Explained with ayahs 74–76
نفع و نقصان کا اختیار کس کے پاس ہے ؟
مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید ہو رہی ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ جن جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد نصرت کریں گے ان کی روزیوں میں برکت دیں گے اور اللہ سے ملادیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی مددتو کجا، وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے بلکہ یہ بت تو اپنے دشمن کے نقصان سے بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔ کوئی اور انہیں توڑ مروڑ کر بھی چلا جائے تو یہ اس کا کچھ نہیں کرسکتے بلکہ بول چال پر بھی قادر نہیں سمجھ بوجھ نہیں۔ یہ بت قیامت کے دن جمع شدہ حساب کے وقت اپنے عابدوں کے سامنے لاچاری اور بےکسی کے…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 62
یعنی وہ جھوٹے معبود بےچارے خود اپنے بقا اور اپنی حفاظت اور اپنی ضروریات کے لیے ان عبادت گزاروں کے محتاج ہیں۔ ان کے لشکر نہ ہوں تو ان غریبوں کی خدائی ایک دن نہ چلے۔ یہ ان کے حاضر باش غلام بنے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی بارگاہیں بنا اور سجا رہے ہیں۔ یہ ان کے لیے پروپیگنڈا کرتے پھرتے ہیں۔ یہ خلق خدا کو ان کا گرویدہ بناتے ہیں۔ یہ ان کی حمایت میں لڑتے اور جھگڑتے ہیں تب کہیں ان کا خدائی چلتی ہے۔ ورنہ ان کا کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہو۔ وہ اصلی خدا نہیں ہیں کہ کوئی اس کو مانے یا نہ مانے، وہ اپنے زور پر آپ ساری کائنات کی فرماں روائی کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) وھم لہم جند محضرون۔ اس آیت کا ایک مفہوم تو وہ ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ جند سے مراد فریق مخالف لیا جائے، اور مطلب آیت کا یہ ہو کہ جن چیزوں کو انہوں نے دنیا میں معبود بنا رکھا ہے، یہی قیامت کے روز ان کے مخالف ہو کر ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اور حضرت حسن و قتادہ سے اس کی تفسیر یہ منقول ہے کہ ان لوگوں نے بتوں کو خدا تو اس لئے بنایا تھا کہ یہ ان کی مدد کریں گے اور ہو یہ رہا ہے کہ وہ تو ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں خود یہی لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے خدام اور ان کے سپاہی بنے ہوئے ہیں ان کی حفاظت کرتے ہیں کوئی ان کے خلاف کام کرے تو یہ ان کی طرف سے لڑتے ہیں۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت 74۔ 75
یعنی اس واضح حقیقت کو مواجہہ کرنے کے بجائے انہوں نے حقیقت سے فرار کے لئے چور دروازے پیدا کیے ہیں۔ حق تو یہ تھا کہ جس رب کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو رہے ہیں اس کے حقوق و فرائض پہنچانتے اور ان کو ادا کرتے لیکن انہوں نے کیا یہ ہے کہ خدا کے سوا کچھ دوسرے معبود انہوں نے ایجاد کیے ہیں اور ان کے کچھ رسوم ادا کرکے یہ توقع کر رہے ہیں کہ اگر خدا کی طرف سے کوئی گرفت ہوئی تو ان کی مدد سے وہ چھوٹ جائیں گے۔
’ لا یستطیعون الایۃ ‘۔ فرمایا کہ ان کی مدد تو وہ کیا خاک کرسکیں گے۔ البتہ یہ ہوگا کہ ان کے ساتھ یہ بھی ان کی فوج کی حیثیت سے خدا کے حضور میں حاضر کیے جائیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
75۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جن بتوں کو معبود سمجھتے ہیں، وہ ان کی مدد کیا کریں گے ؟ وہ خود اپنی مدد کرنے سے قاصر ہیں انہیں کوئی برا کہے ان کی ندامت کرے، تو یہی ان کی حمایت و مدافت میں سرگرم ہوتے ہیں، نہ کہ خود ان کے وہ معبود
