Yaseen 36:79

Yaseen · from ayah 79

36:79

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ؕ— وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُ ۟ۙقُلۡ يُحۡيِيۡهَا الَّذِىۡۤ اَنۡشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ‌ ؕ وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيۡمُ

کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "He will give them life who produced them the first time; and He is, of all creation, Knowing."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:79

اس سے کہو، اِنہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا، اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ جواب دیجئے! کہ انہیں وه زنده کرے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے، جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : ان کو وہی زندگی دے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور وہ پیدا کرنے کا ہر کام جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا، اور اسے ہر پیدائش کا علم ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: انہیں وہی زندہ فرمائے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور وہ ہر مخلوق کو خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے انھیں وہ زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہ ہر طرح کا پیدا کرنا خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ اسے کہئے کہ : اسے وہی زندہ کرے گا جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلے مرتبہ پیدا کیا اور وہ ہر مخلوق سے اچھی طرح باخبر ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس سے) کہو کہ ان کو وہی (قادر مطلق) زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے (عدم محض سے) اور وہ ہر پیدائش کو پوری طرح جانتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا اور وہی سب طرح کا پیدا کرنا خوب جانتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کا مکمل علم رکھنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: “He Who first brought them into being will quicken them; He knows well about every kind of creation;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :These will be revived by the same One who had created them for the first time, and who is fully aware of every creation,

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :These will be revived by the same One who had created them for the first time, and who is fully aware of every creation,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "He will give life to them Who created them for the first time! And He is the All-Knower of every creation!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: He will revive them Who produced them at the first, for He is Knower of every creation,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "He will give them life who produced them the first time; and He is, of all creation, Knowing."

— Saheeh International

(Muhammad), tell him, "He who gave them life in the first place will bring them back to life again. He has the best knowledge of all creatures.

— Muhammad Sarwar

Say: He will give life to them Who brought them into existence at first, and He is cognizant of all creation

— Muhammad Habib Shakir

Say thou:" He shall quicken them Who brought them forth for the first time, and He is of every kind of creation the Knower!

— Abdul Majid Daryabadi

Say, "He will give them life Who created them for the first time! for He is Well-versed in every kind of creation!-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:79

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–80

موت کے بعد زندگی ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے حضور ﷺ سے کہنے لگا آپ کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کردے گا پھر زندہ کردے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 78–79

سورة یٰسٓ 66 یعنی ہمیں مخلوقات کی طرح عاجز سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح انسان کسی مردے کو زندہ نہیں کرسکتا، اسی طرح ہم بھی نہیں کرسکتے۔ سورة یٰسٓ 67 یعنی یہ بات بھول جاتا ہے کہ ہم نے بےجان مادہ سے وہ ابتدائی جرثومہ حیات پیدا کیا جو اس کا ذریعہ تخلیق بنا اور پھر اس جرثومے کو پرورش کر کے اسے یہاں تک بڑھا لائے کہ آج وہ ہمارے سامنے باتیں چھانٹنے کے قابل ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–79

(آیت) ضرب لنا مثلاً یہاں ضرب مثل سے مراد اس کا یہ واقعہ ہے کہ بوسیدہ ہڈی کو ہاتھ سے ریزہ ریزہ کرتے ہوئے اس کے دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستبعد سمجھا۔ اس کے بعد فرمایا (آیت) ونسی خلقہ، یعنی اس مثال کے بیان کرنے کے وقت وہ خود اپنی پیدائش کو بھول گیا کہ ایک حقیر اور ناپاک قطرہ بےجان میں جان ڈال کر اس کو پیدا کیا ہے۔ اگر وہ اپنی اس اصل کو نہ بھولتا تو ایسی مثالیں پیش کر کے قدرت آلٰہیہ کے انکار کی جرأت نہ کرتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 79 ’ وھو بکل خلق علیم ‘۔ ’ خلق ‘ یہاں مخلوق کے معنی میں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات کو جانتا ہے۔ ’ الا یعلم من خلق ‘ (کیا وہ نہیں جانے لگا جس نے پیدا کیا) کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ مٹی میں رل ملی جانے کے بعد وہ ان کو بھول جائے گا۔ وہ ان کے وجود کے ایک ایک ذرے سے باخبر ہے۔ قد علمنا ما تنقص الارض منھم وعندنا کتب حفیظ (ق۔ 4) (زمین ان کے اندر سے جو کچھ کم کرتی ہے ہم اس کو جانتے رہے ہیں اور ہمارے پاس سارا ریکارڈ رکھنے والی ایک کتاب ہے)۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

