Yaseen 36:68

Yaseen · from ayah 68

36:68

وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ ؕ— اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ ۟وَمَنۡ نُّعَمِّرۡهُ نُـنَكِّسۡهُ فِى الۡخَـلۡقِ‌ؕ اَفَلَا يَعۡقِلُوۡنَ

اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں تو اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے نہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he to whom We grant long life We reverse in creation; so will they not understand?

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:68

جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم الٹ ہی دیتے ہیں، کیا (یہ حالات دیکھ کر) انہیں عقل نہیں آتی؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں تو اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے نہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جسے ہم بوڑھا کرتے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے ہیں کیا پھر بھی وه نہیں سمجھتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم جس شخص کو لمبی عمر دیتے ہیں اسے تخلیقی اعتبار سے الٹ ہی دیتے ہیں۔ کیا پھر بھی انہیں عقل نہیں آتی ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جسے ہم بڑی عمر کا کریں اسے پیدائش میں الٹا پھیریں تو کیا سمجھے نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم جسے طویل عمر دیتے ہیں اسے قوت و طبیعت میں واپس (بچپن یا کمزوری کی طرف) پلٹا دیتے ہیں، پھر کیا وہ عقل نہیں رکھتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے بناوٹ میں الٹا کردیتے ہیں، تو کیا یہ نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس شخص کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں ہی الٹ دیتے ہیں کیا یہ سوچتے نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں ہم اس کو اس کی خلقت میں پیچھے لوٹ دیتے ہیں۔ تو کیا وہ سمجھتے نہیں ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کو ہم الٹا (اور اوندھا) کردیتے ہیں اس کی خلقت (و پیدائش) میں تو کیا یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم جس کی عمر (بہت) زیادہ کردیتے ہیں تو اسے (اس کی) خلقت میں الٹا کردیتے ہیں سو کیا یہ لوگ (اتنا) نہیں سمجھتے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کی ِخلقت میں ضعف پیدا کردیتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہـیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیـں تو کیا یہ سمجھتے نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Whomsoever We grant a long life, We reverse him in his constitution. Do they still not understand?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And whomsoever We give long life, we reverse him in creation. Then, do they have no sense?

— Muhammad Taqi Usmani

And whomsoever We give long life, we reverse him in creation. Then, do they have no sense?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he whom We grant long life -- We reverse him in creation. Will they not then understand

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He whom we bring unto old age, We reverse him in creation (making him go back to weakness after strength). Have ye then no sense?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he to whom We grant long life We reverse in creation; so will they not understand?

— Saheeh International

The physical growth of those whom We grant a long life will be reversed. Will you then not understand?

— Muhammad Sarwar

And whomsoever We cause to live long, We reduce (him) to an abject state in constitution; do they not then understand?

— Muhammad Habib Shakir

And whomsoever We grant long life, We reverse him in creation. Reflect then they not?

— Abdul Majid Daryabadi

If We grant long life to any, We cause him to be reversed in nature: Will they not then understand?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–70

