Yaseen 36:78

Yaseen · from ayah 78

36:78

وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَهٗ ؕ— قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَهِیَ رَمِیْمٌ ۟وَضَرَبَ لَـنَا مَثَلًا وَّ نَسِىَ خَلۡقَهٗ‌ ؕ قَالَ مَنۡ يُّحۡىِ الۡعِظَامَ وَهِىَ رَمِيۡمٌ

اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ کہنے لگا کہ (جب) ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he presents for Us an example and forgets his [own] creation. He says, "Who will give life to bones while they are disintegrated?"

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:78

اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے کہتا ہے "کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ کہنے لگا کہ (جب) ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زنده کر سکتا ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہمارے بارے میں تو وہ باتیں بناتا ہے، اور خود اپنی پیدائش کو بھلا بیٹھا ہے، کہتا ہے کہ : ان ہڈیوں کو کون زندگی دے گا جبکہ وہ گل چکی ہوں گی ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہمارے لیے کہاوت کہتا ہے اور اپنی پیدائش بھول گیا بولا ایسا کون ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرے جب وہ بالکل گل گئیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (خود) ہمارے لئے مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش (کی حقیقت) کو بھول گیا۔ کہنے لگا: ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، اس نے کہا کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جب کہ وہ بوسیدہ ہوں گی ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ ہمارے لئے تو مثال بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے، کہتا ہے کہ : ہڈیاں جب بوسیدہ ہوچکی ہوں گی تو انہیں کون زندہ کرے گا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس نے ہم پر ایک پھبتی چست کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا ! کہتا ہے کہ بھلا ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے جب کہ وہ بوسیدہ ہوجائیں گی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ ہمارے لئے تو مثالیں بیان کرتا ہے مگر خود اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے کہتا ہے کہ کون زندہ کرے گا ان ہڈیوں کو جب کہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہمارے شان میں عجیب (گستاخانہ) مضمون بیان کیا اور اپنی خلقت کو بھول گیا۔ کہنے لگا کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جب کہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہوں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ ہمارے بارے میں تو مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول گیا ہے ! کہتا ہے کہ کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بالکل بوسیدہ ہوچکی ہوں گی ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہنے لگا کہ جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He strikes for Us a similitude and forgot his own creation. He says: “Who will quicken the bones when they have decayed?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He has set up an argument about Us and forgot his creation. He said, :Who will give life to the bones when they are decayed?

— Muhammad Taqi Usmani

He has set up an argument about Us and forgot his creation. He said, :Who will give life to the bones when they are decayed?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he puts forth for Us a parable, and forgets his own creation. He says: "Who will give life to these bones after they are rotten and have become dust"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he hath coined for Us a similitude, and hath forgotten the fact of his creation, saying: Who will revive these bones when they have rotted away?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he presents for Us an example and forgets his [own] creation. He says, "Who will give life to bones while they are disintegrated?"

— Saheeh International

He questions Our Resurrection of him, but has forgotten his own creation. He has said, "Who will give life to the bones which have become ashes?"

— Muhammad Sarwar

And he strikes out a likeness for Us and forgets his own creation. Says he: Who will give life to the bones when they are rotten?

— Muhammad Habib Shakir

And he propoundeth for us a similitude, and forgetteth his creation, He saith: who shall quicken the bones when they are decayed?

— Abdul Majid Daryabadi

And he makes comparisons for Us, and forgets his own (origin and) Creation: He says, "Who can give life to (dry) bones and decomposed ones (at that)?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:78

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–80

موت کے بعد زندگی ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے حضور ﷺ سے کہنے لگا آپ کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کردے گا پھر زندہ کردے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 78–79

سورة یٰسٓ 66 یعنی ہمیں مخلوقات کی طرح عاجز سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح انسان کسی مردے کو زندہ نہیں کرسکتا، اسی طرح ہم بھی نہیں کرسکتے۔ سورة یٰسٓ 67 یعنی یہ بات بھول جاتا ہے کہ ہم نے بےجان مادہ سے وہ ابتدائی جرثومہ حیات پیدا کیا جو اس کا ذریعہ تخلیق بنا اور پھر اس جرثومے کو پرورش کر کے اسے یہاں تک بڑھا لائے کہ آج وہ ہمارے سامنے باتیں چھانٹنے کے قابل ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–79

