Yaseen 36:74

Yaseen · from ayah 74

36:74

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَ ۟ؕوَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ

اور انہوں نے خدا کے سوا (اور) معبود بنا لیے ہیں کہ شاید (ان سے) ان کو مدد پہنچے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But they have taken besides Allah [false] deities that perhaps they would be helped.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:74

یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اِنہوں نے اللہ کے سوا دوسرے خدا بنا لیے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ اِن کی مدد کی جائے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور انہوں نے خدا کے سوا (اور) معبود بنا لیے ہیں کہ شاید (ان سے) ان کو مدد پہنچے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں تاکہ وه مدد کئے جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اس امید پر دوسرے خدا بنا رکھے ہیں کہ انہیں (ان سے) مدد ملے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انہوں نے اللہ کے سوا اور خدا ٹھہرالیے کہ شاید ان کی مدد ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہوں نے اللہ کے سوا بتوں کو معبود بنا لیا ہے اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے اللہ کے سوا کئی معبود بنا لیے، تاکہ ان کی مدد کی جائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور انہوں نے اللہ کے علاوہ کئی الٰہ بنا رکھے ہیں (اس امید پر) کہ ان کی مدد کی جائے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انہوں نے اس توقع پر اللہ کے سوا دوسرے معبود بنائے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے گی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور انہوں نے (اس سب کے باوجود) طرح طرح کے ایسے (خود ساختہ و من گھڑت) معبود بنا رکھے ہیں کہ شاید (ان کے ذریعے) ان کی کوئی مدد کی جاسکے

— مولانا اسحاق مدنی

اور انہوں نے اللہ کے سوا اور بھی معبود قرار دے رکھے ہیں تاکہ ان سے انہیں مدد ملے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود گھڑ لیے ہیں شاید کہ ان کی مدد کی جائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں کہ شاید ان سے ان کو مدد ملے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They set up deities apart from Allah, hoping that they will receive help from them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They have adopted gods other than Allah, so that they may be helped (by them).

— Muhammad Taqi Usmani

They have adopted gods other than Allah, so that they may be helped (by them).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they have taken besides Allah, gods, hoping that they might be helped.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they have taken (other) gods beside Allah, in order that they may be helped.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But they have taken besides Allah [false] deities that perhaps they would be helped.

— Saheeh International

They chose idols besides God in the hope of receiving help from them, but they will not be able to help them.

— Muhammad Sarwar

And they have taken gods besides Allah that they may be helped.

— Muhammad Habib Shakir

And they have taken beside Allah gods, hoping that haply they may be succoured.

— Abdul Majid Daryabadi

Yet they take (for worship) gods other than Allah, (hoping) that they might be helped!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:74

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 74–76

نفع و نقصان کا اختیار کس کے پاس ہے ؟ مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید ہو رہی ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ جن جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد نصرت کریں گے ان کی روزیوں میں برکت دیں گے اور اللہ سے ملادیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی مددتو کجا، وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے بلکہ یہ بت تو اپنے دشمن کے نقصان سے بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔ کوئی اور انہیں توڑ مروڑ کر بھی چلا جائے تو یہ اس کا کچھ نہیں کرسکتے بلکہ بول چال پر بھی قادر نہیں سمجھ بوجھ نہیں۔ یہ بت قیامت کے دن جمع شدہ حساب کے وقت اپنے عابدوں کے سامنے لاچاری اور بےکسی کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 73–74

سورة یٰسٓ 61 نعمت کو منعم کے سوا کسی اور کا عطیہ سمجھنا، اس پر کسی اور کا احسان مند ہونا، اور منعم کے سوا کسی اور سے نعمت پانے کی امید رکھنا یا نعمت طلب کرنا، یہ سب کفران نعمت ہے۔ اسی طرح یہ بھی کفران نعمت ہے کہ آدمی منعم کی دی ہوئی نعمت کو اس کی رضا کے خلاف استعمال کرے۔ لہٰذا ایک مشرک اور کافر اور منافق اور فاسق انسان محض زبان سے شکر کے الفاظ ادا کر کے خدا کا شاکر بندہ قرار نہیں پاسکتا۔ کفار مکہ اس بات کے منکر نہ تھے کہ ان جانوروں کو خدا نے پیدا کیا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا تھا کہ ان کے پیدا کرنے میں دوسرے معبودوں کا کوئی دخل ہے۔ مگر یہ سب کچھ ماننے کے باوجود جب وہ خدا کی دی ہوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 72–74

