Yaseen 36:62

Yaseen · from ayah 62

36:62

وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا ؕ— اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ ۟وَلَقَدۡ اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا‌ ؕ اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ

اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he had already led astray from among you much of creation, so did you not use reason?

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:62

مگر اس کے باوجود اس نے تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کر دیا کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

شیطان نے تو تم میں سے بہت ساری مخلوق کو بہکا دیا۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ شیطان نے تم میں سے ایک بڑی خلقت کو گمراہ کر ڈالا۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے۔ ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو بہکادیا، تو کیا تمہیں عقل نہ تھی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بے شک اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کر ڈالا، پھر کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا اس نے تم میں سے بہت سی مخلوق کو گمراہ کردیا۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ تو تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کرچکا ہے کیا تم سوچتے نہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس نے تم میں سے ایک خلق کثیر کو گمراہ کرلیا، تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر (اس کے باوجود) اس نے گمراہ کردیا تم میں سے ایک بڑی خلقت کو (طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے) تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے تھے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

وہ تم میں سے ایک بڑی مخلوق کو گمراہ کرچکا ہے سو کیا تم اتنا نہیں سمجھتے تھے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ تو تم میں سے بہت بڑی تعداد کو گمراہ کر کے لے گیا تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Still, he misguided a whole throng of you. Did you have no sense?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He had misguided lot many people from among you. So, did you not have sense?

— Muhammad Taqi Usmani

He had misguided lot many people from among you. So, did you not have sense?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And indeed he did lead astray a great multitude of you. Did you not then understand"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Yet he hath led astray of you a great multitude. Had ye then no sense?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he had already led astray from among you much of creation, so did you not use reason?

— Saheeh International

Satan misled a great multitude of you. Did you not have any understanding?

— Muhammad Sarwar

And certainly he led astray numerous people from among you. What! could you not then understand?

— Muhammad Habib Shakir

And yet assuredly he hath led astray of you a great multitude. Wherefore reflect ye not?

— Abdul Majid Daryabadi

"But he did lead astray a great multitude of you. Did ye not, then, understand?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:62

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 59–62

نیک و بد علیحدہ علیحدہ کردیئے جائیں گے۔ فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہہ دیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہوجاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کردیں گے انہیں الگ الگ کردیں گے۔ اسی طرح سورة یونس میں ہے (ترجمہ) جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب کے سب جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورة والصافات میں فرمان ہے (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 62–64

سورة یٰسٓ 54 یعنی اگر تم عقل سے محروم رکھے گئے ہوتے اور پھر اپنے رب کو چھوڑ کر اپنے دشمن کی بندگی کرتے تو تمہارے لیے عذر کی کوئی گنجائش تھی۔ لیکن تمہارے پاس تو خدا کی دی ہوئی عقل موجود تھی جس سے تم اپنے دنیا کے سارے کام چلا رہے تھے۔ اور تمہیں خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے متنبہ بھی کردیا تھا۔ اس پر بھی جب تم اپنے دشمن کے فریب میں آئے اور وہ تمہیں گمراہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اپنی اس حماقت کی ذمہ داری سے تم کسی طرح بری نہیں ہو سکتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 60–64

(آیت) الم اعھد الکم بینی آدم ان لا تعبدوالشیطن، یعنی تمام بنی آدم کو (بلکہ جناب کو بھی) مخاطب کر کے قیامت میں کہا جائے گا کہ کیا میں نے دنیا میں تم کو یہ ہدایت نہ کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ یہاں سوال یہ ہوتا ہے کہ کفار عموماً شیطان کی تو عبادت نہ کرتے بتوں کو یا دوسری چیزوں کو پوجتے تھے، اس لئے ان پر عبادت شیطان کا الزام کیسے عائد ہوا ؟ جواب یہ ہے کہ کسی کی اطاعت مطلقہ کرنا کہ ہر کام ہر حال میں اس کا کہنا مانے اسی کا نام عبادت ہے چونکہ ان لوگوں نے ہمیشہ شیطانی تعلیم ہی کی پیروی کی، اس لئے ان کو عابد شیطان کہا گیا۔ جیسا کہ حدیث میں اس شخص کو جو مال یا بیوی کی محبت میں آ کر ہر وہ کام…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 59–62