(آیت) ضرب لنا مثلاً یہاں ضرب مثل سے مراد اس کا یہ واقعہ ہے کہ بوسیدہ ہڈی کو ہاتھ سے ریزہ ریزہ کرتے ہوئے اس کے دوبارہ زندہ ہونے کو محال یا مستبعد سمجھا۔ اس کے بعد فرمایا (آیت) ونسی خلقہ، یعنی اس مثال کے بیان کرنے کے وقت وہ خود اپنی پیدائش کو بھول گیا کہ ایک حقیر اور ناپاک قطرہ بےجان میں جان ڈال کر اس کو پیدا کیا ہے۔ اگر وہ اپنی اس اصل کو نہ بھولتا تو ایسی مثالیں پیش کر کے قدرت آلٰہیہ کے انکار کی جرأت نہ کرتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 77–78

آیت 77۔ 78 ’ انسان ‘ سے مراد قریش ہی ہیں جن سے یہاں بحث ہے۔ بےالتفاقی کے اظہار کے لئے لفظ عام استعمال فرمایا ہے۔ ’ ضرب مثل ‘ کوئی مثال بیان کرنے یا حکمت کی بات کہنے کے لئے بھی آتا ہے اور موقع ہو تو کسی پر طنز یا پھبتی چست کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یہاں یہ اس دوسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یہ کلام اپنے ماسبق سے دو پہلوئوں سے ربط رکھتا ہے۔ اوپر کی آیت میں آنحضرت ﷺ کو جو تسلی دی گئی ہے اس سے بھی اس کا تعلق ہے اور اس سے اوپر کی آیات میں قریش کو خدا کی ربوبیت کے جو مقتضیات بتائے گئے ہیں اس سے بھی اس کا ربط ہے۔ تسلی کے مضمون سے اس کا ربط یوں ہے کہ پیغمبر ﷺ کو بتایا گیا ہے کہ جو سر پھرے لوگ خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 75–78

75۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جن بتوں کو معبود سمجھتے ہیں، وہ ان کی مدد کیا کریں گے ؟ وہ خود اپنی مدد کرنے سے قاصر ہیں انہیں کوئی برا کہے ان کی ندامت کرے، تو یہی ان کی حمایت و مدافت میں سرگرم ہوتے ہیں، نہ کہ خود ان کے وہ معبود

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 75–79

23: یعنی جن من گھڑت خداؤں سے یہ مدد کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، وہ ان کی مدد تو کیا کرتے ؟ قیامت کے دن ان کا پورا لشکر ان کے خلاف گواہی دے گا، جیسا کہ قرآن کریم نے سورة سبا اور سورة قصص میں بتلایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–79

وضرب ۔۔۔۔۔ خلق علیم (36: 78-79) ” وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے ۔ کہتا ہے ” کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں “۔ اس سے کہو ، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے “ کس قدر سادہ منطق ہے یہ ؟ نہایت فطری استدلال ۔ ایسا استدلال جو مشاہدہ کے مطابق نظر آتا ہے ۔ یہ نطفہ جو کچھ کہ وہ ہے کیا وہ بوسیدہ ہڈیوں سے زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے ۔ کیا انسان اسی نطفے سے نہیں بنا اور کیا انسان کی پیدائش ثالی کا عمل پیدائش ادل کا عمل نہیں ہے اور جس ذات نے اسے حقیر نطفے کو ایک انسان بنایا اور اسے وہ شخصیت دی کہ وہ صریح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی دیکھتے ہو ! خدا پر کیسے فقرے چسپاں کرتا ہے۔ گویا اس قادر مطلق کو عاجز مخلوق کی طرح فرض کرلیا ہے جو کہتا ہے کہ آخر جب بدن گل سڑ کر صرف ہڈیاں رہ گئیں وہ بھی بوسیدہ پرانی اور کھوکھلی، تو انہیں دوبارہ کون زندہ کرے گا۔ ایسا سوال کرتے وقت اسے اپنی پیدائش یاد نہیں رہی ورنہ اس قطرہ ناچیز کو ایسے الفاظ کہنے کی جرأت نہ ہوتی۔ اپنی اصل پر نظر کر کے کچھ شرماتا اور کچھ عقل سے کام لے کر اپنے سوال کا جواب بھی حاصل کرلیتا جو اگلی آیت میں مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 78 { وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ } ”اور یہ ہمارے بارے میں تو مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول گیا ہے !“ { قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَہِیَ رَمِیْمٌ } ”کہتا ہے کہ کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بالکل بوسیدہ ہوچکی ہوں گی ؟“ وہ اعتراضات کرتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی اور ہمارے جسموں کے اعضاء منتشر ہوجائیں گے تو کون ہمیں دوبارہ پیدا کرے گا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