79۔ 1 یعنی جو اللہ تعالیٰ انسان کو ایک حقیر نطفے سے پیدا کرتا ہے، وہ دوبارہ اس کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے ؟ اسکی قدرت احیائے موتی کا ایک واقعہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے مرتے وقت وصیت کی کہ مرنے کے بعد اسے جلا کر اس کی آدھی راکھ سمندر میں اور آدھی راکھ تیز ہوا والے دن خشکی میں اڑا دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ساری راکھ جمع کرکے اسے زندہ فرمایا اور اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا تیرے خوف سے۔ چناچہ اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 75–79

23: یعنی جن من گھڑت خداؤں سے یہ مدد کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، وہ ان کی مدد تو کیا کرتے ؟ قیامت کے دن ان کا پورا لشکر ان کے خلاف گواہی دے گا، جیسا کہ قرآن کریم نے سورة سبا اور سورة قصص میں بتلایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–79

وضرب ۔۔۔۔۔ خلق علیم (36: 78-79) ” وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے ۔ کہتا ہے ” کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں “۔ اس سے کہو ، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے “ کس قدر سادہ منطق ہے یہ ؟ نہایت فطری استدلال ۔ ایسا استدلال جو مشاہدہ کے مطابق نظر آتا ہے ۔ یہ نطفہ جو کچھ کہ وہ ہے کیا وہ بوسیدہ ہڈیوں سے زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے ۔ کیا انسان اسی نطفے سے نہیں بنا اور کیا انسان کی پیدائش ثالی کا عمل پیدائش ادل کا عمل نہیں ہے اور جس ذات نے اسے حقیر نطفے کو ایک انسان بنایا اور اسے وہ شخصیت دی کہ وہ صریح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی جس نے پہلی مرتبہ ان ہڈیوں میں جان ڈالی اسے دوسری بار جان ڈالنا کیا مشکل ہے۔ بلکہ پہلے سے زیادہ آسان ہونا چاہیے۔ (وہو اہوں علیہ) اور اس قادر مطلق کے لیے تو سب ہی چیز آسان ہے پہلی مرتبہ ہو یا دوسری مرتبہ، وہ ہر طرح بنانا جانتا ہے اور بدن کے اجزاء اور ہڈیوں کے ریزے جہاں کہیں منتشر ہوگئے ہوں ان کا ایک ایک ذرہ اس کے علم میں ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 79 { قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَہَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔“ اس اعتراض کے جواب میں یہ دلیل قرآن حکیم میں متعدد بار بیان فرمائی گئی ہے جسے معمولی سمجھ بوجھ کا انسان بھی بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ یعنی کسی چیز کا ابتدائی طور پر پیدا کرنا ‘ یا کسی بھی کام کا پہلی مرتبہ انجام دینا ‘ اس کا اعادہ کرنے کے مقابلے میں بظاہر زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ تو جس ہستی نے پہلی دفعہ انسان کو بنایا ہے اس کے لیے اسے دوبارہ بنانا بھلا کیونکر مشکل ہوگا ! { وَہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُ } ”اور وہ ہر مخلوق کا مکمل علم رکھنے والا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

