Explained with ayahs 59–62
نیک و بد علیحدہ علیحدہ کردیئے جائیں گے۔
فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہہ دیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہوجاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کردیں گے انہیں الگ الگ کردیں گے۔ اسی طرح سورة یونس میں ہے (ترجمہ) جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب کے سب جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورة والصافات میں فرمان ہے (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 53
یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے " عبادت " کو اطاعت کے معنی میں استعمال فرمایا ہے۔ ہم اس سے پہلے تفہیم القرآن میں متعدد مقامات پر اس مضمون کی تشریح کرچکے ہیں) ملاحظہ ہو جلد اول، صفحات 134۔ 398۔ 577۔ 578۔ 586۔ جلد دوم، صفحات 189۔ 482۔ 483۔ جلد سوم، صفحات 31۔ 69۔ 656۔ جلد چہارم، سورة سبا، حاشیہ 63) اس سلسلہ میں وہ نفیس بحث بھی قابل ملاحظہ ہے جو اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے امام رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں لَا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰن کے معنی ہیں لا تطیعوہ (اس کی اطاعت نہ کرو)۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو محض سجدہ کرنا ہی ممنوع نہیں ہے بلکہ اس کی اطاعت کرنا اور اس کے حکم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
(آیت) الم اعھد الکم بینی آدم ان لا تعبدوالشیطن، یعنی تمام بنی آدم کو (بلکہ جناب کو بھی) مخاطب کر کے قیامت میں کہا جائے گا کہ کیا میں نے دنیا میں تم کو یہ ہدایت نہ کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ یہاں سوال یہ ہوتا ہے کہ کفار عموماً شیطان کی تو عبادت نہ کرتے بتوں کو یا دوسری چیزوں کو پوجتے تھے، اس لئے ان پر عبادت شیطان کا الزام کیسے عائد ہوا ؟ جواب یہ ہے کہ کسی کی اطاعت مطلقہ کرنا کہ ہر کام ہر حال میں اس کا کہنا مانے اسی کا نام عبادت ہے چونکہ ان لوگوں نے ہمیشہ شیطانی تعلیم ہی کی پیروی کی، اس لئے ان کو عابد شیطان کہا گیا۔ جیسا کہ حدیث میں اس شخص کو جو مال یا بیوی کی محبت میں آ کر ہر وہ کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
بریں مژدہ گرجاں فشانم رواست !
آیت 59۔ 62
اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اب یہ مجرموں کا حشر بیان ہو رہا ہے۔ ان کو حکم ہوگا کہ اے مجرمو ! دنیا میں تو تم میرے باایمان بندوں کے ساتھ ملے رہے ا لئے کہ دنیا دار لا امتحان تھی لیکن اب جزائے اعمال کا دن آگیا۔ اس وجہ سے اب تم میرے باایمان بندوں سے الگ ہو جائو اور اپنے اعمال کی سزا بھگتو۔ اب تمہاری دنیا الگ اور ان کی دنیا الگ ہے۔
’ الم اعھد الیکم یبی ادم الایۃ۔ ’ عھد ‘ کا صلہ جب ’ الی ‘ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ضامن اور ذمہ دار بنانے کے ہوتے ہیں۔ مثلاً وعھدنا الی ابراھیم واسمعیل ان طھرابیتی للطائفین (البقرۃ : 125) (اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو اس…
Read the full tafseer →61۔ 1 یعنی یہ بھی عہد لیا تھا کہ تمہیں صرف میری ہی عبادت کرنی ہے، میری عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا۔
61۔ 2 یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا، یہی وہ سیدھا راستہ ہے، جس کی طرف تمام انبیاء لوگوں کو بلاتے رہے اور یہی منزل مقصود یعنی جنت تک پہنچانے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–64
18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔
وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔
الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
4 یعنی اسی دن کے لیے تم کو انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی بار بار سمجھایا گیا کہ شیطان لعین کی پیروی مت کرنا جو تمہارا صریح دشمن ہے وہ جہنم میں پہنچائے بغیر نہ چھوڑے گا۔ اگر ابدی نجات چاہتے ہو تو یہ سیدھی راہ پڑی ہوئی ہے اس پر چلے آؤ اور اکیلے ایک خدا کی پرستش کرو۔
Read the full tafseer →آیت 61 { وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْط ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ} ”اور میری ہی بندگی کرنا۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“
Read the full tafseer →56 عبادت کا مفہوم :۔ سیدھے راستہ کی تفصیل میں جائیں تو اس سے مراد تمام تر شریعت ہے اور انتہائی مختصر الفاظ میں سیدھے راستہ کی تعریف کی جائے تو وہ یہ ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے
اس جملہ میں شرک کی تمام تر اقسام کی تردید ہوگئی۔ پھر عبادت کا مفہوم بھی بہت وسیع ہے۔ عبادت سے عموماً ارکان اسلام کی بجاآوری مراد لی جاتی ہے تو یہ عبادت کی صرف ایک معروف قسم ہے۔ کسی کو اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارنا بھی عبادت ہے۔ پھر عبادت کا لغوی معنی بندگی اور غلام ہے وہ بھی تذلل کے ساتھ اور غلام ہر وقت غلام ہوتا ہے۔ لہذا اس میں کتاب و سنت کے تمام اوامرو نواہی کی بجا آوری بھی آجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
41۔ یہ سب ان مجرموں کو قائل کرنے کے لئے ان سے حشر میں کہا جائے گا .... آگے بھی دو آیتوں میں یہی مضمون چلا گیا ہے۔ (آیت) ” لا تعبدوا الشیطن “۔ عبادت یہاں اطاعت کے معنی میں ہے۔ المراد بعبادۃ الشیطن طاعتہ (روح) وعبادۃ الشیطن طاعتہ فی مایوسوس بہ الیھم ویزینہ الیھم (کشاف) اے لاتطیعوا الشیطن (معالم) اطاعت شیطان کی طرف سے شدت نفرت وبیزاری پیدا کرنے کے لئے اسے عبادت سے تعبیر فرمایا گیا۔ عبرعنھا بالعبادۃ لزیادۃ التحذیر والتنفیرعنھا (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ جو بعض صوفیہ نے اپنے لئے بت پرست وغیرہ الفاظ استعمال کئے ہیں، ان سے بھی ان کی مراد اقرار کفر سے نہیں، بلکہ اپنے کو مطیع نفس ظاہر کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…
Read the full tafseer →وان اعبدونی ھذا صراط المستقیم۔ اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا ‘ یہی سیدھا راستہ ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
(60۔ 61) پھر ان سے فرمائے گا کیا میں نے رسول پر کتاب نازل کر کے تمہیں اس چیز کی تاکید نہیں کردی تھی کہ تم شیطان کی پیروی ہرگز مت کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ صرف میری ہی توحید کے قائل رہنا کیونکہ توحید خداوندی ہی سچا اور سیدھا رستہ ہے۔
Read the full tafseer →وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِيْ ڼ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَــقِيْمٌ : ”اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ“ میں اور ”اَنِ اعْبُدُوْنِيْ“ میں ”اَنِ“ تفسیریہ ہے اور یہ سب اسی تاکیدی نصیحت کی تفسیر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
آیت کریم میں عہد سے مراد وصیت ہے کیا میں نے تم کو وصیت نہیں کی اور رسولوں کی زبانوں پر تمہیں پیغام حق نہیں پہنچایا کہ تم میری نافرمانی کرتے ہوئے شیطان کی اطاعت نہیں کرو گے۔ کسائی نہیں کہا لا نہی کے لئے ہے ان اعبدونی یہ نون کے کسرہ کے ساتھ اپنے اصل پر ہے جس نے اسے ضمہ دیا ہے اس نے کسرہ کے بعد ضمہ کو ناپسند کیا ہے۔