70 یعنی وہ اپنے پروردگار کو عام مخلوق کی طرح عاجز سمجھتا ہے کہ جب انسان کسی مردے کو زندہ نہیں کرسکتا تو ہم بھی نہیں کرسکتے۔ وہ ایک بوسیدہ ہڈی کو دکھا کر اور اپنے ہاتھوں سے اسے مسل کر اور چورا چورا کرکے کہتا ہے کہ بتاؤ یہ زندہ ہوسکتی ہے ؟ اس وقت اسے یہ بات یاد نہیں رہتی کہ جس نطفہ سے وہ خود پیدا ہوا ہے وہ بھی بےجان غذاؤں سے بنا تھا۔ اگر وہ اس بات پر غور کرتا تو کبھی ایسا اعتراض نہ کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 77–78

52۔ (کہ کیسی حقیر چیز سے اسے پیدا کیا، اور کیسی بےبسی کی حالت میں اسے رکھا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–83

آیت نمبر 68 تا 83 ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وضرب لنا مثلا ونسی خلقہ قال من یحییٰ العظام وھی رمیم . اور اس نے ہماری شان میں ایک عجیب مضمون بیان کیا اور اپنی اصل خلقت کو بھول گیا ‘ کہتا ہے کہ ہڈیوں کو (خاص طور پر) جب کہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہوں ‘ کون زندہ کرے گا ؟ الْاِنْسَان یعنی عاص بن وائل۔ ابن ابی حاتم نے متعدد اسناد سے مجاہد ‘ عکرمہ ‘ عروہ بن زبیر اور سدی کی روایت سے اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو مالک کی روایت سے نیز بغوی نے بیان کیا ہے کہ ان آیات کا نزول ابی بن خلف جمحی کے حق میں ہوا۔ یہی ایک بوسیدہ ‘ کہنہ ہڈی لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور انکار بعث و حشر کر کے حضور سے جھگڑا کر رہا تھا۔ اسی نے کہا تھا کہ اس قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اس نے ہماری شان میں ایک عجیب مضمون بیان کیا کہ ہڈیاں دکھا کر ہماری قدرت کا انکار کرتا ہے اور اپنی اصلی پیدائش کو بھول گیا اور کہتا ہے کہ ان ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہوں کون زندہ کرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ : ”خَصِيْمٌ“ مبالغے کا صیغہ ہے، بہت جھگڑنے والا۔ ”إِذَا“ فجائیہ اچانک کے معنی میں آتا ہے، یعنی ایسی عجیب چیز کا وجود میں آنا جس کا وہم و گمان نہ ہو، یعنی ایسے حقیر قطرے سے پیدا کیے جانے والے انسان کا حق تو یہ تھا کہ ہمیشہ اس کا سر ہمارے احسان کے بوجھ سے جھکا رہتا۔ یہ تو امید ہی نہ تھی کہ وہ صاف جھگڑے پر اتر آئے گا اور اتنا زیادہ جھگڑے گا۔ دیکھیے سورة نحل (4)۔ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ : یعنی ہمیں مخلوق کی طرح عاجز سمجھتا ہے کہ جس طرح انسان مردہ کو زندہ نہیں کرسکتا ہم بھی نہیں کرسکتے اور یہ بھول جاتا ہے کہ خود اسے ہم نے کس چیز سے پیدا کیا۔ کہتا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 78–79

