Yaseen 36:77

Yaseen · from ayah 77

36:77

اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ ۟اَوَلَمۡ يَرَ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰهُ مِنۡ نُّطۡفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ‏

کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا۔ پھر وہ تڑاق پڑاق جھگڑنے لگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Does man not consider that We created him from a [mere] sperm-drop - then at once he is a clear adversary?

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:77

کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہو گیا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا۔ پھر وہ تڑاق پڑاق جھگڑنے لگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کیا انسان نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا تھا ؟ پھر اچانک وہ کھلم کھلا جھگڑا کرنے والا بن گیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا انسان نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے ایک تولیدی قطرہ سے پیدا کیا، پھر بھی وہ کھلے طور پر سخت جھگڑالو بن گیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ بیشک ہم نے اسے ایک قطرے سے پیدا کیا تو اچانک وہ کھلا جھگڑنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر وہ (حقائق سے اعراض کرکے) صریح جھگڑالو بن گیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا انسان نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اس کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا تو وہ ایک کھلا ہوا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا انسان نے کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ ہم ہی نے پیدا کیا اس کو ایک (حقیر و مہین) نطفے سے پھر وہ (حق کے بارے میں ہی) کھلم کھلا جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا

— مولانا اسحاق مدنی

کیا انسان کی نظر میں اس پر نہیں کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا سو وہ ایک کھلا ہوا معترض بن بیٹھا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا انسان نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اسے بنایا ہے ایک قطرہ سے تو اب یہ بن گیا ہے کھلا جھگڑنے والا !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑنے والا ہوگیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Does man not see that We created him of a sperm drop, and lo! he is flagrantly contentious?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did man not see that We have created him from a drop of semen? Then suddenly he stood as an open adversary (to Us).

— Muhammad Taqi Usmani

Did man not see that We have created him from a drop of semen? Then suddenly he stood as an open adversary (to Us).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Does not man see that We have created him from Nutfah. Yet behold he (stands forth) as an open opponent.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hath not man seen that We have created him from a drop of seed? Yet lo! he is an open opponent.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Does man not consider that We created him from a [mere] sperm-drop - then at once he is a clear adversary?

— Saheeh International

Has the human being not considered that We have created him from a drop of fluid. He is openly quarrelsome.

— Muhammad Sarwar

Does not man see that We have created him from the small seed? Then lo! he is an open disputant.

— Muhammad Habib Shakir

Beholdest not man that We have created him from a sperm? Yet lo! he is a manifest disputer?

— Abdul Majid Daryabadi

Doth not man see that it is We Who created him from sperm? yet behold! he (stands forth) as an open adversary!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:77

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–80

موت کے بعد زندگی ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے حضور ﷺ سے کہنے لگا آپ کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کردے گا پھر زندہ کردے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 64 اب کفار کے اس سوال کا استدلالی جواب دیا جا رہا ہے جو آیت 48 میں نقل کیا گیا تھا۔ ان کا یہ سوال کہ " قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی " کچھ اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے، بلکہ اس بنا پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد انسانوں کے دوبارہ اٹھائے جانے کو بعید از امکان، بلکہ بعید از عقل سمجھتے تھے۔ اسی لیے ان کے سوال کے جواب میں امکان آخرت کے دلائل ارشاد ہو رہے ہیں۔ ابن عباس، قتادہ اور سعید بن جبیر کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر کفار مکہ کے سرداروں میں سے ایک شخص قبرستان سے کسی مردے کی ایک بوسیدہ ہڈی لیے ہوئے آگیا اور اس نے نبی ﷺ کے سامنے اسے توڑ کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل (آیت) اولم یرالانسان انا خلقنہ من نطفة۔ سورة یٰسین کی یہ آخری پانچ آیتیں ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہیں جو بعض روایات میں ابی بن خلف کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور بعض میں عاص بن وائل کی طرف۔ اور اس میں بھی کوئی بعد نہیں کہ دونوں سے ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔ پہلی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں اور دوسری روایت ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ عاص بن وائل نے بطحاء مکہ سے ایک بوسیدہ ہڈی اٹھائی اور اس کو اپنے ہاتھ سے توڑ کر ریزہ ریزہ کیا پھر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ کیا اللہ اس ہڈی کو زندہ کرے گا، جس کا حال یہ دیکھ رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 77–78

