Explained with ayahs 71–73
چوپائیوں کے فوائد۔
اللہ تعالیٰ اپنے انعام و احسان کا ذکر فرما رہا ہے۔ کہ اس نے خود ہی یہ چوپائے پیدا کئے اور انسان کی ملکیت میں دے دئیے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے اونٹ جیساقوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ ساتھ ہی سو اونٹوں کی ایک قطار ہو ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھے چلتی رہتی ہے۔ اس ماتحتی کے علاوہ بعض لمبے لمبے مشقت والے سفر بآسانی جلدی جلدی طے ہوتے ہیں خود سوار ہوتے ہیں اسباب لادتے ہیں بوجھ ڈھونے کے کام آتے ہیں۔ اور بعض کے گوشت کھائے جاتے ہیں، پھر صوف اور ان کے بالوں کھالوں وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، بطور علاج پیشاب کام میں آتے ہیں اور بھی طرح طرح کے فوائد حاصل کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
سورة یٰسٓ 61
نعمت کو منعم کے سوا کسی اور کا عطیہ سمجھنا، اس پر کسی اور کا احسان مند ہونا، اور منعم کے سوا کسی اور سے نعمت پانے کی امید رکھنا یا نعمت طلب کرنا، یہ سب کفران نعمت ہے۔ اسی طرح یہ بھی کفران نعمت ہے کہ آدمی منعم کی دی ہوئی نعمت کو اس کی رضا کے خلاف استعمال کرے۔ لہٰذا ایک مشرک اور کافر اور منافق اور فاسق انسان محض زبان سے شکر کے الفاظ ادا کر کے خدا کا شاکر بندہ قرار نہیں پاسکتا۔ کفار مکہ اس بات کے منکر نہ تھے کہ ان جانوروں کو خدا نے پیدا کیا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا تھا کہ ان کے پیدا کرنے میں دوسرے معبودوں کا کوئی دخل ہے۔ مگر یہ سب کچھ ماننے کے باوجود جب وہ خدا کی دی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
(آیت) وذللناھا لہم، اس میں ایک اور احسان و انعام کی طرف اشارہ فرمایا کہ اکثر جانور اونٹ، گھوڑا، ہاتھی، بیل وغیرہ اگر دیکھو تو طاقت میں انسان سے بہت زیادہ ہیں، انسان ان کے مقابلہ میں کمزور ہے۔ اس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ ان جانوروں پر قابو نہ پاسکتا، مگر حق تعالیٰ نے جیسا ان جانوروں کی تخلیق کا انعام انسان کو بخشا اس طرح یہ بھی فطرت بنادی کہ ان مست جانوروں کو انسان کے سامنے مسخر اور تابع بنادیا۔ ایک لڑکا ایک قوی گھوڑے کے منہ میں لگام ڈال دیتا ہے اور پھر اس کی پشت پر سوار ہو کر جہاں چاہے لئے پھرتا ہے۔ یہ بات بھی انسان کو کوئی اپنا کمال نہیں، صرف حق تعالیٰ کی عطا اور بخشش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
آیت 71۔ 73
ان آیات کا موقع و محل سمجھنے کے لئے اس سورة کی آیت 33۔ 35 پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ جس طرح وہاں قرآن کے انداز اور اس کی دعوت توحید کا حوالہ دینے کے بعد بعض آیات ربوبیت کی طرف توجہ دلائی ہے اور پھر خدا ہی کی شکر گزاری کا مطالبہ کیا ہے اسی طرح یہاں بھی قرآن کی دعوت کو تائید میں اپنی ربوبیت کی بعض نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد خدا ہی کی شکر گزاری کا مطالبہ کیا ہے۔ گویا تمہید کا مضمون خاتمہ میں ایک نئے اسلوب سے پھر سامنے آگیا۔
’ اولم یروانا خلقنا لھم مما عملت ایدینا الایۃ ‘ فرمایا کہ کیا وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے اپنی قدرت و حکمت سے چوپائے بنائے اور پھر ان کو ان کا مالک بنا…
