Yaseen 36:76

Yaseen · from ayah 76

36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ ۘ— اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۟فَلَا يَحۡزُنۡكَ قَوۡلُهُمۡ‌ۘ اِنَّا نَـعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ

تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں۔ یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So let not their speech grieve you. Indeed, We know what they conceal and what they declare.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:76

اچھا، جو باتیں یہ بنا رہے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں، اِن کی چھپی اور کھلی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں۔ یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آپ کو ان کی بات غمناک نہ کرے، ہم ان کی پوشیده اور علانیہ سب باتوں کو (بخوبی) جانتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

غرض (اے پیغمبر) ان کی باتیں تمہیں رنجیدہ نہ کریں۔ یقین جانو ہمیں سب معلوم ہے کہ یہ کیا کچھ چھپاتے، اور کیا کچھ ظاہر کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم ان کی بات کا غم نہ کرو بیشک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس اُن کی باتیں آپ کو رنجیدہ خاطر نہ کریں، بیشک ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس ان کی بات تجھے غمزدہ نہ کرے، بیشک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا ان کی باتیں آپ کو غمزدہ نہ کریں۔ ہم یقینا جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ان کی بات تم کو مبتلائے غم نہ کرے، ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس غم میں نہ ڈالنے پائیں آپ کو (اے پیغمبر !) ان لوگوں کی (بےہودہ اور دکھ دہ) باتیں ہمیں خوب معلوم ہے وہ سب کچھ جو کہ یہ چھپاتے ہیں اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

پس آپ کو ان لوگوں کا قول رنج میں نہ ڈالے بیشک ہم ہی جانتے ہیں جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) ان کی بات آپ کو رنجیدہ نہ کرے۔ ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ چھپا رہے ہیں اور جو کچھ ظاہر کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہـیں ہمیں سب معلوم ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Let not their words grieve you. Surely We know all things about them, what they conceal and what they reveal.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, their remarks must not grieve you. Surely We know what they conceal and what they disclose.

— Muhammad Taqi Usmani

So, their remarks must not grieve you. Surely We know what they conceal and what they disclose.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, let not their speech then grieve you. Verily, We know what they conceal and what they reveal.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So let not their speech grieve thee (O Muhammad). Lo! We know what they conceal and what proclaim.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So let not their speech grieve you. Indeed, We know what they conceal and what they declare.

— Saheeh International

Muhammad, let not their words annoy you. We certainly know whatever they conceal or reveal.

— Muhammad Sarwar

Therefore let not their speech grieve you; surely We know what they do in secret and what they do openly.

— Muhammad Habib Shakir

So let not their speech grieve thee. Verily We! We know whatsoever they keep secret and whatsoever they make known.

— Abdul Majid Daryabadi

Let not their speech, then, grieve thee. Verily We know what they hide as well as what they disclose.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 74–76

