28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 28:39–42

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) فرعون اور اس کے لشکروں نے ملک میں ناحق گھمنڈ کیا تھا اور یہ سمجھ رکھا تھا کہ انھیں ہمارے پاس لوٹ کر آنا نہیں ہے۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

پس ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو دھر پکڑا (اور) پھر سمندر میں پھینک مارا۔ تو (اے پیغمبر، ) دیکھ لو، ان ظالموں کا کیسا (برا) انجام ہوا۔

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

ہم نے انھیں پیشوا بنایا، (مگر ایسے برے پیشوا) کہ وہ (جب تک دنیا میں رہے لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے رہے اور قیامت کے دن ان کو (کہیں سے بھی) مدد نہ ملے گی۔

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے دن بھی وہ بدحال لوگوں میں سے ہوں گے۔

[20] لعنت پیچھے لگا دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو کوئی ظالموں اور کافروں پر لعنت کرتا ہے چونکہ یہ لوگ بھی ایسے ہی تھے اس لئے ان پر بھی لعنت پڑتی ہے۔
Ayahs 28:43–46

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) عطا کی تھی (جو) لوگوں (کے دلوں) کی آنکھیں کھولنے والی اور (ان کے لئے) ہدایت و رحمت (تھی) تاکہ وہ اس سے نصیحت پکڑیں۔

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم (کوہ طور کے) مغربی جانب (موجود) نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو (رسالت کے) احکام دئیے تھے اور نہ تم (اس واقعہ کے) چشم دید دیکھنے والوں میں تھے

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

بلکہ (اس کے بعد) ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں، پھر ان پر زمانہ دراز گزر گیا۔ اور نہ تم اہل مدین کے درمیان (موجود) تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہوتے (اور یوں تم کو اس وقت کے حالات معلوم کرنے کا موقع ملا ہوتا) ، مگر (اس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں۔

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہ تم طور کی (کسی) طرف (موجود) تھے جب ہم نے (موسیٰ کو پہلی مرتبہ) پکارا تھا (کہ تم نے وہ واقعات چشم دید دیکھے ہوں) بلکہ (یہ) تمہارے رب کی رحمت ہے (کہ یہ معلومات تمہیں دی جا رہی ہیں) کہ تم ان لوگوں کو (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

[21] اور یہ آپ کے پیغمبر ہونے کی دلیل ہے کیونکہ یہ واقعات آپ کے مشاہدے میں نہیں آئے۔ پھر آپ جو انھیں اتنا صاف و صحیح بتا رہے ہیں تو ان کے جاننے کا ذریعہ بجزوحی کے اور کیا ہے ؟ اگر کوئی اور ذریعہ ہوتا تو کفار مکہ جو آپ کو جھوٹا نبی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں ضرور اس کی نشاندہی کرتے۔ [22] مراد مشرکین عرب ہیں جن کے پاس پشتہا پشت سے کوئی نبی نہیں آیا تھا گرچہ توحید کی تعلیم ان کو بالواسطہ پہنچ چکی تھی۔
Ayahs 28:47–48

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور ( ہم نے پیغمبر اس لئے بھیجا کہ) اگر کہیں ان کے اپنے ہی کرتوتوں کی پاداش میں ان پر کوئی مصیبت آپڑے تو (اس وقت) کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب، تو نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا ؟ (اگر پیغمبر بھیجتا) تو ہم تیرے احکام کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں سے ہوتے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب ہماری طرف سے (امر) حق ان کے پاس پہنچا تو کہنے لگے کہ اس (پیغمبر) کو وہی کچھ کیوں نہ ملا جو موسیٰ کو ملا ؟ کیا جو پہلے موسیٰ کو ملا تھا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ دونوں جادو ہیں ایک دوسرے کے مددگار۔ اور کہا کہ ہم کسی کو بھی نہیں مانتے۔

[23] مشرکین کہتے تھے کہ اس رسول کے پاس نہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح عصا اور یدبیضا کے معجزے ہیں اور نہ اللہ کی طرف سے تختیوں پر لکھے ہوئے احکام۔ [24] یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان معجزوں کے باوجود تم موسیٰ (علیہ السلام) ہی پر کب ایمان لائے تھے جو اب محمد ﷺ سے ان کا مطالبہ کر رہے ہو۔ تم خود کہتے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ معجزے دئیے گئے تھے تو پھر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان کیوں نہیں لائے ؟ [25] یعنی قرآن اور تورات۔
Ayahs 28:49–52