Read the full tafseer →73۔ 1 یعنی سواری اور کھانے کے علاوہ بھی ان سے بہت سے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں مثلًا اون اور بالوں سے کئی چیزیں بنتی ہیں، ان کی چربی سے تیل حاصل ہوتا ہے اور یہ باربرداری اور کھیتی باڑی کے کام بھی آتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
22: یعنی جس کا دل زندہ ہو، اور وہ حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہو۔ ایسے شخص کو زندہ فرما کر اشارہ کیا گیا ہے کہ جو شخص حق کا طلب گار نہ ہو، اور غفلت میں زندگی گزار رہا ہو، وہ زندہ کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
اولم یروا انا ۔۔۔۔۔ ما یسرون وما یعلنون (71 – 76)
کیا یہ دیکھتے نہیں ؟ اللہ کی نشانیاں تو ان کے سامنے موجود ہیں اور سب کو نظر آتی ہیں۔ نہ ان سے اوجھل ہیں اور نہ دور ہیں۔ اور نہ یہ نشانیاں اس قدر پیچیدہ ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لئے کسی بڑے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ یہ انعامات جو اللہ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے اور انسانوں کو ان کا مالک بنایا ، ان میں سے جانور ہیں جن کو انسانوں کے تابع بنایا جن پر انسان سوار ہوتے ہیں ، ان میں سے بعض نعمتوں کو کھاتے اور پیتے ہیں ۔ اور بعض سے بعض دوسرے فائدے اٹھاتے ہیں اور یہ سب امور اللہ کی تدابیر اور تقادیر کے مطابق ہے۔ اور پھر اللہ نے انسانوں کے اندر مختلف صلاحیتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
4 دیکھو کتنے بڑے بڑے عظیم الجثہ قوی ہیکل جانور انسان ضعیف البنیان کے سامنے عاجز و مسخر کردیے۔ ہزاروں اونٹوں کی قطار کو ایک خورد سال بچہ نکیل پکڑ کر جدھر چاہے لے جائے ذرا کان نہیں ہلاتے۔ کیسے کیسے شہ زور جانوروں پر آدمی سواری کرتا ہے اور بعض کو کاٹ کر اپنی غذا بناتا ہے۔ علاوہ گوشت کھانے کے ان کی کھال، ہڈی اون وغیرہ سے کس قدر فوائد حاصل کیے جاتے ہیں ان کے تھن کیا ہیں گویا دودھ کے چشمے ہیں ان ہی چشموں کے گھاٹ سے کتنے آدمی سیراب ہوتے ہیں۔ لیکن شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 73 { وَلَہُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُط اَفَلَا یَشْکُرُوْنَ } ”اور ان کے لیے ان میں بہت سی منفعتیں اور پینے کی جگہیں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے !“
انسانی زندگی میں جانوروں کی اہمیت اور افادیت کے بہت سے دوسرے پہلو بھی ہیں۔ باربرداری کی خدمات اور غذائی ضروریات کے علاوہ ان کی اون اور کھالوں سے انسانی استعمال کی بیشمار چیزیں بنتی ہیں۔ اور اب تو ان جانوروں کی کوئی ایک چیز بھی ضائع نہیں جاتی ‘ حتیٰ کہ ان کے خون اور گوبر کو بھی مختلف طریقوں سے استعمال کرلیا جاتا ہے۔
”مشَارِب“ جمع ہے اور اس کا واحد ”مشرب“ ہے جس کے معنی پینے کی جگہ اور گھاٹ کے ہیں۔ گویا دودھ دینے والے جانور اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
66 یہ سب قسم کے احسانات تو انسان پر اللہ تعالیٰ نے کئے۔ اب بجائے اس کے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا اس نے انہیں جانوروں کی قربانیاں بتوں کے نام پر کیں اور استھانوں میں کیں۔ بتوں کے نام پر جانور آزاد چھوڑے۔ جن کا ان جانوروں کی پیدائش میں اور ان کو انسان کے مطیع فرمان بنانے میں کچھ بھی عمل دخل نہ تھا۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کفران نعمت اور نمک حرامی ہوسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