آیت 77۔ 78 ’ انسان ‘ سے مراد قریش ہی ہیں جن سے یہاں بحث ہے۔ بےالتفاقی کے اظہار کے لئے لفظ عام استعمال فرمایا ہے۔ ’ ضرب مثل ‘ کوئی مثال بیان کرنے یا حکمت کی بات کہنے کے لئے بھی آتا ہے اور موقع ہو تو کسی پر طنز یا پھبتی چست کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یہاں یہ اس دوسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یہ کلام اپنے ماسبق سے دو پہلوئوں سے ربط رکھتا ہے۔ اوپر کی آیت میں آنحضرت ﷺ کو جو تسلی دی گئی ہے اس سے بھی اس کا تعلق ہے اور اس سے اوپر کی آیات میں قریش کو خدا کی ربوبیت کے جو مقتضیات بتائے گئے ہیں اس سے بھی اس کا ربط ہے۔ تسلی کے مضمون سے اس کا ربط یوں ہے کہ پیغمبر ﷺ کو بتایا گیا ہے کہ جو سر پھرے لوگ خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 75–78

75۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جن بتوں کو معبود سمجھتے ہیں، وہ ان کی مدد کیا کریں گے ؟ وہ خود اپنی مدد کرنے سے قاصر ہیں انہیں کوئی برا کہے ان کی ندامت کرے، تو یہی ان کی حمایت و مدافت میں سرگرم ہوتے ہیں، نہ کہ خود ان کے وہ معبود

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 75–79

23: یعنی جن من گھڑت خداؤں سے یہ مدد کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، وہ ان کی مدد تو کیا کرتے ؟ قیامت کے دن ان کا پورا لشکر ان کے خلاف گواہی دے گا، جیسا کہ قرآن کریم نے سورة سبا اور سورة قصص میں بتلایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس آخری سبق کا یہ تیسرا حصہ ہے ۔ اس میں حشر ونشر کے مسئلہ کو لیا گیا ہے ۔ اولم یرالانسان ۔۔۔۔۔ لہ کن فیکون (77-82) اس حصے میں بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ انسان کو خود اپنے وجود اور اپنی ذات کی طرف دیکھنا چاہئے ۔ اس کی تخلیق کا آغاز کس طرح ہوا ، وہ کس طرح بڑا ہوا اور سن بلوغ کو پہنچا۔ یہ سب مراحل جو اس کی زندگی میں طے ہوئے وہ اس کی نظر وں میں ہیں ۔ وہ دیکھتارہا ہے ۔ کیا اس سے وہ کوئی سبق اور نصیحت نہیں لے رہا ہے ۔ کیا خود انسانی زندگی تخلیق وتشکیل سے وہ یہ سبق نہیں اخذاکر سکتا کہ اللہ کے لیے دوبارہ اٹھا نا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر چہ وہ مٹ جائے اور اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں ۔ اولم یر ۔۔۔۔۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی انسان اپنی اصل کو یاد نہیں رکھتا کہ وہ ایک ناچیز قطرہ تھا، خدا نے کیا سے کیا بنادیا۔ اس پانی کی بوند کو وہ زور اور قوت گویائی عطا کی کہ بات بات پر جھگڑنے اور باتیں بنانے لگا۔ حتیٰ کہ آج اپنی حد سے بڑھ کر خالق کے مقابلہ میں خم ٹھونک کر کھڑا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 77 { اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ} ”تو کیا انسان نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اسے بنایا ہے ایک قطرہ سے ‘ تو اب یہ بن گیا ہے کھلا جھگڑنے والا !“ اب اس کی دیدہ دلیری کا یہ عالم َہے کہ یہ ہماری آیات پر اعتراض کرتا ہے اور ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ کج بحثی کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