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ (اگر قرآن اور تورات دونوں کتابیں جھوٹی ہیں اور) تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو اللہ کی طرف سے کوئی (اور) کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو، میں اسی کی پیروی (اختیار) کروں گا۔

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ تمہارا (یہ) کہنا نہ کرسکیں تو جان لو کہ یہ دراصل اپنی (نفسانی) خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر محض اپنی (نفسانی) خواہش کی پیروی کرے۔ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں دیا کرتا۔

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم ان کو (اپنا) کلام پے در پے بھیجتے رہے ہیں تاکہ یہ نصیحت پکڑیں۔

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے اس (قرآن) سے پہلے کتاب دی تھی (ان میں جو سمجھ دار اور حق پسند ہیں) وہ تو اس (قرآن) پر ایمان لے آتے ہیں۔

[26] ملاحظہ ہو سورة نساء آیت 162 صفحہ 218۔
Ayah 28:53

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب ان کو یہ (قرآن) سنایا جاتا ہے تو بول اٹھتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ واقعی یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے (اور) بیشک ہم اس (کے اترنے) سے پہلے بھی (اس کو) مانتے تھے۔

[27] اپنی کتابوں کی بشارتوں کی بناء پر۔
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کو ان کی ثابت قدمی کی وجہ سے دوہرا اجر دیا جائے گا۔ اور وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے رہتے ہیں۔

[28] ایک اجر کتب سابقہ پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر قرآن پر ایمان لانے کا۔ [29] یعنی کبھی ان سے برا کام ہوجائے تو اس کا تدارک بھلائی سے کردیتے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ کوئی دوسرا شخص ان کے ساتھ برائی سے پیش آئے تو یہ اس کے جواب میں شرافت سے کام لے کر بھلائی اور احسان کرتے ہیں۔
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اسے ٹال جاتے ہیں اور (ایسے لوگوں سے) کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے۔

[30] یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ کچھ عیسائی حبشہ سے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی خبر سن کر مکہ آئے کہ آپ ﷺ کے بارے میں تحقیق کریں۔ آپ ﷺ سے بات چیت کی۔ آپ ﷺ نے قرآن پڑھ کر سنایا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور بڑے زور سے آپ ﷺ کی تصدیق کی۔ جب مشرف بہ ایمان ہو کر واپس جانے لگے تو ابو جہل اور دوسرے مشرکین نے ان پر آوازے کسے اور گالیاں دیں۔
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہی ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔

[31] صحیحین کی روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کے واسطے بہت سعی کی کہ مرتے وقت کلمہ پڑھ لے مگر اس نے انکار ہی کیا اور ملت عبدالمطلب پر ہی جان دینے کو ترجیح دی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [32] یعنی وہ نعمت ہدایت سے انہی لوگوں کو فیض یاب کرتا ہے جن میں وہ قبول ہدایت کی آمادگی پاتا ہے۔
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، یہ لوگ تم سے) کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہو کر اس ہدایت کی پیروی (اختیار) کریں تو ہم اس سرزمین سے اچک لئے جائیں گے۔ (ان سے پوچھو کہ) کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم (مکہ) میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر ؟ لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس نعمت کی قدر) نہیں جانتے۔