49۔ (اور ان نعمتوں کے استحضار کے باوجود کفران نعمت پر تلے ہوئے ہیں) (آیت) ” خلقنالھم۔ وذللنھا لھم “۔ گائے بیل وغیرہ سارے مویشی تو خود انسان کی خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ کمال حماقت ہے کہ انسان انھیں کی پرستش میں مبتلا ہوجائے ! ..... مویشی پرستی ہندوستان کے علاوہ مصر وغیرہ اور ملکوں میں بھی عام رہی ہے۔ (آیت) ” مشارب “۔ دودھ، دہی وغیرہ سب اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔ (آیت) ” منافع “۔ چوپایوں کی ہڈیوں، بالوں، اور کھالوں کی تجارت، اور ان کے لئے بڑے بڑے کارخانے اور منڈیاں سب اس میں شامل ہوگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–83
آیت نمبر 68 تا 83
ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…
Read the full tafseer →ولھم فیھا منافع ومشارب افلا یشکرون . اور ان میں ان لوگوں کیلئے اور بھی منافع ہے ‘ اور پینے کی چیزیں (دودھ ‘ مٹھا ‘ دہی وغیرہ) بھی ہیں۔ سو کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے ؟
اَوَلَمْ یَرَوْا میں استفہام انکاری ہے ‘ یعنی دیکھ رہے ہیں اور اقرار کر رہے ہیں۔
اَنَّا خَلَقْنَا لَھُمْ کہ ہم نے ہی پیدا کئے اور ان کے نفع کیلئے پیدا کئے ‘ کوئی دوسرا اس تخلیق میں شریک نہیں ہے۔
مِمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَا ہمارے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ‘ بنانے کی نسبت ہاتھوں کی طرف بطور استعارہ ہے جس سے تخلیق میں انفرادیت خداوندی اور بلاشرکت ‘ اللہ کے ساتھ ساری چیزوں کی پیدائش کی وابستگی پرزور طور پر ظاہر ہو رہی…
Read the full tafseer →اور مکہ والوں کے لیے ان مویشیوں میں اور بھی سواری کمائی وغیرہ کے منافع ہیں اور ان کے دودھ بھی پینے کے لیے ہیں۔ سو جس ذات نے یہ تمام چیزیں پیدا کیں پھر بھی یہ اس کا شکر نہیں ادا کرتے کہ اس پر ایمان لے آئیں۔
Read the full tafseer →وَلَهُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ : سواری اور گوشت کے علاوہ انسان کے لیے ان جانوروں میں بہت سے فوائد ہیں، مثلاً ان کی کھال، چربی، سینگوں، بالوں اور آنتوں وغیرہ سے سیکڑوں چیزیں بناتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھیتی باڑی کرتے ہیں، ان کے گوبر کی کھاد بناتے ہیں اور ان کی خریدو فروخت کے ساتھ زندگی کی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں۔ جانوروں کے ذریعے سے آدمی کو پینے کی بھی بہت سی چیزیں مہیا ہوتی ہیں، مثلاً ان کا دودھ اور بیشمار وہ چیزیں جو دودھ سے بنتی ہیں۔ مزید دیکھیے سورة نحل (5 تا 8) اور سورة زخرف (12 تا 14)۔
اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ : یعنی یہ سب قسم کے احسانات تو انسان پر اللہ تعالیٰ نے کیے، اب بجائے اس کے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
آیت میں رئویت سے مراد دل کا دیکھنا ہے یعنی کیا وہ نظر و فکر نہیں کرتے ‘ عبرت حاصل کرتے اور سوچ و بچار نہیں کرتے ان اعمال میں جو ہم نے بغیر مثال کے کیے ہیں اور واسطہ ‘ واکالت اور شراکت کے بغیر کیسے ہیں مما میں ماء الذی کے معنی میں ہے ضمیر عائد اسم کی طوالت کی وجہ حذف کردی گئی اگر ما کو مصدری بنایا جائے تو ضمیر حذف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انعام یہ نعم کی جمع ہے اور نعم مذکر ہے اب یہ لوگ ان جانوروں کے مالک ہیں اور ان پر غالب ہیں (1) ۔ ہم نے جانوروں کو ان کے لئے مسخر کیا ہے (2) ۔ یہاں تک کہ ایک بچہ بڑے اونٹ کی مہار کو پکڑ کر چلتا ہے ‘ اسے مارتا ہے جیسے چاہتا ہے اس سے کام لیتا ہے اور اس کی طاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
