36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة یٰسٓ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی وہ نشانیاں بیان فرمائی ہیں جو نہ صرف پوری کائنات میں بلکہ خود انسان کے اپنے وجود میں پائی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ان مظاہر سے ایک طرف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو ذات اتنی قدرت اور حکمت کی مالک ہے اس کو اپنی خدائی کا نظام چلانے کے لئے نہ کسی شریک کی ضرورت ہے نہ کسی مددگار کی، اس لئے وہ اور صرف وہ عبادت کے لائق ہے، اور دوسری طرف قدرت کی ان نشانیوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جس ذات نے یہ کائنات اور اس کا محیر العقول نظام پیدا فرمایا ہے، اس کے لئے یہ بات کچھ بھی مشکل نہیں ہے کہ وہ انسانوں کے مرنے کے بعد انہیں دوسری زندگی عطا فرمائے، اس طرح قدرت کی ان نشانیوں سے توحید اور آخرت کا عقیدہ واضح طور پر ثابت ہوجاتا ہے، حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو یہی دعوت دینے کے لئے تشریف لائے ہیں کہ وہ ان نشانیوں پر غور کرکے اپنا عقیدہ اور عمل درست کریں، اس کے باوجود اگر کچھ لوگ اس دعوت کو قبول نہیں کررہے ہیں تو وہ اپنا ہی نقصان کررہے ہیں ؛ کیونکہ اس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے مستحق بن رہے ہیں، اسی سلسلے میں آیات نمبر ١٣ سے ٢٩ تک ایک ایسی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے جس نے حق کی دعوت کو قبول نہ کیا ؛ بلکہ حق کے داعیوں کے ساتھ ظلم وبربریت کا معاملہ کیا جس کے نتیجے میں حق کے داعی کا انجام تو بہترین ہوا لیکن حق کے یہ منکر اللہ تعالیٰ کے عذاب کی پکڑ میں آگئے ؛ چونکہ اس سورت میں اسلام کے بنیادی عقائد کو بڑے فصیح وبلیغ اور جامع انداز میں بیان فرمایا گیا ہے، اس لئے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ نے اس سورت کو قرآن کا دل قرار دیا ہے۔

Ayah 36:1
Ayah 36:2

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

حکمت بھرے قرآن کی قسم

Ayah 36:3

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

تم یقینا پیغمبروں میں سے ہو۔

Ayah 36:4

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

بالکل سیدھے راستے پر۔

Ayah 36:5

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

یہ قرآن اس ذات کی طرف سے اتارا جارہا ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی رحمت بھی کامل۔

Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم ان لوگوں کو خبردار کرو جن کے باپ دادوں کو پہلے خبردار نہیں کیا گیا تھا، (1) اس لیے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

1: یعنی مکہ مکرمہ اور اس کے اطراف میں مدت سے کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں کے بارے میں بات پوری ہوچکی ہے۔ (2) اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔

2: مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں تقدیر میں جو بات لکھی تھی کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے، وہ بات پوری ہورہی ہے ؛ لیکن یہ واضح رہے کہ تقدیر میں لکھا ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کفر پر مجبور ہوگئے ہیں، کیونکہ تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایمان لانے کا موقع بھی دے گا اور اختیار بھی دے گا ؛ لیکن یہ لوگ اپنے اختیار اور اپنی خوشی سے ضد پر اڑے رہیں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayahs 36:8–11

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کے گلوں میں طوق ڈال رکھے ہیں، جو ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں، اور اس وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے رہ گئے ہیں۔ (3)

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ایک آڑ ان کے آگے کھڑی کردی ہے، اور ایک آڑ ان کے پیچھے کھڑی کردی ہے، اور اس طرح انہیں ہر طرف سے ڈھانک لیا ہے جس کے نتیجے میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور ان کے لیے دونوں باتیں برابر ہیں، چاہے تم انہیں خبردار کرو، یا خبردار نہ کرو، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تم تو صرف ایسے شخص کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت پر چلے، اور خدائے رحمن کو دیکھے بغیر اس سے ڈرے۔ چنانچہ ایسے شخص کو تم مغفرت اور باعزت اجر کی خوشخبری سنا دو۔