شاعری پیغمبرانہ شان کے منافی۔ انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے پیری ضعیفی کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، جیسے سورة روم کی آیت میں ہے۔ (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ 54؀) 30۔ الروم :54) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد طاقت عطا فرمائی پھر طاقت و قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا کردیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب جاننے والا پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور آیت میں ہم تم میں سے بعض بہت بڑی عمر کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 57 ساخت الٹ دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں آدمی کی حالت بچوں جیسی کردیتا ہے۔ اسی طرح وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوتا ہے۔ اسی طرح دوسرے اسے اٹھاتے بٹھاتے اور سہارا دے کر چلاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے اس کو کھلاتے پلاتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے کپڑوں میں اور اپنے بستر پر رفع حاجت کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح وہ ناسمجھی کی باتیں کرتا ہے جس پر لوگ ہنستے ہیں۔ غرض جس کمزوری کی حالت سے اس نے دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا اختتام زندگی پر وہ اسی حالت کو پہنچ جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق افلا یعقلون، نعمر، تعمیر سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں عمر دراز دینے کے، اور ننکسہ، تنکیس سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں اوندھا الٹا کردینے کے۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے ایک اور مظہر کا بیان فرمایا ہے کہ ہر انسان و حیوان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے زیر تصرف ہے، قدرت کا عمل اس میں مسلسل جاری ہے، ایک گندے اور بےجان قطرہ سے اس کا وجود شروع ہوا، بطن مادر کے تین اندھیریوں میں اس خلاصہ کائنات اور عالم اصغر کی تخلیق ہوئی، کیسی کیسی نازک مشینیں اس کے وجود میں پیوست کی گئیں پھر روح ڈال کر زندہ کیا گیا، نو مہینے بطن مادر کے اندر اس کی تربیت اور نشوونما ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 68 اوپر جو دھمکی دی گئی ہے کہ انسانی زندگی کے احوال و مشاہدات سے اس کی دلیل دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے لوگوں کی قوتوں اور صلاحیتوں کو مسخح کردینا ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ انسان جب وجود میں آتا ہے تو وہ ایک مضغہ گوشت ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ درجہ بدرجہ اس کو قوت و توانائی بخشتا ہے یہاں تک کہ وہ جوانی کی تمام قوتوں اور صلاحیتوں سے بھرپور ہوجاتا ہے۔ پھر اس کے اوپر بڑھاپا طاری ہونا شروع ہوتا ہے اور درجہ بدرجہ وہ اسی ضعف و ناتوانی کی حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے جس میں وہ اپنی ولادت کے وقت مبتلا تھا۔ قرآن نے اس حالت کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی ہے۔ اللہ الذی خلقکم من جعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

68۔ 1 یعنی جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں، ان کی پیدائش کو بدل کر برعکس حالت میں کردیتے ہیں۔ یعنی جب وہ بچہ ہوتا ہے تو اس کی نشو و نما جاری رہتی ہے اور اس کی عقلی اور بدنی قوتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حتٰی کہ وہ جوانی اور بڑھاپے کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس اس کے قوائے عقلیہ و بدنیہ میں ضعف و گھٹاؤ کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ ایک بچے کی طرح ہوجاتا ہے۔ 68۔ 2 کہ جو اللہ اس طرح کرسکتا ہے، کیا وہ دوبارہ انسانوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

20: جب انسان بہت بوڑھا ہوجاتا ہے تو اس کے قویٰ جواب دے جاتے ہیں، اس کے دیکھنے، سننے، بولنے اور سمجھنے کی طاقت ختم ہوجاتی ہے، یا کمزور پڑجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ انسانوں کو پیش آنے والے ان تغیرات کو دیکھتے ہیں، اس سے انہیں یہ سبق لینا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ انسانوں کے جسم میں یہ تغیرات پیدا کرسکتا ہے تو وہ ان کی نافرمانیوں کی بنا پر ان کی بینائی بالکل ختم بھی کرسکتا ہے، اور ان کی صورتیں بھی بالکلیہ مسخ کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق ، افلا یعقلون (68) ” جب انسان بہت بوڑھا ہوجاتا ہے تو وہ دوبارہ الٹ کر طفل ناتواں بن جاتا ہے۔ لیکن اس میں بچوں جیسی محبوبیت اور کشش نہیں ہوتی۔ یوں بوڑھے لوگ پیچھے کی طرف چلتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس جو علم تھا ، اسے بھولتے جاتے ہیں۔ ان کے اعصاب کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی فکر مضحمل ہوتی جاتی ہے۔ ان کی قوت برداشت ختم ہوتی جاتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ایسا انسان خالص بچہ ہوجاتا ہے۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ بچہ اگر توتلی زبان بھی بولتا ہے تو اچھا لگتا ہے۔ لوگ اسے دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں۔ وہ اگر کوئی حماقت کرتا ہے تو بھی دیکھنے والے خوش ہوتے ہیں۔ لیکن بوڑھا تو کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی آنکھیں چھین لینا اور صورت بگاڑ کر اپاہج بنادینا کچھ مستبعد مت سمجھو۔ دیکھتے نہیں ؟ ایک تندرست اور مضبوط آدمی زیادہ بوڑھا ہو کر کس طرح دیکھنے، سننے اور چلنے پھرنے سے معذور کردیا جاتا ہے۔ گویا بچپن میں جیسا کمزور ناتواں اور دوسروں کے سہارے کا محتاج تھا، بڑھاپے میں پھر اسی حالت کی طرف پلٹا دیا جاتا ہے تو کیا جو خدا پیرانہ سالی کی حالت میں ان کی قوتیں سلب کرلیتا ہے، جوانی میں نہیں کرسکتا ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 68 { وَمَنْ نُّـعَمِّرْہُ نُـنَـکِّسْہُ فِی الْْخَلْقِ } ”اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کی ِخلقت میں ضعف پیدا کردیتے ہیں۔“ ظاہر ہے جب بڑھاپا آتا ہے تو انسان کے قویٰ کمزور ہوجاتے ہیں۔ ؎ مضمحل ہوگئے قویٰ غالبؔ وہ عناصر میں اعتدال کہاں ؟ { اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ } ”تو کیا یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

