33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 33:40–42

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

(لوگو، ) محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو۔

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی تسبیح ( و تقدیس) کرتے رہو۔

[44] تو زید ؓ کے بھی آپ ﷺ حقیقت میں باپ نہیں کہ ان کی مطلقہ آپ ﷺ کے لئے حلال نہ ہوتی۔ [54] یعنی نبوت آپ ﷺ پر ختم ہوگئی لہذا اللہ کے رسول ہونے کی حیثیت سے آپ ﷺ پر یہ فرض عائد ہوتا تھا کہ جس حلال چیز کو تم لوگوں نے حرام کر رکھا ہے اس کی حِلّت کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں اور کیونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر آنے والا نہیں ہے اس لئے یہ اور بھی ضروری تھا کہ جاہلیت کی رسم کا خاتمہ آپ ﷺ خود ہی کر کے جائیں۔ [64] اس لئے اللہ نے کسی مصلحت ہی سے اپنے رسول ﷺ کو نکاح کا حکم دیا۔ اور اس مصلحت پر اوپر حاشیہ گزر چکا۔
Ayahs 33:43–44

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ وہ تمہیں (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی میں لے جائے۔ اور وہ مومنوں کے لئے رحیم ہے۔

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس دن وہ اس سے ملیں گے ان کا استقبال سلام سے ہوگا (یعنی السلام علیکم) ، اور ان کے لئے اس نے بڑی عزت کا صلہ مہیا کر رکھا ہے۔

[47] بندوں پر اللہ کے درود بھیجنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ان پر اپنی رحمتیں نازل کرتا ہے اور فرشتوں کے درود بھیجنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ان کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں۔
Ayahs 33:45–48

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے پیغمبر، ہم نے تم کو گواہی دینے والا، (ایمان و عمل صالح کے نتائج کی) خوشبخری دینے والا، (انکار و بدعملی کے نتائج سے) ڈرانے والا،

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اللہ کے حکم سے اس کی طرف (لوگوں کو) بلانے والا اور (ہدایت کا) روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور خوشخبری سنا دو ایمان والوں کو (اس بات کی) کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور ہرگز کہا نہ مانو کفار و منافقین کا اور نہ ہی پروا کرو ان کی ایذا رسانی کی اور بھروسہ رکھو اللہ پر اور بس اللہ کار ساز ہے۔

[48] یعنی نبی ﷺ اللہ کی ہستی، اس کی وحدانیت اور اس کے کمال قدرت کے گواہ ہیں۔ آپ ﷺ اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ ملائکہ، نزول وحی، بہشت دوزخ، حیات بعد الموت اور قیامت کا ظہور یہ سب کچھ ایک حقیقت ہے۔ اس طرح اسلامی اخلاق و تہذیب و معاشرت کے اصول اور احکام شریعت کے بھی آپ ﷺ گواہ ہیں۔ یہ گواہی صرف زبانی ہی نہیں بلکہ عملاً اپنی پوری زندگی میں آپ ﷺ نے اس کا مظاہرہ کیا ہے۔ پھر جب قیامت کے دن اللہ کی عدالت قائم ہوگی اس وقت آپ ﷺ گواہی دیں گے کہ جو پیغام دے کر آپ ﷺ کو بھیجا گیا تھا وہ بےکم وکاست آپ ﷺ نے لوگوں تک پہنچا دیا۔ یہ ہے شہادت علی الناس جس کا ذکر سورة بقرہ آیت 143 صفحہ 44 اور سورة نحل آیت 89 صفحہ 618 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت (واجب) نہیں جس کو تم شمار کرنے لگو۔ پس (ایسی صورت میں) انھیں کچھ دے دلا کر خوش اسلوبی سے رخصت کردو۔