نفع و نقصان کا اختیار کس کے پاس ہے ؟ مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید ہو رہی ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ جن جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد نصرت کریں گے ان کی روزیوں میں برکت دیں گے اور اللہ سے ملادیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی مددتو کجا، وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے بلکہ یہ بت تو اپنے دشمن کے نقصان سے بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔ کوئی اور انہیں توڑ مروڑ کر بھی چلا جائے تو یہ اس کا کچھ نہیں کرسکتے بلکہ بول چال پر بھی قادر نہیں سمجھ بوجھ نہیں۔ یہ بت قیامت کے دن جمع شدہ حساب کے وقت اپنے عابدوں کے سامنے لاچاری اور بےکسی کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 63 خطاب ہے نبی ﷺ سے۔ اور کھلی اور چھپی باتوں کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ کے وہ بڑے بڑے سردار جو آپ کے خلاف جھوٹ کے طوفان اٹھا رہے تھے، وہ اپنے دلوں میں جانتے، اور اپنی نجی محفلوں میں مانتے تھے کہ نبی ﷺ پر جو الزامات وہ لگا رہے ہیں وہ سراسر بےاصل ہیں۔ وہ لوگوں کو آپ کے خلاف بد گمان کرنے کے لیے آپ کو شاعر، کاہن، ساحر، مجون اور نہ معلوم کیا کیا کہتے تھے، مگر خود ان کے ضمیر اس بات کے قائل تھے، اور آپس میں وہ ایک دوسرے کے سامنے اقرار کرتے تھے کہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو محض آپ کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے وہ گھڑ رہے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ان لوگوں کی بیہودہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (جب یہ لوگ ایسے واضح اور کھلے ہوئے امور میں بھی خلاف ہی کرتے ہیں) تو ان لوگوں کی باتیں (انکار توحید و رسالت سے متعلق) آپ کے لئے آزردگی کا باعث نہ ہونا چاہئے (کیونکہ آزردگی ہوتی ہے امید سے، اور امید ہوتی ہے مخاطب کے عقل و انصاف سے اور ان لوگوں میں نہ عقل ہے نہ انصاف تو ان سے کسی چیز کی امید ہی نہیں ہو سکتی، پھر غم کیوں ہو۔ آگے دوسرے طریقہ سے آنحضرت محمد ﷺ کی تسلی ہے) بیشک ہم سب جانتے ہیں جو کچھ یہ دل میں رکھتے ہیں اور جو کچھ (زبان سے) ظاہر کرتے ہیں (اس لئے وقت مقرر پر ان کو ان کے عمل کی سزا ملے گی) کیا (اس) آدمی کو (جو قیامت کا انکار کرتا ہے) یہ معلوم نہیں کہ ہم نے اس کو (ایک حقیر)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 76 یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ جو کچھ بھی کہیں اس کو برداشت کرو، اس کا غم نہ کرو۔ یہ تمہیں شاعر، خبطی اور مفتری جو کچھ بھی کہتے ہیں کہنے دو اور یہ اطمینان رکھو کہ اللہ ان کو خفیہ سازشوں اور شرارتوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور جو کچھ یہ علانیہ کہہ اور کر رہے ہیں اس کو بھی جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب خدا سب کچھ مانتا ہے تو تم کیوں غم کرو ! تم خدا کا کام کر رہے ہو، کرتے رہو اور یہ بھروسہ رکھو کہ تمہارے دشمنوں سے نمٹنے کے لئے تمہارا رب کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 75–78

75۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جن بتوں کو معبود سمجھتے ہیں، وہ ان کی مدد کیا کریں گے ؟ وہ خود اپنی مدد کرنے سے قاصر ہیں انہیں کوئی برا کہے ان کی ندامت کرے، تو یہی ان کی حمایت و مدافت میں سرگرم ہوتے ہیں، نہ کہ خود ان کے وہ معبود

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 75–79

23: یعنی جن من گھڑت خداؤں سے یہ مدد کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، وہ ان کی مدد تو کیا کرتے ؟ قیامت کے دن ان کا پورا لشکر ان کے خلاف گواہی دے گا، جیسا کہ قرآن کریم نے سورة سبا اور سورة قصص میں بتلایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فلا یحزنک ۔۔۔۔۔ وما یعلنون (36: 76) ” اچھا جو باتیں یہ بنا رہے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں ۔ ان کی چھپی اور کھی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں “۔ اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے ۔ آپ کے مخاطب وہی لوگ تھے جنہوں نے اللہ کے سوا دو سروں کو الہہ بنار کھا تھا ۔ اور یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے ۔ لہٰذا یہ لوگ نصیحت بھی نہ لیتے تھے ۔ حضور سے کہا گیا کہ آپ ان کی فکر نہ کریں ۔ اللہ ان کے بارے میں خوب جانتا ہے ۔ وہ تحریک اسلامی کے خلاف اور بت پر ستی کے حق میں جو تدابیر اختیار کررہے ہیں ، وہ ہماری نظر وں میں ہیں ۔ لہٰذا اے رسول آپ پر ان باتوں کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ ان کے معاملات قدرت المبیہ کے سامنے کھلے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی جب خود ہمارے ساتھ ان کا یہ معاملہ ہے تو آپ ان کی بات سے غمگین و دلگیر نہ ہوں۔ اپنا فرض ادا کر کے ہمارے حوالہ کریں۔ ہم ان سکے ظاہری و باطنی احوال سے خوب واقف ہیں ٹھیک ٹھیک بھگتان کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 76 { فَلَا یَحْزُنْکَ قَوْلُہُمْ } ”تو اے نبی ﷺ ! ان کی بات آپ کو رنجیدہ نہ کرے۔“ آپ ﷺ ان کی باتوں سے رنجیدہ اور دل گرفتہ نہ ہوں۔ { اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ } ”ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ چھپا رہے ہیں اور جو کچھ ظاہر کر رہے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