مسئلہ نمبر -1 وہ بھول گیا کہ ہم نے اسے مردہ نطفہ سے پیدا کیا اور ہم نے اس کی زندگی کو رکھ دیا یعنی اس کی ذات میں ہی جواب موجود ہے اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ہاں اللہ تعالیٰ تجھے اٹھائے اور اور تجھے جہم میں داخل کرے گا (1) “ اس میں قیاص کی صحت پر دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے منکرین بعث کے خلاف پہلی دفعہ پیدا کرنے سے استدلال کیا ہے۔ رمیم کا معنی بوسیدہ ہے یوں جملہ بولا جاتا ہے : رم العظیم فھو رمیم و رمام۔ رمیم فرمایا رمیمہ نہیں کہا کیونکہ یہ فاعلۃ سے معدول ہے جو کلمہ اپنے وزن سے معدول ہوا سے اعراب سے بھی پھیردیا جاتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما کا نت امک بغیا۔ ) مریم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 77–78

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والا سماعیلی نے اپنے معجم میں والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ اور بیہقی (رح) نے البعث میں اور الضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عاص بن وائل رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا اور اس کو اپنے ہاتھ سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کہنے لگا، اے محمد ! ﷺ کیا اس کو زندہ کرے گا اس کے بعد کہ میں اسے اس حال میں دیکھ رہا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اللہ تعالیٰ اس کو زندہ کرکے دوبارہ اٹھائے گا، پھر تجھ کو موت دے گا پھر تجھ کو زندہ کرے گا پھر تجھ کو جہنم کی آگ میں داخل کرے گا تو اس پر سورة یسین کے آخر میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” اولم یرالانسان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَضَرَبَ لَنَا [اور اس نے بیان کیا ہمارے لئے ] مَثَلًا [ایک مثال ] وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ [اور بھول کیا اپنی پیدائش کو ] قَالَ [اس نے کہا ] مَنْ يُّـحْيِ [کوئی زندہ کرے گا ] الْعِظَامَ [ہڈیوں کو ] وَهِىَ [اس حال میں کہ وہ ] رَمِيْمٌ [بوسیدہ ہیں ] ۔ ر م م (ض) رما کسی چیز کا بوسیدہ ہونا۔ رمیم صفت ہے ۔ بوسیدہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 78

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اسی کو فرمایا (وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا) اور اس نے ہمارے بارے میں ایک مثل بیان کردی اور ایسی بات کہہ دی جو فی نفسہ عجیب ہے۔ (وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ ) اور وہ یہ بھول گیا کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا ہے، (قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ) کہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا حالانکہ وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی۔ یہ ہے وہ عجیب مضمون جسے اس نے اللہ کی شان میں بیان کیا، بجائے یہ سمجھنے کے کہ میں جس طرح پیدا ہوا ہوں اسی طرح میرا خالق دوبارہ پیدا فرما دے گا ایسی بات کہنے لگا جس سے انکار بعثت مقصود ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–83

بآشکار ونہاں ہر چہ کردی وگفتی جزا و بد بتو دانائے آشکارد نہاں منکرین حشر کا ایک شبہہ یا وسوسہ اور اس کا جواب (1) قال اللہ تعالیٰ اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ۔۔۔ الی۔۔۔ فسبحن الذی بیدہ ملکوت کل شیء والیہ ترجعون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دلائل اور براہین سے وحدانیت کو ثابت کردیا اور اس ضمن میں انکار حشر کا بھی زکر تھا اب آئندہ آیات میں ثبوت حشر ونشر پر دلائل قائم کرتے ہیں اور منکرین حشر کے ایک شبہ اور استبعاد کا جواب دیتے ہیں یہ لوگ حشر ونشر کو ناممکن اور محال اور بعید از عقل جانتے تھے اور عجیب عجیب باتیں کرتے تھے چناچہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ابی بن خلف یا عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 78–79

48:۔ قل یحییہا الخ : یہ جواب شکوی ہے اور ساتھ ہی بعث و نشور (قیامت) پر عقلی دلیل بھی ہے فرما دیجئے، بوسیدہ ہڈیوں میں از سر نو وہی جان ڈالے گا جس نے ان کو پہلے نیست سے ہست کیا اور وہ ہر مخلوق کو جانتا ہے ہر مردے کے متفرق اور بکھرے ہوئے اجزاء اسے معلوم ہیں اور بدن میں ہر جز کا مقام بھی اسے معلوم ہے یعلم جل و علا بجمیع الاجزاء المتفتۃ المتبددۃ لکل شخص من الاشخاص اصولہا و فروعہا واوضاع بعضہا من بعض من الاتصال والانفصال والاجتماع والفتراق فیعید کلا من ذلک علی الخط السابق مع القری التی کانت قبل (روح ج 23 ص 55) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–83

