28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 28:79–80

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر (ایک دن) وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پورے ٹھاٹھ سے نکلا (تو) جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے (اس کو دیکھ کر) کہنے لگے کہ جو کچھ قارون کو ملا ہے کاش ہمارے پاس بھی ہوتا۔ بلاشبہ یہ بڑا نصیبے والا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو (دین کا) فہم عطا ہوا تھا (وہ ان لوگوں سے) کہنے لگے، '' افسوس تمہارے حال پر ! اللہ کے ہاں ثواب کہیں بہتر ہے اس شخص کے لئے جو ایمان لائے اور نیک عمل (بھی) کرے اور یہ (دولت) نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو ''۔

[49] اللہ کے ہاں کا ثواب سے مراد ہے رزق کریم جو حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے محنت و کوشش کے نتیجے میں انسان کو دیا جاتا ہے اور آخرت میں نصیب ہوتا ہے۔ [50] یعنی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق وہی ہوتا ہے جو اپنے نفس کو دنیوی حرص و طمع سے روکے رکھے اور جس میں اتنا تحمل اور اتنی ثابت قدمی موجود ہو کہ روزی حاصل کرنے کے لئے حلال طریقے ہی اختیار کرنے پر جما رہے خواہ اسے کبھی روٹی میسر نہ ہو یا لکھ پتی بن جانا نصیب ہوجائے۔
Ayahs 28:81–82

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

آخرکار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو کوئی جماعت نہ تھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود ہی بدلہ لے سکا۔

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور جو لوگ کل (شام) اس کی جگہ (ہونے) کی تمنا کر رہے تھے وہ (آج) صبح کہنے لگے، '' افسوس، (ہم بھول گئے تھے کہ) اللہ اپنے بندوں میں سے جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی چاہتا ہے) نپی تلی کردیتا ہے۔ اگر اللہ ہم پر (اپنا) کرم نہ کرتا تو (قارون کی طرح) ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ افسوس، (ہمیں یاد نہ رہا کہ) کافر (کبھی) فلاح نہیں پایا کرتے ''۔

[51] یعنی کسی شخص کی دنیوی ترقی و عروج دیکھ کر یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اللہ کا مقبول بندہ ہے اور اللہ اسے انعام دے رہا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا رزق تنگ ہے تو ضروری نہیں کہ اللہ اس سے ناراض ہے اور اسے سزا دے رہا ہے۔ رزق کی کشادگی و تنگی جو کچھ بھی ہوتی ہے وہ اللہ کی مشیت کی بناء پر ہوتی ہے اور اس مشیت میں اللہ کی کچھ دوسری مصلحتیں بھی کارفرما ہوتی ہیں۔ [52] یہاں قارون کا قصہ بھی مشرکین کے اسی عذر کے جواب میں بیان کیا گیا ہے جو آیت 57 میں مذکور ہے اور جس پر اب تک مسلسل گفتگو ہو رہی تھی۔ اس قصے سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ قارون کی ہلاکت اس کی سرکشی اور اللہ سے بغاوت کی وجہ سے ہوئی۔ اگر وہ سچا مومن اور اللہ کا شکرگزار بندہ ہوتا تو اس کا وہ حشر نہ ہوتا۔ لہذا مشرکین مکہ کا یہ سمجھنا کہ ایمان لانے والے تباہ و برباد ہوجائیں گے بالکل غلط ہے ان کی تباہی و بربادی ایمان لانے سے نہیں بلکہ انکاروسرکشی کی وجہ سے ہوگی جس طرح قارون کی ہوئی۔
Ayah 28:83

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

یہ آخرت کا گھر تو ہم نے انہی لوگوں کے لئے مخصوص کر رکھا ہے جو دنیا میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا اور انجام (نیک تو) متقیوں ہی کے لئے ہے۔

[53] یعنی جنت جو حقیقی فلاح کا مقام ہے۔
Ayahs 28:84–85

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو شخص (قیامت کے دن) نیکی لے کر حاضر ہوگا اس کو اس سے بہتر (بدلہ ملے گا) اور جو بدی لے کر حاضر ہوگا تو جن لوگوں نے برے عمل کئے ہیں ان کو بس ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسا کہ وہ (دُنیا میں) کرتے رہے تھے۔

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر) جس ( اللہ) نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے۔ وہ ضرور تم کو پھیر لے جائے گا پہلی جگہ (جہاں تم پھرنا چاہتے ہو) ۔ (ان لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے رب کو خوب معلوم ہے کہ کون (ان کی طرف سے) ہدایت لے کر آیا ہے اور کون صریح گمراہی میں (پڑا) ہے

[54] یعنی اس کی تلاوت، تبلیغ اور اس کے احکام پر عمل تم پر لازم کیا۔ [55] یہ آپ ﷺ کی تسلی کے لئے اس وقت ارشاد ہوا جب ہجرت کے بعد مفارقت وطن کی وجہ سے آپ کو طبعی صدمہ ہو رہا تھا۔
Ayahs 28:86–88

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم کو (ہرگز) توقع نہ تھی کہ (اللہ کی طرف سے) تم پر کتاب نازل کی جائے گی۔ یہ تو محض تمہارے رب کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے) پس تم (بےلاگ لپیٹ اسے سناؤ اور) ہرگز کافروں کے مددگار نہ بنو۔

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور (دیکھو، ایسا نہ ہونے پائے کہ) جب احکام الٰہی تم پر نازل ہو چکیں تو اس کے بعد یہ لوگ تمہیں ان (کی تعمیل) سے روکیں (اور تم رک جاؤ بلکہ صبر و استقلال کے ساتھ اپنا فرض رسالت ادا کئے جاؤ) اور اپنے رب کی طرف (لوگوں کو) بلائے چلے جاؤ اور مشرکوں میں (ہرگز) شامل نہ ہو

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور نہ (کبھی) اللہ کے ساتھ کسی معبود کو پکارو (کیونکہ) اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے۔ حکومت اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم (سب) کو لوٹ کر جانا ہے۔

[56] ان آیتوں میں اگرچہ خطاب نبی اکرم ﷺ سے ہے لیکن سنانا دوسروں کو مقصود ہے۔