بریں مژدہ گرجاں فشانم رواست ! آیت 59۔ 62 اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اب یہ مجرموں کا حشر بیان ہو رہا ہے۔ ان کو حکم ہوگا کہ اے مجرمو ! دنیا میں تو تم میرے باایمان بندوں کے ساتھ ملے رہے ا لئے کہ دنیا دار لا امتحان تھی لیکن اب جزائے اعمال کا دن آگیا۔ اس وجہ سے اب تم میرے باایمان بندوں سے الگ ہو جائو اور اپنے اعمال کی سزا بھگتو۔ اب تمہاری دنیا الگ اور ان کی دنیا الگ ہے۔ ’ الم اعھد الیکم یبی ادم الایۃ۔ ’ عھد ‘ کا صلہ جب ’ الی ‘ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ضامن اور ذمہ دار بنانے کے ہوتے ہیں۔ مثلاً وعھدنا الی ابراھیم واسمعیل ان طھرابیتی للطائفین (البقرۃ : 125) (اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 62–63

62۔ 1 یعنی اتنی عقل بھی تمہارے اندر نہیں کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، اس کی اطاعت نہیں کرنی چاہئے۔ اور میں تمہارا رب ہوں، میں ہی تمہیں روزی دیتا ہوں اور میں ہی تمہاری رات دن حفاظت کرتا ہوں لہذا تمہیں میری نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔ تم شیطان کی عداوت کو اور میرے حق عبادت کو نہ سمجھ کر نہایت بےعقلی اور نادانی کا مظاہرہ کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 59–64

وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔ وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔ الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 62–64

5 یعنی افسوس اتنی نصیحت و فہمائش پر بھی تم کو عقل نہ آئی اور اس ملعون نے ایک خلقت کو گمراہ کر چھوڑا کیا تمہیں اتنی سمجھ نہ تھی کہ دوست دشمن میں تمیز کرسکتے۔ اور اپنے نفع و نقصان کو پہچانتے۔ دنیا کے کاموں میں تو اس قدر ہوشیاری اور ذہانت دکھلاتے تھے مگر آخرت کے معاملہ میں اتنے غبی بن گئے کہ موٹی موٹی باتوں کے سمجھنے کی لیاقت نہ رہی۔ اب اپنی حماقتوں کا خمیازہ بھگتو۔ یہ دوزخ تیار ہے جس کا بصورت کفر اختیار کرنے کے تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ کفر کا ٹھکانہ یہ ہی ہے۔ چاہیے کہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاؤ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 62 { وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلًّا کَثِیْرًاط اَفَلَمْ تَکُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ } ”اور وہ تو تم میں سے بہت بڑی تعداد کو گمراہ کر کے لے گیا ‘ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے تھے !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 62–64

57 باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم سے عہد لیا تھا، اور یہ عہد ألَسْتُ بِرَبِّکُمْتھا، پھر اللہ نے سمجھنے سوچنے کے لئے تمہیں عقل بھی دی تھی، پھر اللہ تعالیٰ اس عہد کی یاددہانی کے لئے اپنے رسول اور کتابیں بھی بھیجتا رہا پھر یہی شیطان بنی آدم کی ایک کثیر تعداد کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ لہذا اے عہد فراموش مجرمو ! تم نے اپنی عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا تو اب اس کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔ جہنم تمہاری منتظر ہے۔ رسولوں کی دعوت سے انکار اور ضد کی سزا یہی ہے کہ اب اس جہنم میں داخل ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 60–62