اضل کا معنی اغوی ہے یعنی اس نے گمراہ کیا جبلا کا معنی مخلوق ہے ‘ یہ مجاہد کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی جموعا کثیرہ ہے۔ مکی نے کہا : اس کا معزنی امما کثیرہ ہے معنی سب کا ایک ہی ہے۔ اہل مدینہ اور عاصم نے جبلا پڑھا ہے ابوعمرو اور ابن ععامر نے جبلا پڑھا ہے باقی قراء نے جبلا پڑھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم اعھد الیکم “ (کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کی تھی) یعنی کیا میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان لا تعبدوا الشیطن “ (کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو) یعنی اس کی عبادت (گویا) اس کی اطاعت ہے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” جبلا کثیرا “ سے مراد بہت مخلوق۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” جبلا کثیرا “ کو جیم کے کسرہ اور لام کی تشدید کے ساتھ پڑھا (آیت ) ’ ’ افلا تکونوا…
Read the full tafseer →وَّ اَنِ [اور یہ کہ ] اعْبُدُوْنِيْ ڼ [تم لوگ بندگی کرو میری ] ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَــقِيْمٌ [یہ سیدھا راستہ ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
مجرمین کے خلاف ان کے اعضاء کی گواہی
کافروں کی سزا بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِہِمْ ) (ہم آج کے دن ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے) (وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ ) (اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے) (وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) اور ان کے پاؤں ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ )
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مجرمین کی زبانوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ہاتھ پاؤں ان کے اعمال بد کی گواہی دیں گے۔ اور سورة النور میں فرمایا (یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–76
منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
37:۔ ولقد اضل الخ : اس شیطان نے بیشمار اولاد آدم کو گمراہ کیا یہ اس کی انسان دشمنی کی ایک واضح دلیل ہے لیکن پھر بھی تم نے عقل سے کام نہ لیا اور نہ غور کیا کہ شیطان ہمارا دشمن ہے اور ہمیں جہنم میں دھکیلنا چاہتا ہے اس لیے اس کے فریب سے بچنا چاہئے۔ اور اس کی بات ماننے کے بجائے اپنے خالق حقیقی کی خالص عبادت کرنی چاہئے۔ اور اس کے احکام کا اتباع کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–68
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد اور روز محشر کا کچھ حال بیان فرمایا تھا۔ جب صور ثانی پھونکا جائے گا تو لوگ اپنی قبروں سے حساب کتاب کے لیے نکلیں گے۔ پھر ہر ایک کا محاسبہ ہوگا۔ ہر شخص کے لیے اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق جزا یا سزا کا یصلہ ہوگا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ پھر جن لوگوں کے لیے جنت کا فیصلہ ہوگا وہ نہایت ہی آرام و راحت میں ہوں گے اور انہیں ان کی ہر مطلوبہ چیز مہیا کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے سلام ہوگا۔ برخلاف اس کے اس روز مجرموں اور گنہگاروں کو حکم ہوگا کہ تم الگ ہو جائو اور اپنی علیحدہ صف بنالو۔ پھر ان کے بارے میں فیصلہ کیا…
Read the full tafseer →وَّاَنِ اعْبُدُوْنِيْ 0 ۭؔ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَــقِيْمٌ 61
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان :
عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود .
وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
فقال ان اصحب الجنۃ الخ کہ نیک لوگ بہشت میں عیش و آرام کریں گے۔ یہ جنت جسمانی کی طرف اشارہ تھا۔ سلم قولاً من رب رحیم یہ روحانی جنت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کو سلام پہنچے گا۔ ان پر تجلی ہوگی اور دیدار سے سرفرازی بخشی جاوے گی جو سرور ابدی ہے۔ اس کے بعد بدوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وامتازوا الیوم کہ مجرموں کو سزا دینے کے لیے جماعت سے الگ کردینے کا حکم ہوگا اور ان کو ملامت کی جاوے گی کہ دیکھو ہم نے تم سے کہلا بھیجا تھا کہ شیطان کا کہنا نہ ماننا، وہ تمہارا صریح دشمن ہے اور خاص میری عبادت کرنا یہ سیدھا رستہ ہے، مگر تم نے نہ مانا، آج اس بلا میں گرفتار ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ ج اِنَّـہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْـکُمْ جِبِلاًّ کَثِیْرًا ط اَفَلَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 59، 62)
(اور اے مجرمو ! آج الگ ہوجاؤ۔ اور اے آدم کے بیٹو ! کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ اور اس نے تم میں سے ایک بڑی مخلوق کو گمراہ کردیا، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے۔ )
مجرموں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
فہم القرآن
ربط کلام : رب رحمٰن نے بنی آدم سے عہد لینے کے ساتھ ہی بتادیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اس لیے اس سے بچنا اور صرف میرا ہی حکم ماننا اور میری ہی بندگی کرنا۔
خالق حقیقی سے عہد کرنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے شیطان کی پیروی کی۔ جسے شیطان کی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ عبادت میں اطاعت شرط اوّل ہے۔ البتہ ہر اطاعت بندگی اور عبادت میں شامل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے ناصرف لوگوں سے اپنی عبادت کرنے کا عہد لیا تھا بلکہ انہیں اس بات سے بھی آگاہ کیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس سے ہر صورت بچے رہنا۔ لیکن لوگوں کی اکثریت شیطان کے پیچھے چل کر گمراہ ہوئی اور انہوں نے اتنی بھی عقل اور…
Read the full tafseer →61: وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْ (اور یہ کہ میری عبادت کرنا) مجھے وحدہٗ لا شریک ماننا اور میری اطاعت کرنا۔ ھٰذَا اس سے اس عہد کی طرف اشارہ ہے جو شیطان کی نافرمانی اور طاعت رحمانی کیلئے لیا گیا۔ صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ (یہ سیدھا راستہ ہے) یہ راستہ جو اپنی استقامت میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہے اور کوئی راستہ اس سے زیادہ مضبوط نہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر 61، وان اعبدونی ، میری اطاعت اور میری وحدانیت کو قبول کرو۔ ، ھذاصراط مستقیم،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–64
54 تا 64۔ اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نتیجے کا ذکر فرمایا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا جرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جاویگی اب آگے جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا کیوں کہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی نتیجہ کے لیے تھا۔ جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–67
آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ (و) ” اور “ ان کو قیامت کے ورز کہا جائے گا : (امتا زوا الیوم ایھا المجرمون) اے مجرمو ! تم الہ ایمان سے الگ ہوجاؤ۔ یہ حکم اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسر عام زجر و توبیخ کرے اور ان سے کہے : (الم اعھد الیکم) یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمہیں حکم نہیں دیا تھا اور تمہیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا : (آیت) ” اے آدم کی اولاد ! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ “ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو، یہ زجر و توبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفر و معصیت پر زجر و توبیخ داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–67
قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
61 اللہ کی عبادت و بندگی ہی صراط مستقیم کا تقاضا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میری ہی بندگی کرنا یہی ہے سیدھی راہ "۔ جس پر چل کر تم لوگ میرے پاس پہنچ سکتے ہو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ رَبِّیْ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ } ۔ (ھود : 56) ۔ سو یہی ایک سیدھا راستہ ہے جو کامیابی کا ذریعہ و وسیلہ اور فائز المرامی کا ضامن و کفیل ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ تباہی اور ہلاکت کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَاتَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–74
حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام
تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67:
اسرار و معارف :
چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ف 1 یعنی کیا تم اتنی عقل نہ رکھتے تھے کہ جب شیطان تمہارا دشمن تھا تو تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چلتے۔
Read the full tafseer →(36:61) ھذا صراط۔ یعنی شیطان کے ورغلانے سے ارتکاب گناہ سے اجتناب اور اللہ ہی کی عبادت کرنا صراط مستقیم (سیدھا راستہ) ہے۔ صراط کی تنوین مبالغہ کے لئے یا اظہار عظمت کے لئے یا تبعیض کے لئے کیونکہ توحید سیدھے راستے پر چلنے کا ایک حصہ ہے اور تکمیل تو تمام فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے اجتناب کا مل سے ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–68
لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو)
تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
جنتیوں اور دوزخیوں کا انجام۔
(ف 2) ان آیتوں میں جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا ، کیونکہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی کا نتیجہ کے لیے تھا جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے جنت کے مکانوں اور درختوں کے سایہ کی ٹھنڈک میں چھپڑ کھٹوں کے گدوں ، یا ان کے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور جس چیز کو ان کو جی چاہے گا وہ سب کچھ وہاں موجود ہوجائے گا، اور ان کو پروردگار کی طرف سے السلام علیکم فرمایا جائے گا اور جس وقت کہ مسلمان اور گناہ گار جمع ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
[21] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة مریم حاشیہ 19 صفحہ 715۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
ف 1: جنت والوں کی زندگی کا جو نقشہ کھینچا اس کا مطلب محض یہ ہے کہ وہ ہر طرح بہترین حالت میں ہوں گے ۔ اور کلفتوں اور مصیبتوں سے آزاد ہوں گے ۔ اس دن ان میں اور مجرموں میں ایک قسم کا امتیاز ہوگا ۔ کہا جائے گا ۔ چونکہ تم لوگوں نے خدا کی پرستش نہیں کی ہے ۔ اور دنیا میں شیطان کی پیروی کو اپنا شعار بنایا ہے ۔ اس لئے آج تمہاری یہ سزا ہے ۔ کہ جہنم میں اپنا مسکن بناؤ
حل لغات :۔ فاذاھم ۔ مفاجاۃ کے لئے ۔ یعنی غیر متوقع ۔ یکایک الارائک ۔ الغی کہ کی جمع ہے ۔ بمعنی تخت ہائے آراستہ ۔
Read the full tafseer →(61) اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھی راہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر پیغمبر کی معرفت شیطان کی آشکارا اور کھلی عداوت سے آگاہ کیا گیا تھا اور اس کی اطاعت سے روکا گیا تھا اور اپنی عبادت کو عام دعوت دی گئی تھی اور اسی کو سیدھا راستہ بنایا گیا تھا۔ اعہد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی عہد نامہ مرتب کیا گیا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ جو حکم دیتا ہے اور انبیاء جو بات فرماتے ہیں وہ ہر فرد انسانی کے لئے واجب التعمیل ہوتی ہے اور یہی وہ عہد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
ف 8۔ عبادت سے مراد اطاعت مطلقہ۔
Read the full tafseer →تم کو کہا گیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو کہ یہی سیدھی راہ ہے :
61۔ حالانکہ تم سب کو کہا گیا تھا کہ شیطان کے کہنے میں نہ آنا کہ یہ تمہارا ابدی دشمن ہے اور صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرنا اور اسی کو اپنا حاجت روا مشکل کشا اور ہر جگہ حاضر وناظر اور مددگار سمجھنا کیونکہ اس نے تمہاری بقا اور نشو ونما کے لیے سارے سامان کا بندوبست کردیا ہے اور اس امتحان میں جو زندگی کے دن تم کو دیئے گئے ہیں وہ اس طرح گزارنا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا لیکن تم نے وہی کیا جس سے تم کو منع کیا گیا تھا ۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح ارشاد فرمایا کہ وہ گویا براہ راست ان مشرکوں سے مخاطب ہے کہ میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
In verse 60, it was said: أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ (Did I not direct you, 0 children of 'Adam, that you must not worship the Shaitan, (because) he is an open enemy for you,- 36:60). In other words, this would be said on the day of Qiyamah to all human beings, (even to the Jinn). But, the question remains that the disbelievers did not generally worship the Shaitan. They worshipped idols or other things. Therefore, how does this blame fall on them? The answer is that submitting before some entity in the absolute sense and to obey that entity in…
Read the full tafseer →53 Here again Allah has used `ibadat in the sense of ita at (obedience). This subject has already been explained above in Al-Baqarah: 172, An-Nisa': 117, AI-An'am: 121, 137, At-Taubah; 31, Ibrahim: 22, Al-Kahf: 52, Maryam: 42, AlQasas: 63 and E.N. 63 of Saba. In this connection, the fine explanation given of it by Imam Razi in his Tafsir Kabir is also noteworthy. He writes: "Do not worship Satan means: Do not obey him, the reason being that only falling prostrate before him is not forbidden, but following him and obeying his commands also is forbidden; therefore, ita et (obedience) is ibadat…
Read the full tafseer →