29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 29:39–41

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور (ہم نے) قارون و فرعون و ہامان کو (بھی ہلاک کیا) اور (باوجودیکہ) موسیٰ ان کے پاس کھلی نشانیاں (بھی) لے کر آیا تھا مگر انہوں نے ملک میں بڑائی کا گھمنڈ کیا حالانکہ وہ (ہم سے بھاگ کر) نکل جانے والے نہ تھے۔

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

آخرکار ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ (کی پاداش) میں پکڑ لیا۔ پھر ان میں سے کسی پر تو ہم نے پتھراؤ کرنے والی آندھی بھیجی، کسی کو چنگھاڑ نے آلیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو غرق کردیا۔ اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور کارساز بنا رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ (بھی اپنا ایک) گھر بناتی ہے۔ اور بلاشبہ مکڑی کا گھر سب گھروں سے زیادہ بودا ہوتا ہے۔ کاش انھیں (اس حقیقت کا) علم ہوتا۔

[14] یعنی گھر اس واسطے ہے کہ جان و مال کا بچاؤ ہو نہ کہ مکڑی کا جالا کہ دامن کے جھٹکے سے ٹوٹ پڑے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا بچانے والا اور محافظ سمجھے۔
Ayahs 29:42–44

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

(یہ لوگ) اللہ کے سوا جن (ہستیوں) کو بھی پکارتے ہیں بیشک اللہ ان سب (کی حقیقت) سے بخوبی واقف ہے اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور انھیں بس علم والے ہی سمجھتے ہیں۔

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے آسمان اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ درحقیقت ایمان والوں کے لئے اس میں (توحید کی صداقت پر بڑی) دلیل ہے۔

[15] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے پیغمبر، یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت کرتے رہو اور نماز قائم کرو۔ بلاشبہ نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ (بھی) تم کرتے ہو۔

[16] خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر دراصل مخاطب تمام اہل ایمان ہیں جو کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ سابقہ آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ تم سے پہلے بھی اہل ایمان کو آزمائشوں میں ڈالا گیا تھا اور وہ بھی اسی طرح مخالفین کے ظلم وستم و استہزا کا نشانہ بنے تھے جس طرح آج تم بنے ہوئے ہو۔ اب یہاں انھیں کفار کے ظلم و ستم کا مقابلہ کرنے کی عملی تدبیر یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں کیونکہ انہی دو چیزوں سے مومن میں وہ زبردست صلاحیت پیدا ہوتی ہے جس سے وہ باطل کا کامیابی سے مقابلہ کر سکتا ہے۔ لیکن مومن کو تلاوت قرآن اور نماز سے یہ صلاحیت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب کہ وہ قرآن کے محض الفاظ پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کی تعلیمات کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر اپنی روح میں جذب کرتا چلا جائے۔ [17] اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ نماز کا خاصہ طبعی یہی ہے کہ وہ عظمت الٰہی کی باربار یاد کرا کے ہر گناہ و معصیت سے روک دیتی ہے بشرطیکہ وہ تمام ظاہری اور باطنی آداب و شرائط کے ساتھ ادا کی جائے۔ اب اگر نماز کے آداب و شرائط ہی پوری طرح نہ ادا کئے جائیں تو اس نسبت سے نماز ناقص رہے گی اور پھر اسی مناسبت سے اس کی یہ طبعی خاصیت بھی ضعیف و مضمحل رہے گی یہاں تک کہ جو نماز بالکل سطحی اور اوپری ہوگی اور روح نماز سے بالکل خالی، اس میں برائیوں کے روک تھام والی قوت بھی گویا معدوم ہوگی۔ لہذا جو شخص نماز پڑھنے کے باوجود گناہوں سے نہ بچا تو سمجھ لو کہ اس کی نماز ہی میں قصور ہے۔ چناچہ نبی ﷺ نے فرمایا، '' جس شخص کو نماز نے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کی نماز نماز نہیں ہے۔ '' دوسرا مطلب یہ ہے کہ نماز کا برائیوں سے روکنا بطور اقتضاء ہو یعنی نماز کی ہر ہیئت اور اس کا ہر ذکر مقتضی ہے کہ جو انسان ابھی ابھی بارگارہ الٰہی میں اپنی بندگی اور فرمانبرداری کا اظہار و اقرار کر کے آیا ہے مسجد سے باہر آکر بھی بدعہدی اور شرارت نہ کرے۔ گویا نماز ہر مصلی کو حکم دیتی ہے کہ اوبندگی اور غلامی کا دعویٰ کرنے والے واقعی بندوں اور غلاموں کیطرح رہ، اور بزبان حال مطالبہ کرتی ہے کہ شرارت اور سرکشی سے باز آ۔ اب کوئی باز آئے یا نہ آئے مگر نماز بلاشبہ اس سے روکتی اور منع کرتی ہے۔ [18] یعنی نماز اللہ کے یاد کرنے کی بہترین صورت ہے اور اصلی فضیلت اسی کو ہے۔
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

