Yaseen 36:70

Yaseen · from ayah 70

36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ ۟لِّيُنۡذِرَ مَنۡ كَانَ حَيًّا وَّيَحِقَّ الۡقَوۡلُ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ

تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا رستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہوجائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

To warn whoever is alive and justify the word against the disbelievers.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:70

تاکہ وہ ہر اُس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہو جائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا رستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہوجائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ وه ہر اس شخص کو آگاه کر دے جو زنده ہے، اور کافروں پر حجت ﺛابت ہو جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ ہر اس شخص کو خبردار کرے جو زندہ ہو، اور تاکہ کفر کرنے والوں پر حجت پوری ہوجائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ اسے ڈرائے جو زندہ ہو اور کافروں پر بات ثابت ہوجائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ وہ اس شخص کو ڈر سنائیں جو زندہ ہو اور کافروں پر فرمانِ حجت ثابت ہو جائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ اسے ڈرائے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر بات ثابت ہوجائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ جو زندہ ہے وہ اسے ڈرائے اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہوجائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ وہ ان لوگوں کو آگاہ کردے جن کے اندر زندگ ہے اور کافروں پر حجت تمام ہوجائے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ وہ خبردار کرے ہر اس شخص کو جو زندہ ہو اور تاکہ حجت قائم ہو سکے کافروں (اور منکروں) پر

— مولانا اسحاق مدنی

تاکہ ایسے شخص کو ڈرائے جو زندہ ہو اور تاکہ کافروں پر حجت ثابت ہوجائے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ا کہ وہ خبردار کر دے اس کو جو زندہ ہو اور کافروں پر قول واقع ہوجائے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا رستہ دکھائے اور کفار پر بات پوری ہوجائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

that he may warn him who is alive and establish an argument against those that deny the Truth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that it may warn him who is alive (to listen to the truth), and so that the word may prove true against the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

so that it may warn him who is alive (to listen to the truth), and so that the word may prove true against the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That he or it may give warning to him who is living, and that Word may be justified against the disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

To warn whosoever liveth, and that the word may be fulfilled against the disbelievers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

To warn whoever is alive and justify the word against the disbelievers.

— Saheeh International

by which he may warn those who are living and may let the words of God come true against the unbelievers.

— Muhammad Sarwar

That it may warn him who would have life, and (that) the word may prove true against the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

In order that it may warn him who is alive, and that the sentence may be justified on the infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

That it may give admonition to any (who are) alive, and that the charge may be proved against those who reject (Truth).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–70

شاعری پیغمبرانہ شان کے منافی۔ انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے پیری ضعیفی کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، جیسے سورة روم کی آیت میں ہے۔ (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ 54؀) 30۔ الروم :54) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد طاقت عطا فرمائی پھر طاقت و قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا کردیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب جاننے والا پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور آیت میں ہم تم میں سے بعض بہت بڑی عمر کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 59 زندہ سے مراد سوچنے اور سمجھنے والا انسان ہے جس کی حالت پتھر کی سی نہ ہو کہ آپ اس کے سامنے خواہ کتنی ہی معقولیت کے ساتھ حق اور باطل کا فرق بیان کریں اور کتنی ہی درد مندی کے ساتھ اس کو نصیحت کریں، وہ نہ کچھ سنے، نہ سمجھے اور نہ اپنی جگہ سے سرکے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–70

خلاصہ تفسیر (اور یہ کفار جو نبوت کی نفی کرنے کے لئے آپ کو شاعر کہتے ہیں یہ محض باطل ہے کیونکہ) ہم نے آپ کو شاعری (یعنی خیالی مضامین مرتب کرنے کا) علم نہیں دیا اور وہ (شاعری) آپ کے شایان شان بھی نہیں وہ (یعنی آپ کو عطا کیا ہوا علم جس کو یہ لوگ شاعری کہتے ہیں وہ) تو محض نصیحت (کا مضمون) اور ایک آسمانی کتاب ہے جو احکام کی ظاہر کرنے والی ہے تاکہ (بیان احکام کے اثر سے) ایسے شخص کو (نافع ڈرانا) ڈرا دے جو (حیات قلبیہ کے اعتبار سے) زندہ ہو اور تاکہ کافروں پر (عذاب کی) حجت ثابت ہوجاوے۔ کیا ان (مشرک) لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے ان کے (نفع کے) لئے اپنے ہاتھ کی سوختہ چیزوں میں سے مواشی پیدا کئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 70 ’ ینذر ‘ کا فاعل نبی و ہیں۔ یہ اس قرآن مبیں کے اتارے جانے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ قرآن اس لئے اتارا ہے کہ اس کے ذریعے سے وہ ان لوگوں کو انداز کردے جن کے اندر حیات عقلی و روحانی کی رمق باقی ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھائیں گے البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر حجت پوری ہوجائے گی اور وہ خدا کے ہاں یہ عذر نہیں کرسکیں گے کہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور نہ وہ ہدایت اختیار کرنے والے بنتے۔ فعل ’ اندار ‘ یہاں اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے اور ’ حی ‘ سے دل کے زندہ مراد ہیں۔ ایک منذرا انداز کرتا تو سب کو ہے لیکن اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