[49] پچھلی آیات میں رسول اکرم ﷺ کی چند صفات اور آپ ﷺ کی مخصوص شان کا ذکر تھا اب آگے آپ ﷺ کی ان خصوصیات کا ذکر آ رہا ہے جو نکاح و طلاق کے معاملے میں آپ ﷺ کے ساتھ ایک گونہ خصوصیت رکھتی ہیں۔ اس لئے بطور تمہید کے طلاق کے متعلق ایک عام حکم اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے پیغمبر، ہم نے حلال کردیں تمہارے لئے وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کئے ہیں اور وہ عورتیں بھی جو تمہاری مملوکہ ہیں، جنہیں اللہ نے غنیمت میں تم کو دلوا دی ہیں، اور تمہاری وہ چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد، اور خالہ زاد بہنیں (بھی) جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ مومن عورت (بھی) جو (بلاعوض) اپنے آپ کو نبی کو دے دے بشرطیکہ نبی (بھی) اسے نکاح میں لینا چاہے۔ یہ رعایت خاص تمہارے لئے ہے، دوسرے مومنوں کے لئے نہیں، ہم کو وہ (حدود) معلوم ہیں جو ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ان پر عائد کئے ہیں۔ (تمہارے لئے یہ خاص رعایت) اس لئے (کی گئی ہے) کہ تم پر (کسی طرح کی) تنگی نہ رہے، اور اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[50] تنگی نہ رہے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ آپ ﷺ کی خواہشات نفسانی بہت بڑھی ہوئی تھیں جیسا کہ دشمنان اسلام نے آپ ﷺ کی کثرت ازواج کو اسلام کی مخالفت میں موضوع بحث بنایا ہے۔ اگر آپ ﷺ کی زندگی کو سامنے رکھا جائے تو اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں رہتا۔ آپ ﷺ نے پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں خدیجہ ؓ سے کیا جن کی عمر اس وقت چالیس سال تھی اور وہ دو مرتبہ بیوہ ہوچکی تھیں۔ پھر پورے پچیس سال تک آپ ﷺ انھیں کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے۔ ان کی وفات کے بعد آپ ﷺ نے ایک اور سن رسیدہ خاتون سودہ ؓ سے جو بیوہ تھیں نکاح کیا اور پورے چار سال تک وہی آپ ﷺ کی بیوی رہیں۔ گویا 54, 53 سال کی عمر تک آپ ﷺ کے نکاح میں ایک وقت میں ایک ہی بیوی رہی۔ مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کے ستانے اور آپ پر عیب لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی مگر انہوں نے کبھی آپ ﷺ کی پاک دامنی اور تقویٰ پر نکتہ چینی نہیں کی۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو متعدد ازواج کی جو اجازت دی اس میں مصلحت یہ تھی کہ آپ ﷺ کے پیغمبرانہ مشن میں حرج واقع نہ ہو۔ اس غرض کے لئے ضروری تھا کہ مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی اسلامی تربیت دی جائے، ان میں دینی شعور پیدا کیا جائے اور ان کو خانگی معاشرتی اور نسوانی مسائل سے آگاہ کیا جائے۔ چناچہ آپ ﷺ نے متعدد نکاح کئے اور اپنی ازواج کو براہ راست خود تعلیم و تربیت دی تاکہ وہ عورتوں میں دین سکھانے کا کام کریں، ان کو اسلامی اخلاق و تہذیب کے اصول بتائیں اور ان کو نسوانی مسائل کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر سے آگاہ کریں۔ نیز جن قبائل میں آپ ﷺ نے شادیاں کیں ان شادیوں کی وجہ سے بہت بڑی حد تک ان قبائل کی اسلام دشمنی کا زور ٹوٹ گیا اور آپ ﷺ کے خلاف ان کی سرگرمیاں سرد پڑگئیں کیونکہ اس زمانے کی عرب روایات کے مطابق جس شخص سے قبیلے کی لڑکی بیاہی جاتی تھی وہ صرف لڑکی کے خاندان کا ہی نہیں بلکہ پورے قبیلے کا داماد سمجھا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں آپ ﷺ کے فرائض منصبی میں جاہلانہ رسوم کو توڑنا بھی شامل تھا اور اس کے لئے آپ ﷺ کو زینب ؓ سے نکاح کرنا پڑا۔ [51] چناچہ رحیمیت کی بناء پر احکام میں بڑی سہولتیں ملحوظ رکھتا ہے۔ پھر اگر سہل احکام کی تعمیل میں غفلت ہوجائے تو غفوریت کی بناء پر جب چاہے معاف بھی کردیتا ہے۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