3: یہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو بیان کرنے کے لئے ایک استعارہ اور مجازی تعبیر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حق کے صاف صاف ظاہر ہونے کے باوجود ان لوگوں نے اس طرح ہٹ دھرمی کی روش اختیار کی ہے کہ اپنے آپ کو حق کے دیکھنے سے محروم کرلیا ہے، جیسے ان کے گلوں میں طوق پڑے ہوئے ہوں، اور ان کے ہر طرف ایسی دیواریں کھڑی ہوں کہ ان کو کچھ سمجھائی نہ دے۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

یقینا ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے، اور جو کچھ عمل انہوں نے آگے بھیجے ہیں ہم ان کو بھی لکھتے جاتے ہیں اور ان کے کاموں کے جو اثرات ہیں ان کو بھی۔ (4) اور ہم نے ایک واضح کتاب میں ہر ہر چیز کا پورا احاطہ کر رکھا ہے۔

4: یعنی ان لوگوں کی ساری بدعملیاں بھی لکھی جارہی ہیں اور ان بد عملیوں کے جو برے اثرات ان کے مرنے کے بعد بھی باقی رہ جاتے ہیں وہ بھی لکھے جارہے ہیں۔
Ayahs 36:13–17

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تم ان کے سامنے ایک بستی والوں کی مثال پیش کرو، جب ان کے پاس رسول آئے تھے (5)

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب ہم نے ان کے پاس (شروع میں) دو رسول بھیجے، تو انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے ایک تیسرے کے ذریعے ان کی تائید کی، اور ان سب نے کہا کہ : یقین جانو ہمیں تمہارے پاس رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

انہوں نے کہا : تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی آدمی ہو۔ اور خدائے رحمن نے کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، اور تم سراسر جھوٹ بول رہے ہو۔

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

ان (رسولوں) نے کہا : ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ ہمیں واقعی تمہارے پاس رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہماری ذمہ داری اس سے زیادہ نہیں ہے کہ صاف صاف پیغام پہنچا دیں۔

5: قرآن کریم نے نہ اس بستی کا نام ذکر فرمایا ہے، اور نہ ان رسولوں کا جو اس بستی میں بھیجے گئے تھے، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ بستی شام کا مشہور شہر انطاکیہ تھی ؛ لیکن نہ تو یہ روایتیں مضبوط ہیں اور نہ تاریخی قرائن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، دوسری طرف رسول کا لفظ عربی زبان میں ہراس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کا پیغام لے کر دوسرے کے پاس جائے ؛ لیکن قرآن کریم میں زیادہ تر یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کے لئے استعمال ہوا ہے، اس لئے ظاہر یہی ہے کہ یہ حضرات انبیاء کرام تھے، اور بعض روایات میں ان کے نام بھی صادق، صدوق اور شلوم یا شمعون بتائے گئے ہیں ؛ لیکن یہ روایات بھی زیادہ مضبوط نہیں ہیں، اور بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ یہ حضرات انبیاء نہیں تھے ؛ بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کے شاگرد تھے جنہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے اس بستی میں تبلیغ کے لئے بھیجا تھا، اور مرسلون کا لفظ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے ؛ لیکن چونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں بھیجنے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، اس لئے ظاہر یہی ہے کہ یہ انبیاء کرام تھے، شروع میں دو نبی بھیجے گئے تھے، پھر ایک تیسرے پیغمبر بھی بھیجے گئے، بہر حال ! عبرت کا جو سبق قرآن کریم دینا چاہتا ہے وہ نہ بستی کے تعین پر موقوف ہے اور نہ پیغام لے جانے والوں کی شناخت پر، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے نام نہیں بتائے، لہذا ہمیں بھی اس کی کھوج میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

بستی والوں نے کہا : ہم نے تو تمہارے اندر نحوست محسوس کی ہے۔ (6) یقین جانو اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم پر پتھر برسائیں گے، اور ہمارے ہاتھوں تمہیں بڑی دردناک سزا ملے گی۔

6: بعض روایات میں ہے کہ ان حضرات کے بستی میں تشریف لانے اور دین حق کی دعوت دینے کے بعد جب بستی کے لوگوں نے نافرمانی پر کمر باندھے رکھی تو ان پر تنبیہ کے طور پر قحط مسلط کردیا گیا تھا۔ انہوں نے اسے ایک تازیانہ سمجھنے کے بجائے الٹا اسے ان حضرات کی نحوست قرار دیا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان حضرات کی دعوت کے نتیجے میں جو بحث مباحثہ شروع ہوا ہو، اسی کو انہوں نے نحوست سے تعبیر کیا ہو۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