[33] مشرکین مکہ رسول اکرم ﷺ سے کہتے تھے کہ اگر دین اسلام قبول کر کے آپ کے ساتھ ہوجائیں تو سارا عرب ہمارا دشمن ہوجائے گا اور اردگرد کے قبائل ہم پر چڑھ دوڑیں گے اور ہماری تکابوٹی کردیں گے۔ اس کا جواب آگے آ رہا ہے۔ [34] یعنی سخت بدامنی کے ماحول میں عرب کا صرف یہی ایک گوشہ ہے جہاں کے رہنے والے قتل و غارت سے امن میں ہیں اور تمام عرب کے لوگ اس کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہر سال ہزارہا انسان اس کے طواف کے لئے آتے ہیں۔ اسی حرم کی وجہ سے تم عرب کے سردار بنے ہوئے ہو اور یہاں کی تجارت کا بڑا حصہ تمہارے قبضے میں ہے۔ تو کیا جس اللہ نے تمہارے شرک و کفر کے باوجود تمہیں پناہ دی ہے کیا وہ ایمان وتقویٰ اختیار کرنے پر پناہ نہ دے گا ؟
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم کتنی ہی بستیاں ہلاک کرچکے ہیں جو اپنی معیشت پر نازاں تھیں۔ تو (دیکھ لو) یہ ان لوگوں ہی کے گھر ہیں جو ان کے (ہلاک ہونے کے) بعد آباد (ہی) نہیں ہوئے مگر شاذونادر، اور (آخرکار ان کے مال و متاع کے) ہم ہی وارث ہوئے۔

[35] یعنی عرب کی دشمنی سے کیا ڈرتے ہو اللہ کے عذاب سے ڈرو۔ دیکھتے نہیں کہ کتنی قومیں گزر چکی ہیں جنہیں اپنی خوش حالی پر بڑا ناز تھا۔ پھر جب انہوں نے تکبر اور سرکشی کی روش اختیار کی تو اللہ نے انھیں کس طرح ہلاک کر ڈالا کہ آج صفحہ ہستی پر ان کا نام و نشان نہ رہا سوائے ان کی بستیوں کے کھنڈروں کے جن میں کوئی بسنے والا نہیں۔
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تمہارا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کے صدرمقام میں کسی پیغمبر کو بھیج نہ لے جو انھیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے۔ اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے نافرمانی کرنے لگیں۔

[36] یعنی اللہ تعالیٰ کی شان انصاف سے بعید ہے کہ اتمام حجت کے بغیر کسی بستی کو ہلاک کرے اور پیغمبر کا مبعوث ہونا ہی اتمام حجت ہے۔ اس لئے مشرکین مکہ سے کہا جا رہا ہے کہ تمہارے پاس ہمارا پیغمبر آگیا ہے۔ اب اگر تم نے اس کی ہدایت کی پیروی نہ کی اور کفر و انکار کی روش پر قائم رہے تو تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو پچھلی قوموں کا ہوا اور جس تباہی کا تمہیں اندیشہ ہے وہ ایمان لانے سے نہیں بلکہ انکار کرنے سے تم پر آئے گی۔
Ayahs 28:60–61

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض (چند روزہ) دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ (اس سے) کہیں بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ کیا تم لوگ (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے ؟

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے (جنت کا) پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے اور (آخرت میں) اسے پالینے والا ہے اس جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا (چند روزہ) فائدہ دے رکھا ہو اور پھر وہ ان لوگوں میں ہو جو قیامت کے دن (سزا کے لئے ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے ؟

[37] یہاں مشرکین مکہ سے کہا جا رہا ہے کہ دنیا کے فائدے چند روزہ ہیں اور وہ زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس اللہ کے پاس جو نعمتیں ہیں وہ دنیوی نعمتوں سے بہتر بھی ہیں اور ابدی بھی۔ اس لئے محض چند روزہ دنیوی نعمتوں کی خاطر تم انکار کی روش پر قائم رہے تو آخرت میں تمہیں اس کا نتیجہ دائمی خسارے کی شکل میں بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 28:62–63

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان (لوگوں) کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے (وہ) شریک جن کو تم (میرا شریک) سمجھتے تھے ؟

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

یہ قول جن پر چسپاں ہوگا وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، (بےشک) یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکایا تھا۔ ہم نے انھیں اسی طرح بہکایا جس طرح ہم خود بہکے ہوئے تھے۔ (آج) تیرے حضور ہم (ان سے) بیزاری (کا اظہار) کرتے ہیں۔ یہ ہماری بندگی تو نہیں کرتے تھے۔