41۔ یہ سب ان مجرموں کو قائل کرنے کے لئے ان سے حشر میں کہا جائے گا .... آگے بھی دو آیتوں میں یہی مضمون چلا گیا ہے۔ (آیت) ” لا تعبدوا الشیطن “۔ عبادت یہاں اطاعت کے معنی میں ہے۔ المراد بعبادۃ الشیطن طاعتہ (روح) وعبادۃ الشیطن طاعتہ فی مایوسوس بہ الیھم ویزینہ الیھم (کشاف) اے لاتطیعوا الشیطن (معالم) اطاعت شیطان کی طرف سے شدت نفرت وبیزاری پیدا کرنے کے لئے اسے عبادت سے تعبیر فرمایا گیا۔ عبرعنھا بالعبادۃ لزیادۃ التحذیر والتنفیرعنھا (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ جو بعض صوفیہ نے اپنے لئے بت پرست وغیرہ الفاظ استعمال کئے ہیں، ان سے بھی ان کی مراد اقرار کفر سے نہیں، بلکہ اپنے کو مطیع نفس ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد اضل منکم جبلاً کثیرًا افلم تکونوا تعقلون . اور یقیناً وہ تم میں سے کثیر مخلوق کو گمراہ کرچکا ہے ‘ سو کیا تم نہیں سمجھتے تھے ؟ یعنی کیا پیغمبروں کی زبانی تم کو تاکید نہیں کردی تھی ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور نفی کا انکار ‘ اثبات ہوتا ہے ‘ اسلئے مطلب یہ ہوا کہ میں نے تاکید کردی تھی۔ یہ جملہ حکم سابق کی علت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے ‘ یعنی مؤمنوں سے الگ ہوجانے کا ‘ اسلئے حکم دیا گیا کہ تم کو میں نے تاکید کردی تھی۔ لاَ تَعْبُدُوْا یعنی شیطان کے کہنے میں آکر اللہ کی نافرمانی نہ کرنا۔ اِنَّہٗ لَکُمْ الخ یہ حکم سابق کی علت ہے ‘ یعنی اسلئے شیطان کے کہنے میں آکر گناہ نہ کرنا کہ وہ تمہارا صریحی دشمن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اے انسانو شیطان تم میں سے پہلے ایک بڑی مخلوق کو گمراہ کرچکا ہے تو کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اس نے تمہارے ساتھ کیا برتاؤ کیا کہ اس کی پھر تم اقتدا نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ : یعنی کیا تم اتنی عقل نہ رکھتے تھے کہ جب شیطان تمہارا دشمن تھا تو تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چلتے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 60–64

آیت کریم میں عہد سے مراد وصیت ہے کیا میں نے تم کو وصیت نہیں کی اور رسولوں کی زبانوں پر تمہیں پیغام حق نہیں پہنچایا کہ تم میری نافرمانی کرتے ہوئے شیطان کی اطاعت نہیں کرو گے۔ کسائی نہیں کہا لا نہی کے لئے ہے ان اعبدونی یہ نون کے کسرہ کے ساتھ اپنے اصل پر ہے جس نے اسے ضمہ دیا ہے اس نے کسرہ کے بعد ضمہ کو ناپسند کیا ہے۔ اضل کا معنی اغوی ہے یعنی اس نے گمراہ کیا جبلا کا معنی مخلوق ہے ‘ یہ مجاہد کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی جموعا کثیرہ ہے۔ مکی نے کہا : اس کا معزنی امما کثیرہ ہے معنی سب کا ایک ہی ہے۔ اہل مدینہ اور عاصم نے جبلا پڑھا ہے ابوعمرو اور ابن ععامر نے جبلا پڑھا ہے باقی قراء نے جبلا پڑھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 60–64

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم اعھد الیکم “ (کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کی تھی) یعنی کیا میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان لا تعبدوا الشیطن “ (کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو) یعنی اس کی عبادت (گویا) اس کی اطاعت ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” جبلا کثیرا “ سے مراد بہت مخلوق۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” جبلا کثیرا “ کو جیم کے کسرہ اور لام کی تشدید کے ساتھ پڑھا (آیت ) ’ ’ افلا تکونوا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ [اور بیشک اس نے گمراہ کیا ہے تم میں سے ] جِبِلًّا كَثِيْرًا ۭ [بہت سی خلقتوں کو ] اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا [تو کیا تم لوگ نہیں تھے ] تَـعْقِلُوْنَ [(کہ) عقل سے کام لیتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–65

مجرمین کے خلاف ان کے اعضاء کی گواہی کافروں کی سزا بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِہِمْ ) (ہم آج کے دن ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے) (وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ ) (اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے) (وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) اور ان کے پاؤں ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ ) اس آیت سے معلوم ہوا کہ مجرمین کی زبانوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ہاتھ پاؤں ان کے اعمال بد کی گواہی دیں گے۔ اور سورة النور میں فرمایا (یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 60–62

