Yaseen 36:71

Yaseen · from ayah 71

36:71

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ ۟اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا خَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّمَّا عَمِلَتۡ اَيۡدِيۡنَاۤ اَنۡعَامًا فَهُمۡ لَهَا مٰلِكُوۡنَ‏

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لئے چارپائے پیدا کر دیئے اور یہ ان کے مالک ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do they not see that We have created for them from what Our hands have made, grazing livestock, and [then] they are their owners?

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:71

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے اِن کے لیے مویشی پیدا کیے اور اب یہ ان کے مالک ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لئے چارپائے پیدا کر دیئے اور یہ ان کے مالک ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا وه نہیں دیکھتے کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے چوپائے (بھی) پیدا کر دیئے، جن کے یہ مالک ہوگئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے، اور یہ ان کے مالک بنے ہوئے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے چوپائے ان کے لیے پیدا کیے تو یہ ان کے مالک ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے دستِ قدرت سے بنائی ہوئی (مخلوق) میں سے اُن کے لئے چوپائے پیدا کیے تو وہ ان کے مالک ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان چیزوں میں سے جنھیں ہمارے ہاتھوں نے بنایا، ان کے لیے مویشی پیدا کیے، پھر وہ ان کے مالک ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا وہ دیکھتے نہیں کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہیں ان میں سے ان کے لئے چوپائے پیدا تو ہم نے کئے اور اب یہ ان کے مالک ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے چوپائے پیدا کیے، پس وہ ان کے مالک ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان لوگوں نے کبھی اس امر میں غور نہیں کیا کہ (کس رحمت و عنایت کے ساتھ) پیدا کیا ہم نے ان کے لئے ان چیزوں میں سے جن کو ہم نے بنایا اپنے ہاتھوں سے ایسے (عظیم الفوائد) چوپایوں کو جن کے یہ مالک بنے ہوئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ان (مشرک) لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے ان کے لئے اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی چیزوں میں مویشی پیدا کئے پھر یہ لوگ ان کے مالک بن گئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے چوپائے پیدا کردیے جن کے اب یہ مالک بنے پھرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنی قوت سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لیے چار پائے پیدا کردیے اور یہ ان کے مالک ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do they not see Our handiwork: We created for them cattle which they own?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did they not see that We have created for them cattle, among things made (directly) by Our hands, and then they become their owners?

— Muhammad Taqi Usmani

Did they not see that We have created for them cattle, among things made (directly) by Our hands, and then they become their owners?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do they not see that We have created for them of what Our Hands have fashioned, the cattle, so that they are their owners.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have they not seen how We have created for them of Our handiwork the cattle, so that they are their owners,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do they not see that We have created for them from what Our hands have made, grazing livestock, and [then] they are their owners?

— Saheeh International

Have they not seen what We have created from the labor of Our own hands? We have given them cattle.

— Muhammad Sarwar

Do they not see that We have created cattle for them, out of what Our hands have wrought, so they are their masters?

— Muhammad Habib Shakir

Observe they not that We have created for them, of that which Our hands have worked, cattle: so that they are their owners.

— Abdul Majid Daryabadi

See they not that it is We Who have created for them - among the things which Our hands have fashioned - cattle, which are under their dominion?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:71

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–73

چوپائیوں کے فوائد۔ اللہ تعالیٰ اپنے انعام و احسان کا ذکر فرما رہا ہے۔ کہ اس نے خود ہی یہ چوپائے پیدا کئے اور انسان کی ملکیت میں دے دئیے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے اونٹ جیساقوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ ساتھ ہی سو اونٹوں کی ایک قطار ہو ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھے چلتی رہتی ہے۔ اس ماتحتی کے علاوہ بعض لمبے لمبے مشقت والے سفر بآسانی جلدی جلدی طے ہوتے ہیں خود سوار ہوتے ہیں اسباب لادتے ہیں بوجھ ڈھونے کے کام آتے ہیں۔ اور بعض کے گوشت کھائے جاتے ہیں، پھر صوف اور ان کے بالوں کھالوں وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، بطور علاج پیشاب کام میں آتے ہیں اور بھی طرح طرح کے فوائد حاصل کئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–72