68 اگر یہ لوگ اپنے پروردگار اور منعم حقیقی کے معاملہ میں اس قدر ناانصاف اور ظالم واقع ہوئے ہیں تو آپ کو بھی ان کے اس معاندانہ رویہ پر غمزدہ نہ ہونا چاہئے۔ یہ لوگ ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ آپ کاہن ہیں، دیوانہ ہیں، جادوگر ہیں، اللہ پر افترا باندھتے ہیں۔ اور دوسرے لوگوں کو یہ باتیں اس لئے کہتے ہیں کہ جیسے بھی بن پڑے اسلام کو اور آپ کو دبا سکیں۔ لیکن یہی لوگ اپنی نجی محفلوں میں اس بات کا اعتراف کرتے تھے اور پوری طرح سمجھتے تھے کہ جو الزامات یہ رسول اللہ صلی اللہ پر لگا رہے ہیں وہ سراسر غلط اور بےبنیاد ہیں۔ لہذا آپ کو پریشان اور غمزدہ نہ ہونا چاہئے۔ حق کے مقابلہ میں ان کا یہ جھوٹا پروپیگنڈہ زیادہ دیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

51۔ (اور ہم ہی ان سے وقت مناسب پر نبٹ لینے کیلئے کافی ہیں) (آیت) ” فلایحزنک قولھم “۔ یعنی جب وہ توحید تک میں ایسی سفاہت کی باتیں کرتے ہیں، تو پھر آپ کو اگر شاعر کہہ دیا، تو اس پر کیوں اتنا کڑھیے۔ اے اذا کان حالھم مع ربھم عزوجل فلاتحزن بسبب قولھم علیک ھو شاعر (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–83

آیت نمبر 68 تا 83 ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلا یحزنک قولھم انا نعلم ما یسرون وما یعلنون . سو ان لوگوں کی باتیں آپ کو آزردہ خاطر نہ بنائیں ‘ ہم سب جانتے ہیں جو کچھ یہ دل میں رکھتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ فَلاَ یَحْزُنْکَسببیت کیلئے ہے ‘ یعنی آپ نے کافروں کیلئے عذاب کی وعید سن لی تو اب آپ کو ان کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہونا چاہئے۔ اللہ کے معاملہ میں وہ جو الحاد کی باتیں کرتے ہیں اور آپ کی تکذیب و توہین کرتے ہیں ‘ اس سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں۔ اِنَّا نَعْلَمُ الخ اپنے دلوں میں جو آپ سے عداوت اور غلط عقائد چھپائے ہوئے ہیں ‘ ہم ان سب سے واقف ہیں اور جو بری باتیں کہتے اور برے اعمال ظاہراً کرتے ہیں ‘ ان کو بھی ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور یہ کفار مکہ تو غلاموں کی طرح ان جھوٹے معبودوں کے دست بستہ کھڑے ہوئے ہیں محمد ان لوگوں کی تکذیب آپ کے لیے دکھ کا سبب نہیں ہونا چاہیے۔ بیشک ہم سب جانتے ہیں جو یہ مکر و خیانت دل میں رکھتے ہیں اور جس عداوت و دشمنی کو یہ ظاہر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ : اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جب ہمارے متعلق ان مشرکین کے جہل اور عناد کا یہ حال ہے تو آپ بھی ان کی باتوں سے غم زدہ نہ ہوں۔ اِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ : (إِنَّ تعلیل کے لیے ہوتا ہے) کیونکہ آپ غم زدہ تو تب ہوں جب انھیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو، ہم تو ان کی وہ باتیں بھی جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور وہ بھی جو ظاہر کرتے تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپس میں وہ آپ کے سچا ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور لوگوں کے سامنے آپ کو شاعر، ساحر اور کاہن وغیرہ کہتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں ان کی خفیہ سازشوں کا بھی علم ہے اور علانیہ دشمنی کا بھی، آپ فکر نہ کریں، ہم سارا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 74–76