69 انسان کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اس نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے جو بےجان چیزوں سے بنا تھا۔ پھر اللہ نے اس میں روح پھونکی تو نہ صرف یہ کہ وہ دوسرے جانداروں کی طرح چلنے پھرنے، کھانے پینے اور پرورش پانے لگا بلکہ اس میں عقل و فہم، قوت استنباط، بحث و استدلال اور تقریر و خطابت کی وہ قابلتیں پیدا ہوگئیں جو دوسرے کسی جاندار کو حاصل نہ تھیں۔ اور جب وہ اس منزل پر پہنچ گیا تو اپنے خالق کے بارے میں کئی طرح کی بحثیں اور جھگڑے اٹھا کھڑے کئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 77–78

52۔ (کہ کیسی حقیر چیز سے اسے پیدا کیا، اور کیسی بےبسی کی حالت میں اسے رکھا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–83

آیت نمبر 68 تا 83 ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین۔ کیا آدمی کو یہ معلوم نہیں کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا ‘ سو وہ اعلانیہ اعتراض کرنے لگا

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کیا ابی بن خلف کو معلوم نہیں کہ ہم نے اس کو ایک حقیر بدبودار نطفہ سے پیدا کیا ہے اور پھر وہ کھلم کھلا باطل کی حمایت میں اعتراضات کرنے لگا۔ شان نزول : اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ (الخ) امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ عاص بن عائل رسول اللہ کی خدمت میں ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا پھر اسے چورا چورا کر کے کہنے لگا کہ اے محمد کیا ایسی ہڈیاں بوسیدہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کی جائیں گی آپ نے فرمایا ہاں یہی ہڈیاں زندہ کی جائیں گی اور تمہیں موت دی جائے گی اور پھر دوبارہ تمہیں زندہ کیا جائے گا اور پھر تمہیں دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔ اس پر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ : یہاں سے سورت کے آخر تک کفار کے اس انکار کا دلیل کے ساتھ جواب ہے جو وہ قیامت کا مذاق اڑانے کے لیے سوال کی صورت میں کرتے تھے کہ ”مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ“ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ یعنی قیامت وغیرہ کچھ نہیں، نہ ہی کوئی مر کر زندہ ہوسکتا ہے۔ ”اَوَلَمْ يَرَ“ (اور کیا انسان نے نہیں دیکھا) سے مراد ہے ”أَوَلَمْ یَعْلَمْ“ (اور کیا انسان کو معلوم نہیں)۔ کیونکہ کسی بھی شخص نے اپنا نطفے سے پیدا ہونا آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ : ”نُّطْفَةٍ“ ”نَطَفَ یَنْطُفُ“ (ن، ض) ٹپکنا، اس میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، معمولی اور حقیر قطرہ،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انسان سے مراد عبداللہ بی ابی ہے (2) ۔ سعید بن جبیر نے کہا : وہ عاصی بن دائل سہمی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ ابی بن خلف جمحی ہے ‘ یہ ابن اسحاق کا قول ہے۔ اب وہب نے اسے امام مالک سے روایت کیا ہے۔ نطفہ سے مراد تھوڑا سا پانی ہے نطف سے مراد ہے جب وہ ٹپکائے۔ خصیم مبین۔ سے مراد ہے (3) وہ خصومت ہے جدال کرنے والے اور حجت کو بیان کرنے والا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ایک پرانی ہڈی لایا اس نے کہا : اے محمد ! کیا تیری یہ رائے ہے کہ اس ہڈی کے بوسیدہ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ہاں اللہ تعالیٰ تجھے زندہ کرے گا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 77–78