سورة یٰسٓ 60 " ہاتھوں " کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ معاذاللہ وہ ذات پاک جسم رکھتی ہے اور انسانوں کی طرح ہاتھوں سے کام کرتی ہے۔ بلکہ اس سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے خود بنایا ہے، ان کی تخلیق میں کسی دوسرے کا ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اولم یروا انا خلقنا لہم مما عملت ایدینا انعاماً فہم لہا مالکون۔ اس آیت میں چوپائے جانوروں کی تخلیق میں انسانی منافع اور ان میں قدرت کی عجیب و غریب صنعت کاری کا ذکر فرمانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ایک اور احسان عظیم کو بتلایا گیا ہے کہ یہ چوپائے جانور جن کی تخلیق میں کسی انسان کا کوئی دخل نہیں، خالص دست قدرت کے بنائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کیا کہ انسان کو ان چوپاؤں سے نفع اٹھانے کا موقع ملا اور اجازت دے دی بلکہ اس کو ان کا مالک بنادیا کہ وہ ان میں ہر طرح کے مالکانہ تصرفات کرسکتے ہیں، خود نفع اٹھائیں یا ان کو فروخت کر کے ان کی قیمت سے فائدہ اٹھائیں۔ ملکیت اشیاء کی اصل علت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 71–73

آیت 71۔ 73 ان آیات کا موقع و محل سمجھنے کے لئے اس سورة کی آیت 33۔ 35 پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ جس طرح وہاں قرآن کے انداز اور اس کی دعوت توحید کا حوالہ دینے کے بعد بعض آیات ربوبیت کی طرف توجہ دلائی ہے اور پھر خدا ہی کی شکر گزاری کا مطالبہ کیا ہے اسی طرح یہاں بھی قرآن کی دعوت کو تائید میں اپنی ربوبیت کی بعض نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد خدا ہی کی شکر گزاری کا مطالبہ کیا ہے۔ گویا تمہید کا مضمون خاتمہ میں ایک نئے اسلوب سے پھر سامنے آگیا۔ ’ اولم یروانا خلقنا لھم مما عملت ایدینا الایۃ ‘ فرمایا کہ کیا وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے اپنی قدرت و حکمت سے چوپائے بنائے اور پھر ان کو ان کا مالک بنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

71۔ 1 اس سے غیروں کی شرکت کی نفی ہے، ان کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا، کسی اور کا ان کے بناننے میں حصہ نہیں ہے۔ 71۔ 2 اَنْعَام نَعَم کی جمع ہے۔ اس سے مراد چوپائے یعنی اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ دنبہ وغیرہ ہیں۔ 71۔ 3 یعنی جس طرح چاہتے ہیں ان میں تصرف کرتے ہیں، اگر ہم ان کے اندر وحشی پن رکھ دیتے (جیسا کہ بعض جانوروں میں ہے) تو یہ چوپائے ان سے دور بھاگتے اور وہ ان کی ملکیت اور قبضے میں ہی نہ آسکتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–74

22: یعنی جس کا دل زندہ ہو، اور وہ حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہو۔ ایسے شخص کو زندہ فرما کر اشارہ کیا گیا ہے کہ جو شخص حق کا طلب گار نہ ہو، اور غفلت میں زندگی گزار رہا ہو، وہ زندہ کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 71–73

