Ayahs 36:1–12آیت نمبر 1 تا 12
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یسٓن اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے محکم قرآن کی جو عجیب نظم اور انوکھے معانی سے محکم ہے بلاشبہ اے محمد آپ مرسلین میں سے ہیں (اور) سیدھے راستہ پر ہیں علیٰ اپنے ماقبل (مرسلین) سے متعلق ہے (اور طریق مستقیم سے مراد) انبیاء سابقین کا طریقہ ہے، جو کہ توحید اور ہدایت کا راستہ ہے، اور قسم وغیرہ کے ذریعہ تاکید کافروں کے قول لَسْتَ مُرسَلاً کو رد کرنے کے لئے ہے یہ قرآن اس (خدا) کا نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب اور اپنی مخلوق پر مہربان ہے (تنزیل العزیز) مبتداء محذوف یعنی القرآن کی خبر ہے تاکہ آپ ایسی قوم کو آگاہ کریں کہ جس کے آباء (و اجداد) کو آگاہ نہیں کیا گیا یعنی جن کو (فترت) یعنی وقفہ کے زمانہ میں آگاہ نہیں کیا گیا، لِتُنْذِرَ ، تنزیل کے متعلق ہے، اسی وجہ سے یہ قوم ایمان و ہدایت سے بیخبر ہے ان میں سے اکثر لوگوں پر (تقدیری طور پر ) بات ثابت ہوچکی ہے تو یہ اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اس طریقہ سے کہ طوق نے ہاتھوں کو گردن کے ساتھ جکڑ دیا ہے چناچہ وہ بندھے ہوئے ہاتھ ٹھوڑی تک پھنسے ہوئے ہیں اَذْقان ذَقَنٌ کی جمع ہے اور ذَقَنْ دونوں جبڑوں کے ملنے کی جگہ ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے ہیں ان کو جھکا نہیں سکتے اور یہ ایک تمثیل ہے، اور مراد ہے کہ لوگ ایمان کا اقرار نہیں کرتے اور نہ اپنے سروں کو ایمان کے لئے جھکاتے ہیں اور ہم نے ایک آڑان کے سامنے اور ایک آڑان کے پیچھے کردی، دونوں جگہ سین کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے جس کی وجہ سے ہم نے ان کے اوپر پردہ ڈال دیا تو وہ دیکھ نہیں سکتے یہ بھی ایک تمثیل ہے ان پر ایمان کے راستوں کو مسدود کرنے کے لئے اور ان کو آپ کا ڈرانا اور نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں، دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کو الف سے بدل کر، اور ثانی کی تسہیل (نرمی) کے ساتھ، اور مسہلہ اور غیر مسہلہ کے درمیان الف داخل کرکے، اور ترک ادخال کرکے وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں آپ تو صرف اس شخص کو نصیحت کرسکتے ہیں جو نصیحت یعنی قرآن کی پیروی کرے اور غائبانہ طور پر یعنی رحمٰن کو بغیر دیکھے رحمٰن سے ڈرے آپ کا ڈرانا اس کو فائدہ دے سکتا ہے سو آپ اس کو مغفرت کی اور عمدہ عوض کی کہ وہ جنت ہے خوشخبری سنادیجئے، اور بیشک ہم مردوں کو اٹھانے کے لئے زندہ کریں گے اور انہوں نے اپنی زندگی میں جو اچھے برے اعمال کرکے آگے بھیجے ہیں اور جو اعمال پیچھے چھوڑے ہیں جن کے نقش قدم پر بعد میں چلا گیا ہم ان کو زندہ کریں گے ہم انکو لوح محفوظ میں قلمبند کرلیتے ہیں تاکہ انکو ان اعمال کی جزاء دی جائے اور ہم نے ہر چیز کو روشن کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے، روشن کتاب لوح محفوظ ہے کُلَّ شئ اس فعل مقدر کیوجہ سے منصوب ہے جس کی بعد والا فعل (اَحصینَاہ) تفسیر کررہا ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : یٰسٓ قراء سبعہ نے نون کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اس کے علاوہ نون کا ضمہ، فتحہ، کسرہ تین قراءتیں اور بھی ہیں مگر شاذ ہیں
قولہ : اللہ اعلم بمرادہٖ حروف مقطعات کے بارے میں یہ قول سب سے اسلم اور احوط ہے، ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یٰسٓ لغت بنی طے میں ” یا انسان “ کے معنی میں ہے، اور ابن الحنفیہ سے مروی ہے یٰسٓ ” یامحمد “ کے معنی میں ہے۔
قولہ : والقرآن الحکیم واؤ قسمیہ ہے اور القرآن مقسم بہ ہے اِنّکَ لمِنَ الْمُرسَلِیْنَ جواب قسم ہے۔
قولہ : مُقْمَحُوْنَ یہ اقماحٌ سے مُقْمَحٌ اسم مفعول کی جمع مذکر ہے قَمْحٌ مادہ ہے گردن پھنسنے کی وجہ سے سر اوپر کو اٹھے ہوئے، بَعیْرٌ قامِعٌ وہ اونٹ جو پانی پینے کے بعد آنکھیں بند کرکے سر اٹھا کر کھڑا ہو، چونکہ دوزخیوں کی گردنوں میں طوق پھنسنے ہوئے ہوں گے جس کی وجہ سے ٹھوڑیاں اوپر کو اٹھ جائیں گی، جس کی وجہ سے لامحالہ سر بھی اوپر کو اٹھ جائیں گے۔ (لغات القرآن)
قولہ : تنزیل العزیز یہ ھٰذا مبتداء محذوف کی خبر ہے یا اَمْدَحُ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے ای اَمْدَحُ تَنْزِیْلَ العزِیْزِ یا نَزَّلَ
محذوف کا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای نَزَّلَ تنزِیْلاً ۔
قولہ : فِی لوحٍ محفوظٍ یہ نکتُبُ کا ظرف ہے، بہتر ہوتا کہ مفسر (رح) تعالیٰ فی لوح محفوظ کے بجائے فی صحف الملائکۃ کہتے اس لئے کہ دنیا میں اعمال کی کتاب صحف ملائکہ میں ہوتی ہے نہ کہ لوح محفوظ میں۔
قولہ : کُلَّ شیئٍ اپنے مابعد فعل کی وجہ سے منصوب ہے، اور یہ باب اشتغال سے ہے ای اَحْصَیْنَا کُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنَاہ۔
قولہ : آثار، اَثَرْ . کی جمع ہے نشان کو کہتے ہیں، یہاں عملی نمونے مراد ہیں خواہ اچھے ہوں یا برے۔
تفسیر وتشریح