(مسلمانو، ) اہل کتاب سے بحث و مباحثہ نہ کرو مگر اس طرح پر جو نہایت عمدہ (اور شائستہ) ہو۔ ہاں جو لوگ ان میں سے زیادتی کریں (تو ان کو ترکی بہ ترکی جواب دینے میں مضائقہ نہیں۔ ) اور (ان لوگوں سے) کہو کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اس (کتاب) پر بھی جو ہم پر نازل ہوئی اور ان (کتابوں) پر بھی جو تم پر نازل ہوئیں اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود تو ایک ہی ہے اور ہم تو اس کے فرماں بردار ہیں۔

[19] مسلمانوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ تبلیغ کے سلسلے میں مباحثہ و مناظرہ کے مواقع بھی آئیں گے تو جو مخالفین زیادتی اور بدزبانی پر اتر آئیں انھیں حسب مصلحت ان کے رنگ میں جواب دیا جاسکتا ہے۔ اسلام اپنے پیروؤں کو شائستگی، شرافت اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے مگر ظلم کے مقابلے میں عاجزی اور مسکینی نہیں سکھاتا کہ وہ ہر ظالم کے لئے نرم چارہ بن کر رہیں۔
Ayahs 29:47–49

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، جس طرح ہم نے اگلے پیغمبروں پر کتابیں اتاریں تھیں) اسی طرح (اب) ہم نے تم پر (یہ) کتاب نازل کی ہے، تو جن کو ہم نے (تم سے پہلے) کتاب دی ہے (ان میں جو حق پسند ہیں) وہ (تو بےتامل) اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ان (مشرکین عرب) میں سے بھی (بعض) ایسے (سمجھ دار) ہیں جو اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں سے بجز (ضدی) کافروں کے اور کوئی انکار نہیں کرتا۔

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اس (قرآن) سے پہلے نہ تو تم کوئی کتاب پڑھتے (پڑھاتے) تھے اور نہ تم کو اپنے ہاتھ سے لکھنا ہی آتا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو اہل باطل شک میں پڑ سکتے تھے۔

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

مگر جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے ان کے ذہن میں وہ (خود ہی بہت سی) روشن نشانیاں ہیں اور ہماری آیتوں سے تو بس ظالم لوگ ہی انکار کئے جاتے ہیں۔

[20] یعنی اہل ایمان۔ [21] یعنی نبی ﷺ [22] یعنی اُمّی ہونے کے باوجود تم پر قرآن جیسی کتاب کا نازل ہونا، کیا بجائے خود اتنا بڑا معجزہ نہیں کہ تمہاری رسالت پر یقین لانے کے لئے کافی ہو ؟ اس کے بعد بھی کسی اور معجزے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟
Ayahs 29:50–51

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور یہ لوگ (تمہاری نسبت) کہتے ہیں کہ اس (شخص) پر اس کے رب کی طرف سے معجزے کیوں نہ اترے ؟ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ معجزے تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور میں تو (انکار و بدعملی کے نتائج سے) صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں (اور بس) ۔

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا ان لوگوں کے لئے (یہ معجزہ) کافی نہیں کہ ہم نے تم پر قرآن اتارا جو ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے ؟ بلاشبہ اس میں (اللہ کی بڑی) رحمت ہے اور ان لوگوں کے لئے نصیحت جو ایمان لاتے ہیں۔

