Yaseen 36:60

Yaseen · from ayah 60

36:60

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ ۚ— اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ۟ۙاَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ‌‌ۚ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ

اے آدم کی اولاد ہم نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Did I not enjoin upon you, O children of Adam, that you not worship Satan - [for] indeed, he is to you a clear enemy -

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:60

آدمؑ کے بچو، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے آدم کی اولاد ہم نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے اوﻻد آدم! کیا میں نے تم سے قول قرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا، وه تو تمہارا کھلا دشمن ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے آدم کے بیٹو ! کیا میں نے تمہیں یہ تاکید نہیں کردی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے اولاد آدم کیا میں نے تم سے عہد نہ لیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے بنی آدم! کیا میں نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی پرستش نہ کرنا، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا میں نے تمہیں تاکیدنہ کی تھی اے اولاد آدم ! کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے بنی آدم ! کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اے آدم کے بیٹو ! کیا میں نے تمہیں یہ ہدایت نہیں کردی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کیجیو، بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا میں نے تم کو تاکید نہ کردی تھی کہ تم شیطان کی بندگی نہ کرنا کہ وہ قطعی طور پر تمہارا کھلا دشمن ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کردی تھی اے اولاد آدم کہ تم شیطان کی فرمانبرداری نہ کرنا وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے آدم کی اولاد ! کیا میں نے تم سے یہ وعدہ نہیں لے لیا تھا کہ تم شیطان کی بندگی مت کرنا بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے آدم کی اولاد ! ہم نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Children of Adam, did I not command you not to serve Satan -- he is to you an open enemy

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did I not direct you, O children of ‘Adam (Adam), that you must not worship the Satan, (because) he is an open enemy for you,

— Muhammad Taqi Usmani

Did I not direct you, O children of ‘Adam (Adam), that you must not worship the Satan, (because) he is an open enemy for you,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Did I not command you, O Children of Adam, that you should not worship Shaytan Verily, he is a plain enemy to you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Did I not charge you, O ye sons of Adam, that ye worship not the devil - Lo! he is your open foe! -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Did I not enjoin upon you, O children of Adam, that you not worship Satan - [for] indeed, he is to you a clear enemy -

— Saheeh International

Children of Adam, did We not command you not to worship satan. He was your sworn enemy.

— Muhammad Sarwar

Did I not charge you, O children of Adam! that you should not serve the Shaitan? Surely he is your open enemy,

— Muhammad Habib Shakir

Enjoined I not on you, ye children of Adam, that ye shall not worship the Satan - verily he is Unto you manifest foe.

— Abdul Majid Daryabadi

"Did I not enjoin on you, O ye Children of Adam, that ye should not worship Satan; for that he was to you an enemy avowed?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:60

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 59–62

نیک و بد علیحدہ علیحدہ کردیئے جائیں گے۔ فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہہ دیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہوجاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کردیں گے انہیں الگ الگ کردیں گے۔ اسی طرح سورة یونس میں ہے (ترجمہ) جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب کے سب جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورة والصافات میں فرمان ہے (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 59–60

سورة یٰسٓ 52 اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مومنین صالحین سے الگ ہوجاؤ، کیونکہ دنیا میں چاہے تم ان کی قوم اور ان کے کنبے اور برادری کے لوگ رہے ہو، مگر یہاں اب تمہارا ان کا کوئی رشتہ باقی نہیں ہے۔ اور دوسرا مفہوم یہ کہ تم آپس میں الگ الگ ہوجاؤ۔ اب تمہارا کوئی جتھا قائم نہیں رہ سکتا۔ تمہاری سب پارٹیاں توڑ دی گئیں۔ تمہارے تمام رشتے اور تعلقات کاٹ دیے گئے۔ تم میں سے ایک ایک شخص کو اب تنہا اپنی ذاتی حیثیت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 60–64