ان لوگوں نے ہماری قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھا ہے پھر انہوں نے ہمیں چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں وج کسی فعل پر قدرت نہیں رکھتے جب کہ وہ ان کی اس وقت مدد کی امید رکھتے ہیں اگر ان پر عذاب نازل ہو عرب یوں کلام کرتے ہیں لعلہ ان یفعل جب کہ وہ معبود ان باطلہ ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھتے۔ بتوں کے لئے فعل واونون کے ساتھ جمع ذکر کیا ہے کیونکہ ان کے بارے میں خبری دی گئی ہے جس طرح انسانوں کے بارے میں خبری دی جاتی ہے۔ جب کفار ان جھوٹے معبودوں کے حاضر لشکر ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ہے وہ ان معبودوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں (3) قتادہ نے کہا : کفار دنیا میں ان کے لئے غضبناک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–76

8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا یستطیعون نصرھم “ یعنی کوئی معبود ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھے گا۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا یستطیعون نصرھم “ میں ” ھم “ ضمیر سے مراد بت ہیں یعنی وہ کافر بتوں کی اور بت کافروں کی مدد نہیں کرسکتے (آیت) ” وھم لھم جند محضرون “ (اور وہ ان لوگوں کے حق میں ایک مخالف فریق ہوجائیں گے جو حاضر کئے جائیں گے) کہ مشرکین دنیا میں تو بتوں سے ناراض ہوتے ہیں جب یہ بت ان کو کوئی خیر نہیں دے سکتے اور نہ ان سے کسی مصیبت کو دور کرسکتے ہیں بلکہ یہ تو صرف بت ہیں۔ 10:۔ ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَا يَحْزُنْكَ [تو غمگین نہ کرے آپ ﷺ کو ] قَوْلُهُمْ ۘ [ان کی بات ] اِنَّا نَعْلَمُ [بیشک ہم جانتے ہیں ] مَا يُسِرُّوْنَ [اس کو جو یہ لوگ چھپاتے ہیں ] وَمَا يُعْلِنُوْنَ [اور اس کو جو یہ لوگ اعلان کرتے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–76

(فَلاَ یَحْزُنْکَ قَوْلُہُمْ اِِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ) (سو ان کی باتیں آپ کو رنجیدہ نہ کریں بلاشبہ ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ منکرین کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں، ان میں عناد ہے بات ماننے کو تیار نہیں، لہٰذا ان سے ایمان قبول کرنے کی امید رکھنا ہی غلط ہے آپ اپنے کام میں لگے رہیں اور ان کی باتوں سے آزردہ خاطر نہ ہوں ان کے دل کے حالات اور زبانی باتیں ہمیں سب معلوم ہیں ہم انہیں ان سب چیزوں کی سزا دے دیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 75–76

46:۔ فلا یحزنک الخ :۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی اور مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے مشرکین کی تکذیب اور طعن وتشنیع سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں ہم ان کی تمام شرارتوں اور خباثتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اور انہیں ان کی شرارتوں کی پوری پوری سزا دیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–76

