Explained with ayahs 63–67
اعضاء کی گواہی۔
جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہوگی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چناچہ اور آیت میں ہے (یوم یدعون) الخ، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہوگئے ہو ؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 56
قیامت کا نقشہ کھینچنے کے بعد اب انہیں بتایا جا رہا ہے کہ یہ قیامت تو خیر تمہیں دور کی چیز نظر آتی ہے، مگر ذرا ہوش میں آ کر دیکھو کہ خود اس دنیا میں، جس کی زندگی پر تم پھولے ہوئے ہو، تم کس طرح اللہ کے دست قدرت میں بےبس ہو۔ یہ آنکھیں جن کی بینائی کے طفیل تم اپنی دنیا کے سارے کام چلا رہے ہو، اللہ کے ایک اشارے سے اندھی ہو سکتی ہیں۔ یہ ٹانگیں جن کے بل پر تم یہ ساری دوڑ دھوپ دکھا رہے ہو، اللہ کے ایک حکم سے ان پر اچانک فالج گر سکتا ہے۔ جب تک اللہ کی دی ہوئی یہ طاقتیں کام کرتی رہتی ہیں، تم اپنی خودی کے زعم میں مدہوش رہتے ہو، مگر جب ان میں سے کوئی ایک طاقت بھی جواب دے جاتی ہے تو تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
الیوم نختم علیٰ افواھہم، محشر میں حساب کتاب کے لئے پیشی میں اول تو ہر شخص کو آزادی ہوگی جو چاہے عذر پیش کرے، مگر مشرکین وہاں قسمیں کھا کر اپنے شرک و کفر سے مکر جائیں گے واللہ ربنا ماکنا مشرکین۔
اور بعض یہ بھی کہیں گے کہ فرشتوں نے ہمارے نامہ اعمال میں جو کچھ لکھ دیا ہے ہم تو اس سے بری ہیں اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے کہ بول نہ سکیں اور ان کے مقابلہ میں خود انہی کے ہاتھ پاؤں اور اعضاء کو سرکاری گواہ بنا کر ان کو بولنے کی صلاحیت دے دیں گے وہ ان کے تمام اعمال کی گواہی دیں گے۔ آیت مذکورہ میں تو ہاتھ پاؤں کا بولنا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسری آیت میں انسان کے کان، آنکھ اور کھال کا…
Read the full tafseer →آیت 67
اسی طرح اگر ہم چاہتے تو ان کو ان کی جگہ ہی پر مسخ کرکے رکھ دیتے تو پھر نہ وہ آگے ہی کو بڑھ سکتے اور نہ پیچھے ہی کو پلٹ سکتے لیکن یہ ہماری عنایت ہے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا بلکہ ان کو مہلت دیے ہوئے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو سنبھل جائیں اور خدا کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کا حق پہنچانیں، ان کی قدر کریں اور اپنے رب کے شکرگزار بندے بنیں۔
Read the full tafseer →67۔ 1 یعنی نہ آگے جاسکتے، نہ پیچھے لوٹ سکتے، بلکہ پتھر کی طرح ایک جگہ پڑے رہتے۔ مسخہ کے معنی پیدائش میں تبدیلی کے ہیں، یعنی انسان سے پتھر یا جانور کی شکل میں تبدیل کردینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
19: جب کافر لوگ اس بات سے انکار کریں گے کہ انہوں نے شرک یا دوسرے جرائم کا ارتکاب کیا تھا تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو بولنے کی صلاحیت عطا فرما دے گا، اور وہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے فلاں فلاں جرائم کئے تھے۔ یہ تفصیل قرآن کریم نے سورة نور : 24 اور سورة حم السجدۃ : 20 میں بھی بیان فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
ولو نشآء لطمسنا۔۔۔۔ ولا یرجعون (66 – 67) “۔