(آیت) ” وذللنھا لھم فمنھا رکوبھم “ ہم نے ان کے مویشیوں کو ان کا تابع بنادیا ہے سو ان میں سے بعض تو ان کی سواریاں ہیں) یعنی ان پر سوار ہوتے اور ان پر سفر کرتے ہیں ہو (آیت) ” ومنھا یاکلون “ (اور بعض کو وہ کھاتے ہیں) یعنی ان کے گوشت کو (آیت) ” ولھم فیھا منافع “ (اور ان میں ان لوگوں کے لئے اور بھی نفع ہیں) یعنی ان کی اون سے بنا ہوا لباس پہنتے ہیں (آیت) ” ومشارب “ اور پینے کی چیزیں بھی ہیں کہ ان سے دودھ بھی پیتے ہیں (آیت) ” افلا یشکرون “ (سو کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے)
3:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) نے عروہ ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عائشہ ؓ کے مصحف میں (آیت) ” فمنھا رکوبھم “ ہے۔
4:۔ ابوعبید وابن المنذر…
Read the full tafseer →وَلَهُمْ فِيْهَا [اور ان کے لئے ان میں ] مَنَافِعُ [فائدے ہیں ] وَمَشَارِبُ ۭ [اور پینے کے مقامات ہیں ] اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ [تو کیا یہ لوگ شکر نہیں کریں گے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
(وَلَہُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ) (اور چوپایوں میں ان کے لیے منافع ہیں اور پینے کی چیزیں ہیں سو کیا یہ شکر نہیں کرتے) اوپر دو منافع کا ذکر تھا، ایک یہ کہ جانور سواری کا کام دیتے ہیں اور دوسرے یہ کہ ان میں سے بعض کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ اس آیت میں دوسرے منافع کا بھی اجمالاً ذکر فرما دیا۔ مثلاً ان کی کھالیں دباغت کے بعد کام میں لاتے ہیں اور ان کے بال اور اون کاٹ کر بچھانے اور پہننے کی چیزیں تیار کرتے ہیں اور ان سے کھیتی جوتنے کا کام بھی لیتے ہیں، اور ان کے ذریعے پانی کھینچ کر کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ ساتھ ہی مشارب کا بھی ذکر فرمایا، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–76
منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
45:۔ واتخذوا الخ :۔ یہ زجر ہے، اللہ کے ایسے انعامات کے باوجود مشرکین نے اللہ کے سوا اوروں کو معبود اور شفعاء بنا رکھا تھا۔ تاکہ بوقت ضرورت وہ ان کی مدد کریں۔ لیکن بوقت ضرورت وہ ہرگز ان کی مدد نہ کرسکیں گے حالانکہ کفار اپنے زعم میں ان معبودوں کو اپنے مددگار اور شفیع سمجھتے ہیں۔ قال الشیخ قدس سرہ وھم لہم جند محضرون ای معبوداتہم لھم ای للکفار جند فی زعمہم حاضرون تشفع لہم (بلغہ ص 283) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کے مزعومہ معبود ان کی کیا مدد کریں گے جبکہ وہ خود اپنی مدد اور حفاظت نہیں کرسکتے۔ بلکہ ان کے پجاری ان کی دیکھ بھال اور حفاظت کرتے ہیں۔ اعوان و شیعۃ یخدمونہم و یذبون عنہم (مدارک ج 4 ص 11) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
گزشتہ آیات میں اللہ نے میدان حشر کے کچھ واقعات بیان فرمائے۔ قیامت والے دن گمراہ لوگ اپنے برے اعمال و افعال اور برے عقائد سے انکار کریں گے تو ان کی زبانیں بند ہوجائیں گی اور ان کے ہاتھ اور پائوں بول کر ان کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کے کرتوت ثابت ہوجائیں گے۔ اب آخر سورة میں اللہ نے توحید ، قرآن کی حقانیت اور جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور ضمناً رسالت کا ذکر بھی آگیا ہے۔ الغرض سورة کے اس آخری حصے میں چاروں بنیادی مسائل کو اختصار کے ساتھ دہرایا جارہا ہے۔ کافر اور مشرک لوگ قرآن پاک کو اللہ کا کلام تسلیم نہیں کرتے ، بلکہ اسے شاعری ، کہانت یا سحر سے تعبیر کرتے تھے کبھی کہتے بل افترہ کہ نبوت…