گزشتہ آیات میں اللہ نے میدان حشر کے کچھ واقعات بیان فرمائے۔ قیامت والے دن گمراہ لوگ اپنے برے اعمال و افعال اور برے عقائد سے انکار کریں گے تو ان کی زبانیں بند ہوجائیں گی اور ان کے ہاتھ اور پائوں بول کر ان کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کے کرتوت ثابت ہوجائیں گے۔ اب آخر سورة میں اللہ نے توحید ، قرآن کی حقانیت اور جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور ضمناً رسالت کا ذکر بھی آگیا ہے۔ الغرض سورة کے اس آخری حصے میں چاروں بنیادی مسائل کو اختصار کے ساتھ دہرایا جارہا ہے۔ کافر اور مشرک لوگ قرآن پاک کو اللہ کا کلام تسلیم نہیں کرتے ، بلکہ اسے شاعری ، کہانت یا سحر سے تعبیر کرتے تھے کبھی کہتے بل افترہ کہ نبوت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُہُمْ۝ 0 ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ۝ 76 حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–76

ان باتوں کو سن کر کفار عرب کہتے تھے کہ یہ نصیحت آمیز باتیں محمد ﷺ جو سناتا ہے تو شاعر ہے، شاعر بھی ایسا کلام کیا کرتے ہیں، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ وما علمناہ الشعر کہ ہم نے محمد کو شعر نہیں سکھایا۔ وماینبغی لہ اور نہ یہ کہ آپ کے لائق ہے۔ یہ اس لیے کہ الہام اور وحی تو خداوند تعالیٰ کا ایک خاص فیضان ہے جو جبرئیل ( علیہ السلام) کے وسیلہ سے روح پر نازل ہوتا ہے۔ قوائے ملکوتیہ کو ابھارتا اور بہیمیہ کو پست کرتا ہے اور شعر تخیلات کی روانی اور زبان کی لفاظی ہے، اس میں کہیں عمدہ باتیں بھی ہوتی ہیں اور بیشتر تو توہمات و تخیلات ہوتے ہیں جو قوائے سہوانیہ کو جوش میں لاتے ہیں اور اسی لیے شعر کی بابت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلاَ یَحْزُنْـکَ قَوْلُھُمْ م اِنَّا نَعْلَمُ مَایُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 76) (پس آپ کو غمگین نہ کرے ان کی کوئی بات، ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ کیونکہ حق و باطل کی کشمکش میں مخالفین کی طرف سے اٹھتا ہوا طوفانِ مخاصمت جس میں استہزا، اتّہامات، اعتراضات اور خرافات کے بیشمار بگولے ذات رسالت مآب ﷺ کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اس کا طبیعت پر اثر ہونا ایک فطری بات ہے۔ بالخصوص اس بات کا اندازہ کرکے کہ میں اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ہوں اور مجھے ایک ایسا کامیاب انقلاب برپا کرنا ہے جس سے نوع انسانی کی ہدایت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–76

فہم القرآن ربط کلام : شرک کی حقیقت اور اس کا انجام بتلانے کے بعد نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو رؤف اور رحیم بنایا تھا۔ ( التوبۃ : 128) اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ العٰلمین بنایا۔ (الانبیاء : 107) آپ نرم دل تھے۔ ( آل عمران : 159) اپنی طبیعت اور منصب نبوت کی اہمیت کے پیش نظر آپ ﷺ صبح وشام لوگوں کو سمجھاتے، مگر مکہ کے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ سمجھنے کی بجائے آپ کی جان کے دشمن بن چکے تھے۔ انہوں نے بار ہا دفعہ آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود آپ کی کیفیت یہ تھی کہ آپ لوگوں کی اصلاح کی خاطر دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ رات کو تہجد میں رو رو کر دعائیں کرتے اور دن کو دعوت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تسلیٔ رسول ﷺ : 76: فَلاَ یَحْزُنْکَ قَوْلُھُمْ (تو ان کی باتیں آپ کے لئے آزردگی کا باعث نہ بنیں) ۔ قراءت : نافع نے یُحْزِنْکَ ، حزنہ واحزنہ سے پڑھا ہے۔ مطلب یہ بنے گا۔ آپ ان کی تکذیب و ایذاء اور جفاء و ظلم کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ (بلاشبہ ہم سب جانتے ہیں جو یہ دل میں رکھتے ہیں) یعنی ان کی عداوت وَمَا یُعْلِنُوْنََ (اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں) ۔ اور ہم ان کو اس پر سزا دینے والے ہیں۔ پس آپ کو چاہیے کہ ان کی اس وعید سے تسلی حاصل کریں اور ان کی صورت حال کا استحضار فرمائیں تاکہ غم و رنج کا ازالہ ہو۔ تردید ِقول : جس نے یہ خیال جمایا ہے کہ جس نے اَنَّا نعلم فتحہ سے پڑھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