71 اللہ کی تخلیق کے مختلف طریقے :۔ یعنی ایک بیج سے تناور درخت بنا کھڑا کرنے کی صورت اور ہے۔ بےجان غذاؤں سے نطفہ اور نطفہ سے حیوانات اور انسان کو پیدا کر دکھانے کی صورت اور ہے۔ اور کسی مردہ انسان کے گلے سڑے اجزاء کو ملا کر اکٹھا کرکے ان کو زندہ کھڑا کردینے کی صورت اور ہے۔ غرضیکہ کائنات میں تخلیق کئی صورتوں سے ہو رہی ہے اور اللہ چونکہ خود ہر چیز کا خالق ہے۔ لہذا وہ ان سب طریقوں اور صورتوں کو پوری طرح جانتا ہے اور انسان جو ان صورتوں میں کوئی ایک صورت بھی نہیں جانتا نہ جان سکتا ہے وہ اپنے خیال اور اپنی محدود عقل کے مطابق ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ سو جوا ابداء پر قدرت رکھتا ہے، اس کیلئے اعادہ کیا دشوار ہے، بلکہ جو ابداء پر قادر ہے اسے تو قیاس انسانی کے مطابق اعادہ پر اور زیادہ قادر ہونا چاہیے۔ فیہ من اوضح الدلیل علی ان من قدرعلی الابتداء کان اقدر علی الاعادۃ (جصاص) فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت سے قیاس منطقی وفقہی کی حجیت ثابت ہوئی ہے۔ وفیہ الادلالۃ علی وجوب القیاس والاعتبار لانہ الزمھم قیاس النشأۃ الثانیۃ علی الاولی (جصاص) ففی ھذا دلیل علی صحۃ القیاس لان اللہ عزوجل احتج علی منکر البعث بالنشأۃ الاولی (قرطبی) (آیت) ” قال ..... رمیم “۔ ” روشن خیال “۔ منکرین بعث کا بیان ہورہا ہے، جن کی کمی کسی زمانہ بھی بھی نہیں رہی ہے۔ وہی گستاخانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–83

آیت نمبر 68 تا 83 ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل یحییھا الذی انشآھا اول مرۃٍ وھو بکل خالق علیم . آپ کہہ دیجئے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار ان کو زندگی عطا کی اور وہ سب طرح پیدا کرنا خوب جانتا ہے۔ قُلْ یُحْیِیْھَا الَّذِیْ الخ پیدا کرنے والے کی قدرت میں کوئی تغیر نہیں ‘ وہ بحالہ باقی ہے اور مادّہ بالذات قابلیت رکھتا ہے ‘ اسلئے وہ دوبارہ زندہ کر دے گا۔ بِکُلِّ خَلْقٍ خلق سے مراد ہے مخلوق۔ عَلِیْم یعنی مخلوقات کی تفصیل اور کیفیت تخلیق کو جانتا ہے۔ وہ اجسام کے منتشر ‘ متفرق اجزاء کے اصول ‘ مواقع اور امتیاز کے طریقوں اور سابق کے طور پر ان کو باہم جوڑنے اور گذشتہ اعراض اور قوتوں کو لوٹا کر لانے یا ازسرنو پیدا کرنے سے واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ اس کو جواب دے دیجیے کہ وہ ذات زندہ کرے گی جس نے پہلی بار ان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے اور وہ ہر ایک چیز سے پیدا کرنا جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَهَآ : یعنی جس نے ان ہڈیوں کو اس وقت پیدا کرلیا جب ان کا وجود ہی نہ تھا، پھر ان میں جان ڈال دی، وہی انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، کیونکہ دوبارہ بنانا تو زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اگرچہ اس قادر مطلق کے لیے پہلی مرتبہ بنانا اور دوبارہ بنانا یکساں آسان ہے۔ دیکھیے سورة روم (27)۔ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ : ”خَلْقٍ“ مصدر بھی ہوسکتا ہے، یعنی ”ہر طرح کا پیدا کرنا“ اور اسم مفعول بمعنی مخلوق بھی، یعنی ”ہر ہر مخلوق“ پہلا معنی ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ ہر چیز کے متعلق خوب جانتا ہے کہ اسے کس طرح پیدا کرنا ہے، پھر یہ بھی کہ اسے پہلی دفعہ کیسے پیدا کرنا ہے اور دوبارہ کیسے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 78–79