Read the full tafseer →وَلَہُمْ فِيْہَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ 0 ۭ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ 73
نفع
النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3]
( نع ) النفع
ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں ۔
شرب
الشُّرْبُ : تناول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
ان باتوں کو سن کر کفار عرب کہتے تھے کہ یہ نصیحت آمیز باتیں محمد ﷺ جو سناتا ہے تو شاعر ہے، شاعر بھی ایسا کلام کیا کرتے ہیں، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ وما علمناہ الشعر کہ ہم نے محمد کو شعر نہیں سکھایا۔ وماینبغی لہ اور نہ یہ کہ آپ کے لائق ہے۔ یہ اس لیے کہ الہام اور وحی تو خداوند تعالیٰ کا ایک خاص فیضان ہے جو جبرئیل ( علیہ السلام) کے وسیلہ سے روح پر نازل ہوتا ہے۔ قوائے ملکوتیہ کو ابھارتا اور بہیمیہ کو پست کرتا ہے اور شعر تخیلات کی روانی اور زبان کی لفاظی ہے، اس میں کہیں عمدہ باتیں بھی ہوتی ہیں اور بیشتر تو توہمات و تخیلات ہوتے ہیں جو قوائے سہوانیہ کو جوش میں لاتے ہیں اور اسی لیے شعر کی بابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَھُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَـآ اَنْعَامًا فَھُمْ لَھَا مٰلِکُوْنَ ۔ وَذَلَّلْنٰـھَا لَھُمْ فَمِنْھَا رَکُوْبُھُمْ وَمِنْھَا یَاْکُلُوْنَ ۔ وَلَھُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ ط اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 71 تا 73)
(کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے، پس وہ ان کے مالک ہیں۔ اور ہم نے انہیں ان کا مطیع کردیا، پس ان میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں اور بعض کا وہ گوشت کھاتے ہیں۔ اور ان میں ان کے لیے دوسرے فوائد اور مشروبات ہیں، تو کیا وہ شکر نہیں کرتے ! )
کفار کی سرکشی کے مقابلے میں رحمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو درکنار اکثر انسان اللہ تعالیٰ کو اعتقاداً اور عملاً الٰہ ہی نہیں مانتے۔
انسان کی اپنے رب کے بارے میں ناقدری اور بغاوت کی انتہا دیکھیں کہ کھاتا، پیتا، پہنتا اور نعمتیں اپنے رب کی استعمال کرتا ہے۔ جن میں بیشمار نعمتیں ایسی ہیں جن کو کسی صورت میں بھی انسان اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان نعمتوں کو انسان کے تا بع فرمان نہ کرتا۔ جن میں چوپائے بھی شامل ہیں جو جسم اور طاقت کے اعتبار سے انسان سے کئی گنا بڑے اور طاقتور ہیں۔ مگر وہ انسان کے غلام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے مطیع کردیا ہے۔ چاہیے تو یہ…
Read the full tafseer →73: وَلَھُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ (اور ان لوگوں کے ان میں اور بھی منافع ہیں) ان کے چمڑوں اور اون سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ وَمَشَارِبُ (اور پینے کی چیزیں) دودھ۔ یہ مشرب کی جمع ہے اور وہ پینے کی جگہ اور گھاٹ کو کہتے ہیں۔ یا مصدر میمی مانیں تو پینا اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ (پس کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے ؟ ) ان مویشیوں کے انعام پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ کیوں نہیں ادا کرتے۔