یہ دو مناظر ہیں ان میں عذاب اور سزا بھی ہے اور تحقیر اور مزاح بھی ہے۔ تحقیر ان لوگوں کی ہے جو دعوت اسلامی کی تکذیب کرتے ہیں اور مزاح ان لوگوں کا ہے جو دین اسلام کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں ۔ جو یہ کہتے تھے۔
متی ھذا۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو “۔ چناچہ پہلے منظر میں ان کو ان کی شکل بگاڑ کر ان کو اندھا کردیا گیا ہے۔ اندھوں کے درمیان ایک دوسرے کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ ہے۔ وہ راستے کو عبور کرکے ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ان کو اندھوں کی طرح راہ نہیں سوجھتی۔ اور وہ گرتے پڑتے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
7 یعنی جیسے انہوں نے ہماری آیتوں سے آنکھیں بند کرلی ہیں اگر ہم چاہیں تو دنیا ہی میں بطور سزا کے ان کی ظاہری بینائی چھین کر نپٹ اندھا کردیں کہ ادھر ادھر جانے کا راستہ بھی نہ سوجھے اور جس طرح یہ لوگ شیطانی راستوں سے ہٹ کر اللہ کی راہ پر چلنا نہیں چاہتے، ہم کو قدرت ہے کہ اس کی صورتیں بگاڑ کر بالکل اپاہج بنادیں کہ پھر یہ کسی ضرورت کے لیے اپنی جگہ سے ہل نہ سکیں۔ پر ہم نے ایسا نہ چاہا اور ان جوارح و قویٰ سے ان کو محروم نہ کیا۔ یہ ہماری طرف سے مہلت اور ڈھیل تھی آج وہ ہی آنکھیں اور ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے کہ ان بیہودوں نے ہم کو کن نالائق کاموں میں لگایا تھا۔
Read the full tafseer →آیت 67 { وَلَوْ نَشَآئُ لَمَسَخْنٰـہُمْ عَلٰی مَکَانَتِہِمْ } ”اور اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں مسنح کردیں ان کے اپنے مقام پر“
یعنی اگر اللہ چاہے تو وہ جہاں ‘ جس حالت میں ہوں وہیں پر ان کی صورتیں مسنح ہوجائیں۔
{ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّلَا یَرْجِعُوْنَ } ”تو نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ پیچھے لوٹ سکیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
59 فوراً سزا دینا اللہ کی مشیئت کے خلاف ہے :۔ ایسے کٹر مجرموں کو اگر ہم چاہیں تو اس دنیا میں بھی سزا دے سکتے ہیں۔ ان کی بینائی سلب کرسکتے ہیں کہ وہ چاہیں بھی تو گناہوں کے کاموں کی طرف آگے بڑھ ہی نہ سکیں اور انہیں کچھ بھی سجھائی نہ دے۔ اسی طرح اگر چاہیں تو ان پر فالج گرا کر ان کو اپاہج بنا سکتے ہیں کہ اپنی جگہ سے حرکت کر ہی نہ سکیں، نہ آگے بڑھ سکیں نہ پیچھے جاسکیں۔ بس اپنے بستر پر ہی ہاتھ پاؤں رگڑتے رہیں۔ یا ان کا حلیہ ہی بگاڑ سکتے ہیں کہ ان کی دوسری بھی کئی قوتیں ختم ہوجائیں۔ مگر مجرموں کو فوری طور پر پکڑنا ہماری مشیئت کے خلاف ہے اور یہ لوگ اس مہلت کا بڑا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
43۔ یعنی یہ سب سزائیں ہمارے امکان قدرت میں تھیں، لیکن وہ ان سے اس دنیا میں محفوظ رہے۔ اس سے انہیں مہلت مل گئی اور اصلاح حال کی ذمہ داری ان پر بڑھ گئی۔ (آیت) ” لطمسنا علی اعینھم۔ لمسخنھم علی مکانتھم “۔ یعنی یہ سب سزائیں اسی دنیا میں انہیں ان کی پاداش کفر میں دے دیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…
Read the full tafseer →ولو نشآء لمسخنھم علی مکانتھم فما استطاعوا مضیًا ولا یرجعون . اور اگر ہم چاہتے تو ان
کی جگہ پر (باقی رکھتے ہوئے) ان کی صورتیں بدل ڈالتے پھر وہ نہ (آگے) چل سکتے ‘ نہ (پیچھے) لوٹ سکتے۔
