Explained with ayahs 68–70
شاعری پیغمبرانہ شان کے منافی۔
انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے پیری ضعیفی کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، جیسے سورة روم کی آیت میں ہے۔ (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ 54) 30۔ الروم :54) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد طاقت عطا فرمائی پھر طاقت و قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا کردیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب جاننے والا پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور آیت میں ہم تم میں سے بعض بہت بڑی عمر کی…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 58
یہ اس بات کا جواب ہے کہ کفار توحید و آخرت اور زندگی بعد موت اور جنت و دوزخ کے متعلق نبی ﷺ کی باتوں کو محض شاعری قرار دے کر اپنے نزدیک بےوزن ٹھہرانے کی کوشش کرتے تھے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص 546 تا 549)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
خلاصہ تفسیر
(اور یہ کفار جو نبوت کی نفی کرنے کے لئے آپ کو شاعر کہتے ہیں یہ محض باطل ہے کیونکہ) ہم نے آپ کو شاعری (یعنی خیالی مضامین مرتب کرنے کا) علم نہیں دیا اور وہ (شاعری) آپ کے شایان شان بھی نہیں وہ (یعنی آپ کو عطا کیا ہوا علم جس کو یہ لوگ شاعری کہتے ہیں وہ) تو محض نصیحت (کا مضمون) اور ایک آسمانی کتاب ہے جو احکام کی ظاہر کرنے والی ہے تاکہ (بیان احکام کے اثر سے) ایسے شخص کو (نافع ڈرانا) ڈرا دے جو (حیات قلبیہ کے اعتبار سے) زندہ ہو اور تاکہ کافروں پر (عذاب کی) حجت ثابت ہوجاوے۔ کیا ان (مشرک) لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے ان کے (نفع کے) لئے اپنے ہاتھ کی سوختہ چیزوں میں سے مواشی پیدا کئے…
Read the full tafseer →8۔ آگے کا مضمون۔ آیات 69۔ 73
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ خاتمہ میں تمہید کے مضمون کو، ایک نئے اسلوب سے، پھر لے لیا ہے۔ یاد ہوگا، سورة کا آغاز قرآن حکیم کی قسم سے ہوا ہے اور اس حکیمانہ کتاب کو آنحضرت ﷺ کی رسالت کی دلیل کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے امیوں پر عظیم احسان فرمایا ہے لیکن اس پر ایمان وہی لائیں گے جن کے اندر زندگی کی رمق ہوگی۔ اس تمہید کے بعد کلام کا رخ قرآن کے دعاوی کے اثبات کی طرف مڑ گیا ہے۔ یہاں بھی غور کیجئے تو وہی بات ایک نئے اسلوب سے آئی ہے۔ پہلے ان مخالفین کی تردید ہے جو قرآن کو شاعری اور آنحضرت ﷺ کو شاعر قرار…
Read the full tafseer →69۔ 1 مشرکین مکہ نبی ﷺ کو جھٹلانے کے لئے مختلف قسم کی باتیں کہتے رہتے تھے۔ ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن پاک آپ کی شاعرانہ تک بندی ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی فرمائی۔ کہ آپ شاعر ہیں اور نہ قرآن شعری کلام کا مجموعہ ہے بلکہ یہ تو صرف نصیحت و موعظت ہے۔ شاعری میں بالعموم مبالغہ، افراط وتفریط اور محض تخیلات کی ندرت کاری ہوتی ہے، یوں گویا اسکی بنیاد جھوٹ پر ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں شاعر محض گفتار کے غازی ہوتے ہیں، کردار کے نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے نہ صرف یہ کہ اپنے پیغمبر کو شعر نہیں سکھلائے، نہ اشعار کی اس پر وحی کی، بلکہ اس کے مزاج و طبیعت کو ایسا بنایا کہ…
Read the full tafseer →21: بعض مشرکین کہا کرتے تھے کہ (معاذ اللہ) حضور اقدس ﷺ شاعر ہیں، اور قرآن کریم آپ کی شاعری کی کتاب ہے۔ یہ آیت اس کی تردید کر رہی ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 207 تشریح آیات