مسئلہ نمبر -1 وہ بھول گیا کہ ہم نے اسے مردہ نطفہ سے پیدا کیا اور ہم نے اس کی زندگی کو رکھ دیا یعنی اس کی ذات میں ہی جواب موجود ہے اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ہاں اللہ تعالیٰ تجھے اٹھائے اور اور تجھے جہم میں داخل کرے گا (1) “ اس میں قیاص کی صحت پر دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے منکرین بعث کے خلاف پہلی دفعہ پیدا کرنے سے استدلال کیا ہے۔ رمیم کا معنی بوسیدہ ہے یوں جملہ بولا جاتا ہے : رم العظیم فھو رمیم و رمام۔ رمیم فرمایا رمیمہ نہیں کہا کیونکہ یہ فاعلۃ سے معدول ہے جو کلمہ اپنے وزن سے معدول ہوا سے اعراب سے بھی پھیردیا جاتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما کا نت امک بغیا۔ ) مریم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 79–83

2:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ میں ایک بوسیدہ ہڈی تھی اس نے اس کو اپنے ہاتھ سے توڑا پھر کہا اے محمد ﷺ اس کو اللہ تعالیٰ کیسے زندہ کرے گا اس حال میں کہ وہ بوسیدہ ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اللہ تعالیٰ اس کو دوبارہ زندہ کرے گا) اور تجھ کو موت دے گا پھر تجھ کو جہنم میں داخل کرے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قل یحییھا الذی انشاھا اول مرۃ، وھو بکل خلق علیم “ (آپ فرمادیجئے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار ان کو زندگی عطا کی اور وہ سب طرح پیدا کرنا خوب جانتا ہے ) بروز قیامت دوبارہ زندہ ہونا : 3:۔ ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ [وہ زندہ کرے گا ان کو جس نے ] اَنْشَاَهَآ [بنایا ان کو ] اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ [پہلی مرتبہ ] وَهُوَ [اور وہ ] بِكُلِّ خَلْقٍ [پیدا کرنے کے ہر ایک (طریقہ) کو ] عَلِـيْمُۨ [ہر حال میں جاننے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْ اَنشَاَھَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (آپ جواب میں فرما دیجیے کہ ان ہڈیوں کو وہی زندہ فرمائے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا فرمایا) (وَّھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ) (اور وہ ہر مخلوق کو جاننے والا ہے) اس میں منکرین کا یہ اشکال دور کردیا کہ ہڈیاں گل جائیں گی ان کے ریزے کہاں کہاں پہنچے ہوں گے پھر کیسے جمع کیے جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ جس نے پیدا کیا تھا اسے سب پتہ ہے کہ کون سی چیز کہاں ہے، اسے اس کا علم ہے کہ کون سا ذرہ کہاں پہنچا اور کس جگہ میں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–83

بآشکار ونہاں ہر چہ کردی وگفتی جزا و بد بتو دانائے آشکارد نہاں منکرین حشر کا ایک شبہہ یا وسوسہ اور اس کا جواب (1) قال اللہ تعالیٰ اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ۔۔۔ الی۔۔۔ فسبحن الذی بیدہ ملکوت کل شیء والیہ ترجعون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دلائل اور براہین سے وحدانیت کو ثابت کردیا اور اس ضمن میں انکار حشر کا بھی زکر تھا اب آئندہ آیات میں ثبوت حشر ونشر پر دلائل قائم کرتے ہیں اور منکرین حشر کے ایک شبہ اور استبعاد کا جواب دیتے ہیں یہ لوگ حشر ونشر کو ناممکن اور محال اور بعید از عقل جانتے تھے اور عجیب عجیب باتیں کرتے تھے چناچہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ابی بن خلف یا عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 78–79