ربط آیات گزشتہ دروس میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے توحید کے عقلی دلائل دیے جن میں غور و فکر کرکے انسان اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہی دلائل وقوع قیامت کے لیے بھی کافی ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ کفار و مشرکین کی بیہودہ باتوں سے غمگین نہ ہوں ، ہم ان کے ظاہر و باطن کو جانتے ہیں اور ان کے عقائد و اعمال کا ضرور بدلہ دیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی اللہ نے اپنی وحدانیت اور اپنی قدرت پر دلائل پیش کیے ہیں اور ساتھ ساتھ مشرکین کا رد فرمایا ہے۔ انسان کی پیدائش ارشاد ہوتا ہے اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ کیا انسان نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَہٗ۝ 0 ۭ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَہِىَ رَمِيْمٌ۝ 78 ضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے قصہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ضرب لنا مثلاو نسی خلقہ اور ہمارے لیے دنیا کے لوگوں کی مثال بیان کی کہ جس طرح دنیا کے لوگ بعض اشد کاموں میں عاجز ہیں، وہ بھی ہے، یعنی مخلوق کی قدرتوں اور طاقتوں پر قیاس کرکے ہماری قدرت کو بھی محدود سمجھ لیا کہ وہ مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتا اور طرفہ یہ ہے کہ ہماری قدرت غیر محدود کا نمونہ اسی کے پیدا کرنے میں موجود ہے، اس کو بھول گیا، یعنی اس میں غور نہیں کرتا، پھر اس مثل کا بیان کرتا ہے۔ قال من یحی العظام وھی رمیم کہ انسان کہتا ہے۔ بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوئی ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے ؟ انسان سے مراد عموماً منکرین حشر ہیں، گو یہ بات جیسا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے، عاص بن وائل ؓ نے حضرت ﷺ سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 77–78

اَوَلَمْ یَرَالْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰـہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَخَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ۔ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَّ نَسِیَ خَلْقَـہٗ ط قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ۔ (یٰسٓ: 77، 78) (کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اس کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا تو پھر وہ ایک کھلا ہوا جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا۔ اور اس نے ہم پر ایک پھبتی چست کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، کہتا ہے کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ وہ بوسیدہ ہوجائیں گی۔ ) مخالفین کو اوقات یاد دلائی گئی ہے تسلی کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ قریش اور دوسرے لوگ آپ کی مخالفت میں جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے آپ کو دل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 78–80

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر کو اس کی پیدائش کا حوالہ دے کر قیامت قائم ہونے کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ اگر انسان کو اپنی تخلیق یاد ہو تو وہ قیامت کا انکار نہ کرے اور نہ ہی اس کے بارے میں بحث و تکرار کرے۔ کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے ہی پہلی بار پیدا کیا ہے اور وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے۔ اس نے نہ صرف انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے بلکہ تمہارے لیے ہر بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے جس سے تم آگ حاصل کرتے ہو۔ کیا انسان اس پر بھی غور نہیں کرتا کہ جس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور جس نے سبز درخت میں آگ پیدا کی اور جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ کیا اب وہ انہیں پیدا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

78: وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا (اور یہ ہماری شان میں ایک عجیب مضمون بیان کرتا ہے) ہڈیوں کا ریزہ ریزہ ہونا۔ وَّ نَسِیَ خَلْقَہٗ (اور اپنی پیدائش کو بھول گیا) جو کہ منی سے ہوتی ہے۔ اور وہ ہڈیوں کے زندہ کرنے سے زیادہ غریب ہے۔ نحو : خَلْقَہٗ مصدر کو مفعول کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ ای خلقناہ ایاہ (ہم نے اس کو پیدا کیا ہے۔ ) قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ (اور کہتا ہے کہ ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوگئی کون زندہ کر دے گا ؟ ) رمیمؔ پرانی ہڈیوں کو کہتے ہیں یہ نام ہے وصف نہیں جیسا کہ الرِّمۃ اور الرفات وغیرہ ہیں۔ اسی لئے یہاں مؤنث نہیں لائے حالانکہ یہ مؤنث کی خبر بن رہی ہے۔ ایک استدلال ‘ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