(آیت) وذللناھا لہم، اس میں ایک اور احسان و انعام کی طرف اشارہ فرمایا کہ اکثر جانور اونٹ، گھوڑا، ہاتھی، بیل وغیرہ اگر دیکھو تو طاقت میں انسان سے بہت زیادہ ہیں، انسان ان کے مقابلہ میں کمزور ہے۔ اس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ ان جانوروں پر قابو نہ پاسکتا، مگر حق تعالیٰ نے جیسا ان جانوروں کی تخلیق کا انعام انسان کو بخشا اس طرح یہ بھی فطرت بنادی کہ ان مست جانوروں کو انسان کے سامنے مسخر اور تابع بنادیا۔ ایک لڑکا ایک قوی گھوڑے کے منہ میں لگام ڈال دیتا ہے اور پھر اس کی پشت پر سوار ہو کر جہاں چاہے لئے پھرتا ہے۔ یہ بات بھی انسان کو کوئی اپنا کمال نہیں، صرف حق تعالیٰ کی عطا اور بخشش ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 74–75

آیت 74۔ 75 یعنی اس واضح حقیقت کو مواجہہ کرنے کے بجائے انہوں نے حقیقت سے فرار کے لئے چور دروازے پیدا کیے ہیں۔ حق تو یہ تھا کہ جس رب کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو رہے ہیں اس کے حقوق و فرائض پہنچانتے اور ان کو ادا کرتے لیکن انہوں نے کیا یہ ہے کہ خدا کے سوا کچھ دوسرے معبود انہوں نے ایجاد کیے ہیں اور ان کے کچھ رسوم ادا کرکے یہ توقع کر رہے ہیں کہ اگر خدا کی طرف سے کوئی گرفت ہوئی تو ان کی مدد سے وہ چھوٹ جائیں گے۔ ’ لا یستطیعون الایۃ ‘۔ فرمایا کہ ان کی مدد تو وہ کیا خاک کرسکیں گے۔ البتہ یہ ہوگا کہ ان کے ساتھ یہ بھی ان کی فوج کی حیثیت سے خدا کے حضور میں حاضر کیے جائیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

74۔ 1 یہ ان کفران نعمت کا اظہار ہے کہ مذکورہ نعمتیں، جن سے یہ فائدہ اٹھاتے ہیں، سب اللہ کی پیدا کردہ ہیں۔ لیکن یہ بجائے اس کے کہ یہ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کریں یعنی ان کی عبادت و اطاعت کریں، یہ غیروں سے امیدیں وابستہ کرتے اور انہیں معبود بناتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–74

22: یعنی جس کا دل زندہ ہو، اور وہ حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہو۔ ایسے شخص کو زندہ فرما کر اشارہ کیا گیا ہے کہ جو شخص حق کا طلب گار نہ ہو، اور غفلت میں زندگی گزار رہا ہو، وہ زندہ کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لیکن لوگوں کے اندر یہ شعور نہیں ہے اس لیے وہ شکر نہیں بجا لاتے بلکہ انہوں نے الٹا اللہ کی مخلوق میں دوسری چیزوں کو اللہ کے سوا الٰہ اور مددگار بنا رکھا ہے۔ واتخذوا من دون ۔۔۔۔۔ جند محضرون (36: 74 – 75) ” انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے خدا بنا لیے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے گی۔ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے بلکہ یہ لوگ الٹے ان کے لیے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں “۔ ماضی میں یوں ہوتا تھا کہ بت اور آستانے پوجے جاتے تھے ، یا درختوں اور ستاروں کی پوجا کی جاتی تھی۔ فرشتوں ، اور جنوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ ماضی کی بت پرستی آج بھی بعض علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ لیکن جو لوگ اس مظاہر پرستی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 74–75