اولم یروا انا ۔۔۔۔۔ ما یسرون وما یعلنون (71 – 76) کیا یہ دیکھتے نہیں ؟ اللہ کی نشانیاں تو ان کے سامنے موجود ہیں اور سب کو نظر آتی ہیں۔ نہ ان سے اوجھل ہیں اور نہ دور ہیں۔ اور نہ یہ نشانیاں اس قدر پیچیدہ ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لئے کسی بڑے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ یہ انعامات جو اللہ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے اور انسانوں کو ان کا مالک بنایا ، ان میں سے جانور ہیں جن کو انسانوں کے تابع بنایا جن پر انسان سوار ہوتے ہیں ، ان میں سے بعض نعمتوں کو کھاتے اور پیتے ہیں ۔ اور بعض سے بعض دوسرے فائدے اٹھاتے ہیں اور یہ سب امور اللہ کی تدابیر اور تقادیر کے مطابق ہے۔ اور پھر اللہ نے انسانوں کے اندر مختلف صلاحیتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 آیات تنزیلیہ کے بعد پھر آیات تکوینیہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ یعنی ایک طرف قرآن کی پندو نصیحت کو سنو، اور دوسری طرف غور سے دیکھو کہ اللہ کے کیسے کیسے انعام و احسان تم پر ہوئے ہیں، اونٹ، گائے، بکری، گھوڑے، خچر وغیرہ جانوروں کو تم نے نہیں بنایا اللہ نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے۔ پھر تم کو محض اپنے فضل سے ان کا مالک بنادیا کہ جہاں چاہو بیچو اور جو چاہو کام لو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 71 { اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَہُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَآ اَنْعَامًا فَہُمْ لَہَا مٰـلِکُوْنَ } ”کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے چوپائے پیدا کردیے ‘ جن کے اب یہ مالک بنے پھرتے ہیں۔“ یہ میری بھینس ہے ‘ میں اس کا مالک ہوں ! یہ اس کی گائے ہے ! یہ فلاں کا گھوڑا ہے ! بکریوں کے ریوڑ کا مالک فلاں ہے ! گویا یہ لوگ بڑے فخر سے ان مویشیوں اور چوپایوں پر اپنا حق ملکیت جتاتے ہیں ‘ لیکن یہ حقیقت وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہیں تخلیق تو اللہ نے ہی کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

64 مثلاً گائے، بیل، بھیڑ، بکری، اونٹ، گھوڑے، گدھے یہ سب قسم کے جانور الگ الگ انواع ہیں۔ اور سب انسان کے فائدے کے لئے اللہ نے بنائی ہیں ان کی نسل بھی ایسے ہی نطفہ سے چلتی ہے جیسے انسان کی چلتی ہے۔ اور نطفہ بےجان مادوں سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ چیزیں انسان کی مملوک نہیں تھیں۔ اللہ نے انسان کو عقل دی۔ عقل کے ذریعہ اس نے چوپایوں کو اپنے قابو میں کیا۔ پھر ان میں اپنے لئے فوائد دیکھے تو انہیں اپنے گھروں میں پالنا شروع کردیا اور آپس میں ان کی خریدو فروخت شروع کردی اور ان کے مالک بن بیٹھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

48۔ (اور اپنے بغیر کسی استحقاق کے انھیں اپنے تصرف وقدرت میں لانے لگے) (آیت) ” مماعملت ایدینا “۔ اظہار تخصیص واہتمام کے لئے ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ ہر مخلوق اللہ ہی کی بنائی ہوئی ہے۔ (آیت) ” فھم لھا ملکون “۔ آیت اس باب میں نص واضح ہے کہ حیوانات انسان کی ملک ہوتے ہیں، اور انسان کو ان پر تصرفات مالکانہ کے حق حاصل رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–83

آیت نمبر 68 تا 83 ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولم یروا انا خلقنا لھم مما علمت ایدنیا انعاما فھم لھا ملکون۔ کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے ان کے نفع کیلئے اپنے ہاتھ کی ساختہ چیزوں میں سے مویشی پیدا کئے ‘ پھر یہ لوگ ان کے مالک بن رہے ہیں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کیا یہ مکہ والے اس چیز پر نظر نہیں کرتے کہ ہم نے اپنی قدرت سے کن فرما کر ان کے لیے مویشی پیدا کیے کہ یہ لوگ ان کے مالک بن رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ : یہاں سے پھر توحید اور اس کے بعد آخرت کے دلائل کا بیان ہے۔”اَنْعَامًا“ ”نَعَمٌ“ کی جمع ہے، یعنی کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ یہ جانور جن کے یہ مالک بنے ہوئے ہیں، یہ سب ہم نے پیدا کیے ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا ذکر قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی ہے اور ان پر ایمان رکھنا اور ان کی کیفیت اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا واجب ہے، تاہم یہاں اہل علم نے ”اپنے ہاتھوں سے“ بنانے کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ ہم نے انھیں کسی کی شرکت یا واسطے کے بغیر خود بنایا ہے۔ ان کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔ (فتح البیان)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 71–73