یعنی اگر ہم چاہتے تو ان کے گھروں کے اندر ہی ان کو سوروں اور بندروں کی شکل پر کردیتے۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ ہم ان کو بےجان پتھر کردیتے کہ گھروں کے اندر پڑے رہتے (حرکت بھی نہ کرسکتے) ۔
وَلاَ یَرْجِعُوْنَ یعنی اس جگہ سے نہیں لوٹ سکتے۔ بعض نے کہا : واپس نہ لوٹنے سے مراد ہے تکذیب سے تصدیق کی طرف رجوع نہ کرنا۔
بر تفسیر حسن اس آیت اور سابقہ آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ عہدشکنی اور کفر کی وجہ سے یہ لوگ مستحق تو اسی بات کے…
Read the full tafseer →اور اگر ہم چاہتے تو ان کی صورتیں بدل ڈالتے کہ یہ بندر اور سور ہوجاتے اس حال میں کہ یہ اپنے مکانوں اور منزلوں ہی میں پڑے رہ جاتے یعنی اپاہج ہونے کی وجہ سے کہیں آنے جانے کی طاقت ہی باقی نہ رہتی اور نہ اپنی سابقہ حالت پر آنے کی طاقت رہتی۔
Read the full tafseer →وَلَوْ نَشَاۗءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰي مَكَانَـتِهِمْ : مسخ کا معنی ہے انسان کی شکل اس کے علاوہ کسی اور شکل میں بدل دینا، مثلاً اسے بندر یا خنزیر یا پتھر بنادینا۔ ”مَکَانَۃٌ“ ”مَکَانٌ“ (جگہ) کی مؤنث ہے (بُقْعَۃٌ کی تاویل کے ساتھ) ، یعنی اور اگر ہم چاہیں تو (جب وہ کفر و شرک کا ارتکاب کریں) انھیں زمین کے عین اسی ٹکڑے پر مسخ کردیں، پھر نہ وہ آگے جاسکیں اور نہ گھر واپس جاسکیں (مگر ہم نے یہ نہیں چاہا۔۔)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو آپ ﷺ ہنسے پوچھا : ” کیا تم جانتے ہو کس وجہ سے میں ہنسا ہوں ؟ ہم نے عرضہ کی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا : ” بندہ اپنے رب سے جس انداز میں خطاب کرتا ہے اس وجہ سے میں ہنسا ہوں بندہ عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! کیا تم نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیوں نہیں۔ بندہ عرض کرتا ہے : میں اپنے سوا کسی کو اپنے اوپر گواہ جائز نہیں جانتا تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : آج تجھ پر تیرا نفس اور کراما کا تبین ہی گواہ کافی ہیں۔ فرمایا : اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی تو اس کے اعضاء سے کہا جائے گا :…
Read the full tafseer →5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو نشآء لمسخنہم “ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو ان کو اندھا بنا کر چھوڑ دیتے تو یونہی وہ بھٹکتے پھرتے (آیت) ” ولو نشآء لمسخنہم علی مکانتھم “ (اور اگر ہم چاہتے تو ان کو ان جگہوں پر مسخ کردیتے) یعنی اگر ہم چاہتے تو ان کو اپاہج بنادیتے تو وہ کھڑے نہ ہوسکتے۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما استطاعوا مضیاولا یرجعون “ کہ وہ نہ آگے چل سکتے اور نہ پیچھے لوٹ سکتے یعنی وہ نہ آگے بڑھ سکتے اور نہ پیچھے لوٹ سکتے۔
Read the full tafseer →وَلَوْ نَشَاۗءُ [اور اگر ہم چاہتے ] لَمَسَخْنٰهُمْ [تو ہم ان کے چہرے مہرے بگاڑ دیتے ] عَلٰي مَكَانَـتِهِمْ [ان کے ٹھکانے پر ] فَمَا اسْـتَــطَاعُوْا [تو وہ استطاعت نہ رکھتے ] مُضِيًّا [(آگے) گزرنے کی ] وَّلَا يَرْجِعُوْنَ [اور نہ وہ واپس لوٹتے ] ۔
م س خ
(ف) مسخا شکل و صورت بگاڑ دینا۔ عادت و اطوار خراب کردینا ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 67 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