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والا سماعیلی نے اپنے معجم میں والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ اور بیہقی (رح) نے البعث میں اور الضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عاص بن وائل رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا اور اس کو اپنے ہاتھ سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کہنے لگا، اے محمد ! ﷺ کیا اس کو زندہ کرے گا اس کے بعد کہ میں اسے اس حال میں دیکھ رہا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اللہ تعالیٰ اس کو زندہ کرکے دوبارہ اٹھائے گا، پھر تجھ کو موت دے گا پھر تجھ کو زندہ کرے گا پھر تجھ کو جہنم کی آگ میں داخل کرے گا تو اس پر سورة یسین کے آخر میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” اولم یرالانسان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ [اور کیا دیکھا ہی نہیں انسان نے ] اَنَّا خَلَقْنٰهُ [کہ ہم نے پیدا کیا اس کو ] مِنْ نُّطْفَةٍ [ایک بوند سے ] فَاِذَا هُوَ [پھر تب ہی رہ ] خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ: کھلم کھلا جھگڑا بن کر کھڑا ہوگیا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

انسان قیامت کا منکر ہے، وہ اپنی خلقت کو بھول گیا وقوع قیامت اور بعث اور حشر نشر کا جو لوگ انکار کیا کرتے تھے ان میں سے ایک شخص عاص بن وائل بھی تھا، یہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک گلی سڑی ہڈی لے کر آیا، اور اس ہڈی کو اپنے ہاتھ سے چورا چورا کیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ جب میں اس ہڈی کو اپنے ہاتھ سے پھینک دوں تو کیا اللہ تعالیٰ اسے زندہ فرما دے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ اسے زندہ فرما دے گا پھر تجھے موت دے گا پھر تجھے زندہ فرمائے گا پھر تجھے دوزخ کی آگ میں داخل کرے گا۔ اس پر (اَوَلَمْ یَرَ الْاِِنْسَانُ ) سے لے کر ختم سورة تک آیات نازل ہوئیں جس شخص سے یہ باتیں ہوئی تھیں اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–83

بآشکار ونہاں ہر چہ کردی وگفتی جزا و بد بتو دانائے آشکارد نہاں منکرین حشر کا ایک شبہہ یا وسوسہ اور اس کا جواب (1) قال اللہ تعالیٰ اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ۔۔۔ الی۔۔۔ فسبحن الذی بیدہ ملکوت کل شیء والیہ ترجعون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دلائل اور براہین سے وحدانیت کو ثابت کردیا اور اس ضمن میں انکار حشر کا بھی زکر تھا اب آئندہ آیات میں ثبوت حشر ونشر پر دلائل قائم کرتے ہیں اور منکرین حشر کے ایک شبہ اور استبعاد کا جواب دیتے ہیں یہ لوگ حشر ونشر کو ناممکن اور محال اور بعید از عقل جانتے تھے اور عجیب عجیب باتیں کرتے تھے چناچہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ابی بن خلف یا عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

47:۔ اولم یر الانسان الخ : یہ زجر و شکوی ہے انسان یہ نہیں سوچتا کہ ہم نے اس کو ایک حقیر نطفے سے پیدا کیا ہے۔ لیکن سوچنے کے بجائے بڑا ہو کر ہمارا مد مقابل بن گیا اور جھگڑنے لگا اور دوبارہ زندہ کرنے پر ہماری قدرت کے لیے عجیب و غریب مثالیں بیان کرنے لگا۔ مثلاً کہتا ہے بھلا ان بوسیدہ اور خاک در خاک شدہ ہڈیوں کو وہ کس طرح زندہ کرے گا۔ گویا ہماری قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرنے لگا۔ لیکن اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے کہ وہ بالکل معدوم تھا اور اسے ہم نے پیدا کرلیا (ضرب لنا مثلا) امرا عجیبا و ھو نفی القدرۃ علی احیاء الموتی وتشبیہہ بخلقہ بوصفہ بالعجز عنہ (بیضاوی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–83