60 بڑھاپے میں بچپنے کی حالت :۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کی تمام تر قوتیں ترقی پذیر ہوتی ہیں۔ لیکن جب جوانی سے ڈھل جاتا ہے تو ان تمام قوتوں میں انحطاط آنا شروع ہوجاتا ہے۔ بچپن میں وہ چلنے میں سہارے کا محتاج تھا تو بڑھاپے میں بھی محتاج ہوجاتا ہے۔ اس کی طاقت، اس کی ہمت، اس کا عزم، اس کی عقل غرضیکہ ہر چیز میں اس قدرزوال آجاتا ہے کہ وہ بچوں جیسا ہوجاتا ہے۔ اور اس سارے عمل میں انسان خود مجبور محض ہوتا ہے۔ کیا پھر بھی اسے سمجھ نہیں آتی کہ اگر ہم چاہیں تو اسے اندھا بھی کرسکتے ہیں۔ اسے اپاہج بھی بنا سکتے ہیں اس کا حلیہ بھی بگاڑ سکتے ہیں اور وہ چاہے یا نہ چاہے ہم اسے دوبارہ زندہ کرکے اس کے گناہوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44۔ یعنی اس روز مرہ کے مشاہدہ سے کیا وہ یہ سبق نہیں لیتے کہ ہم ہر مسخ وتغییر حالت پر قادر ہیں ؟ (آیت) ’ ’ فی الخلق “۔ خلقت یا طبیعت سے مراد انسان کے جسمانی قوی اور رنگ و روغن، حسن و جمال وغیرہ ہیں۔ (آیت) ” ننکسہ “۔ قوی الٹا دینے سے مراد ہے ان کا انقلاب کامل سے ناقص اور اعلی و اشرف سے ارذل واسفل کی طرف۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–83

آیت نمبر 68 تا 83 ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق افلا یعقلون . اور ہم جس کی زیادہ عمر کردیتے ہیں تو اس کو طبعی حالت میں الٹا کر دیتے ہیں۔ سو کیا یہ لوگ (اتنا بھی) نہیں سمجھتے ؟ یعنی جس کی عمر ہم دراز کرتے ہیں ‘ اس کو سرنگوں کردیتے ہیں۔ سرنگوں کردینے سے یہ مراد ہے کہ شروع میں وہ برابر روبہ ترقی تھا ‘ قوت مسلسل بڑھ رہی تھی ‘ پھر کمزوری آتی رہی اور مرنے کے وقت تک ضعف میں اضافہ ہوتا رہا۔ اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ استفہام انکاری ہے ‘ یعنی ان کو اتنا جاننا اور سمجھنا چاہئے کہ جو خدا اتنے عظیم الشان تغیر پر قادر ہے ‘ وہ آنکھوں کو نابود کرنے اور صورتوں کو مسخ کرنے پر بھی قادر ہے ‘ فرق صرف یہ ہے کہ یہ تغیرات تدریجی ہوتے ہیں (اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جس کو ہم زیادہ عمر کردیتے ہیں تو اسے طبعی حالت میں الٹا کردیتے ہیں تو وہ بچہ کی طرح ہوجاتی ہے نہ اس کی داڑھی رہتی ہے اور نہ دانت اور بول و براز سے بھی محتاج ہوجاتا ہے تو کیا پھر بھی یہ لوگ تصدیق نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ : انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے، بڑھاپا، کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، حتیٰ کہ وہ دوبارہ بچوں کی طرح کمزور اور ہر کام میں دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے۔ بڑے عالی دماغ کے باوجود سب کچھ بھول جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ) [ الروم : 54 ] ”اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنادیا، وہ پیدا کرتا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–68

صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو آپ ﷺ ہنسے پوچھا : ” کیا تم جانتے ہو کس وجہ سے میں ہنسا ہوں ؟ ہم نے عرضہ کی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا : ” بندہ اپنے رب سے جس انداز میں خطاب کرتا ہے اس وجہ سے میں ہنسا ہوں بندہ عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! کیا تم نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیوں نہیں۔ بندہ عرض کرتا ہے : میں اپنے سوا کسی کو اپنے اوپر گواہ جائز نہیں جانتا تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : آج تجھ پر تیرا نفس اور کراما کا تبین ہی گواہ کافی ہیں۔ فرمایا : اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی تو اس کے اعضاء سے کہا جائے گا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق “ (اور ہم جس کی زیادہ عمر کردیتے ہیں تو اس کو اطمینان میں الٹا کردیتے ہیں) اس سے مراد بڑھاپا ہے جس سے اس کی سماعت اس کی نگاہ اور اس کی قوت متغیر ہوجاتی ہے جیسے تو نے دیکھا۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق، افلا یعقلون “ یعنی ہم اس کو نکمی عمر کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق “ اس سے مراد اسی سال کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَنْ [اور وہ ] نُّعَمِّرْهُ [ہم (طویل ) عمر دیتے ہیں جس کو ] [نُنَكِّسْهُ : تو ہم الٹا پھیرتے ہیں اس کو ] [فِي الْخَلْقِ ۭ : پیدائش میں ] اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ [تو کیا یہ لوگ عقل استعمال نہیں کرتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 67–68

انسان قوت کے بعد دوبارہ ضعف کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اس کے بعد فرمایا (وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ ) (الآیۃ) کہ ہم جسے طویل عمر دے دیتے ہیں اس کی حالت طبعی جو اسے پہلے دی گئی تھی اسے الٹ دیتے ہیں یعنی جوانی میں جو قوتیں دی گئی تھیں وہ چلی جاتی ہیں اور ضعف بڑھتا چلا جاتا ہے، سننے اور دیکھنے کی قوتیں ضعیف ہوجاتی ہیں، سمجھنے اور سوچنے کی طاقت بھی کمزور ہوجاتی ہے، گوشت گھل جاتا ہے، کھال لٹک جاتی ہے، یہ تو سب کے سامنے ہے، اسی سے سمجھ لینا چاہیے کہ ہم آنکھوں کو ختم کرسکتے ہیں اور صورتیں مسخ کرسکتے ہیں : (اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ ) (کیا یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ ) (قولہ تعالیٰ مضیّاً اصلہ مضوی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 67–68

41:۔ ومن نعمرہ الخ : یہ زجر ہے۔ ہم نے تمہیں اس قدر عمر عطا کی کہ جو شخص صدق دل سے حق کو سمجھنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اتنے عرصہ میں حق کو سمجھ سکتا ہے۔ جب جوانی میں تم نے حق کو نہیں سمجھا جبکہ تما قوائے جسمانیہ تندرست اور جوان ہوتے ہیں تو بڑھاپے میں کیا سمجھو گے جبکہ تمام قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ کیونکہ جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے روز بروز ضعف کی طرف لے جاتے ہیں۔ امام رازی فرماتے ہیں یہاں کافروں کے عذر کو قطع کیا گیا ہے، قیامت کے دن کافر کہیں گے ہمیں تو دنیا میں مہلت ہی کم ملی اگر ہم لمبی عمر پاتے تو ضرور ایمان لے آتے تو فرمایا سمجھنے سوچنے کے لیے تو تمہیں کافی عمر دی گئی تھی اور مزید زیادہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–68