انسان قوت کے بعد دوبارہ ضعف کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے
اس کے بعد فرمایا (وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ ) (الآیۃ) کہ ہم جسے طویل عمر دے دیتے ہیں اس کی حالت طبعی جو اسے پہلے دی گئی تھی اسے الٹ دیتے ہیں یعنی جوانی میں جو قوتیں دی گئی تھیں وہ چلی جاتی ہیں اور ضعف بڑھتا چلا جاتا ہے، سننے اور دیکھنے کی قوتیں ضعیف ہوجاتی ہیں، سمجھنے اور سوچنے کی طاقت بھی کمزور ہوجاتی ہے، گوشت گھل جاتا ہے، کھال لٹک جاتی ہے، یہ تو سب کے سامنے ہے، اسی سے سمجھ لینا چاہیے کہ ہم آنکھوں کو ختم کرسکتے ہیں اور صورتیں مسخ کرسکتے ہیں : (اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ ) (کیا یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ )
(قولہ تعالیٰ مضیّاً اصلہ مضوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–76
منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
41:۔ ومن نعمرہ الخ : یہ زجر ہے۔ ہم نے تمہیں اس قدر عمر عطا کی کہ جو شخص صدق دل سے حق کو سمجھنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اتنے عرصہ میں حق کو سمجھ سکتا ہے۔ جب جوانی میں تم نے حق کو نہیں سمجھا جبکہ تما قوائے جسمانیہ تندرست اور جوان ہوتے ہیں تو بڑھاپے میں کیا سمجھو گے جبکہ تمام قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ کیونکہ جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے روز بروز ضعف کی طرف لے جاتے ہیں۔ امام رازی فرماتے ہیں یہاں کافروں کے عذر کو قطع کیا گیا ہے، قیامت کے دن کافر کہیں گے ہمیں تو دنیا میں مہلت ہی کم ملی اگر ہم لمبی عمر پاتے تو ضرور ایمان لے آتے تو فرمایا سمجھنے سوچنے کے لیے تو تمہیں کافی عمر دی گئی تھی اور مزید زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–68
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد اور روز محشر کا کچھ حال بیان فرمایا تھا۔ جب صور ثانی پھونکا جائے گا تو لوگ اپنی قبروں سے حساب کتاب کے لیے نکلیں گے۔ پھر ہر ایک کا محاسبہ ہوگا۔ ہر شخص کے لیے اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق جزا یا سزا کا یصلہ ہوگا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ پھر جن لوگوں کے لیے جنت کا فیصلہ ہوگا وہ نہایت ہی آرام و راحت میں ہوں گے اور انہیں ان کی ہر مطلوبہ چیز مہیا کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے سلام ہوگا۔ برخلاف اس کے اس روز مجرموں اور گنہگاروں کو حکم ہوگا کہ تم الگ ہو جائو اور اپنی علیحدہ صف بنالو۔ پھر ان کے بارے میں فیصلہ کیا…
Read the full tafseer →وَلَوْ نَشَاۗءُ لَمَسَخْنٰہُمْ عَلٰي مَكَانَـتِہِمْ فَمَا اسْـتَــطَاعُوْا مُضِيًّا وَّلَا يَرْجِعُوْنَ 67ۧ
مسخ
المسخ : تشويه الخلق والخلق وتحویلهما من صورة إلى صورة . قال بعض الحکماء : المسخ ضربان : مسخ خاصّ يحصل في الفینة بعد الفینة وهو مسخ الخَلْقِ ، ومسخ قد يحصل في كلّ زمان وهو مسخ الخُلُقِ ، وذلک أن يصير الإنسان متخلقا بخلق ذمیم من أخلاق بعض الحیوانات . نحو أن يصير في شدّة الحرص کالکلب، وفي الشّره کالخنزیر، وفي الغمارة کا لثّور، قال : وعلی هذا أحد الوجهين في قوله تعالی: وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنازِيرَ [ المائدة/ 60] ، وقوله : لَمَسَخْناهُمْ عَلى مَكانَتِهِمْ [يس/ 67] ،…