(آیت) الم اعھد الکم بینی آدم ان لا تعبدوالشیطن، یعنی تمام بنی آدم کو (بلکہ جناب کو بھی) مخاطب کر کے قیامت میں کہا جائے گا کہ کیا میں نے دنیا میں تم کو یہ ہدایت نہ کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ یہاں سوال یہ ہوتا ہے کہ کفار عموماً شیطان کی تو عبادت نہ کرتے بتوں کو یا دوسری چیزوں کو پوجتے تھے، اس لئے ان پر عبادت شیطان کا الزام کیسے عائد ہوا ؟ جواب یہ ہے کہ کسی کی اطاعت مطلقہ کرنا کہ ہر کام ہر حال میں اس کا کہنا مانے اسی کا نام عبادت ہے چونکہ ان لوگوں نے ہمیشہ شیطانی تعلیم ہی کی پیروی کی، اس لئے ان کو عابد شیطان کہا گیا۔ جیسا کہ حدیث میں اس شخص کو جو مال یا بیوی کی محبت میں آ کر ہر وہ کام…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 59–62

بریں مژدہ گرجاں فشانم رواست ! آیت 59۔ 62 اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اب یہ مجرموں کا حشر بیان ہو رہا ہے۔ ان کو حکم ہوگا کہ اے مجرمو ! دنیا میں تو تم میرے باایمان بندوں کے ساتھ ملے رہے ا لئے کہ دنیا دار لا امتحان تھی لیکن اب جزائے اعمال کا دن آگیا۔ اس وجہ سے اب تم میرے باایمان بندوں سے الگ ہو جائو اور اپنے اعمال کی سزا بھگتو۔ اب تمہاری دنیا الگ اور ان کی دنیا الگ ہے۔ ’ الم اعھد الیکم یبی ادم الایۃ۔ ’ عھد ‘ کا صلہ جب ’ الی ‘ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ضامن اور ذمہ دار بنانے کے ہوتے ہیں۔ مثلاً وعھدنا الی ابراھیم واسمعیل ان طھرابیتی للطائفین (البقرۃ : 125) (اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

60۔ 1 اس سے مراد عہد الست ہے جو حضرت آدم ؑ کی پشت سے نکالنے کے وقت لیا گیا تھا یا وہ وصیت ہے جو پیغمبروں کی زبانی لوگوں کو جاتی رہی۔ اور بعض کے نزدیک وہ دلائل عقلیہ ہیں جو آسمان و زمین میں اللہ نے قائم کئے ہیں۔ (فتح القدیر) (2) یہ اسکی علت ہے کہ تمہیں شیطان کی عبادت اور اس کے وسوسے قبول کرنے سے اس لیے روکا گیا تھا کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور اس نے تمہیں ہر طرح گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 59–64

وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔ وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔ الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 60–61

4 یعنی اسی دن کے لیے تم کو انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی بار بار سمجھایا گیا کہ شیطان لعین کی پیروی مت کرنا جو تمہارا صریح دشمن ہے وہ جہنم میں پہنچائے بغیر نہ چھوڑے گا۔ اگر ابدی نجات چاہتے ہو تو یہ سیدھی راہ پڑی ہوئی ہے اس پر چلے آؤ اور اکیلے ایک خدا کی پرستش کرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 60 { اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یٰــبَنِیْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَج اِنَّہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} ”اے آدم کی اولاد ! کیا میں نے تم سے یہ وعدہ نہیں لے لیا تھا کہ تم شیطان کی بندگی مت کرنا ‘ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

55 شیطان کی عبادت کیسے ہوتی ہے ؟ اس آیت میں عبادت کا لفظ دو معنی ادا کر رہا ہے۔ ایک یہ کہ عبادت بمعنی اطاعت لیا جائے۔ کیونکہ شیطان کی عبادت تو کوئی کیا کرے گا اس پر تو سب لعنت ہی بھیجتے ہیں اور دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ آج تک اللہ کے سوا جتنے بھی معبودوں کی عبادت کی جاتی رہی ہے شیطان کے بہکانے کی وجہ سے ہی کی جاتی رہی ہے۔ لہذا فی الحقیقت یہ شیطان ہی کی عبادت ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 60–62