ربط آیات گزشتہ دروس میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے توحید کے عقلی دلائل دیے جن میں غور و فکر کرکے انسان اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہی دلائل وقوع قیامت کے لیے بھی کافی ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ کفار و مشرکین کی بیہودہ باتوں سے غمگین نہ ہوں ، ہم ان کے ظاہر و باطن کو جانتے ہیں اور ان کے عقائد و اعمال کا ضرور بدلہ دیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی اللہ نے اپنی وحدانیت اور اپنی قدرت پر دلائل پیش کیے ہیں اور ساتھ ساتھ مشرکین کا رد فرمایا ہے۔ انسان کی پیدائش ارشاد ہوتا ہے اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ کیا انسان نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ہُوَخَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ۝ 77 نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : فاذا ھو الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ المنفیۃ قبلھا داخلۃ معھا فی حیز الانکار المفہوم من الاستفہام و المعنی العجب من ھذا المخاصم الدنی یجادل الجبار القہار و نسی اصلہ و خلقہ من ای شیء خلق و کیف صار اولیس الھمزہ للانکار والوا و للعطف علی مقدر من نظائرہ رمیم فعیل بمعنی مفعول یستوی فیہ المذکر والمؤنث۔ تفسیر : اولم یر الانسان الخ یہاں سے ثبوت حشر پر دلائل قائم کرتا ہے اور منکرین حشر کو انہی کی ذات میں اپنی قدرت و کمال کا نمونہ دکھاتا ہے کہ انسان یقینا جانتا ہے کہ خدا نے مجھ کو ایک قطرہ پانی سے پیدا کیا ہے، جو متشابہ الاجزا و متحد الحقیقۃ و الاسم ہے، پھر اس میں سے ہڈی اور گوشت اور پوست اور سر ‘…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 77–78

اَوَلَمْ یَرَالْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰـہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَخَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ۔ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَّ نَسِیَ خَلْقَـہٗ ط قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ۔ (یٰسٓ: 77، 78) (کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اس کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا تو پھر وہ ایک کھلا ہوا جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا۔ اور اس نے ہم پر ایک پھبتی چست کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، کہتا ہے کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ وہ بوسیدہ ہوجائیں گی۔ ) مخالفین کو اوقات یاد دلائی گئی ہے تسلی کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ قریش اور دوسرے لوگ آپ کی مخالفت میں جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے آپ کو دل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ نبی اکرم ﷺ سے ہی نہیں جھگڑتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی جھگڑا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ کیا انسان اپنی تخلیق پر غور نہیں کرتا کہ ہم نے اسے ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے اور پھر انسان اپنے رب سے ہی جھگڑا کرنے پر اترآتا ہے۔ اس میں بھی نبی ﷺ کو مخصوص انداز میں تسلی دی گئی ہے کہ غور فرمائیں کہ یہ لوگ صرف آپ سے ہی جھگڑا نہیں کرتے بلکہ اپنے خالق کے ساتھ بھی جھگڑا کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے انسان کو کئی بار اس کی تخلیق کے بارے میں توجہ دلائی ہے کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ کیا اس کی تخلیق میں کسی اور کا عمل دخل ہے ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

77: یہ آیت ابی بن خلف کے متعلق نازل ہوئی۔ جبکہ اس نے ایک پرانی ہڈی لی اور آپ ﷺ کے سامنے اپنے ہاتھ سے اس کو ریزہ ریزہ کر کے کہنے لگا۔ اے محمد ﷺ کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ہڈی کو ریزہ ریزہ ہونے کے بعد زندہ کر دے گا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جی ہاں اور تمہیں اٹھائے گا۔ اور جہنم میں داخل فرمائے گا۔ ] واحدی اسباب النزول : 246[ اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَاْنُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ (کیا آدمی کو یہ معلوم نہیں کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا) جو مرد کی پیشاب والی نالی سے نکلتا ہے۔ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ (پس وہ اعلانیہ اعتراض کرنے لگا) مبیناس نے جھگڑا کھلے طور پر کیا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