69 ۔۔۔ تا۔۔۔ 83
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے اور اس میں ان تمام مسائل کو لیا گیا ہے جو اس سورت کا محور ہیں۔ وحی کا مسئلہ ، وحی کی ماہیت ، مسئلہ الوہیت اور وحدانیت الٰہی۔ بعث بعد الموت اور حشر و نشر۔ اس سبق میں یہ تمام مسائل علیحدہ علیحدہ یکے بعد دیگرے بیان کیے گئے ہیں ، نہایت ہی موثر اور زور دار انداز میں۔ تمام موضوعات میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہر چیز کی صنعت میں دست قدرت کار فرما ہے اور اس کائنات کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ مضمون اس سبق اور اس سورت کی آخری آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
فسبحن الذی۔۔۔۔ ترجعون (36: 83) ” پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور…
Read the full tafseer →1 یعنی اوپر جو کچھ بیان ہوا وہ حقائق واقعہ ہیں۔ کوئی شاعرانہ تخیلات نہیں۔ اس پیغمبر کو ہم نے قرآن دیا ہے جو نصیحتوں اور روشن تعلیمات سے معمور ہے کوئی شعر و شاعری کا دیوان نہیں دیا جس میں نری طبع آزمائی اور خیالی تک بندیاں ہوں، بلکہ آپ کی طبع مبارک کو فطری طور پر اس فن شاعری سے اتنا بعید رکھا گیا کہ باوجود قریش کے اس اعلیٰ خاندان میں سے ہونے کے جس کی معمولی لونڈیاں بھی اس وقت شعر کہنے کا طبعی سلیقہ رکھتی تھیں۔ آپ نے مدت العمر کوئی شعر نہیں بنایا۔ یوں رجز وغیرہ کے موقع پر کبھی ایک آدھ مرتبہ زبان مبارک سے مقفی عبارت نکل کر بےساختہ شعر کے سانچہ میں ڈھل گئی ہو وہ الگ بات ہے۔ اسے شاعری یا شعر کہنا…
Read the full tafseer →آیت 69 { وَمَا عَلَّمْنٰـہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ } ”اور ہم نے ان کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ ان کے شایانِ شان ہے۔“
اس سے پہلے سورة الشعراء میں شعراء کے بارے میں یہ حکم ہم پڑھ آئے ہیں : { وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُوْنَ وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ } ”اور شعراء کی پیروی تو گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اور یہ کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں“۔ سورة الشعراء کی ان آیات کے بعد اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے استثناء کا ذکر بھی فرمایا ہے ‘ لیکن شعراء اور…
Read the full tafseer →61 آپ کے لئے شاعری اس لئے مناسب نہیں کہ شاعروں کے کلام میں جب تک جھوٹ اور مبالغہ کی آمیزش نہ ہو اس کے کلام میں نہ حسن پیدا ہوتا ہے اور نہ دلکشی اور نہ ہی کوئی ان کے اشعار کو پسند کرتا ہے۔
(مزید برآں ان کے تخیلات خواہ کتنے ہی بلند ہوں ان کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ شاعروں کی عملی زندگی عموماً ان کے اقوال کے برعکس ہوتی ہے اور تیسری وجہ یہ ہے کہ ان کے انداز فکر کے لئے کوئی متعین راہ نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک بےلگام گھوڑے کی طرح ہر میدان میں ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں۔ شعر میں اگر کوئی چیز پسندیدہ ہوسکتی ہے تو وہ اس کی تاثیر اور دل نشینی ہے اور یہ چیز قرآن میں نثر ہونے کے…