رسولوں نے کہا : تمہاری نحوست خود تمہارے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ (7) کیا یہ باتیں اس لیے کر رہے ہو کہ تمہیں نصیحت کی بات پہنچائی گئی ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم خود حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو۔

7: یعنی نحوست کا اصل سبب تو تمہارا کفر اور شرک ہے۔
Ayahs 36:20–25

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے علاقے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا۔ (8) اس نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! ان رسولوں کا کہنا مان لو۔

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ان لوگوں کا کہنا مان لو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگ رہے، اور وہ صحیح راستے پر ہیں۔

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور بھلا میں اس ذات کی عبادت کیوں نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے ؟ اور اسی کی طرف تم سب کو واپس بھیجا جائے گا۔

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

بھلا کیا اسے چھوڑ کر میں ایسوں کو معبود مانوں کہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کرلے تو ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے، اور نہ وہ مجھے چھڑا سکیں ؟

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

اگر میں ایسا کروں گا تو یقینا میں کھلی گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا۔

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا۔ اب تم بھی میری بات سن لو۔

8: روایتوں میں ان کا نام حبیب نجار بتایا گیا ہے۔ یہ پیشے کے لحاظ سے بڑھئی تھے، اور ان رسولوں کی دعوت پہلے ہی قبول کر کے ایمان لا چکے تھے، اور شہر کے سرے پر کہیں تنہا رہ کر عبادت میں لگے رہتے تھے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ان کی قوم کے لوگ ان رسولوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہیں تو یہ جلدی سے وہاں پہنچے، اور بڑے مؤثر انداز میں اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
Ayahs 36:26–27

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

(آخر کار بستی والوں نے اس کو قتل کردیا (9) اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے) کہا گیا کہ : جنت میں داخل ہوجاؤ (10) اس نے (جنت کی نعمتیں دیکھ کر) کہا کہ : کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجائے۔

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ اللہ نے کس طرح میری بخشش کی ہے، اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کیا ہے۔

9: بعض روایتوں میں ہے کہ سنگدل قوم نے ان کی خیر خواہانہ تقریر کے جواب میں انہیں لاتیں، گھونسے اور پتھر مار مار کر شہید کردیا۔ 10: جنت میں اصل داخلہ تو حشر و نشر کے بعد ہوگا، البتہ نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ عالم برزخ میں بھی جنت کی بعض نعمتیں عطا فرما دیتے ہیں۔ یہاں ان کو ایک طرف خوشخبری دی گئی کہ ان کا مقام جنت ہے، اور دوسری طرف جنت کی کچھ نعمتیں عالم برزخ ہی میں عطا فرما دی گئیں جنہیں دیکھ کر انہوں نے پھر اپنی قوم ہی کی خیر خواہی کی بات فرمائی کہ کاش انہیں یہ پتہ چل جائے کہ مجھے کن نعمتوں سے سرفراز فرمایا گیا ہے تو شاید ان کی بھی آنکھیں کھل جائیں۔
Ayahs 36:28–34

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور اس شخص کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا، اور نہ ہمیں اتارنے کی ضرورت تھی۔ (11)

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ تو بس ایک ہی چنگھاڑ تھی جس سے وہ ایک دم بجھ کر رہ گئے۔

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

افسوس ہے ایسے بندوں کے حال پر۔ ان کے پاس کوئی رسول ایسا نہیں آیا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے رہے ہوں۔

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے ہم کتنی قوموں کو اس طرح ہلاک کرچکے ہیں کہ وہ ان کے پاس لوٹ کر نہیں آتے ؟

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور یہ جتنے لوگ ہیں ان سبھی کو اکٹھا کر کے ہمارے سامنے حاضر کیا جائے گا۔

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ان کے لیے ایک نشانی وہ زمین ہے جو مردہ پڑی ہوئی تھی، ہم نے اسے زندگی عطا کی، اور اس نے غلہ نکالا، جس کی خوراک یہ کھاتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور ہم نے اس زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے، اور ایسا انتظام کیا کہ اس میں سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلے۔