سورة یٰسٓ کے فضائل : احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ وغیرہ نے معقل بن یسار سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یٰسٓ قلب القرآن لا یقْرَؤھَاعَبْدٌ یُرِیْدُ اللہ وَالدَّ الْآخِرَۃَ اِلَّا غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذنبِہٖ وَمَا تَأخَّرَ فَاقرء وھَا عَلیٰ مَوتَاکُمْ معقل بن یسار نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یٰسین قرآن کا دل ہے، جو بندہ اس کو خالص لوجہ اللہ اور طلب آخرت کے لئے پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف فرمادیں گے، لہٰذا تم اس کو اپنے مردوں کے پاس پڑھا کرو۔ (فتح القدیر اختصارًا)
امام غزالی (رح) تعالیٰ نے فرمایا سورة یٰسین کو قلب قرآن فرمانے کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ اس سورت میں قیامت حشر و نشر کے مضامین خاص تفصیل اور بلاغت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، اور اصول ایمان میں سے عقیدۂ آخرت وہ چیز ہے جس پر انسان کے اعمال کی صحت موقوف ہے، خوف آخرت ہی انسان کو عمل آخرت پر آمادہ اور مستعد کرسکتا ہے اور وہی اس کو ناجائز خواہشات اور حرام سے روکتا ہے تو جس طرح بدن کی صحت قلب پر موقوف ہے اسیطرح ایمان کی صحت فکر آخرت پر موقوف ہے۔ (روح)
سورة یٰسین کے دوسرے نام : سورة یٰسین کو حدیث شریف میں عظیمہ بھی کہا گیا ہے، اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ تورات میں اس سورت کا نام مُعِمہ آیا ہے، یعنی اپنے پڑھنے والے کے لئے دنیا وآخرت میں خیرات و برکات کو عام کرنے والی، اور بعض روایات میں اس کا نام مدافعہ بھی آیا ہے، یعنی اپنے پڑھنے والوں سے بلاؤں کو دفع کرنے والی، اسی طرح بعض روایات میں اس کا نام قاضیہ آیا ہے یعنی حاجات کو پورا کرنے والی۔ (روح المعانی)
یٰسٓ یہ حروف مقطعات میں سے ہے اور جمہور مفسرین کا مشہور قول تو وہی ہے کہ اس کی صحیح اور حقیقی مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، احکام القرآن میں امام مالک (رح) تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یٰسین اللہ کے اسماء میں سے ایک ہے اور ایک روایت میں ہے کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ” اے انسان “ اور انسان سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔
کسی کا یٰسین نام رکھنا کیسا ہے ؟ امام مالک (رح) تعالیٰ نے اس کو اس لئے پسند نہیں فرمایا کہ ان کے نزدیک یہ اسماء الہٰیہ میں سے ہے اور اس کے صحیح معنی معلوم نہیں اس لئے ممکن ہے کہ اس کے کوئی ایسے معنی ہوں کہ اللہ کے ساتھ مخصوص ہوں البتہ اگر اس لفظ کو یٰسین، یاسین کے رسم الخط سے لکھا جائے تو یہ کسی انسان کا نام رکھنا کا ئز ہے، کیونکہ قرآن کریم میں آیا ہے سَلاَمٌ علیٰ آل یاسین یا الیاسین۔ (ابن عربی، معارف)
یٰسٓ۔۔ الحکیم یعنی قسم ہے حکمتوں سے پُر قرآن کی، قرآن کریم اپنی اعجازی شان اور پُر حکمت تعلیمات اور پختہ مضامین کے لحاظ سے اس بات کا بڑا زبردست شاہد ہے کہ جو نبی امی کو لے کو آیا ہے یقیناً وہ اللہ کا بھیجا ہوا اور بلاشک وشبہ راہ مستقیم پر ہے، اس کی پیروی کرنے والوں کو کوئی منزل مقصود سے بھٹکنے کا نہیں۔
تَنْزِیْلَ العَزِیزِ الرَّحِیْمِ یعنی یہ قرآن حکیم اس خدا کا نازل کیا ہوا ہے جو زبردست بھی ہے کہ منکرین کو سزا دیئے بغیر نہ چھوڑے، اور رحم کرنے والا بھی ہے کہ ماننے والوں کو نوازشوں اور بخششوں سے مالا مال کردے اسی لئے آیات قرآنیہ میں بعض آیات شان لطف ومہر کا اور بعض شان غضب وقہر کا پہلو لئے ہوئے ہیں۔
لتنذر۔۔۔ غافلون یعنی بہت ہی مشکل اور کٹھن کام آپ کے سپرد ہوا ہے کہ قوم (عرب) کو اس قرآن کے ذریعہ ہوشیار اور بیدار کریں جس کے پاس صدیوں سے کوئی بیدار کرنے والا نہیں آیا، وہ جاہل اور غافل قوم جسے نہ خدا کی خبر اور نہ آخرت کی، نہ ماضی سے عبرت نہ مستقبل کی فکر، نہ مبدأ پر نظر اور نہ منتہا پر، نہ نیک وبد کی تمیز اور نہ بھلے برے کا شعور، اس کو اتنی ممتد جہالت و غفلت کی تاریکیوں سے نکال کر رشد و ہدایت کی صاف شاہ راہ پر کھڑا کرنا کوئی معمولی اور آسان کام نہیں ہے، بلاشبہ آپ پوری قوت وتندہی کے ساتھ ان کو اس غفلت وجیالت کے خوفناک نتائج اور بھیانک و ہولناک مستقبل سے ڈر کر فلاح و بہبود کے اعلیٰ مدارج پر پہنچانے کی کوشش کریں گے، لیکن آپ کو بہت سے ایسے افراد بھی ملیں گے جو کسی قسم کی نصیحت پر کان دھرنے والے نہیں، شیطان ان پر پوری طرح مسلط ہوچکا ہے کہ ان کی حماقتوں اور شرارتوں کو ان کی نظر میں خوشنما اور آراستہ کرکے دکھلا رہا ہے، اس وقت ایک طرف شیطان کی بات لَاُ غْوِیَنَّھُمْ اجمَعِیْنَ اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ المُخْلَصِیْنَ (مخلصین کے سوا میں سب کو بہکا کررہوں گا) سچی ثابت ہوتی ہے اور دوسری طرف حق تعالیٰ کا قول لَأ مْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ ومِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اجمعین (تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے دوزخ کو بھردوں گا) ثابت اور چسپاں ہوجاتا ہے۔