37:۔ ولقد اضل الخ : اس شیطان نے بیشمار اولاد آدم کو گمراہ کیا یہ اس کی انسان دشمنی کی ایک واضح دلیل ہے لیکن پھر بھی تم نے عقل سے کام نہ لیا اور نہ غور کیا کہ شیطان ہمارا دشمن ہے اور ہمیں جہنم میں دھکیلنا چاہتا ہے اس لیے اس کے فریب سے بچنا چاہئے۔ اور اس کی بات ماننے کے بجائے اپنے خالق حقیقی کی خالص عبادت کرنی چاہئے۔ اور اس کے احکام کا اتباع کرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–68

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد اور روز محشر کا کچھ حال بیان فرمایا تھا۔ جب صور ثانی پھونکا جائے گا تو لوگ اپنی قبروں سے حساب کتاب کے لیے نکلیں گے۔ پھر ہر ایک کا محاسبہ ہوگا۔ ہر شخص کے لیے اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق جزا یا سزا کا یصلہ ہوگا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ پھر جن لوگوں کے لیے جنت کا فیصلہ ہوگا وہ نہایت ہی آرام و راحت میں ہوں گے اور انہیں ان کی ہر مطلوبہ چیز مہیا کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے سلام ہوگا۔ برخلاف اس کے اس روز مجرموں اور گنہگاروں کو حکم ہوگا کہ تم الگ ہو جائو اور اپنی علیحدہ صف بنالو۔ پھر ان کے بارے میں فیصلہ کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًا۝ 0 ۭ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ۝ 62 ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–65

ترکیب : اللام موطتہ للقسم والجملۃ مستانفۃ للتوبیخ ای واللہ لقد اضل جبلا فیہا لغات متعددۃ وھی جمع جبلۃ بمعنی الخلق وقیل الجبلۃ والجبل و احد افلم الھمزۃ للتوبیخ و الفاء للعطف علی مقدر ای کنتم تشاہدون اما کنتم تعقلون ولو کلمۃ الشرط نشاء شرط مفعولہ محذوف ای ان نطمس لطمسنا جو ابہ ای اذھبنا اعینھم اے اعینا ھم فاستبقوا معطوف علی لطمسنا و کذا قولہ تعالیٰ ولو نشاء لمسخنہم وسیظہرلک المعنی فی التفسیر۔ تفسیر : ولقد اضل سے لے کر یکسبون تک اسی گفتگو کا تتمہ ہے جو قیامت کے روز منکرین سے بطور الزام کے کی جاوے گی کہ تم میں سے یہ شیطان بہت خلق کو گمراہ کرچکا تھا، جن کی گمراہی اور بدکاری سے دنیا میں بھی ان پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 59–62

وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ ج اِنَّـہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْـکُمْ جِبِلاًّ کَثِیْرًا ط اَفَلَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 59، 62) (اور اے مجرمو ! آج الگ ہوجاؤ۔ اور اے آدم کے بیٹو ! کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ اور اس نے تم میں سے ایک بڑی مخلوق کو گمراہ کردیا، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے۔ ) مجرموں کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 60–62

فہم القرآن ربط کلام : رب رحمٰن نے بنی آدم سے عہد لینے کے ساتھ ہی بتادیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اس لیے اس سے بچنا اور صرف میرا ہی حکم ماننا اور میری ہی بندگی کرنا۔ خالق حقیقی سے عہد کرنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے شیطان کی پیروی کی۔ جسے شیطان کی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ عبادت میں اطاعت شرط اوّل ہے۔ البتہ ہر اطاعت بندگی اور عبادت میں شامل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے ناصرف لوگوں سے اپنی عبادت کرنے کا عہد لیا تھا بلکہ انہیں اس بات سے بھی آگاہ کیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس سے ہر صورت بچے رہنا۔ لیکن لوگوں کی اکثریت شیطان کے پیچھے چل کر گمراہ ہوئی اور انہوں نے اتنی بھی عقل اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