77، اولم یرالانسان انا خلقناہ من نطفۃ فاذا ھو خصیم ، واضح طور پر باطل پر جگڑا کرنے لگ جاتا ہے۔ ، مبین، جھگڑے کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ وہ اس بات کو جانتا بھی ہے کہ اس کو ایک بےجان نطفے سے پیدا کیا گیا پھر بھی وہ جھگڑتا ہے تو کیوں وہ اپنی ابتداء تخلیق پر غور وفکر نہیں کرتا تا کہ اس جھگڑے کو چھوڑدے۔ اس آیت کا نزول ابی بن خلف جمحی کے حق میں ہوا۔ یہی ایک بوسیدہ کہنہ ہڈی لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا تھا اور انکاربعث وحشر کرکے حضو ر ﷺ سے جھگڑاکررہا تھا اس نے کہا تھا کہ اس ہڈی کے بوسید ہ ہوجانے کے بعد اس کو کون زندہ کر گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اللہ تجھے زندہ کر کیا ٹھائے گا اور جہنم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 77–79

77 تا 79۔ مستدرک حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جس روایت کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے 2 ؎ جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن مثیر 581 ج 3) (2 ؎ الدر المنثور ص 269 ج 5) ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص مشرک عاص بن وائل ایک روز ایک بوسیدہ ہڈی کو لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور اس ہڈی کو مل کر اس کی خاک ہوا میں اڑانے اور کہنے لگا اسی کو خدا پھر پیدا کرے گا آپ نے فرمایا ہاں یہی حالت تیری ہوجانے کے بعد اللہ تجھ کو پھر پیدا کرے گا اور پھر تجھ کو دوزخ میں دھکیل دے گا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی دوسری روایت تفسیر ابن ابی حاتم میں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 77–83

آیت 77 ان آیت کریمہ میں، منکرین قیامت کے شبہات اور ان کے مکمل، بہترین اور واضح جواب کا ذکر کیا گیا ہے، چناچہ فرمایا : (اولم یر الانسان) کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے پر غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے (من نطفۃ) ” نطفے سے “ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتی کہ بڑا ہو کر جو ان ہوجاتا ہے اور اس کی عقل کا مل اور درست ہوجاتی ہے (فاذا ھو خصیم مبین) ’ دتو یکایک وہ صریح جھگڑا لو بن بیٹھتا ہے۔ “ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتد ا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت پر غور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 69–77

شعر گوئی نبی کے شایان شان نہیں قول باری ہے : (وما علمناہ الشعروما ینبغی لہ۔ اور ہم نے آپ ﷺ کو شعر وشاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ آپ ﷺ کی شایاں ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اس قول بای کی تفسیر میں بیان کیا کہ معمہ کہتے ہیں۔ کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا حضور ﷺ کبھی موقع ومحل کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہیں، بنو قیس بن طرفہ کے شاعر کے ، اس شعر کے سوا آپ ﷺ نے کبھی کوئی شعر نہیں پڑھا : ستبدی لک الایام ماکنت جاھلا ویاتیک بالاخبار من لم ترود زمانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 77–78

80 انسان کی خودفراموشی کا ایک نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکر انسان ہمارے لیے مثالیں گھڑتا ہے اور خود اپنے آپ کو اور اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے حالانکہ ایک وقت وہ تھا جبکہ خود اس کا کوئی نام و نشان تک نہیں تھا ۔ { لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا } ۔ تو جب اس عدم محض اور نیستی مطلق سے نکال کر اللہ پاک نے اس کو وجود بخشا اور اس کو ایسا عمدہ انسان بنادیا تو پھر آخر اس قادر مطلق کے لئے اسے دوبارہ پیدا کرلینا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو انسان اگر خود اپنے بارے میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو حق اور حقیقت اس کیلئے پوری طرح واضح ہوجائے۔ لیکن وہ خودفراموشی کا شکار ہے اور اس کی خود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 76–82