Read the full tafseer →پھر اس کی اور بھی تائید کرتا ہے۔ فقال ولو نشاء لمسخناھم علی مکانتہم فما استطاعوا مضیا ولا یرجعون اس کو جانے دو اپنے چلنے پھرنے کی قوت کو دیکھو تم کو ہر طرح سے چلنے پھرنے پر قادر کیا ہے، اسی طرح قوائے باطنیہ بھی ہر قسم کے تم کو عطا کئے ہیں، لیکن تم نے ان کو معطل کر رکھا ہے۔ اگر ہم چاہتے تو تم کو اپنی جگہ پتھر کی طرح بےحس و حرکت کرکے ڈال دیتے، پھر تم آنے جانے سے عاجز ہوجاتے، حالانکہ ایسا نہیں کیا، پھر جب تم کو یہ قوتیں عطا کی ہیں اور تم آپ گمراہی میں گرتے ہو پھر کیا وجہ کہ جہنم تمہارے سامنے نہ آئے اور تمہارے ہاتھ پائوں تم پر گواہی نہ دیں، جن کے تم حاکم بنے ہوئے تھے ؟
مضیا بضم المیم و فتحہا و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
وَلَوْنَشَآئُ لَطَمَسْنَا عَلٰٓی اَعْیُنِہِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبْصِرُوْنَ ۔ وَلَوْنَشَآئُ لَمَسَخْنٰـھُمْ عَلٰی مَکَانَتِھِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّاوَّلاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 66، 67)
(اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹا دیتے، پھر وہ راستے کی طرف سبقت کرتے تو کس طرح دیکھ پاتے۔ اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ پر ہی انہیں مسخ کر کے رکھ دیتے تو وہ نہ آگے بڑھ سکتے اور نہ پیچھے لوٹ سکتے۔ )
حیرت انگیز بات اور تنبیہ و تہدید
ان دو آیتوں میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں لیکن ان میں سے پہلے ایک بات یہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ مخالفین کی انتہا درجہ مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح مشرکین مکہ اللہ کی توحید کے بارے میں بےسمجھی کا مظاہرہ کرتے اسی طرح ہی قرآن مجید کے متعلق بےعقلی کی بات کرتے کہ قرآن کسی شاعر کا کلام ہے یہاں ان کے الزام کا جواب دیا گیا ہے۔
کفار کا کہنا تھا کہ محمد ﷺ شاعرانہ تخیلات پیش کرتا ہے جس کی تردید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ کو شعر و شاعری نہیں سکھلائی اور نہ ہی اس کی یہ شان ہے کہ وہ شعرگوئی کرے۔ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے۔ جو لوگوں کے لیے نصیحت کے طور پر اتارا گیا ہے لیکن نصیحت وہی شخص حاصل کرکے گا جو ہوش، گوش رکھتا ہے۔ اور قرآن لوگوں پر کھلی حجت ہے یہاں تک شاعر اور اس کے تخیلات کا تعلق ہے…
Read the full tafseer →پتھر بنانے کی قدرت :
67: وَلَوْ نَشَآ ئُ لَمَسَخْنٰھُمْ (اور اگر ہم چاہتے تو ان کی صورتیں بدل ڈالتے) بندر و سور یا پتھر بنا دیتے۔ عَلٰی مَکَا نَتِہِمْ (ان کی جگہ پر باقی رکھتے ہوئے)
قراءت : ابوبکر و حماد نے مکاناتہم پڑھا۔ المکانۃ و المکان ایک ہیں جیسے المقامۃ والمقام۔ مطلب یہ ہے جن گھروں میں گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے اند رہی ہم ان کی شکلیں مسخ کردیتے فَمَا اسْتَطَاعُوْا (نہ طاقت رکھتے) یعنی آنے جانے کی قدرت نہ رہتی یا مُضِیًّا (آگے چلنے کی) وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ (نہ پیچھے لوٹ جانے کی ) ۔