70۔ 1 یعنی جس کا دل صحیح ہے، حق کو قبول کرتا اور باطل سے انکار کرتا ہے۔ 70۔ 2 یعنی جو کفر پر مصر ہو، اس پر عذاب والی بات ثابت ہوجائے۔ لِیُنْذِرَ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–74

22: یعنی جس کا دل زندہ ہو، اور وہ حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہو۔ ایسے شخص کو زندہ فرما کر اشارہ کیا گیا ہے کہ جو شخص حق کا طلب گار نہ ہو، اور غفلت میں زندگی گزار رہا ہو، وہ زندہ کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لینذر من ۔۔۔۔ الکفرین (36: 70) ” تاکہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت تمام ہوجائے “۔ قرآن نے کفر اور حیات کو بالمقابل رکھا ہے۔ گویا کفر موت کے ہم معنی ہے۔ اور جس شخص کے دل میں ایمان کی استعداد ہو ، وہ زندہ ہے اور قرآن کا مقصد یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر اس لیے نازل ہوا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے ان لوگوں کو ڈرائیں جو زندہ ہوں ، جن لوگوں کے اندر زندگی کی رمق ہو ، وہ مر نہ گئے ہوں تاکہ ڈرانے کا انہیں فائدہ ہو۔ رہے کفار تو وہ مردے ہوتے ہیں۔ ان کو ڈرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ نیز ڈرانے کا فیضہ اس لیے عائد کیا گیا ہے تاکہ وہ عذاب کے مستحق ہوجائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی زندہ دل آدمی قرآن سن کر اللہ سے ڈرے اور منکروں پر حجت تمام ہو۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جس میں جان ہو یعنی نیک اثر پکڑتا ہو اس کے فائدہ کو اور منکروں پر الزام اتارنے کو۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 70 { لِّیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا } ”تاکہ وہ خبردار کر دے اس کو جو زندہ ہو“ یہاں ”زندہ ہونے“ سے مراد روح کا زندہ ہونا ہے۔ یہ مضمون اگرچہ قبل ازیں بھی متعدد مقامات پر بیان ہوچکا ہے ‘ لیکن اس آیت میں یہ واضح ترا نداز میں آیا ہے۔ گویا کچھ انسان جیتے جی مردہ ہوتے ہیں ‘ جیسے ابوجہل اور ابو لہب بحیثیت انسان زندہ نہیں تھے ‘ وہ صرف حیوانی سطح پر زندہ تھے ‘ جبکہ ان کے اندر ان کی روحوں کی موت واقع ہوچکی تھی۔ چناچہ قرآن کا انذار صرف اسی انسان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جس کے اندر اس کی روح زندہ ہو اور اس کی فطرت مسنح نہ ہوچکی ہو۔ یہاں پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں عام طور پر لفظ ”فطرت“…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

63 یعنی جس شخص کا ضمیر ابھی مردہ نہیں ہوا اور وہ ہدایت کا طالب ہے آپ اسے اس کے انجام سے آگاہ کریں۔ تاکہ ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں پر حجت پوری ہوسکے اور یہ کام تب ہی ممکن ہے کہ قرآن اور حامل قرآن کا مزاج شاعرانہ نہیں بلکہ حکیمانہ اور ناصحانہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–83