41۔ یہ سب ان مجرموں کو قائل کرنے کے لئے ان سے حشر میں کہا جائے گا .... آگے بھی دو آیتوں میں یہی مضمون چلا گیا ہے۔ (آیت) ” لا تعبدوا الشیطن “۔ عبادت یہاں اطاعت کے معنی میں ہے۔ المراد بعبادۃ الشیطن طاعتہ (روح) وعبادۃ الشیطن طاعتہ فی مایوسوس بہ الیھم ویزینہ الیھم (کشاف) اے لاتطیعوا الشیطن (معالم) اطاعت شیطان کی طرف سے شدت نفرت وبیزاری پیدا کرنے کے لئے اسے عبادت سے تعبیر فرمایا گیا۔ عبرعنھا بالعبادۃ لزیادۃ التحذیر والتنفیرعنھا (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ جو بعض صوفیہ نے اپنے لئے بت پرست وغیرہ الفاظ استعمال کئے ہیں، ان سے بھی ان کی مراد اقرار کفر سے نہیں، بلکہ اپنے کو مطیع نفس ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطن انہ لکم عدو مبین۔ اے اولاد آدم ! کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کردی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا ‘ وہ تمہارا صریحی دشمن ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 60–61

(60۔ 61) پھر ان سے فرمائے گا کیا میں نے رسول پر کتاب نازل کر کے تمہیں اس چیز کی تاکید نہیں کردی تھی کہ تم شیطان کی پیروی ہرگز مت کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ صرف میری ہی توحید کے قائل رہنا کیونکہ توحید خداوندی ہی سچا اور سیدھا رستہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ :”عَھِدَ إِلَیْہِ“ کا معنی ہے اس کو وصیت کی۔ آلوسی نے فرمایا، اس تاکیدی نصیحت سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ اوامرو نواہی ہیں جو اس نے اپنے رسولوں کی معرفت بنی آدم کے لیے بھیجے، جن میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے : (يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۭاِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ) [ الأعراف : 27 ] ”اے آدم کی اولاد ! کہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 60–64

آیت کریم میں عہد سے مراد وصیت ہے کیا میں نے تم کو وصیت نہیں کی اور رسولوں کی زبانوں پر تمہیں پیغام حق نہیں پہنچایا کہ تم میری نافرمانی کرتے ہوئے شیطان کی اطاعت نہیں کرو گے۔ کسائی نہیں کہا لا نہی کے لئے ہے ان اعبدونی یہ نون کے کسرہ کے ساتھ اپنے اصل پر ہے جس نے اسے ضمہ دیا ہے اس نے کسرہ کے بعد ضمہ کو ناپسند کیا ہے۔ اضل کا معنی اغوی ہے یعنی اس نے گمراہ کیا جبلا کا معنی مخلوق ہے ‘ یہ مجاہد کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی جموعا کثیرہ ہے۔ مکی نے کہا : اس کا معزنی امما کثیرہ ہے معنی سب کا ایک ہی ہے۔ اہل مدینہ اور عاصم نے جبلا پڑھا ہے ابوعمرو اور ابن ععامر نے جبلا پڑھا ہے باقی قراء نے جبلا پڑھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 60–64

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم اعھد الیکم “ (کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کی تھی) یعنی کیا میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان لا تعبدوا الشیطن “ (کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو) یعنی اس کی عبادت (گویا) اس کی اطاعت ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” جبلا کثیرا “ سے مراد بہت مخلوق۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” جبلا کثیرا “ کو جیم کے کسرہ اور لام کی تشدید کے ساتھ پڑھا (آیت ) ’ ’ افلا تکونوا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ [کیا میں نے تاکید نہیں کی تھی تم لوگوں کو ] يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ [اے اولاد آدم (علیہ السلام) ] اَنْ لَّا تَعْبُدُوا [کہ تم لوگ بندگی مت کرنا ] الشَّيْطٰنَ ۚ [شیطان کی ] اِنَّهٗ لَكُمْ [بیشک وہ تمہارے لئے ] عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ [ایک کھلا دشمن ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 60 سے معلوم ہوا کہ تمام اولاد آدم کو مخاطب کرکے قیامت میں کہا جائے گا کہ کیا دنیا میں تم شیطان کی عبادت کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کفار عموما شیطان کی تو عبادت نہ کرتے، بلکہ بتوں یا دوسری چیزوں کو پوجتے تھے۔ اس لئے ان پر شیطان کی عبادت کا الزام کیسے عائد ہوا۔ جواب یہ ہے کہ کسی کی اطاعت مطلقہ کہ ہر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–65