Read the full tafseer →67، ولو نشاء لمسخناھم علی مکانتھم، اگر ہم چاہتے تو ان کے گھروں کے اندرہی ان کو سوروں اور بندروں کی شکل پر کردیتے ۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہم ان بےجان پتھر کردیتے کہ گھروں کے داندر پڑے رہتے جن میں کوئی روح نہیں ۔ ، فما استطاعوامضیاولا یرجعون، نہ وہ واپس لوٹنے پر قادرہوتے اور نہ رجوع کرنے کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
66 تا 68۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن ہاتھ پیر گواہی دیویں گے اس کے سمجھانے کے لیے فرمایا کہ دنیا میں جب کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ جس کو چاہے اندھا کرے اور جس کی صورت کو بدلنا چاہے تو بدل دیوے مثلا جس طرح آدمی کا بدن بگڑ کر یا اندھا ہو کر اس کی صورت بگڑ جاتی ہے تو وہ اس پر بھی قادر ہے کہ قیامت کے دن زبان کو گونگا کر دے اور زبان کا کام ہاتھ پیروں سے لیوے پھر فرمایا کہ ان کے اعضاء جس قدر اور جس طرح ہر وقت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں کہ اس کا حال یہ لوگ اپنے بچہ پننے، جوانی اور بوڑھاپے کی حالت سے نہیں سمجھ سکے کہ جوانی سے پہلے ان کی کمزوری کا کیا حال تھا جوانی میں وہ کمزوری کیسی قوت سے بدل گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–67
آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ (و) ” اور “ ان کو قیامت کے ورز کہا جائے گا : (امتا زوا الیوم ایھا المجرمون) اے مجرمو ! تم الہ ایمان سے الگ ہوجاؤ۔ یہ حکم اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسر عام زجر و توبیخ کرے اور ان سے کہے : (الم اعھد الیکم) یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمہیں حکم نہیں دیا تھا اور تمہیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا : (آیت) ” اے آدم کی اولاد ! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ “ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو، یہ زجر و توبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفر و معصیت پر زجر و توبیخ داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–67
قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔
Read the full tafseer →67 منکرین کو مسخ کردینے کی تہدید و تنبیہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم چاہیں تو انکو ان کی اپنی جگہ پر ہی مسخ کردیں "۔ یعنی یہ لوگ کسی بھی حال میں اور کسی بھی موقع و مقام پر ہماری گرفت و پکڑ سے باہر نہیں ہوسکتے۔ ہم ان کو جب چاہیں، جہاں چاہیں اور جس طرح چاہیں، پکڑ سکتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ہم نے اپنے کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے ان کو ڈھیل دے رکھی ہے۔ سو ان کو اسے غنیمت سمجھتے ہوئے ہماری رضا کے حصول اور اپنی عاقبت کو بنانے کی فکر کرنی چاہیئے قبل اس سے کہ یہ فرصت ان کے ہاتھوں سے نکل جائے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَہُوَ الْمُسْتَعَانُ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–74
حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام
تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67:
اسرار و معارف :
چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