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
23: یعنی جن من گھڑت خداؤں سے یہ مدد کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، وہ ان کی مدد تو کیا کرتے ؟ قیامت کے دن ان کا پورا لشکر ان کے خلاف گواہی دے گا، جیسا کہ قرآن کریم نے سورة سبا اور سورة قصص میں بتلایا ہے۔
Read the full tafseer →وھم لھم جند محضرون (36: 75) ” وہ اپنے الہوں کے لیے حاضر باش فوجدار تھے “۔ یہ اب کی سوچ اور فکر کی انتہائی کمزوری تھی۔ آج بھی لوگوں کی اکثریت اسی سوچ میں مبتلا ہے۔ اور صرف شکل و صورت کے اعتبار سے ہی اختلاف ہے۔ اصل سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آج جو لوگ بڑے بڑے سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کا الہہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ازمنۃ سابقہ کے بتوں کے پجاریوں سے کہیں دور نہیں ہیں۔ دراصل یہ لوگ ان بتوں کے فوجدار ہیں۔ یہ لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کو پوجتے بھی ہیں۔ اور ان کی حمایت و مدافعت بھی کرتے ہیں۔
بت پرستی بہرحال بت پرستی ہے۔ اس کی شکل و صورت مختلف ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ ہر دور میں موجود ہوتی ہے۔ اور جب بھی عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
5 یعنی جس خدا نے یہ نعمتیں مرحمت فرمائیں اس کا یہ شکر ادا کیا کہ اس کے مقابل دوسرے احکام اور معبود ٹھہرا لیے جنہیں سمجھتے ہیں کہ آڑے وقت میں کام آئیں گے اور مدد کریں گے سو یاد رکھو ! وہ تمہاری تو کیا اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے۔ ہاں جب تم کو مدد کی ضرورت ہوگی اس وقت گرفتار ضرور کرا دیں گے تب پتہ لگے گا کہ جن کی حمایت میں عمر بھر لڑتے رہے تھے وہ آج کس طرح آنکھیں دکھانے لگے۔
Read the full tafseer →آیت 75 { لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَہُمْ } ”وہ ہرگز کوئی استطاعت نہیں رکھتے ان کی مدد کی“
{ وَہُمْ لَہُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ } ”بلکہ یہ تو خود ہوں گے ان کے پکڑے ہوئے قیدی۔“
یعنی جنہیں یہ لوگ پوجتے تھے وہی انہیں پکڑ پکڑ کر اللہ کے حضور پیش کریں گے اور کہیں گے : اے اللہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں ہمارے ساتھ یہ ظلم کیا تھا کہ ہمیں تیرا شریک ٹھہراتے رہے۔
Read the full tafseer →67 معبودان باطل کی دنیا اور آخرت میں بےبسی :۔ انسان نے جس چیز کی بھی عبادت کی ہے۔ یا فریاد کی ہے یا اس کے آگے نذریں نیازیں پیش کی ہیں تو اس لئے کہ وہ معبود ان کی مشکل دور کریں گے یا کوئی حاجت پوری کردیں گے۔ یا اگر وہ روز آخرت پر بھی ایمان رکھتا ہے تو اس لئے کرتا ہے کہ وہ قیامت کو سفارش کردیں گے یا عذاب سے بچا لیں گے اور ان سب باتوں میں مدد کا پہلو شامل ہے۔ اور مدد کے لفظ میں یہ سب باتیں آجاتی ہیں۔ اب اس مدد کے دو پہلو ہیں ایک دنیا میں، دوسرے آخرت میں۔ دنیا میں ان کی مدد کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے عابدوں کی مدد تو کیا کریں گے وہ تو اپنی بقاء اپنی حفاظت اور اپنی ضروریات کے لئے ان کے محتاج ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
50۔ یعنی ان دیوی دیوتاؤں سے مشرک توقع تو یہ رکھتا ہے کہ وہ اس کے آڑے آئیں گے۔ سو یہ ہونا تو الگ رہا۔ حشر میں وہ اور اس کے فریق مخالف کی حیثیت سے پیش ہوں گے اور الٹے اسی پر الزام رکھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–83
آیت نمبر 68 تا 83
ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…