5 یعنی جس خدا نے یہ نعمتیں مرحمت فرمائیں اس کا یہ شکر ادا کیا کہ اس کے مقابل دوسرے احکام اور معبود ٹھہرا لیے جنہیں سمجھتے ہیں کہ آڑے وقت میں کام آئیں گے اور مدد کریں گے سو یاد رکھو ! وہ تمہاری تو کیا اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے۔ ہاں جب تم کو مدد کی ضرورت ہوگی اس وقت گرفتار ضرور کرا دیں گے تب پتہ لگے گا کہ جن کی حمایت میں عمر بھر لڑتے رہے تھے وہ آج کس طرح آنکھیں دکھانے لگے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 74 { وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمْ یُنْصَرُوْنَ } ”اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود گھڑ لیے ہیں ‘ شاید کہ ان کی مدد کی جائے۔“ انہیں امید ہے کہ اللہ کے ہاں ان معبودوں کی سفارش سے وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 73–74

66 یہ سب قسم کے احسانات تو انسان پر اللہ تعالیٰ نے کئے۔ اب بجائے اس کے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا اس نے انہیں جانوروں کی قربانیاں بتوں کے نام پر کیں اور استھانوں میں کیں۔ بتوں کے نام پر جانور آزاد چھوڑے۔ جن کا ان جانوروں کی پیدائش میں اور ان کو انسان کے مطیع فرمان بنانے میں کچھ بھی عمل دخل نہ تھا۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کفران نعمت اور نمک حرامی ہوسکتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 74–75

50۔ یعنی ان دیوی دیوتاؤں سے مشرک توقع تو یہ رکھتا ہے کہ وہ اس کے آڑے آئیں گے۔ سو یہ ہونا تو الگ رہا۔ حشر میں وہ اور اس کے فریق مخالف کی حیثیت سے پیش ہوں گے اور الٹے اسی پر الزام رکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–83

آیت نمبر 68 تا 83 ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واتخذوا من دون اللہ الھۃ لعلھم ینصرون۔ اور انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں ‘ اس امید پر کہ ان کو مدد ملے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

مگر ان کفار مکہ نے تو اللہ کے علاوہ اور بتوں کو معبود قرار دے رکھا ہے اس امید میں کہ وہ بت ان کی عذاب خداوندی سے حفاظت کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : انسان نے اللہ کے سوا جن کی بھی عبادت کی ہے صرف اس لیے کی ہے کہ وہ اس کی مدد کریں، اس کی کوئی حاجت پوری کریں، یا اس کی کوئی مشکل دور کریں۔ اگر وہ آخرت پر بھی ایمان رکھتا ہے تو اس لیے کہ اسے سفارش کے بل بوتے پر عذاب سے بچا لیں، یہ سب مدد کی صورتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 74–76

ان لوگوں نے ہماری قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھا ہے پھر انہوں نے ہمیں چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں وج کسی فعل پر قدرت نہیں رکھتے جب کہ وہ ان کی اس وقت مدد کی امید رکھتے ہیں اگر ان پر عذاب نازل ہو عرب یوں کلام کرتے ہیں لعلہ ان یفعل جب کہ وہ معبود ان باطلہ ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھتے۔ بتوں کے لئے فعل واونون کے ساتھ جمع ذکر کیا ہے کیونکہ ان کے بارے میں خبری دی گئی ہے جس طرح انسانوں کے بارے میں خبری دی جاتی ہے۔ جب کفار ان جھوٹے معبودوں کے حاضر لشکر ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ہے وہ ان معبودوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں (3) قتادہ نے کہا : کفار دنیا میں ان کے لئے غضبناک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

6:۔ ابن ابی الدنیا نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتخذوا من دون اللہ الھۃ “ (اور انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں یعنی وہ بت ہیں۔ 7:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لعلھم ینصرون “ (شاید کہ وہ مدد کئے جائیں گے) یعنی شاید وہ (عذاب سے روکے جائیں گے )