آیت نمبر 68 تا 83 ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لینذر من کان حیًا ویحق القول علی الکفرین تاکہ ایسے شخص کو ڈرائے جو زندہ ہو اور کافروں پر (عذاب کی) حجت ثابت ہوجائے۔ یعنی ہم نے محمد کو رسول بنایا اور قرآن نازل کیا ‘ اس غرض سے کہ مؤمنوں کو یہ رسول یا قرآن ڈرائے۔ زندہ سے مراد مؤمن ہے ‘ کیونکہ مؤمن ہی کا دل زندہ ہوتا ہے ‘ وہی حقائق اشیاء سے صحیح طور پر واقف ہوتا ہے۔ حیات لازوال ایمان سے ہی حاصل ہوتی ہے ‘ ایمان کا فائدہ اسی کو پہنچتا ہے۔ کافر تو مردہ ہوتا ہے ‘ اس کو قرآن سے کوئی فائدہ اور زندگی کا نفع حاصل نہیں ہوتا۔ اس کو اچھے کا ‘ برے سے امتیاز نہیں ہوتا۔ وہ پتھروں کی پوجا اور شیطان کی پیروی کو اچھا سمجھتا ہے اور خالق کائنات کی عبادت اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تاکہ رسول اکرم اس کے ذریعے سے ایسے شخص کو ڈرائیں جس کو عقل و شعور ہو اور تاکہ کفار مکہ پر عذاب اور ناراضگی کی بات ثابت ہوجائے کیونکہ یہ رسول اکرم اور قرآن حکیم پر ایمان نہیں لاتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِّيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا : تاکہ یہ اس آدمی کو ڈرائے جس کا دل اور جس کی بصیرت زندہ ہے، جس نے اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو معطل نہیں کر رکھا اور نہ ہی اس کا دل پتھر کی طرح مردہ ہوچکا ہے کہ اسے کتنی ہی نصیحت کی جائے اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا، کیونکہ زندہ دل والا آدمی ہی اس کے ڈرانے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ۔ وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ۔ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوْرُ۔ وَلَا الظِّلُّ وَلَا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–70

اس آیت میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے حال کی خبردی اور کفار کے قول کا رد کیا ہے کہ آپ ﷺ شاعر ہیں اور قرآن شعر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما علمنہ الشعر وما یتبغی لہ ‘ اسی طرح رسول اللہ ﷺ شعر نہیں کہتے تھے اور نہ موزوں کلام کیا کرتے تھے تھے جب آپ کوئی مثال بیان کرنے کے لئے کوئی مصرعہ کہنے کا ارادہ کرتے تھے تو اس نے کے وزن کو توڑ دیتے آپ صرف معانی کی حفاظت کا اہتمام کرتے تھے اس کی مثال یہ ہے کہ ایک روز آپ ﷺ نے (3) طرقہ کا شعر پڑھا : ستبدی لک الایام ما کنت جاھلا ویاتیک من لم تزودہ بالاخبار (4) زمانہ تیرے لئے وہ چیز ظاہر کر دے گا جس سے تونا واقف تھا اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

10:۔ ابن جریر (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لینذر من کان حیا “ (تاکہ آپ ڈرائیے اس آدمی کو جو عاقل ہو) 11:۔ ابن ابی شیبہ نے نوفل بن عقرب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ کے ہاں شعر سنا جاتا تھا ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں شعر سب سے زیادہ مبغوض بات تھی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لِّيُنْذِرَ [تاکہ وہ (قرآن) خبردار کرے ] مَنْ كَانَ [اس کو جو ہو ] حَيًّا [زندہ ] وَّيَحِقَّ [اور تاکہ ثابت ہو ] الْقَوْلُ [بات ] عَلَي الْكٰفِرِيْنَ [کافروں پر ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 70–71

جانوروں میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، ان میں منافع اور مشارب ہیں ایمانیات کا تذکرہ فرمانے کے بعد بعض دنیاوی منافع کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ ہم نے ان کے لیے محض اپنی قدرت سے چو پائے پیدا کیے، یہ لوگ چوپایوں کے مالک ہیں، ہر چیز کا حقیقی مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے انسانوں کو بھی اس نے اپنی مخقول میں سے بعض چیزوں کا مالک بنا دیا ہے، بندے مجازی مالک ہیں اور مالک ہوتے ہوئے ان احکام کے پابند ہیں جو شریعت اسلامیہ کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں، جو شخص ان کی خلاف ورزی کرے گا گنہگار ہوگا، یوں نہ سمجھے کہ میں اس جانور کا مالک ہوں جو چاہوں کروں۔ جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