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد اور روز محشر کا کچھ حال بیان فرمایا تھا۔ جب صور ثانی پھونکا جائے گا تو لوگ اپنی قبروں سے حساب کتاب کے لیے نکلیں گے۔ پھر ہر ایک کا محاسبہ ہوگا۔ ہر شخص کے لیے اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق جزا یا سزا کا یصلہ ہوگا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ پھر جن لوگوں کے لیے جنت کا فیصلہ ہوگا وہ نہایت ہی آرام و راحت میں ہوں گے اور انہیں ان کی ہر مطلوبہ چیز مہیا کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے سلام ہوگا۔ برخلاف اس کے اس روز مجرموں اور گنہگاروں کو حکم ہوگا کہ تم الگ ہو جائو اور اپنی علیحدہ صف بنالو۔ پھر ان کے بارے میں فیصلہ کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ نُنَكِّسْہُ فِي الْخَلْقِ۝ 0 ۭ اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ۝ 68 عمر ( زندگی) والْعَمْرُ والْعُمُرُ : اسم لمدّة عمارة البدن بالحیاة، فهو دون البقاء، فإذا قيل : طال عُمُرُهُ ، فمعناه : عِمَارَةُ بدنِهِ بروحه، وإذا قيل : بقاؤه فلیس يقتضي ذلك، فإنّ البقاء ضدّ الفناء، ولفضل البقاء علی العمر وصف اللہ به، وقلّما وصف بالعمر . والتَّعْمِيرُ : إعطاء العمر بالفعل، أو بالقول علی سبیل الدّعاء . قال : أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ ما يَتَذَكَّرُ فِيهِ [ فاطر/ 37] ، وَما يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهِ [ فاطر/ 11] ، وَما هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذابِ أَنْ يُعَمَّرَ [ البقرة/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–70

ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق کہ بڑی عمر سے کیا زیادہ سمجھ آجاوے گی، سمجھنے کے لیے تو عمر کا ایک معتد بہ حصہ کافی ہے، جیسا کہ پہلے فرمایا تھا۔ اولم نعمرکم مایتذکر فیہ من تذکر اور زیادہ عمر ہونے کی آرزو بیکار ہے، کس لیے کہ جب عمر زیادہ ہوجاتی ہے تو اعضاء انسانی اور قوائے مدرکہ بھی ضعیف ہوجاتے ہیں۔ زجاج کہتے ہیں اس کے یہ معنی کہ جس کی ہم عمر زیادہ کرتے ہیں تو اس کو پیدائشی باتوں میں الٹا کردیتے ہیں۔ قوت کے بعد ضعف جوانی کے بعد بڑھاپا آجاتا ہے۔ سیدھا قد ٹیڑھا ہوجاتا ہے۔ افلایعقلون اس پر بھی وہ عقل نہیں کرتے، اس جملہ میں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ دنیا میں ممکنات کے جس قدر کمالات ہیں، طاقت و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ نُنَـکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ ط اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 68) (اور جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں تو ہم پیچھے لوٹا دیتے ہیں اس کو اس کی خلقت میں، تو کیا وہ سمجھتے نہیں۔ ) گزشتہ دھمکی پر انسانی زندگی کے احوال سے دلیل گزشتہ دو آیتوں میں مخالفین کو دھمکی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ جن قوتوں کو وہ راہ راست پر صرف کرنے کی بجائے خواہشاتِ نفس کی تکمیل اور اسلامی دعوت کو ناکام کرنے میں صرف کررہے ہیں، اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہم ان کی بینائی سلب کرلیتے اور انہیں ہر طرح سے مسخ کرکے عضومعطل بنا کے رکھ دیتے، تاکہ لوگ انہیں دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔ لیکن ان لوگوں کی حماقتوں کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–69

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح مشرکین مکہ اللہ کی توحید کے بارے میں بےسمجھی کا مظاہرہ کرتے اسی طرح ہی قرآن مجید کے متعلق بےعقلی کی بات کرتے کہ قرآن کسی شاعر کا کلام ہے یہاں ان کے الزام کا جواب دیا گیا ہے۔ کفار کا کہنا تھا کہ محمد ﷺ شاعرانہ تخیلات پیش کرتا ہے جس کی تردید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ کو شعر و شاعری نہیں سکھلائی اور نہ ہی اس کی یہ شان ہے کہ وہ شعرگوئی کرے۔ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے۔ جو لوگوں کے لیے نصیحت کے طور پر اتارا گیا ہے لیکن نصیحت وہی شخص حاصل کرکے گا جو ہوش، گوش رکھتا ہے۔ اور قرآن لوگوں پر کھلی حجت ہے یہاں تک شاعر اور اس کے تخیلات کا تعلق ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جوانی سے بڑھاپے کی قدرت ہے تو اٹھانے کی قدرت کیوں نہیں ؟ 68: وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ نُنَـکِّسْہُ (جس کی ہم زیادہ عمر کردیتے ہیں اس کو الٹا کردیتے ہیں) ۔ قراءت : عاصم و حمزہ نے نُنَکِّسہٗ پڑھا ہے۔۔ التنکیس۔ چیز کو الٹا کرنا۔ باقی قراء نے ننکسہٗ فی الخلق سے لیا یعنی اس میں اس کو پلٹ دیتے ہیں۔ یعنی جس کی عمر کو ہم طویل کرتے ہیں۔ اس کے اعضاء کو پلٹ دیتے ہیں۔ پس طاقت کی جگہ ضعف و کمزوری آجاتی ہے۔ جوانی کی بجائے بڑھاپا آجاتا ہے۔ اور یہ اس لئے کہ ہم نے شروع میں کمزور جسم والا پیدا کیا اور عقل و علم بنائے پھر ان کو بڑھنے والا بنایا۔ یہاں تک کہ یہ جوانی کو پہنچا اور اپنے میں کمال پایا اور اپنے حقوق و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

68، ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق ، عاصم اور حمزہ نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑ ہے اور دوسرے قراء نے پہلے نون کے فتحہ کے ساتھ اور کاف کے ضمہ کے ساتھ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ہم ان کو بڑھاپے کی طرف لوٹائیں گیان کو تشبیہ دی ہے بچے کے ساتھ اور بعض نے کہا کہ ان کے اعضاء کو کمزور کردیتے ہیں ان کے اعضاء کو مضبوط کرنے کے بعد اور ان کو زیادتی سے نقصان کی طرف کردیتے ہیں۔ ، افلایعقلون، یعنی ان کو اتنا جاننا اور سمجھنا چاہیتے کہ خدا اتنے عظیم الشان تغیر پر قاد رہے۔ جب انسان کے احوال کو پھیر نے پر قادر ہے توبعث بعد الموت پر بھی قاد رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 66–68

66 تا 68۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن ہاتھ پیر گواہی دیویں گے اس کے سمجھانے کے لیے فرمایا کہ دنیا میں جب کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ جس کو چاہے اندھا کرے اور جس کی صورت کو بدلنا چاہے تو بدل دیوے مثلا جس طرح آدمی کا بدن بگڑ کر یا اندھا ہو کر اس کی صورت بگڑ جاتی ہے تو وہ اس پر بھی قادر ہے کہ قیامت کے دن زبان کو گونگا کر دے اور زبان کا کام ہاتھ پیروں سے لیوے پھر فرمایا کہ ان کے اعضاء جس قدر اور جس طرح ہر وقت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں کہ اس کا حال یہ لوگ اپنے بچہ پننے، جوانی اور بوڑھاپے کی حالت سے نہیں سمجھ سکے کہ جوانی سے پہلے ان کی کمزوری کا کیا حال تھا جوانی میں وہ کمزوری کیسی قوت سے بدل گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 68–69

آیت 68 (ومن نعمرہ) ” اور ہم جس کو بڑی عمر دیتے ہیں۔ “ یعنی بنی آدم میں سے (ننکسہ فی الخلق) یعنی وہ اسی حالت کی طرف لوٹ آتا ہے جس سے ابتدائی کی تھی یعنی، ضعف عقل اور ضعف قوت کی طرف (افلا یعقلون) ” کیا وہ سمجھتے نہیں۔ “ آدمی ہر لحاظ سے ناقص ہے پس انہیں چاہیے کہ وہ اپنی قوت اور عقل کا تدارک کریں اور انہیں اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

جوانی کے بعد بڑھاپا لازمی ہے قول باری ہے (ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق۔ اور ہم جس کی عمر (بہت زیادہ) کردیتے ہیں اسے اس کی خلقت میں الٹا کردیتے ہیں) قتادہ کا قول ہے۔ ہم اسے ہرم یعنی بہت بڑھاپے کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں جس کی بنا پر اس کی حالت قویٰ کی کمزوری اور بیخبر ی کے لحاظ سے بچے کی حالت کے مشابہ ہوجاتی ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ہم اسے قوت وطاقت دینے کے بعد کمزوری اور ضعف سے، نیز جسم کی فربہی کے بعد لاغری سے اور تروتازگی ونشاط کے بعد خشکی اور سستی سے دو چار کردیتے ہیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ومنکم من یرد الی ارذلی العمر اور تم میں سے وہ بھی ہیں جنہیں نکمی عمر تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