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاتَّخَذُوْا [اور انھوں نے بنائے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے سوا ] اٰلِهَةً [کچھ الٰہ ] لَّعَلَّهُمْ [(کہ) شاید ان کی ] يُنْصَرُوْنَ [مدد کی جائے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرکین کی بیوقوفی اس کے بعد فرمایا (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمْ یُنْْصَرُوْنَ ) اور ان لوگوں نے اللہ کے علاوہ معبود بنا لیے ہیں جن سے یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ ہماری مدد کریں گے۔ (لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَھُمْ ) (جن لوگوں سے مدد کی امید کر رکھی ہے وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے) (وَھُمْ لَہُمْ جُندٌ مُّحْضَرُوْنَ ) (اور وہ ان کے لیے فریق مخالف ہوجائیں گے جو حاضر کردئیے جائیں گے) یعنی اللہ کے سوا جنہیں معبود بنا کر ان سے مدد کی امید باندھے ہوئے ہیں وہ تو ان معبود بنانے والوں کے مخالف ہوجائیں گے اور میدان قیامت میں بالاضطرار حاضر کردئیے جائیں گے اور وہاں حاضر ہو کر جنہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 72–74

45:۔ واتخذوا الخ :۔ یہ زجر ہے، اللہ کے ایسے انعامات کے باوجود مشرکین نے اللہ کے سوا اوروں کو معبود اور شفعاء بنا رکھا تھا۔ تاکہ بوقت ضرورت وہ ان کی مدد کریں۔ لیکن بوقت ضرورت وہ ہرگز ان کی مدد نہ کرسکیں گے حالانکہ کفار اپنے زعم میں ان معبودوں کو اپنے مددگار اور شفیع سمجھتے ہیں۔ قال الشیخ قدس سرہ وھم لہم جند محضرون ای معبوداتہم لھم ای للکفار جند فی زعمہم حاضرون تشفع لہم (بلغہ ص 283) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کے مزعومہ معبود ان کی کیا مدد کریں گے جبکہ وہ خود اپنی مدد اور حفاظت نہیں کرسکتے۔ بلکہ ان کے پجاری ان کی دیکھ بھال اور حفاظت کرتے ہیں۔ اعوان و شیعۃ یخدمونہم و یذبون عنہم (مدارک ج 4 ص 11) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–76

گزشتہ آیات میں اللہ نے میدان حشر کے کچھ واقعات بیان فرمائے۔ قیامت والے دن گمراہ لوگ اپنے برے اعمال و افعال اور برے عقائد سے انکار کریں گے تو ان کی زبانیں بند ہوجائیں گی اور ان کے ہاتھ اور پائوں بول کر ان کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کے کرتوت ثابت ہوجائیں گے۔ اب آخر سورة میں اللہ نے توحید ، قرآن کی حقانیت اور جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور ضمناً رسالت کا ذکر بھی آگیا ہے۔ الغرض سورة کے اس آخری حصے میں چاروں بنیادی مسائل کو اختصار کے ساتھ دہرایا جارہا ہے۔ کافر اور مشرک لوگ قرآن پاک کو اللہ کا کلام تسلیم نہیں کرتے ، بلکہ اسے شاعری ، کہانت یا سحر سے تعبیر کرتے تھے کبھی کہتے بل افترہ کہ نبوت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمْ يُنْصَرُوْنَ۝ 74ۭ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–76

ان باتوں کو سن کر کفار عرب کہتے تھے کہ یہ نصیحت آمیز باتیں محمد ﷺ جو سناتا ہے تو شاعر ہے، شاعر بھی ایسا کلام کیا کرتے ہیں، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ وما علمناہ الشعر کہ ہم نے محمد کو شعر نہیں سکھایا۔ وماینبغی لہ اور نہ یہ کہ آپ کے لائق ہے۔ یہ اس لیے کہ الہام اور وحی تو خداوند تعالیٰ کا ایک خاص فیضان ہے جو جبرئیل ( علیہ السلام) کے وسیلہ سے روح پر نازل ہوتا ہے۔ قوائے ملکوتیہ کو ابھارتا اور بہیمیہ کو پست کرتا ہے اور شعر تخیلات کی روانی اور زبان کی لفاظی ہے، اس میں کہیں عمدہ باتیں بھی ہوتی ہیں اور بیشتر تو توہمات و تخیلات ہوتے ہیں جو قوائے سہوانیہ کو جوش میں لاتے ہیں اور اسی لیے شعر کی بابت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 74–75