آیت میں رئویت سے مراد دل کا دیکھنا ہے یعنی کیا وہ نظر و فکر نہیں کرتے ‘ عبرت حاصل کرتے اور سوچ و بچار نہیں کرتے ان اعمال میں جو ہم نے بغیر مثال کے کیے ہیں اور واسطہ ‘ واکالت اور شراکت کے بغیر کیسے ہیں مما میں ماء الذی کے معنی میں ہے ضمیر عائد اسم کی طوالت کی وجہ حذف کردی گئی اگر ما کو مصدری بنایا جائے تو ضمیر حذف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انعام یہ نعم کی جمع ہے اور نعم مذکر ہے اب یہ لوگ ان جانوروں کے مالک ہیں اور ان پر غالب ہیں (1) ۔ ہم نے جانوروں کو ان کے لئے مسخر کیا ہے (2) ۔ یہاں تک کہ ایک بچہ بڑے اونٹ کی مہار کو پکڑ کر چلتا ہے ‘ اسے مارتا ہے جیسے چاہتا ہے اس سے کام لیتا ہے اور اس کی طاعت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مماعملت ایدینا “ (ان چیزوں میں سے جو ہمارے ہاتھوں نے پیدا کیں) یعنی ہماری کاریگری میں سے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھم لھا ملکون “ (پھر یہ لوگ ان کے مالک بن رہے ہیں) یعنی ان کو مضبوطی سے پکڑ رہے ہیں

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَوَلَمْ يَرَوْا [اور کیا انھوں نے دیکھا ہی نہیں ] اَنَّا خَلَقْنَا [کہ ہم نے پیدا کئے ] لَهُمْ [ان کے لئے ] مِّمَّا [اس میں سے جب پر ] عَمِلَتْ [عمل کیا ] اَيْدِيْنَآ [ہمارے ہاتھوں نے ] اَنْعَامًا [کچھ مویشی ] فَهُمْ لَهَا [تو وہ لوگ ان کے ] مٰلِكُوْنَ [مالک ہونے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: الٹا پھیرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں آدمی کی حالت بچوں کی سی کردیتا ہے۔ اسی طرح وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اسے اٹھاتے بٹھاتے اور سہارا دے کر چلاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے اسے کھلاتے پلاتے ہیں۔ اسی طرح وہ ناسمجھی کی باتیں کرتا ہے جس پر لوگ ہنستے ہیں۔ غرض جس کمزوری کی حالت سے اس نے اس دنیا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 70–71

جانوروں میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، ان میں منافع اور مشارب ہیں ایمانیات کا تذکرہ فرمانے کے بعد بعض دنیاوی منافع کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ ہم نے ان کے لیے محض اپنی قدرت سے چو پائے پیدا کیے، یہ لوگ چوپایوں کے مالک ہیں، ہر چیز کا حقیقی مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے انسانوں کو بھی اس نے اپنی مخقول میں سے بعض چیزوں کا مالک بنا دیا ہے، بندے مجازی مالک ہیں اور مالک ہوتے ہوئے ان احکام کے پابند ہیں جو شریعت اسلامیہ کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں، جو شخص ان کی خلاف ورزی کرے گا گنہگار ہوگا، یوں نہ سمجھے کہ میں اس جانور کا مالک ہوں جو چاہوں کروں۔ جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