48:۔ قل یحییہا الخ : یہ جواب شکوی ہے اور ساتھ ہی بعث و نشور (قیامت) پر عقلی دلیل بھی ہے فرما دیجئے، بوسیدہ ہڈیوں میں از سر نو وہی جان ڈالے گا جس نے ان کو پہلے نیست سے ہست کیا اور وہ ہر مخلوق کو جانتا ہے ہر مردے کے متفرق اور بکھرے ہوئے اجزاء اسے معلوم ہیں اور بدن میں ہر جز کا مقام بھی اسے معلوم ہے یعلم جل و علا بجمیع الاجزاء المتفتۃ المتبددۃ لکل شخص من الاشخاص اصولہا و فروعہا واوضاع بعضہا من بعض من الاتصال والانفصال والاجتماع والفتراق فیعید کلا من ذلک علی الخط السابق مع القری التی کانت قبل (روح ج 23 ص 55) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–83

ربط آیات گزشتہ دروس میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے توحید کے عقلی دلائل دیے جن میں غور و فکر کرکے انسان اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہی دلائل وقوع قیامت کے لیے بھی کافی ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ کفار و مشرکین کی بیہودہ باتوں سے غمگین نہ ہوں ، ہم ان کے ظاہر و باطن کو جانتے ہیں اور ان کے عقائد و اعمال کا ضرور بدلہ دیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی اللہ نے اپنی وحدانیت اور اپنی قدرت پر دلائل پیش کیے ہیں اور ساتھ ساتھ مشرکین کا رد فرمایا ہے۔ انسان کی پیدائش ارشاد ہوتا ہے اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ کیا انسان نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ يُحْيِيْہَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَہَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ۝ 0 ۭ وَہُوَبِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ۝ 79ۙ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 79–80

خدا تعالیٰ اس کا جواب دیتا ہے۔ قل یحیہا الذی انشائھا اول مرۃ اے محمد ﷺ کہہ دے ان بوسیدہ ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا کہ جس نے ان کو اول بار بنایا تھا اور ان کا کچھ بھی وجود نہ تھا، پھر باردگر بنانا اس کو کیا نہیں آتا ؟ وھو بکل خلق علیم حالانکہ وہ ہر ہر چیز مخلوقات کی جانتا ہے، کوئی ذرہ اجزائِ بدن کا اس سے مخفی نہیں، بارِدگر سب کو ملادے گا اور روح ڈال دے گا یا یوں کہو وہ ہر طرح سے پیدا کرنا جانتا ہے، کوئی ذرہ اجزائِ بدن کا اس سے مخفی نہیں۔ بارِدگر سب کو ملادے گا اور روح ڈال دے گا یا یوں کہو وہ ہر طرح سے پیدا کرنا جانتا ہے۔ فالخلق مصدر وعلی الاول بمعنی المخلوق۔ اس کے بعد اور دلیل بیان فرماتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ یُحْیِیْھَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَھَـآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط وَھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُ نِ ۔ (یٰسٓ: 79) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کو جاننے والا ہے۔ ) مخالفین کے اعتراض کا جواب آخرت میں ازسرنو زندگی پر کفار کا اعتراض دو وجہ سے تھا۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ ہزاروں سال میں فنا کے گھاٹ اتر جانے والی مخلوق جن کا ریشہ ریشہ اور ذرہ ذرہ ہوا میں اڑ چکا ہے اور جن کے جسم کا کوئی حصہ محفوظ نہیں، آخر انہیں دوبارہ زندہ کیسے کیا جائے گا ؟ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ کوئی شخص کہاں مرا، کہاں اس کی قبر بنی اور اس کی لاش مٹی ہو کر کہاں کہاں پھیل گئی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 78–80

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر کو اس کی پیدائش کا حوالہ دے کر قیامت قائم ہونے کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ اگر انسان کو اپنی تخلیق یاد ہو تو وہ قیامت کا انکار نہ کرے اور نہ ہی اس کے بارے میں بحث و تکرار کرے۔ کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے ہی پہلی بار پیدا کیا ہے اور وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے۔ اس نے نہ صرف انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے بلکہ تمہارے لیے ہر بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے جس سے تم آگ حاصل کرتے ہو۔ کیا انسان اس پر بھی غور نہیں کرتا کہ جس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور جس نے سبز درخت میں آگ پیدا کی اور جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ کیا اب وہ انہیں پیدا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