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِھَۃً لَّعَلَّہُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَھُمْ لا وَھُمْ لَہُمْ جُنْدٌمُّحْضَرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 74، 75) (اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی۔ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے بلکہ وہ ان کی حاضر کی ہوئی فوج بنیں گے۔ ) مخالفین کے دلوں کی سنگینی مخالفین کے دلوں کی سختی اور قبولیتِ حق سے اعراض کی انتہا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کا جس طرح ذکر فرمایا اور انسانوں پر کی جانے والی بیشمار نعمتوں کا حوالہ دے کر انہیں اپنے شکر کی طرف توجہ دلائی۔ اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ حق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 72–74

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو درکنار اکثر انسان اللہ تعالیٰ کو اعتقاداً اور عملاً الٰہ ہی نہیں مانتے۔ انسان کی اپنے رب کے بارے میں ناقدری اور بغاوت کی انتہا دیکھیں کہ کھاتا، پیتا، پہنتا اور نعمتیں اپنے رب کی استعمال کرتا ہے۔ جن میں بیشمار نعمتیں ایسی ہیں جن کو کسی صورت میں بھی انسان اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان نعمتوں کو انسان کے تا بع فرمان نہ کرتا۔ جن میں چوپائے بھی شامل ہیں جو جسم اور طاقت کے اعتبار سے انسان سے کئی گنا بڑے اور طاقتور ہیں۔ مگر وہ انسان کے غلام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے مطیع کردیا ہے۔ چاہیے تو یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

74: وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ٰالِھَۃً (اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں) لَّعَلَّھُمْ یُنْصَرُوْنَ (اس امید پر کہ ان کو مدد ملے) یعنی شاید کے ان کے بت کسی معاملے کے پیش آجانے پر ان کی مدد کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

74، واتخذوامن دون اللہ الھۃ لعلھم ینصرون، وہ تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں اور ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–76

69 تا 76۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن جو گناہ گار اپنے گناہوں سے انکار کریں گے ان کی زبان بند کی جا کر ان کے ہاتھ پاؤں سے گناہوں کا اقرار کرایا جاوے گا اسی مناسبت سے فرمایا کہ جو لوگ سرکشی سے یہ زبان درازی کرتے ہیں کہ قرآن کو شعر اور اللہ کے رسول کو شاعر کہتے ہیں جب ان کی زبان بند کی جاکر ان کے ہاتھ پیروں سے ان کی اس زبان درازی کا اقرار کرایا جاوے گا تو اس وقت ان کو اس جھوٹ کی حقیقت کھل جائے گی کہ اللہ کے رسول کو یہ جھوٹے لوگ شاعر کہتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ان میں چھوٹے سے بڑے ہوئے ان لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعر کہنے کی عادت سے ہمیشہ بچایا کیوں کہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–75

آیت 74 یہ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا بیان ہے جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے مدد اور سفارش کی امید رکھتے ہیں، حالانکہ وہ انتہائی عاجز ہیں (لایستطیعون نصرھم) ” نہ وہ ان کی مدد کرسکتے ہیں “ اور نہ خود اپنی مدد پر قادر ہیں۔ جب وہ اپنی مد نہیں کرسکتے تو وہ ان کی مد کیسے کرسکتے ہیں۔ مدد کرنا دو امور سے مشروط ہے استطاعت اور ارادہ جب کوئی مدد کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو ایک چیز بای رہ جاتی ہے کہ آیا وہ اپنے عبادت گزار بندے کی مدد کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ استطاعت کی نفی سے دونوں امور کی نفی ہوجاتی ہے (وھم لھم جند محصرون) یعنی وہ ان کے حاضر باش لشکر ہوں گے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 69–77