11: یعنی اس ظالم اور نافرمان قوم کو ہلاک کرنے کے لیے ہمیں فرشتوں کا کوئی لشکر آسمان سے اتارنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بس ایک ہی فرشتے نے ایک زور دار آواز نکالی تو اسی سے ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور پوری قوم ہلاک ہو کر ایسی ہوگئی جیسے آگ بجھ کر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔ والعیاذ باللہ العلی العظیم۔
Ayah 36:35

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ اس کی پیداوار میں سے کھائیں، حالانکہ اس کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا۔ (12) کیا پھر بھی یہ شکر نہیں کریں گے ؟

12: توجہ اس طرف دلائی جا رہی ہے کہ انسان جب کھیت یا باغ لگاتا ہے تو اس کی ساری دوڑ دھوپ کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ وہ زمین کو ہموار کر کے اس میں بیج ڈال دے۔ لیکن اس بیج کی پرورش کرکے اسے زمین کا پیٹ پھاڑ کر کونپل کی شکل میں نکالنا اور پھر اسے پروان چڑھا کر درخت بنان اور اس میں پھل پیدا کرنا انسان کا کام نہیں ہے۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی شان ربوبیت ہے جو اس ساری پیداوار کی تخلیق کرتی ہے۔
Ayah 36:36

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کے جوڑے جوڑے پیدا کیے ہیں، اس پیداوار کے بھی جو زمین اگاتی ہے، اور خود انسانوں کے بھی، اور ان چیزوں کے بھی جنہیں یہ لوگ (ابھی) جانتے تک نہیں ہیں۔ (13)

13: قرآن کریم نے کئی جگہ یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے جوڑے پیدا فرمائے ہیں۔ انسانوں کے جوڑے تو مرد اور عورت کی شکل میں شروع سے واضح چلے آتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم نے بتایا ہے کہ نباتات میں بھی نر اور مادہ کے جوڑے ہوتے ہیں۔ اور یہ حقیقت سائنس کو بہت بعد میں دریافت ہوئی ہے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے صریح الفاظ میں یہ بھی بیان فرمادیا ہے کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ابھی تمہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ ان کے بھی جوڑے ہوتے ہیں۔ لہذا سائنس کو مختلف چیزوں کے جوڑوں کا جو رفتہ رفتہ ادراک ہورہا ہے، مثلاً بجلی میں مثبت اور منفی کا اور ایٹم میں الیکٹرون اور پروٹون کا، وہ سب قرآن کریم کے اس عمومی بیان میں داخل ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 36:37–38

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ان کے لیے ایک اور نشانی رات ہے۔ ہم اس پر سے دن کا چھلکا اتار لیتے ہیں تو وہ یکایک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔ (14)

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جارہا ہے۔ یہ سب اس ذات کا مقرر کیا ہوا نظام ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی کامل۔

14: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ کائنات میں اصل اندھیرا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے دور کرنے کے لیے سورج کی روشنی پیدا فرمائی ہے۔ جب سورج نکلتا ہے تو وہ اپنی روشنی کا ایک غلاف کائنات کے کچھ حصے پر چڑھا دیتا ہے جس سے روشنی ہوجاتی ہے۔ پھر جب سورج غروب ہوتا ہے تو روشنی کا یہ چھلکا اتر جاتا ہے، اور اندھیرا واپس آجاتا ہے۔
Ayah 36:39

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند ہے کہ ہم نے اس کی منزلیں ناپ تول کر مقرر کردی ہیں، یہاں تک کہ وہ جب (ان منزلوں کے دورے سے) لوٹ کر آتا ہے تو کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح (پتلا) ہو کر رہ جاتا ہے۔ (15)

15: یعنی پورے مہینے کا دورہ مکمل کرنے کے بعد آخر میں ایک یا دو راتوں میں تو وہ غائب رہتا ہے، پھر جب دوسرا دورہ شروع کرتا ہے تو وہ اتنا پتلا، ٰخم دار اور پیلی ہوجاتی ہے۔
Ayah 36:40

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج کی یہ مجال ہے کہ وہ چاند کو جاپکڑے، (16) اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے، اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔

16: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ چاند اور سورج دونوں اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں، سورج کی مجال نہیں ہے کہ وہ چاند کے مدار میں داخل ہوجائے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سورج کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ رات کے وقت جب چاند افق پر موجود ہو، اس وقت نکل آئے، اور رات کو دن بنا دے۔