43:۔ لینذر الخ : یہ قرآن شعر نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے جو اس نے اپنے پیغمبر پر اتارا ہے تاکہ وہ سمجھنے والوں کو اس کا پیغام سنائے اور وہ اس پر عمل کریں اور کافروں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہواجائے۔ حی سے مومن مراد ہے ایمان کو حیات سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ ایمان سے دل کی حیات ہے۔ (من کان حیا) یعنی مؤمنا حی القلب لان الکافر کالمیت الذی لایتدبر ولا یتکفر (معالم و خازن ج 6 ص 16) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–76

گزشتہ آیات میں اللہ نے میدان حشر کے کچھ واقعات بیان فرمائے۔ قیامت والے دن گمراہ لوگ اپنے برے اعمال و افعال اور برے عقائد سے انکار کریں گے تو ان کی زبانیں بند ہوجائیں گی اور ان کے ہاتھ اور پائوں بول کر ان کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کے کرتوت ثابت ہوجائیں گے۔ اب آخر سورة میں اللہ نے توحید ، قرآن کی حقانیت اور جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور ضمناً رسالت کا ذکر بھی آگیا ہے۔ الغرض سورة کے اس آخری حصے میں چاروں بنیادی مسائل کو اختصار کے ساتھ دہرایا جارہا ہے۔ کافر اور مشرک لوگ قرآن پاک کو اللہ کا کلام تسلیم نہیں کرتے ، بلکہ اسے شاعری ، کہانت یا سحر سے تعبیر کرتے تھے کبھی کہتے بل افترہ کہ نبوت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِّيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَّيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۝ 70 نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔ النذ یر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–70

ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق کہ بڑی عمر سے کیا زیادہ سمجھ آجاوے گی، سمجھنے کے لیے تو عمر کا ایک معتد بہ حصہ کافی ہے، جیسا کہ پہلے فرمایا تھا۔ اولم نعمرکم مایتذکر فیہ من تذکر اور زیادہ عمر ہونے کی آرزو بیکار ہے، کس لیے کہ جب عمر زیادہ ہوجاتی ہے تو اعضاء انسانی اور قوائے مدرکہ بھی ضعیف ہوجاتے ہیں۔ زجاج کہتے ہیں اس کے یہ معنی کہ جس کی ہم عمر زیادہ کرتے ہیں تو اس کو پیدائشی باتوں میں الٹا کردیتے ہیں۔ قوت کے بعد ضعف جوانی کے بعد بڑھاپا آجاتا ہے۔ سیدھا قد ٹیڑھا ہوجاتا ہے۔ افلایعقلون اس پر بھی وہ عقل نہیں کرتے، اس جملہ میں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ دنیا میں ممکنات کے جس قدر کمالات ہیں، طاقت و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 69–70

وَمَا عَلَّمْنٰـہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَـہٗ ط اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌوَّقُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ۔ لِّـیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّاوَّیَحِقَّ الْقُوْلُ عَلَی الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (یٰسٓ: 69، 70) (اور ہم نے (اپنے نبی کو) شعر کی تعلیم نہیں دی ہے اور یہ اس کو زیب بھی نہیں دیتی، یہ تو ایک یاد دہانی ہے اور نہایت واضح قرآن ہے۔ تاکہ ان لوگوں کو خبردار کردے جن کے اندر زندگی ہے اور کافروں پر حجت تمام ہوجائے۔ ) ہم پہلی آیت کی تشریح میں کچھ کہنے کی بجائے وہ تصریحات نقل کردینا کافی سمجھتے ہیں جو سورة الشعراء کی آیات 224 تا 227 کی تشریح کے ضمن میں لکھوا چکے ہیں۔ آنحضرت ﷺ پر شاعر ہونے کے الزام کی تردید مخالفین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 70–71

فہم القرآن ربط کلام : سورة یٰس کا مرکزی مضمون بعث بعد الموت ہے۔ سابقہ آیات میں اسی کے دلائل دیئے گئے ہیں۔ درمیان میں قرآن مجید کے بارے میں کفار کے ایک الزام کی تردید کی گئی ہے۔ اب پھر موت کے بعد جی اٹھنے کے دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ قرآن مجید تحریر کی صورت میں نہیں بلکہ تقریر اور خطاب کے انداز میں نازل ہوا ہے۔ خطاب کے دوران اگر سامع کوئی اعتراض یا سوال اٹھائے یا خطاب کرنے والا خود محسوس کرے تو وہ اپنے مضمون سے زرا ہٹ کر اس اعتراض کا جواب دینا لازم سمجھتا ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو پورے کا پورا خطاب بےاثر ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے اسی اصول کے پیش نظر قرآن مجید ایک مضمون بیان کرتے ہوئے اس کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