لوگوں کے دوبارہ پیدا کیے جانے کے قرآنی دلائل تشریح : اللہ جل شانہ اپنے پیارے نبی کو تسلی دیتا ہے کہ آپ ان کی باتوں سے یعنی کفار کی حجت بازی سے پریشان نہ ہوں۔ میرے علم میں یہ بات بخوبی ہے کہ اصل میں یہ آپ کی حقیقی خوبیوں کو جانتے ہیـں مانتے ہیں مگر صرف ضد بازی میں آپ کے سامنے اور لوگوں کے سامنے یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ انسان ہے کیا چیز ! اگر یہ اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے اپنے سارے سوالوں کے جواب دلیلوں کے ساتھ مل جائیں۔ انہوں نے اگر مردہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو کیا ہوا ؟ ہر وقت یہ ہر طرف انسان، چرند پرند، پھول پھل اور ہر قسم کی نباتات کو پیدا ہوتے پھولتے پھلتے نہیں دیکھتا ؟ کیا یہ ثبوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–83

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83: اسرار و معارف : اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی ہمارے مقابلہ پر اتر آیا اور ہمارے بارے میں جو بات دل میں آئی بےتکان اور بےخوف و خطر کہہ ڈالی

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:77) اولم یر : میں ہمزہ استفہام انکاری ہے اور تعجب کے لئے ہے۔ وائو عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ مقدرہ پر ہے۔ ای الم یتفکر الانسان ولم یعلم انا خلقنہ من نطفۃ۔ کیا انسان نے غور نہیں کیا اور نہیں جانا کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ فاذا ھو : فاء تعقیب کا ہے اور اذا مفاجاتیہ ہے۔ سو وہ یکایک۔ خصم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ بہت جھگڑا کرنے والا۔ کثیر المخاصمت، سخت جھگڑالو۔ اس کی جمع اخصام۔ خصمائ۔ خصمان ہے۔ مبین۔ اسم فاعل واحد مذکر، کھلا، صریح۔ ظاہر۔ ظاہر کرنے والا۔ ابانۃ (افعال) مصدر۔ بین مادہ ابواب : افعال (ابانۃ) تفعیل (تبیین) تفعل (تبین) سے لازم ومتعدی ہر دو طرح مستعمل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–83

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 77–79

مرنے کے بعد زندگی کی دلیل۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت عاص بن وائل یا ابوجہل اور بقول مشہور ابی بن خلف کے حق میں نازل ہوئی مرنے کے بعد اٹھنے کا انکار میں نبی ﷺ سے بحث و تکرار کرنے آیا تھا اس کے ہاتھ میں ایک گلی ہوئی ہڈی تھی اسکوتوڑتا جاتا اور نبی ﷺ سے کہتاجاتا تھا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ اس ہڈی کو گل جانے اور ریز ریزہ ہوجانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ زندہ کرے گا، نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اور تجھے بھی مرنے کے بعد اٹھائے گا اور جہنم میں داخل فرمائے گا، اور اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس کے جہل کا اظہار فرمایا گیا کہ گلی ہوئی ہڈی کو بکھرنے کے بعد اللہ کی قدرت سے زندگی قبول کرنا اپنی نادانی سے ناممکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 75–79

[25] یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود اس لئے بنائے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں مگر ہو یہ رہا ہے کہ وہ تو ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں خود یہی لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے حاضر باش خدام اور سپاہی بنے ہوئے ہیں اور ان کی حمایت میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور لوگوں کو ان کا گرویدہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 77–78