62: وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلًّا کَثِیْرًا (وہ تم میں ایک کثیر مخلوق کو گمراہ کرچکا) ۔ جبلاؔ جیم کے کسرہ اور باء مک سورة اور تشدید کے ساتھ مدنی، عاصم، سہل نے پڑھا۔ نمبر 2۔ جبلاؔ تخفیف سے شامی اور ابو عمرو نے پڑھا۔ نمبر 3۔ جُبُلاًّ جیم اور باء کے ضمہ اور لام کی تشدید سے یعقوب نے پڑھا۔ نمبر 4۔ جُبُلًا ضمہ جیم و تخفیف لام کے ساتھ دیگر قراء نے پڑھا۔ یہ تمام لغات ہیں معنی تمام کا مخلوق ہے۔ اَفَلَمْ تَکُوْنُوْاتَعْقِلُوْنَ (پس کیا تم نہیں سمجھتے تھے) یہ استفہام تو بیخ کیلئے ہے کہ تم نے عقل سے کیوں کام نہیں لیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

62 ولقد اضل منکم جبلا کثیرا، اہل مدینہ اور عاصم کے نزدیک جیم اور باء کے کسرہ کے ساتھ اور لام کی تشدید کے ساتھ اور یعقوب نے ، جبلا، پڑھا ہے۔ عامر اور ابوعمرو نے جیم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے باء ساکنہ کے ساتھ اور دوسرے قراء جیم اور باء کے ضمہ کیساتھ اور لام بغیر تشدید کے۔ یہ تمام لغات درست ہیں۔ اس کا معنی ہے مخلوق یا جماعت جن کو پوری سمجھ اور کامل دانش حاصل ہے۔ ، افلم تکونواتعقلون، کہ تمہارے پاس امم سابقہ شیاطین کی اطاعت کی بناء پر وہ ہلاک نہیں ہوئی اور ان کے لیے کہا گیا کہ وہ آگ کے کتنے ہی قریب ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 54–64

54 تا 64۔ اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نتیجے کا ذکر فرمایا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا جرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جاویگی اب آگے جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا کیوں کہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی نتیجہ کے لیے تھا۔ جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–67

آیت 59 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ (و) ” اور “ ان کو قیامت کے ورز کہا جائے گا : (امتا زوا الیوم ایھا المجرمون) اے مجرمو ! تم الہ ایمان سے الگ ہوجاؤ۔ یہ حکم اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسر عام زجر و توبیخ کرے اور ان سے کہے : (الم اعھد الیکم) یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمہیں حکم نہیں دیا تھا اور تمہیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا : (آیت) ” اے آدم کی اولاد ! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ “ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو، یہ زجر و توبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفر و معصیت پر زجر و توبیخ داخل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

62 عقل و خرد سے کام لینے کی دعوت : سو ان مجرموں سے مزید کہا جائے گا کہ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے تھے ؟ کہ اس کی پیروی کرتے رہے جو تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے اور جس نے تمہیں گمراہ کرنے اور جہنم رسید کرنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ اور قسم بھی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے سامنے اور علی الاعلان کھائی تھی۔ تو آخر تم لوگوں کو ہو کیا گیا تھا ؟ سو اپنے انجام اور اپنی آخرت سے غفلت و لاپرواہی برتنے والے عقلمند نہیں ہوسکتے ورنہ وہ اتنے بڑے خسارے میں مبتلا نہ ہوتے۔ بہرکیف اس ارشاد سے عقل و خرد سے کام لینے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ انسان اپنے نفع و نقصان کو پہچان سکے اور اپنے دوست اور دشمن کے درمیان فرق وتمیز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–67

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67: اسرار و معارف : چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 61–62

ف 1 یعنی کیا تم اتنی عقل نہ رکھتے تھے کہ جب شیطان تمہارا دشمن تھا تو تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چلتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:62) لقد اضل۔ اضل ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ اضلال (افعال) مصدر۔ بمعنی گمراہ کرنا۔ سیدھے راستہ سے ہٹانا۔ اس نے گمراہ کیا۔ اس نے بہکایا۔ اس نے بھٹکایا۔ ضمیر فاعل شیطان کی طرف راجع ہے لقد میں لام تاکید کے لئے ہے قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کے معنی دیتا ہے اور تقریب کا فائدہ بھی دیتا ہے گویا قد اضل ماضی قریب کا صیغہ ہے۔ لقد اضل تحقیق اس نے گمراہ کردیا۔ یا گمراہ کیا۔ جبلا کثیرا۔ موصوف وصفت مل کر اضل کا مفعول۔ جبلا۔ خلق، بڑی جماعت، جبل (پہاڑ) کے معنی میں چونکہ بڑھائی اور عظمت کا تصور موجود ہے اس لئے بڑی جماعت کو جبل کہنے لگے۔ یعنی ایسی جماعت جو کہ اپنی بڑھائی میں مثل پہاڑ کے ہو۔ افلم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 55–68

لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو) تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–64

جنتیوں اور دوزخیوں کا انجام۔ (ف 2) ان آیتوں میں جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا ، کیونکہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی کا نتیجہ کے لیے تھا جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے جنت کے مکانوں اور درختوں کے سایہ کی ٹھنڈک میں چھپڑ کھٹوں کے گدوں ، یا ان کے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور جس چیز کو ان کو جی چاہے گا وہ سب کچھ وہاں موجود ہوجائے گا، اور ان کو پروردگار کی طرف سے السلام علیکم فرمایا جائے گا اور جس وقت کہ مسلمان اور گناہ گار جمع ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اے گناہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 59–64

ف 1: جنت والوں کی زندگی کا جو نقشہ کھینچا اس کا مطلب محض یہ ہے کہ وہ ہر طرح بہترین حالت میں ہوں گے ۔ اور کلفتوں اور مصیبتوں سے آزاد ہوں گے ۔ اس دن ان میں اور مجرموں میں ایک قسم کا امتیاز ہوگا ۔ کہا جائے گا ۔ چونکہ تم لوگوں نے خدا کی پرستش نہیں کی ہے ۔ اور دنیا میں شیطان کی پیروی کو اپنا شعار بنایا ہے ۔ اس لئے آج تمہاری یہ سزا ہے ۔ کہ جہنم میں اپنا مسکن بناؤ حل لغات :۔ فاذاھم ۔ مفاجاۃ کے لئے ۔ یعنی غیر متوقع ۔ یکایک الارائک ۔ الغی کہ کی جمع ہے ۔ بمعنی تخت ہائے آراستہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(62) اور وہ شیطان تم میں سے یعنی تمہاری بنی نوع میں سے ایک کثیر مخلوق کو گمراہ کرچکا ہے تو پس کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ انبیائے سابقین کے جھٹلانے والوں کے واقعات سے تم کو معلوم ہوچکا تھا کہ شیطان نے کتنے ہی انسانوں کو گمراہ کر کے برباد کیا ہے یہ سب تم کو بتادیا گیا تھا تو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے تھے کہ ایسے گمراہ دشمن کا کہنا نہ مانتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمہاری اکثریت کو اس نے گمراہ کردیا کیا تم نے عقل سے کام نہ لیا ؟ 62۔ تعجب ہے تم پر کہ تم میں سے تمہاری اکثریت کو اس نے گمراہ کردیا کیا تم کو عقل نہیں دی گئی تھی ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو عقل سے محروم کردیا گیا ہوتا اس لیے تم اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام غافل ہو کر غیروں کیطرف جھک جاتے تو تم کو کوئی عذر نہ ہوتا لیکن تم کو اللہ نے عقل عطا کی تھی اور اس عقل سے تم اپنی دنیا کے سارے کام چلاتے رہے اور پھر تم کو اللہ نے اپنے رسولوں اور نبیوں کے ذریعہ مطلع بھی کردیا لیکن اس کے باوجود تم ان کے دشمن ہوگئے اور شیطان کے مددگار بنے اور وہی تم کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوا اور تمہاری مت اس نے کس طرح مار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–64

In verse 60, it was said: أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ (Did I not direct you, 0 children of 'Adam, that you must not worship the Shaitan, (because) he is an open enemy for you,- 36:60). In other words, this would be said on the day of Qiyamah to all human beings, (even to the Jinn). But, the question remains that the disbelievers did not generally worship the Shaitan. They worshipped idols or other things. Therefore, how does this blame fall on them? The answer is that submitting before some entity in the absolute sense and to obey that entity in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

54 That is, "If you had been deprived of reason and you had served your enemy instead of your Lord, you could have the reason to offer an excuse. But you, in fact, had been blessed with reason by Allah and you were using it to advantage in all the affairs of the world, and you had been warned by Allah through the Prophets as well, yet, when you were deceived by your enemy and he succeeded in leading you astray, you could not be excused from the responsibility of your folly."

Read the full tafseer →