76، فلا یحزنک قولھم ، کفار کے قول تکذیب سن لی ، انا نعلم ما یسرون، وہ اپنے دلوں میں جو آپ سے عداوت اور غلط عقائد چھپائے ہوئے ہیں ، ان سے ہم واقف ہیں ۔ ، وما یعلنون ، ہم ان کی بتوں کے پوجاکر نے کو جانتے ہیں یا ہم جانتے ہیں جو آپ کو زبانی کلامی اذیت دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–76

69 تا 76۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن جو گناہ گار اپنے گناہوں سے انکار کریں گے ان کی زبان بند کی جا کر ان کے ہاتھ پاؤں سے گناہوں کا اقرار کرایا جاوے گا اسی مناسبت سے فرمایا کہ جو لوگ سرکشی سے یہ زبان درازی کرتے ہیں کہ قرآن کو شعر اور اللہ کے رسول کو شاعر کہتے ہیں جب ان کی زبان بند کی جاکر ان کے ہاتھ پیروں سے ان کی اس زبان درازی کا اقرار کرایا جاوے گا تو اس وقت ان کو اس جھوٹ کی حقیقت کھل جائے گی کہ اللہ کے رسول کو یہ جھوٹے لوگ شاعر کہتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ان میں چھوٹے سے بڑے ہوئے ان لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعر کہنے کی عادت سے ہمیشہ بچایا کیوں کہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 76 اے رسول ! جھٹلانے والوں کی باتیں آپ کو غم زدہ نہ کریں۔ یہاں (باتوں “ سے مراد وہ باتیں ہے جن پر سیاق آیت دلالت کرتا ہے، یعنی ہر وہ بات جو رسول اور اس کی لائی ہوئی کتاب میں عیب لگاتی ہو۔ یعنی آپ کا دل ان کے غم میں مشغول نہ ہو (انا نعلم مایسرون وما یعلنون) ” یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہم سب جانتے ہیں “ اس لئے ہم ان کو اپنے علم کے مطابق جزا اور سزا دیں گے ان کی باتیں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 69–77

شعر گوئی نبی کے شایان شان نہیں قول باری ہے : (وما علمناہ الشعروما ینبغی لہ۔ اور ہم نے آپ ﷺ کو شعر وشاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ آپ ﷺ کی شایاں ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اس قول بای کی تفسیر میں بیان کیا کہ معمہ کہتے ہیں۔ کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا حضور ﷺ کبھی موقع ومحل کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہیں، بنو قیس بن طرفہ کے شاعر کے ، اس شعر کے سوا آپ ﷺ نے کبھی کوئی شعر نہیں پڑھا : ستبدی لک الایام ماکنت جاھلا ویاتیک بالاخبار من لم ترود زمانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

78 پیغمبر کو تسلی ۔ ﷺ : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا " پس غم میں نہ ڈالنے پائیں آپ ﷺ کو ان کی باتیں ۔ اے پیغمبر !- " یعنی یہ جب اپنے اس خالق ومالک کی نافرمانی و نمک حرامی سے نہیں ٹلتے جس کی نعمتوں اور عنایتوں میں یہ سر سے پاؤں تک ڈوبے ہوئے ہیں تو پھر آپ ﷺ کی تکذیب کرنا اور دکھ دہ باتیں کہنا ان سے کیا بعید ہوسکتا ہے۔ پس ان کی یہ باتیں آپ ﷺ کے لئے باعث غم نہیں ہونی چاہئیں کہ یہ کوئی انوکھی اور خلاف توقع چیز نہیں۔ آپ ﷺ سے پہلے کے انبیاء و رسل کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا رہا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ } ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 76–82