Read the full tafseer →45۔ (بحیثیت آپ کی پیغمبری کے) قرآن مجید کہتا ہے کہ یہ احمق مشرک آپ کے بیان کئے ہوئے مضامین عالیہ کو مؤثر پاکر اسے شاعری کی ساحری قرار دے رہے ہیں، جو ان بیچاروں کا منتہائے فکر ہے۔ شاعری یعنی تخییلی مضمون آفرینی کو مرتبہ نبوت سے مناسبت ہی کیا آپ کے ہاں تو حقائق ہی حقائق ہیں، کہاں یہ، کہاں شاعر کی بہتر سے بہتر خیال بندیاں، وہ تو اس سے کہیں فرو مرتبہ چیز ہے۔ ھذا ردلما کانوا یقولونہ من ان القران شعر والنبی ﷺ شاعر وغرضھم من ذلک ان ما جآء بہ (علیہ الصلوۃ والسلام) من القران افتراء تخیل (روح) (آیت) ” الشعر “۔ شعر یہاں اپنے معروف و متعارف معنی میں مراد نہیں یعنی کلام موزوں ومقفی کامرادف نہیں، بلکہ شعر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–83
آیت نمبر 68 تا 83
ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…
Read the full tafseer →وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ . اور ہم نے ان کو (یعنی محمد ﷺ کو) شاعری نہیں سکھائی اور نہ شاعری ان کے شایان شان ہے۔
یعنی قرآن کی تعلیم دی جو نہ مقفّٰی ہے ‘ نہ موزوں ہے (نہ اس کی قافیہ کی پابندی ہے ‘ نہ وزن کی) نہ اس کے اندر وہ تخیلات کاذبہ ہیں (جو شاعری کا معنوی اثاثہ ہیں) نہ اس کا مقصد غط طور پر جذبات نفرت ورغبت کو برانگیختہ ہے (جو شاعری کا اصل مقصد ہے) نہ شعر سازی میں اور وزن و قافیہ کی تلاش میں وقت عزیز کو ضائع کرنے ان کیلئے زیبا ہے۔
ایک شبہ : بخاری و مسم نے صحیحین میں حضرت براء بن عازب کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا یہ قول نقل کیا ہے : اَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِ…
Read the full tafseer →اور ہم نے رسول اکرم کو شاعری کا علم نہیں سکھایا اور یہ آپ کے لیے شان شایان بھی نہیں یہ قرآن حکیم تو صرف نصیحت کا مضمون ہے اور حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو ظاہر کرنے والی کتاب ہے۔
Read the full tafseer →وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَهٗ : پچھلی آیات سے اس کی مناسبت یہ ہے کہ کفار توحید و آخرت اور زندگی کے بعد موت اور جنت و دوزخ کے متعلق نبی ﷺ کی باتوں کو محض شاعری قرار دے کر اپنے خیال میں بےوزن ٹھہرانے کی کوشش کرتے تھے، یہ ان کے اس الزام کا رد ہے۔ یعنی آپ ﷺ نبوت و رسالت کے جس مقام پر فائز ہیں شاعری کو اس سے کوئی مناسبت نہیں۔ شاعری کا حسن اور کمال تو جھوٹ، مبالغہ آرائی، خیالی بلند پروازی اور فرضی نکتہ آفرینی ہے، جب کہ نبی ﷺ کی شان ان چیزوں سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طبیعت ایسی رکھی کہ باوجود خاندان عبدالمطلب سے ہونے کے، جس کا ہر فرد فطرتاً شاعر ہوتا تھا، پوری عمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
اس آیت میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے حال کی خبردی اور کفار کے قول کا رد کیا ہے کہ آپ ﷺ شاعر ہیں اور قرآن شعر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما علمنہ الشعر وما یتبغی لہ ‘ اسی طرح رسول اللہ ﷺ شعر نہیں کہتے تھے اور نہ موزوں کلام کیا کرتے تھے تھے جب آپ کوئی مثال بیان کرنے کے لئے کوئی مصرعہ کہنے کا ارادہ کرتے تھے تو اس نے کے وزن کو توڑ دیتے آپ صرف معانی کی حفاظت کا اہتمام کرتے تھے اس کی مثال یہ ہے کہ ایک روز آپ ﷺ نے (3) طرقہ کا شعر پڑھا :
ستبدی لک الایام ما کنت جاھلا ویاتیک من لم تزودہ بالاخبار (4)
زمانہ تیرے لئے وہ چیز ظاہر کر دے گا جس سے تونا واقف تھا اور…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما علمنہ الشعر “ (اور ہم نے اس کو شعر نہیں سکھائے) یعنی محمد ﷺ کو۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما علمنہ الشعروما ینبغی لہ ، ( اور ہم نے اس کو شعر نہیں سکھائے اور نہ یہ ان کے لائق ہے) یعنی محمد ﷺ کو (شعر کہنا لائق نہیں) اللہ تعالیٰ نے اس سے آپ کو محفوظ رکھا (آیت) ” ان ھو الا ذکر و قرآن مبین “ (اور وہ تو محض نصیحت ہے) یعنی یہ تو ان (آیت) ” لینذر من کان حیا “ (تاکہ ایسے شخص کو ڈرائے جو زندہ ہے) اس سے دل کا زندہ ہونا اور آنکھوں کا زندہ ہونا مراد ہے۔ (آیت) ” ویحق القول علی…