شعر گوئی نبی کے شایان شان نہیں قول باری ہے : (وما علمناہ الشعروما ینبغی لہ۔ اور ہم نے آپ ﷺ کو شعر وشاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ آپ ﷺ کی شایاں ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اس قول بای کی تفسیر میں بیان کیا کہ معمہ کہتے ہیں۔ کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا حضور ﷺ کبھی موقع ومحل کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہیں، بنو قیس بن طرفہ کے شاعر کے ، اس شعر کے سوا آپ ﷺ نے کبھی کوئی شعر نہیں پڑھا : ستبدی لک الایام ماکنت جاھلا ویاتیک بالاخبار من لم ترود زمانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 74–75

77 معبودان من دون اللہ کی بےحقیقتی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب کھلے حقائق کے باوجود ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں اس موہوم اور بےبنیاد امید پر کہ وہ ان کی مدد کریں گے۔ حالانکہ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے اور نہ کبھی کرسکیں گے۔ الٹا یہ خود انکے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں کہ ان کے دربار بناتے، آستانے سجاتے، جھنڈے لہراتے، ان پر چادریں ڈالتے، نذرانے و شیرینیاں پیش کرتے، ان کے گیت گاتے اور ان کی تاثیر و تصرف کے قصے و افسانے گھڑ گھڑ کر لوگوں کو سناتے اور پیش کرتے ہیں۔ تاکہ ان کی دکان چمکتی رہے اور ان کی چاندی مزید از مزید کھری ہوتی جائے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–83

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83: اسرار و معارف : اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 74–75

ف 1 یعنی قیامت کے دن جب یہ مشرک اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لئے آئیں گے تو ان کے غم واندوہ میں اضافہ کرنے کے لئے ان کی فوج ( جتھے) میں ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” ھم “ کی ضمیر جھوٹے معبودوں ” لھم “ کی ضمیر مشرکوں کے لئے قرار دی جائے اور اگر ان ضمیروں کو اس کے برعکس مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ” یہ مشرک اپنے معبودوں کے لئے حاضر پاش لشکر بنے ہوئے ہیں “۔ یعنی ان کی جھوٹی خدائی اپنے بل بوتے پر قائم نہیں ہے بلکہ سراسر ان مشرکین کی خدمت گزاری نذرانوں اور گھڑ کی پھسلائی ہوئی کرامتوں کے سہارے قائم ہے گویا وہ ان کی مدد تو کیا کریں گے خود ان کی مدد کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:74) اتخذوا ماضی جمع مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اختیار کیا۔ ضمیر فاعل کا مرجع مشرکین ہیں۔ الھۃ۔ الہ کی جمع۔ معبود ۔ من دون اللہ الھۃ (خدا کو چھوڑ کر اور خدا یا معبود) سے مراد نہ صرف بت ہیں بلکہ دیگر عناصر قدرت (آگ، پانی، ہوا ، بادل، بجلی ، وغیرہ) ۔ اور حیوان (از قسم گائے وغیرہ) اور انسان (پیران باطل جو اپنے آپ کو خدا کی خدائی میں شریک بتلاتے ہیں یا ان کے مرید ان کو ایسا سمجھتے ہیں) سب شامل ہیں۔ لعلہم ینصرون۔ شاید (ان معبودان باطل کے ذریعہ ) ان کی (یعنی مشرکین کی) مدد کی جائے گی !

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–83

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 71–76

منکرین حشر کا ذکر۔ (اللہ کی نعمتیں اور بندوں کی ناقدری) ۔ (ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بےگنتی نعمتوں میں سے مثال کے طو رپر فرمایا، کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ ہم نے ان کے واسطے ان چیزوں کو پیدا کیا جیسے اونٹ گائے بھیڑ بکری، پس یہ لوگ ان پر قابض ہیں اور ہم نے ان اونٹ گائے بھیڑ بکری کو ان کا تابع کردیا ہے کہ یہ ان پر سوار ہوتے ہیں اور ان کا گوشت کھاتے ہیں اور بھی ان کے مقاصد ہیں یعنی ان کے بالوں سے نفع اٹھانا اور ان جانوروں میں ان کو دودھ پینے کا بھی نفع ہے اور کھالوں کے کپڑے بنانے کا نفع ہے نعمت کا ذکر فرما کر یہ فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ کے احسانات کا تو یہ حال اور ان کی ناشکری کا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 70–74