68 انسانی زندگی کے احوال میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم جس کو لمبی عمر دیتے ہیں اس کو الٹا کردیتے ہیں اس کی خلقت میں "۔ سو ایسے میں یہ اپنی بھرپور قوتوں کے بعد کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ نظر کمزور ہوتے ہوتے بعض اوقات بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ قوت سماعت جواب دے جاتی ہے۔ چلنے پھرنے اور سننے سمجھنے سے یہ معذور ہوجاتا ہے۔ پیشاب پاخانے تک میں یہ دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کوئی نہیں جو اس کو اس زوال و انحطاط سے بچا سکے اور اس کے اس ضعف و اضمحلال کو روک سکے۔ سو معلوم ہوا کہ یہ قوتیں جن پر آج انسان ناز کرتا اور اکڑتا ہے نہ اس کی اپنی ذاتی اور اس کے اپنے اختیار میں ہیں اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–83

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83: اسرار و معارف : اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی اعضا اور دماغ میں ضعف کی وجہ سے پھر سے بچنے کی حالت پلٹ آتی ہے۔ ( ابن کثیر)5 زندگی کے ان انقلابات کو دیکھ کر ہر شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی پائیدار اور دائمی نہیں ہوسکتی بلکہ اس کا ختم ہونا اور اس کے بعد دوسری زندگی کا آنا نا گزیر ہے جو دائمی اور لا فانی ہوگی۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی جیسا لڑکا سست تھا بوڑھا بھی ویسا ہی ہوا، یہ بھی نشان ہے پھر پیدا ہونے کا) ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:68) من نعمرہ۔ من موصولہ شرطیہ ہے نعمر مضارع صیغہ جمع متکلم ہے اور مجزوم بوجہ شرط ہے تعمیر (تفعیل) مصدر۔ بمعنی عمر دینا۔ عمر کو زیادہ کرنا۔ طویل عمر دینا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے، جس کو ہم طویل عمر دیتے ہیں۔ جس کی عمر ہم زیادہ کردیتے ہیں۔ یہ جملہ شرطیہ ہے : ننکسہ فی الخلق : جواب شرط۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) جمع متکلم۔ تنکیس (تفعیل) مصدر۔ ہم الٹا کردیتے ہیں۔ ہم کبڑا کردیتے ہیں۔ نکس ضعف پیری سے ایک جگہ پڑا رہنے والا۔ نکس سست اور کمزور آدمی۔ انک اس جمع ہ ضمیر مفعول واحد مذکرغائب کا مرجع من ہے۔ فی الخلق (اس کی ) خلقت میں۔ اس کی طبعی قوتوں کے لحاظ سے۔ مراد یہ ہے کہ بڑھاپے میں آدمی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 55–68

لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو) تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 66–68

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اگر ہم یوں چاہتے تو ان کی آنکھیں اندھی کردیتے پھر وہ رستے کو ڈھونڈھتے اور رستہ نہ پاتے حالانکہ ہم نے ایسا نہیں کیا ان کی ظاہری آنکھیں اور رستہ ظاہری پانا اس کی دلیل ہے جس طرح ہم نے ظاہری آنکھیں دی ہیں ہر ایک کو باطنی آنکھیں بھی عطا کی ہیں لیکن وہ نہیں دیکھتے شیطان نے ان کی آنکھوں پر لذات اور شہوات کے حجاب ڈال رکھے ہیں پھر فرمایا اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتوں کو مسخ کرکے ان کے گھروں ہی میں بندریاخنزیر یاپتھروغیرہ بنادیں پھر وہ کہاں جاسکتے ہیں پھر فرمایا کہ ان کے اعضاء جسقدر اور جس طرح ہر وقت اللہ کے اختیار میں ہیں کیا اس کا حال یہ لوگ اپنے بچپن جوانی اور بڑھاپے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 68–69

[23] یعنی آنکھیں چھین لینا یا مسخ کر کے اپاہج بنادینا ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں کہ ایک توانا و تندرست آدمی بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی سب ہی چیزوں میں کمی ہوجاتی ہے، دماغی قوتوں میں، جسمانی توانائی میں، تن و توش میں، غرض وہ اس کمزوری کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جو بچپن میں تھی۔ پس جو اللہ بڑھاپے میں قوتیں سلب کرلیتا ہے، کیا جوانی میں نہیں کرسکتا ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 68–72