لوگوں کے دوبارہ پیدا کیے جانے کے قرآنی دلائل تشریح : اللہ جل شانہ اپنے پیارے نبی کو تسلی دیتا ہے کہ آپ ان کی باتوں سے یعنی کفار کی حجت بازی سے پریشان نہ ہوں۔ میرے علم میں یہ بات بخوبی ہے کہ اصل میں یہ آپ کی حقیقی خوبیوں کو جانتے ہیـں مانتے ہیں مگر صرف ضد بازی میں آپ کے سامنے اور لوگوں کے سامنے یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ انسان ہے کیا چیز ! اگر یہ اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے اپنے سارے سوالوں کے جواب دلیلوں کے ساتھ مل جائیں۔ انہوں نے اگر مردہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو کیا ہوا ؟ ہر وقت یہ ہر طرف انسان، چرند پرند، پھول پھل اور ہر قسم کی نباتات کو پیدا ہوتے پھولتے پھلتے نہیں دیکھتا ؟ کیا یہ ثبوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–83

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83: اسرار و معارف : اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی ان کی کفر و شرک کی باتوں سے یا ان کے آپ ﷺ کو جادوگر، شاعر اور دیوانہ وغیرہ کہنے سے۔3 یعنی ان کے ظاہر اور پوشیدہ تمام اقوال و افعال سے خوب واقف ہیں اور انہیں ان کی پوری پوری سزا دے کر رہیں گے ہم سے بھاگ کر یہ کہیں پناہ نہیں لے سکتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:76) فلا یحزنک قولہم میں الفاء للسببیۃ۔ ای اذا کان ھذا حالہم مع ربہم عزوجل فلا تحزن بسبب قولہم علیک۔ جب کا اپنے رب عزوجل کے ساتھ یہ حال ہے تو اپنے متعلق ان کی باتوں سے رنجیدہ خاطر مت ہوں۔ لا یحزنک فعل نفی واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ حزن مصدر (باب نصر) سے۔ تجھے غمگین نہ کرے۔ قولہم مضاف مضاف الیہ لا یحزن کا فاعل ۔ ان کا قول۔ ان کا کہنا۔ (کہ آپ شاعر ہیں) ۔ ما یسرون : ما موصولہ ہے یسرون مضارع جمع مذکر غائب اسرار (افعال) مصدر۔ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔ ما یعلنون۔ ما موصولہ یعلنون مضارع جمع مذکر غائب اعلان (افعال) مصدر سے جو وہ ظاہر کرتے ہیں جو وہ علانیہ کرتے ہیں

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–83

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 71–76

منکرین حشر کا ذکر۔ (اللہ کی نعمتیں اور بندوں کی ناقدری) ۔ (ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بےگنتی نعمتوں میں سے مثال کے طو رپر فرمایا، کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ ہم نے ان کے واسطے ان چیزوں کو پیدا کیا جیسے اونٹ گائے بھیڑ بکری، پس یہ لوگ ان پر قابض ہیں اور ہم نے ان اونٹ گائے بھیڑ بکری کو ان کا تابع کردیا ہے کہ یہ ان پر سوار ہوتے ہیں اور ان کا گوشت کھاتے ہیں اور بھی ان کے مقاصد ہیں یعنی ان کے بالوں سے نفع اٹھانا اور ان جانوروں میں ان کو دودھ پینے کا بھی نفع ہے اور کھالوں کے کپڑے بنانے کا نفع ہے نعمت کا ذکر فرما کر یہ فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ کے احسانات کا تو یہ حال اور ان کی ناشکری کا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 75–79