78، وضرب لنا مثلا ونسی خلقہ ، جس امر کو ہم پیدا کرچکے ، پھر فرمایا، قال من یحی العظام وھی رمیم ، فرسودہ ہڈیاں ان کو رمیمۃ سے منسوب نہیں کیا اس لیے کہ یہ فاعل سے معدول ہوکر آئے ہیں جو بھی کسی چیز کے وزن وغیرہ سے معدول ہر کر آئے تو اس کا حکم بھی وہی ہوتا ہے جو اصل کا ہوتا ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وماکانت امک بغیا، یہاں ، بغیاھا، ہونا چاہیے تھا، ھا ضمیر کو حذف کردیا کیوں کہ یہ ، باغیۃ ، سے معدول ہوکر آیا ہے۔ پھر تم اس سے اور آگ سلگا لیتے ہو اور جس نے آسمان اور زمین پیداکیے کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے آدمیوں کو دوبارہ پیداکردے ضرور قادر ہے اور وہ بڑاپیدا کرنے والا خوب جاننے والا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 77–79

77 تا 79۔ مستدرک حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جس روایت کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے 2 ؎ جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن مثیر 581 ج 3) (2 ؎ الدر المنثور ص 269 ج 5) ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص مشرک عاص بن وائل ایک روز ایک بوسیدہ ہڈی کو لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور اس ہڈی کو مل کر اس کی خاک ہوا میں اڑانے اور کہنے لگا اسی کو خدا پھر پیدا کرے گا آپ نے فرمایا ہاں یہی حالت تیری ہوجانے کے بعد اللہ تجھ کو پھر پیدا کرے گا اور پھر تجھ کو دوزخ میں دھکیل دے گا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی دوسری روایت تفسیر ابن ابی حاتم میں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 77–83

آیت 77 ان آیت کریمہ میں، منکرین قیامت کے شبہات اور ان کے مکمل، بہترین اور واضح جواب کا ذکر کیا گیا ہے، چناچہ فرمایا : (اولم یر الانسان) کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے پر غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے (من نطفۃ) ” نطفے سے “ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتی کہ بڑا ہو کر جو ان ہوجاتا ہے اور اس کی عقل کا مل اور درست ہوجاتی ہے (فاذا ھو خصیم مبین) ’ دتو یکایک وہ صریح جھگڑا لو بن بیٹھتا ہے۔ “ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتد ا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت پر غور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–83

کسی چیز کو پہلی بار پیدا کرنا مشکل، دوبارہ آسان ہوتا ہے قول باری ہے (قال من یحی العظام وھی رمیم کہنے لگا ہڈیاں جب بوسیدہ ہوجائیں تو انہیں کون زندہ کرے گا ؟ ) پھر ارشاد ہوا (قل یحیھا الذی انشاھا اول مرہ۔ آپ کہہ دیجئے انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا) اس میں اس بات کی واضح ترین دلیل موجود ہے کہ جو ذات ابتداء کرنے پر قادر ہے وہ اعادے پر زیادہ قادر ہوتی ہے۔ کیونکہ ظاہری طور پر کسی چیز کا اعادہ کرنا اس کی ابتدا کرنے سے زیادہ سہل ہوتا ہے۔ اس لئے جو ذات شروع میں کسی چیز کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتی ہے وہ اس صورت میں اس چیز کو دوبارہ پیدا کرنے پر زیادہ قادر ہوتی ہے جس میں اس چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 77–78

80 انسان کی خودفراموشی کا ایک نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکر انسان ہمارے لیے مثالیں گھڑتا ہے اور خود اپنے آپ کو اور اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے حالانکہ ایک وقت وہ تھا جبکہ خود اس کا کوئی نام و نشان تک نہیں تھا ۔ { لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا } ۔ تو جب اس عدم محض اور نیستی مطلق سے نکال کر اللہ پاک نے اس کو وجود بخشا اور اس کو ایسا عمدہ انسان بنادیا تو پھر آخر اس قادر مطلق کے لئے اسے دوبارہ پیدا کرلینا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو انسان اگر خود اپنے بارے میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو حق اور حقیقت اس کیلئے پوری طرح واضح ہوجائے۔ لیکن وہ خودفراموشی کا شکار ہے اور اس کی خود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 76–82