(پھر دوسری رعایت یہ ہے کہ) اپنی بیویوں سے جس کو چاہو (اپنے سے) الگ رکھو اور جس کو چاہو اپنے پاس رکھو اور جن کو تم نے الگ کردیا تھا ان میں سے کسی کو پھر (اپنے پاس) بلوا لو تو (اس میں) تم پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ (اختیار تمہیں) اس لئے (دیا گیا) ہے کہ اس طرح زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو (کچھ بھی) تم ان کو دو گے اس پر وہ سب راضی رہیں گی۔ اور جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے اللہ اس کو جانتا ہے اور اللہ جاننے والا اور بردبار ہے۔

[52] مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر ادائے حقوق زوجیت کے بارے میں وہ متعدد پابندیاں عائد نہیں جو عام مسلمانوں کے لئے ہیں اور آپ ﷺ کی بیویوں کو بہت سے معاملات میں آپ ﷺ پر کوئی دعویٰ یا حق نہیں۔ یہ محض آپ ﷺ کی خوشی و مصلحت پر ہے کہ آپ ﷺ فلاں فلاں امور میں ان کی دلجوئی و رعایت کرتے رہیں۔ تو جب ان کا حق ہی باقی نہیں رہا۔ اور انھیں یہ معلوم ہوگیا کہ یہ انتظامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو بجائے رنج کے تعمیل احکام میں انھیں مسرت ہوگی۔ [53] یعنی اسے اپنے علم کامل کی وجہ سے ہر ایک کی بدگمانیوں اور گستاخانہ خیالات کی خبر ہے اور جس کو جب چاہے پکڑ لے لیکن اپنے کمال حلم کی وجہ سے فوراً نہیں پکڑتا اور سنبھلنے کا موقع و مہلت دیتا رہتا ہے۔
Ayahs 33:52–53

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اس کے بعد تمہارے لئے (دوسری) عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ (جائز ہے) کہ تم (موجودہ) بیویوں کی جگہ دوسری بیویاں لے آؤ خواہ ان (دوسریوں) کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند (کیوں نہ) ہو، مگر جو تمہاری لونڈیاں ہیں (تو ان سے تمتع کی تمہیں اجازت ہے) ۔ اور (یاد رکھو کہ) اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر یہ کہ تم کو کھانے کے لئے (آنے کی) اجازت دی جائے نہ کہ اس کے پکنے کی راہ تکو۔ ہاں جب تم بلائے جاؤ تو (ضرور) جاؤ۔ پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جاؤ اور باتوں میں نہ لگ جاؤ۔ اس بات سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی ہے، وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں (اس لئے کچھ نہیں کہتے) لیکن اللہ حق (بات کے کہنے) میں (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا۔ اور جب پیغمبر کی بیویوں سے تمہیں کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے باہر سے ان سے مانگو۔ اس سے تمہارے اور ان کے دل خوب پاک (صاف) رہیں گے۔ اور تمہیں جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ (جائز ہے) کہ ان کے بعد ان کی بیوی سے کبھی بھی نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑا (سخت گناہ) ہے۔

[54] یعنی وہ عورتیں آیت 50 میں فرما دیں اس سے زیادہ حلال نہیں۔ اور جواب موجود ہیں ان کو بدلنا حلال نہیں کیونکہ جب آپ ﷺ کی ازواج اس بات پر راضی ہوگئی ہیں کہ تنگی و عسرت میں آپ ﷺ کا ساتھ دیں گی اور انہوں نے دنیا کے عیش و آرام پر لات مار کر اللہ و رسول کی خوشنودی اور آخرت کا راستہ اختیار کرلینے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اب آپ ﷺ کے لئے حلال نہیں کہ ان میں کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ کو تو ہر چیز کا علم ہے۔

