہیں (تو) یہ (لوگ جان بوجھ کر) اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا (گل سڑ کر) مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں (قبروں سے) نکالا جائے گا ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

ایسے وعدے تو پہلے سے ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے ہوتے چلے آئے ہیں۔ یہ تو بس اگلوں کی کہانیاں ہیں (جو نقل ہوتی چلی آرہی ہیں) ۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ (ذرا) زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیسا انجام ہوا ہے۔

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور تم ان (لوگوں کے حال) پر رنج نہ کرو اور جو کچھ چالیں یہ (تمہارے خلاف) چل رہے ہیں ان سے دل تنگ نہ ہو۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور یہ (منکرین) پوچھتے ہیں کہ یہ وعدہ (عذاب کا) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو ؟

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ عجب نہیں جس (عذاب) کی تم جلدی مچا رہے ہو (اس کا کچھ حصہ) تمہارے قریب آگیا ہو۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب لوگوں پر (اپنا بڑا) فضل رکھتا ہے (کہ جلدی عذاب نازل نہیں کرتا) مگر اکثر لوگ (اس کا) شکر (ادا) نہیں کرتے۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور یہ (بھی) حقیقت ہے کہ تمہارا رب خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں مخفی ہے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔

[22] یعنی انسان ' حیوانات اور نباتات کی تخلیق بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر نوع کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نوع سے پیہم اس نوع کو پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کے دانے سے جو کا دانہ پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ انسان اور حیوانات کا بھی ہے۔ [32] اوپر کی آیات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطلال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا رد بھی ہے۔ مثلاً بارش کا باقاعدگی سے برسنا اور اس میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائے، درختوں، پودوں اور سبزیوں کو آفتاب کی گرمی کا ایک خاص درجے میں پہنچنا، کھاد، سورج پانی وغیرہ میں پیداواری کی صلاحیت کا ہونا اور ان ساری استعدادوں کا ایک متعین درجے میں اور مناسب حد تک عمل میں آنا، کیا یہ سب کچھ ایک حکیم کی منصوبہ بندی اور تدبیر کے بغیر خودبخود اتفاقاً ہوسکتا ہے اور کیا یہ ممکن ہے کہ یہ اتفاقی حادثہ لاکھوں برس سے اس باقاعدگی سے جاری رہے ؟ اس طرح زمین کا انسان و حیوانات اور نباتات کے لئے جائے قرار ہونا بھی ایک حکیم و قادر مطلق کی تدبیر کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اگر رات اور دن کا اختلاف نہ ہوتا اور زمین کا ایک ہی رخ ہر وقت سورج کے سامنے رہتا اور دوسرا رخ چھپا رہتا تو زمین پر کوئی آبادی ممکن نہ ہوتی۔ اسی طرح کارخانہ خلق اور اعادہ خلق کا حکمت و نظم کے ساتھ شروع ہونا اور باقاعدگی سے جاری رہنا بھی اتفاقی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں ایسی کوئی چیز مخفی نہیں جو کتاب مبین میں درج نہ ہو۔

[24] کتاب مبین یعنی واضح کتاب۔ مراد اس سے لوح محفوظ ہے جس میں ہر چیز، چھوٹی بڑی، اگلی پچھلی لکھی ہوئی موجود ہے۔
Ayahs 27:76–77

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل پر بہت سی ان باتوں (کی حقیقت) کو ظاہر کرتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ (قرآن) ایمان والوں کے حق میں (سرتاپا) ہدایت و رحمت ہے۔

[25] یعنی بنی اسرائیل پر بہت سے وہ حقائق روشن کر دئیے جن کے بارے میں وہ غلط فہمیوں میں مبتلا تھے۔
Ayahs 27:78–80

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یقینا (اسی طرح) تمہارا رب ان لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ زبردست (اور سب کچھ) جاننے والا ہے۔

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) تم اللہ ہی پر بھروسہ رکھو۔ یقینا تم صریح حق پر ہو۔

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

تم مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں ہی کو (اپنی) پکار سنا سکتے ہو جب کہ وہ (تمہیں دیکھتے ہی) پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں۔

[26] یعنی مشرکین مکہ اور اہل ایمان کے درمیان۔