لوگوں کے دوبارہ پیدا کیے جانے کے قرآنی دلائل تشریح : اللہ جل شانہ اپنے پیارے نبی کو تسلی دیتا ہے کہ آپ ان کی باتوں سے یعنی کفار کی حجت بازی سے پریشان نہ ہوں۔ میرے علم میں یہ بات بخوبی ہے کہ اصل میں یہ آپ کی حقیقی خوبیوں کو جانتے ہیـں مانتے ہیں مگر صرف ضد بازی میں آپ کے سامنے اور لوگوں کے سامنے یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ انسان ہے کیا چیز ! اگر یہ اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے اپنے سارے سوالوں کے جواب دلیلوں کے ساتھ مل جائیں۔ انہوں نے اگر مردہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو کیا ہوا ؟ ہر وقت یہ ہر طرف انسان، چرند پرند، پھول پھل اور ہر قسم کی نباتات کو پیدا ہوتے پھولتے پھلتے نہیں دیکھتا ؟ کیا یہ ثبوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–83

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83: اسرار و معارف : اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 شاہ عبد القادر (رح) نے یوں ترجمہ کیا ہے ” اور بٹھاتا ہے ہم پر کہاوت “ یعنی ہمیں بھی مخلوقات کی طرح عاجز اور درماندہ سمجھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:78) وضرب لنا مثلا۔ ضرب مثلا۔ مثال بیان کرنا۔ لنا ہمارے لئے۔ ہمارے بارے میں ۔ وہ ہمارے بارے میں ایک مثال بیان کرتا ہے (وہ مثال آگے آتی ہے : قال من یحی العظام وھی رمیم) ۔ نسی۔ ماضی واحد مذکر غائب، نسیان مصدر سمع سے۔ وہ بھول گیا۔ اس نے بھلا دیا ہے۔ خلقہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر نسی کا مفعول ہے۔ اپنی خلقت، اپنی پیدائش ۔ رمیم۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے واحد مذکر رم یرم (ضرب) رمۃ ورمیم سے۔ ہڈی کا بوسیدہ ہونا۔ اس کی جمع ارماء اور رمام ہے رمیم بمعنی استخوان بوسیدہ ۔ گلی ہوئی ہڈی۔ مؤنث کے لئے بھی رمیم ہی استعمال ہوتا ہے۔ آیت سابقہ اور آیت ہذا کا مطلب یہ ہے کہ :۔ کیا انسان اس حقیقت کو نہیں جانتا کہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–83

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 77–79

مرنے کے بعد زندگی کی دلیل۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت عاص بن وائل یا ابوجہل اور بقول مشہور ابی بن خلف کے حق میں نازل ہوئی مرنے کے بعد اٹھنے کا انکار میں نبی ﷺ سے بحث و تکرار کرنے آیا تھا اس کے ہاتھ میں ایک گلی ہوئی ہڈی تھی اسکوتوڑتا جاتا اور نبی ﷺ سے کہتاجاتا تھا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ اس ہڈی کو گل جانے اور ریز ریزہ ہوجانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ زندہ کرے گا، نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اور تجھے بھی مرنے کے بعد اٹھائے گا اور جہنم میں داخل فرمائے گا، اور اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس کے جہل کا اظہار فرمایا گیا کہ گلی ہوئی ہڈی کو بکھرنے کے بعد اللہ کی قدرت سے زندگی قبول کرنا اپنی نادانی سے ناممکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 75–79

[25] یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود اس لئے بنائے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں مگر ہو یہ رہا ہے کہ وہ تو ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں خود یہی لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے حاضر باش خدام اور سپاہی بنے ہوئے ہیں اور ان کی حمایت میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور لوگوں کو ان کا گرویدہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 77–78