مجرمین کے خلاف ان کے اعضاء کی گواہی کافروں کی سزا بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِہِمْ ) (ہم آج کے دن ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے) (وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ ) (اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے) (وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) اور ان کے پاؤں ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ ) اس آیت سے معلوم ہوا کہ مجرمین کی زبانوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ہاتھ پاؤں ان کے اعمال بد کی گواہی دیں گے۔ اور سورة النور میں فرمایا (یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 60–62

37:۔ ولقد اضل الخ : اس شیطان نے بیشمار اولاد آدم کو گمراہ کیا یہ اس کی انسان دشمنی کی ایک واضح دلیل ہے لیکن پھر بھی تم نے عقل سے کام نہ لیا اور نہ غور کیا کہ شیطان ہمارا دشمن ہے اور ہمیں جہنم میں دھکیلنا چاہتا ہے اس لیے اس کے فریب سے بچنا چاہئے۔ اور اس کی بات ماننے کے بجائے اپنے خالق حقیقی کی خالص عبادت کرنی چاہئے۔ اور اس کے احکام کا اتباع کرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–68

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد اور روز محشر کا کچھ حال بیان فرمایا تھا۔ جب صور ثانی پھونکا جائے گا تو لوگ اپنی قبروں سے حساب کتاب کے لیے نکلیں گے۔ پھر ہر ایک کا محاسبہ ہوگا۔ ہر شخص کے لیے اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق جزا یا سزا کا یصلہ ہوگا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ پھر جن لوگوں کے لیے جنت کا فیصلہ ہوگا وہ نہایت ہی آرام و راحت میں ہوں گے اور انہیں ان کی ہر مطلوبہ چیز مہیا کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے سلام ہوگا۔ برخلاف اس کے اس روز مجرموں اور گنہگاروں کو حکم ہوگا کہ تم الگ ہو جائو اور اپنی علیحدہ صف بنالو۔ پھر ان کے بارے میں فیصلہ کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ۝ 0 ۚ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۝ 6 0ۙ عهد العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً. قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] ( ع ھ د ) العھد ( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–61

فقال ان اصحب الجنۃ الخ کہ نیک لوگ بہشت میں عیش و آرام کریں گے۔ یہ جنت جسمانی کی طرف اشارہ تھا۔ سلم قولاً من رب رحیم یہ روحانی جنت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کو سلام پہنچے گا۔ ان پر تجلی ہوگی اور دیدار سے سرفرازی بخشی جاوے گی جو سرور ابدی ہے۔ اس کے بعد بدوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وامتازوا الیوم کہ مجرموں کو سزا دینے کے لیے جماعت سے الگ کردینے کا حکم ہوگا اور ان کو ملامت کی جاوے گی کہ دیکھو ہم نے تم سے کہلا بھیجا تھا کہ شیطان کا کہنا نہ ماننا، وہ تمہارا صریح دشمن ہے اور خاص میری عبادت کرنا یہ سیدھا رستہ ہے، مگر تم نے نہ مانا، آج اس بلا میں گرفتار ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 59–62

وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ ج اِنَّـہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْـکُمْ جِبِلاًّ کَثِیْرًا ط اَفَلَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 59، 62) (اور اے مجرمو ! آج الگ ہوجاؤ۔ اور اے آدم کے بیٹو ! کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ اور اس نے تم میں سے ایک بڑی مخلوق کو گمراہ کردیا، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے۔ ) مجرموں کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 60–62