79: قُلْ یُحْیِیْھَا الَّذِیْ اَنْشَاَھَا (آپ جو اب میں کہہ دیجئے۔ کہ ان کو وہ زندہ کریگا۔ جس نے اول بار ان کو پیدا کیا ہے) انشاء ھا ؔ کا معنی ان کو پیدا کیا ہے۔ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (پہلی مرتبہ) یعنی ابتداء وَھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ (وہ سب طرح کا پیدا کرنا جانتا ہے) خَلْق۔ مخلوق کے معنی میں ہے۔ علیم اللہ تعالیٰ پر اس کے اجزاء مخفی نہیں اور نہ مخفی ہوسکتے ہیں۔ خواہ خشکی و سمندر میں منتشر ہوجائیں۔ وہ ان کو جمع کر کے اسی طرح لوٹادے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 77–79

77 تا 79۔ مستدرک حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جس روایت کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے 2 ؎ جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن مثیر 581 ج 3) (2 ؎ الدر المنثور ص 269 ج 5) ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص مشرک عاص بن وائل ایک روز ایک بوسیدہ ہڈی کو لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور اس ہڈی کو مل کر اس کی خاک ہوا میں اڑانے اور کہنے لگا اسی کو خدا پھر پیدا کرے گا آپ نے فرمایا ہاں یہی حالت تیری ہوجانے کے بعد اللہ تجھ کو پھر پیدا کرے گا اور پھر تجھ کو دوزخ میں دھکیل دے گا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی دوسری روایت تفسیر ابن ابی حاتم میں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 77–83

آیت 77 ان آیت کریمہ میں، منکرین قیامت کے شبہات اور ان کے مکمل، بہترین اور واضح جواب کا ذکر کیا گیا ہے، چناچہ فرمایا : (اولم یر الانسان) کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے پر غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے (من نطفۃ) ” نطفے سے “ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتی کہ بڑا ہو کر جو ان ہوجاتا ہے اور اس کی عقل کا مل اور درست ہوجاتی ہے (فاذا ھو خصیم مبین) ’ دتو یکایک وہ صریح جھگڑا لو بن بیٹھتا ہے۔ “ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتد ا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت پر غور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–83

کسی چیز کو پہلی بار پیدا کرنا مشکل، دوبارہ آسان ہوتا ہے قول باری ہے (قال من یحی العظام وھی رمیم کہنے لگا ہڈیاں جب بوسیدہ ہوجائیں تو انہیں کون زندہ کرے گا ؟ ) پھر ارشاد ہوا (قل یحیھا الذی انشاھا اول مرہ۔ آپ کہہ دیجئے انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا) اس میں اس بات کی واضح ترین دلیل موجود ہے کہ جو ذات ابتداء کرنے پر قادر ہے وہ اعادے پر زیادہ قادر ہوتی ہے۔ کیونکہ ظاہری طور پر کسی چیز کا اعادہ کرنا اس کی ابتدا کرنے سے زیادہ سہل ہوتا ہے۔ اس لئے جو ذات شروع میں کسی چیز کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتی ہے وہ اس صورت میں اس چیز کو دوبارہ پیدا کرنے پر زیادہ قادر ہوتی ہے جس میں اس چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

82 بعث بعد الموت کے اثبات کے لیے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ : سو بعث بعد الموت کے لیے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہر مخلوق کو پوری طرح جانتا ہے۔ لہٰذا تمہارے جسموں کے پوشیدہ اور بوسیدہ ذرات اس کے علم سے باہر نہیں ہوسکتے۔ " علق " کا لفظ یہاں پر مخلوق کے معنیٰ میں ہے۔ سو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ اپنی ہر مخلوق اور اس کی ہر حالت کو پوری طرح جانتا ہے۔ بھلا خالق سے اس کی کوئی مخلوق یا کسی مخلوق کی کوئی حالت کس طرح اور کیونکہ مخفی رہ سکتی ہے ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ } ۔ یعنی " کیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 76–82