Read the full tafseer →یا یستطیعون نصرھم وھم لھم جند محصرون (لیکن) وہ ان کی کچھ مدد کر ہی نہیں سکتے اور وہ ان لوگوں کے حق میں ایک (مخالف) فریق ہوجائیں گے جو حاضر کئے جائیں گے۔
وَاتَّخَذُوْا الخ یعنی اللہ کی پیہم نعمتیں اور محیط کل قدرت کا مشاہدہ کرتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اللہ تنہا اس قدرت کاملہ اور ربوبیت عامہ کا مالک ہے ‘ دوسروں کو عبادت میں انہوں نے شریک کر رکھا ہے۔ بیہقی اور حکیم نے حضرت ابو درداء کی روایت سے بیان کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے فرمایا : میرا معاملہ اور جن و انس کا ایک عجیب معاملہ ہے۔ میں پیدا کرتا ہوں اور دوسروں کی عبادت کی جاتی ہے ‘ میں رزق دیتا ہوں اور شکر دوسروں کا کیا جاتا…
Read the full tafseer →وہ جھوٹے معبود ان کی عذاب خداوندی سے کچھ بھی حفاظت نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَهُمْ : فرمایا، وہ ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھتے، نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ دنیا میں ان کی مدد کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے عابدوں کی مدد تو کیا کریں گے وہ اپنی بقا، حفاظت اور دوسری ضروریات کے لیے اپنی عبادت کرنے والوں کے محتاج ہیں اور آخرت میں وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ دیکھیے سورة احقاف (6)۔
وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، پہلا یہ کہ ”هُمْ“ سے مراد مشرکین اور ”لَهُمْ“ سے مراد ان کے معبود ہوں، یعنی بجائے اس کے کہ ان کے معبود ان کی مدد کریں یہ عبادت کرنے والے ہر وقت ان کے مددگار اور خدمت گار فوج بنے ہوئے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
ان لوگوں نے ہماری قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھا ہے پھر انہوں نے ہمیں چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں وج کسی فعل پر قدرت نہیں رکھتے جب کہ وہ ان کی اس وقت مدد کی امید رکھتے ہیں اگر ان پر عذاب نازل ہو عرب یوں کلام کرتے ہیں لعلہ ان یفعل جب کہ وہ معبود ان باطلہ ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھتے۔ بتوں کے لئے فعل واونون کے ساتھ جمع ذکر کیا ہے کیونکہ ان کے بارے میں خبری دی گئی ہے جس طرح انسانوں کے بارے میں خبری دی جاتی ہے۔
جب کفار ان جھوٹے معبودوں کے حاضر لشکر ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ہے وہ ان معبودوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں (3) قتادہ نے کہا : کفار دنیا میں ان کے لئے غضبناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا یستطیعون نصرھم “ یعنی کوئی معبود ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھے گا۔
9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا یستطیعون نصرھم “ میں ” ھم “ ضمیر سے مراد بت ہیں یعنی وہ کافر بتوں کی اور بت کافروں کی مدد نہیں کرسکتے (آیت) ” وھم لھم جند محضرون “ (اور وہ ان لوگوں کے حق میں ایک مخالف فریق ہوجائیں گے جو حاضر کئے جائیں گے) کہ مشرکین دنیا میں تو بتوں سے ناراض ہوتے ہیں جب یہ بت ان کو کوئی خیر نہیں دے سکتے اور نہ ان سے کسی مصیبت کو دور کرسکتے ہیں بلکہ یہ تو صرف بت ہیں۔
10:۔ ابن…