Read the full tafseer →وَمَا عَلَّمْنٰهُ [اور ہم نے نہیں سکھایا ان ﷺ کو ] الشِّعْرَ [شعر کہنا ] وَمَا يَنْۢبَغِيْ [اور یہ شایان شان نہیں ہے ] لَهٗ ۭ [ان ﷺ کے لئے ] اِنْ هُوَ اِلَّا [نہیں ہے یہ مگر ] ذِكْرٌ [ایک یاد دہانی ] وَّقُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ [اور ایک واضح قرآن ] ۔
Read the full tafseer →شاعری رسول اللہ ﷺ کی شان کے لائق نہیں، قرآن کریم زندہ قلوب کے لیے نصیحت ہے اور کافروں کے لیے حجت ہے
مشرکین عرب اور خاص کر اہل مکہ جب قرآن مجید سنتے تھے تو یہ جانتے ہوئے کہ نہ اس میں اشعار ہیں نہ شاعرانہ خیالی مضامین ہیں پھر بھی قرآن مجید کے بارے میں یوں کہہ دیتے تھے کہ یہ شاعرانہ باتیں ہیں، ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ ) (ہم نے اپنے نبی ﷺ کو شعر نہیں سکھایا) (وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ ) (اور نہ شعر کہنا ان کی شان کے لائق ہے) سو جب وہ شعر کہنا جانتے ہی نہیں اور ان کی شان کے لائق ہی نہیں تو تمہارے سامنے شاعرانہ باتیں کیسے بیان کرسکتے ہیں ؟ شاعرانہ تخیلات تو جھوٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–76
منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…
Read the full tafseer →42:۔ وما علمنہ الخ :۔ یہ مشرکین کے ایک شبہ کا جواب ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی صداقت کی ایک واضح دلیل ہے۔ مشرکین کہتے ہیں محمد ﷺ شاعر ہے۔ اور یہ قرآن اس کا شاعرانہ کلام ہے۔ فرمایا شاعری کا علم اور شاعری کی استعداد ہم نے اپنے پیغمبر کو عطا ہی نہیں کی اور نہ شاعری آپ کے شایان شان ہی ہے۔ یہ کلام اللہ کی طرف سے پند و نصیحت ہے اور واضح طور پر اللہ کی طرف سے نازل شدہ قرآن ہے اور ایسا معجزہ ہے کہ بشر کی طاقت ہی سے ماورا ہے۔ شاعر نہ ہونے کے باوجود ایسا بےمثل اور معجز کلام پیش کرنا، جو بشر کے حیطہ استطاعت سے باہر ہو۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔ وجعل اللہ جل و عز ذلک علما من اعلام نبیہ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
گزشتہ آیات میں اللہ نے میدان حشر کے کچھ واقعات بیان فرمائے۔ قیامت والے دن گمراہ لوگ اپنے برے اعمال و افعال اور برے عقائد سے انکار کریں گے تو ان کی زبانیں بند ہوجائیں گی اور ان کے ہاتھ اور پائوں بول کر ان کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کے کرتوت ثابت ہوجائیں گے۔ اب آخر سورة میں اللہ نے توحید ، قرآن کی حقانیت اور جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور ضمناً رسالت کا ذکر بھی آگیا ہے۔ الغرض سورة کے اس آخری حصے میں چاروں بنیادی مسائل کو اختصار کے ساتھ دہرایا جارہا ہے۔ کافر اور مشرک لوگ قرآن پاک کو اللہ کا کلام تسلیم نہیں کرتے ، بلکہ اسے شاعری ، کہانت یا سحر سے تعبیر کرتے تھے کبھی کہتے بل افترہ کہ نبوت…
Read the full tafseer →وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَہٗ 0 ۭ اِنْ ہُوَاِلَّا ذِكْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ 69ۙ
علم ( تعلیم)
اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، فمن التَّعْلِيمُ قوله : الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] ، عَلَّمَ بِالْقَلَمِ [ العلق/ 4] ، وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] ، عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق کہ بڑی عمر سے کیا زیادہ سمجھ آجاوے گی، سمجھنے کے لیے تو عمر کا ایک معتد بہ حصہ کافی ہے، جیسا کہ پہلے فرمایا تھا۔ اولم نعمرکم مایتذکر فیہ من تذکر اور زیادہ عمر ہونے کی آرزو بیکار ہے، کس لیے کہ جب عمر زیادہ ہوجاتی ہے تو اعضاء انسانی اور قوائے مدرکہ بھی ضعیف ہوجاتے ہیں۔ زجاج کہتے ہیں اس کے یہ معنی کہ جس کی ہم عمر زیادہ کرتے ہیں تو اس کو پیدائشی باتوں میں الٹا کردیتے ہیں۔ قوت کے بعد ضعف جوانی کے بعد بڑھاپا آجاتا ہے۔ سیدھا قد ٹیڑھا ہوجاتا ہے۔ افلایعقلون اس پر بھی وہ عقل نہیں کرتے، اس جملہ میں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ دنیا میں ممکنات کے جس قدر کمالات ہیں، طاقت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
وَمَا عَلَّمْنٰـہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَـہٗ ط اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌوَّقُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ۔ لِّـیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّاوَّیَحِقَّ الْقُوْلُ عَلَی الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (یٰسٓ: 69، 70)
(اور ہم نے (اپنے نبی کو) شعر کی تعلیم نہیں دی ہے اور یہ اس کو زیب بھی نہیں دیتی، یہ تو ایک یاد دہانی ہے اور نہایت واضح قرآن ہے۔ تاکہ ان لوگوں کو خبردار کردے جن کے اندر زندگی ہے اور کافروں پر حجت تمام ہوجائے۔ )
ہم پہلی آیت کی تشریح میں کچھ کہنے کی بجائے وہ تصریحات نقل کردینا کافی سمجھتے ہیں جو سورة الشعراء کی آیات 224 تا 227 کی تشریح کے ضمن میں لکھوا چکے ہیں۔
آنحضرت ﷺ پر شاعر ہونے کے الزام کی تردید
مخالفین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح مشرکین مکہ اللہ کی توحید کے بارے میں بےسمجھی کا مظاہرہ کرتے اسی طرح ہی قرآن مجید کے متعلق بےعقلی کی بات کرتے کہ قرآن کسی شاعر کا کلام ہے یہاں ان کے الزام کا جواب دیا گیا ہے۔
کفار کا کہنا تھا کہ محمد ﷺ شاعرانہ تخیلات پیش کرتا ہے جس کی تردید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ کو شعر و شاعری نہیں سکھلائی اور نہ ہی اس کی یہ شان ہے کہ وہ شعرگوئی کرے۔ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے۔ جو لوگوں کے لیے نصیحت کے طور پر اتارا گیا ہے لیکن نصیحت وہی شخص حاصل کرکے گا جو ہوش، گوش رکھتا ہے۔ اور قرآن لوگوں پر کھلی حجت ہے یہاں تک شاعر اور اس کے تخیلات کا تعلق ہے…
Read the full tafseer →سخت الزام کا جواب :
69: مشرکین مکہ آپ کو شاعرکہتے۔ وَمَا عَلَّمْنٰـہُ الشِّعْرَ (اور ہم نے اس کو شاعری کا علم نہیں دیا) یعنی ہم نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شعراء کے قول نہیں سکھائے یا ہم نے ان کو تعلیم قرآن کے سبب شعر کا علم نہیں دیا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجیدشعر و شاعری نہیں۔ وہ تو کلام موزوں اور مقفی ہے جو معنی پر دلالت کرتا ہے۔ مگر نہ وزن نہ قافیہ۔ پس اس کے اور شعر کے درمیان کوئی مناسبت نہیں پائی جاتی جبکہ تم حقیقت کی نگاہ سے دیکھو۔ وَمَا یَنْچبَغِیْ لَہٗ (اور نہ آپ کے شایان شان ہے) نہ آپ کے لئے درست ہے اور نہ آپ کے شایان شان ہے اور نہ مناسب۔ اور اگر طلب کریں تو بتکلف بھی اس کو پا نہیں…
Read the full tafseer →69، وما علمنہ الشعروما ینبغی لھا، کفار مکہ کہتے تھے کہ نعوذ باللہ محمد (ﷺ) شاعر ہیں اور کہتے تھے کہ محمد (ﷺ) جو کلام بناتے ہیں وہ شعر ہیں۔ اللہ نے ان کی تکذیب پر یہ آیت نازل کی ۔