[55] یعنی زبان سے کہنا تو کجا دل میں بھی ایسا وسوسہ کبھی نہ لانا۔ اللہ کے سامنے ظاہر و باطن سب یکساں ہیں۔ دل کا کوئی بھید اس سے پوشیدہ نہیں۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

پیغمبر کی بیویوں پر کچھ گناہ نہیں کہ وہ اپنے باپوں اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (میل جول کی) عورتوں اور اپنے لونڈی غلام کے سامنے ہوں۔ اور (اے پیغمبر، کی بیویو، ) اللہ سے ڈرتی رہو۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

[56] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نور حاشیہ 35 صفحہ 836۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ (پس) اے ایمان والو (تم بھی) پیغمبر پر درود وسلام بھیجتے رہو۔

[57] اللہ کا اپنے پیغمبر پر درود بھیجنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ آپ ﷺ پر اپنی رحمتیں نازل کرتا ہے اور فرشتوں کا پیغمبر پر درود بھیجنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ آپ ﷺ کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ [58] یعنی تم بھی اللہ سے دعا کیا کرو کہ وہ اپنے نبی پر رحمتیں نازل فرمائے۔
Ayahs 33:57–58

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت (دونوں) میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کچھ (قصور) کیا ہو (ناحق کی تہمت لگا کر) اذیت دیتے ہیں تو یہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ (اپنی گردن پر) لیتے ہیں۔

[59] اللہ کو اذیت دینے کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اس کی نافرمانی کی جائے اور دوسرے یہ کہ اس کے رسول کو اذیت دی جائے، کیونکہ جس طرح رسول ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اسی طرح رسول ﷺ پر طعن اللہ پر طعن اور رسول ﷺ کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔
Ayahs 33:59–71

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور ایمان والوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ اس سے وہ جلد پہچان لی جائیں گی (کہ نیک بخت ہیں، ) اس لئے انھیں ستایا نہ جائے گا۔ اور اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (بدنظری کا) روگ ہے اور وہ جو مدینے میں افواہیں پھیلایا کرتے ہیں، (اپنی حرکتوں سے) باز نہ آئے تو (اے پیغمبر، ) ہم تمہیں ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ (مدینے میں) مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

(اور رہے بھی تو ہر طرف سے) پھٹکارے ہوئے، جہاں کہیں بھی ملیں گے پکڑے جائیں گے اور ان کے ٹکڑے اڑا دئیے جائیں گے۔

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

اللہ کا (یہی) دستور رہا ہے ان لوگوں (کے معاملے) میں (بھی) جو پہلے ہو گزرے ہیں، اور (اے پیغمبر، ) تم اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) لوگ تم سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) ۔ تم (ان سے) کہو کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے اور (اے پیغمبر، ) تمہیں کیا خبر، شاید قیامت قریب ہی آ لگی ہو۔

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے (اور) نہ کسی کو اپنا حمایتی (ہی) پائیں گے اور نہ مددگار۔

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

(یہ) وہ دن ہوگا جب ان کے منہ (سیخ کباب کی طرح دوزخ کی) آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ (اس وقت) وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی۔

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کا کہنا مانا اور انہوں (ہی) نے ہمیں گمراہ (بھی) کیا۔

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے رب ہمارے، ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر بڑی (سے بڑی) لعنت کر۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ان کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے (تہمت تراش کر) موسیٰ کو اذیت دی تھی تو اللہ نے اسے بری فرما دیا اس بات سے جو انہوں نے کہی تھی۔ اور وہ اللہ کے نزدیک (بڑا) باعزت تھا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

(پس) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سیدھی (سچی) بات کہو۔

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

(ایسا کرو گے تو) وہ تمہارے کام درست کر دے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمائے گا۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔

[60] اصل الفاظ میں '' ید نین علیھن من جلا بیھن۔ '' جلباب عربی زبان میں بڑی چادر کو کہتے ہیں اور ادنا کے اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں مگر جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ آئے تو اس میں اوپر سے لٹکا لینے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے آیت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادریں اچھی طرح اوڑھ (لپیٹ) کر ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں جسے عرف عام میں گھونگٹ ڈالنا کہتے ہیں۔ یہی معنی عہد رسالت سے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین بیان کرتے ہیں۔ عبداللہ ابن عباس ؓ بھی قریب قریب یہی تفسیر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے گھروں سے نکلیں تو اپنی چادروں کے پلو اوپر سے ڈال کر اپنا منہ چھپا لیں اور صرف آنکھیں کھلی رکھیں۔ یہی تفسیر قتادہ اور سدی نے بھی اس آیت کی بیان کی ہے۔ عہد صحابہ اور تابعین کے بعد جتنے بڑے بڑے مفسرین تاریخ اسلام میں گزرے ہیں انہوں نے بالاتفاق اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔ [61] یعنی ہر شخص کو اول نظر میں معلوم ہوجائے گا کہ یہ شریف زادیاں ہیں، بےحیا نہیں ہیں اور اس لئے ان سے چھیڑ چھاڑ کی جرأت راہ چلتے بدمعاشوں کو نہ ہوگی۔ [62] یعنی اس حکم میں اگر بلاقصد کچھ کمی یا بےاحتیاطی رہ جائے گی تو اللہ اسے معاف کر دے گا۔
Ayahs 33:72–73

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

بیشک ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا۔ اس میں شک نہیں کہ انسان بڑا ظالم اور جاہل ہے۔

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

(اس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی انجام یہ ہونا ہی تھا) کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو (ان کے کئے کی) سزا دے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول فرمائے اور اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[63] امانت سے مراد اطاعت و فرائض ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ اگر تم انھیں اچھی طرح ادا کرو گے تو تمہیں اس کا صلہ دیا جائے گا اور اگر نافرمانی کرو گے تو عذاب دیا جائے گا۔ اگر قبول نہیں کرتے تو اس کے مکلف نہ بنائے جاؤ گے مگر اس صورت میں ثواب و عذاب کے بھی مستحق نہ ہو گے۔ انہوں نے عذاب کے سبب احتمال ثواب سے بھی دست برداری کی اور بار امانت اٹھانے سے انکار کردیا۔ یہی بات جب انسان سے پوچھی گئی تو اس نے اسے قبول کرلیا۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ آسمان، زمین اور پہاڑ جو غیر ذی روح اور بظاہر بےعلم و شعور ہیں ان کے سامنے پیش کرنے اور ان کے جواب دینے کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ لیکن اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوقات سے جو تعلق ہے اس کو نہ ہم جان سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ زمین، آسمان، پہاڑ وغیرہ ہمارے لئے بےجان، گونگے اور بہرے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی وہ ایسے ہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنی ہر مخلوق سے بات کرسکتا ہے اور وہ اسے جواب دے سکتی ہے۔ اس کیفیت کا سمجھنا ہمارے فہم و عقل سے بالاتر ہے۔ [64] '' ظلوم و جہول '' ظالم و جاہل کا مبالغہ ہے۔ ظالم و جاہل وہ کہلاتا ہے جو عدل اور علم سے خالی ہو مگر استعداد و صلاحیت ان صفات کے حصول کی رکھتا ہو۔ انسان کو '' ظلوم و جہول '' کہنے سے مراد یہ ہے کہ نوع انسانی کی اکثریت ظلوم و جہول ثابت ہوئی جس نے اس امانت کا حق ادا نہ کیا اور خسارے میں پڑی۔ مراد اس سے کفار و منافقین اور فساق و فجار اور گنہگار مسلمان ہیں۔ یعنی انسان کے اس بار امانت کے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طبقہ مشرکین و منافقین کا قرار پایا اور ایک دوسرا طبقہ اہل ایمان کا۔ یعنی ایک اہل جہنم کا اور ایک اہل جنت کا۔