ف 1: کفار کا ایک عذر یہ ہوسکتا ہے ۔ کہ ہمیں دنیا میں غوروفکر کی کافی مہلت نہیں دی گئی ۔ ورنہ ہم ضرور ہدایت ورشد کو پالیتے اور دین حقہ کی سعادت سے بہرہ مند ہوتے ۔ تو اس کا جواب اس آیت میں دیا ہے ۔ کہ جہاں تک اس عمر طبعی کا ذکر ہے ۔ جو عبرت پذیری کے لئے موزوں ہوتی ہے ۔ وہ تمہیں بغیر تمہارے مطالبہ کے عطا کی گئی ۔ اور جب تم نے اس طویل عرصے میں حق کو قبول نہیں کیا ۔ تو کیا ایسے وقت تم اس کو قبول کرتے ۔ جب زیادتی عمر کے باعث تمہارے توانے ذہنی وفکری مضمحل ہوجاتے ۔ اور تم میں قبولیت کی کوئی استعداد ہی باقی نہ رہتی ۔ یہ یاد رہے کہ یہ قانون کوئی کلیہ نہیں ہے ۔ انبیاء اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ وہ جس قدر عمر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(68) اور جس کو ہم عمر دراز دیتے ہیں ہم اس کو طبعی حالت اور پیدائش میں الٹا اور نگونسار کردیتے ہیں۔ پھر کیا یہ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ یعنی جی کسی کو زیادہ بوڑھا کردیتے ہیں تو اس کی خلقت کو الٹا کردیتے ہیں۔ خلقت سے مراد ہے اس کے قوائے مدرک سمع بصر کی طاقت۔ معدے کے ہضم کی حالت اس کا حسن و جمال اس کے چہرے کی بناوٹ وغیرہ سب کو الٹ دیتے ہیں یعنی سب سے تغیر اور انقلاب کردیتے ہیں بوڑھا بالکل بچہ بن جاتا ہے جس اس قسم کا تغیر اور انقلاب فی الاعضا مشاہد ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ آدمی سب کچھ جاننے کے بعد انجان بنادیا جاتا ہے تو اسی طرح اگر چاہیں تو انسانی اعضاء میں تغیر اور انقلاب کردیں اور اس کو جانور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–75

ف 2۔ طبعی حالت سے مراد قوی مدرکہ، سامعہ، باصرہ وغیرہ اور فاعلہ، ہاضمہ، نامیہ وغیرہا، اور رنگ و روغن و حسن و جمال ہیں۔ اور الٹا کرنے سے مراد ہے ان کا انقلاب اور تغیر حالت اودون و ارذل کی طرف۔ پس طمس ومسخ بھی ایک قسم کا تغیر ہے کامل سے ناقص کی طرف۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایسے بھی ہیں جن کو اتنی لمبی عمر دے دی گئی کہ اب گناہ ان کو چھوڑ گئے ہیں : 68۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے زمانہ کے بہت بڑے رسہ گیر تھے ‘ پہلوان تھے ‘ اٹھارہ ہاتھ چھلانگ لگاتے تھے لیکن آج ان کی طویل عمری نے ان کو ساری قوتوں سے ناکارہ کر کے رکھ دیا ہے اور جو وہ کیا کرتے تھے اس کی داستان گوئی کے قابل بھی نہیں رہے آنکھیں دیکھنے سے اور کان سننے سے ‘ پاؤں چلنے سے جواب دے چکے ہیں اور منہ ان کے اس طرح سی دیئے گئے ہیں کہ طلب و احتیاج کے لیے بھی وہ نہیں کھلتے کیا انکی اس حالت کو دیکھ کر بھی ان کے دیکھنے والوں کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جو انسان اپنے قوی پر بھی قابو نہیں رکھ سکتا اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the last of the verses cited above, it was said: وَمَن نُّعَمِّرْ‌هُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ أَفَلَا يَعْقِلُونَ (And whomsoever We give long life, we reverse him in creation. Do they then not have sense?). The word: نُّعَمِّر (nu'ammir: We give a long life) in this verse has been derived from: تَمِیر (ta` mir) which means to prolong years of life. And the word: نُنَكِّسْهُ (nunakkishu) is a derivation from: تَنکِیس (tankis) which means to reverse, invert or turn upside down. In this verse, Allah Ta’ ala has described yet another manifestation of His perfect power and eloquent wisdom in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

57 "Reverse him in nature," means that in old age Allah turns him back to the state of childhood. He becomes unable to stand and walk without the help and support of others; he is fed by others; he urinates and defecates in bed; talks childishly and is laughed at by others. In short, towards the end of life he returns to the same state of weakness with which he had started lift in this world."

Read the full tafseer →