وما علمنہ الشعر کی تفسیر
، وما علمنا ہ الشعروما ینبغی لہ ، وہ قرآن نہ تو مقفی ہے اور نہ ہی موزوں ہے۔ یہاں تک کہ شعر کی مثال خودان کی زبان پر بغیر تکلف کے جاری ہوجاتا ہے۔
حسن کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ شعر بطور مثل پڑھا۔ ، کفی بالا سلام والشیب للمرء نا ھیا، اسلام اور بالوں کی سفیدی آدمی کو گناہوں سے روکنے کیلئے کافی ہے۔
حضرت ابوبکر نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! شاعر نے توا س طرح کہا ہے، کفی الشیب والا سلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
69 تا 76۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن جو گناہ گار اپنے گناہوں سے انکار کریں گے ان کی زبان بند کی جا کر ان کے ہاتھ پاؤں سے گناہوں کا اقرار کرایا جاوے گا اسی مناسبت سے فرمایا کہ جو لوگ سرکشی سے یہ زبان درازی کرتے ہیں کہ قرآن کو شعر اور اللہ کے رسول کو شاعر کہتے ہیں جب ان کی زبان بند کی جاکر ان کے ہاتھ پیروں سے ان کی اس زبان درازی کا اقرار کرایا جاوے گا تو اس وقت ان کو اس جھوٹ کی حقیقت کھل جائے گی کہ اللہ کے رسول کو یہ جھوٹے لوگ شاعر کہتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ان میں چھوٹے سے بڑے ہوئے ان لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعر کہنے کی عادت سے ہمیشہ بچایا کیوں کہ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
آیت 68
(ومن نعمرہ) ” اور ہم جس کو بڑی عمر دیتے ہیں۔ “ یعنی بنی آدم میں سے (ننکسہ فی الخلق) یعنی وہ اسی حالت کی طرف لوٹ آتا ہے جس سے ابتدائی کی تھی یعنی، ضعف عقل اور ضعف قوت کی طرف (افلا یعقلون) ” کیا وہ سمجھتے نہیں۔ “ آدمی ہر لحاظ سے ناقص ہے پس انہیں چاہیے کہ وہ اپنی قوت اور عقل کا تدارک کریں اور انہیں اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–77
شعر گوئی نبی کے شایان شان نہیں
قول باری ہے : (وما علمناہ الشعروما ینبغی لہ۔ اور ہم نے آپ ﷺ کو شعر وشاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ آپ ﷺ کی شایاں ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اس قول بای کی تفسیر میں بیان کیا کہ معمہ کہتے ہیں۔ کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا حضور ﷺ کبھی موقع ومحل کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہیں، بنو قیس بن طرفہ کے شاعر کے ، اس شعر کے سوا آپ ﷺ نے کبھی کوئی شعر نہیں پڑھا :
ستبدی لک الایام ماکنت جاھلا
ویاتیک بالاخبار من لم ترود
زمانہ…
Read the full tafseer →69 پیغمبر کو شاعری نہیں سکھائی گئی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کو نہ شاعری سکھائی گئی اور نہ ہی یہ ان کی شان کے لائق ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے نہ تو پیغمبر کو شاعری سکھائی اور نہ ہی یہ اس کی شان کے لائق ہوسکتی ہے "۔ کیونکہ شاعری میں تو تصنع، مبالغہ آمیزی، خیال آرائی، تفاخر و تعلّی اور تک بندی جیسی چیزیں ہوتی ہیں۔ اور اس میں یہ چیزیں جس قدر زیادہ ہوں گی اسی قدر شعر کی قدر و قیمت بڑھے گی اور زیادہ ہوگی۔ چناچہ شعر کے بارے میں مشہور ہے کہ " اَکْذَبُہ اَحْسَنُہ " کہ اس میں جتنا زیادہ جھوٹ اور مبالغہ ہوگا اتنا ہی وہ اچھا سمجھا جائے گا۔ جبکہ پیغمبر تو وہ حقائق بیان فرماتے ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–74
حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام
تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–83
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83:
اسرار و معارف :
اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔
ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…
Read the full tafseer →ف 6 کفار قریش کو آپ ﷺ کی دعوت رد کرنے کے لئے کوئی اور بہانہ نہ ملتا تو آپ ﷺ کی باتوں کو شاعرانہ تخیلات قرار دے کر بےوقعت ٹھہرانے کی کوشش کرتے۔ ان کے جواب میں فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نبوت و رسالت کے جس منصب پر فائز ہیں شاعری کو اس سے کوئی مناسبت نہیں۔ شاعری کا حسن اور کمال تو جھوٹ، مبالغہ آرائی، خیال بلند پروازی اور فرضی نکتہ آفرینی ہے اور نبی ﷺ کی شان ان چیزوں سے بلند وبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی طبیعت ایسی رکھی کہ باوجود خاندان عبد المطلب سے ہونے کے جس کا ہر فرد فطرۃً شاعر ہوتا، پوری عمر میں کوئی شعر نہیں کہا۔ یوں رجز وغیرہ کے موقع پر زبان مبارک سے کبھی کوئی مقضیٰ عبارت ایسی نکل گئی جو…
Read the full tafseer →(36:69) علمنہ۔ علمنا ماضی جمع متکلم ۔ تعلیم (تفعیل) مصدر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما نفی کا ہے۔ ہم نے اس کو نہیں سکھایا۔ ہم نے اس کو تعلیم نہیں دی۔
الشعر۔ الشعر بال کو کہتے ہیں اسی کی جمع اشعار ہے مثلاً :۔
ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا۔ (16:80) اور ان کے اون اور ان کے پشم اور ان کے بالوں سے۔ مفردات راغب میں ہے :
شعرت کے معنی بالوں پر مارنے کے ہیں اسی سے شعرت کذا مستعار ہے
جس کے معنی بال کی طرح باریک علم حاصل کرلینے کے ہیں اور شاعر کو بھی اس کی فطانت اور لطافت نظر کی وجہ سے شاعر کہا جاتا ہے۔ شعر اصل میں لطیف علم کا نام ہے لیکن عرف عام میں موزوں اور مقفی کلام کو شعر کہا جانے لگا۔ اور شعر کہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
(ف 1) جو لوگ سرکشی سے یہ زبان درازی کرتے ہیں کہ قران کو شعر اور اللہ کے رسول کو شاعر کہتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ ان میں چھوٹے سے بڑے ہوئے ان لوگوں کو خوب معلوم ہے اور ہم نے اپنے نبی کو شعر نہیں سکھایا اور نہ شعران کی شان کے لائق ہے یہ تو جو کچھ لائے ہیں وہ تو صرف نصیحت اور روشن قرآن ہے جو احکام وغیرہ کو ظاہر کررہا ہے تاکہ ان لوگو کو جو زندہ اور سمجھدار قابل خطاب ہیں ان کو سنادیں یعنی مومنین کو اور کافروں پر عذاب کے فرمان کو ثابت کردوں گا تاکہ منکروں پر خدا کی حجت پوری ہوجائے ان کو یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ دنیا میں کسی نے نہیں سمجھایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
[23] یعنی آنکھیں چھین لینا یا مسخ کر کے اپاہج بنادینا ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں کہ ایک توانا و تندرست آدمی بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی سب ہی چیزوں میں کمی ہوجاتی ہے، دماغی قوتوں میں، جسمانی توانائی میں، تن و توش میں، غرض وہ اس کمزوری کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جو بچپن میں تھی۔ پس جو اللہ بڑھاپے میں قوتیں سلب کرلیتا ہے، کیا جوانی میں نہیں کرسکتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