44:۔ اولم یروا الخ :۔ یہ پانچویں عقلی دلیل ہے ہم نے ان کے لیے مختلف انواع کے چوپائے پیدا کیے ہیں جو ان کے زیر تصرف ہیں اور ہمارے حکم تکوینی سے ان کے مطیع و فرمانبردار ہیں کچھ ان میں سے سواری اور بار برداری کے لیے ان کے کام آتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جن کا وہ دودھ پیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں اور بھی گوناگوں فوائد و منافع ہیں لیکن پھر بھی وہ اللہ کا شکر نہیں کرتے اور اس کی عبادت اور پکار میں اوروں کو شریک کرتے اور انہیں عنداللہ شفیع غالب سمجھتے ہیں، حالانکہ ان چوپایوں کی تخلیق میں اور ان انعامات کے عطا کرنے میں ان کا کوئی حصہ نہیں اس لیے وہ کار ساز اور شفیع غالب بھی نہیں ہوسکتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–76

گزشتہ آیات میں اللہ نے میدان حشر کے کچھ واقعات بیان فرمائے۔ قیامت والے دن گمراہ لوگ اپنے برے اعمال و افعال اور برے عقائد سے انکار کریں گے تو ان کی زبانیں بند ہوجائیں گی اور ان کے ہاتھ اور پائوں بول کر ان کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کے کرتوت ثابت ہوجائیں گے۔ اب آخر سورة میں اللہ نے توحید ، قرآن کی حقانیت اور جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور ضمناً رسالت کا ذکر بھی آگیا ہے۔ الغرض سورة کے اس آخری حصے میں چاروں بنیادی مسائل کو اختصار کے ساتھ دہرایا جارہا ہے۔ کافر اور مشرک لوگ قرآن پاک کو اللہ کا کلام تسلیم نہیں کرتے ، بلکہ اسے شاعری ، کہانت یا سحر سے تعبیر کرتے تھے کبھی کہتے بل افترہ کہ نبوت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَہُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَہُمْ لَہَا مٰلِكُوْنَ۝ 71 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–76

ان باتوں کو سن کر کفار عرب کہتے تھے کہ یہ نصیحت آمیز باتیں محمد ﷺ جو سناتا ہے تو شاعر ہے، شاعر بھی ایسا کلام کیا کرتے ہیں، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ وما علمناہ الشعر کہ ہم نے محمد کو شعر نہیں سکھایا۔ وماینبغی لہ اور نہ یہ کہ آپ کے لائق ہے۔ یہ اس لیے کہ الہام اور وحی تو خداوند تعالیٰ کا ایک خاص فیضان ہے جو جبرئیل ( علیہ السلام) کے وسیلہ سے روح پر نازل ہوتا ہے۔ قوائے ملکوتیہ کو ابھارتا اور بہیمیہ کو پست کرتا ہے اور شعر تخیلات کی روانی اور زبان کی لفاظی ہے، اس میں کہیں عمدہ باتیں بھی ہوتی ہیں اور بیشتر تو توہمات و تخیلات ہوتے ہیں جو قوائے سہوانیہ کو جوش میں لاتے ہیں اور اسی لیے شعر کی بابت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 71–73

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَھُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَـآ اَنْعَامًا فَھُمْ لَھَا مٰلِکُوْنَ ۔ وَذَلَّلْنٰـھَا لَھُمْ فَمِنْھَا رَکُوْبُھُمْ وَمِنْھَا یَاْکُلُوْنَ ۔ وَلَھُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ ط اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 71 تا 73) (کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے، پس وہ ان کے مالک ہیں۔ اور ہم نے انہیں ان کا مطیع کردیا، پس ان میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں اور بعض کا وہ گوشت کھاتے ہیں۔ اور ان میں ان کے لیے دوسرے فوائد اور مشروبات ہیں، تو کیا وہ شکر نہیں کرتے ! ) کفار کی سرکشی کے مقابلے میں رحمت کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 70–71