70: لِّیُنْذِرَ (تاکہ وہ ڈرائے) قرآن یا رسول ﷺ ۔ قراءت : مدنی، شامی، سہل، یعقوب نے لتُنْذِرَ پڑھا ہے۔ مَنْ کَانَ حَیًّا (ایسے شخص کو جو زندہ ہو) سوچ وبچار کرنے والا، عقل مند، کیونکہ غافل تو مردے کی طرح ہے۔ یا اس کا دل زندہ ہو۔ وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ (اور کافروں پر بات ثابت ہوجائے) اور عذاب والی بات لازم ہوجائے۔ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ (کافروں پر) وہ لوگ جو تامل نہیں کرتے وہ مردوں کے حکم میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

70، لینذر، قراء اہل مدینہ اور شام اور یعقوب نے اس کو لتنذر، پڑھا ہے ۔ اسی طرح سورة احقاف میں بھی پڑھا ہے اور ابن کثیر نے سورة احقاف میں ان کی متابعت کی ہے ۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے محمد (ﷺ) ڈراؤ ان کو اور دوسرے قراء نے ، لتنذر، پڑھا ہے چاہیے کہ وہ قرآن کو دیکھیں ۔ ، من کان حیا، یعنی مؤمن دل کے اعتبار سے زندہ ہے اور کافر کی مثال مردے جیسی ہے کیونکہ وہ غور و فکر نہیں کرتا۔ ، ویحق القول ، القول سے مراد کلمہ عذاب ہے۔ ، علی الکافرین،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–76

69 تا 76۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن جو گناہ گار اپنے گناہوں سے انکار کریں گے ان کی زبان بند کی جا کر ان کے ہاتھ پاؤں سے گناہوں کا اقرار کرایا جاوے گا اسی مناسبت سے فرمایا کہ جو لوگ سرکشی سے یہ زبان درازی کرتے ہیں کہ قرآن کو شعر اور اللہ کے رسول کو شاعر کہتے ہیں جب ان کی زبان بند کی جاکر ان کے ہاتھ پیروں سے ان کی اس زبان درازی کا اقرار کرایا جاوے گا تو اس وقت ان کو اس جھوٹ کی حقیقت کھل جائے گی کہ اللہ کے رسول کو یہ جھوٹے لوگ شاعر کہتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ان میں چھوٹے سے بڑے ہوئے ان لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعر کہنے کی عادت سے ہمیشہ بچایا کیوں کہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 70 مشرکین نبی مصطفیٰ ﷺ پر شاعر ہونے کا بہتان لگایا کرتے تھے نیز یہ کہ جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں و شاعری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محمد ﷺ کو شاعری سے منزہ قرار یدتے ہوئے فرمایا (آیت) ” یعنی آپ کے لئے مناسب نہیں ہے کہ آپ شاعری کریں یعنی آپ کا شاعر ہونا جنس محال میں سے ہے آپ تو ہدایت یافتہ ہیں جبکہ شعرا گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہ لوگ ہی ان شعرا کی پیروی کرتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے تمام شبہات کو دور کردیا جن کا یہ گمراہ لوگ سہارا لیا کرتے ہیں، چناچہ اس شب ہے کو بھی ختم کردیا کہ آپ لکھ سکتے ہیں یا پڑھ سکتے ہیں اور آگاہ فرماتا ہے اس نے آپ کو شاعری نہیں سکھائی اور نہ شاعری آپ کے شایان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 69–77

شعر گوئی نبی کے شایان شان نہیں قول باری ہے : (وما علمناہ الشعروما ینبغی لہ۔ اور ہم نے آپ ﷺ کو شعر وشاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ آپ ﷺ کی شایاں ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اس قول بای کی تفسیر میں بیان کیا کہ معمہ کہتے ہیں۔ کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا حضور ﷺ کبھی موقع ومحل کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہیں، بنو قیس بن طرفہ کے شاعر کے ، اس شعر کے سوا آپ ﷺ نے کبھی کوئی شعر نہیں پڑھا : ستبدی لک الایام ماکنت جاھلا ویاتیک بالاخبار من لم ترود زمانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