انعامات الٰہی کا تقاضا 1: اللہ کے انعامات کا ذکر ہے ۔ کہ کیونکر انسان کو اس نے تسخیر کی قوتیں عطا کی ہیں ۔ وہ تمام حیوانات کو اپنے تابع کرلیتا ہے ۔ پھر کسی سے سواری کا کام لیتا ہے اور کسی کو کھاتا ہے ۔ اور اس سے غذا کا کام لینا ہے ۔ پھر ایسے جانور بھی ہیں ، جو دودھ ایسی سے نعمتوں سے اس کا پیٹ بھرتے ہیں کیا وہ اس کرم اور نوازش پر بھی رب العالمین کا شکریہ ادا نہیں کرتا کہ ساری کائنات سے متمنع ہونے کے اختیارات اس نے انسان کو دے رکھے ہیں ۔ اور بڑے بڑے سرکش اور قوی جانوروں کو اس طرح اس کا غلام بنا دیا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ان سے کام لیتا ہے اس سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کا درجہ کائنات کی ہر چیز سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(78) اور اس منکر نے ہماری شان میں ایک عجیب مضمون اور ایک عجیب مثال بیان کی اور اپنی پیدائش اور اپنی اصل کو بھول گیا کہتا ہے کہ ان ہڈیوں کو جو بالکل بوسیدہ اور پرانی ہوچکی ہوں کون زندہ کرے گا۔ کہتے ہیں ابی بن خلف جو دین حق کے منکروں میں اشد اور سخت تھا ایک دن ایک پرانی ہڈی جو ریزہ ریزہ ہوجاتی تھی ہاتھ میں لے کر آیا اور مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر اعتراض کرنے لگا کہ بھلا ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا اور اپنی اصل کو بھول گیا کہ خود ایک بےجان چیز سے یعنی نطفہ سے پیدا ہوا ہے اپنی اصل کو بھول گیا اور دوبارہ خلق ہونے پر ایک گلی ہوئی ہڈی کو ہاتھ میں مل کر اعتراض کرنے لگا آگے جواب فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 76–79

ف 3۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی لیکر حضور نبوی ﷺ میں حاضر ہوا، اور اس کو چٹکی سے مل کر کہنے لگا کہ کیا یہ ایسی حالت کے بعد زندہ ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں۔ اور تو دوزخ میں جاوے گا اس پر اولم یر الانسان سے آخر سورت تک آیتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اپنی پیدائش کو فراموش کرکے ہمارے لیے مثالیں گھڑنے لگا : 78۔ انسان کو اس کی پیدائش بار بار کیوں یاد کرائی جا رہی ہے ؟ اس لیے کہ کہاوت ہے کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔ انسان کو اپنی پیدائش کے مرحلوں پر غور کر کے شرما جانا چاہئے کہ اس کی حقیقت اور اصلیت کیا ہے اور جو رویہ اس نے اختیار کر رکھا ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑے اونچے درجے کی شے ہے حالانکہ وہ جو کچھ ہے وہ اس کو بھی معلوم ہے کیا وہ نطفے سے پیدا ہو کر ایسا جھگڑالو بن گیا ہے کہ وہ رب کریم ہی کے لیے مثالیں بیان کرنے لگا ہے وہ ایک ہڈی کو اٹھا کر جو ایک مدت اس زمین کے اندر رہ کر بوسیدہ ہوچکی ہے اور دو انگلیوں کی مدد سے وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–79

In verse 78, it was said: ضَرَ‌بَ لَنَا مَثَلًا (And he has set up an argument about Us). Here, the expression refers to the event described above, that is, while smashing and rubbing the bone into bone meal, its revival was considered improbable. After that, it was said: وَنَسِيَ خَلْقَهُ (and forgot his own creation). It means while he was giving that example, he forgot the example of his own creation as to how he himself was created by infusing life in a lowly, impure and lifeless drop - a bland anatomy of his creation indeed. Had he not forgotten his real genetic origin, he would have…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–79

66 That is, "He regards Us powerless and weak like the creation, and flunks that just as man cannot raise the dead back to life, so also can't We." 67 "Forgets his own creation": "Forgets that We created the basic germ of life from dead matter, which became the means of his creation; then We caused the germ to develop to such an extent that now he stands before Us as a disputant."

Read the full tafseer →