لوگوں کے دوبارہ پیدا کیے جانے کے قرآنی دلائل تشریح : اللہ جل شانہ اپنے پیارے نبی کو تسلی دیتا ہے کہ آپ ان کی باتوں سے یعنی کفار کی حجت بازی سے پریشان نہ ہوں۔ میرے علم میں یہ بات بخوبی ہے کہ اصل میں یہ آپ کی حقیقی خوبیوں کو جانتے ہیـں مانتے ہیں مگر صرف ضد بازی میں آپ کے سامنے اور لوگوں کے سامنے یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ انسان ہے کیا چیز ! اگر یہ اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے اپنے سارے سوالوں کے جواب دلیلوں کے ساتھ مل جائیں۔ انہوں نے اگر مردہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو کیا ہوا ؟ ہر وقت یہ ہر طرف انسان، چرند پرند، پھول پھل اور ہر قسم کی نباتات کو پیدا ہوتے پھولتے پھلتے نہیں دیکھتا ؟ کیا یہ ثبوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–83

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83: اسرار و معارف : اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 79–80

ف 6 یعنی اس نے پہلے تو پانی سے سرسبز شاداب درخت پیدا کیا پھر اسے سکھا کر ایندھن بنا دذیا جس سے اب تم آگ جلا رہے ہو۔ بعض علماء تفسیر نے ” سبز درخت “ سے مراد غفار اور مرخ نامی دو درخت لئے ہیں جن کی ہری بھری ٹہنیاں لے کر اہل عرب انہیں آپس میں ٹکراتے تو ان سے آگ پیدا ہوجاتی اور وہ انہی سے آگ حاصل کرتے تھے واللہ اعلم۔ ( کذا فی الوضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:79) قل : ای قل یا محمد ﷺ آپ کہئے یا جواب دیجئے۔ یحییھا۔ یحییٰ مضارع واحد مذکر غائب احیاء (افعال) مصدر، وہ زندگی دیتا ہے ۔ وہ زندہ کردیتا ہے۔ وہ جان ڈال دیتا ہے۔ ھا ضمیر واحد مذکر غائب اس کا مرجع العظام ہے۔ وہ زندہ کر دے گا ان ہڈیوں کو۔ انشاھا۔ انشا ماضی واحد مذکر غائب ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع بھی العظام ہے (جس نے) ان کو پیدا کیا تھا۔ اول مرۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ پہلی بار۔ پہلی مرتبہ۔ مرۃ ایک بار۔ اس کی جمع مرار ومرات ہے۔ وھو، میں وائو حالیہ ہے۔ کل خلق مضاف مضاف الیہ (کل حرف جار باء کی وجہ سے مجرور ہے) خلق بمعنی مخلوق ۔ کل خلق۔ ہر قسم کی مخلوق، تمام مخلوقات۔ وھو بکل خلق علیم وہ سب طرح…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–83

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 77–79

مرنے کے بعد زندگی کی دلیل۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت عاص بن وائل یا ابوجہل اور بقول مشہور ابی بن خلف کے حق میں نازل ہوئی مرنے کے بعد اٹھنے کا انکار میں نبی ﷺ سے بحث و تکرار کرنے آیا تھا اس کے ہاتھ میں ایک گلی ہوئی ہڈی تھی اسکوتوڑتا جاتا اور نبی ﷺ سے کہتاجاتا تھا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ اس ہڈی کو گل جانے اور ریز ریزہ ہوجانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ زندہ کرے گا، نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اور تجھے بھی مرنے کے بعد اٹھائے گا اور جہنم میں داخل فرمائے گا، اور اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس کے جہل کا اظہار فرمایا گیا کہ گلی ہوئی ہڈی کو بکھرنے کے بعد اللہ کی قدرت سے زندگی قبول کرنا اپنی نادانی سے ناممکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 75–79