[25] یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود اس لئے بنائے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں مگر ہو یہ رہا ہے کہ وہ تو ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں خود یہی لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے حاضر باش خدام اور سپاہی بنے ہوئے ہیں اور ان کی حمایت میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور لوگوں کو ان کا گرویدہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–76

پیغمبر شاعر نہیں ہوتا 2: چونکہ فطرت کے ترجمان تھے ۔ اس لئے آپ کو پیغام دیا گیا وہ باوجود بلاغت وفصاحت کے اعلیٰ ترین درجہ میں ہونے کے نثر میں نظم وشعر میں نہیں تھا ۔ کیونکہ نثر اظہار مدعا کا فطری طریقہ ہے جس میں قافیہ اور ردیف کا تکلف نہیں ہوتا ۔ صرف مقصود بالذات معانی اور مطالب ہوتے ہیں ۔ الفاظ نہیں ہوتے اور شعر پیر آئینہ ایک قسم کا تصنع ہے ۔ جو باوجود اپنے تاثر اور موسیقی کے نثر کا اس اعتبار سے ہم رتبہ نہیں ہے کہ اس کا حسن و جمال وزن اور قافیہ کار میں منت ہے اور نثر کا حسن اپنا ذاتی حسن ہے ؎ تکلف سے بری ہے حسن ذاتی نبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے شعر اور نغمہ سے اس لئے بھی انبیاء کو مناسبت نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(76) پس اے پیغمبر آپ کو ان کی باتیں اور ان کے ناشائستہ اقوال موجب دل آزادی نہ ہوں اور آپ کو غمگین نہ کریں کیونکہ یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں وہ ہم سب جانتے ہیں۔ یعنی آپ کے آزردہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہم ان کی کھلی اور چھپی دشمنی کو خوب جانتے ہیں اور ہم ان کو ان کے اعمال بد کی سزا دینے کو کافی ہیں اور ان کو ان کی حرکات کی سزا ملنے والی ہے لہٰذا آپ کو کسی غم اور فکر کی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 76–79

ف 3۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی لیکر حضور نبوی ﷺ میں حاضر ہوا، اور اس کو چٹکی سے مل کر کہنے لگا کہ کیا یہ ایسی حالت کے بعد زندہ ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں۔ اور تو دوزخ میں جاوے گا اس پر اولم یر الانسان سے آخر سورت تک آیتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کو ان کی بات غمگین نہ کرے ان کا ظاہر و باطن ہمارے علم میں ہے : 76۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ان مکہ والوں کی باتیں آپ ﷺ کو غمگین نہ کریں ان کی کوئی بات بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہے ‘ ہم ان کی خفیہ سازشوں سے بھی خوب واقف ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کر رہے ہیں اس سے بھی اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں ‘ کوئی بات بھی ہم سے ان کی پوشیدہ نہیں ہے ۔ آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور ہم جس کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں اس کو کوئی نہیں جو کسی طرح کی بھی گزند پہنچا سکے اور یہ کہ ہم ایسے ظالموں سے انتقام لینا بھی جانتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–76

In the last verse cited above (75), it was said: وَهُمْ لَهُمْ جُندٌ مُّحْضَرُ‌ونَ (rather they are an army brought forth for them). One sense of this verse is to take the word: جُندٌ (army) in the text to mean an opponent or adversary and take the verse to mean that the things they have made their objects of worship in the mortal world will turn against them on the Day of Judgment and also bear witness against them. And according to a Tafsir reported from Hasan and Qatadah رحمۃ اللہ علیہما ، it means that these people had taken to idols as gods in the hope that they would help them. But,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

63 The address is to the Holy Prophet. Here the allusion is to the campaign of vilification which the chiefs of the disbelievers of Makkah were carrying on against him. They knew in their hearts and acknowledged in their private assemblies that the charges they brought against him were absolutely baseless. In order to create suspicions against him in the minds of the people, they branded him a poet, sorcerer, magician, madman, etc. But their consciences recognized, and they also acknowledged before one another, that whatever they were uttering Was false, which they were forging only to…

Read the full tafseer →