Read the full tafseer →لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ [وہ (الٰہ) استطاعت نہیں رکھتے ] نَصْرَهُمْ ۙ [ان کی مدد کرنے کی ] وَهُمْ لَهُمْ [اور وہ ان کے لئے ] جُنْدٌ [ایک ایسا لشکر ہیں جو ] مُّحْضَرُوْنَ [حاضر کئے گئے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(فَلاَ یَحْزُنْکَ قَوْلُہُمْ اِِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ) (سو ان کی باتیں آپ کو رنجیدہ نہ کریں بلاشبہ ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ منکرین کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں، ان میں عناد ہے بات ماننے کو تیار نہیں، لہٰذا ان سے ایمان قبول کرنے کی امید رکھنا ہی غلط ہے آپ اپنے کام میں لگے رہیں اور ان کی باتوں سے آزردہ خاطر نہ ہوں ان کے دل کے حالات اور زبانی باتیں ہمیں سب معلوم ہیں ہم انہیں ان سب چیزوں کی سزا دے دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–76
منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
46:۔ فلا یحزنک الخ :۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی اور مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے مشرکین کی تکذیب اور طعن وتشنیع سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں ہم ان کی تمام شرارتوں اور خباثتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اور انہیں ان کی شرارتوں کی پوری پوری سزا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
گزشتہ آیات میں اللہ نے میدان حشر کے کچھ واقعات بیان فرمائے۔ قیامت والے دن گمراہ لوگ اپنے برے اعمال و افعال اور برے عقائد سے انکار کریں گے تو ان کی زبانیں بند ہوجائیں گی اور ان کے ہاتھ اور پائوں بول کر ان کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کے کرتوت ثابت ہوجائیں گے۔ اب آخر سورة میں اللہ نے توحید ، قرآن کی حقانیت اور جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور ضمناً رسالت کا ذکر بھی آگیا ہے۔ الغرض سورة کے اس آخری حصے میں چاروں بنیادی مسائل کو اختصار کے ساتھ دہرایا جارہا ہے۔ کافر اور مشرک لوگ قرآن پاک کو اللہ کا کلام تسلیم نہیں کرتے ، بلکہ اسے شاعری ، کہانت یا سحر سے تعبیر کرتے تھے کبھی کہتے بل افترہ کہ نبوت…
Read the full tafseer →لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَہُمْ 0 ۙ وَہُمْ لَہُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ 75
الاستطاعۃ
. وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43]
( ط و ع ) الطوع
الاستطاعۃ ( استفعال )
یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجہ ہونا ۔ اور استطاعت قدرت سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔
نصر
النَّصْرُ والنُّصْرَةُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
ان باتوں کو سن کر کفار عرب کہتے تھے کہ یہ نصیحت آمیز باتیں محمد ﷺ جو سناتا ہے تو شاعر ہے، شاعر بھی ایسا کلام کیا کرتے ہیں، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ وما علمناہ الشعر کہ ہم نے محمد کو شعر نہیں سکھایا۔ وماینبغی لہ اور نہ یہ کہ آپ کے لائق ہے۔ یہ اس لیے کہ الہام اور وحی تو خداوند تعالیٰ کا ایک خاص فیضان ہے جو جبرئیل ( علیہ السلام) کے وسیلہ سے روح پر نازل ہوتا ہے۔ قوائے ملکوتیہ کو ابھارتا اور بہیمیہ کو پست کرتا ہے اور شعر تخیلات کی روانی اور زبان کی لفاظی ہے، اس میں کہیں عمدہ باتیں بھی ہوتی ہیں اور بیشتر تو توہمات و تخیلات ہوتے ہیں جو قوائے سہوانیہ کو جوش میں لاتے ہیں اور اسی لیے شعر کی بابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِھَۃً لَّعَلَّہُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَھُمْ لا وَھُمْ لَہُمْ جُنْدٌمُّحْضَرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 74، 75)
(اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی۔ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے بلکہ وہ ان کی حاضر کی ہوئی فوج بنیں گے۔ )
مخالفین کے دلوں کی سنگینی
مخالفین کے دلوں کی سختی اور قبولیتِ حق سے اعراض کی انتہا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کا جس طرح ذکر فرمایا اور انسانوں پر کی جانے والی بیشمار نعمتوں کا حوالہ دے کر انہیں اپنے شکر کی طرف توجہ دلائی۔ اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
فہم القرآن
ربط کلام : شرک کی حقیقت اور اس کا انجام بتلانے کے بعد نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو رؤف اور رحیم بنایا تھا۔ ( التوبۃ : 128) اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ العٰلمین بنایا۔ (الانبیاء : 107) آپ نرم دل تھے۔ ( آل عمران : 159) اپنی طبیعت اور منصب نبوت کی اہمیت کے پیش نظر آپ ﷺ صبح وشام لوگوں کو سمجھاتے، مگر مکہ کے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ سمجھنے کی بجائے آپ کی جان کے دشمن بن چکے تھے۔ انہوں نے بار ہا دفعہ آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود آپ کی کیفیت یہ تھی کہ آپ لوگوں کی اصلاح کی خاطر دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ رات کو تہجد میں رو رو کر دعائیں کرتے اور دن کو دعوت…
Read the full tafseer →75: لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ (وہ طاقت نہیں رکھتے) یعنی ان کے معبود نَصْرَھُمْ (ان کی مدد کی) اپنے عبادت کرنے والوں کی وَھُمْ لَھُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ (اور وہ ان لوگوں کے حق میں ایک فریق بن جائیں گے) یعنی کفار اصنام کیلئے مددگار ومعاون ہیں۔ اور ان کی خدمت کرتے ہیں۔ اور ان سے نقصان دہ اشیاء کو دور کرتے ہیں یا انہوں نے بت اس لئے بنا رکھے ہیں تاکہ وہ بت اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی مدد کریں ان کی شفاعت کریں حالانکہ معاملہ اس کے الٹ ہے جو انہوں نے اپنے خیال میں تجویز کر رکھا ہے۔ اس طرح کہ وہ قیامت کے دن ان کے لئے تیار کیا ہو الشکر ہے۔ ان کو انہیں عذاب دینے کے لئے لایا جائے گا۔ اور ان پر جلنے والی آگ کا…
Read the full tafseer →75، لا یستطیعون نصرھم، ان کے بت ان کی مدد کرنے پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ ان کو عذاب سے بچاسکتے ہیں۔
، وھم لھم جند محضرون ، یعنی کفارا پنے معبودوں کے لیے فریق بنے ہوئے ہیں اور دنیا میں ان کی حفاظت کررہے ہیں اور ہمیشہ ان کی نگرانی کے لیے تیاررہتے ہیں ۔ باوجاد یکہ وہ معبودان کو کئی فائد ہ نہیں پہنچا تے اور نہ کسی شر سے ان کو بچا تے ہیں ۔
بعض لوگوں نے کہا کہ قیامت کے دن کافروں کے معبودوں کو طلب کیا جائے گا۔ ان کے ساتھ ان کے پرستاروں کو بھی لایا جائے گا۔ گویا وہ سب ایک فوج ہوں گے جنکو دوزخ میں ڈال دیاجائے گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
69 تا 76۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن جو گناہ گار اپنے گناہوں سے انکار کریں گے ان کی زبان بند کی جا کر ان کے ہاتھ پاؤں سے گناہوں کا اقرار کرایا جاوے گا اسی مناسبت سے فرمایا کہ جو لوگ سرکشی سے یہ زبان درازی کرتے ہیں کہ قرآن کو شعر اور اللہ کے رسول کو شاعر کہتے ہیں جب ان کی زبان بند کی جاکر ان کے ہاتھ پیروں سے ان کی اس زبان درازی کا اقرار کرایا جاوے گا تو اس وقت ان کو اس جھوٹ کی حقیقت کھل جائے گی کہ اللہ کے رسول کو یہ جھوٹے لوگ شاعر کہتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ان میں چھوٹے سے بڑے ہوئے ان لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعر کہنے کی عادت سے ہمیشہ بچایا کیوں کہ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت 74