فہم القرآن ربط کلام : رب رحمٰن نے بنی آدم سے عہد لینے کے ساتھ ہی بتادیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اس لیے اس سے بچنا اور صرف میرا ہی حکم ماننا اور میری ہی بندگی کرنا۔ خالق حقیقی سے عہد کرنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے شیطان کی پیروی کی۔ جسے شیطان کی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ عبادت میں اطاعت شرط اوّل ہے۔ البتہ ہر اطاعت بندگی اور عبادت میں شامل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے ناصرف لوگوں سے اپنی عبادت کرنے کا عہد لیا تھا بلکہ انہیں اس بات سے بھی آگاہ کیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس سے ہر صورت بچے رہنا۔ لیکن لوگوں کی اکثریت شیطان کے پیچھے چل کر گمراہ ہوئی اور انہوں نے اتنی بھی عقل اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

60: اَلَمْ اَعْھَدْ اِلَیْکُمْ یٰبَنِیْ ٰادَمَ (اے اولاد آدم ! کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کردی تھی کہ تم) اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے) العھدؔ وصیت، عرب کہتے ہیں۔ عہد الیہ اذاوصاہ، اللہ تعالیٰ کے عہد سے مراد جو دلائل عقلیہ پیدا کئے اور دلائل نقلیہ کتابوں میں اتارے عبادۃ الشیطانؔ وسوسہ اندازی اور تزین میں شیطان کی طاعت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

60، الم اعھد الیکم یا بنی آدم، کیا ہم نے آپ کو حکم نہیں دیا اے بنی آدم ! ، ان لا تعبد والشیطان ، کہ تم اللہ کی نافرمانی کرکے شیطان کی اطاعت نہیں کروگے۔ ، انہ لکم عدو مبین، دشمنی میں واضح اور ظاہ رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 54–64

54 تا 64۔ اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نتیجے کا ذکر فرمایا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا جرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جاویگی اب آگے جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا کیوں کہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی نتیجہ کے لیے تھا۔ جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–67

آیت 59 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ (و) ” اور “ ان کو قیامت کے ورز کہا جائے گا : (امتا زوا الیوم ایھا المجرمون) اے مجرمو ! تم الہ ایمان سے الگ ہوجاؤ۔ یہ حکم اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسر عام زجر و توبیخ کرے اور ان سے کہے : (الم اعھد الیکم) یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمہیں حکم نہیں دیا تھا اور تمہیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا : (آیت) ” اے آدم کی اولاد ! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ “ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو، یہ زجر و توبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفر و معصیت پر زجر و توبیخ داخل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 60–61

61 اللہ کی عبادت و بندگی ہی صراط مستقیم کا تقاضا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میری ہی بندگی کرنا یہی ہے سیدھی راہ "۔ جس پر چل کر تم لوگ میرے پاس پہنچ سکتے ہو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ رَبِّیْ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ } ۔ (ھود : 56) ۔ سو یہی ایک سیدھا راستہ ہے جو کامیابی کا ذریعہ و وسیلہ اور فائز المرامی کا ضامن و کفیل ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ تباہی اور ہلاکت کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَاتَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمُ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–67

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67: اسرار و معارف : چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی اس کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار نہ کرنا۔ یہ ان سے بطور سرزنش کہا جائے گا۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:60) الم اعھد الیکم۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہے لم اعھد مضارع نفی حجد بلم (بمعنی ماضی منفی ہے ) عھد (سمع) مصدر۔ عھد فلان الی فلان۔ کسی سے عہدو پیمان لے کر اسے اسی پر قائم رہنے کی تاکید کرنا۔ الم اعھد الیکم۔ کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کردی تھی۔ العھد کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہداشت اور خبر گیری کرنا۔ اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عہد کہا جاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو۔ قرآن مجید میں ہے : ولقد عھدنا الی ادم (20:115) اور ہم نے (حضرت) آدم (علیہ السلام) سے پختہ عہد لیا تھا۔ ان۔ مصدریہ ہے۔ ان لا تعبدوا الشیطن۔ کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ یعنی شیطان کے کہنے میں آکر اللہ کی نافرمانی نہ کرنا انہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 55–68

لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو) تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–64

جنتیوں اور دوزخیوں کا انجام۔ (ف 2) ان آیتوں میں جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا ، کیونکہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی کا نتیجہ کے لیے تھا جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے جنت کے مکانوں اور درختوں کے سایہ کی ٹھنڈک میں چھپڑ کھٹوں کے گدوں ، یا ان کے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور جس چیز کو ان کو جی چاہے گا وہ سب کچھ وہاں موجود ہوجائے گا، اور ان کو پروردگار کی طرف سے السلام علیکم فرمایا جائے گا اور جس وقت کہ مسلمان اور گناہ گار جمع ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اے گناہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 59–64

ف 1: جنت والوں کی زندگی کا جو نقشہ کھینچا اس کا مطلب محض یہ ہے کہ وہ ہر طرح بہترین حالت میں ہوں گے ۔ اور کلفتوں اور مصیبتوں سے آزاد ہوں گے ۔ اس دن ان میں اور مجرموں میں ایک قسم کا امتیاز ہوگا ۔ کہا جائے گا ۔ چونکہ تم لوگوں نے خدا کی پرستش نہیں کی ہے ۔ اور دنیا میں شیطان کی پیروی کو اپنا شعار بنایا ہے ۔ اس لئے آج تمہاری یہ سزا ہے ۔ کہ جہنم میں اپنا مسکن بناؤ حل لغات :۔ فاذاھم ۔ مفاجاۃ کے لئے ۔ یعنی غیر متوقع ۔ یکایک الارائک ۔ الغی کہ کی جمع ہے ۔ بمعنی تخت ہائے آراستہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(60) اور اے اولاد آدم کیا میں نے تم کو تقیدوتاکید نہیں کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت اور پرستش نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کو مخاطب کیا جائے گا جو مشرکوں کے گروہ ہوں گے اور ایک دوزخ میں ہوں گے : 60۔ اہل دوزخ میں سے اس طبقہ کے لوگوں کو مخاطب کیا جا رہا ہے جس طبقہ میں سب طرح کے مشرک جمع ہوں گے اور ان کو مخاطب کرکے کہا جائے گا کہ اے اولاد آدم ! تم سے اس بات کا پختہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ شیطان کی عبادت مت کرنا کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ، ظاہر ہے کہ مشرکوں کی بھی کئی اقسام ہیں بعض وہ ہیں جو سورج ‘ چاند اور ستاروں کی پرستش کرتے ہیں اور ان اجرام فلکی کو اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ان میں وہ بھی ہیں جو درختوں ‘ پتھروں ‘ پانیوں اور جانوروں کی پرستش کرنے والے ہوں گے اور ان میں وہ بھی ہیں جو اللہ کے نیک بندوں کے بت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–64

In verse 60, it was said: أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ (Did I not direct you, 0 children of 'Adam, that you must not worship the Shaitan, (because) he is an open enemy for you,- 36:60). In other words, this would be said on the day of Qiyamah to all human beings, (even to the Jinn). But, the question remains that the disbelievers did not generally worship the Shaitan. They worshipped idols or other things. Therefore, how does this blame fall on them? The answer is that submitting before some entity in the absolute sense and to obey that entity in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–60

52 This can have two meanings:(1) "Get you apart from the righteous believer:, for in the world even if you belonged to the same community and the same clan and the same brotherhood, here you have no connection and relationship left with them;" and (2) "get you apart from one another: now you can no longer remain a group: all your parties have been disbanded: all your relations and connections have been severed. Now each of you will be held answerable in your personal capacity for your actions and deeds."

Read the full tafseer →