[38] مراد ان سے وہ شیاطین جن و انس ہیں جن کو دنیا میں اللہ کا شریک بنایا گیا تھا اور جن کے مقابلے میں اللہ اور رسول کی باتوں کو رد کیا گیا تھا۔ ان کو خواہ کسی نے اِلٰہ کہا ہو یا نہ کہا ہو بہرحال جب ان کی اطاعت اس طرح کی گئی جس طرح اللہ کی ہونی چاہئے۔ تو لازماً انھیں شریک کیا گیا۔ [39] سوال تو مشرکین سے ہے مگر بہکانے والے شرکاء سمجھ جائیں گے کہ فی الحقیقت ہمیں بھی ڈانٹ پلائی گئی ہے اس لئے سبقت کر کے جواب دیں گے کہ اے اللہ ! بیشک ہم نے انھیں بہکایا، اس کا ہمیں اعتراف ہے لیکن ان مشرکین پر کوئی جبر واکراہ نہ تھا کہ زبردستی اپنی بات منوا لیتے۔ فی الحقیقت ان کی ہوا پرستی تھی جو ہمارے بہکانے میں آگئے۔ اس اعتبار سے یہ ہمارے نہیں اپنے نفس و خواہش کے اشاروں پر چل رہے تھے۔ ہم ان کی عبادت سے آج تیرے سامنے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔
Ayahs 28:64–68

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

(پھر مشرکین سے) کہا جائے گا کہ پکارو (مدد کے لئے) اپنے ان (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کو۔ چناچہ وہ انھیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اور (مشرکین اپنی آنکھوں سے) عذاب کو دیکھ لیں گے۔ کاش یہ لوگ (دنیا میں) راہ راست پر ہوتے (تو اس روز بد کو نہ پہنچتے) ۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان کو پکارے گا پھر پوچھے گا کہ پیغمبروں (نے تمہیں سمجھایا تھا تو ان) کو تم نے کیا جواب دیا تھا ؟

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

اس دن ان کو کوئی عذر نہ سوجھے گا اور نہ یہ آپس میں پوچھ گچھ ہی کرسکیں گے۔

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

البتہ جس نے (دنیا میں) توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل (بھی) کئے تو توقع (کی جاسکتی) ہے کہ وہ (آخرت میں) فلاح پانے والوں میں ہوگا۔

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تمہارا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (اپنے کام کے لئے جسے چاہتا ہے) منتخب کرلیتا ہے۔ یہ انتخاب لوگوں کے اختیار میں نہیں۔ پاک اور بلندو برتر ہے اللہ (کی ذات) اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

[40] کفار مکہ نبی ﷺ پر ایک اعتراض یہ بھی کرتے تھے کہ دولت اور جتھے کے اعتبار سے دوسرے لوگ رسالت کے زیادہ اہل ہیں۔ یہ اس کا جواب ہے کہ اللہ نے انتخاب اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور اس معاملے میں دخل دینا ایک طرح کا شرک ہے۔
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تمہارا رب خوب جانتا ہے جو کچھ یہ لوگ اپنے دلوں میں چھپائے رکھتے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔

[41] یعنی دل میں جو فاسد عقیدے یا بری نیتیں رکھتے ہیں اور زبان، ہاتھ، پاؤں وغیرہ سے جو کام کرتے ہیں سب اللہ کے علم میں ہیں اور وہ اسی کے موافق ان کا معاملہ کرے گا۔
Ayahs 28:70–73

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی (اور) معبود نہیں۔ ساری تعریف اسی کے لئے ہے دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) اور حکومت (بھی) اسی کی ہے اور اسی کے پاس تم (سب) لوٹ کر جاؤ گے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ کیا تم نے غور کیا کہ اگر اللہ روز قیامت تک ہمیشہ کے لئے تم پر رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے ؟ کیا تم (ایسی معقول بات بھی) نہیں سنتے ؟

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ کبھی تم نے غور کیا کہ اگر اللہ روز قیامت تک ہمیشہ کے لئے تم پر دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں رات لا دے کہ اس میں تم آرام پاؤ ؟ کیا تم لوگ (اللہ کی ایسی صریح نعمت کو بھی) نہیں دیکھتے ؟

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور یہ اسی کی رحمت ہی تو ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنا دئیے تاکہ (رات میں) تم آرام کرو اور (دن کو) اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم (اس کا) شکر کرو۔