[25] یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود اس لئے بنائے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں مگر ہو یہ رہا ہے کہ وہ تو ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں خود یہی لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے حاضر باش خدام اور سپاہی بنے ہوئے ہیں اور ان کی حمایت میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور لوگوں کو ان کا گرویدہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: ان آیات میں اظہار افسوس کیا ہے ۔ کہ انسان اپنے محسن حقیقی کو نہیں پہچانتا اور شرک جیسے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ۔ وہ خدا جس نے اس کے لئے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ یہ اس کو چھوڑ کر دوسروں کے آستانوں پر جھکتا ہے ۔ حالانکہ وہ مشکلات اور مصیبتوں میں ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے ۔ اور آخرت میں ان کے فریق مخالف کی حیثیت سے پیش ہونگے ۔ اس کے بعد حضور کی تسکین کے لئے رمایا ۔ کہ آپ ان کے ملحدانہ اقوال سے ازرہ خاطر نہ ہوں ۔ ہم ان کے اعمال کی پوری پوری نگرانی کررہے ہیں ۔ اس کے بعد کی آیات میں ان کی توجہ کو نفس انسان کی پیدائش کی طرب مبذول کرکے ۔ غور وفکر پر آمادہ کیا ہے ۔ کہ اگر یہ لوگ جو قیامت کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(79) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے ان ہڈیوں کو وہی زندہ کر دے گا جس نے ان ہڈیوں کو پہلی بار پیدا کیا ہے اور وہ ہر قسم کا بنانا اور پیدا کرنا جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 76–79

ف 3۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی لیکر حضور نبوی ﷺ میں حاضر ہوا، اور اس کو چٹکی سے مل کر کہنے لگا کہ کیا یہ ایسی حالت کے بعد زندہ ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں۔ اور تو دوزخ میں جاوے گا اس پر اولم یر الانسان سے آخر سورت تک آیتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کون زندہ کرے گا ؟ وہی جس نے تجھے پہلی بار زندہ کیا تھا : 79۔ نہایت شوخی کے ساتھ سر کے بال گردن کے زور سے جھٹک کر سوال کرنے والے کو آپ اس طرح جواب دے دیں کہ اس کو وہی زندہ کرے گا جس نے اس کو پہلی بار زندہ کیا تھا وہی خلاق علیم ہے جس کی قوت تخلیق کا یہ عالم ہے کہ آسمان و زمین اور پھر آسمان و زمین کے اجرام فلکی وسماوی اور زمینی مخلوق کو ایک ہی حکم (کن) سے تخلیق کردیا ۔ وہی اب بھی اس کو زندہ کردے گا غور تو کرو کہ عدم سے ہست میں لانا مشکل ہے یا نیست کو ہست سے ؟ پہلی بار کسی چیز کو بنانا مشکل ہوتا ہے یا بنی ہوئی چیز کی مثل بنانا مشکل ہوتا ہے ؟ وہ بدیع وفاطر ہے پہلی بار جو نقشہ اس نے بنایا وہی نقشہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–79

In verse 78, it was said: ضَرَ‌بَ لَنَا مَثَلًا (And he has set up an argument about Us). Here, the expression refers to the event described above, that is, while smashing and rubbing the bone into bone meal, its revival was considered improbable. After that, it was said: وَنَسِيَ خَلْقَهُ (and forgot his own creation). It means while he was giving that example, he forgot the example of his own creation as to how he himself was created by infusing life in a lowly, impure and lifeless drop - a bland anatomy of his creation indeed. Had he not forgotten his real genetic origin, he would have…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–79

66 That is, "He regards Us powerless and weak like the creation, and flunks that just as man cannot raise the dead back to life, so also can't We." 67 "Forgets his own creation": "Forgets that We created the basic germ of life from dead matter, which became the means of his creation; then We caused the germ to develop to such an extent that now he stands before Us as a disputant."

Read the full tafseer →