[23] یعنی نبی ﷺ کی ذات جامع کمالات ہے اور ایک نشانی نہیں بلکہ بہت سی روشن نشانیوں کا مجموعہ ہے۔ ایک جاہل شخص کو آپ کی ذات والا صفات میں کوئی نشانی نظر نہ آتی ہو تو نہ آئے مگر اہل ایمان ان نشانیوں کو دیکھ کر اپنے دل میں قائل ہوگئے ہیں کہ یہ شان ایک پیغمبر ہی کی ہوسکتی ہے۔
Ayah 29:52

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کافی ہے بطور گواہ کے، وہ آسمانوں اور زمین کی (سب) چیزوں کو جانتا ہے۔ اور جو لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کے منکر ہیں وہی (قیامت کے دن بڑے) خسارے میں رہیں گے۔

[24] اور اگر میرے دل میں ذرہ بھر بھی کھوٹ ہوگا تو وہ اس سے چھپ نہیں سکتا۔ ایک سچے انسان کے پاس اس سے بڑا واسطہ اور ہے ہی کیا کہ وہ اللہ کو درمیان میں ڈال کر کسی بات کا اقرار کرے۔
Ayahs 29:53–54

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں اور اگر (عذاب کا) ایک وقت مقررہ نہ ہوتا تو ان پر (کبھی کا) عذاب آچکا ہوتا اور وہ یقینا (اپنے وقت پر) اچانک ان پر آجائے گا اور انھیں خبر بھی نہ ہوگی۔

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

(یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

[25] یعنی یہ نہیں کہ جہنم کہیں آگے چل کر انھیں گھیرے گی بلکہ اس وقت ہی گھیرے ہوئے ہے۔ یہ کفر اور برے کام جہنم نہیں تو اور کیا ہیں۔ موت کے بعد حقیقت کھل جائے گی جب یہی اعمال آگ اور سانپ بچھو بن کر لپٹیں گے۔
Ayahs 29:55–56

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

(انہیں پتہ چلے گا) اس دن جب کہ عذاب ان پر چھا جائے گا ان کے اوپر سے بھی اور ان کے پیروں کے نیچے سے بھی اور (اللہ ان سے) فرمائے گا کہ (اب مزہ) چکھو اس کا جو کچھ تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو۔

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے ہمارے بندو جو ایمان لائے ہو، ہماری زمین وسیع ہے، پس (جہاں رہ کر تم سے بن پڑے) ہماری ہی عبادت کرو۔

[26] یہ اشارہ ہے ہجرت کی طرف۔ یعنی اگر یہ مکہ کے کافر تنگ کرتے ہیں تو اللہ کی زمین تنگ نہیں۔ دوسری جگہ ہجرت کر جاؤ جہاں تم اللہ کے بندے بن کر رہ سکو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل چیز قوم، ملک اور وطن نہیں بلکہ اللہ کی بندگی ہے۔ یہ آیت اس باب میں صریح ہے کہ ایک توحید پرست انسان محب وطن تو ہوسکتا ہے مگر وطن پرست نہیں ہوسکتا۔ وہ اللہ کی بندگی پر دنیا کی ہر چیز کو قربان کر دے گا مگر اللہ کی بندگی کو کسی چیز پر قربان نہیں کرے گا۔
Ayahs 29:57–60

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

(لوگو، ) ہر جاندار کو (ایک نہ ایک دن) موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم (سب) ہماری طرف واپس لائے جاؤ گے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ان کو ہم بہشت کے بالاخانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی (اور وہ) ان میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ (کیا ہی) اچھا اجر ہے (نیک) عمل کرنے والوں کا

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے (دنیا میں) صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے رہے !