لقد۔۔۔ اکثرھم (الآیۃ) حق تعالیٰ نے کفر و ایمان اور دوزخ و جنت کے دونوں راستے انسان کے سامنے کردیئے ہیں، اور ایمان کی دعوت کے لئے انبیاء اور کتابیں بھی بھیج دیں، انسان کو اتنا اختیار بھی دیدیا کہ وہ بھلے برے میں تمیز کرسکے، جو بدنصیب نہ غور وفکر سے کام لے اور نہ دلائل قدرت میں غور کرے نہ انبیاء کی دعوت پر کان دھرے اور نہ واقعات وحادثات کو دیکھ کر چشم عبرت دا کرے، تو اس نے اپنے اختیار سے جو راہ اختیار کرلی تو حق تعالیٰ نے اس کے لئے اسی کے اسباب جمع فرمادیئے ہیں، اسی کو اس طرح تعبیر کیا ہے لَقَد حقَّ القَولُ علیٰ اکثرِھِمْ فھُمْ لاَ یٗؤمِنُوْنَ یعنی ان میں سے بیشتر لوگوں پرتو ان کے سواء اختیار کی بناء پر یہ قول حق جاری ہوچکا ہے کہ یہ ایمان نہ لائیں گے۔
انا۔۔۔ اعناقھم (الآیۃ) اس آیت میں مذکورہ لوگوں کے حال کی ایک تمثیل بیان فرمائی ہے کہ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس کے گردن میں ایسے طوق ڈالدیئے گئے ہوں کہ ان کا چہرہ اور آنکھیں اوپر اٹھ جائیں، جو نہ اپنے وجود کو دیکھ سکے اور نہ اس کو واستہ ہی نظر آئے، تو ظاہر ہے کہ ایسا شخص خود کو کسی کھڈ میں گرنے سے نہیں بچاسکتا۔
وجعلنا۔۔۔ سدًّا (الآیۃ) مذکورہ لوگوں کی یہ دوسری تمثیل ہے، ان لوگوں کی مثال اس شخص جیسی ہے کہ اس کے چاروں طرف دیوار کھڑی کردی گئی ہو، اور وہ اس چہار دیواری میں محصور ہو کر رہ گیا ہو جس کی وجہ سے وہ باہر کی چیزوں سے بالکل بیخبر ہے، ان کافروں کے گرد بھی ان کی جہالت اور مزید برآں عنادوہٹ دھرمی نے محاصرہ کرلیا ہے، کہ باہر کی حق باتیں ان تک پہنچتی ہی نہیں۔ امام رازی نے فرمایا کہ نظر سے مانع دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک مانع تو ایسا ہوتا ہے کہ جس کی وجہ سے خود اپنے وجود کو بھی نہ دیکھ سکے، دوسرا وہ کہ اپنے گروپیش کو نہ دیکھ سکے، ان کفار کے لئے حق بنیی سے دونوں قسم کے مانع موجود تھے، اس لئے پہلی تمثیل پہلے مانع کی ہے کہ جس کی گردن نیچے کو جھک نہ سکے، وہ اپنے وجود کو بھی نہیں دیکھ سکتا، اور دوسری تمثیل دوسرے مانع کی ہے کہ گردوپیش کو نہیں دیکھ سکتا۔ (روح، معارف)
جمہور مفسرین نے مذکورہ تمثیل کو ان کے کفر وعناد کی تمثیل ہی قرار دیا ہے، اور بعض حضرات مفسرین نے بعض روایات کی بناء پر ایک واقعہ کا بیان قرار دیا ہے، کہ ابوجہل اور بعض دوسرے لوگ آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے یا ایذاء پہنچانے کا پختہ عزم کرکے آپ کی طرف بڑھے، مگر اللہ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، جس کی وجہ سے آپ ان کو نظر نہ آئے عاجز ہو کر نامراد واپس آگئے، اسی قسم کے متعدد واقعات تفسیر ابن کثیر، روح المعانی، قرطبی وغیرہ میں منقول ہیں، مگر ان میں پیشتر روایات ضیعف ہیں جس کی وجہ سے ان پر آیت کی تفسیر کا مدار نہیں رکھا جاسکتا۔
ونکتب۔۔ آثارھم، ماقَدَّموا سے وہ آثار مراد ہیں جو انسان خود اپنی زندگی میں کرتا ہے اور آثارھم سے وہ اعمال مراد ہیں جس کے عملی نمونے (اچھے یا برے) وہ دنیا میں چھوڑ جاتا ہے، اور اس کے مرنے کے بعد اس کی اقتداء میں لوگ وہ اعمال اختیار کرتے ہیں، جس طرح حدیث میں ہے، جس نے اسلام میں کوئی نیا طریقہ جاری کیا اس کے لئے اس کا اجر بھی ہے اور اس کا بھی کو اس کے بعد اس پر عمل کرے گا، بغیر اس کے کہ ان میں سے کسی کے اجر میں کمی ہو، اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا تو اس پر اس کے اپنے گناہوں کا بھی بوجھ ہوگا اور اس کے بعد اس پر عمل کرے گا اس کے ان میں سے کسی کے بوجھ میں کمی ہو۔ (صحیح بخاری، مسلم، کتاب الزکوٰۃ) اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے (1) ایک علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں (2) دوسرے نیک اولاد جو مرنے والے کے لئے دعائے خیر کرے (3) تیسرے صدقہ جاریہ جس سے لوگ اس کے مرنے کے بعد بھی فیضیاب ہوں۔ (صحیح مسلم کتاب الوصیۃ)
ونکتب۔۔ آثارھم کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ کارخیر میں اگر کوئی آدمی چلت پھرت اور کوشش کرتا ہے تو اسکے ہر قدم یعنی اسکی کوشش اور سعی کا اجر اسکو دیا جاتا ہے، عہد نبوی میں مسجد نبوی کے قریب کچھ جگہ خالی پڑی تھی، نبی سلمہ کے مکانات مسجد نبوی سے ذرا فاصلہ پر تھے، بنو سلمہ نے مسجد نبوی کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، جب نبی کریم ﷺ کے علم میں یہ بات آئی تو آپ ﷺ نے انکو مسجد کے قریب ہونے سے روک دیا، اور فرمایا دِیَارَ کُمْ تکتبُ آثارکمْ (اور یہ جملہ آپ نے دو مرتبہ فرمایا) یعنی تمہارے گھر اگرچہ (مسجد نبوی سے) دور ہیں لیکن وہیں رہو جتنے قدم تم چل کر آتے ہو وہ لکھے جاتے ہیں (صحیح مسلم کتاب المساجد)
Ayahs 36:13–32آیت نمبر 13 تا 32
ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی، تم محض جھوٹ بولتے ہو، فرستادوں نے کہا ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، رَبَّنَا قائم مقام قسم ہے اور اس قسم کے ذریعہ اور لام کے ذریعہ ماقبل کی بہ نسبت زیادتی انکار کی وجہ سے اِنَّا الیکُمْ لمُرْسَلُوْنَ میں تاکید زیادہ لائی گئی ہے اور ہمارے ذمہ تو واضح طور پر (پیغام) پہنچادینا ہے اور بس جو معجزات واضحہ سے مؤیَّد ہے، اور وہ (معجزہ) اندھوں کو بینا کرنا اور کوڑھی ومریض کو تندرست کرنا اور مردوں کو زندہ کرنا ہے وہ کہنے لگے تمہاری وجہ سے بارش موقوف ہونے کے سبب سے ہم کو نحوست لاحق ہوگئی اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی، ان فرستادوں نے کہا تمہاری نحوست تو تمہارے کفر کی وجہ سے تمہارے ساتھ ہے، کیا تم اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ (خود) تم ایسے لوگ ہو کہ اپنے شرک کی وجہ سے حد سے تجاوز کرگئے ہو، ہمزۂ استفہام ان شرطیہ پر داخل ہے اور اس کے ہمزہ میں تحقیق وتسہیل، اور دونوں صورتوں میں اس کے اور دوسرے یعنی (ہمزۂ استفہام) کے درمیان الف داخل کرنا ہے (اور ترک کرنا ہے) اور ذُکِّرْتُمْ بمعنی وُعِظْتُمْ اور خُوِّفْتُمْ ہے اور جواب شرط محذوف ہے یعنی تَطَیَّرْتُمْ وَکَفَرْتُمْ اور یہی محل استفہام ہے اور مراد اس سے تو بیخ ہے اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص کہ جس کا نام حبیب نجار تھا اور وہ رسولوں پر ایمان لاچکا تھا، اور اس کا مکان شہر کے پرلے کنارے پر تھا، جب اس نے قوم کا رسولوں کو جھٹلانا سنا تو دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا اے میری قوم ایسے رسولوں کی اتباع کرو ثانی اِتَّبِعُوْا اول اِتَّبِعُوْا کی تاکید (لفظی) ہے، جو تم سے تبلیغ رسالت پر کوئی صلہ نہیں چاہتے اور وہ سیدھے راستہ پر ہیں، تو اس سے کہا گیا کہ کیا تو (بھی) ان کے دین پر ہے ؟ اس نے جواب دیا مجھے کیا (عذر) ہے کہ میں اس کی بندگی نہ کروں کہ جس نے مجھے پیدا کیا ؟ یعنی اس کی بندگی کرنے سے مجھے کوئی مانع نہیں ہے اور اس کی عبادت کا مقتضی (باعث) موجود ہے، اور تمہارا حال بھی ایسا ہی ہے (جیسا میرا ہے) اور مرنے کے بعد تم کو اس کے پاس لوٹ کر جانا ہے، أئَتَّخِذُ کے دونوں ہمزوں میں وہی قراءتیں ہیں جو أئَنْذَرْتَھُمْ میں گذر چکی ہیں، اور یہ استفہام بمعنی نفی ہے کیا میں اس کو چھوڑ کر اس کے غیر کو یعنی بتوں کو معبود بناؤں ؟ اگر خدا حق میں نقصان کا ارادہ کرے تو ان کی شفاعت مجھے کوئی فائدہ نہ دے جس کی تم (ان سے) توقع رکھتے ہو، اور نہ وہ مجھے چھڑاسکیں (لا ینقذونَ ) اٰلَھَۃً کی صفت ہے، اگر میں ایسا کروں یعنی اگر میں غیر اللہ کی بندگی کروں تو بلاشبہ کھلی گمراہی میں پڑگیا، میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا سو میری طرف دھیان دو یعنی میری بات سنو، تو ان لوگوں نے اس کو سنگسار کردیا تو وہ مرگیا، بوقت انتقال اس کو حکم دیا گیا جنت میں داخل ہوجا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ جیتے جی جنت میں داخل ہوگیا کاش میری قوم کو میرے پروردگار کی طرف سے میری مغفرت کا اور مجھے معزز لوگوں میں داخل کرنے کا علم ہوجاتا اور ہم نے اس (حبیب) کی قوم پر آسمان سے اس کے مرنے کے بعد ان کو ہلاک کرنے کے لئے فرشتوں کا لشکر نہیں بھیجا اور نہ ہم کو کسی کے ہلاک کرنے کے لئے ملائکہ کو اتارنے کی ضرورت تھی مانافیہ ہے ان کی سزا تو صرف ایک چیخ تھی جو ان پر جبرئیل (علیہ السلام) نے ماری، سو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے یعنی خاموش مردہ ہو کر رہ گئے ان (کافر) بندوں پر اور جیسے ان لوگوں پر جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی افسوس کہ وہ ہلاک کردیئے گئے اور یہ حسرت کو ندا شدت الم کی وجہ سے ہے اور اس کو ندا مجازاً ہے یعنی اے حسرت یہ تیری حاضری کا وقت ہے لہٰذا تو حاضر ہوجا، ان کے پاس کبھی کوئی رسول نہیں آیا کہ اس کا مذاق نہ اڑایا ہو کلام حسرت کے سبب کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے اس کلام کے استہزاء پر دلالت کرنے کی وجہ سے جو مفضی ہے ان کی ہلاکت تک جو حسرت کا مسبب عنہ (یعنی سبب) ہے۔
فائدہ : حسرت کا سبب ہلاکت اور ہلاکت کا سبب استہزاء گویا کہ استہزاء بواسطہ ہلاکت کا سبب ہوا۔
کیا اہل مکہ کو نبی کے بارے میں لَسْتَ مُرْسَلاً کہتے ہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ ہم ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں اور وہ ہلاک شدگان ان کے یعنی اہل مکہ کے پاس (دنیا میں) لوٹ کر آنے والے نہیں اور استفہام تقریری ہے یعنی غور کیا کَمْ خبر یہ ہے، اور کثیراً کے معنی ہے، اور اپنے مابعد کا معمول ہے اور اپنے ماقبل کو اس میں عمل سے روکنے والا ہے، کیا یہ لوگ ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور اَنَّھُمْ الخ معنی مذکورہ کی رعایت کے ساتھ ماقبل ہے اور معنی میں اِنَّا اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ کثیراً کے ہے، اور سب کے سب محشر میں زندہ کرنے کے بعد ہمارے روبرو حساب کے لئے حاضر کئے جائیں گے ان نافیہ ہے یا مخففہ ہے کُلٌّ یعنی تمام مخلوق، کُلٌّ مبتداء ہے، لمَّا تشدید کے ساتھ اِلَّا کے معنی میں ہے یا تخفیف کے ساتھ ہے، اور لام فارقہ ہے اور مازائدہ ہے، جمیعٌ مبتداء
کی خبر (اول) ہے، اور معنی میں مجموعُوْنَ کے ہے، محضرون للحساب خبر ثانی ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : وَاضْرِبْ لَھُمْ مثلاً یہ کلام مستانف ہے، اور مخاطب آپ ﷺ ہیں، مفسر علام نے مثلاً کو اِضْرِبْ بمعنی اِجْعَلَ کا مفعول اول اور اصحابَ القریۃِ کو مفعول ثانی قرار دیا ہے مگر واضح اور احسن یہ ہے کہ اصحابَ القریۃِ مفعول اول اور مثلاً مفعول ثانی ہو، بعد میں چونکہ اصحاب القریۃ کی تشریح آرہی ہے، اس لئے مفعول اول کو مقدم کردیا تاکہ اجمال و تفصیل متصل ہوجائیں۔