فہم القرآن ربط کلام : سورة یٰس کا مرکزی مضمون بعث بعد الموت ہے۔ سابقہ آیات میں اسی کے دلائل دیئے گئے ہیں۔ درمیان میں قرآن مجید کے بارے میں کفار کے ایک الزام کی تردید کی گئی ہے۔ اب پھر موت کے بعد جی اٹھنے کے دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ قرآن مجید تحریر کی صورت میں نہیں بلکہ تقریر اور خطاب کے انداز میں نازل ہوا ہے۔ خطاب کے دوران اگر سامع کوئی اعتراض یا سوال اٹھائے یا خطاب کرنے والا خود محسوس کرے تو وہ اپنے مضمون سے زرا ہٹ کر اس اعتراض کا جواب دینا لازم سمجھتا ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو پورے کا پورا خطاب بےاثر ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے اسی اصول کے پیش نظر قرآن مجید ایک مضمون بیان کرتے ہوئے اس کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

چوپائوں کو ان کے لئے بنایا : 71: اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَھُمْ مِمَّا عَمِلَتْ (کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے ان کے لئے اپنی ہاتھ کی پیدا) اَیْدِیْنَآ اَنْعَامًا (کردہ چیزوں میں سے مویشی پیدا کیے) یعنی جن کے ایجاد کے ہم خود ہی ذمہ دار ہیں۔ ہمارے سوا اور کسی کو اس پر قدرت نہیں۔ فَھُمْ لَھَا مَالِکُوْنَ (پھر یہ لوگ ان کے مالک بنے بیٹھے ہیں) یعنی ہم نے ان کو ان کی خاطر بنایا پس مالک حقیقی تو ہم ہی ہیں۔ یہ صرف ان میں تصرف کرنے والے ہیں۔ جیسے مالک تصرف کرتے ہیں۔ ان سے نفع اٹھانا ان کے ساتھ خاص کیا۔ یا مالکوں کا معنی یہ ان پر غالب اور کنٹرول کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 71۔ ، اولم یروا انا خلقنالھم مما عملت ایدینا، ان کو ہم نے اپنے ہاتھون سے پیدا کیا اور اس بنانے میں کوئی دوسرا ہمارا شریک نہیں۔ ، انعامافھم لھا مالکون ، وہ ان کو اپنے قبضے میں لے رہے ہیں اور ان پر تصرف کرتے ہیں اور اگر ہم ان دونوں کو وحشی بنا لیتے اور بنی آدم سے دوربھاگتے تو ان کو کیسے اپنے قبضے میں لاتے بلکہ ان سب جانوروں کو ان کیلئے مسخر کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–76

69 تا 76۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن جو گناہ گار اپنے گناہوں سے انکار کریں گے ان کی زبان بند کی جا کر ان کے ہاتھ پاؤں سے گناہوں کا اقرار کرایا جاوے گا اسی مناسبت سے فرمایا کہ جو لوگ سرکشی سے یہ زبان درازی کرتے ہیں کہ قرآن کو شعر اور اللہ کے رسول کو شاعر کہتے ہیں جب ان کی زبان بند کی جاکر ان کے ہاتھ پیروں سے ان کی اس زبان درازی کا اقرار کرایا جاوے گا تو اس وقت ان کو اس جھوٹ کی حقیقت کھل جائے گی کہ اللہ کے رسول کو یہ جھوٹے لوگ شاعر کہتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ان میں چھوٹے سے بڑے ہوئے ان لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعر کہنے کی عادت سے ہمیشہ بچایا کیوں کہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 71–73

آیت 71 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس بارے میں غور کریں کہ اس نے مویشیوں کو ان کے لئے مسخر کردیا اور ان کو ان مویشیوں کا مالک بنایا، ان مویشیوں کے اندر ان کے لئے بیشمار فوائد رکھے، چناچہ وہ ان پر سواری کرتے ہیں، ان پر بوجھ لادتے ہیں، ان کے ذریعے سے اپنے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، ان کا گوشت کھاتے ہیں، ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں، ان کی اون، ان کی پشم اور ان کے بالوں میں ایک مدت تک ان کے لئے اثاثہ اور فائدہ ہے، نیز ان مویشویں میں ان کے لئے زینت و جمال اور دیگر فوائد ہیں جس کا روزمرہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ (افلا یشکرون) ” کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے “ اس اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 69–77