70 اِنزال قرآن کے اصل مقصد کی وضاحت : سو قرآن مبین کے اتارے جانے کے مقصد کے بیان اور اس کی وضاحت کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن اس لیے اتارا کہ وہ خبردار کرے ہر اس شخص کو جو زندہ ہو "۔ یعنی جس کا قلب و ضمیر زندہ ہو اور وہ حق و حقیقت کو سمجھنے کی اہلیت و صلاحیت اپنے اندر رکھتا ہو۔ اور وہ اس طور پر حق و ہدایت کو لینے اور قبول کرنے کے لئے تیار و مستعد ہو۔ کیونکہ جو ایسا نہیں ہوگا وہ درحقیقت مردہ ہے اگرچہ وہ بظاہر دو ٹانگوں پر چلتا اور بہت کچھ دعوے بھی کرتا ہو۔ اس کیلئے اس کو اس نور مبین سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کلّ زیْعٍ وَّ ضَلَال ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–83

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83: اسرار و معارف : اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی جس نے اپنے سوچنے سمجھنے کی قوتوں کو معطل نہ کر رکھا ہو اور اس کی حالت چکنے کھڑے کی سی نہ ہوگئی ہو کہ آپ ﷺ اسے چاہے کتنی ہی پند و نصیحت فرمائیں اس پر رتی بھر اثر نہ ہو۔8 یعنی ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمام حجت ہوجائے اور ان کے پاس کوئی ایساعذر باقی نہ رہے جس کی بناء پر وہ قیامت کے دن اپنے آپ کو بےقصور اور مظلوم تصور کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:70) لینذر۔ میں لام، لام کی ہے۔ اس کے بعد ان مقدرہ ہے تاکہ : ینذر مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ لام کی۔ ضمیر فاعل کا مرجع القران بھی ہوسکتا ہے اور الرسول (علیہ الصلوٰۃ والسلام ) بھی۔ تاکہ وہ ڈرائے۔ من کان حیا۔ ای مؤمنا حیی القلب الان الکافر کامیت الذی لا یتدبر ولا یتفکر۔ ایسے مومن شخص کو جس کا دل زندہ ہو (حق کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہو) کیونکہ کافر مردہ کی مانند ہے جو تدبروتفکر سے عاری ہے۔ حیا صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ زندہ۔ بوجہ خبر کان منصوب ہے۔ ویحق القول۔ وائو عاطفہ ہے اس کا عطف جملہ سابقہ لینذر پر ہے ای ولیحق۔ یحق فعل مضارع واحد مذکر غائب منصوب حق سے (باب ضرب) تاکہ ثابت ہوجائے، بات پوری…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–83

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–70

(ف 1) جو لوگ سرکشی سے یہ زبان درازی کرتے ہیں کہ قران کو شعر اور اللہ کے رسول کو شاعر کہتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ ان میں چھوٹے سے بڑے ہوئے ان لوگوں کو خوب معلوم ہے اور ہم نے اپنے نبی کو شعر نہیں سکھایا اور نہ شعران کی شان کے لائق ہے یہ تو جو کچھ لائے ہیں وہ تو صرف نصیحت اور روشن قرآن ہے جو احکام وغیرہ کو ظاہر کررہا ہے تاکہ ان لوگو کو جو زندہ اور سمجھدار قابل خطاب ہیں ان کو سنادیں یعنی مومنین کو اور کافروں پر عذاب کے فرمان کو ثابت کردوں گا تاکہ منکروں پر خدا کی حجت پوری ہوجائے ان کو یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ دنیا میں کسی نے نہیں سمجھایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 70–74

[24] زندہ سے مراد سوچنے سمجھنے والا انسان ہے جس کی حالت پتھر کی سی نہ ہو کہ جس کو کتنی ہی دردمندی کے ساتھ نصیحت کی جائے وہ نہ کچھ سنے نہ سمجھے اور نہ اپنی جگہ سے سرکے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 68–72