[24] زندہ سے مراد سوچنے سمجھنے والا انسان ہے جس کی حالت پتھر کی سی نہ ہو کہ جس کو کتنی ہی دردمندی کے ساتھ نصیحت کی جائے وہ نہ کچھ سنے نہ سمجھے اور نہ اپنی جگہ سے سرکے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–76

پیغمبر شاعر نہیں ہوتا 2: چونکہ فطرت کے ترجمان تھے ۔ اس لئے آپ کو پیغام دیا گیا وہ باوجود بلاغت وفصاحت کے اعلیٰ ترین درجہ میں ہونے کے نثر میں نظم وشعر میں نہیں تھا ۔ کیونکہ نثر اظہار مدعا کا فطری طریقہ ہے جس میں قافیہ اور ردیف کا تکلف نہیں ہوتا ۔ صرف مقصود بالذات معانی اور مطالب ہوتے ہیں ۔ الفاظ نہیں ہوتے اور شعر پیر آئینہ ایک قسم کا تصنع ہے ۔ جو باوجود اپنے تاثر اور موسیقی کے نثر کا اس اعتبار سے ہم رتبہ نہیں ہے کہ اس کا حسن و جمال وزن اور قافیہ کار میں منت ہے اور نثر کا حسن اپنا ذاتی حسن ہے ؎ تکلف سے بری ہے حسن ذاتی نبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے شعر اور نغمہ سے اس لئے بھی انبیاء کو مناسبت نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(74) اور دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور معبود قراردے رکھے اور بنا رکھے ہیں کہ شاید ان کو ان معبودان باطلہ سے کچھ مدد پہنچ سکے اور وہ معبود ان کی کسی وقت مدد کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں اس توقع اور امید پر کہ کسی آڑے وقت میں ان سے مدد پہنچ جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–75

ف 2۔ طبعی حالت سے مراد قوی مدرکہ، سامعہ، باصرہ وغیرہ اور فاعلہ، ہاضمہ، نامیہ وغیرہا، اور رنگ و روغن و حسن و جمال ہیں۔ اور الٹا کرنے سے مراد ہے ان کا انقلاب اور تغیر حالت اودون و ارذل کی طرف۔ پس طمس ومسخ بھی ایک قسم کا تغیر ہے کامل سے ناقص کی طرف۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنانے لگا کہ شاید وہ اس کے مددگار ہیں : 74۔ ان ناشکرے اور ناقدر شناس انسانوں نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو چھوڑ کر غیر اللہ کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا تصور کیا اور اس طرح انہوں نے گویا ظلم کی حد کردی کہ جو اپنی مدد آپ نہیں کرسکتے ان کو اپنے مددگار ٹھہرایا اور انسانوں کو ان کے درجہ سے اٹھا کر خدائی کے درجہ پر لا بٹھایا اور ایک دروازہ سے اٹھ کر در در کی ٹھوکریں کھائیں اور ہر ایک کو اپنی مدد کے لیے بلایا اور زور زور سے آوازیں دیں اور غیر اللہ کے نعرے بلند کیے لیکن جب ان کی پکڑ کر وقت آیا انمیں سے ایک بھی ایسا نہ اٹھا جو ان کی مدد کے لیے تیار ہوجاتا ، غور کرو کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–74

In verse 72: وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ (And We have brought them under their control), yet another favor and blessing has been pointed to. If one were to look at the camel, horse, elephant, ox and other animals, it will be realized that they are seemingly far stronger than human beings. Man is weak as compared to them - as a result of which, it should have not been possible for him to tame and control them. But, Allah Ta` la had it arranged in His own way. The way He created these animals and gifted them to human beings, in the same way, He made these free animals naturally subservient to man. A…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 73–74

61 It is ingratitude to regard a blessing as a gift of someone outer than the donor, to be grateful to another for it, and to cherish the hope of receiving it or to seek it from another than the donor. Likewise, it is also ingratitude that one should use a blessing against the will of the donor. Therefore, a mushrik or a disbeliever or a hypocrite or a sinful person cannot be regarded as a grateful servant of God when he utters words of thankfulness only with the tongue. The disbelievers of Makkah did not deny that the cattle had been created by Allah; none of them said that the other deities…

Read the full tafseer →