ف 3 ان کی صورت بدل دیں یعنی بندر، سور، پتھر یا لولے لنگڑے اور اپاہج بنادیں اور اپنی جگہ سے پل نہ سکیں مگر ہم نے انہیں مہلت دی ہے لہٰذا ان کو چاہیے کہ ہماری اور قدرت اور اپنی بےبسی کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکارنہ ہوں۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(36:67) لمسخنہم : لام جواب شرط کے لئے ہے (لو کے جواب میں) مسخنا ماضی جمع متکلم مسخ (باب فتح) مصدر نا ضمیر جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم ان کی صورت بگاڑ دیں۔ یا ہم ان کی صورتیں بگاڑ دیتے ۔ ان کی صورتیں مسخ کردیتے۔
علی مکانتہم۔ علی حرف جار مکانتہم مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ ان کی جگہوں پر ہی۔ ان کے گھروں میں۔ جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔
فما استطاعوا۔ الفاء للتعقیب استطاعوا ماضی منفی صیغہ جمع مذکر غائب۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر۔ وہ نہ کرسکیں، ان سے نہ ہو سکے۔ وہ استطاعت نہ رکھیں ۔
مضیا۔ مضی یمضی کا مصدر ہے مضی یہ اصل میں مضوی تھا وائو ساکن اور یاء اکٹھے ہوئے وائو کو یاء میں بدلا اور یاء کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–68
لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو)
تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اگر ہم یوں چاہتے تو ان کی آنکھیں اندھی کردیتے پھر وہ رستے کو ڈھونڈھتے اور رستہ نہ پاتے حالانکہ ہم نے ایسا نہیں کیا ان کی ظاہری آنکھیں اور رستہ ظاہری پانا اس کی دلیل ہے جس طرح ہم نے ظاہری آنکھیں دی ہیں ہر ایک کو باطنی آنکھیں بھی عطا کی ہیں لیکن وہ نہیں دیکھتے شیطان نے ان کی آنکھوں پر لذات اور شہوات کے حجاب ڈال رکھے ہیں پھر فرمایا اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتوں کو مسخ کرکے ان کے گھروں ہی میں بندریاخنزیر یاپتھروغیرہ بنادیں پھر وہ کہاں جاسکتے ہیں پھر فرمایا کہ ان کے اعضاء جسقدر اور جس طرح ہر وقت اللہ کے اختیار میں ہیں کیا اس کا حال یہ لوگ اپنے بچپن جوانی اور بڑھاپے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
[22] قیامت کے دن بعض ہیکڑ قسم کے مشرکین قسمیں کھا کر اپنے شرک و کفر سے مکر جائیں گے اور بعض یہ کہیں گے کہ
فرشتوں نے ہمارے نامہء اعمال میں جو کچھ لکھ دیا ہے ہم اس سے بری ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے منہ پر مہریں لگ جائیں گی اور وہ بول نہ سکیں گے اور خود انہی کے ہاتھ پاؤں کو سرکاری گواہ بنا کر انہیں بولنے کی صلاحیت دی جائے گی جو ان کے کرتوتوں کی روداد بیان کریں گے۔ اس آیت میں تو صرف ہاتھ پاؤں کے بولنے کا ذکر ہے لیکن دوسرے مقامات پر انسان کے کان، آنکھ، کھال اور زبان کے بولنے کا بھی بیان ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة نور آیت 24 ) ۔ زبانوں کا گواہی دینا اس کے منافی نہیں کہ ان کے منہ پر مہر لگا دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
اعضاء بھی بولیں گے
1: تم حجت کی بنا پر خدا کے سامنے ہمارا منہ بند ہوجائے گا ۔ جو کہ اس دنیا میں ہر گناہ کی وکالت کرتا ہے ۔ زبانیں گونگ ہوجائیں گی ۔ جو کہ طاقت اور تیزی سے معصیت کی اس طرح تابید کرتی ہے ۔ کہ اس پر صواب کا شبہ ہونے لگتا ہے ۔ ہاتھ پاؤں اور دیگر جو ائع جو چھپ چاپ ہماری خواہشات نفس کی تکمیل میں معروف ہوجاتے ہیں ۔ وہاں فرمانبرداری نہیں کریں گے ۔ اور ہماری مخالفت میں گواہی دیں گے ۔ اور کوئی بات رب العزت سے پوشیدہ اور مستتر نہیں رہے گی ۔ یہ گواہی اور شہادت کس نوح کی ہوگی ہاتھ ، پاؤں اور جوارح کہیں نفرح بولیں گے ۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن کو اس دنیا میں پوری طرح سمجھنا فہم انسانی کی وسعت…