قولہ : واضرب لھم الخ اس کا عطف ہو ای فانذرھم واضرب لھم اور ” ضرب مثل “ بعض اوقات ایک عجیب قصہ کی دوسرے عجیب قصہ کے ساتھ مطابقت ومماثلت بیان کرنے کے لئے بولا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ضرب اللہ مثلاً للذین کفروا امرأتَ نوحٍ اور بعض اوقات تطبیق و مماثلت کے قصد کے بغیر حالت غریبہ کو بیان کرنے کے لئے بھی اضربْ مثلاً ، بولا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول وضربنا لکم الْاَ مثَال پہلی صورت میں آیت کے معنی ہوں گے اجعل اصحابَ القریۃ مثلاً لِھٰؤلاءِ فی الغلو فی الکفر والا صرار فی التکذیب ای طَبَقَ حالھم بحالھم، اصحاب القریۃ سے پہلے مثل مضاف محذوف ہے، اِضرب لھم مثلاً مثل اصحاب القریۃ اور یہ مضاف مثلاً سے بدل الکل عن الکل ہے، اور بعض حضرات نے عطف بیان بھی مانا ہے، مگر یہ ان کے نزدیک ہے جو تعریف وتنکیر کے اختلاف کے باوجود بدل صحیح مانتے ہیں۔
قولہ : القریۃ قاف کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ الضیعۃ اولمصر الجامع، بستی، آبادی، جمع قُریٰ وقِریٰ (اعراب القرآن) یہاں قریہ سے روم کا مشہور شہر انطار کیہ مراد ہے۔
قولہ : المرسلین حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اہل انطاکیہ کے پاس اولاً اپنے حواریوں میں سے دو قاصد جن کا نام یحییٰ اور بولس تھا بھیجے تھے، اور وہب نے کہا ہے کہ ان کا نام یوحنَّا اور بَولَسْ تھا، اور صادق، مصدوق بھی کہا گیا ہے، اس کے بعد تیسرا قاصد بھیجا، اس کا نام شمعون تھا۔ (اعراب القرآن)
قولہ : الیٰ آخرہٖ ای آخر القصہ . قولہ : اِذ اَرْسلنا، اِذ جاءَ ھا المرسلون سے بدل المفصل من المجمل ہے۔
قولہ : رُسُل عیسیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد، مشہور یہی ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ بلا واسطہ اللہ کے رسول تھے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے رسولوں کو بھی اللہ کے رسول کہا جاسکتا ہے اس لئے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ان کو بھیجا تھا۔
قولہ : تَطَیَّرْنَا کے اصل معنی پرندوں سے نیک یا بدفال لینا، یہاں مطلقاً بدفال لینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، عرب کی عادت تھی کہ وہ پرندوں سے فال (شگون) لیا کرتے تھے، اگر بائیں جانب سے دائیں جانب کو پرندہ اڑ کر سامنے سے گذر جاتا تو عرب اس کو نیک فال مانتے تھے اور اس کو الطائر السانح کہتے تھے، اور اس کی ضد یعنی دائیں جانب سے بائیں جانب کو اڑ کر جانے والے پرندے سے بدفالی لیتے تھے اور اس الطائر البارح کہتے تھے، اس کے بعد ہر بد فال کے لئے استعمال ہونے لگا۔ (مصباح)
قولہ : رَبُّنا یَعْلَمُ اِنَّا اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ ، اِنَّا اِلَیْکُمْ مرسلُوْنَ میں دو تاکیدوں کا استعمال ہوا ہے ایک جملہ اسمیہ اور دوسرے اِنَّ اس لئے کہ وہاں تکذیب اور نفی میں بھی زیادہ تاکید نہیں تھی، یہاں چونکہ کئی تاکیدوں کے ساتھ انکار و تکذیب مؤکد ہے، اس لئے اثبات میں بھی کئی تاکیدات لائی گئی ہیں، اول قسم جو کہ قائم مقام تاکید کے ہے دوم اِنَّ تیسرے جملہ اسمیہ چوتھے لام تاکید۔
قولہ : بکفر کم باسببیہ ہے ای بسبب کفر کم .
قولہ : أئِنْ ذُکِّرْ تُمْ ہمزۂ استفہام انکاری تو بیخی ان شرطیہ پر داخل ہے، دونوں کو جواب کی ضرورت ہے اگر ہمزۂ استفہام اور شرط جمع جائیں تو سیبویہ ہمزۂ استفہام کا جواب قرار دیتے ہیں اور جواب شرط محذوف مانتے ہیں، اور یونس شرط کا جواب مانتے ہیں اور جواب استفہام محذوف مانتے ہیں، مفسر علام محلی نے جواب الشرط محذوف کہہ کر اشارہ کردیا کہ ان کے نزدیک سیبویہ کا مذہب راجح ہے، سیبویہ کے نزدیک تقدیر عبارت یہ ہوگی اَئِنْ ذُکِّرْ تُمْ تتَطَیَّرونَ اور یونس کے نزدیک ائِنْ ذکِّرْتُمْ تطیَّروا جزم کے ساتھ، مفسر علام نے بمَا غَفَرَلی رَبِّی کی تفسیر بغفرانہٖ سے کرکے اشارہ کردیا کہ مصدریہ ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ماموصولہ ہو اس صورت میں عائد محذوف ہوگا، اور تقدیر عبارت یہ ہوگی بالَّذِیْ غفرہٗ ربِّی من الذنوب اور استفہامیہ بھی صحیح ہے ای بایِّ شیئٍ غفرلی ای بامر ٍ عظیمٍ وھو تو حیدی وصدقی بالحق (صاوی) حسرت کو ندادینا مجازاً ہے اس لئے کہ حسرت میں منادیٰ بننے کی صلاحیت نہیں ہے۔
قولہ : یَاحَسْرَۃً علَی العِبَاد اس میں تین احتمال ہیں (1) یہ اللہ کا کلام ہو (2) ملائکہ کا کلام ہو (3) مومنین کا کلام ہو اور اَلْعبَاد سے مراد تمام کفار ہوں، اس صورت میں الف لام جنس کا ہوگا، اور کہا گیا ہے کہ العباد سے مراد رُسُل ہوں اور علیٰ بمعنی مِن ہو اور قائل کفار ہوں، تقدیر عبارت یہ ہوگی یَاحَسْرَۃً علَیْنَا مِن مخالفۃ العِبَادِ مگر پہلی صورت اولیٰ ہے جو مفسر علام نے بیان کی ہے۔
قولہ : اِلَّا کانوا بہٖ یَستھْزِءُوْنَ یہ جملہ یاتیْھمْ کے مفعول سے حال ہے۔