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی (اپنے اوپر لادے) لادے نہیں پھرتے۔ اللہ ہی ان کو روزی پہنچاتا ہے اور تم لوگوں کو بھی اور وہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

[27] یعنی تمہیں اس کا اندیشہ نہ ہونا چاہئے کہ ہجرت کے بعد معاش کا کیا ذریعہ ہوگا۔ جو اللہ جانوروں کو روزی پہنچاتا ہے کیا اپنے وفادار بندوں کو نہ پہنچائے گا ؟ خوب سمجھ لو کہ رزاق حقیقی وہی ہے جو سب کی باتیں سنتا اور دلوں کے اخلاص کو جانتا ہے۔ لہذا اگر تم اس کی راہ میں وطن چھوڑ کر نکلو گے تو وہ تم کو بھی روزی دے گا جس طرح اپنی بیشمار مخلوقات کو دے رہا ہے۔
Ayahs 29:61–63

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ (بھلا) آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور (کس نے) سورج اور چاند کو کام میں لگایا تو وہ ضرور (یہی) جواب دیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کدھر بہکے جا رہے ہیں ؟

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی چاہتا ہے) نپی تلی کردیتا ہے۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز (کے حال) سے واقف ہے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر (کس نے) اس کے ذریعے سے زمین کو کہ مردہ پڑی تھی زندہ کیا تو وہ ضرور (یہی) جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ (اے پیغمبر، ) تم کہو الحمدللہ، مگر ان میں سے اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔

[28] یعنی اللہ کا شکر ہے کہ تم نے اس کا اعتراف تو کیا اور تمہارا نور فطرت بجھ نہیں گیا۔ اور الحمدللہ سے یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ جب یہ سارے کام اللہ کے ہیں تو پھر حمد کا مستحق بھی صرف وہی ہے دوسرا کوئی نہیں۔
Ayah 29:64

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) یہ دنیا کی زندگی تو بس (جی کا) بہلاوا اور کھیل تماشہ ہے اور اصل زندگی تو دار آخرت (کی زندگی) ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے۔

[29] یعنی آدمی کو چاہیے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی سے زیادہ آخرت کی فکر کرے کہ اصلی دائمی زندگی وہی ہے۔ دنیا کے کھیل تماشے میں غرق ہو کر آخرت کو نہ بھول بیٹھے بلکہ یہاں رہ کر وہاں کی تیاری اور سفرآخرت کے لئے توشہ درست کرے۔
Ayahs 29:65–67

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اللہ پر اعتقاد رکھ کر اس کو پکارتے ہیں۔ پھر جب وہ انھیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یہ فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو نعمت ہم نے ان کو عطا کی ہے اس کی ناشکری کریں اور (چند روز دنیوی زندگی کے) مزے لوٹیں۔ (اچھا، ) عنقریب (اپنی ناشکری کا انجام) انھیں معلوم ہوجائے گا۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کی کہ ہم نے (ان کے شہر مکہ کو) پُرامن حرم بنا رکھا ہے۔ حالانکہ ان کے گردوپیش لوگ اچک لئے جاتے ہیں ؟ کیا پھر بھی یہ باطل پر ایمان رکھیں گے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے رہیں گے ؟

[30] مکہ کے لوگ اللہ کے گھر کے طفیل دشمنوں سے پناہ میں تھے حالانکہ سارے عرب میں فساد اور کشت و خون کا بازار گرم تھا۔ کیا کسی دیوی یا دیوتا کو یہ قدرت تھی کہ عرب کے انتہائی بدامنی کے ماحول میں مکہ کے لوگوں کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھتا ؟ یہ لوگ بتوں کے جھوٹے احسان مانتے ہیں اور اللہ کا سچا احسان نہیں مانتے۔
Ayahs 29:68–69

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا سچی بات کو جھٹلائے جب وہ اس کے پاس پہنچے ؟ کیا (ایسے) منکروں کا ٹھکانہ جہنم نہ ہوگا ؟

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم ضرور انھیں اپنے راستے دکھائیں گے، اور بلاشبہ اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔

[31] یعنی جو لوگ اللہ کے دین کی خاطر سختیاں جھیلتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ایک خاص نور بصیرت عطا فرماتا ہے اور اپنے قرب و رضا یا جنت کی راہیں سجھاتا ہے۔ جوں جوں وہ مجاہدات میں ترقی کرتے ہیں اسی قدر ان کی معرفت و انکشاف کا درجہ بلند ہوتا چلا جاتا ہے اور انھیں وہ باتیں سوجھنے لگتی ہیں جن کا دوسروں کو احساس تک نہیں ہوتا۔