Read the full tafseer →(67) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کی جگہ پر مسخ کردیں اور اپاہج بنادیں کہ یہ لوگ نہ آگے چل سکیں اور نہ الٹے ہی پھریں۔ یعنی کوئی جانور بنادیں یا پتھر بنادیں کہ نہ آگے جاسکیں نہ پیچھے لوٹ سکیں۔ جانور کی شکل مسخ بھی کردیں اور اپاہج بھی بنادیں۔ غرض ایسا کردیں کہ مسخ ہونے کے بعد اپنی جگہ پڑے رہیں۔
لایرجعون کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے اصلی شکل پر نہ لوٹ سکیں اور واپس انسان نہ بن سکیں اور انسانی شکل نہ اختیار کرسکیں۔ اسی سلسلے میں آگے بڑھاپے کا ذکر فرمایا تاکہ انسان کی تبدیلی پر کوئی شبہ نہ کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
ف 1۔ جس سے یہ عذر باطل نہ کرسکیں۔
Read the full tafseer →اگر ہم چاہیں تو ان کو اس مقام پر جہاں وہ آرام کر رہے ہیں پکڑلیں :
67۔ ہمارے قانون میں ان سب کو نیک وبد سمجھ کر آزادی دی جاچکی ہے وہ چاہیں اپنی مرضی سے جو کریں ہم ان کو بزور پابند نہیں کریں گے اور اس اعلان کے بعد پھر ان کو بزور روک دیں ایسا نہیں ہو سکتا ہاں ! اگر ہماری طرف سے یہ ڈھیل نہ دی گئی ہوتی تو وہ دوسری بات تھی ، اگر ہماری مشیت کا فیصلہ یہ ہوتا کہ ہم چاہتے ان کو مسخ کردیں تو جس جگہ موجود تھے وہیں ان کو پکڑ کر اسی زمین کے اندر ان کو دھنسا دیتے یا زمین کو شق کر کے زمین کے اندر دھنسا دیتے ۔
اس طرح کہ نہ وہ آگے جاسکتے اور نہ ہی پیچھے ہٹ سکتے اور اسی جگہ پر ان کو ڈھیر کردیا جاتا ۔ لیکن جب ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
In verse 65, it was said: الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ (Today We will set a seal on their mouths). On the day of Resurrection, when comes the time to account for deeds, everyone will be free to offer any excuse one has. But, Mushriks, the practitioners of shirk, those who associate partners in the pristine divinity of Allah Ta’ ala, will declare on oaths that they never had anything to do with shirk and kufr: وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ (By Allah, our Lord, we ascribed no partners to Allah - A1-An` am, 6:23).
And some of them will also say that they were free of…
Read the full tafseer →56 After depicting the scene of Resurrection, the people are being warned to this effect: "The Resurrection may seem yet far off to you, but even if you consider seriously your life in this world of which you are so proud, you will see how helpless you are in the powerful grip of Allah. Your eyes by virtue of whose sight you are carrying out all your obligations in the world can be blinded at one conunand of Allah. Your legs on whose strength you are showing All this activity can become paralyzed as and when Allah wills. As long as the powers and capabilities granted by AIlah continue to…
Read the full tafseer →