ف 1: کفار کا ایک عذر یہ ہوسکتا ہے ۔ کہ ہمیں دنیا میں غوروفکر کی کافی مہلت نہیں دی گئی ۔ ورنہ ہم ضرور ہدایت ورشد کو پالیتے اور دین حقہ کی سعادت سے بہرہ مند ہوتے ۔ تو اس کا جواب اس آیت میں دیا ہے ۔ کہ جہاں تک اس عمر طبعی کا ذکر ہے ۔ جو عبرت پذیری کے لئے موزوں ہوتی ہے ۔ وہ تمہیں بغیر تمہارے مطالبہ کے عطا کی گئی ۔ اور جب تم نے اس طویل عرصے میں حق کو قبول نہیں کیا ۔ تو کیا ایسے وقت تم اس کو قبول کرتے ۔ جب زیادتی عمر کے باعث تمہارے توانے ذہنی وفکری مضمحل ہوجاتے ۔ اور تم میں قبولیت کی کوئی استعداد ہی باقی نہ رہتی ۔ یہ یاد رہے کہ یہ قانون کوئی کلیہ نہیں ہے ۔ انبیاء اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ وہ جس قدر عمر…
Read the full tafseer →(69) اور ہم نے اس پیغمبر کو شعرگوئی اور شعر کہنا نہیں سکھایا اور یہ خیالی مضامین کا مرتب کرنا اس کی شان کے لائق بھی نہیں جو قرآن ہم نے اس کو تعلیم کیا ہے وہ تو بس ایک نصیحت اور آسمانی کتاب ہے جو احکام کو آشکار اور ظاہر کرنے والی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو کفار مکہ شاعر اور کاہن وغیرہ کہتے تھے اور مطلب ان کا یہ ہوتا تھا کہ قرآن کو آپ کی شعرگوئی کا نتیجہ بتائیں۔ حضرت حق نے آپ کے متعلق شاعری کی نفی فرما دی۔ شعرگوئی یا تو کسی ماہر فن سے حاصل کی جاتی یعنی اکتسابی ہوتی اور یا حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے دہبی ہوتی۔
ظاہر ہے کہ اس فن میں آپ کا کوئی استاد نہیں اور وہبی کی نفی حضرت حق تعالیٰ نے خود ہی فرما دی۔ بس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
ف 2۔ طبعی حالت سے مراد قوی مدرکہ، سامعہ، باصرہ وغیرہ اور فاعلہ، ہاضمہ، نامیہ وغیرہا، اور رنگ و روغن و حسن و جمال ہیں۔ اور الٹا کرنے سے مراد ہے ان کا انقلاب اور تغیر حالت اودون و ارذل کی طرف۔ پس طمس ومسخ بھی ایک قسم کا تغیر ہے کامل سے ناقص کی طرف۔
Read the full tafseer →ہم نے اپنے رسول کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی شعر اس کے لائق ہے :
69۔ شاعرانہ تخیل ہونا ایک محاورہ ہے جس کا مفہوم مبالغہ آمیزانہ تخیل ہے اور مبالغہ کسی بات میں بھی ہو وہ حقیقت نہیں ہو سکتی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ شاعر اور مبالغہ گویا لازم وملزوم ہیں ۔ شاعر خواہ کتنا ہی پاکیزہ خیال ومقالہ ہو آخر شاعر تو ہے اور یہی وجہ ہے کہ شاعر مبالغہ آرائی سے رہ نہیں سکتا خواہ وہ کیسا ہی پاکیزہ خیال کیوں نہ ہو ۔ یہ تخیل کہ بظاہر ہر قانون جسے لمبی عمر ملتی ہے وہ بناوٹ میں اوندھا بھی ہوتا ہے یعنی ضعف کے بعد قوت اور قوت کے بعد ضعف ایک شاعرانہ تخیل معلوم ہوتا ہے ، یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا تو اس کا جواب پہلے ہی دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
Commentary
In the first verse cited here, it was said: وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ (And We did not teach him poetry and it is not proper for him.) Since the deniers of the appearance of a prophet and messenger with a mission could not deny the unique effectiveness of the Qur'an and its ability to move hearts that was a matter of common experience, therefore, they invented convenient excuses. At times, they would call this Divine Word, some magic and the Holy Prophet ﷺ ، a magician. Then, on other occasions, they would say that this Word was poetry and he was a poet. By…
Read the full tafseer →58 This is a rejoinder to the disbelievers, who slighted the Holy Prophet and his message by branding him a poet when he preached Tauhid and talked of the Hereafter, life-after-death, and Hell and Heaven. (For further explanation, see Ash-Shu'ara: 224-227 and the E.N.'s thereof).
Read the full tafseer →