شعر گوئی نبی کے شایان شان نہیں قول باری ہے : (وما علمناہ الشعروما ینبغی لہ۔ اور ہم نے آپ ﷺ کو شعر وشاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ آپ ﷺ کی شایاں ہے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اس قول بای کی تفسیر میں بیان کیا کہ معمہ کہتے ہیں۔ کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا حضور ﷺ کبھی موقع ومحل کی مناسبت سے کوئی شعر پڑھتے تھے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہیں، بنو قیس بن طرفہ کے شاعر کے ، اس شعر کے سوا آپ ﷺ نے کبھی کوئی شعر نہیں پڑھا : ستبدی لک الایام ماکنت جاھلا ویاتیک بالاخبار من لم ترود زمانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

71 آیات کونیہ میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے کبھی ان چیزوں میں غور نہیں کیا جن کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ؟ "۔ یعنی خاص حکمت کے ساتھ اور اہتمام سے بنایا ہے۔ جن سے یہ لوگ زندگی میں طرح طرح کے فائدے اٹھا رہے ہیں۔ سو جب یہ سب چیزیں ہم ہی نے پیدا کیں، کسی اور کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں، تو پھر ہمارا کوئی شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور ہمارے ساتھ کسی اور کیلئے کسی بھی طرح کی عبادت و بندگی کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو اگر یہ لوگ ان چیزوں میں غور و فکر سے کام لیں تو انکے سامنے واضح ہوجائے کہ یہ سب کی سب اپنی زبان حال سے اپنے خالق ومالک کی عظمت شان، اس کی قدرت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–83

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83: اسرار و معارف : اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی یہ جانور جن کے یہ مالک بنے ہوئے سب ہم نے پیدا کئے ہیں اور ” اپنے ہاتھوں سے بنانے “ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا ذرہ بھر دخل نہیں ہے اگر ہم چاہتے تو ان جانوروں کو اس طور سے پیدا کردیتے کہ وہ ان کے قابو میں نہ آتے کجا کہ یہ ان کے مالک بنتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:71) اولم یروا۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے وائو عاطفہ ہے جس کا عطف جملہ منفیہ مقدرہ پر ہے ای الم یعلموا علما یقینا ولم یروا۔ کیا انہیں پختہ یقین نہ تھا اور انہوں نے دیکھا نہیں۔ خلقنالہم۔ ای خلقنا لاجلہم وانتفاعہم۔ ہم نے پیدا کیا ان کے لئے اور ان کے فائدہ کے لئے۔ مما۔ من تبعیضیہ اور ما موصول سے مرکب ہے عملت ایدینا (جو) ہمارے ہاتھوں نے بنایا (یعنی بلا شرکت غیرے) مما عملت ایدینا۔ ہمارے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے۔ بنانے کی نسبت ہاتھوں کی طرف بطور استعارہ ہے جس سے تخلیق میں انفرادیت خداوندی اور بلا شرکت اللہ کے ساتھ ساری چیزوں کی وابستگی پیدائش پرزور طور پر ظاہر ہو رہی ہے۔ انعام۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–83

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 71–76

منکرین حشر کا ذکر۔ (اللہ کی نعمتیں اور بندوں کی ناقدری) ۔ (ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بےگنتی نعمتوں میں سے مثال کے طو رپر فرمایا، کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ ہم نے ان کے واسطے ان چیزوں کو پیدا کیا جیسے اونٹ گائے بھیڑ بکری، پس یہ لوگ ان پر قابض ہیں اور ہم نے ان اونٹ گائے بھیڑ بکری کو ان کا تابع کردیا ہے کہ یہ ان پر سوار ہوتے ہیں اور ان کا گوشت کھاتے ہیں اور بھی ان کے مقاصد ہیں یعنی ان کے بالوں سے نفع اٹھانا اور ان جانوروں میں ان کو دودھ پینے کا بھی نفع ہے اور کھالوں کے کپڑے بنانے کا نفع ہے نعمت کا ذکر فرما کر یہ فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ کے احسانات کا تو یہ حال اور ان کی ناشکری کا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 70–74