یہ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا بیان ہے جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے مدد اور سفارش کی امید رکھتے ہیں، حالانکہ وہ انتہائی عاجز ہیں (لایستطیعون نصرھم) ” نہ وہ ان کی مدد کرسکتے ہیں “ اور نہ خود اپنی مدد پر قادر ہیں۔ جب وہ اپنی مد نہیں کرسکتے تو وہ ان کی مد کیسے کرسکتے ہیں۔ مدد کرنا دو امور سے مشروط ہے استطاعت اور ارادہ جب کوئی مدد کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو ایک چیز بای رہ جاتی ہے کہ آیا وہ اپنے عبادت گزار بندے کی مدد کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ استطاعت کی نفی سے دونوں امور کی نفی ہوجاتی ہے (وھم لھم جند محصرون) یعنی وہ ان کے حاضر باش لشکر ہوں گے۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–77
شعر گوئی نبی کے شایان شان نہیں
قول باری ہے : (وما علمناہ الشعروما ینبغی لہ۔ اور ہم نے آپ ﷺ کو شعر وشاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ آپ ﷺ کی شایاں ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اس قول بای کی تفسیر میں بیان کیا کہ معمہ کہتے ہیں۔ کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا حضور ﷺ کبھی موقع ومحل کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہیں، بنو قیس بن طرفہ کے شاعر کے ، اس شعر کے سوا آپ ﷺ نے کبھی کوئی شعر نہیں پڑھا :
ستبدی لک الایام ماکنت جاھلا
ویاتیک بالاخبار من لم ترود
زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
77 معبودان من دون اللہ کی بےحقیقتی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب کھلے حقائق کے باوجود ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں اس موہوم اور بےبنیاد امید پر کہ وہ ان کی مدد کریں گے۔ حالانکہ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے اور نہ کبھی کرسکیں گے۔ الٹا یہ خود انکے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں کہ ان کے دربار بناتے، آستانے سجاتے، جھنڈے لہراتے، ان پر چادریں ڈالتے، نذرانے و شیرینیاں پیش کرتے، ان کے گیت گاتے اور ان کی تاثیر و تصرف کے قصے و افسانے گھڑ گھڑ کر لوگوں کو سناتے اور پیش کرتے ہیں۔ تاکہ ان کی دکان چمکتی رہے اور ان کی چاندی مزید از مزید کھری ہوتی جائے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →پیغمبر کی بعثت اور نعمتوں کا مقصد
تشریح : کفار مکہ جب قرآن پاک کی تلاوت سنتے تو وہ اس بات کو ضرور مانتے کہ اس کلام میں بڑی معقولیت ہے یہ بڑا پر اثر کلام ہے تو بجائے ایمان لے آنے کے وہ لوگ کہتے کہ یا تو محمد ﷺ شاعر ہیں یا پھر جادوگر ہیں۔ ان کے جواب میں مذکورہ آیات نازل ہوئیں اور ساتھ ہی نبی ﷺ کی شان اور اللہ کی بڑی بڑی نعمتوں میں سے چار پایوں کی نعمت کا ذکر بھی اس لیے کیا گیا کہ شاید ان عقل کے اندھوں کو کچھ سمجھ آجائے اور یہ کفر و شرک سے باز آکر اپنی عاقبت سنوار لیں۔ اور سمجھ جائیں کہ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں ان کے چھوٹے معبود ان کے کام آئیں گے اور نہ ہی وہ ان کو آخرت کے درد ناک عذاب سے بچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–83
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83:
اسرار و معارف :
اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔
ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 1 یعنی قیامت کے دن جب یہ مشرک اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لئے آئیں گے تو ان کے غم واندوہ میں اضافہ کرنے کے لئے ان کی فوج ( جتھے) میں ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” ھم “ کی ضمیر جھوٹے معبودوں ” لھم “ کی ضمیر مشرکوں کے لئے قرار دی جائے اور اگر ان ضمیروں کو اس کے برعکس مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ” یہ مشرک اپنے معبودوں کے لئے حاضر پاش لشکر بنے ہوئے ہیں “۔ یعنی ان کی جھوٹی خدائی اپنے بل بوتے پر قائم نہیں ہے بلکہ سراسر ان مشرکین کی خدمت گزاری نذرانوں اور گھڑ کی پھسلائی ہوئی کرامتوں کے سہارے قائم ہے گویا وہ ان کی مدد تو کیا کریں گے خود ان کی مدد کے…
Read the full tafseer →(36:75) لا یستطیعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر طوع مادہ۔ وہ طاقت نہیں رکھتے۔ وہ قدرت نہیں رکھتے۔ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ولا یستطیعون لہم نصرا ولا انفسہم ینصرون۔ (7:192) اور وہ نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں :
نصرہم۔ مضاف مضاف الیہ ضمیر ہم مشرکین کی طرف راجع ہے ۔ یعنی وہ معبو دان باطل ان کی (مشرکین کی) مدد کی طاقت نہیں رکھتے۔ مدد نہیں کرسکتے۔ ای لا تقدر الہتہم علی نصرہم۔
وہم لہم جند محضرون۔ محضرون اسم مفعول جمع مذکر۔ وہ لوگ جن کو حاضر کیا جائے گا۔
اس جملہ کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔
(الف) کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
منکرین حشر کا ذکر۔ (اللہ کی نعمتیں اور بندوں کی ناقدری) ۔
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بےگنتی نعمتوں میں سے مثال کے طو رپر فرمایا، کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ ہم نے ان کے واسطے ان چیزوں کو پیدا کیا جیسے اونٹ گائے بھیڑ بکری، پس یہ لوگ ان پر قابض ہیں اور ہم نے ان اونٹ گائے بھیڑ بکری کو ان کا تابع کردیا ہے کہ یہ ان پر سوار ہوتے ہیں اور ان کا گوشت کھاتے ہیں اور بھی ان کے مقاصد ہیں یعنی ان کے بالوں سے نفع اٹھانا اور ان جانوروں میں ان کو دودھ پینے کا بھی نفع ہے اور کھالوں کے کپڑے بنانے کا نفع ہے نعمت کا ذکر فرما کر یہ فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ کے احسانات کا تو یہ حال اور ان کی ناشکری کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
[25] یعنی ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود اس لئے بنائے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں مگر ہو یہ رہا ہے کہ وہ تو ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں خود یہی لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے حاضر باش خدام اور سپاہی بنے ہوئے ہیں اور ان کی حمایت میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور لوگوں کو ان کا گرویدہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
پیغمبر شاعر نہیں ہوتا
2: چونکہ فطرت کے ترجمان تھے ۔ اس لئے آپ کو پیغام دیا گیا وہ باوجود بلاغت وفصاحت کے اعلیٰ ترین درجہ میں ہونے کے نثر میں نظم وشعر میں نہیں تھا ۔ کیونکہ نثر اظہار مدعا کا فطری طریقہ ہے جس میں قافیہ اور ردیف کا تکلف نہیں ہوتا ۔ صرف مقصود بالذات معانی اور مطالب ہوتے ہیں ۔ الفاظ نہیں ہوتے اور شعر پیر آئینہ ایک قسم کا تصنع ہے ۔ جو باوجود اپنے تاثر اور موسیقی کے نثر کا اس اعتبار سے ہم رتبہ نہیں ہے کہ اس کا حسن و جمال وزن اور قافیہ کار میں منت ہے اور نثر کا حسن اپنا ذاتی حسن ہے ؎
تکلف سے بری ہے حسن ذاتی
نبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے
شعر اور نغمہ سے اس لئے بھی انبیاء کو مناسبت نہیں…
Read the full tafseer →(75) یہ مفروضہ معبود ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتے اور یہ مشرک ان معبودان باطلہ کی ایک فوج بن کر حاضر کئے جائیں گے۔
آیت کا مطلب کئی طرح بیان کیا گیا ہے۔ قیامت میں یہ مشرک ان معبودوں کے ہمراہ گرفتار کر کے لائے جائیں گے یا یہ کہ وہ بت ان مشرکوں کا لشکر ہوں گے جو قیامت کے دن گرفتار کر کے حاضر کئے جائیں گے یا یہ کہ قیامت میں وہ معبودان باطلہ ان مشرکوں کے حریف اور مقابل ہوں گے جو بجائے مدد کرنے کے ان کی مخالفت کرتے ہوں گے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کی حالت بتائی گئی ہو کہ مشرک ان بتوں کے لشکر ہیں یعنی ان کے مددگار اور خادم ہیں جوان کی مکھیاں اڑاتے رہتے ہیں اور ان کو جھاڑتے اور صاف کرتے رہتے ہیں اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
ف 2۔ طبعی حالت سے مراد قوی مدرکہ، سامعہ، باصرہ وغیرہ اور فاعلہ، ہاضمہ، نامیہ وغیرہا، اور رنگ و روغن و حسن و جمال ہیں۔ اور الٹا کرنے سے مراد ہے ان کا انقلاب اور تغیر حالت اودون و ارذل کی طرف۔ پس طمس ومسخ بھی ایک قسم کا تغیر ہے کامل سے ناقص کی طرف۔
Read the full tafseer →وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے یہ لوگ خود ہی ان کا لشکر بنے ہوئے ہیں :
75۔ ان معبود بنائے گئے لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو اللہ کے نیک بندے تھے ظاہر ہے کہ دونوں سے ایک جیسا سلوک تو نہیں کیا جاسکتا لیکن ایک معاملہ میں تو یہ سب کے سب برابر ہیں ‘ وہ معاملہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ اللہ کے نیک بندے ہوں یا دوسرے معبودان باطل ان کی مدد کرنے سے تو سب کے سب قاصر ہیں کیونکہ مرنے کے بعد جب ایک آدمی اس دنیا سے دوسری دنیا کو منتقل ہوگیا تو وہ کسی کی مدد کیا کرے گا کیونکہ مرنیکے بعد لوگوں کی حاجت براریوں کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس مقصد کے لیے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
In the last verse cited above (75), it was said: وَهُمْ لَهُمْ جُندٌ مُّحْضَرُونَ (rather they are an army brought forth for them). One sense of this verse is to take the word: جُندٌ (army) in the text to mean an opponent or adversary and take the verse to mean that the things they have made their objects of worship in the mortal world will turn against them on the Day of Judgment and also bear witness against them.
And according to a Tafsir reported from Hasan and Qatadah رحمۃ اللہ علیہما ، it means that these people had taken to idols as gods in the hope that they would help them. But,…
Read the full tafseer →62 That is, the poor false gods themselves are dependent upon their worshippers for their survival and their safety and their needs. But for their multitudes they could not survive as gods even for a day. These people are behaving as their humble servants. They are setting up and decorating their shrines; they carry out propaganda for them; they fight and quarrel with others for their sake. Then only arc thay recognized as gods. They are not the teal God, Who, whether someone recognizes Him or not, is ruling over the whole universe by His own might and authority.
Read the full tafseer →