Read the full tafseer →73، ولھم فیھا منافع ، ان کی کھالیں اور ان کے بال سے ان کی اون سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔ ، ومشارب ، اور ان کے دودھ پیتے ہیں۔ ، افلا یشکرون ، کیا وہ ان نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
69 تا 76۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن جو گناہ گار اپنے گناہوں سے انکار کریں گے ان کی زبان بند کی جا کر ان کے ہاتھ پاؤں سے گناہوں کا اقرار کرایا جاوے گا اسی مناسبت سے فرمایا کہ جو لوگ سرکشی سے یہ زبان درازی کرتے ہیں کہ قرآن کو شعر اور اللہ کے رسول کو شاعر کہتے ہیں جب ان کی زبان بند کی جاکر ان کے ہاتھ پیروں سے ان کی اس زبان درازی کا اقرار کرایا جاوے گا تو اس وقت ان کو اس جھوٹ کی حقیقت کھل جائے گی کہ اللہ کے رسول کو یہ جھوٹے لوگ شاعر کہتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ان میں چھوٹے سے بڑے ہوئے ان لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعر کہنے کی عادت سے ہمیشہ بچایا کیوں کہ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
آیت 71
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس بارے میں غور کریں کہ اس نے مویشیوں کو ان کے لئے مسخر کردیا اور ان کو ان مویشیوں کا مالک بنایا، ان مویشیوں کے اندر ان کے لئے بیشمار فوائد رکھے، چناچہ وہ ان پر سواری کرتے ہیں، ان پر بوجھ لادتے ہیں، ان کے ذریعے سے اپنے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، ان کا گوشت کھاتے ہیں، ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں، ان کی اون، ان کی پشم اور ان کے بالوں میں ایک مدت تک ان کے لئے اثاثہ اور فائدہ ہے، نیز ان مویشویں میں ان کے لئے زینت و جمال اور دیگر فوائد ہیں جس کا روزمرہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ (افلا یشکرون) ” کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے “ اس اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–77
شعر گوئی نبی کے شایان شان نہیں
قول باری ہے : (وما علمناہ الشعروما ینبغی لہ۔ اور ہم نے آپ ﷺ کو شعر وشاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ آپ ﷺ کی شایاں ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اس قول بای کی تفسیر میں بیان کیا کہ معمہ کہتے ہیں۔ کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا حضور ﷺ کبھی موقع ومحل کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہیں، بنو قیس بن طرفہ کے شاعر کے ، اس شعر کے سوا آپ ﷺ نے کبھی کوئی شعر نہیں پڑھا :
ستبدی لک الایام ماکنت جاھلا
ویاتیک بالاخبار من لم ترود
زمانہ…
Read the full tafseer →74 چوپایوں کے عظیم الشان فوائد کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ چوپایوں میں انسانوں کے لیے طرح طرح کے عظیم الشان فائدے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان کیلئے ان چوپایوں میں اور بھی طرح طرح کے فائدے ہیں "۔ کہ یہ ان کے چمڑوں، بالوں، ہڈیوں، کھالوں، ان کی چربیوں، خونوں اور گوبر وغیرہ سے بھی طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہیں۔ ان سے یہ قسما قسم کی چیزیں بناتے، طرح طرح کے کاروبار چلاتے اور بھاری بھرکم فوائد و منافع کماتے ہیں۔ تو کیا خداوند قدوس کے سوا اور کسی کے بس میں ہوسکتا ہے کہ وہ انسان کیلئے ایسی منافع بخش مخلوق پیدا کرے جو سرتاپا اس کیلئے نفع بخش اور طرح طرح کے فوائد و منافع کا ذریعہ بنے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–74
حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام
تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–83
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83:
اسرار و معارف :
اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔
ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ف 10 مثلاً ان کی کھال، چربی، سینگ، بال اور آنتوں وغیرہ سے سینکڑوں چیزیں بناتے ہیں۔11 یعنی دودھ اور وہ چیزیں جو دودھ سے بنتی ہیں۔
Read the full tafseer →(36:73) ولہم فیھا۔ ای فی الانعام۔ منافع۔ اسم جمع منتہی الجموع ۔ منفعۃ واحد۔ فائدے۔ مثلاً زمین جوتنا۔ بوجھ اٹھانا۔ ان کی کھالوں اور بالوں کا استعمال وغیرہم۔
مشارب۔ اسم جمع منتہی الجموع۔ مشربۃ واحد۔ یہ اسم ظرف مکان بھی ہوسکتا ہے اور ظرف زمان بھی۔ یعنی پینے کی جگہ تھن۔ یا پینے کے اوقات۔ اور یہ مصدر میمی بھی ہے بمعنی پینا۔ بغوی نے مشربۃ سے مشروب یعنی پینے کی چیز لیا ہے ۔ یعنی دودھ، دہی وغیرہ ۔ منافع ومشارب بوجہ جمع منتہی الجموع ہونے کے غیر منصرف ہے لہٰذا ان پر تنوین نہیں آتی۔
افلا یشکرون۔ ہمزہ استفہام انکاری کا ہے۔ فاء عطف کا ہے اور اس کا فعل محذوف پر ہے ای یشاھدون ہذہ النعم فلا یشکرون المنعم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
منکرین حشر کا ذکر۔ (اللہ کی نعمتیں اور بندوں کی ناقدری) ۔
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بےگنتی نعمتوں میں سے مثال کے طو رپر فرمایا، کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ ہم نے ان کے واسطے ان چیزوں کو پیدا کیا جیسے اونٹ گائے بھیڑ بکری، پس یہ لوگ ان پر قابض ہیں اور ہم نے ان اونٹ گائے بھیڑ بکری کو ان کا تابع کردیا ہے کہ یہ ان پر سوار ہوتے ہیں اور ان کا گوشت کھاتے ہیں اور بھی ان کے مقاصد ہیں یعنی ان کے بالوں سے نفع اٹھانا اور ان جانوروں میں ان کو دودھ پینے کا بھی نفع ہے اور کھالوں کے کپڑے بنانے کا نفع ہے نعمت کا ذکر فرما کر یہ فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ کے احسانات کا تو یہ حال اور ان کی ناشکری کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
[24] زندہ سے مراد سوچنے سمجھنے والا انسان ہے جس کی حالت پتھر کی سی نہ ہو کہ جس کو کتنی ہی دردمندی کے ساتھ نصیحت کی جائے وہ نہ کچھ سنے نہ سمجھے اور نہ اپنی جگہ سے سرکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
پیغمبر شاعر نہیں ہوتا
2: چونکہ فطرت کے ترجمان تھے ۔ اس لئے آپ کو پیغام دیا گیا وہ باوجود بلاغت وفصاحت کے اعلیٰ ترین درجہ میں ہونے کے نثر میں نظم وشعر میں نہیں تھا ۔ کیونکہ نثر اظہار مدعا کا فطری طریقہ ہے جس میں قافیہ اور ردیف کا تکلف نہیں ہوتا ۔ صرف مقصود بالذات معانی اور مطالب ہوتے ہیں ۔ الفاظ نہیں ہوتے اور شعر پیر آئینہ ایک قسم کا تصنع ہے ۔ جو باوجود اپنے تاثر اور موسیقی کے نثر کا اس اعتبار سے ہم رتبہ نہیں ہے کہ اس کا حسن و جمال وزن اور قافیہ کار میں منت ہے اور نثر کا حسن اپنا ذاتی حسن ہے ؎
تکلف سے بری ہے حسن ذاتی
نبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے
شعر اور نغمہ سے اس لئے بھی انبیاء کو مناسبت نہیں…