قولہ : مَسوقٌ لِبَیَانِ سببِھَا یہ جملہ مستانفہ ہے اور سبب حسرت کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے، گویا کہ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال کیا گیا، ماوَجْہُ التَّحَسُّر علیھمْ ؟ جواب دیا گیا مَا یاتِیْھِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بہٖ یَستَھْزِءُوْنَ یعنی یہ جملہ بالواسطہ سبب حسرت کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ استہزاء سبب ہلاکت ہے اور ہلاکت سبب حسرت ہے تو گویا استہزاء سبب حسرت ہے۔
قولہ : لا شتمالِہٖ ای لِدَلَالَۃِ ھَذا الکلام علی الإستھزاءِ ۔
قولہ : الَمْ یَرَوْا الخ یہاں رویۃ سے رویت علمیہ مراد ہے یعنی کیا اہل مکہ کو علم نہیں کَمْ خبر یہ ہے اور اَھْلَکْنَا کا مفعول مقدم ہے اور قَبْلَھُمْ اَھْلَکْنَا لا ظرف ہے اور مِنَ القرُوْنِ کَمْ کا بیان ہے اَلَمْ یَرَوْا میں استفہام تقریر یعنی مابعد نفی کا اقرار کرانے کے لئے ہے یعنی علم ہے کَمْ خبر یہ مابعد یعنی اَھْلَکْنَا کا معمول ہے ماقبل یعنی لَمْ یَرَوا کا معمول نہیں ہے اس لئے کہ کَمْ خبر یہ صدارت کلام کو چاہتا ہے لہٰذا اس کا ماقبل اس میں عامل نہیں ہوسکتا ورنہ تو اس کی صدارت باطل ہوجائے گی۔ (صاوی)
قولہ : مُعَلِّقَۃٌ مَا قَبْلَھَا عَنِ العَمَلِ یعنی کم خبر یہ نے اپنے ماقبل یعنی لم یَرَوا کو لفظاً عمل سے روک دیا ہے اگرچہ معنی میں عمل جاری ہے۔
سوال : عمل سے مانع کم استفہامیہ ہوتا ہے نہ کہ خبر یہ، اور یہ کم خبریہ ہے ؟
جواب : چونکہ کم میں استفہامیہ ہونا اصل ہے، لہٰذا تعلیق (مانع) ہونے میں کم خبریہ کو کم استفہامیہ کے قائم مقام کردیا ہے۔ (جمل)
تفسیر وتشریح
واضرب۔۔۔ القریۃ ضرب مثل کا استعمال دو طریقوں پر ہوتا ہے (1) کسی عجیب و غریب معاملہ کو ثابت کرنے کے لئے اسی جیسے عجیب و غریب معاملہ کی مثال بیان کرنے کو کہتے ہیں (2) مطلقاً کسی عجیب و غریب معاملہ کو بغیر کسی واقعہ کی تطبیق ومماثلت کے بیان کرنے کو کہتے ہیں۔ اوپر جن منکرین نبوت و رسالت کفار کا ذکر سابقہ آیات میں آیا ہے ان کو متنبہ کرنے کے لئے قرآن کریم نے بطور مثال پہلے زمانہ کا ایک قصہ بیان کیا ہے جو ایک بستی میں پیش آیا تھا۔
یہ بستی کونسی تھی اور وہ قصہ کیا تھا ؟ قرآن کریم نے اس بستی کا نام نہیں بتایا، تاریخی روایات میں محمد بن اسحٰق نے حضرت ابن عباس ؓ اور کعب احبار، اور وہب بن منبہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بستی انطاکیہ تھی، جمہور مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے، معجم البلدان کی تصریح کے مطابق انطاکیہ ملک شام کا مشہور اور عظیم الشان شہر ہے جو اپنی شادابی اور استحکام میں معروف ہے، اس شہر میں نصاریٰ کے عبادت خانے بکثرت تھے، زمانہ اسلام میں اس کو فاتح شام امین الامتہ حضرت ابوعبیدہ جراح ؓ نے فتح کیا تھا، روح البیان میں سہیلی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ شہر انطاکیہ کو آباد کرنے والا ایک شخص تھا جس کا نام انطیقس تھا، اسی شخص کی طرف نسبت کرتے ہوئے اس شہر کا نام انطاکیہ ہوگیا، بائبل کتاب اعمال کے آٹھویں اور گیارہوں باب میں ایک قصہ کے مشابہ قدرے تفاوت کے ساتھ انطاکیہ کا بیان ہوا ہے۔ (فوائد عثمانی ملخصًا)
اس قصہ کا ذکر مومنین کے لئے بشارت اور مکذبین کے لئے عبرت ہے، معجم البلدان میں یاقوت حموی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حبیب نجار (جس کا واقعہ اس آیت میں آگے آرہا ہے) اس کی قبر بھی انطاکیہ میں معروف ہے، دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لئے آتے ہیں، اس تصریح سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں قریہ کا ذکر ہے وہ یہی انطاکیہ ہے، لیکن ابن کثیر نے تاریخی حیثیت ماننی پڑے گی، صاحب فتح المنان نے ابن کثیر کے اشکالات کے جوابات بھی دیئے ہیں، مگر سہل اور بےغبار بات وہی ہے جو حضرت حکیم الامت مولانااشرف علی تھانوی (رح) تعالیٰ نے بیان القرآن میں اختیار فرمائی ہے، کہ آیات قرآنی کا مضمون سمجھنے کے لئے اس قریہ کی تعیین ضروری نہیں ہے، اور قرآن کریم نے بھی اس کو مبہم رکھا ہے تو اس کی تعیین کے لئے اتنا زور صرف کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ سلف صالحین کا یہ ارشاد کہ اَبْھِمُوْا مَا اَبْھَمَہُ اللہ یعنی اللہ نے جس چیز کو مبہم رکھا ہے تم بھی اس کو مبہم رکھو، اس کا مقتضی بھی یہی ہے۔
اذ۔۔۔ سلون یہ فرستادے حضرت (علیہ السلام) کے حواریین میں سے تھے، آیا ان کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اہل انطاکیہ کی جانب تعلیم و تبلیغ کی عرض سے بحکم خدا وندی بھیجا تھا، یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع الی السماء کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو تبلیغ دین کے لئے اہل انطاکیہ کی جانب بھیجا تھا دونوں احتمال ہیں (فتح القدیر) اہل انطاکیہ نے ان کی تکذیب کی، کہا گیا ہے کہ ان میں سے دو کے نام یوحنا اور شمعون تھے، اور بعض نے سمعان، ویحییٰ وبولس کہا ہے، انکے ناموں کی کسی صحیح روایت سے تصدیق نہیں ہوسکتی، اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بلاواسطہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے قاصد، اگر یہ حضرات بلا واسطہ پیغمبر تھے تو ان کی بعثت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے ہوئی تھی۔ (فوائد عثمانی ملخصًا)