[24] زندہ سے مراد سوچنے سمجھنے والا انسان ہے جس کی حالت پتھر کی سی نہ ہو کہ جس کو کتنی ہی دردمندی کے ساتھ نصیحت کی جائے وہ نہ کچھ سنے نہ سمجھے اور نہ اپنی جگہ سے سرکے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 68–72

ف 1: کفار کا ایک عذر یہ ہوسکتا ہے ۔ کہ ہمیں دنیا میں غوروفکر کی کافی مہلت نہیں دی گئی ۔ ورنہ ہم ضرور ہدایت ورشد کو پالیتے اور دین حقہ کی سعادت سے بہرہ مند ہوتے ۔ تو اس کا جواب اس آیت میں دیا ہے ۔ کہ جہاں تک اس عمر طبعی کا ذکر ہے ۔ جو عبرت پذیری کے لئے موزوں ہوتی ہے ۔ وہ تمہیں بغیر تمہارے مطالبہ کے عطا کی گئی ۔ اور جب تم نے اس طویل عرصے میں حق کو قبول نہیں کیا ۔ تو کیا ایسے وقت تم اس کو قبول کرتے ۔ جب زیادتی عمر کے باعث تمہارے توانے ذہنی وفکری مضمحل ہوجاتے ۔ اور تم میں قبولیت کی کوئی استعداد ہی باقی نہ رہتی ۔ یہ یاد رہے کہ یہ قانون کوئی کلیہ نہیں ہے ۔ انبیاء اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ وہ جس قدر عمر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(71) کیا ان لوگوں نے یعنی منکرین توحید نے اس بات پر غور نہیں کیا اور اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کیلئے مواشی پیدا کئے ہیں پھر یہ لوگ ان مواشی کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ یعنی ہم نے اپنی بنائی ہوئی اور اپنی ساختہ چیزوں میں سے ان کے نفع کیلئے مواشی مثلاً گائے، بھینس، اونٹ وغیرہ بھی بنائے ہیں پھر ان چوپایوں کا ان کو مالک بنادیا ہے جن سے یہ مختلف فوائد اور منافع حاصل کرتے ہیں انہی فوائد کا آگے بیان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–75

ف 2۔ طبعی حالت سے مراد قوی مدرکہ، سامعہ، باصرہ وغیرہ اور فاعلہ، ہاضمہ، نامیہ وغیرہا، اور رنگ و روغن و حسن و جمال ہیں۔ اور الٹا کرنے سے مراد ہے ان کا انقلاب اور تغیر حالت اودون و ارذل کی طرف۔ پس طمس ومسخ بھی ایک قسم کا تغیر ہے کامل سے ناقص کی طرف۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو اپنی خاص قدرت کے تحت انسانوں کے لیے پیدا کیا : 71۔ یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ دہرائی جا چکی ہے اور اصول تفسیر میں بھی اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ منہ اور اسی طرح کے دوسرے اعضاء کو بطور استعارہ بیان کیا گیا ہے تاکہ انسانوں کی تفہیم ہو سکے ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات جس سے پاک ہے اور بلاشبہ اس کے ہاتھوں سے مراد اس کی قدرت ہے اور اس سے یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان ساری چیزوں کو اللہ رب کریم نے تخلیق کیا ہے اور ان کی تخلیق میں کسی بڑے چھوٹے ‘ نیک وبد اور نبی ورسول کا کوئی حصہ نہیں نہ براہ راست اور نہ باجازت کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کام اللہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In verse 71, it was said: أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ (Did they not see that We have created for them cattle, among things made (directly) by Our hands, then they are their owners?). Along with the mention of the Divine novelty and beneficence in the creation of the cattle in this verse, yet another great favor of Allah Ta’ ala has been identified. It has been said that man has played no role in the creation of these cattle. Allah Ta’ ala made them, exclusively, by His own hands, so to say. Then, He not only let human…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–72

60 The word "hands" has been used metaphorically for Allah. This dces not mean that, God forbid, Allah has a body and He works with the hands like human beings, but it means to impress that Allah has made these things Himself, and none else has any share in the matter of their creation.

Read the full tafseer →