[42] یعنی کسب معاش کرو۔ روزی کمانے کے دھندے کو رحمت الٰہی کے تحت لانا صاف اس امر پر دلیل ہے کہ معاشی مشاغل اسلام میں فضیلت کا درجہ رکھتے ہیں۔ حقیرو ذلیل نہیں، معزز و مکرم ہیں۔
Ayahs 28:74–75

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور اس دن اللہ انھیں پکارے گا تو کہے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے ؟

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے پھر ہم (امت کے لوگوں سے) کہیں گے کہ پیش کرو اپنی (برأت کی) دلیل۔ اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ سچی بات اللہ کی تھی اور گم ہوجائیں گے ان سے وہ (سب جھوٹ) جو وہ (دنیا میں) گھڑا کرتے تھے۔

[43] مراد ہیں انبیاء (علیہم السلام) جو اپنی امت کے کفر پر گواہی دیں گے۔ [44] یعنی اللہ کے شریک کس سند اور دلیل سے ٹھہرائے اور حرام و حلال وغیرہ کے احکام کس ماخذ صحیح سے لئے تھے۔ [45] یعنی اس وقت انھیں نظر آجائے گا کہ سچی بات اللہ کی ہے اور معبودیت صرف اسی کا حق ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ دنیا میں جو پیغمبر بتلاتے تھے وہی ٹھیک تھا اور جو عقیدے انہوں نے گھڑ رکھے تھے سب کافور ہوجائیں گے۔
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

یہ واقعہ ہے کہ قارون موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) میں سے تھا۔ پھر وہ ان کے خلاف سرکش ہوگیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ اس کی کنجیاں طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت پر بھاری تھیں (اور وہ انھیں مشکل سے اٹھا سکتے تھے) ۔ (ایک دفعہ) جب اس کی قوم (کے لوگوں) نے اس سے کہا، '' اترا مت، اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

[46] قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور فرعون کی پیشی میں رہتا تھا۔ جیسا کہ ظالم حکومتوں کا دستور ہے کہ کسی قوم کا خون چوسنے کے لئے اس میں سے بعض کو اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں فرعون نے بنی اسرائیل میں سے اس ملعون کو چن لیا تھا۔ قارون نے موقع سے فائدہ اٹھا کر خوب دولت سمیٹی اور دنیوی اقتدار حاصل کیا۔ جب فرعون غرق ہوا اور بنی اسرائیل نے اس کی غلامی سے نجات حاصل کی تو قارون کی مالی ترقی کے ذرائع مسدود ہوگئے اور سرداری جاتی رہی۔ اسی حسد و غیظ میں موسیٰ (علیہ السلام) سے دل میں خلش رکھنے لگا تاہم ظاہر میں مومن بنا ہوا تھا۔ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ایک سازش کی۔ آخرکار موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا سے وہ مع اپنے گھر اور خزانوں کے زمین میں دھنسا دیا گیا۔
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور یہ جو مال اللہ نے تجھے دے رکھا ہے اس سے آخرت کا گھر (بنانے) کی فکر کر اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ اور جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی (اوروں کے ساتھ) احسان کر اور ملک میں فساد (برپا کرنے) کا خواہاں نہ ہو، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا ''

[47] یعنی یہ کوئی نہیں کہتا کہ تو ساری کی ساری دولت اللہ کی راہ میں خرچ کر دے۔ فراغت سے کھا پی، عیش کر لیکن حدود کے اندر رہ کر اور زیادہ مال سے آخرت کما۔
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

(قارون) بولا، '' یہ (مال و دولت) تو مجھے میری ذاتی ہنرمندی سے ملی ہے ''۔ کیا اسے یہ علم نہ تھا کہ اس سے پہلے اللہ پچھلی امتوں کو ہلاک کرچکا ہے جو اس سے کہیں زیادہ بل بوتا رکھتے تھے اور (ان کے پاس) جمع پونجی بھی (اس سے) زیادہ تھی ؟ اور مجرموں سے تو ان کے گناہ کی بابت پوچھا نہیں جاتا۔

[48] یعنی ان سے دریافت کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ ان کے گناہ تو اللہ کو معلوم ہی رہتے ہیں۔ ہاں ان کی رسوائی کے لئے اور مزید حجت قائم کرنے کی غرض سے سوالات کئے جائیں تو اور بات ہے۔