اولاً دو رسول بھیجے گئے تھے جب بستی والوں نے ان کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کی تائید وتقویت کے لئے ایک تیسرا رسول بھیج دیا، پھر ان تینوں رسولوں نے بستی والوں کو خطاب کرکے کہا اِنَّا اِلَیْکُمْ مُرْسَلُوْنَ ۔
قالو۔۔ مثلنا بستی والوں نے کہا تم میں کونسا سرخاب لا پر ہے جو اللہ نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے، تم ہم سے کس بات میں بڑھ کر تھے جس کی وجہ سے اللہ نے تم کو نبوت و رسالت کے لئے منتخب فرمایا تم خواہ مخواہ اللہ کا نام لیتے ہو، معلوم ہوتا ہے تم تینوں نے سازش کرکے ایک بات گھڑلی ہے۔
قالو۔۔ بکم تطیر کے معنی بدفالی کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اس بستی والوں نے ان قاصدوں کی بات نہ مانی، بلکہ کہنے لگے کہ
تم لوگ منحوس ہو، بعض روایات میں ہے کہ ان کی نافرمانی اور فرستادوں کی بات نہ ماننے کی وجہ سے اس بستی میں قحط پڑھ گیا تھا، اس لئے بستی والوں نے ان کو منحوس کہا، تو ان حضرات نے کہا۔
طائر۔۔ معکم یعنی تمہاری نحوست تمہارے ہی ساتھ ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ خشک سالی وغیرہ سب تمہارے اعمال کا نتیجہ ہیں، وجاء اقصی المدینۃِ رجُلٌ یَّسْعٰی پہلی آیت میں اس بستی کو قریہ سے تعبیر کیا ہے اور اس آیت میں مدینہ سے، قریہ عربی زبان میں مطلقاً بستی کو کہتے ہیں خواہ بڑی ہو یا چھوٹی اور مدینہ بڑے شہر کو کہتے ہیں، یعنی شہر کے دور و دراز علاقہ سے یہ شخص تیزی کے ساتھ دوڑ کر یا اہتمام کے ساتھ آیا۔ دوڑ کر آنے والا شخص کون تھا ؟ یہ کیا کام کرتا تھا ؟ قرآن اس بارے میں خاموش ہے تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا نام حبیب تھا، اور مشہور یہ ہے کہ یہ نجار تھا، لکڑی کا کام کرتا تھا۔ (ابن کثیر)
تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بھی شروع میں بت پرست تھا۔
واقعہ کی تفصیل : مذکورہ قصہ کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں میں سے دو کو اہل انطاکیہ کی دعوت وتبلغ کے لئے بھیجا، ایک کا نام صادق اور دوسرے کا نام مصدوق تھا، (ناموں میں اختلاف ہے) جب یہ دونوں حضرات شہر انطاکیہ کے قریب پہنچے تو ان کی ملاقات حبیب نامی ایک بوڑھے سے ہوگئی، جو جنگل میں بکریاں چرارہا تھا، دعا سلام کے بعد شیخ نے ان سے پوچھا تم کون لوگ ہو اور کہاں سے آرہے ہو، تو ان دونوں حضرات نے جواب دیا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد ہیں، ہم تم کو بتوں کی عبادت سے رحمٰن کی عبادت دیتے ہیں، شیخ نے معلوم کیا کیا تمہارے پاس نشانی ہے، کہا ہاں ! ہم مریضوں کو اچھا کردیتے ہیں، اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو اللہ کے حکم سے صحت مند کردیتے ہیں، اور یہ ان حضرات کی کرامت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ تھا، شیخ نے کہا میرا ایک لڑکا ہے جو سالہاسال سے بیمار ہے، چناچہ یہ دونوں حضرات شیخ کے ہمراہ اس کے لڑکے کو دیکھنے کے لئے اس کے گھر چلے گئے، ان دونوں حضرات نے مریض پر ہاتھ پھیردیا، لڑکا بحکم خدا وندی اسی وقت تندرست ہوگیا، چناچہ یہ خبر آناً فاناً پورے شہر میں پھیل گئی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر سینکڑوں لوگوں کو شفاء عطا فرمائی، ان کا ایک بت پرست بادشاہ تھا جس کا نام انطیخا تھا، روح البیان میں اس بادشاہ کا نام بحناطیس رومی اور انطیخس لکھا ہے، شدہ شدہ ان حضرات کی خبر بادشاہ کو بھی پہنچ گئی، بادشاہ نے ان کو اپنے دربار میں بلایا اور معلوم کیا تم کون ہو ؟ جواب دیا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد ہیں، بادشاہ نے معلوم کیا تمہارے آنے کا کیا مقصد ہے ؟ ان حضرات نے جواب دیا ہم اس بات کی دعوت دینے آئے ہیں، کہ ان بہرے گونگے بتوں کی بندگی ترک کرکے قارد مطلق، دانا وبینا ایک خدا کی بندگی کرو، بادشاہ نے کہا کیا ہمارے معبودوں کے علاوہ بھی کوئی معبود ہے ؟ ان دونوں حضرات نے جواب دیا، ہاں ! جس نے تجھ کو اور تیرے معبودوں کو پیدا کیا، بادشاہ نے کہا اس وقت یہاں سے چلے جاؤ، ہم تمہارے معاملہ میں غور کرلیں، ان دونوں حضرات کے دربار سے نکلنے کے بعد لوگوں نے ان کا پیچھا کیا اور پکڑ لیا، ہر ایک کو سو سو کوڑے مارے اور جیل میں بند کردیا، اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریین میں سے سب سے بڑے حواری شمعون کو ان کی تائید و حمایت کے لئے بھیجا، شمعون ہیئت اور لباس بدل کر اس قربہ میں داخل ہوا، اور بادشاہ کے مصاحبین میں شامل ہوگیا، لوگ اس سے مانوس ہوگئے حتی کہ بادشاہ بھی اس سے مانوس ہوگیا، شمعون عبادت میں بظاہر بادشاہ کے طور طریقے اختیار کرتا رہا ایک روز موقع پا کر شمعون نے بادشاہ سے کہا سنا ہے کہ آپ نے دو آدمیوں کو اس بناء پر قید میں ڈال رکھا ہے کہ وہ تیرے معبودوں کے علاوہ کسی دوسرے معبود کا عقیدہ رکھتے ہیں، کیا آپ نے ان سے گفتگو کی ہے اور ان کی پوری بات سنی ہے ؟ بادشاہ نے جواب دیا میں غصہ کی وجہ سے نہ ان کی پوری بات سن سکا اور نہ ان کی تحقیق حال ہی کرسکا، شمعون نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ ان کو بلائیں اور پوری بات سنیں اور دیکھیں کہ وہ کیا کہتے ہیں، چناچہ بادشاہ نے ان دونوں کو بلایا، جب دونوں دربار میں حاضر ہوگئے تو شمعون نے سوال کیا تم کو یہاں کس نے بھیجا ہے ؟ جواب دیا کہ اس اللہ نے جس نے ہر شئ کو پیدا کیا اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، شمعون نے کہا اختصار کے ساتھ کچھ اور تفصیل بیان کرو، انہوں نے کہا اِنَّہٗ یَفْعَلُ مَایَشَاءُ ویَحْکُمُ مَایُرِیْدُ پھر شمعون نے کہا تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ ان حضرات نے کہا کو آپ چاہیں، چناچہ بادشاہ کے حکم سے ایک لڑکا لایا گیا جو نابینا تھا، حتی کہ اس کی آنکھوں کے نشانات بھی نہیں تھے، یہ حضرات اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں کے نشانات ظاہر فرمادیئے، ان حضرات نے مٹی کی دو گولیاں لیکر آنکھوں کے نشانات میں رکھ دیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ آنکھ کی پتلیاں بن گئیں، اور ان سے نظر آنے لگا، بادشاہ کو نہایت تعجب ہوا، شمعون نے بادشاہ سے کہا اگر آپ اپنے معبودوں سے دعا کرتے تو کیا یہ ممکن تھا ؟ بادشاہ نے شمعون سے کہا تجھ سے کوئی راز پوشیدہ نہیں، ہمارے معبود جن کی ہم بندگی کرتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ وہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں، اور نہ نقصان، بادشاہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصدوں سے کہا اگر تملہارا معبود مردے کو زندہ کردے تو میں اس پر ایمان لے آؤں گا، ان حضرات نے جواب دیا ہمارا معبود ہر شئ پر قادر ہے، بادشاہ نے کہا، یہاں ایک میت ہے جس کا ایک ہفتہ قبل انتقال ہوا ہے اور وہ ایک دیہاتی کا لڑکا ہے اس کا باپ سفر میں ہے، میں نے اس کے والد کے آنے تک میت کو دفن کرنے سے منع کردیا ہے، حتی کہ اب اسمیں تعفن بھی ہوگیا ہے، ان دونوں حضرات نے علانیہ اور شمعون نے خفیہ دعاء کرنی شروع کی، چناچہ وہ لڑکا بحکم خدا وندی اٹھ کھڑا ہوا، اور کہنے لگا مرا انتقال ایک ہفتہ پہلے ہوا تھا، اور میں مشرک تھا، چناچہ مجھکو جہنم کی سات وادیوں میں داخل کردیا گیا، میں تمکو اس دین و مذہب کے بارے میں خدا سے ڈراتا ہوں جس پر تم ہو، چناچہ یہ لوگ اللہ پر ایمان لے آئے، زندہ ہونے والے لڑکے نے کہا میرے سامنے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، اور مجھے ایک حسین و جمیل نوجوان نظر آرہا ہے جو ان تینوں یعنی شمعون اور اسکے دونوں ساتھیوں کی سفارش کررہا ہے، اور میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور عیسیٰ اس کی روح اور اس کے کلمہ ہیں، ایک روایت میں ہے کہ یہ واقعہ دیکھکر بادشاہ اور اسکی قوم کے کچھ افراد ایمان لے آئے، ایک روایت میں ہے کہ بادشاہ نے دعوت حق قبول کرنے سے انکار کردیا اور انکے قتل کے درپے ہوگیا جب حبیب نجار کو یہ صورت حال معلوم ہوئی تو وہ شہر کے دور دراز کنارے سے دوڑتا ہوا آیا، اور انکو سمجھانے کی کوشش کی اور پھر اپنے مومن ہونے کا اعلان ان کلمات سے کردیا اِنِّی آمنتُ بِرَبِّکُمْ فاسْمَعُوْنِ یہ خطاب رسولوں کو تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پوری قوم کو خطاب ہو اور اللہ کو
ان کا رب کہنا اظہار حقیقت کے طور پر تھا، اگرچہ وہ اس کو تسلیم نہ کرتے تھے (واقعہ کی تفصیل روح البیان اور صاوی سے ماخوذ ہے)
قیل۔۔ الجنۃ (الآیۃ) قرآن کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حبیب نجار کو شہید کردیا گیا اس لئے کہ دخول جنت یا آثار جنت کا، شاہدہ بعد از مرگ ہی ہوسکتا ہے، تاریخی روایات میں حضرت عباس ؓ مقاتل، مجاہد، ائمہ تفسیر سے منقول ہے کہ اس شخص کا نام حبیب بن اسماعیل نجار تھا، اور یہ ان خوش نصیب لوگوں میں ہے جو ہمارے رسول محمد ﷺ پر آپ کی بعثت سے چھ سو سال پہلے ایمان لایا، جیسا کہ تبَّع اکبر کے متعلق منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بشارت کتب سابقہ میں پڑھ کر آپ پر ایمان لایا تھا، تیسرے بزرگ جو آپ پر آپ کی بعثت و دعوت سے پہلے ایمان لائے ورقہ بن نوفل ہیں، جن کا ذکر بخاری شریف میں ابتداء وحی کے واقعات میں ہے، یہ بھی آپ ﷺ کی حصوصیات ہے کہ آپ کی بعثت بلکہ ولادت سے بھی پہلے آپ پر بعض حضرات ایمان لائے، ایسا معاملہ کسی اور رسول کے ساتھ نہیں ہوا۔
وما۔۔۔ السماء (الآیۃ) یہ اس قوم پر آسمانی عذاب کا ذکر ہے جس نے رسولوں کی تکذیب کی، اور حبیب نجار کو مار مار کر شہید کردیا تھا، اور عذاب کی تمہید کے طور پر فرمایا کہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کے لئے ہمیں آسمان سے کوئی لشکر بھیجنا نہیں پڑا، اور نہ ایسا لشکر بھیجنا ہمارا دستور ہے، کیونکہ اللہ کا ایک ہی فرشتہ بڑی بڑی بہادر قوموں کو تباہ کردینے کے لئے کافی ہے، اس کو فرشتوں کا لشکر بھجنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس تمہید کے بعد ان پر آنے والے عذاب کو بیان فرمایا کہ بس اتنا ہوا کہ حضرت جبرئیل امین نے شہر پناہ کے دروازے کی چوکھٹ کے دونوں بازو پکڑ کر ایک ایسی زور دار چیخ ماری کہ سب کے پتّے پھٹ گئے اور روح پرواز کرگئی اور بجھ کر ٹھنڈے ہو کر رہ گئے۔ (معارف ملخصًا)