ف 1: کفار کا ایک عذر یہ ہوسکتا ہے ۔ کہ ہمیں دنیا میں غوروفکر کی کافی مہلت نہیں دی گئی ۔ ورنہ ہم ضرور ہدایت ورشد کو پالیتے اور دین حقہ کی سعادت سے بہرہ مند ہوتے ۔ تو اس کا جواب اس آیت میں دیا ہے ۔ کہ جہاں تک اس عمر طبعی کا ذکر ہے ۔ جو عبرت پذیری کے لئے موزوں ہوتی ہے ۔ وہ تمہیں بغیر تمہارے مطالبہ کے عطا کی گئی ۔ اور جب تم نے اس طویل عرصے میں حق کو قبول نہیں کیا ۔ تو کیا ایسے وقت تم اس کو قبول کرتے ۔ جب زیادتی عمر کے باعث تمہارے توانے ذہنی وفکری مضمحل ہوجاتے ۔ اور تم میں قبولیت کی کوئی استعداد ہی باقی نہ رہتی ۔ یہ یاد رہے کہ یہ قانون کوئی کلیہ نہیں ہے ۔ انبیاء اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ وہ جس قدر عمر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(70) اس قرآن کریم کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ یہ قرآن اس شخص کو ڈرا دے جو زندہ ہو اور صحیح زندگی رکھتا ہو اور تاکہ منکروں پر الزام اور حجت ثابت ہوجائے۔ یعنی قرآن یا پیغمبر کا کام یہ ہے کہ جو شخص زندہ ہو یعنی قلبی زندگی رکھتا ہو اور اس میں حق بات کو قبول کرنے کی صلاحیت ہو اس کو یہ رسول یا یہ قرآن ڈرا دے اس میں تامل کرنے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہو تو اسی کو ڈرانا نافع ہوسکتا ہے ورنہ غافل تو ایسا ہے جیسے مردہ اور میت۔ کافروں پر حجت ثابت ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ قرآن سن کر نہیں مانتے اور اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے تو ان پر یہ قرآن حجت اور الزام ہے کہ ہدایت ان تک پہنچی مگر انہوں نے قبول نہیں کی۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–75

ف 2۔ طبعی حالت سے مراد قوی مدرکہ، سامعہ، باصرہ وغیرہ اور فاعلہ، ہاضمہ، نامیہ وغیرہا، اور رنگ و روغن و حسن و جمال ہیں۔ اور الٹا کرنے سے مراد ہے ان کا انقلاب اور تغیر حالت اودون و ارذل کی طرف۔ پس طمس ومسخ بھی ایک قسم کا تغیر ہے کامل سے ناقص کی طرف۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زندوں کو ڈرانے کے لیے ہے اور کافروں پر حجت قائم کرنا ہے : 70۔ قرآن کریم زندوں کے لیے اتارا گیا ہے اور زندہ ہی اس سے ہدایت پاتے ہیں ۔ قرآن کریم نہ تو مردوں کے لیے اتارا گیا ہے کہ اس میں مردوں کی بخشش کا سامان ہو اور نہ ہی یہ مردہ دلوں کو ہدایت کرتا ہے بلاشبہ زندہ دلوں کو ہدایت کرتا ہے وہ بھی ان لوگوں کو جو اس کی ہدایت کو قبول کرتے ہیں اور کافروں پر حجت قائم کرتا ہے کہ وہ بلاشبہ عذاب الہی کے مستحق ہیں اور یقینا ان کو عذاب دیا جائے گا ۔ افسوس کہ یہ آیت جس سورت میں بیان کی جا رہی ہے بدقسمتی سے علماء کرام کی اکثریت اسی سورت کو مردوں کے لیے مختص کرتی ہے اور ہر مرنے والے کی رسومات میں اس کی تلاوت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–70

Commentary In the first verse cited here, it was said: وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ‌ وَمَا يَنبَغِي لَهُ (And We did not teach him poetry and it is not proper for him.) Since the deniers of the appearance of a prophet and messenger with a mission could not deny the unique effectiveness of the Qur'an and its ability to move hearts that was a matter of common experience, therefore, they invented convenient excuses. At times, they would call this Divine Word, some magic and the Holy Prophet ﷺ ، a magician. Then, on other occasions, they would say that this Word was poetry and he was a poet. By…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

59 "Every living person" : Every person who is capable of thinking and understanding, who is not like a stone, which neither hears nor understands nor moves from its place however rationally and sympathetically one may explain the distinction between the truth and falsehood and give admonition before him.

Read the full tafseer →