Read the full tafseer →(73) اور ان مواشی میں ان لوگوں کے لئے اور بھی بہت سے فوائد اور منافع ہیں اور ان میں ان کے لئے پینے کی چیزیں بھی ہیں سو یہ لوگ شکر کیوں نہیں بجا لاتے۔
نفعوں سے مراد ان چوپایوں کی کھال ہڈی اور ان کے سینگ اور اون وغیرہ سے فائدہ حاصل کرنا ہوسکتا ہے۔ ان کا دودھ پیا جاتا ہے۔ یہ تمام احسانات اور انعامات اس امر کے مقتضی ہیں کہ حضرت حق تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانات کو مسخر کردیا ہے انسان جس طرح چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے مواشی کو استعمال کرتا ہے اور پھر اس خالق حقیقی اور منعم حقیقی کا شکر نہیں بجا لاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
ف 2۔ طبعی حالت سے مراد قوی مدرکہ، سامعہ، باصرہ وغیرہ اور فاعلہ، ہاضمہ، نامیہ وغیرہا، اور رنگ و روغن و حسن و جمال ہیں۔ اور الٹا کرنے سے مراد ہے ان کا انقلاب اور تغیر حالت اودون و ارذل کی طرف۔ پس طمس ومسخ بھی ایک قسم کا تغیر ہے کامل سے ناقص کی طرف۔
Read the full tafseer →پھر ان جانوروں میں منافع بھی ہیں اور دودھ پینے کے لیے بھی عام ملتا ہے :
73۔ انسان ان جانوروں میں جس کو چاہتا ہے اپنے لیے انتخاب کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کو فروخت کرتا ہے اور اسی طرح خرید وفروخت میں اس کو منافع حاصل ہوتے ہیں اور اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی کہ وہ فلاں فلاں جانور کو خرید سکتا ہے اور بیچ سکتا ہے اور فلاں کو بیچنے اور خریدنے کا اس کو حق نہیں الا یہ کہ وہ اس کی ملکیت میں ہو خریدنے سے یا صرف پالنے پوسنے سے اور پھر انہی جانوروں میں کتنے جانور ہیں جو اس کے دوسرے فائدوں کے علاوہ دودھ پینے اور بیچنے کے فوائد بھی ان سے حاصل کرتا ہے پھر افسوس کہ اس نے فائدہ حاصل کر کے اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
In verse 72: وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ (And We have brought them under their control), yet another favor and blessing has been pointed to. If one were to look at the camel, horse, elephant, ox and other animals, it will be realized that they are seemingly far stronger than human beings. Man is weak as compared to them - as a result of which, it should have not been possible for him to tame and control them. But, Allah Ta` la had it arranged in His own way. The way He created these animals and gifted them to human beings, in the same way, He made these free animals naturally subservient to man. A…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
61 It is ingratitude to regard a blessing as a gift of someone outer than the donor, to be grateful to another for it, and to cherish the hope of receiving it or to seek it from another than the donor. Likewise, it is also ingratitude that one should use a blessing against the will of the donor. Therefore, a mushrik or a disbeliever or a hypocrite or a sinful person cannot be regarded as a grateful servant of God when he utters words of thankfulness only with the tongue. The disbelievers of Makkah did not deny that the cattle had been created by Allah; none of them said that the other deities…
Read the full tafseer →