انعامات الٰہی کا تقاضا 1: اللہ کے انعامات کا ذکر ہے ۔ کہ کیونکر انسان کو اس نے تسخیر کی قوتیں عطا کی ہیں ۔ وہ تمام حیوانات کو اپنے تابع کرلیتا ہے ۔ پھر کسی سے سواری کا کام لیتا ہے اور کسی کو کھاتا ہے ۔ اور اس سے غذا کا کام لینا ہے ۔ پھر ایسے جانور بھی ہیں ، جو دودھ ایسی سے نعمتوں سے اس کا پیٹ بھرتے ہیں کیا وہ اس کرم اور نوازش پر بھی رب العالمین کا شکریہ ادا نہیں کرتا کہ ساری کائنات سے متمنع ہونے کے اختیارات اس نے انسان کو دے رکھے ہیں ۔ اور بڑے بڑے سرکش اور قوی جانوروں کو اس طرح اس کا غلام بنا دیا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ان سے کام لیتا ہے اس سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کا درجہ کائنات کی ہر چیز سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(77) کیا انسان یہ نہیں جانتا کہ ہم نے اس کو ایک حقیر نطفے اور بوند سے پیدا کیا۔ پھر ناگہاں وہ ایک علانیہ جھگڑا کرنے والا بن گیا۔ یعنی قیامت کا منکر انسان اس بات پر غور نہیں کرتا ک وہ ایک حقیر بوند سے پیدا کیا گیا ہے اور باوجود حقارت اور دنائت کے حضرت ٭ کرتا ہے اور اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر اعتراض کرتا ہے اور علانیہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مقابلہ کرتا اور بعثت کی تکذیب کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 76–79

ف 3۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی لیکر حضور نبوی ﷺ میں حاضر ہوا، اور اس کو چٹکی سے مل کر کہنے لگا کہ کیا یہ ایسی حالت کے بعد زندہ ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں۔ اور تو دوزخ میں جاوے گا اس پر اولم یر الانسان سے آخر سورت تک آیتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انسان اپنی پیدائش پر غور نہیں کرتا اور جھگڑنے کی کوشش کرتا ہے : 77۔ ہر وہ انسان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتا وہ مخاطب کیا جا رہا ہے خواہ وہ کون ہے ‘ کیسا ہے اور کہاں ہے کہ اگر وہ اپنے مادہ تخلیق اور طریقہ اعضاء پر غور کرتا تو یقینا سرکشی اور بغاوت کی راہ اختیار نہ کرتا کہ آخر وہ اتنا اتراتا کس بل بوتے پر ہے ہم نے اس کو پانی کی ایک بوند ہی سے تو پیدا کیا ہے اور وہ بوند بھی ایسی کہ جس نے اس کے سارے جسم کو ناپاک کردیا اور جسم کا جو حصہ استعمال کیا گیا اس کا نام شرمگاہ رکھا گیا پھر یہ اس شرمگاہ سے پیدا ہو کر اتنا بےشرم کیوں ہوگیا کہ اسی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگا جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The last five verses of Surah Ya Sin were revealed in the background of a particular event. This event has been attributed to Ubayy Ibn Khalaf in some narrations, and to 'As ibn Wa'il in some others. And there is no improbability in that such an event came to pass with both of them. The first narration was reported by al-Baihaqi in Shu` abul-'Iman, and the other reported by Ibn Abi Haatim from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ says that 'As Ibn Wa'il picked up a bone from the sandy and pebble-strewn valley of Makkah and after breaking it with his hands rubbed it into a handful of bone meal…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

64 Here the disbelievers' question cited in verse 48 above, is being answered by reason and argument. The question, "When will the threat of Resurrection be carried out?" had not been asked with a view to find out the exact date of the coming of the Hereafter. But they asked it because they thought it was impossible, rather irrational, that human beings would be raised back to life after death. That is why, in reply to their question, arguments are being given for the possibility of the Hereafter. According to the traditions related by Ibn 'Abbas, Qatadah and Said bin Jubair, one of the…

Read the full tafseer →